خواہشوں کی پگڈنڈی

d12trms-93cb110d-50df-4980-bbca-e54ed05e1134

خواہشوں کی پگڈنڈی

اور دل میرا اکیلا ہے

آرزو سلگتی ہے

پاؤں سے لپٹتی ہے   

خوشبوئیں مہکتی ہیں 

مجبوریاں سسکتی ہیں

خواہشوں میں طاقت ہے

خواہشوں کی چاہت ہے

مان لوں تو آفت ہے

مان لوں، قیامت ہے

رد کروں، اداسی ہے

رد کروں، اندھیرا ہے

 

خواہشوں کی پگڈنڈی

اور دل میرا اکیلا ہے

خواہشیں تو تتلی ہیں

رنگ رنگ دھنک جیسی

نا دیکھوں، رجھاتی ہیں

پکڑوں تو تڑپاتی ہیں

خواہشیں چمکتی ہیں

دور سے بلاتی ہیں

جتنا پاس جاتا ہوں

اتنی دور جاتی ہیں

جو کبھی جو مل جایئں

بے قدر ہو جاتی ہیں

 

 

خواہشوں کی پگڈنڈی

اور دل میرا اکیلا ہے

خواہشیں ندامت ہیں

خواہشیں قیامت ہیں

یاس بن جاتی ہیں

آس بن جاتی ہیں

خواہشوں کی چاہت ہے

خواہشوں سے نفرت ہے

ہیں بہت حسیں لیکن

خواہشیں اک جال ہیں

حسن لوٹ لیتا ہے

جال باندھ لیتا ہے

 

 

خواہشوں کی پگڈنڈی

اور دل میرا اکیلا ہے

ہیں بہت دلکش لیکن

جب پردہ اٹھتا ہے        

اصل چہرہ دکھتا ہے 

خواہشیں بھیانک ہیں

خواہشوں کی پگڈنڈی

بہت دور جاتی ہے

لمبی دکھتی ہے بہت

مگر سانس ختم ہوتے ہی

دھول اڑنے لگتی ہے

رات گہری آتی ہے

 

خواہشوں کی پگڈنڈی

پر دور تلک چلنا ہے

خواہشوں کو چننا ہے

چن کر یاد کرنا ہے

یاد کر کے رونا ہے

پھر بہت پچھتانا ہے

خواہشوں کی پگڈنڈی

مشکل آزمائش ہے

بہت کڑی فرمائش ہے

تنہا اس پر چلنا ہے

خواہشوں کی پگڈنڈی

اور دل میرا اکیلا ہے 

   

One thought on “خواہشوں کی پگڈنڈی

  1. Pingback: خواہشوں کی پگڈنڈی | shehryar khawar

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s