شاعری، عشق اور بازار حسن

maxresdefault

ابّا میاں! میری ناقص رائے میں، اچھا شاعر بننے کی دو اہم شرائط ہیں. پہلی شراب اور دوسرا طوائف سے عشق.’ بنے میاں نے سنہرے رنگ کے مشروب کی ایک چسکی لیتے اور نیم باز آنکھوں سے، مرزا عبدلودود کیطرف دیکھتے  ہوئے، کمال دانشمندی سے عرض کیا

 

بنے میاں تقریباً انیس سال کی عمر کے دھان پان شخصیت کے مالک نوجوان تھے. بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کے ان پر جوانی آئی ضرور تھی مگر کچھ شرمسار ہوکر. مرزا صاحب کے سب سے چھوٹے صاحبزادے ہونے کا اعزاز حاصل تھا. تقریباً پانچ فٹ قد، لمبی لمبی چنبیلی کا تیل لگی زلفیں، بڑی بڑی سرمہ لگی آنکھیں جن میں سے عقل کم اور حماقت اور دائمی حیرانگی زیادہ جھلکتی تھی، کلین شیو چہرہ اور گلابی پڑتا سرخ کرتا پاجامہ. والدہ محترمہ کے جہیز میں لاے گئے ایک پھٹے ہوئے گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے اور محلے کی مسجد سے چرائی گئ صف پر، بڑی شان سے براجمان تھے. میٹرک میں تیسری دفعہ فیل ہوچکے تھے. ابھی تک ایک بھی غزل یا نظم نہیں کہہ سکے تھی مگر شاعری کا شوق بہت تھا. بس انتظار میں تھے کہ کب شراب اور عشق کی شرائط پوری ہوں اور کب غالب کی طرح ان پر بھی شاعری کا نزول شروع ہو

 بالکل سامنے مرزا عبدالودود کھڑے اپنی نسل کے آخری نمونے کا بغور جائزہ لے رہے تھے. تقریباً پینسٹھ برس کی عمر، منحنی سی شخصیت، درمیانہ قد، سر پرسرمئی پڑتی سیاہ قراقلی ٹوپی، آنکھوں پر موٹے عدسوں کا سستے پلاسٹک کے فریم والا چشمہ جو حفاظت کے پیش نظر بیگم کے پاجامے سے نکالے ہوئے میلے الاسٹک سے بندھا تھا. خشخشی سفید داڑھی، ہونٹ پان کی پیک سے سرخ اور سیاہ شیروانی جس کے گلے سے پیلا ہوتا کرتا جھانک رہا تھا. سفید پاجامہ، پاؤں میں کھسہ اور ہاتھ میں پکڑی چھڑی

 غالباً صاحبزادے، آپ ایک اور اہم شرط بھول رہے ہیں.’ مرزا عبدالودود نے داڑھی میں انگلیوں سے خلال کرتے ہوئے اور عینک کے عدسوں کے اوپر سے بنے میاں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

ارشاد ابّا میاں! ارشاد!’ بنے میاں نے کانچ کے نازک سے جام میں ہلکورے مارتے سنہری سیّال کو غور سے دیکھتے ہوئے، مرزا صاحب کو اظہار خیال کی دعوت دی

اچھا شاعر بننے کی تیسری شرط یہ ہے کہ اب حضور کے بد قسمت والد صاحب، اپنی پاپوش مبارکہ سے، آپ کے، مغز کی پلپلاہٹ میں، خاطر خواہ اضافہ فرمایں.’ مرزا صاحب نے پاؤں سے بھاری بھرکم ملتانی کھسہ اتارتے ہوئے اور الفاظ چباتے ہوئے کہا تو ایک لمحے کیلئے، بنے میاں کے فرشتے ہی کوچ کر گئے

دیکھئے دیکھئے ابّا میاں! تشدّد بے حاصل ہے. کیوں نا، باہمی بات چیت سے مسائل کا حل تلاش کیا جائے؟’ بنے میاں نے فرار کا راستہ تلاش کرنے کی کوشسش کرتے ہوئے پوچھا

 الله رکھی! ارے الله رکھی! ذرا دیکھیو تو، یہ چھت پر کیسی دھما چوکڑی مچی ہے؟’ رضیہ بیگم نے اوپر سے سنائی دیتے دھماکوں اور ‘ہاے مر گیا!’ کی آوازیں سن کر ملازمہ کو آواز دی

 رضیہ بیگم تقریباً پچپن کے پیٹے کی ایک بھاری بھرکم خاتون تھیں. کسی زمانے میں یقیناً حسین ہوں گی مگر اب بڑھاپا تیزی سے حسن کی جگہ لے رہا تھا. پیازی رنگ کے کرتے اور سفید چست پاجامے میں ملبوس تھیں

