لاہور کا موچی اور استنبول کی جپسی

gypsy-caravan-forest-night

یہ آج سے کچھ سال پہلے کی بات ہے. بچپن سے کتابوں میں استنبول اور قونیہ جیسے شہروں کے بارے میں بہت پڑھا تھا. توپ کاپی کے عجائب گھر اور استنبول کی نیلی مسجد کے بارے میں پڑھتے پڑھتے ایک دن شوق چڑھا کے کیوں نا دیکھ ہی لیا جائے. تیاریاں شروع ہو گیئں. دفتر سے ایک مہینے کی چھٹی لی، کپڑے وغیرہ خریدے گئے اور ترکی پر جتنی کتابیں میسر آیئں، سب باری باری پڑھ ڈالیں


اپنا تعارف بھی کرواتا چلوں. میرا نام قباد کامران ہے. لاہور میں پیدا ہوا اور لاہور ہی میں ہمیشہ سے مقیم ہوں. آباؤ اجداد نے نہر کنارے مسلم ٹاؤن آباد کیا. علاقہ اسقدر دل کو بھایا کے اب تو دل کسی اور طرف کا رخ کرنے پر مائل ہی نہیں ہوتا. پیشے کے لحاظ سے میں ایک لکھاری ہوں. کہانیاں لکھتا ہوں

 
استنبول کے سفر کی تیاری شروع کی تو ایک دن الماری سے اپنے سفری جوتے نکالے اور بیٹھ گیا پالش کرنے. یہ سرخی مائل بھورے چمڑے کے ٹخنے تک اونچے امریکی جوتے تھے جو میں نے آٹھ دس سال پہلے خریدے تھے. گزرتے وقت کی دھول اور ناپے گئے فاصلوں نے جوتوں کو دیکھنے میں تھوڑا بدنماء ضرور کر دیا تھا مگر اندر سے اسقدر نرم ہوچکے تھے کے جیسے مخمل کا استر لگا ہو. جب پاؤں اندر ڈالتا تھا، مانو یوں لگتا تھا کے جیسے پاؤں اپنی ماں کی گود میں چھپ گئے ہوں. میری بیوی کو ان جوتوں سے شدید چڑ تھی

 
.اب پھینک بھی دو انکو، کب تک رگڑتے رہو گے؟’ اس نے مجھے جوتوں کو پیار سے گود میں رکھے سہلاتے دیکھ کر کہا’
.ارے نہیں، دنیا میں دو ہی چیزیں تو مجھے عزیز ہیں: ایک تم اور ایک یہ جوتے.’ میں نے مسکرا کر شرارت سے کہا’
نہیں مجھے تو معاف ہی رکھو. ان جوتوں سے ہی محبت کرتے رہو.’ پیشانی پر نمایاں تیوری کے باوجود اس کے لبوں کے پیچھے مچلتی مسکراہٹ مجھ سے چھپی نا رہ سکی
دیکھو میری جان، تم نے بچپن میں جنوں کی کہانیاں تو پڑھی ہی ہونگی. ان سب کی جان کسی نا کسی چیز میں محفوظ ہوتی تھی. کسی کی طوطے میں، کسی کی اسکے بالوں میں. تو میری آدھی جان ان جوتوں میں محفوظ ہے.’ میں نے پالش کی پہلی تہ جماتے ہوئے کہا
.اور باقی آدھی جان؟’ اس نے دوسرے جوتے کو اٹھا کر غور سے دیکھتے ہوئے کہا’
.باقی آدھی جان ایک حسین مگر ظالم پری کے قبضے میں ہے جو چائے بہت اچھی بناتی ہے.’ میں نے ہنستے ہوئے کہا’ 
چائے بعد میں بناؤں گی. پہلے اپنے جوتوں کی فکر کرو.’ اس نے جوتے کے اکھڑتے تلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ‘یا نیا جوڑا خرید لو یا ان کو مرمت کرواؤ. ورنہ وہاں ترکی میں پری آگے نکل جائے گی اور جن پیچھے بھاگتا رہ جائے گا

بیوی چائے بنانے گئ تو میں نے غور سے جوتے کا جائزہ لیا. واقعی تلہ اکھڑنے کو ہی تھا. چائے پی کر موچی کی تلاش میں گھر سے نکل پڑا. گھر کے قریب کوئی نا ملا تو فیروز پور روڈ پر نکل پڑا. جہاں وحدت روڈ فیروز پور روڈ سے بغلگیر ہوتی ہے، عین وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھا ایک موچی نظر آیا. میں نے گاڑی ایک میڈیکل سٹور کے سامنے روکی اور پیدل موچی کے پاس چلا گیا

 
دو تین افراد پہلے سے ہی وہاں کھڑے تھے. مجھے انتظار کرنا پڑا تو وقت گزاری کے لئے موچی کا جائزہ لینے لگا

 
زیادہ عمر رسیدہ تو نہیں تھا مگر وقت اور زمانے کی سختیوں نے بالوں کو کھچڑی بنا دیا تھا. تھوڑے لمبے اور الجھے ہوئے بال، گندمی دھوپ سے جلا رنگ، تین چار دن سے بڑھی شیو، نیم خواب دیدہ سی آنکھیں اور ان پھر سایہ کئے بھاری پپوٹے، سیاہی مائل ہونٹ اور ان میں دبا سلگتا ہوا گولڈ فلیک کا سگریٹ. آلتی پالتی مار کر سکون سے بیٹھا تھا. پرانا سا پیلاہٹ لئے سفید کرتہ جس کی آستینیں کہنیوں تک چڑھی تھیں اور ایک میلی سی سرمئی چار خانے والی لنگی پہنے تھا اور ایک کندھے پر ایک سفید رومال جس سے وقفے وقفے سے وہ پسینہ پونچھنے کا کام لیتا تھا. دونوں ہاتھ کھردرے اور بدنماء مگر انگلیاں مخروطی اور لمبی جیسے مصوروں کی ہوتی ہیں

