شبانہ کھسرا

6143216851_3a709011c6_m

جب ہم چند اکیلے ویران لوگ شبانہ کو دفن کر رہے تھے تو اچانک بارش شروع ہو گیئ.  نا بادل گرجے نا بجلی کڑکی، بس یک دم ہلکی ہلکی پھوار پڑنی شروع ہو گیئ. مجھے پتا بھی نہیں چلا کے کب بارش ختم ہوئی اور کب میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوے. ہوش تب آیا جب قبر کی مٹی کو پیار سے سہلاتے میرے ہاتھ کیچڑ سے لت پت ہوگئے. سب بہت دیر ہوئی چلے گئے تھے. میں قبرستان میں اکیلا تھا. میں نے اپنے ہاتھوں پر جمے کیچڑ کو غور سے دیکھا. سوکھتے کیچڑ میں دراڑیں پڑ رہی تھیں، ٹوٹی پھوٹی، شکستہ، بالکل ویسی جیسی شبانہ کے میلے ہاتھوں پر لکیریں تھیں. یوں لگتا تھا کے جیسے قسمت کی دیوی لکیریں کھینچتی کھینچتی دم توڑ گیئ ہو. مجھے خود کبھی ہاتھ کی لکیروں کی بتائی داستانوں پر یقین نہیں آیا مگر شبانہ کی زندگی دیکھ کر لگتا تھا کے شاید قسمت کی لکیروں میں  کچھ نا کچھ سچ ضرور ہے. اچانک جاتے بادلوں نے کڑک کر الوداع کہا تو تو مجھے یوں لگا کے قبر کی ٹنوں مٹی تلے دبی شبانہ نے آہستہ سے سسکی بھری ہو

نا شبانہ نا، شاباش ڈرتے نہیں ہیں.’ میں نے پیار سے قبر پر ہاتھ پھیرا. ‘اب تم سکون میں ہو. نا کوئی چھیڑنے والا، نا کوئی تڑپانے ترسانے جلانے والا. اب تم خدا کی محبت بھری، حرارت آمیز آغوش میں ہو.’ بولتے بولتے پھر میرا دل بھر آیا اور ہچکی لگ گیئ

توبہ توبہ! یہ کیا فضول حرکت ہے؟ کھسرے کی قبر پر روتے تمھیں شرم نہیں آتی؟’ میں نے چونک کر اپنی تنہائی میں مخل ہونے والے کی طرف دیکھا. شاید قبرستان کا گورکن تھا. بڑھاپے کی دہلیز پر دستک دیتا درمیانے قد کا آدمی، مٹیالے داغوں بھرا سفید پھٹا پرانا شلوار قمیض، کندھے پر ایک گندا چار خانے والا گلابی اور سفید ڈبیوں والا رومال ، ہاتھ میں بیلچہ اور آنکھوں میں جلتی دہکتی تنفّر کی آگ. میرا خاموش مشاہدہ شاید اسے اچھا نہیں لگا تھا، ‘مومنوں کے قبرستان میں ایک پلید کھسرے کو دفن کرنے کی اجازت کیا  دے دی، پرانے عاشق آ گئے قبر پر رونے

میرا دماغ یک دم بھک سے اڑ گیا، ‘کون الّو کا پٹھا شبانہ کو پلید که سکتا ہے؟’ میں نے اٹھ کر گورکن کو گریبان سے پکڑ لیا، ‘وہ تم سے بہتر تھی، وہ ہم سب سے بہتر تھی، الله کی نیک بندی تھی. سنا تم نے خبیث آدمی؟ شبانہ الله کی نیک بندی تھی

غالباً مجھ سے اسقدر سخت رویے کی امید نہیں تھی گورکن کو. پہلے تو وہ بھونچکا کھڑا میری سنتا رہا اور پھر مجھے پیچھے دھکیل کر قبریں پھلانگتا بھاگ گیا. غصّہ مجھے واپس ہوش میں لے آیا. میں نے قبر کے قریب گورکن کی چھوڑی پانی کی بالٹی سے ہاتھ منہ دھویا، فاتحہ پڑھی، بوجھل دل کے ساتھ شبانہ کو خدا حافظ کہا اور گھر کی جانب چل پڑا               

محلے میں داخل ھوا تو ہر قدم پر شبانہ کی یادیں بکھری پائیں. چوہدری کی کریانے کی دوکان کا شکستہ سیمنٹ کا تھڑا، جہاں شبانہ کی اپنے شوقین مزاج دوستوں کے ساتھ محفل جمتی تھی. میاں کا تنور جس کا گرم چبوترہ سردیوں کی شاموں اور راتوں میں شبانہ کی بیٹھک کا کام دیتا تھا اور میرے گھر کے بلکل سامنے، بابے کی سبزی کی دوکان سے منسلک شبانہ کی تاریک بدبودار کوٹھری

ہوش سمبھالنے کے بعد قریباً سینتیس برس گزر چکے تھے شبانہ کو محلے میں دیکھتے. بچپن میں وہ ایک پراسرار کردار تھی، عورت اور مرد کے درمیان سرحد پر کھڑی اکیلی  دربان، گہرا سانولا رنگ، مردانہ چہرہ مگر ہونٹوں پے لپی گہری لپ اسٹک، ناک میں سرخ نگینے والی نتھنی اور کانوں سے لٹکتی چاندی کی موٹی موٹی بالیاں، لمبے گھنے کالے بال اور ان سے لٹکتا چھوٹی چھوٹی چاندی کی گھنٹیوں سے سجا ریشمی پراندہ، کسی بھی شوخ رنگ کا چست شلوار قمیض اور قمیض کے گریبان سے جھانکتے کالے گھنگریالے بال، پاؤں میں لیڈیز اونچی ایڑی کی سینڈل اور ہونٹوں پر چسپاں ایک مستقل مسکراہٹ جو ہم بچوں کی حیرانی و پریشانی دیکھ کر کچھ زیادہ ہی چمک جاتی تھی. اس کا یہ عجیب و غریب حلیہ اور مشکوک شناخت کسی بھی بچے کو گڑبڑا دینے کے لئے کافی تھی. اسی زمانے میں شبانہ سے پہلی دفعہ میرا ٹاکرا ہوا