رضیہ بیگم کی کراری آواز کان میں پڑی تو الله رکھی نے جھاڑو ایک طرف پھینکی اور دھڑ دھڑ سیڑھیاں چڑھ گئ. پانچ سیکنڈ کھڑے ہوکر حالات کا جائزہ لیا اور پھر اسی طرح دھڑدھڑآتی نیچے اتر آئ

.سب خیریت ہے امّاں بی. بس ذرا مرزا صاحب، بنے میاں کا بھوت نکال رہے ہیں.’ الله رکھی نے دانت نکالتے ہوئے وضاحت کی

ارے کیسا بھوت؟ بنے میاں تو ماشا الله خود کسی بھوت سے کم نہیں. بھلا بھوت سے بھوت کیسے نکالا جاتا ہے؟’ رضیہ بیگم نے سروتے سے چھالیہ کترتے ہوئے پوچھا

ایک ہی بھوت سوار ہے بنے میاں کے ناتواں ذھن پر. شاعری کا بھوت!’ الله رکھی نے اینٹوں کے فرش پر جھاڑو کو الٹا ٹھوکتے ہوئے جواب دیا 

الله رکھی کی عمرتقریباً پینتیس کے لگ بھگ تھی. بھاری جسم، کڑوے تیل میں گندھے بال، جن میں پیچھے کی جانب ایک سستا ریشمی پراندہ لٹک رہا تھا. معمولی سا اور میلا کچیلا پھولدار شلوار قمیض اور پاؤں میں ربڑ کی ہوائی چپل

اچھا اچھا زیادہ باتیں نا بنا. جا کر دیکھ باہر دروازے پر کون ہے. نذیر قصائی ہوا تو بتا دیجیو کے مرزا صاحب یرقان کے باعث بستر پر پڑے ہیں. الله شفاء دے گا تو خود دوکان پر آ کر پچھلے چھ مہینوں کا حساب چکتا کر دیں گے.’ باہری دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو رضیہ بیگم نے کہا

ایسے بہانوں سے قرض دار کہاں ٹلتے ہیں بی بی؟ ابھی پچھلے ہی ہفتے، یہ ہی بہانہ شفیق کنجڑے کے سامنے بنایا تو کمبخت کہنے لگا کہ بھئی جان من

.جان من؟’ رضیہ بیگم نے الله رکھی پر ایک غضبناک نظر ڈالی’

جی غلطی سے منہ سے نکل گیا. میرا مطلب ہے کے اس نے کہا کہ الله رکھی، مرزا صاحب کو کہو کے یرقان کی حالت میں بیگم صاحبہ کا برقعہ پہن کر گھر سے نا نکلا کریں. جون کا مہینہ ہے. مزید گرمی چڑھ جائے گی.’ الله رکھی نے داخلی دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا

کمبخت الله مارے! بے شرم کہیں کے! روا داری کا تو زمانہ ہی نہیں رہا.’ رضیہ بیگم نے شفیق کوغائبانہ صلواتیں سناتے ہوئے کہا

 الله رکھی واپس آئ تو ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کی دو بوتلیں تھامے ہوئے تھی. ایک کالی اور ایک سفید

امّاں بی، شیخ صدرالدین جنرل سٹور والے کا لڑکا تھا. کہ گیا ہے یہ دو ملا کر پوری چوبیس بوتلیں ہوگئ ہیں بنے میاں کے نام پر، اس ہفتے میں. مزید منگوانی ہوں تو پہلے ان کے دام چکتے کر دیں.’ الله رکھی نے بوتلیں تپائی پر رکھتے ہوئے کہا

ایک ہفتے میں چوبیس بوتلیں؟ غضب خدا کا. مہمان تو کوئی بھی نہیں آیا. بنے میاں کا معدہ کچھ ناساز ہے کیا؟’ رضیہ بیگم نے پریشان ہوتے ہوئے کہا

ارے کچھ ناساز نہیں امّاں بی. بنے میاں دونوں بوتلوں کو ملا کر شراب سمجھ کر پیتے ہیں. کہتے ہیں نشہ نا سہی، رنگ ہی سہی.’ الله رکھی نے دوپٹہ منہ میں پھنسا، کر ہنستے ہوئے کہا تو رضیہ بیگم آگ بگولہ ہوگئ

یہ سب میرا اپنا قصور ہے. مرزا صاحب کی جوتیاں پڑنے دیتی تو یہ دن دیکھنا نصیب نا ہوتا

 یہاں ہم یہ بتاتے چلیں کے منظر مرزا عبد الودود کے گھر کا ہے. مرزا صاحب اوقاف کے محکمے میں تقریباً چالیس سال ملازمت کر کے پچھلے سال ہی ریٹائر ہوئے تھے. گھر میں کل ملا کر پانچ افراد رہتے تھے: خود مرزا صاحب، انکی بیگم رضیہ، بنے میاں، ایک صاحبزادی اور گھر کی خادمہ الله رکھی. بقیہ دو صاحبزادوں کی شادی ہوچکی تھی. ایک گھر داماد تھا اور دوسرا دبئی میں نوکری کرتا تھا اور بیوی کو ساتھ ہی رکھا ہوا تھا

