قتل معصوموں کا ہوتا ہے

2420A43C00000578-2877148-image-a-35_1418861937221

قتل معصوموں کا ہوتا ہے

یہ روایت کوئی اتنی پرانی تونہیں

حکومت ظلم کی ہوتی ہے 

یہ کہانی کوئی اتنی پرانی تونہیں

خون ناحق کا دریا بہتا ہے

 یہ روایت کوئی اتنی پرانی تونہیں

جبر مسلسل ہوتا ہے 

یہ کہانی کوئی اتنی پرانی تونہیں

قتل معصوموں کا ہوتا ہے

ہر دور میں روایت ہوتی ہے

جب مذہب طاقت بنتا ہے

اورطاقت شقادت بنتی ہے

تو قتل معصوموں کا ہوتا ہے

ہرغم کربلا بنتا ہے

حکومت ظلم کی ہوتی ہے 

ہر دور کی کہانی  ہوتی ہے

جب دل پتھر کے بنتے ہیں

اورپتھر عقل پر پڑتے ہیں 

تو ظلم حکومت کرتا ہے

ہرغم کربلا بنتا ہے

خون ناحق کا دریا بہتا ہے

 ہر دور میں روایت ہوتی ہے

جب آنکھ کا پانی مرتا ہے

اور باطل حق سے لڑتا ہے

توخون انسان کا بہتا ہے

ہرغم کربلا بنتا ہے

جبر مسلسل ہوتا ہے 

ہر دور کی کہانی  ہوتی ہے

جب نفرت جڑ پکڑتی ہے

اور انسان خدا بن جاتا ہے

تو جبر مسلسل ہوتا ہے

ہرغم کربلا بنتا ہے

شہریار

دسمبر ٢٠١٤ ١٧

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s