مجھے سائیکل چلانے کا بہت شوق تھا. محلے میں ہی سائیکل مرمت کرنے کی ایک دوکان تھی، جسے ایک کرخت صورت مگر نرم دل ہندوستانی چلاتا تھا. جب تک میرے والدین نے مجھے اپنی سائیکل خرید کر نا دی، وہ دکان اور اس کا مالک میرا شوق پورا کرتے رہے. اس زمانے میں آٹھ آنے میں ایک گھنٹہ سائیکل کرایے پر مل جاتی . میرے لئے وہ ایک گھنٹہ منٹوں میں گزر جاتا مگر جب تک سائیکل کی سیٹ میری پیٹھ کے نیچے اور آہنی ہینڈل میری مٹھیوں میں دبے ہوتے، زندگی ایک ریسنگ ٹریک کی مانند میرے داییں بایئں سے گزرتی جاتی. وہ ایک گھنٹہ پڑھائی کی قید سے آزادی کا گھنٹہ ہوتا، اور میں اپنی آزادی سے پرندوں کی مانند لطف اندوز ہوتا. نا اپنا ہوش ہوتا نا سڑک پر آنے والی گاڑیوں کا، بس میں ہوتا، کرایے کی سائیکل ہوتی اور تیز ہوا ہوتی جس کے تھپیڑے مجھے حقیقت سے دور لے جاتے

مجھے ابھی تک یاد ہے، وہ جون کی ایک گرم دوپہر تھی. دہکتی لو چل رہی تھی. میں کسی نا کسی طرح خالہ سے نظر بچا کر گھر سے نکل گیا. سائیکل کی دوکان تک بھاگتا پوھنچا، جیب سے چمکتی اٹھنی نکال کر دوکان کے مالک کے حوالے کی اور اپنی مخصوص سائیکل لے کر سڑک پر نکل گیا. رفتار تیز ہوئی اور ہوا کے تھپیڑے منہ پر پڑنا شروع ہوئے تو حسب معمول سائیکل ہوائی جہاز بن گیئ. پھر کہاں نظر آتی تھی سڑک پر آتی جاتی ٹریفک اور کہاں سنائی دیتے تھے گاڑیوں کے ہارن؟ میں نے جب پیچھے سے آنے والی گاڑی کا ہارن سنا، تب تک بہت دیر ہوچکی تھی. گاڑی کے اگلے بمپر نے سائیکل کے کیریئر کو زور سے ٹکّر ماری مگر اس سے پہلے کے میں اس کے پہیوں تلے آ کر رگڑا جاتا، دو مضبوط ہاتھوں نے مجھے دبوچ کر سائیڈ پر کھینچ لیا. گاڑی تیز رفتاری کے باعث کچھ دور تک سائیکل کو رگیدتی چلی گیئ اور پھر بریک کی گونجتی  چیخوں کے ساتھ رک گیئ. لیکن مجھے ان سب باتوں کا ہوش نہیں تھا. میرے کانوں میں تو صرف ‘اوہ بسم اللہ!’ کی آواز گونجی تھی اور پھر میں سڑک کنارے مٹی پر سیدھا پڑا تھا. شور سن کر مجھے کچھ ہوش آیا تو میں نے دائیں بائیں نظر کی

وے تجھے شرم نہیں ہے؟ اتنی بڑی گاڑی چلاتا ہے اور وہ بھی اتنی تیز؟ ابھی بچے کو کچھ ہوجاتا تو پھر؟’ شبانہ ایک معزز دکھتے آدمی کو گریبان سے پکڑے چیخ رہی تھی. آدمی موٹا تازہ اور سفید شلوار قمیض پر کالی واسکٹ پہنے ہوئے تھا اور اس کے مغرور چہرے پر ایکسیڈنٹ کے بعد کی سراسیمگی کے بجاے صرف غصّہ تھا

میرا کیا قصور؟ بچہ خود گاڑی کے آگے آگے سائیکل چلا رہا تھا. میں نے ہارن تو بجایا تھا. اس نے نہیں سنا تو میں کیا کروں؟’ موٹے آدمی نے تقریباً چیختے ہوئے جواب دیا ‘اور تیری جرّأت کیسے ہوئی پلید کھسرے، مجھے گریبان سے پکڑنے کی؟’ میرے دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا اور اس موٹے آدمی نے دو چار مکّے شبانہ کو رسید کر دیے. شکر ہے کے محلے کے لوگ اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے معاملہ رفع دفع کروا دیا. موٹے نے بھی چپ چاپ کھسک لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھی.جب وہ چلا گیا تو شبانہ نے میری طرف کا رخ کیا

ماں صدقے! زیادہ چوٹ تو نہیں لگی میرے بچے کو؟’ شبانہ کو اپنی ٹوٹی ناک سے بہتی خون کی تلللیوں سے زیادہ میرے گھٹنوں پر آی خراشوں کی زیادہ فکر تھی.       میرے انکار میں ہلتے سر کو دیکھ کر اس نے اپنے دوپٹے سے میرا چہرہ اور ہاتھ پاؤں پونچھے اور میرا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کردیا. میں نے غور سے اس کے چہرے  کی طرف دیکھا. مٹی، پسینے اورخون نے مل جل کر عجیب حلیہ بنا دیا تھا. گریبان بھی پھٹ چکا تھا اور ایک میلی کچیلی انگیا پھٹے گریبان سے جھانک رہی تھی. ایک آدمی نما عورت کو انگیا پہنے اور ‘ماں صدقے’ کہتے دیکھ کر اور اس کے وجود سے اٹھتی چنبیلی کے عطر اور پسینے کی ملی جلی بدبو سے میں بدحواس ہوگیا اور سائیکل وہیں چھوڑ کر گھر بھاگ گیا. بعد میں افسوس ہوا کے شکریہ بھی نہیں ادا کیا. لیکن کیا ہوسکتا تھا.

لیکن شکریہ ادا کرنے کا مجھے جلد ہی موقع مل گیا. محلے کے بچے منہ پے تو شبانہ کا مذاق اڑانے کی جرأت نہیں کرتے تھے لیکن اس کے اس پاس سے گزرتے ہلکے سے اور تھوڑا لمبا کر کے ‘کھسرا’ ضرور که جاتے تھے. لیکن شبانہ کو کبھی ان کی اس زیادتی کا احساس نہیں ہوا تھا یا کم از کم مجھے یہ ہی لگتا تھا کیونکے ہر دفعہ چھیڑنے پر وہ صرف ہلکا سا مسکرا کر اور ‘ماں صدقے’ که کر آگے نکل جاتی تھی. ایکسیڈنٹ کے کچھ ہی روز بعد میں ایک دن بازار سے کوئی چیز لینے  جا رہا تھا کے سامنے سے شبانہ آتی دکھائی دی. اس کے پیچھے پیچھے میرے کچھ ہم عمر بچے میلہ بناے چلتے جا رہے تھے. چونکہ میں ان کا ہم عمر تھا لہٰذا مجھے اچھی طرح اندازہ تھا کے بچے اپنی معصوم لا علمی میں کس قدر ظلم کا مظاہرہ کر سکتے تھے. اوپر سے ان کے چہروں پر ناچتی شیطان مسکراہٹ ان کے ارادوں کا پتا دے رہی تھی. جب ان بچوں اور شبانہ کا درمیانی فاصلہ دس بارہ فٹ رہ گیا تو انہوں نے ایک ساتھ مل کر ہونٹوں سے ایک بلند سرگوشی کی ‘شبانہ کھسراااااااا…….!’ اس اچانک حملے پر بیچاری شبانہ کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا. اس نے ایک دم ‘ہائے الله!’ کہ کر ایک ہاتھ دل پر رکھ لیا اور اپنے مخصوص انداز میں پلٹ کر اپنے ستم گروں کی جانب دیکھا. اس سے پہلے کے وہ کوئی جواب دیتی، میں تیزی سے آگے بڑھا

اوے خبردار! کوئی اسے شبانہ کھسرا نہیں کہے گا.’ مجھ جیسے ڈرپوک میں نا جانے اس وقت یہ کہنے کی طاقت کہاں سے آ گیئ، ‘اس کا نام صرف شبانہ ہے

.تم کون ہوتے ہو ہمیں روکنے والے؟’ بچوں کا لیڈر اپنا نازک سینہ تان کر آگے بڑھا

ارے تم اس کونہیں جانتے؟ یہ شبانہ کھسرے کا بیٹا ہے.’ ایک اور بچے نے مجھے اکسانے کی کوشش کی

پھر پتا نہیں کیا ہوا کے تمام بچوں نے میری پیٹھ کے پیچھے کسی کو دیکھا اور ایک دوسرے کو دھکیلتے غائب ہوگئے. میں نے مڑ کر دیکھا تو دور سے حاجی صاحب اپنی موٹی توند کھجاتے چلے آ رہے تھے. میں نے شبانہ کی طرف دیکھا تو وہ میری ہی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی

ماں صدقے! ایک دن تو بڑا آدمی بنے گا.’ شبانہ نے پیار سے میرے سر پر اپنا خوشبو دار مگر مردانہ ہاتھ پھیرا

اس دن کے لئے شکریہ شبانہ. تم نا ہوتی تو میں گاڑی کے نیچے آ گیا ہوتا.’ میں نے اس کی مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے دیا

ماں صدقے! کیوں آ جاتا گاڑی کے نیچے؟ وہ ہے نا بچوں کی بلکہ ہم سب کی حفاظت کرنے والا.’ شبانہ نے ایک انگلی آسمان کی طرف اٹھائی

میں مسکرا کر جانے لگا تو شبانہ نے مجھے روک لیا

سنو بیٹے! تم ایک اچھے بچے ہو اور اچھے بچے ہمیشہ بڑوں کو سلام کیا کرتے ہیں.’ اس کے چہرے پر اب بھی مسکراہٹ تھی

.اسلام و علیکم شبانہ!’ میں نے بھی مسکرا کر کہا

وعلیکم السلام بیٹے! خوش رہو!’ شبانہ نے ہاتھوں پر اپنا ریشمی دوپٹہ پھیلا کر دعا دی

یہ تم کسے سلام کر رہے ہو؟ اس کھسرے کو؟’ اس کرخت سوال پرہم دونوں چونک گئے

میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو حاجی صاحب خونخوار نظروں سے ہم دونوں کو گھور رہے تھے. اب حاجی صاحب کا ذکر آ ہی گیا تو یہ بھی بتاتا چلوں کے وہ پورے محلے میں میری ناپسندیدہ ترین شخصیت تھے. چھوٹا سا قد، گورا چٹا رنگ، گٹھا ہوا سر جو ہمیشہ خوشبودار تیل سے چمک رہا ہوتا، بوسکی کا کرتا، ململ کی دھوتی، ایک ہاتھ میں مسواک اور دوسرے میں ایک پیلے دانوں والی تسبیح. محلے کے بچوں کو ڈانٹنا اور ان کو گھیر گھار کر مسجد لے جانا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا. پہلے مزاجاً کچھ بہتر تھے مگر پھر پچھلی گرمیوں میں حج کیا کر آے، بھاپ کے انجن بن گئے. مجھے تو ہر وقت وحشی بیل کی مانند ان کے نتھنوں سے دھواں نکلتا دکھائی دیتا. سنا ہے پہلے تو موٹر سائیکلوں کی کوئی چھوٹی سی ورکشاپ چلاتے تھے مگر پھر ایک دن ایک بانڈ نکل آیا تو منٹگمری روڈ پر اسپیئر پارٹس کی دو تین دکانیں کھول لیں اور پرانی بیوی کو طلاق دے کر ایک اٹھارہ سالہ دوشیزہ سے شادی کر لی. شادی کے فوراً بعد الله کی نازل کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے حج پر چلے گئے. پورے محلے کے ٹھیکیدار تھے. تمام پڑوسیوں کی نیکیاں تو نہیں البتہ گناہوں پر گہری نظر رکھتے تھے. محلے میں آتی جاتی کسی بے پردہ لڑکی کو دیکھتے تو فوراً روک لیتے اور دو تین مرتبہ اوپر سے نیچے تک گھورنے کے بعد کہتے ‘پردہ کر کے گھر سے نکلا کرو’. شبانہ سے شدید نفرت فرماتے تھے اور محلے والوں کے بقول ‘اگر شبانہ محلے میں نا ہوتی تو حاجی صاحب کو بلڈ پریشر بھی نا ہوتا                           

میں کیا پوچھ رہا ہوں؟ تم اس کھسرے کو سلام کر رہے تھے؟’ حاجی صاحب کی کرخت آواز نے میری سوچ کا سلسلہ توڑ دیا

جی وہ ……..!’ اب حاجی صاحب کو تو میں یہ نہیں که سکتا تھا کے شبانہ کے نام کے ساتھ کھسرے کا لفظ نا لگائیں

جی وہ کیا؟ ہمارے مذہب میں ایسے لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں. نا ان کو سلام کرنا جائز نا ان سے بات کرنا جائز.’ حاجی صاحب نے اپنی مہندی رنگی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے جواب دیا

ہاں جی بالکل، نا ہمیں سلام کرنا جائز نا ہم سے بات کرنا جائز. لیکن ضرورت پڑنے پر رات کے اندھیرے میں اپنے بسترپر لٹانا جائز؟’ شبانہ نے چمک کرایک کراری سی تالی بجائی اور جواب حاجی صاحب کے منہ پر دے مارا

تم بھاگو یہاں سے.’ حاجی صاحب سے اس بات کا کوئی جواب نا بن پایا تو مجھ پر غصّہ اتار دیا

میری سمجھ میں شبانہ کی بستر والی بات اور حاجی صاحب کا جز بز ہونا تو نا آیا مگر میں نے بہتر یہ ہی سمجھا کے وہاں سے بھاگ نکلوں

بچپن سے لڑکپن تک اور لڑکپن سے جوانی کا سفر پلک جھپکتے ته ہوگیا. اس سارے عرصے میں ذھن کی بچگانہ معصومیت نا جانے کہاں کھو گیئ اور دوستوں کی محفلوں نے بہت سی پراسرار باتوں پر سے پردہ اٹھا دیا. اب میں اچھی طرح سمجھ چکا تھا کے شبانہ نے حاجی صاحب کو جو بستر والی بات کا طعنہ دیا تھا، اس بات کا اصل مطلب کیا تھا. 

حاجی صاحب کو بھی الله تعالیٰ نے ایک بیٹی دے دی مگر اس سے بھی ان کے پتھر دل میں کوئی دراڑ نا پڑ سکی اور وہ بدستور شبانہ کو محلے سے نکالنے کی کوشش کرتے رہے. مگر بھلا ہو محلے کے کچھ اور مؤعززین کا کے جن کی مداخلت کے باعث حاجی صاحب اپنے پاک ارادوں میں کامیاب نا ہوسکے. حیرت کی بات یہ تھی کے جہاں حاجی صاحب سے میری نفرت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، شبانہ کے ساتھ میرے تعلقات ویسے ہی بلکہ کچھ اوربہتر ہوگئے. کالج سے آتے جاتے میں اسے دیکھتا تو فوراً رک کر سلام کرتا اور وہ فوراً حسب عادت پیار سے ہاتھوں پر دوپٹہ پھیلاتی اور ڈھیروں دعاؤں سے نواز دیتی

انہی دنوں کا ایک واقعہ یاد ہے مجھے جس نے شبانہ کے لئے میرے دل میں ایک نئی نہج پر احترام پیدا کیا. گرمیوں کی ایک دوپہر میں کالج سے واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کے اسے چاروں طرف سے بچوں نے گھیرا ہے. بچوں کو دائیں بائیں کر کے میں شبانہ تک پہنچا تو دیکھا کے وہ ایک خارش زدہ مریل اور آوارہ کتے کو گلے سے لگاے زمین پر بیٹھی رو رہی تھی اور ‘ماں صدقے! ماں صدقے!’ کہتے اپنے دوپٹے سے اس کی ٹانگ سے بہنے والا خون پونچھ رہی تھی

.کیا بات ہے شبانہ؟ کیوں رو رہی ہو؟’ میں نے آرام سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا

دیکھو نا بیٹے، ان بچوں نے پتھر مار مار کر اس غریب کا کیا حال کر دیا؟’ اس نے آنسوؤں بھری آنکھوں سے فریاد کی

ہاں ٹھیک ہے، سہی کہتی ہولیکن یہ تو آوارہ کتا ہے. دن بھر نجانے کتنے ایسے پتھر کھاتا ہوگا؟’ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی

نا بیٹا نا! الله پاک کی مخلوق ہے. پیار مانگتی ہے.’ یہ که کر اس کی توجوہ کا رخ پھر اس کتے کی طرف ہوگیا

میں نے بچوں کو وہاں سے بھگایا. ایک قریبی جانوروں کے ڈاکٹر کے کلینک سے کتے کی مرہم پٹی کروائی اور اسے شبانہ کے سپرد کر کے گھر چلا گیا. لیکن ساری رات مجھے نیند نا آی اور میں شبانہ اور اس آوارہ کتے کے لئے اس کے بہنے والے آنسوؤں کے بارے میں سوچتا رہا                     

دیکھتے ہی دیکھتے میری پڑھائی ختم اور نوکری شروع ہوگیئ. وہ عید کا دن تھا اور میں چھٹی پر گھر آیا تھا. حسب معمول مسجد میں نماز پڑھی اور عید ملنے کے بعد جب باہر نکلا تو مسجد کے دروازے کے باہر شبانہ کو کھڑا پایا. اب وہ تقریباً بڑھاپے کی سرحد پر پہنچ چکی تھی. چہرے پی جھریاں تھیں مگر بال ویسے ہی کالے اور میک اپ ویسا ہی شوخ 

.اسلام و علیکم شبانہ! عید مبارک’ میں نے مسکرا کر کہا

وعلیکم السلام بیٹے! خوش رہو. آباد رہو.’ اس کے چہرے پر مجھے دیکھتے ہی ایک پر شفقت مسکراہٹ آ گیئ

شبانہ! یہ میری پہلی تنخواہ سے تمہارے لئے عیدی.’ میں نے ایک پانچ سو کا نوٹ جیب سے نکال کر اس کی طرف بڑھایا

واہ جی واہ! ماں صدقے! میرا بیٹا صاحب بن گیا. کمانے لگ گیا. ماشاللہ. الله  نظر بد سے بچاے. خوب ترقیاں دے، خوب پیسہ دے.’ شبانہ کی آنکھوں میں یکایک آنسوامڈ آے اور اس نے میرے سر پر ہاتھ پھیر پھیر کر دعایں دینا شروع کر دیں. میں جانے لگا تو شبانہ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر روک لیا. میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا

بیٹے آج عید کا دن ہے. میرے کونسے بچے ہیں کے میں عید مناؤں؟’ اس کی آواز اب بھی آنسوؤں سے بوجھل تھی. ‘ماں صدقے! تم میری کوٹھری پر عید ملنے آؤ گے؟

میں ایک لمحے کے لئے سوچ میں پڑ گیا. شبانہ کو سلام کرنا ایک بات اور اس کے گھر جانا بالکل الگ. شبانہ کے بڑھاپے کی وجہ سے کوئی شک تو نا کرتا مگر پورے محلے میں میرا مزاق بن جاتا. خیر پھر سوچا کے اس بیچاری کا دل رکھ لوں گا تو کیا فرق پڑ جائے گا؟ میں نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا اور گھر چلا گیا

شام کو چاے کا وقت ہوا تو میرا ارادہ کچھ کچھ متزلزل ہونے لگا. میں نے سوچا کے اس سے پہلے کے کہیں شبانہ دروازہ کھٹکھٹا کر بلا نا لے، میں دوستوں سے ملنے کے بہانے گھر سے نکل جاؤں. خیر چپ کر کے موٹر سائیکل گیٹ سے باہر نکالی. سٹارٹ کرنے ہی لگا تھا کے شبانہ اپنی کوٹھری سے نکل آی

کہیں جا رہے ہو بیٹے خیر سے؟ میرے پاس نہیں آنا چأے پینے؟’ اس کی آواز میں افسردگی کی گونج تھی

نہیں، نہیں، میں بس موٹر سائیکل کھڑی کر کے آ رہا ہوں.’ مجھ میں اس کا دل توڑنے کی ہمّت نہیں تھی

خیر جلدی جلدی موٹر سائیکل اپنی جگہ پر کھڑی کی اور گلی پار کر کے شبانہ کی کوٹھری میں داخل ہوا. مجھے حیرت تھی کے پچیس سال شبانہ کا پڑوسی ہونے کے باوجود میں نے ایک دفعہ بھی اس کی کوٹھری کو اندر سے نہیں دیکھا تھا. تقریباً آٹھ ضرب آٹھ فٹ کا نیچی گرڈروں والی چھت کا کمرہ تھا اور اینٹوں کا پلاسٹر کے بغیرفرش. چھت کی ٹائلیں دھویں اور میل سے سیاہ پڑ چکی تھیں. دیواروں پر سے جگہ جگہ چونا جھڑ رہا تھا. نمی اور جھڑتے چونے نے ہر دیوار پر سات بر اعظموں کے نقشے کھود رکھے تھے. ایک دیوار پر فلمی ایکٹریسوں کی تصویروں والا کیلنڈر، دوسری پر خانہ کعبہ اور روضہ مبارک کی سفید پڑتی مدھم فریم شدہ تصویریں،تیسری دیوار پر چھوٹا سا لکڑی کا تختہ جس پر سرخ مخمل میں لپٹا غالباً قران پاک کا نسخہ تھا اور چوتھی دیوار پر تین کھونٹوں سے رنگا رنگ کپڑے لٹک رہے تھے. ایک کونے میں ایک پرانا اور جھولتا جھلاتا پیڈسٹل فین رکھا تھا اور دوسرے کونے میں پتا نہیں باوا آدم کے زمانے کا ایک بڑے جثہ کا پیلے رنگ کا ریڈیو. ایک دیوار سے ایک چارپائی ستی بچھی تھی جس پر سفید رنگ  کا بستر اور ایک تکیہ ہلکے سبزرنگ کے غلاف میں لپٹا پڑا تھا. تازہ ہوئی صفائی، فرش کی اینٹوں پر چھڑکاؤ اورکمرے کی فضا میں رچی بسی چنبیلی کی خوشبو سے اندازہ ہوتا تھا کے میزبان نے اسے میرے بیٹھنے کے قابل بنانے کے لئے بہت محنت کی تھی. مگر اس محنت کے باوجود اس کمرے میں ایک عجیب سی بو تھی. ناکامی کی بو، غربت کی بو، نا آسودہ خواہشات کی بو اور اکیلے پن کی بو. میں نے نظریں اٹھائیں تو شبانہ سوالیہ نگاہوں سے میری ہی جانب دیکھ رہی تھی

 کیا ھوا بیٹے؟ میرا کمرہ پسند نہیں آیا؟’ اس نے التجائی نگاہوں سے میری طرف دیکھا

نہیں، نہیں شبانہ، یہ کیسے ہوسکتا ہے کے تمہارا کمرہ ہو اور مجھے پسند نہیں آے؟ بہت اچھا ہے. بالکل تمہاری طرح.’ میں نے اس کا دل رکھنے کو جھوٹ بولا تو وہ بیچاری خوش ہو گیئ. جلدی جلدی مجھے چارپائی پر بٹھایا اور تھرموس سے ایک مگ میں چاے انڈیل کر مجھے پیش کی. ساتھ ایک پلیٹ میں طرح طرح کے بسکٹ اور ایک اور پلیٹ میں سموسے تھے. میں چاے پیتا رہا اور وہ زمین پر بیٹھی مسکراتی مجھے دیکھتی رہی. چاے پی کر میں نے پیالی سائیڈ پر رکھنی چاہی تو غلطی سے کچھ قطرے چھلک کر تکیے پر گر گئے. قطروں کا تکیے پر کیا گرنا تھا، شبانہ پر تو جیسے بجلی گر پڑی. ‘بسم اللہ! بسم اللہ!’ کہتے جھپک کر اٹھی، تکیے کا غلاف اتارا اور جلدی جلدی پانی سے رگڑ کر صاف کیا. مجھے اس کی بے قراری کچھ عجیب سی لگی

کیا ہوا شبانہ؟ تکئے کا غلاف ہی تو ہے. میں ایسے دس اور لا دوں گا.’ میں نے مسکراتے ہوے کہا

.نا بیٹا نا! یہ تکیہ نہیں، میری ماں ہے.’ اس نے پیار سے غلاف پر ہاتھ پھیرا

کچھ دیر کے لئے مجھے لگا کے جیسے شبانہ کا دماغی توازن کچھ خراب ہے. تکیہ کیسے کسی کی ماں ہوسکتا ہے؟ اس نے میری طرف دیکھا تو میری آنکھوں میں جھانکتے شکوک سے بہت کچھ سمجھ گیئ

دیکھو بیٹے، یہ تکیہ میری ماں کی نشانی ہے.’ اس نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی اور پھر میری خاموشی پر بولتی چلی گیئ: ‘میرے ہوش سمبھالنے سے بہت پہلے میرے ماں باپ نے مجھے خواجہ سراؤں کے حوالے کر دیا تھا. ہوش سمبھالا تو صرف گرو جی کو دیکھا. انہوں نے ماں باپ کا پیار اور استاد کی سختی، دونوں مجھے دینے کی کوشش کی. استاد بن کر سکھا تو بہت کچھ دیا مگر ماں باپ کی کمی نا پورا کر سکے. پتا نہیں کیوں، میں دن رات اپنی اندیکھی ماں کو یاد کرتی. جب اس کمی کی وجہ سے مجھے بیماری نے ان گھیرا تو پہلے تو گرو جی نے مجھے بہت سمجھایا کے میری ماں میری ماں نہیں رہی تھی کیونکہ معاشرہ مجھے اس کی اولاد کے طور پر کبھی قبول نہیں کر سکتا تھا مگر پھر ان کو مجھ پر ترس آ گیا. ایک دن وہ مجھے میری ماں سے ملانے لے گئے مگر اس وعدے پر کے اس کے بعد میں کبھی اپنی ماں کو یاد نہیں کروں گی

بات کرتے کرتے شبانہ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور وہ غلاف میں کسی نادیدہ چہرے کو تلاش کرتی رہی

.پھر کیا ہوا؟ تمھاری ملاقات اپنی ماں سے ہوئی؟’ میں زیادہ دیر صبر نا کر سکا

ہاں، ملاقات ہوئی بیٹے.’ ایک ٹھنڈی آہ بھر کر شبانہ نے دوبارہ اپنی کہانی کا آغاز کیا. ‘وہ گلبرگ کی ایک بہت بڑی کوٹھی میں رہتی تھی. پتا نہیں کیسے گرو جی نے ہماری ملاقات کا بندوبست کیا. میں اپنی ماں کو دیکھتے ہی اس کے پیروں سے لپٹ گیئ. پہلے تو وہ نا کچھ بولی، نا مجھے پیار کیا. مگر پھر اس کا دل پاؤں پر گرتے میرے آنسوؤں سے پگھل گیا اور اس نے اٹھا کر مجھے گلے سے لگا لیا. پتا نہیں ہم کتنی دیر ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے رہے. ہوش آیا تو تب جب مجھے کسی نے نہایت بے دردی سے بالوں سے کھینچ کر اپنی ماں سے الگ کرنے کی کوشش کی. دراصل کسی ملازمہ نے جا کر میرے باپ اور بھائیوں کو خبر کر دی تھی. ان کے سینے میں میری ماں کا دل نہیں دھڑکتا تھا جو میرے وجود کو برداشت کرتے. ان کے لئے میں صرف بدنامی اور کلنک کا ٹیکا تھی. کافی کوشش کے بعد انہوں نے مجھے کھینچ کر میری روتی چیختی ماں سے الگ کیا اور مار پیٹ کر گھر سے باہر پھینک دیا. ساتھ ہی گرو جی کو دھمکی دی کے اگر دوبارہ ہم نے اس گھر کا رخ کیا تو ہمیں پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا. خیر اس سارے جھگڑے میں میری ماں کی سبز چادر میرے ہاتھوں میں رہ گیئ جس کا میں نے تکیے کا غلاف بنا لیا

.کیوں؟ تکیے کا غلاف کیوں؟’ مجھے چادر کے استعمال پر حیرت ہوئی

بیٹے میں اس دنیا میں اکیلی ہوں. نا کوئی پیار دینے والا، نا کوئی پیار لینے والا. مگر دل دکھانے والے بہت ہیں’. شبانہ نے گدلی آنکھوں سے میری طرف دیکھا: ‘جب کوئی میرا دل دکھاتا ہے تو میں اپنی کوٹھری میں آ کر ساری شکایت اس تکیے کو لگاتی ہوں. پھر اس کو سینے سے لگا کر خوب روتی پیٹتی ہوں. پتا نہیں اب تک اس تکیے میں میرے آنسوؤں کے کتنے سمندر جذب ہو چکے ہیں.اس تکیے کے غلاف میں میری ماں کی خوشبو ہے. وہ خوشبو میرے دل کو تسلّی دیتی ہے اور کہتی ہے کے کوئی بات نہیں شبانہ، تو غم نا کر. سب ٹھیک ہوجاے گا

میرا اپنا دل بھرآیا. اس کی کہانی ہی کچھ ایسی تھی. میں نے اٹھ کر اسے تسلّی دی. طاق پر رکھے قران پاک پر نظر پڑی تو بات کا رخ بدلنے کی سوچی

تمھیں قران پڑھنا آتا ہے شبانہ؟ کس سے پڑھا؟’ میں نے اس کا دھیان بٹانے کے لئے پوچھا

وہ اٹھی اور ہاتھ بڑھا کر طاق پر سے قران پاک اتار لیا. آنکھوں سے لگایا، چوما اور پھر بڑے احترام سے اسے کھولا. ‘پڑھنا تو نہیں آتا بیٹے مگر اس کو روز کھولتی ضرور ہوں                                         

جب پڑھنا نہیں آتا تو کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟’ میری سمجھ میں اس کی بات نہیں آی

یہ پیار کی کتاب ہے بیٹے. میں اسے کھولتی ہوں تو بس پیار نظر آتا ہے. بس اس پیار کو پیار سے دیکھتی ہوں تو سارے غم سارے گناہ بھول جاتے ہیں. یہ قران نہیں ہے بیٹے، یہ ایک دروازہ ہے. جب میں اس دروازے کو کھولتی ہوں تو میرے اور میرے الله کے درمیان کچھ نہیں ہوتا. میں اس کو پیار سے دیکھتی ہوں اور وہ مجھے. بس یہ دو چیزیں ہیں میرے پاس جن کے سہارے میں زندہ ہوں

ایک بات تو بتاؤ شبانہ. یہ الله تعالیٰ نے تم لوگوں کو کیوں پیدا کیا ہے؟ کبھی سوچا ہے تم نے؟’ میں نے اپنی ایک دیرینہ خلش کو الفاظ کا جامہ پہنایا

لو بھلا، سوچنے کی کیا ضرورت ہے بیٹے؟’ شبانہ نے حیرانگی سے کہا، ‘جو مقصد تمھیں پیدا کرنے کے پیچھے ہے، وہ ہی ہمیں پیدا کرنے کے پیچھے ہے. ہم سب کو سوہنے رب کی ذات نے پیار بانٹنے کے لئے پیدا کیا ہے. بس پیار ہی تو ہے اس پوری کائنات میں. پیار نکال دو تو باقی کچھ نہیں

یہ سننے کے بعد مجھ سے اور وہاں نہیں رکا گیا. میں اپنا احسان سمجھ کر شبانہ کی کوٹھری میں گیا تھا. مگر واپسی پر احساس ہوا کے میں محسن نہیں، احسان مند تھا

دس بارہ سال اور گزر گئے. میری شادی ہوگیی، مگر الله نے اولاد سے نہیں نوازا. شبانہ کافی بوڑھی ہوچکی تھی مگر اب بھی جب کبھی مجھے دیکھتی تو ‘ماں صدقے! ماں صدقے!’ که کردعا وں کے انبار سے لاد دیتی تھی. انہی دنوں میں نے سنا کے حاجی صاحب کی جوان اور غیر شادی شدہ بیٹی کچھ بیمار تھی. محلے میں سرسراتی سرگوشیوں کے مطابق وہ پیٹ سے تھی. خیر خدا جانے کیا سچ تھا اور کیا غلط؟ ایک رات میں دیر سے گھر آیا تو دیکھا حاجی صاحب گھر کے باہر کھڑے کسی آدمی کو رخصت کر رہے تھے. آدمی کے گلے سے لٹکتے سٹیتھو سکوپ اور اس کے ہاتھ میں پکڑے کالے رنگ کے بیگ سے میں سمجھ گیا کے کوئی ڈاکٹر تھا جو حاجی صاحب نے غالباً اپنی بیٹی کے لئے بلایا تھا. میں نے اخلاقاً رک کر خیریت پوچھنے کا ارادہ کیا مگر مجھے رکتے دیکھ کر حاجی صاحب تیزی سے گھر کے اندر داخل ہوگے اور کنڈی لگا لی. خیر میں نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا اور گھر چلا گیا