 خدا خدا کر کے اوپر سے سنائی دینے والی دھما چوکڑی اختتام پذیر ہوئی اور تھوڑی دیر بعد مرزا صاحب بھی اپنی کلائی سہلاتے نیچے تشریف لے آئے. ادھر ادھر دیکھا اور بیگم کو خاموش دیکھ کر سکھ کا گہرا سانس لیا. اخبار اٹھایا اور بینت کی ٹوٹی کرسی پر بیٹھ گئے جس کے عین بیچ میں ایک بڑا سوراخ تھا کہ جس کی وجہ سے وہ کرسی کم اور ولایتی کموڈ زیادہ دکھائی دیتی تھی

بیگم طبیعت کچھ مالش کر رہی تھی، تو میں نے صبح کے ناشتے میں سستی کر ڈالی. بس صرف تین عدد پراٹھے اور دو انڈوں کا آملیٹ ہی نصیب ہوا. اب طبیعت کچھ سنبھلی ہے تو کچھ بھوک سی لگ رہی ہے.’ مرزا صاحب نے سرخیوں کو نظر انداز کر کے، فلمی اشتہاروں والا صفحہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا

جا توا اٹھا لا اور ساتھ کوئی تیز دھار چھری بھی لیتی آنا. میں ذرا رگڑ کر اس کی راکھ اتاروں، تاکہ مرزا صاحب کیلئے آلو کی ٹکیاں تلی جا سکیں. کل سونف چینی میں ملا کر کیا بھونی، کمبخت کوئلہ بن کر ساتھ ہی چمٹ گئ.’ رضیہ بیگم نے پاندان سمیٹتے ہوئے الله رکھی کو حکم دیا

بھئی الله رکھی، یہ اخبار کے بیچ والا صفحہ کیا ہوا؟’ اللہ رکھی توا اور چھری لے کر آئ تو مرزا نے پوچھا

یہ آپ بنے میاں سے پوچھیں کے صفحہ کیا ہوا. روزصبح فلموں کے اشتہار والا صفحہ اٹھا کر، مطالعہ کی غرض سے غسل خانے لے جاتے ہیں. وہیں کہیں دوہرا ہوا پڑا ہوگا، روشندان کے طاق میں

.لاحول ولا قوت اللہ باللہ.’ مرزا صاحب بڑبڑا کر غسل خانے کی طرف چل پڑے’

لو بھلا اس عمر میں فلموں کے نیم عریاں اشتہار دیکھ کر کیا کریں گے آپ؟’ رضیہ بیگم نے توا رگڑتے ہوئے پوچھا

عبرت حاصل کروں گا رضیہ بیگم. اور پھر فلموں کے اشتہارات کی بغل ہی میں، رشتوں کے اشتہار بھی تو ہوتے ہیں.’ مرزا صاحب نے برا سا منہ بناتے ہوئے تاویل پیش کی

ہوں! میں خوب سمجھتی ہوں آپ کی عبرت کو.’ رضیہ بیگم نے طنزیہ لہجے میں کہا: ‘اور بھلا اس عمر میں رشتے کی کیا سوجھ گئ آپ کو؟ کیا بانڈ نکل آیا ہے کوئی؟

لاحول ولا قوت اللہ باللہ. اپنے لئے نہیں، بنے میاں کیلئے دیکھتا ہوں کہ شاید کوئی انگلستان کی شہریت کی مالک لڑکی، اس نالائق کو اپنے ساتھ لیجانے پر راضی ہوجائے.’ مرزا صاحب نے اخبار کا صفحہ ہاتھوں سے سیدھا کرتے ہوئے کہا

ہوں! انگلستان کی شھریت!’ رضیہ بیگم نے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہا: ‘جو حرکتیں ہیں آپ کے صاحبزادے کی، انگلستان کی چھوڑئیے، افریقہ کی لڑکی بھی بنے میاں کی جگہ، کسی گینڈے سے شادی کو ترجیح دے گی

     تھوڑی دیر دالان میں خاموشی طاری رہی اور پھر بنے میاں کمر سہلاتے اور دبی آواز میں مگر شائستگی کو ملحوظ خاطر رکھے، ‘ہاے ہاے!’ کرتے نیچے تشریف لے آئے

امّاں! کریدتی ہو جو اب راکھ، تو جستجو کیا ہے؟’ کنکھیوں سے مرزا صاحب کو دیکھا اور پھر رضیہ بیگم کو توا رگڑتے دیکھ کر پوچھا

کمبخت مارے! جستجو تیرے ابّا کیلئے آلو کی ٹکیوں کی ہے. دفعان ہوجا یہاں سے اور کان کھول کر سن لے: تو مرزا غالب کا نہیں، مرزا عبد الودود کا صاحبزادہ ہے. زیادہ شاعری کرنے کی ضرورت نہیں میرے سامنے.’ رضیہ بیگم نے بھڑک کر کہا

امّاں غصّہ کاہے کو کرتی ہو؟ رہی نا طاقت گفتار اور……….!’ مگر اس سے پہلے کہ مصرعہ مکمّل ہوتا، رضیہ بیگم نے جوتی ہاتھ میں اٹھا لی

ادھر آ کمبخت! میں نکالتی ہوں تیری طاقت گفتار.’ اور بنے میاں چپ چاپ دم دبائے غائب ہوگئے

 ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی، کہ تلی جانے والی آلو کی ٹکیوں کی خوشبو سونگھتے سونگھتے، روشن آرا بھی آن پہنچی

 عمر میں بنے میاں سے ایک سال ہی بڑی تھی مگر وزن کی زیادتی کی وجہ سے رضیہ بیگم کی چھوٹی بہن دکھائی دیتی تھی. رنگ گورا چٹا ضرور تھا، مگر کشش میں ابلے شلغموں سے بھی مار کھاتی تھی. آٹھویں فیل کر کے گھر ہی بیٹھ گئ تھی. گھر کے کام کاج میں پہلے ہی کوئی دلچسپی نا تھی. رہی سہی کسر پرانی فلموں کے شوق نے پوری کر دی تھی. خود کو مدھو بالا سمجھتی تھی. ہر وقت غرارہ پہنے رکھتی اور میک اپ کئے رکھتی تھی. مگر پانی اور صابن سے، الله واسطے کا بیر تھا. لہٰذا زیادہ دیر کوئی بھی اس کے پاس کھڑا ہونا برداشت نہیں کرتا تھا. ابھی تک شادی نا ہوسکی تھی. جو بھی لوگ رشتہ دیکھنے آتے، لڑکی کا وزن دیکھ کر، اسکی جنّتی خوشبو سونگھ کر اور فلمی ڈائلاگ سن کر گھبرا جاتے اور دوبارہ رخ نا کرتے

امّاں کیا کر رہی ہو؟ خوشبو بتا رہی ہے کہ کچھ تلا جا رہا ہے.’ روشن آرا نے رضیہ بیگم کے کندھے کے اوپر سے، جھانک کر دیکھتے ہوئے پوچھا

کمبخت ماری! شرم تو تجھے آتی نہیں ہے. کھا کھا کر سانڈنی بن چکی ہے. کتنی دفعہ کہ چکی ہوں کہ کوئی کام شام کیا کر. پر تجھے فلمی گانے سننے سے فرصت ملے، تو نا.’ رضیہ بیگم نے جھنجھلا کر جواب دیا

اور میں نے کتنی دفعہ کہا ہے کہ ذرا پیچھے رہ کر بات کیا کر. اتنی سخت بدبو آرہی ہے کے جیسے کپڑوں میں مرا ہوا چوہا چھپا کر رکھا ہو. ساری ناک سڑ گئ

امّاں، تو بس میرے حسن سے جلتی ہے. بدبو بھلا کیوں آئے گی؟ ابھی پچھلی عید پر تو نہائی تھی. اور رہ گئ وزن کی بات……جانتی ہے؟ ترکی کے سلاطین، وزن کو حسن کا معیار گردانتے تھے.’ روشن آرا نے اٹھلا کر کہا تو رضیہ بیگم کے تن بدن میں آگ لگ گئ

تو پھر یہاں کھڑی، میری گالیاں کیوں سن رہی ہے مردود؟ جا کر داخل ہوجا، کسی سلطان کے حرم میں

ہو جاؤں گی امّاں. حرم میں داخل بھی ہوجاؤں گی. اس ہیرے کو کسی قابل جوہری کی تلاش ہے.’ روشن آرا نے برآمدے کی دیوار پر لگے شیشے میں جھانکتے ہوئے اپنی بلائیں لیتے ہوئے کہا اور اس سے پہلے کے رضیہ بیگم کے صبر کا پارہ لبریز ہوجاتا، ایک کباب اٹھایا اور دوڑ کر اندر چلی گئ

 شام ہوئی تو بنے میاں گھر میں چپکے چپکے داخل ہوئے. مرزا صاحب غسل خانے میں تھے اور رضیہ بیگم تخت پر پڑی اونگھ رہیں تھیں. روشن آرا اور الله رکھی کا دور دور کچھ پتہ نا تھا. خاموشی سے باورچی خانے میں داخل ہوئے اور احتیاط کے ساتھ اوپری طاق سے، باداموں والا مرتبان اتار کر کھول لیا. اچھی طرح جانتے تھے کے امّاں فالتو پیسے چھپا کر وہیں رکھتی تھی. دو ہزار ہزار کے اور ایک پانچسو کا نوٹ پڑا تھا. بس ایک ہزار کا نوٹ نکالا اور اپنے کمرے میں پڑا ایک کپڑوں کا بنڈل اٹھا کر، گھر سے نکل گئے

بنے میاں کو چوری کی عادت تو نہیں تھی مگر آج مجبور تھے. جنرل اسٹور والے شیخ صاحب کے بڑے بیٹے شبراتی نے، آج مجرا دکھانے کا وعدہ کیا تھا. بنے میاں کی عیاشی کی کوئی نیّت نہیں تھی. بس کتابیں اور سستے ناول پڑھ پڑھ کر انکے دماغ میں یہ خیال پختہ ہوچکا تھا کہ طوائف سے عشق نا کیا، تو شاعری ناممکن. اب طوائف سے عشق کرنے کیلئے ضروری تھا کہ بنے میاں کسی طوائف سے ملاقات کرتے اور ملاقات پیسہ خرچ کئے بغیر ممکن نا تھی. یہاں پر شبراتی نے اپنی خدمات پیش کیں. شرط صرف اتنی تھی کے بنے میاں پیسے کا انتظام کریں

 دوسرا مسئلہ محبوب کیلئے تحفے کا تھا. پیسہ وغیرہ تو جیب میں تھا نہیں. یوں بھی بنے میاں، عشق و عاشقی میں، لین دین کو معیوب سمجھتے تھے. بہت سوچ بچار کے بعد مرزا غالب کی ایک غزل کو، مناسب طور پر رد و بدل کرکہ، سرقہ کیا گیا. ابّا میاں کے قلم سے صاف صاف خط میں، ایک دل اور تیر کی تصویر والے ہلکے گلابی کاغذ پر، غزل لکھی گئ اور حفظ ما تقدم، اس پرحسب توفیق، عطر کا چھڑکاؤ بھی کیا گیا

 محلے کے حمام میں بڑے اہتمام کے ساتھ گرم پانی سے غسل کیا گیا، پھر صاف ستھرا پاجامہ کرتا اور مرزا صاحب کی الماری سے نکالی گئ، عید کیلئے سنبھال کر رکھی شیروانی، زیب تن کی گئ. چنبیلی کا تیل زلفوں میں اور چنبیلی کا عطر شیروانی پر لگایا گیا. مسجد کے باہر کیاری سے، گلاب کے پھول توڑے گئے اور گال میں خوشبودار پان کا بیڑا دبایا گیا. راستے سے کچھ موتیے کے گجرے بھی خریدے گئے، جو بنے میاں نے کمال احتیاط کیساتھ، کلائی پر لپیٹ لئے. گو کہ شبراتی کے نزدیک یہ تمام تیّاریاں فضول تھیں، مگر بنے میاں بضد تھے. یوں بنے میاں دولہے کی طرح تیّار ہوکر، بازار حسن پہنچ گئے

 جس طوائف کے کوٹھے پر تشریف لے گئے، اس کے نام پر بنے میاں کو شدید اعتراض تھا

بھائی شبراتی، یہ طمنچہ جان بھلا کیا نام ہوا؟ ہم نے جنگی ہتھیاروں سے عشق تھوڑی کرنا ہے؟ کوئی نازک سا نام ہونا چاہیے تھا جیسے کہ مینا بیگم، امراؤ جان یا پھر الماس آرا. اب جب عشق خط و خطابت تک پوھنچ گیا تو آخر کیا لکھوں گا؟ میری جان سے عزیز طمنچہ جان؟’ بنے میاں نے اعتراضات گنواتے ہوئے کہا

بنے میاں، آپ کو آم کھانے سے غرض ہے یا پیڑ گننے سے؟ چپ کرکے میرے ساتھ طمنچہ جان کے کوٹھے پر چلو، یا پھر گھر بیٹھ جاؤ. اتنے پیسوں میں یا تو طمنچہ جان ملے گی، یا پھر کارتوس بائی.’ شبراتی نے نہایت کمال بے اعتنائی سے جواب دیا تو بنے میاں کو ٹھنڈ پڑ گئ

 خدا خدا کرکہ بازار حسن پہنچے. پہلا صدمہ تو طمنچہ جان کے نام کا تھا. دوسرا صدمہ بنے میاں کو بازار حسن دیکھ کر پہنچا. ان کے خیال میں کچھ کچھ جنّت سے ملتی جلتی جگہ ہونی چاہیے تھی. یعنی کہ صاف ستھری رنگین ٹائلوں والی گلیاں، راستےکے دونوں اطراف میں خوبصورت برقی قمقمے اور مشعلیں، گلپاشی کرتی نازک اندام حسینائیں، پاجامہ کرتا اور رامپوری ٹوپیاں پہنے، نوکدار اور مہین مونچھوں والے، مہذب اور شائستہ دلال اور محل نما کوٹھے. حقیقت بالکل برعکس نکلی. گلیاں، گندی نالیوں کی بدبو میں ڈوبی پڑی تھیں. برقی قمقمے ضرور چمک رہے تھے مگر بدنما اور بے سلیقہ. اصل بجلی تو تب گری کے جب، شبراتی کے واقف دلال سے ملاقات ہوئی

