میں اکثر سوچتا ہوں

2820291-blue-abstract-butterfly-on-a-black-background

میں اکثر سوچتا ہوں

کیا تتلیوں کی بھی انا ہوتی ہوگی؟

سنا ہے پھولوں پے فدا بہت ہوتی ہیں مگر

 دیکھ سکتی نہیں پر اپنے

میں اکثر سوچتا ہوں

کیا چاند بھی کبھی روتا ہوگا؟

سنا ہے رات ساری بہت چمکتا ہے مگر

سوتا اپنی ہی آغوش میں ہے

میں اکثر سوچتا ہوں

کیا ہوا بھی کبھی مسکراتی ہوگی؟

سنا ہے درختوں میں بسیرا بہت ہے مگر

ڈھونڈ سکتی نہیں گھر اپنا

میں اکثر سوچتا ہوں

کیا آ ئینےبھی کبھی عشق کرتے ہونگے؟

سنا ہے حسسینوں کی صحبت بہت ہے مگر

سینے میں دل نام کی چیز نہیں

میں اکثر سوچتا ہوں

کیا سورج بھی  کبھی خود پر اتراتا ہوگا؟

سنا ہے گرمئی آتش بہت ہے مگر

عاجزی اتنی کے شام کو ڈوب جاتا ہے     

You may also like

No Comments

Leave a Reply to Z H HASHMI Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *