ہم دونوں (The revision)

ہم دونوں

گزرے وقتوں کی

داستانوں کے کردار نہ سہی

انسان تو ہیں

عشق کی پہچان تو ہیں

ہم دونوں

ہیر رانجھا سوہنی مہینوال نا سہی

انسان تو ہیں

دل کی دنیا پے حکمران تو ہیں

ہم دونوں

عقل و خرد کے خواستگار نا سہی

انسان تو ہیں

بللھے شاہ کے ترجمان تو ہیں

ہم دونوں

آتش فرقت کے قابل نا سہی

انسان تو ہیں

جذبات کی تنی کمان تو ہیں

ہم دونوں

خدا و مذہب کے طلبگار نا سہی

انسان تو ہیں

خیال یار کے پاسبان تو ہیں

ہم دونوں

فرسودہ رسومات کے پابند نا سہی

انسان تو ہیں

نیّت شوق کے نگہبان تو ہیں

انسان کے جن میں

محبّت کرنے کا جذبہ

ایک ہونے کی خواھش

لازوال بھی ہے

بےمثال بھی ہے

بات ہوتی ہے

عشق کرنے کی

ایک ہونے کی

مگر

عشق کرنے سے

ایک ہونے سے

روکنے والی

سنگلاخ دیواریں اور بھی ہیں

عشق کرنے سے

ایک ہونے سے

روکنے والی

قہر کی اقداراور بھی ہیں

دیواریں کے جن کی اساس

سنگدل پتھر ہیں

قہر کے جن کی بنیاد

سلگتے جبر ہیں

دیواریں جو میرے تیرے درمیان

ایستادہ ہیں

اقدار جو میرے تیرے درمیان

معلق ہیں

دیواریں جو فاصلوں کو جنم دیتی ہیں

اقدار جو فرقتوں کو جلا دیتی ہیں

(jila)

ہم دونوں

ہم بےبس ناچار ہی سہی

کمزورو لاچار ہی سہی

مگر ہماری طاقت محبّت ہے

ہماری قوّت امید ے قربت ہے

ایک ہونے کی خواھش ہے

ایک ہونے کا مطلب

جسموں کا ملاپ بھی

روحوں کا اتصال بھی

ایک ہونے کا مطلب

عکسے ماہتاب بھی

خشبوے گلاب بھی

آؤ عہد کریں

دیوارے ظلم ڈھانے کا

جبر کو مٹانے کا

محبّت کرنے کا

آؤ عہد کریں

بادے مخالف سے لڑنے کا

فاصلے عبور کرنے کا

ایک ہونے کا

آؤ عہد کریں، آؤ تجدید کریں

کہ مجھے تم سے محبّت ہے

شہریار خاور

3 thoughts on “ہم دونوں (The revision)

  1. Pingback: ہم دونوں (The revision) | shehryar khawar

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s