پہلے تو بنے میاں کا خیال تھا کے وہ شخص شبراتی کے، کمینے دوستوں میں سے کوئی ایک ہے. تنگ موری کا سفید پاجامہ، سنہرا چمکتا ہوا کرتا، منہ میں نہایت بے سلیقہ اور غلیظ انداز میں پان دبا ہوا

.کیوں بے شبراتی، یہی لونڈا ہے؟’ دلال نے نہایت بدتمیزی سے دریافت کیا’

ہاں یہ ہی ہے جسکو مجرا دیکھنا ہے.’ شبراتی نے کہا تو بنے میاں پر حقیقت آشکار ہوئی

آداب! بندے کو مرزا بنیاد بیگ کے نام سے بلایا جاتا ہے.’ بنے میاں نے دلال کے حلیے اور بدتمیزی کو، نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ کراپنا تعارف کروایا

ابے، کس بندے کو بلایا جاتا ہے؟ کون بےغیرت بلاتا ہے؟ تو انسانوں کی زبان میں بات نہیں کرسکتا کیا؟’ دلال نے ٹھیک بنے میاں کے شفاف پاجامے کا، پان کی پیک سے نشانہ لیتے ہوئے کہا. باوجود کوشش کے، بنے میاں سرخ پچکاری کی تباہکاری سے نہ بچ سکے اور سفید پاجامہ داغدار ہوگیا. پاجامے کا حال دیکھ کر بنے میاں بہت سلگے، مگر پھر دلال کی آنکھوں میں غنڈہ پن ناچتا دیکھ کر، چپ کر گئے

جلدی پیسے نکالو.’ دلال نے کہا. شبراتی کے ہاتھ سے ہزار ہزار کے دو نوٹ کھینچ کر نیفے میں اڑسے اور کہنے لگا: ‘اپنے دوست کو اچھی طرح سے سمجھا دو. کوئی اونچ نیچ نہیں ہونی چاہیے ورنہ گھسیٹ کر باہر نکال دوں گا

 تاریک سیڑھیاں چڑھ کر، اوپر کوٹھے کی روشنی میں پہنچے تو بنے میاں کے دل کو کچھ سکون ملا. گوکہ فلموں کے برعکس، کچھ چھوٹا کمرہ تھا مگر صاف ستھرا تھا اور زمین پر چاندنی بھی بچھی تھی اور اطراف میں گاؤ تکیے بھی لگے تھے. ایک کونے میں کچھ یتیم سے دکھائی دیتے سازندے، طبلوں اور ہارمونیم پر ہاتھ سیدھا کر رہے تھے. ان کی بغل میں مکروہ صورت بھاری بھرکم اور زیورات میں لدی نائکہ بیٹھی تھی، جو مسکرا مسکرا کر ہر آنے والے کا استقبال کر رہی تھی اور بیٹھنے کی جگہ کا اشارہ کرتی تھی

 بنے میاں اور شبراتی کی باری آی تو اس عورت نے کسی خاص خندہ پیشانی کا مظاہرہ کئے بغیر، دور جوتیوں کی طرف اشارہ کیا

‘وہاں جا کر بیٹھ جاؤ’

بندہ ضروری سمجھتا ہے کے اپنا تعارف کروا دے.’ بنے میاں نے نائکہ کو متوجہ کرتے ہوئے کہا: ‘خاکسار کو مرزا بنیاد بیگ کہتے ہیں

نائکہ نے پلٹ کر اگالدان میں پان کی پیک پھینکی اور ہونٹ رومال سے پونچھے بغیر بولی

اوہ اچھا اچھا. مرزا بنیاد بیگ صاحب، آپ وہاں جوتیوں کے پاس تشریف رکھیں.’ اور پھر ٹھٹھا مار کر ہنس پڑی

بنے میاں اس زیادتی پر، تڑپ کر کچھ کہنا ہی چاہتے تھے کے شبراتی نے ان کا ہاتھ دبایا اور ہونٹوں پر انگلی رکھ کر، خاموش رہنے کا اشارہ کیا. مرتے کیا نا کرتے، وہیں جوتیوں کے پاس جا کر بیٹھ گئے

بنے میاں نے ارد گرد دیکھا. قریب قریب دس بارہ لوگ تھے. مگر شکل سے کوئی بھی معزز دکھائی نا دیتا تھا. خیر جب دو ایک لوگوں نے، اتنے دلچسپ حلیے کیوجہ سے، بنے میاں کیطرف دیکھا، تو خیال آیا کے محفل کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں. لہذا اخلاقاً، پیشانی پر انگلیاں چھو کر اشارے سے آداب کیا. ایک نے تو مسکرا کر منہ پھر لیا، مگر دوسرے کے چہرے پر خشمگی دوڑ گئ. اس نے مڑ کر، اپنے مریل سے ساتھی کے کان میں، کچھ کھسر پھسرکی

