آج نہ جانے کیوں مجھے

 

آج نہ جانے کیوں مجھے

کچھ چہرے مدھم مدھم سے

کچھ آنکھیں گیلی گیلی سی

یاد آیئں

کچھ دکھ میٹھے میٹھے سے

کچھ خوشیاں پرنم پرنم سی

یاد آیئں

#urdu #poem #poetry #love #nostalgia #memories #disappointment #loss

وہ چہرے سورج روشن تھے

وہ آنکھیں جھیلیں گہری تھیں

وہ دکھ گرتی چلمن تھے

وہ خوشیاں چراغ سحری تھیں

تنہا تنہا دیپ جلیں

ان آنکھوں کے ساگر میں

کچھ سائے ہلکے ہلکے سے

کچھ یادیں بہکی بہکی سی

یاد آیئں

کچھ آنسو گدلے گدلے سے

کچھ باتیں کڑوی کڑوی سی

یاد آیئں

وہ سائے شاموں کے باسی تھے

وہ یادیں تتلی مانند تھیں

وہ آنسو میرے ساتھی تھے

وہ باتیں گجرے بنتی تھیں

ان چہروں کو ان آنکھوں کو

ان یادوں کو ان باتوں کو

ان سایوں کو ان سانسوں کو

ان اشکوں کو ان خوشیوں کو

امید پر قائم خوابوں سے

میں کتنا سینت سینت رکھوں

ان اجڑے پھیکے پھولوں کو

آنکھوں کے کڑوے پانی سے

میں کتنا سینچ سینچ سکوں

شکوہ فقط اس بات کا ہے

اس دل کی مردہ بستی میں

نوروز چراغاں ہو نہ سکا

اس من کے ویران کھنڈر میں

جشن بہاراں ہو نہ سکا

You may also like

No Comments

  1. I will right away snatch your rss feed as I can’t in finding your e-mail subscription link or e-newsletter service.
    Do you have any? Kindly let me recognize in order that I may
    subscribe. Thanks.

    1. Dear Jason, I am flattered by your interest. I have rechecked the settings and the email link is present. Can you please try to log on the blog from a computer or laptop instead of a smart phone. I am sure, that will solve the problem. Again, thanks for the interest

Leave a Reply