تم میرے ہو

تم میرے ہو

لوگ یہ مانتے ہیں.

تم میرے ہو

لوگ یہ کہتے ہیں

تم میرے ہو

ہم یہ جانتے ہیں

تم میرے ہو

ہم یہ سہتے ہیں

میرے ہو تو

اتنے دور کیوں ہو؟

میرے ہو تو

اتنے مغرور کیوں ہو؟

دور ہونا، مغرور ہونا

اپنوں کا نہیں، اغیار کا شیوہ ہے

دور ہونا، مغرور ہونا

تعلق کا نہیں، رسموں کا پیشہ ہے

میرے ہو تو

میرے پاس آ جاؤ

میرے ہو تو

میرے ھمدم بن جاؤ

میرے ہو تو اتار کے پھینک دو

طوق ے غلامی دنیا کا

میرے ہو تو جھپٹ کے پھاڑ دو

خلعت ے کردارزمانہ کا

میرے ہو تو

بس سب چھوڑ دو

یہ دنیا، اس کی فرسودہ رسومات

میرے ہو تو

بس سب توڑ دو

یہ زمانہ، اس کی فروزاں آسیشات

میرے ہو تو بس صرف میرے ہو

میرے ہو تو بس صرف میرے ہو

شہریار خاور

4 thoughts on “تم میرے ہو

  1. شہریار خاور صاحب کوئی ایک نہیں تمام تر تحریریں ہی بہت عمدہ ہیں بہت ہی خوبصورت دل موح لینے والی ”نوراں کنجری” ہو یا ”محبت ضرورت اور بلھے شاہ” سرکار کیا ہی بات ہے آپ کے لئے دعا گو ہوں اور درخواست خوار ہوں کہ مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s