سیٹھ پوچھ رہا ہے کہ تمھیں کیا تکلیف ہے؟ کیوں اشارہ کرتے ہو؟’ مریل ساتھی نے، با آواز بلند بنے میاں سے پوچھا

بنے میاں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا اور زیر لب کچھ بڑبڑاے، تو وہ پھر اونچی آواز میں بولا

‘اونچا کیوں نہیں بولتا، بے؟ گلے میں اخروٹ پھنسے ہیں کیا؟’

جی میں نے عرض کی کہ اشارہ نہیں، آداب کیا تھا.’ بنے میاں کھنکھار کر بولے اور پھر سوال پوچھنے والے کی جہالت کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اسکی آنکھوں میں سرخی دیکھ کر، مزید صفائی پیش کی: ‘میرا مطلب ہے کہ میں نے اشارہ نہیں، سلام کیا تھا

کیوں سلام کیا تھا؟ توسیٹھ کو جانتا ہے کیا، مسخرے کی اولاد؟’ وہ شخص غالباً نشے میں تھا

قریب تھا کے بات بگڑ جاتی یا پھر، بنے میاں اٹھ کر بھاگ جاتے مگر خوش قسمتی سے مجرے کا وقت ہوگیا. نائکہ نے کمال نخرے سے اشارہ کیا. ایک جھلملاتا پردہ اٹھا اور طمنچہ جان چھم سے، کمرے میں داخل ہوگئ

طمنچہ جان پر نظر پڑتے ہی بنے میاں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے. اور کچھ یوں اڑے کہ کانوں میں انکے پروں کی پھڑپھڑاہٹ کی آواز بھی سنائی دی. عورت تو جواں تھی مگر تھی موٹی تازی، پکّے سانولے رنگ کی اور موٹے موٹے جامنی ہونٹوں والی. اوپر سے، آنکھوں میں ایسی بےحیائی اور بیباکی لہریں مار رہی تھی کے گویا، ہر گاہک کو کچا ہی نگل جائے گی. عورت کم اور بھینس زیادہ نظر آ رہی تھی. نزاکت اور حسن سے، دور دور کوئی واسطہ نا تھا. بنے میاں دل پکڑ کر بیٹھ گئے

کیوں بنے میاں، پٹاخہ چیز ہے نا؟’ شبراتی نے بےشرمی سے دانت نکالتے ہوئے سرگوشی کی تو، ایک لمحے کو بنے میاں کے دل میں آیا کہ کھینچ کر چمانٹ جڑ دیں. مگر محفل کے آداب ملحوظ خاطر تھے. چپ کر گئے

ایک نہایت عامیانہ قسم کے فلمی گانے پر، طمنچہ جان نے رقص شروع کیا تو فرش کانپنے لگا. بنے میاں سر جھکاے بیٹھے رہے. دل جو ٹوٹ چکا تھا. پھر یکایک خیال آیا کہ طوائف جیسی بھی ہے، عشق تو اسی سے کرنا پڑے گا. دوبارہ پیسے خرچ کرنے کی، نا اوقات تھی اور نا ہی حوصلہ. بنے میاں نے ایک نعے حوصلے اور عزم کے ساتھ، جھکی ہوئی گردن بلند کی اور طمنچہ جان کی آنکھوں میں جھانکنے کا، موقعہ تلاش کرنے لگے

 تھوڑی دیر انتظار کے بعد، طمنچہ جان ناچتے ناچتے قریب آی، تو بنے میاں تیّار ہوگئے. ایک ابرو کو اوپر کی جانب خم دیا، آنکھیں ٹیڑھی کیں اور لبوں پر ایک مدھم سی، مگر معنی خیز تبسم لانے کی، ناکام کوشش کی. ان تمام حرکات کا نتیجہ بہت ہولناک نکلا. طمنچہ جان کی نظر بنے میاں پر پڑی تو دیکھا کہ ایک مسخرہ نما شخص، بھینگی آنکھوں سے منہ چڑا رہا ہے. اس کے تو تن بدن میں آگ لگ گئ. پہلے تو کچھ دیر خاموشی سے برداشت کیا، مگر جب بنے میاں کی جانب سے یہ ہی حرکت، بار بار اور پر جوش انداز میں دوہرائ گئ تو وہ ناچتے ناچتے نائکہ کے پاس گئ اور اسکے کان میں بنے میاں کیطرف اشارہ کرکہ، کچھ سرگوشی کی. نائکہ کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور اس نے سازندوں کو اشارہ کر کہ روک دیا

بنے میاں کی تو گویا عید ہی ہوگئ. وہ سمجھے کہ شاید انکا انداز طمنچہ جان کے دل کو گھائل کر چکا تھا. اور طمنچہ جان اپنی نائکہ کو یہ بتانے گئ تھی کہ اگر، محفل میں کوئی شخص، شمع محفل کے مجرے کے قابل تھا تو وہ تھے بنے میاں. لہٰذا بنے میاں نے شیروانی درست کر کے، پروانہ محفل بننے کی تیاری شروع کر دی