اگلے دن صبح میں حسب معمول فجر کے لئے اٹھا. وضو کر ہی رہا تھا کے باہر سے اٹھنے والے شور پر چونک گیا. جلدی جلدی وضو پورا کیا اور الله سے خیر کی دعا کرتے گیٹ سے باہر نکلا. گلی کی نکڑ پر کوڑے والی چار دیواری کے گرد لوگ جمع تھے. میں دوڑ کر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کے لوگوں کے ہجوم کے درمیان شبانہ زمین پر بیٹھی ہے اور ‘ماں صدقے! ماں صدقے!’ کرتے ایک پوٹلی کو سینے سے لگاے ہچکیاں لے لے کر رو رہی ہے

.لو آ گیا شبانہ کا وکیل. اس سے کرا لو فیصلہ.’ حاجی صاحب کی آواز گونجی

کیا بات ہے شبانہ؟ کیوں رو رہی ہو؟ یہ پوٹلی میں کیا ہے؟’ میں نے حاجی صاحب پر ایک قہر آلود نظر ڈالی اور شبانہ کے پاس ہی زمین پر بیٹھ گیا

دیکھو نا بیٹے، لوگ کتنے ظالم ہیں، پیدا کر کے معصوم جان کو یہاں کوڑے پر پھینک دیا. میں وقت پر نا پہنچتی تو اس کو کتے نوچ لیتے.’ شبانہ نے مجھے دیکھ کر کہا اور پوٹلی پر سے کپڑا ہٹایا. میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے کیونکہ پوٹلی میں ایک نوزائیدہ بچہ نیم بیہوشی کے عالم میں لپٹا پڑا تھا

آؤ اس کو ہسپتال لے چلیں.’ میں نے پوٹلی کو گود میں لیا اور شبانہ کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کر دیا

کوئی فائدہ نہیں. بچہ مر چکا ہے. جانے کس کا گناہ ہے؟ ایدھی والوں کو بلا کر ان کے حوالے کر دو.’ حاجی صاحب نے مجھے روکنے کی کوشش کی

حاجی صاحب، مجھے اچھی طرح معلوم ہے کے یہ کس کا گناہ ہے. میں نے کسی کو اس بچے کو اس کوڑے کے ڈھیر پر پھینکتے ہوئے دیکھا ہے اور میں اس پاپی کو اچھی طرح پہچانتی ہوں. مجھے ہسپتال لے جانے دو ورنہ میں سب کو بچے کی شناخت بتانے میں دیر نہیں کروں گی.’ شبانہ کی آواز میں کچھ ایسا قہر گونج رہا تھا کے پھر کسی کو ہمیں روکنے کی جرأت نہیں ہوئی. وہ ایک نوزائدہ بچی تھی اور الله کو اس کی زندگی منظور تھی. میں اور شبانہ ہسپتال سے واپس پہنچے تو شبانہ کی کوٹھری کے باہر پولیس کھڑی تھی

تمہارا نام شبانہ ہے؟’ ایک پولیس والے نے شبانہ سے بڑی رعونت سے پوچھا اور اس کے اثبات پر آگے بڑھ کر اس کو ہتھکڑی لگا دی

کیا بات ہے انسپکٹر صاحب؟ اس بیچاری کو کیوں گرفتار کیا ہے؟’ میں نے حواس باختہ ہو کر پوچھا

توہین قران کیا ہے اس نے. ہمیں اس کی کوٹھری میں جلے ہوئے ورقے ملے ہیں قران پاک کے’. انسپکٹر نے پلاسٹک کے شفاف لفافے میں بند کچھ جلے ہوئے کاغذ میری آنکھوں کے سامنے جھلاے

میں جلاؤں گی پیار کی کتاب؟ الله سوہنے کی کتاب میں جلاؤں گی؟ شبانہ نے بے قرار ہو کر فریاد کی. مگر پولیس والوں نے نا اس کی سنی نا میری اور شبانہ کو گاڑی میں لاد کر لے گئے

مجھے بہت اچھی طرح اندازہ تھا کے یہ شرارت کس کی ہے. میں غصے میں حاجی صاحب کے گھر پر پہنچا توگیٹ پر جھولتا ایک بڑا سا تالا میرا منہ چڑا رہا تھا. اس پاس سے پوچھنے پر معلوم پڑا کے دوپہر سےپہلے ہی حاجی صاحب اور ان کی فیملی کہیں چلی گیئ ہے. میں نے مزید دیر کرنا مناسب نہ سمجھا اور وکیل کے پاس ضمانت کی بات کرنے چلا گیا. واپس آیا تو ایک پولیس والا میرے گھر کے باہر کھڑا تھا. میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا

شبانہ کھسرے نے حوالات میں خود کشی کر لی ہے. باڈی پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دی ہے. شام کو مردہ خانے سے جا کر لے لینا.’ اس پولیس والے نے نظریں چراتے ہوے میرے اوپر بجلی گرائ

میرے ہوش میں آنے تک وہ پولیس والا جا چکا تھا. میں نے شام کو جا کر شبانہ کا مردہ جسم وصول کیا، قریب رہنے والے اس کے کچھ ساتھیوں کو خبر دی اور اگلے روز دن چڑھتے ہی اس کو دفنا دیا. یہ بتانے کی ضرورت نہیں کے اس کے جنازے میں صرف میں اور اس کے تین ساتھی شریک تھے. جب میں شبانہ کو دفنا کر گھر میں داخل ہوا تو میری بیوی اس بچی کو بوتل سے دودھ پلا رہی تھی. میں نے بڑھ کر اس غریب کو گود میں اٹھایا اور ٹکر ٹکر اس کی معصوم شکل دیکھنے لگا

.کیا کریں گے اس غریب کا؟’ میری بیوی نے مجھ سے پوچھا

کرنا کیا ہے؟ آج سے یہ ہماری بیٹی ہے……ہماری شبانہ’ میں نے بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