 
ایک طرف ایک پرانا سالخوردہ لکڑی کا بکس پڑا تھا جس کو آسانی سے اٹھانے کے لئے موچی نے ایک سائکل کی پرانی ربر کی ٹیوب باندھ رکھی تھی. ڈبے کے اندر سے مختلف رنگ کے چمڑے کے ٹکڑے اور پالش کی ڈبباں جھانک رہی تھیں. موچی ایک پرانے قالین کے ٹکڑے پر بیٹھا تھا جو اتنا پرانا تھا کے اس پر بنے ڈیزائن کب کے ایک دوسرے میں گم ہوچکے تھے. سامنے سلیقے سے جوتا مرمت کرنے کے کچھ اوزار رکھے تھے

مجھے دو باتیں بہت عجیب لگیں اس موچی میں. ایک تو وہ نظریں اوپر کر کے کسی گاہک کو نہیں دیکھتا تھا. اس کی توجوہ صرف جوتوں پر مرکوز رہتی تھی. پیسے لیتے وقت بھی اوپر نہیں دیکھتا تھا. دوسرا اس کے چہرے پر مسلسل ایک معنی خیز مسکراہٹ ناچ رہی تھی. خیر تھوڑا انتظار کرنے کے بعد میری باری بھی آ ہی گئ