کیا تکلیف ہے تمھیں لونڈے؟ مجرا پسند نہیں آرہا تو دفعہ ہوجاؤ یہاں سے.’ نائکہ نے بنے میاں کیطرف انگلی سے اشارہ کر کے نہایت کرخت آواز میں کہا

بنے میاں پر تو گویا بجلی ہی گر پڑی. پاجامہ گیلا ہوتے ہوتے بچا اور وہ دم سادھ کر بیٹھ گئے

.کیا بات ہے بائی جی؟ کیا ہوا؟’ شبراتی نے بات سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا’

اپنے ساتھ بیٹھے سسرے سے پوچھ کہ کیا ہوا. حرامزادہ، طمنچہ کا منہ چڑا رہا تھا.’ نائکہ نے بھڑک کر کہا

لفظ سسرا اور باپ کی گالی سنتے ہی، بنے میاں کا مغل خون جوش میں آ گیا اور وہ تلملا کر اٹھ کھڑے ہوئے

منہ سنبھال کر بات کر نہیں تو…………!’ جذبات کی شدّت کے باعث بنے میاں، جملہ بھی مکمل نا کر سکے. بس کھڑے کھڑے اپنی جگہ، آندھی میں، بید مجنوں کی شاخ کیطرح کانپتے چلے گئے

نہیں تو کیا کر لے گا رے تو، سسرے؟’ نائکہ نے چیخ کر کہا، مگر بنے میاں کچھ نا بول پائے اور بت بنے کھڑے رہے. آخر بولتے بھی تو کیا؟ آجتک کسی کو، دھمکی دینے کی نوبت ہی نا آئ تھی. نا کبھی کسی سے جھگڑا ہوا تھا. بنے میاں کی مسلسل خاموشی پر، نائکہ نے، پیچھے کھڑے دلال کو اشارہ کیا

‘اٹھا کر پھینک دو باہر دونوں سالوں کو. ساری محفل کا مزہ کرکرہ کردیا کمبختوں نے’

دلال نے بنے میاں اور شبراتی کو، گریبان سے پکڑا اور کھینچ کر باہر لیجانے لگا ہی تھا کے یکایک، بنے میاں کو جیب میں احتیاط سے رکھی، غزل کا خیال آگیا

یہ آپ کیلئے…..!’ دلال سے بمشکل گریبان چھڑاتے ہوئے، بنے میاں نے طمنچہ جان کیطرف، غزل بڑھائی

.یہ کیا ہے؟’ طمنچہ جان نے، حیران ہوکر پوچھا’

غزل لکھی تھی آپ کے حضور. محفل کے اختتام پر پیش کرنا چاہتا تھا مگر، حالات و واقعات اور قسمت کی ستم ظریفی نے، موقعہ نہیں دیا.’ بنے میاں نے، نہایت عجزوانکساری سے عرض کیا

اس کو جیب میں ڈال کر دفعہ ہوجا شاعر کی اولاد. ورنہ دوہرا کر کے………’ آگے نائکہ تو کچھ نا بولی، مگر اسکی آگ برساتی نگاہوں سے، اسکے خوفناک حد تک فحش ارادوں کا، صاف صاف اظہار ہورہا تھا

 پھرستاروں میں روشنی نا رہی. کب ذلیل کرکہ نکالے گئے، کیسے رسوا ہوکر نکالے گئے. کتنی پٹائی ہوئی اور کہاں کہاں چوٹ لگی. کچھ پتہ نہیں لگا. جب بنے میاں کو ہوش آیا تو ایک تاریک گلی کی گندی نالی میں، اوندھے پڑے تھے. شیروانی اور کرتے کا کچھ پتا نہیں تھا. بنیان اور پاجامہ دونوں، نہایت ناگفتہ بہ حالت میں تھے. جسم کا ایک ایک حصّہ درد سے چلا رہا تھا

بنے میاں کیسے گھر پہنچے اور کب پہنچے اور گھر پہنچ کر، مرزا صاحب نے کیا خاطر مدارات کی؟ یہ سب سوال کسی اور دن کیلئے اٹھا رکھتے ہیں. بس اتنا کہنا کافی ہوگا کہ اس دن کے بعد، بنے میاں نے شاعری سے مکمل توبہ کر لی. جب کوئی جان پہچان والا دریافت کرتا کہ شاعری کا شوق، کہاں تک پوھنچا تو بنے میاں بے اختیار، پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر، طمنچہ جان کے کوٹھے پر ہوئی خاطر مدارات کے بارے میں سوچتے اور کہتے

‘اب کیا بتائیں تمھیں میاں! شاعری شرفاء کے بس کی بات نہیں’          

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s