ماں صدقے! ماں صدقے!’ میری بیوی نے بڑھ کر بچی کو اپنی گواد میں لیا اور بےاختیار چومنے لگی

46 thoughts on “شبانہ کھسرا

  1. اسلام و علیکم ۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ آپ ایک بڑھے انسان ہیں لیکن اتنے بڑھے ہیں اس کا اندازہ آج آپکی یہ تحریر پڑہُ کر ہوا ۔ ہمارے بے حس معاشرے کی عکاسی اس سے اچھے انداز میں نہیں ہو سکتی تھی ۔ اللہ کی مخلوق کی خدمت اور محبت سے بڑہ کر نہ کوئی عبادت ہے اور نہ ہی کوئی اور ذریعہ جو خالق کائنات کی خشنودی کا باعث بن سکے ۔ اللہ آپکو خوش رکھے اور زور قلم اور ذیادہ ہو ۔ آمین

    Liked by 2 people

      • بہت گہری بات کر دی کہ تحریر سوچ کی غماز ہوتی ہے کردار کی نہیں۔ لیکن جو تحریر صرف قول کی حد سے باہر نہ نکل سکے اور عمل سے دور ہو وہ کبھی دل میں جذب نہیں ہو سکتی اور نہ ہی دلوں تک رسائی کر پاتی ہے۔

        Liked by 3 people

  2. I don’t no why, but i had a flood of tears. One request only, if it is possible for you, make the Maulvi a good guy in some story, he is not always the hypocrite which we think he is.

    Liked by 1 person

  3. جناب آپ کی تحریر بہت اچھی ہے لیکن ہر برا کردار حاجی یا مولوی ہی کیوں ہو تا۔

    Like

  4. بہت خوب۔ معاشرے کے ایک ایسے کردار کی رونمائی کی جو ہماری توجہ اور ہمدردی کا مستحق ہے لیکن ہم نے شاید اسے نظر انداز کر دیا ہے۔ اسے اپنے سے ایک مختلف شخصیت جان کر جو ہمارے لیے تفریح کا سامان تو ہے لیکن جس کے جذبات اور محرومیوں کو سمجھنے کی کوشش ہم نے کبھی نہیں کی۔

    Liked by 1 person

  5. کوئی تحریر آنکھیں نہ دھوئے تو تازگی ہی نہیں ملتی، پڑھنے کا احساس ہی نہیں ہوتا، باربار مرا اور زندہ ہوا، بہت خوب لکھا آپ نے ۔۔

    Liked by 1 person

  6. اتنا لمبا افسانہ تھا لیکن ختم کئے بغیر ادھر اُدھر ہلنے ہی نہیں ہوا۔ بہت خوب لکھا دوست۔۔۔ مزا آ اگیا۔۔۔

    Like

  7. Asslamoalaikum ,
    First time read something written by u. Some friend of mine sent me link.
    Sir , no words.Hats off to you.
    Lovely piece.
    Regards

    Like

  8. Allah ne aap ko khobsorat andaz-e-tehreer hi naee diya bilkay ek khobsorat orr hasas dil bhi diya hai..jub ye dono khobiyan hoon tu Shahkar takhleeq hotey hain.meri duain aap k sath hain.

    Liked by 2 people

  9. An amazing piece again. Zabardast!

    These societal mindsets now need to change. Scholars of gender studies argue that not only gender but sex is also a social construction (while both of them are totally different according to this discipline). There is a mind set that a certain physic is male and the other is female. Nothing other than these two is acceptable or deemed normal. However, biology says there can be 10’s of possibilities is which a new born is not from among the two accepted sexes ; male & female due to the biological differences hence can not behave exactly like them later. The hatefulness that we have towards this category of human sexes is due to lack of knowledge. I remember in my childhood i used to think that these people are an outcome of their parent’s sins or this is something of a punishment etc and would run away from them .

    The depiction of a soft and mild heart of Shabana is a general reality. They do have delicate hearts and very kind nature as far as i have seen.

    And yes Sir ji, i second Your Old Friend. Sari unglian barabar nahin hotin. So kuch nazr e karam molvion par bhi farmiye ab 🙂

    Liked by 1 person

    • Thank you so much. You have been very kind as usual. I agree with what you have said. My additional point or query is that Islam has not provided any directions regarding the eunuchs, which is very strange. And yes, Moulvis. I will definitely. I in fact have a tender spot for the illiterate mullah. Will certainly write something favourable about them. Thank you once again

      Like

  10. Salam dear!
    Read your article after a long time. It was so fascinating, I couldn’t resist reading till end.
    Please accept my sincerest gratitude for this pearl.
    It was something that my mind was searching.
    I “ll go with the first comment by Mr. Zaheer Ahmed.
    This pearl has so much to say about our so called “civilized” society. I am just…………… speechless.
    Please continue enlightening us with your pearls.
    Jazak ALLAH Khair.

    Liked by 1 person

  11. Sorry my vocabulary is failing me.beautiful and excellent are not enough to compliment you.I see Manto and Nadeem Qasmi in your writings.keep It up.

    Like

  12. Wah zbrdast Shehryaraik arsa hua achhi tehreerun ko perhey… kuchh arse pehle tumhari tehreer darbar wali perhi thi… phir chanb din pehley aik alg qism ki tehreeh aur ajj aik aur khaas cheez… bht arsey se perhta aa raha hoon logon ko… bachpan hi mein Kirshn chandr ko perha azeem baig chugtai , Asmat chugtai, rajinder sigh bedi , manto… achhey they woh log,,, mgr tumhara asloob deikh ker ji chahta hey k ab srf tum hi ko perhun,,,, mujhey iss baat ka ghroor bhi hota hey k mein tumharey janney walun mein hoon . mgr iss se ziyada fakhar iss baat ka hota hey k mein tum se taqreeba 19 saal pehley mila thaa to jo tum mein deikha tha woh poora hota hua nzar aa raha hey , bht umdahh,… khush rahu……. shabash… aur JEETEY RAHU…..

    Liked by 1 person

    • Sir thank you so much. Ur words are too big for a person as small as me. And I m what I am because of my interactions with so many kind and understanding people in my life. You are one of those people who exercised a great impact on my life. Through u and by observing you I found out what was love, affection, kindness and tolerance. So in a way my each story speaks of ur teachings. Thank you once again

      Like

  13. A thought provoking story. Society needs to understand the problems of those who dont have anyone to look after them. Excellent job sir. Stay blessed. Shahzad133

    Like

  14. Shehryar I’m really impressed. Since the first day you have been scholarly and artistic. Keep it up!

    Best Regards,
    Nasrullah Khan

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s