.کونسا جوتا مرمت کرانا ہے؟’ موچی نے آگے ہاتھ بڑھایا’
.جی چاچا، یہ جوتا ہے. اس کا تلہ اکھڑ رہا ہے. کچھ ہوسکے گا اسکا؟’ میں نے شاپر میں ڈالا جوتا اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا’
ہوں……تمیز دار ہو بہت. ماں باپ نے اچھی پرورش کی ہے.’ اسکی نظریں تھوڑا اوپر اٹھیں مگر میرے گھٹنوں تک آ کر دوبارہ نیچے جھک گیئں
‘جی بہت مہربانی مگر آپ بزرگ ہیں. پھر ہاتھ سے رزق حلال کما رہے ہیں. بدتمیزی کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.’ میں نے مسکرا کر کہا
ہوں……..!’ اسنے میری بات سنی انسنی کر دی اور جوتے کا غور سے مطالعہ کرنے لگا: ‘بہت دنیا دیکھی ہے ان جوتوں نے. مگر سوال یہ ہے کے کیا جوتا پہننے والے نے بھی اتنی ہی دنیا دیکھی یا پھر نہیں؟
.جی، کوشش تو کی ہے.’ میں صرف اتنا ہی کہ سکا. ‘عجیب آدمی ہے. موچی ہے یا فلاسفر؟’ میں نے دل ہی دل میں سوچا’
کیوں؟ کیا ایک انسان ایک وقت میں دونوں نہیں ہوسکتا؟’ اس نے جوتے کو سٹیل کے ایک چھوٹے سے پلیٹ فارم پر چڑھاتے ہوئے کہا’
.کیا نہیں ہوسکتا؟’ میں نے چونک کر پوچھا’
.موچی اور فلاسفر؟’ اس کی انگلیاں اوزاروں کے ساتھ رقص کرنا شروع ہوگیئں’
میری تو اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئ. ‘اسکو کیسے پتہ چلا میں کیا سوچ ہوں؟’ میں نے پھر سوچا’
.کون ہیں آپ؟’ میں نے اپنی حیرت پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا’
.ہدایت موچی!’ اس کا جواب بہت مختصر تھا’
.یہ تو آپ کا نام ہے. اصل میں آپ کون ہیں؟’ میں نے جھنجھلا کر پوچھا’
اصل میں؟ اصل میں ہدایت دیتا ہوں اور جوتے مرمت کرتا ہوں. اور اصل کیا ہے؟ کون جانتا ہے؟’ اس کی انگلیاں ایک لمحے کو بھی نا رکیں
.میری طرف اوپر دیکھیں. آپ کون ہیں بابا جی؟’ میں نے جھک کر سرگوشی کی’
اوپر دیکھنے کی کیا ضرورت ہے جب سب جواب نیچے ہی مل جاتے ہیں؟’ اس نے نظریں جوتے سے ہٹاے بغیر کہا: ‘جوتے سب بتا دیتے ہے. جوتے مالک کی شخصیت کا حصہ ہوتے ہیں
.میرے جوتے نے آپ کو کیا بتایا؟’ میں نے حیرت سے پوچھا’
تمھارے جوتے نے یہ بتایا ہے کے تمھیں مجھ سے یہ سوال پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے.’ اس نے ایک نوکیلے اوزار میں تندی پھنساتے ہوئے پوچھا: ‘اچھا تم یہ بتاؤ کے کرتے کیا ہو؟
.میں لکھتا ہوں. سوالوں کے جواب ڈھونڈتا ہوں.’ میں نے اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا’
.کن سوالوں کے؟’ اس نے پوچھا’
.مختلف سوال جیسے کے اصل کیا ہے؟’ میں نے اسی کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’
.اچھا. اور؟’ اسکی مسکراہٹ تھوڑی پھیل گئ’ 
اور؟ اور جیسے کے خدا کیا ہے؟ ہے بھی یا نہیں؟ ہے تو کیا ووہی ہے جو ہمارا مذہب بتاتا ہے یا پھر کوئی اور؟’ مجھے بہت عجیب لگ رہا تھا ایک موچی کے آگے وہ باتیں کرتے جو میں صرف اپنے قریبی دوستوں سے ہی کرتا تھا. لیکن عجیب سی کشش تھی اس موچی میں. دل چاہ رہا تھا کے دل کھول کر اس کے سامنے رکھ دوں
.میری بات کو شرک نا سمجھئے گا.’ میں نے احتیاط کو مدنظر رکھتے ہوے گزارش کی’
.شرک؟ شرک تو ناممکن ہے. شرک کوئی نہیں کر سکتا.’ اس نے بہت آرام سے ایک بہت ہی مشکل بات کر ڈالی’
.شرک کیسے ناممکن ہے؟ میں سمجھا نہیں.’ میں نے سر کھجاتے ہوئے پوچھا’
شرک کا مطلب ہے جانتے بوجھتے ہوئے کہ خدا سب کا بنانے والا ہے، یہ یقین کرنا کہ کوئی اور خدا ہے.’ اس نے سلائی مکمّل کرتے ہوئے کہا: ‘جیسے کے تمھیں اچھی طرح پتہ ہو کے تمھاری ماں کون ہے لیکن تم اس کی بجاے یہ یقین رکھو کے کوئی دوسری عورت تمھاری ماں ہے. کیا ایسا ممکن ہے؟
جی نہیں. یہ تو اپنے یقین کو جھٹلانے والی بات ہے. ایسا کون کر سکتا ہے؟’ اسکی بات کچھ کچھ میرے پلّے پڑ رہی تھی: ‘لیکن ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو خدا کی بجاے بتوں کی پوجا کرتے ہیں یا پھر خدا پر سرے سے یقین ہی نہیں رکھتے؟
‘جو بتوں کی پوجا کرتے ہیں وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کے وہ بت ہی ان کا خدا ہے. وہ کسی اور کو ان بتوں کا شریک نہیں ٹھہراتے. اور جو سرے سے خدا پر یقین ہی نہیں رکھتے، وہ بھلا شرک کیسے کر سکتے ہیں؟’ موچی نے پوچھا تو میں اس کی بات سمجھ گیا
ویسے اچھی عادت ہے سوال پوچھنا. میرے اپنے خیال میں یقین کے ساتھ مرنے سے بہتر ہے کے انسان سوال دل میں لئے مر جائے. یقین رکھنے والے بیوقوف ہوتے ہیں.’ موچی کی ظاہری توجوہ ابھی بھی جوتے پر مرکوز تھی 
.تو پھر ایمان رکھنے والے سب بیوقوف ہیں؟’ میں نے حیرت سے پوچھا’
.یقین اور ایمان دو مختلف چیزیں ہیں.’ موچی نے نہایت آرام سے ایک بہت بڑی بات کہ ڈالی’
لیکن یہ سوالات بہت مشکل ہیں. ان کا جواب کیسے ڈھونڈا جائے؟’ میں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا. مجھے ڈر تھا کے کوئی اور یہ باتیں نا سن لےاور ایک موچی سے اس قسم کی گفتگو کرتا دیکھ کر مجھے ذہنی مریض نا سمجھ لے. مگر آس پاس ایسا کوئی نہیں تھا جس کو ہماری باتوں میں دلچسپی ہو
جواب ڈھونڈنا اتنا مشکل بھی نہیں.’ موچی نے ایک تیز دھار چاقو نما آلے سے تلےکے کنارے کاٹتے ہوئے کہا: ‘استنبول کے ترلباسی نامی علاقے میں ایک خانہ بدوش جپسی عورت رہتی ہے. سب اس کو ماریا کہ کر پکارتے ہیں. میرا سلام دینا اور اس سے اپنے سوال پوچھنا. شاید کوئی اچھا جواب مل جائے
.آپ کو کیسے پتا کے میں ترکی جا رہا ہوں؟’ میرے اعصاب ایک لمحے کے لئے ماؤف ہوگئے’
فضول سوال پوچھو گے تو کام کے سوال بھول جاؤ گے. اپنا جوتا پکڑو اور ترکی جانے کی تیاری کرو.’ موچی نے جوتا میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ‘پچاس روپے
میں نے جیب سے پیسے نکالے اور اس کے ہاتھ میں تھما دیے اور چپ کر کے گھر واپس آ گیا 

_______________________________________
ترکی میں وقت کیسے گزرا، احساس ہی نہیں ہوا. دیکھنے اور گھومنے پھرنے کو بہت جگہیں تھیں مگر وقت بہت کم. جپسی ماریا سے ملنا یاد ہی نہیں رہا. یاد آیا تو تب جب میرے جوتے کا تلہ دوبارہ اکھڑ گیا اور پاکستان واپس جانے میں صرف دو دن باقی تھے. بیگم صاحبہ کو بمشکل اکیلے شاپنگ پر راضی کیا اور خود نکل پڑا. مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کے جس وقت میں ہوٹل سے نکلا، رات کے آٹھ بج رہے تھے. ارادہ یہ تھا کے پہلے جوتا ٹھیک کراؤں گا اور پھر ماریا کو ڈھونڈا جائے گا

بڑے جتن کر کے ایک موچی ڈھونڈا گیا اور وہ لاہور والے موچی سے خاصا مختلف تھا. فٹ پاتھ کی بجاے ایک چھوٹی سی دوکان تھی اسکی اور جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا. شرمندگی بھی بہت اٹھانا پڑی کیونکہ جب جوتا اس کے ہاتھ میں دیا تو وہ باوجود کوشش کے کوئی اکھڑا ہوا تلہ نہیں ڈھونڈ سکا. میں نے بھی بہت دیکھا اور زور لگایا مگرتلہ اپنی جگہ مضبوطی کے ساتھ جما ہوا تھا. خیر معذرت کی اور دوکان سے نکل آیا

 
اجنبی شہر تھا تو سوچا کے بہتر یہ ہی کے ٹیکسی لے لی جائے. لیکن جس بھی ٹیکسی ڈرائیور سے بات کرتا وہ ترلباسی کا نام سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتا. غالباً بہت بدنام علاقہ تھا. خیر خدا خدا کر کے ایک ٹیکسی والا دوگنے کرایے پر لیجانے پر راضی ہوا اور ٹھیک تقسیم اسکوائر پر اتار کر کہنے لگا کے ‘ تقسیم اسکوائر کے جنوب مغرب میں ترلباسی کا علاقہ ہے.’ وہاں اتر کر ادھر ادھر دیکھ ہی رہا تھا کے ایک پولیس والا نظر آیا

 
.کیا آپ سرکک کے علاقے تک پوھنچنے کا راستہ بتا سکتے ہیں؟’ میں نے اسے اپنی طرف متوجوہ کیا’
:ٹورسٹ؟’ اس نے استہفامیہ انداز میں پوچھا اور میرے اثبات میں سر ہلانے پر کہنے لگا’
وہ ایک خطرناک علاقہ ہے. وہاں طوائفوں اور جوا خانوں کے علاوہ کچھ نہیں رکھا. اکیلے جاؤ گے تو لٹ جاؤ گے. کیا کام ہیں وہاں؟’
.وہاں مجھے ماریا نامی ایک خانہ بدوش عورت سے ملنا ہے؟’ میں نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا’
اسکو یقیناً میری دماغی حالت پر شک ہوا ہو گا لیکن اس نے اس کا اظہار نہیں کیا اور مجھے ایک پہچان والے راہگیر کے حوالے کر دیا جو سرکک کے علاقے سے اچھی طرح واقف تھا. گلیوں محلوں سے گزرتے آخر ہم وہاں پوھنچ ہی گئے. میرے ساتھی نے دو ایک دوکانوں سے ماریا کا پتہ کیا اور مجھے ایک گلی میں داخل ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا
‘اس گلی میں سیدھا چلتے جاؤ. جہاں یہ ختم ہوگی، وہاں ایک بڑی سی بلڈنگ کے صحن میں ماریا ایک ٹریلر میں رہتی ہے’
میں نے اس غریب کا شکریہ ادا کیا اور چل پڑا

عجیب اندھیری جگہ تھی. استنبول جیسے صاف ستھرے شہر کو دیکھ کر یہ احساس نہیں ہوتا تھا کے وہاں ایسے گندی گلیاں اور محلے بھی وجود رکھتے ہونگے. نالیاں بیشک اوپر سے ڈھانپی ہوئی تھیں مگر فضاء میں ہر طرف ایک سرانڈ سی پھیلی تھی. اندھیرا بہت تھا اور کہیں کہیں کسی عمارت کے صدر دروازے پر جلنے والی روشنی دائرے بنا رہی تھی. اپنی بیوقوفی پر بہت غصّہ آ رہا تھا مگر میں ناک پر رومال رکھ کر چلتا گیا. اچانک سامنے ایک سایے کو دیکھ کر ٹھٹک کر رک گیا

گاہک ہو؟ کسے تلاش کر رہے ہو؟’ سایے نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی اور نسوانی لہجے میں کہا. میں تھوڑا قریب ہوا تو دیکھا کے ایک عورت کھڑی تھی. چالیس یا پھر پنتالیس کا سن ہوگا. چہرہ میک اپ کی تہوں تلے چھپا ہوا اور عطر کی تیز خوشبو کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں 
‘نہیں میں گاہک نہیں ہوں. ٹورسٹ ہوں.’ میں نے گڑبڑا کر کہا’
ٹورسٹ ہو تو جب میں مال بھی ہوگا. نکال کر رکھ دو یہاں ورنہ واپس نہیں جا سکو گے.’ عورت کے پیچھے سے ایک مردانہ آواز گونجی اور ساتھ ہی ایک اونچا لمبا اور پلا ہوا آدمی اندھیرے سے نکل کر سامنے آ گیا

چھ فٹ سے بھی زیادہ اونچا قد، ہاتھ میں پکڑا نو انچ پھل والا تیز دھار چاقو، چست پتلون، لیس کے کالر والی سفید قمیض، قمیض پر لگے سنہری فینسی بٹن، گلے میں ایک موٹی تازی سنہری زنجیر، گھنی مونچھیں، فرنچ کٹ داڑھی، ایک آنکھ پر سیاہ پٹی اور سر پر بندھا سرخ رومال. مجھے تو قرون وسطیٰ کے بحری قزاق یاد آ گئے

 
اس سے پہلے کے میں جیب خالی کرتا، اندھیرے میں ایک اور نسوانی آواز گونجی. ترکی زبان میں کچھ کہا گیا. طوائف اور اسکے ساتھی، دونوں نے مڑ کر دیکھا اور پھر مجھے ایک طرف دھکیل کر یوں بھاگے جیسے موت سے سامنا ہوگیا ہو. میں حیرت سے ان دونوں کو بھاگتا دیکھتا رہا

 
میرانام ماریا ہے. میرے پیچھے پیچھے آؤ.’ میں چونک کر مڑا لیکن میرے مڑ کر دیکھنے تک وہ عورت میری طرف اپنی پشت کر کے چل پڑی تھی. میں نے سکھ کا سانس لیا اور اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا. ایک موڑ مڑنے کے بعد گلی یک دم چوڑی ہوگئ اور ہم دونوں لوہے کے ایک بلند مگر کھلے گیٹ سے گزرتے ہوئے ایک عمارت کے وسیع و عریض صحن میں داخل ہوگئے

 
صحن کے ایک کونے میں لکڑی کا بنا ہوا اور اونچے اونچے لکڑی کے ہی پہیوں والا ایک ٹریلر کھڑا تھا. میں نے تب تک کتابوں میں ایسے ٹریلروں کی صرف تصویریں ہی دیکھی تھیں. یورپ کے جپسی لوگ ان کو اپنی رہائش کے طور پر استمعال کرتے ہیں. میں نے غور سے دیکھا تو انوکھی ہی چیز تھی. خون کی مانند گہرا سرخ رنگ جس پر غالباً تانبے سے سنہری نقش و نگار بنے تھے. چوڑائی کے رخ دو کھڑکیاں تھیں، ایک بند اور دوسری کھلی مگر سرخ ہی رنگ کے پردے سے ڈھکی. لمبائی کے رخ ایک دروازہ تھا اور اس کے نیچے لکڑی کی کچھ سیڑھیاں زمین تک جا رہی تھیں. مخروطی چھت تھی اور اس کے اوپر ایک کونے میں ایک چھوٹی سی دھواں اگلتی چمنی

 
اندر چلیں؟’ میں نے چونک کر دیکھا تو ماریا میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی. میں نے اوپر سے نیچے تک اپنی انوکھی میزبان کا جائزہ لیا. کچھ عجیب و غریب اور پراسرار سی شخصیت تھی 
اونچی لمبی اور لحیم شحیم اور گوری چٹی عورت. قد غالباً چھ فٹ سے بھی کچھ اوپر تھا. جلد اتنی صاف اور جھریاں نا ہونے کے برابر. شکل دیکھ کر عمر کا اندازہ کرنا بہت مشکل تھا. گھنے جاپانی سمورائی تلواروں کی شکل کے ابرو، گہری کالی اور بڑی بڑی آنکھیں، ستواں ناک، مناسب موٹائی کے ہونٹ جن کی سرخی قدرتی لگ رہی تھی، بے حد کھلا گلہ اور گلے میں ڈلے بے شمار عجیب عجیب شکلوں کے تعویذ، دونوں کلائیوں میں چاندی کے موٹے موٹے کڑے. وہ کندھوں سے پاؤں تک ایک گہرے سرخ رنگ کے لبادے میں ملبوس تھی جو کہ میرا خیال ہے کے مخمل کا بنا تھا. اس کے پورے وجود سے زغفران اور مشک کی ملی جلی خوشبو اٹھ رہی تھی

اگر میرا جائزہ لے چکے ہو تو اندر چلیں؟’ ماریا نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر میرا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاں چڑھ کرٹریلر کا دروازہ کھولا اور مجھے ہلکے سے اندر دھکیل دیا

اپنی حیرت پر قابو پا کر جو پہلی عجیب بات میں نے نوٹ کی وہ یہ تھی کے باہر سے ٹریلر جتنا چھوٹا دکھائی دیتا تھا، اندر سے اتنا ہی بڑا لگ رہا تھا. دونوں بڑی دیواریں بھاری بھرکم سیاہ پردوں سے ڈھکی ہوئی تھیں. داخلی دروازے کے بالمقابل کونے میں پرانے زمانے کا چار لکڑی کے منقش ستونوں والا ایک سنگل بیڈ پڑا تھا جس پر زربفت کی خوبصورت چادر تھی اور اسکے اوپر نرم سفید تکیوں کا ایک انبار تھا. دروازے کے ہی بلکل ساتھ ایک گیس کا چھوٹے سلنڈر والا ایک چولہا تھا جس پر چڑھی ایک چھوٹی سی کیتلی میں قہوہ ابل رہا تھا اور گرم مصالوں اور الایچی کی خوشبو سارے ماحول کو مہکا رہی تھی. ٹریلر کے عین درمیان میں ایک ہاتھ سے بنے خوبصورت ایرانی قالین پر ایک چھوٹی سی نازک تپائی رکھی تھی اور آمنے سامنے لکڑی کی ہی نازک دو کرسیاں. تپائی کے اوپر قدیم زمانے کی شیشے سے بنی اور آٹھ کے ہندسے سے مماثل ایک بمشکل ایک چھ انچ اونچائی کی ریت گھڑی پڑی ہوئی تھی جس کے نچلے حصے میں موجود ریت کی مقدار بتا رہی تھی کے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئے الٹائ گئ تھی

.تمھیں یہ ریت گھڑی بہت پسند آی ہے؟’ ماریا نے پوچھا’
ہاں مجھے ہمیشہ سے ریت گھڑیاں بہت پسند ہیں. شاید ریت کے گرنے کے ساتھ وقت کے گزرنے کو دیکھنا اچھا لگتا ہے.’ میں نے کچھ جھینپتے ہوئے جواب دیا
.قہوہ پیو گے؟’ ماریا نے مسکراتے ہوئے پوچھا’
جی ضرور.’ پھر مجھے خیال آیا کے میں نے اپنے بارے میں تو بتایا ہی نہیں: ‘معاف کیجئے گا. میں نے اپنا تعارف نہیں کروایا. میرا نام………
ہاں میں جانتی ہوں. تمہارا نام قباد ہے. تم نے شاید محسوس نہیں کیا. میں پہلے ہی سے تمھاری منتظر تھی.’ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو مجھے یاد آیا کے اس نے گلی میں طوائف اور اس کے ساتھی کو بتایا تھا کے میں اس کا مہمان ہوں
.جی جہاں بالکل. میں پوچھنے ہی والا تھا کے آپ کو میری آمد کے بارے میں کیسے پتا چلا؟’ میں نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا’
.فضول سوال پوچھو گے تو کام کے سوال بھول جاؤ گے.’ ماریا نے شیشے کی دو نازک پیالیوں میں سنہرا قہوہ انڈیلتے ہوئے کہا’
.آپ بابا ہدایت کو کیسے جانتی ہیں؟’ مجھے اس کے بولے فقرے میں موچی کی کہی بات سنائی دی’
بالکل ویسے جیسے بابا ہدایت میرے بارے میں جانتا ہے.’ ماریا نے پیالیاں تپائی پر رکھیں اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر کے خود بھی بیٹھ گئ

میں آپ سے کچھ سوال پوچھنے آیا ہوں. مجھے بابا ہدایت نے بتایا تھا کے شاید آپ کے پاس سے مجھے مناسب جواب مل جایئں.’ میں نے قہوے کی چسکی لیتے ہوئے کہا 
جانتی ہوں. تم ضرور پوچھو. مگر دو باتیں یاد رکھو. پہلی یہ کے میرا، تمہارا، ہر سوچنے والے کا علم مکمّل نہیں ہوتا. ہم سب کا علم پارے کی مانند ہوتا ہے. تجربات کے ساتھ اور وقت کے ساتھ شکل تبدیل کرتا رہتا ہے. شاید دنیا میں کسی بھی چیز کا علم مکمّل نہیں ہوتا. علم کا ارتقاء ہمیشہ جاری رہتا ہے. لہذا میرے کسی بھی جواب کو حرف آخر نا سمجھنا. میرے جواب صرف تمھیں سوچ کا ایک نیا راستہ سجھانے کیلئے ہیں. دوسرا یہ کے ہماری بات چیت مذہب سے بالا تر ہوگی. اس بات چیت کو مذہب کے سانچے میں فٹ کرنا تمہاری اپنی ذمہ داری ہے.’ ماریا نے ایک چھوٹی سی تقریر کر ڈالی

میں نے اثبات میں سر ہلایا اور پہلا سوال پوچھا: ‘خدا کیا ہے؟
خدا ایک انٹلیجنٹ انرجی یعنی ایک زہین طاقت سے بھرپور توانائی ہے. ہمارے اندر بلکہ ہر جاندار اور بےجان کے اندر یہ انرجی کسی نا کسی شکل میں موجود ہے. جیسے ہمارے اندر خدا روح کی صورت میں موجود ہے. اپنی انرجی کا ایک حصّہ جب خدا ہم میں پھونک دیتا ہے تو ہم زندہ ہوجاتے ہیں. اور جب ہم مر جاتے ہیں تو انرجی کا یہ حصّہ واپس اپنے ماخذ میں جا کر مل جاتا ہے.’ ماریا نے بڑے سکون سے جواب دیا

 
.کائنات کے اور اس دنیا کے نظام کو کیسے سمجھا جائے؟’ میں نے دوسرا سوال پوچھا’
کسی بھی سسٹم کو سمجھنے کے لئے اس سسٹم کے عوامل اور ان کے درمیان روابط کو سمجھنا بہت ضروری ہے. مثال کے طور پر طبیعات میں کسی بھی دو طاقتوں کے باہمی عمل اور رد عمل کو سمجھنا ہو تو ایک کانسٹنٹ کی ضرورت ہوتی ہے. یہ کانسٹنٹ خدا کے ہونے پر یقین ہے. یہ یقین ہو تو آپ کسی بھی عمل اور رد عمل کو سمجھ سکتے ہیں.’ ماریا نے اٹھ کر پیالیوں میں پھر سے قہوہ انڈیلا
.میں کچھ سمجھا نہیں.’ میں نے سر کھجاتے ہوئے کہا’
دیکھو ارشمیدس نے ایک دفعہ کہا تھا کے اگر تم مجھے ایک کھڑے ہونے کی جگہ اور مناسب لمبائی کا لیور دے دو تو میں زمین کو اسکے مدار سے ہٹا سکتا ہوں. خدا پر یقین دراصل ایک ایسی جگہ ہے جہاں تم کھڑے ہوکر ہر چیز کو سمجھ سکتے ہو.’ ماریا نے پیالی میرے سامنے سرکاتے ہوئے کہا
‘اب میں سمجھا ہوں آپ کی بات.’ میں نے سر ہلاتے ہوے کہا: ‘اچھا اب ایک مشکل سوال’
‘پہلے دو بھی کم مشکل نہیں تھے.’ ماریا نے مسکراتے ہوئے کہا: ‘لیکن تم پوچھو جو پوچھنا چاہتے ہو’

‘ہمیں کیوں پیدا کیا گیا؟’ میں نے تیسرا سوال پوچھا: ‘میرا مطلب ہے کے خدا نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟’
ہم سب، یہ دنیا اور وہ تمام مخلوقات اور دنیائیں جو خدا نے تخلیق کی ہیں، یہ سب خدا کا ایک تجربہ ہیں. خدا نے ایک سسٹم تخلیق کر دیا ہے اور اس سسٹم کی کچھ حدود بھی مقرر کر دیں ہیں. وہ ہر چیز دیکھتا ہے لیکن دخل اندازی نہیں کرتا.’ ماریا نے کہنیاں کرسی کے بازو پر ٹکاتے ہوئے کہا
.خدا کو تو ہر چیز کا علم ہے. اس کو تجربہ کرنے کی کیا ضرورت؟’ میں نے کچھ کنفیوز ہوتے ہوئے پوچھا’
تم آرٹیفشیل انٹلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کے بارے میں جانتے ہو؟’ ماریا نے پوچھا اور میرے اقرار میں سر ہلانے پر کہنے لگی: ‘ایک سائنسدان جو ایک مصنوعی ذہانت والا سسٹم بناتا ہے، وہ اچھی طرح سے اس سسٹم کی حدود اور قابلیت کو جانتا ہے بلکہ ان حدود اور قابلیتوں کی تخلیق کرتا ہے. لیکن پھر بھی وہ اپنے بناے سسٹم کی آزمائش ضرور کرتا ہے

.اگر خدا سسٹم میں دخل اندازی نہیں کرتا تو دعائیں قبول کیسے ہوتی ہیں؟’ میں نے پوچھا’
یہ یقین رکھنا کے دعائیں سنی جاتی ہیں اور قبول ہوتی ہیں، انسانوں کی ذہنی صحت، قلبی سکون اور نفسیاتی توازن کے لئے بہت ضروری ہے. اسی لئے تو انسان نے مذہب ایجاد کیا تھا. شاید خدا دعائیں سنتا تو ہے مگر قبول یا رد نہیں کرتا. اگر وہ دعائیں قبول کرتا تو پورے سسٹم کا بیڑا غرق ہوجاتا.’ ماریا نے مسکرا کر جواب دیا

 
ماریا، باوجود اسکے کے میں ایک مہینہ قبل تمھارے پاس آنے کا پروگرام بناہے بیٹھا تھا، میں شرمندہ ہوں کے سوالات سوچ سمجھ کر نہیں کر سکا. جب ہدایت بابا نے مجھے تمھارے بارے میں بتایا تو میں نے اپنے ذھن میں سوالات کی ایک لمبی لسٹ بنائی مگر اسوقت مجھے اور کوئی سوال یاد نہیں آ رہا.’ میں نے شرمندہ سا ہوکر کہا
کوئی بات نہیں. یوں بھی بہت وقت گزر چکا ہے. میں نہیں چاہتی کے تم اس علاقے سے دیر سے نکلو.’ ماریا نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا: ‘باہر میرا ایک دوست تمہارا منتظر ہے. وہ تمھیں بحفاظت تقسیم اسکوائر تک پوھنچا دے گا
.الوداع ماریا. مجھے تم ہمیشہ یاد رہو گی.’ میں نے گرم جوشی سے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھاما’
الوداع قباد، مجھے بھی تم ہمیشہ یاد رہو گے. بس کوشش کرو کے کبھی اپنے علم کو مکمّل نا سمجھو. ہمیشہ سوالات پوچھتے رہنا. اپنے آپ سے بھی اور ان لوگوں سے بھی جو کچھ بتانے کے قابل ہیں

میں باہر نکلا تو اوور کوٹ اور فیلٹ ہیٹ میں ملبوس ایک شخص میرا منتظر تھا. اس نے مجھ سے کوئی بات کیے بغیر اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور چل پڑا. اس شخص نے مجھے ماریا کے وعدے کے عین مطابق تقسیم اسکوائر تک پوھنچا دیا. ٹیکسی میں بیٹھتے ہی مجھے اپنی جیب میں ایک نامانوس سا ابھار محسوس ہوا. ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو وہ ماریا کی ریت گھڑی تھی 
خدایا، یہ میں نے کیا کر دیا؟ یہ گھڑی میں نے کب بے خیالی میں اٹھا لی کے پتہ ہی نہیں چلا؟ نا جانے ماریا کیا سوچتی ہوگی میرے بارے میں؟’ میں نے شرمندگی سے سوچا اور فیصلہ کیا کے اگلے ہی دن صبح دوبارہ ماریا کے پاس جا کر لوٹا دوں گا

________________________________________________
ہوٹل پوھنچا اور کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا. بیوی نے کھولا تو میں نے دیکھا کے وہ ابھی تک تیار حالت میں ہی کھڑی تھی
.شاپنگ سے واپس آ کر کپڑے ہی تبدیل کر لیتی.’ میں نے کوٹ اتارتے ہوئے کہا’
شاپنگ سے واپس آکر؟’ بیوی نے حیرت سے پوچھا اور پھر ہنسنے لگی: ‘میں تو ابھی تک شاپنگ پر گئ ہی نہیں. لیکن تم یہ بتائو کے کیا ماریا کے پاس جانے کا ارادہ بدل دیا؟
‘کیا مطلب؟’ میں نے بوکھلا کر پوچھا. ‘ میں تو مل بھی آیا، بڑا اڈونچر رہا’
مزاق مت کرو قباد. تم پانچ منٹ میں کونسی ملاقات کر کے آے ہو؟ کیا ماریا نیچے لابی میں تمھاری منتظر تھی؟’ بیوی نے تھوڑا پریشان سا ہوکر کہا
پانچ منٹ؟ میں تقریباً تین گھنٹے پہلے کمرے سے نکلا تھا. پورے آٹھ بجے.’ میں نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوے کہا اور پھر بھونچکا رہ گیا کیونکہ گھڑی آٹھ بج کر دس بجا رہی تھی. میں نے انگلی سے گھڑی کا شیشہ کھٹکھٹایا، ہلا جلا کر دیکھا مگر وہ بالکل ٹھیک چل رہی تھی. میں نے دیوانوں کی طرح بیوی کی کلائی پر بندھی گھڑی دیکھی اور پھر کمرے کی دیوار پر ٹنگے وال کلاک پر نظر ڈالی. ساری گھڑیوں پر ایک ہی وقت تھا یعنی آٹھ بج کر دس منٹ
.یا خدا یہ میں کس گھن چکّر میں پڑ گیا ہوں؟’ میں نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر بستر پر ڈھیر ہوتے ہوئے کہا’
.کیا ہوا؟ مجھے ساری بات تو بتائیں.’ بیوی نے بھی پریشان ہوکر میرے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا’
میں نے اس کو سارا قصّہ سنایا مگر بہت بحث کے بعد بھی اس بات کا منطقی جواب نہیں ڈھونڈ پاے کے آخر میری زندگی کے تین گھنٹے کہاں چلے گئے تھے

 
________________________________________
اگلا پورا دن ہم میں بیوی نے ماریا کے ٹریلر کی تلاش میں گزار دیا. وہ ریت گھڑی اٹھاے مارے مارے پھرتے رہے. نا وہ گلی ملی کے جس سے گزر کر میں ماریا کے ٹریلر تک پوھنچا تھا اور نا سرکک کے علاقے میں کوئی ایسا شخص ملا جس کو ماریا کے بارے میں کچھ معلوم ہو. آخر کار تھک ہار کر ہم میں بیوی واپس ہوٹل آ گئے اور سفر کی تیاری کرنے لگے

______________________________________________
لاہور واپس آ کر دوسرے ہی دن میں بابا ہدایت سے ملنے چل پڑا. آپ یقین نہیں کریں گے کے بوجود کوشش کے میں پورے فٹ پاتھ پر اسکو نہیں تلاش کر سکا. اور تو اور، وہیں بابا ہدایت کے پاس ایک حلیم والا بھی بیٹھا تھا. وہ مجھے نظر آ گیا. میں نے اس سے پوچھا تو اس نے میری طرف مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
‘سر، میں پچھلے دس سال سے یہاں مسلم ٹاؤن موڑ پر ریہڑی لگا رہا ہوں. مجھے تو کبھی یہاں آس پاس کوئی موچی نہیں نظر آیا’

___________________________________________
بابا ہدایت اور ماریا کون تھے؟ یہ تو میں نہیں جانتا. انکو زمین کھا گئ یا آسمان نگل گیا؟ یہ بھی میں نہیں جانتا. لیکن اب بھی وہ ریت گھڑی میرے پاس ہے اور جب بھی اس کو دیکھتا ہوں، مجھے ماریا کی نصیحتیں یاد آ جاتی ہیں
کوشش کرو کے کبھی اپنے علم کو مکمّل نا سمجھو. ہمیشہ سوالات پوچھتے رہنا. اپنے آپ سے بھی اور ان لوگوں سے بھی جو کچھ بتانے کے قابل ہیں

6 thoughts on “لاہور کا موچی اور استنبول کی جپسی

  1. So keep on asking Questions. If you are curious enough and are willing to forego preconceived ideas,you will find Him. But you have to be very very true to yourself. Let me tell you a short story from the pages of Tareeqat :
    “It is said that a simple Zamrendar once desired to find God. He did not know how to offer prayers, he did not know any holy man, he was ignorant about practices of the paths of Holy men.
    So he thought and thought and finally became convinced of one way which appealed to his nature. He knew that all Holy men of old go to Jungles to find God. He thought that if goes and sits in the jungle, God will listen to him. He somehow became convinced that Findling the Love of God is equivalent to finding love of a woman, so with that intention, he wore clothes of a bridegroom as he once wore once going to marry his sweetheart. So he went in Jungle wearing his dress, waiting for the Love of his life.
    And he did find God, as God smiled on the true but simple intention of that man. His effort and intent was accepted”

    Liked by 1 person

  2. “Hui muddat keH Ghalib mar gaya par yaad aata hai….”
    Waah waqt’e-Nau ki story writing kae Chaccha Ghalib kae ChoTTae Bhai…….

    Feels like the discussion of:
    “Na tHa kucCHH tau KHuda tHa…KucCHH Na hota tau KHuda Hota
    Duboya muJH ko HoNae nain.. na hota main tau kya hota”

    all over again… just in a manner, we mortals also can understand what is being discussed”……
    and the concept of artificial intelligence in Allah’s playground…. “Mind blowing”..!!

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s