بابا اب مجھے رخصت کرو

بابا اب مجھے رخصت کرو

کے فرشتے لے جانے کو تیار ہیں

بابا اب مجھے ودا کرو

کے کہار و ڈولی چلنے کو تیار ہیں

دیکھو اب مجھے دور ہہت دور جانا ‘ہے

اڑتی پریوں کے دیس

ہنستی گڑیوں کے دیس

رنگین تتلیوں کے دیس

مہکتے خوابوں کے دیس

دیکھو اب مجھے دور ہہت دور رہنا ‘ہے

چہچہاتی چڑیوں  کے دیس

کھلکھلاتی جلپریوں کے دیس

جگمگ  کرتے ستاروں کے دیس

اچھلتے چمکتے فواروں کے دیس

 جانا  بھی دور ہے اور رہنا بھی دور ہے

سوچتی ہوں

سردیوں کی ٹھنڈی  راتوں میں

کون  تمہارے پاؤں گرم رکھے گا؟

سوچتی ہوں

سفید روکھے سوکھے بالوں میں

کون  تمہارے سر کی مالش کرے گا؟

سوچتی ہوں

دفتر سے واپسی پر 

کون  تمہارے سینے پر لیٹ کر سوے گا؟

سوچتی ہوں

چھٹی کے فارغ وقت میں  

کون  تمہارے کندھوں پے پیٹھ پے سواری کرے گا؟

تم وعدہ کرو کے خیال رکھو گے اپنا

تم وعدہ کرو کے مجھے یاد کر کے نا رؤ گے

میں جانتی ہوں

میں رونق تھی تمہارے دل  کی

میں جانتی ہوں

میں رحمت تھی تمہارے گھر کی

اب اپنی رونق کو رخصت کرو

اب اپنی رحمت کو ودا  کرو

فرشتے لے جانے کو تیار ہیں

کہار و ڈولی چلنے کو تیار ہیں

شہریار

دسمبر ٢٠١٤ ١٧

4 thoughts on “بابا اب مجھے رخصت کرو

      • I could prove otherwise, but please….. knowing me just take my word for it….. I have already had my run in with someone earlier today…. and I just can go on today.

        I will send you the referenced issue… then we can talk…… Quota of one “Reverse Rao Sahab” per day only….!!

        Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s