خواہشوں کی پگڈنڈی

خواہشوں کی پگڈنڈی

اور دل میرا اکیلا ہے

آرزو سلگتی ہے

پاؤں سے لپٹتی ہے   

خوشبوئیں مہکتی ہیں 

مجبوریاں سسکتی ہیں

خواہشوں میں طاقت ہے

مان لوں تو آفت ہے

مان لوں قیامت ہے

رد کروں اداسی ہے

رد کروں اندھیرا ہے

خواہشوں کی پگڈنڈی

اور دل میرا اکیلا ہے

خواہشیں تو تتلی ہیں

رنگ برنگی روشن تتلیاں   

نا دیکھوں رجھاتی ہیں

پکڑوں تو تڑپاتی ہیں

خواہشیں چمکتی ہیں

دور سے بلاتی ہیں

جتنا پاس جاتا ہوں

اتنی دور جاتی ہیں

جو کبھی مل جاییں

بے قدر ہو جاتی ہیں

جو مجھ سے بھاگ جایئں تو

یاس بن جاتی ہیں

آس بن جاتی ہیں

روح پرلدا

اک بڑا بوجھ بن جاتی ہیں

خواہشوں کی پگڈنڈی

اور دل میرا اکیلا ہے

مجھے خواہشوں کی چاہت ہے

مجھے خواہشوں سے نفرت ہے

خواہشیں حسین ہیں

خواہشیں اک جال ہیں

حسن لوٹ لیتا ہے

جال باندھ لیتا ہے

مگر جب پردہ اٹھتا ہے        

اصل چہرہ دکھتا ہے 

خواہشیں بھیانک ہیں

خواہشیں ندامت ہیں

ڈراتی ہیں

رلاتی ہیں

خواہشوں کی پگڈنڈی

دور تلک جاتی ہے

بوہت لمبی دکھتی ہے

مگر سانس ختم ہوتے ہیں

تو موت سے جا ملتی ہے

خواہشوں کی پگڈنڈی

دور تلک چلنا ہے

خواہشوں کو چننا ہے

چن کر یاد کرنا ہے

پھر بوہت پچھتانا ہے

خواہشوں کی پگڈنڈی

مشکل آزمائش ہے

تنہا اس پر چلنا ہے

خواہشوں کی پگڈنڈی

اور دل میرا اکیلا ہے 

شہریار

٢٨ مارچ٢٠١٥   

One thought on “خواہشوں کی پگڈنڈی

  1. Pingback: خواہشوں کی پگڈنڈی | shehryar khawar

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s