محافظ

fc-balochistan-arrests-6-terrorists

سورج سوا نیزے پر کھڑا دہک رہا تھا. نیلے شفاف آسمان پر کہیں کہیں آوارہ بادلوں کے ٹکڑے رینگ رہے تھے اور اتنی آہستگی سے اپنی شکل تبدیل کر رہے تھے کے دیکھنے والوں کو احساس تک نا ہوتا تھا. گرم ہوا کے تھپیڑے منہ پر پڑتے تو یوں معلوم ہوتا تھا کے جیسے تندور کے دہانے پر جھکے اندر جھانک رہے ہوں. دور حد نگاہ تک زمین سے ابھرے ریت اور مٹی کے ٹیلے دیکھ کر یوں لگتا تھا کے جیسے وہ جنوبی بلوچستان کا صحرائی علاقہ نا ہو بلکہ غریب جنوں کا کوئی قبرستان ہو

تیز ہوا کے ساتھ اڑتی ریت کے زیرے آنکھ میں پڑتے تھے تو لمحہ بھر کو بینائی ساتھ لے جاتے تھے. عجیب اجاڑ جگہ تھی. سبزے کے نام پر گھاس کا ایک تنکا تک نا نظر آتا تھا، لیکن کہیں کہیں کھجور کے پودے سوکھی زمین سے سر نکالنے کی کوشش کر رہے تھے. مغرب کی جانب افق پر واضح ایک گہری مگر مختصر لکیر کسی اکیلے نخلستان کی گواہی دے رہی تھی. مشرق سے مغرب کی طرف سفر کرتا سڑک کے نام پر ایک ٹوٹا پھوٹا راستہ تھا. آس پاس بہت غور کرنے پر بھی کوئی آبادی نظر نا پڑتی تھی. البتہ کچھ کوس پر ایک بڑے سے ٹیلے کے پیچھے سے دھویں کی ایک مدھم لکیر بلند ہوتی نظر آ رہی تھی. دور کچھ فاصلے پر آسمان پر گدھ اور چیلیں چکّر لگا رہے تھے. غالباً کوئی جانور مرا پڑا تھا

سڑک کے بایئں کنارے پر سر جھکاے اور آہستہ آھستہ قدم اٹھاتی زلیخہ چلی جا رہی تھی. تقریباً ساٹھ پینسٹھ کی عمر کی عورت تھی. درمیانہ قد اور صاف گندمی رنگ. کسی زمانے میں یقیناً خوبصورت رہی ہوگی مگر وقت، عمر، حالات اور غربت نے مل جل کر بالوں کو چاندی رنگ دے دیا تھا اور چہرے پر جھریوں کا ایک باریک جال بچھا دیا تھا. اس نے گہرے بھورے رنگ کی لمبی قمیض اور اسی رنگ کی بہت چوڑے گھیرے والی شلوار پہن رکھی تھی. قمیض پر جڑے بہت سے چھوٹے چھوٹے شیشے اپنی جگہ چھوڑ چکے تھے اور دو چار جگہ تو بڑے بڑے سرخ اور سبز رنگ کے پیوند بھی نمایاں تھے. ایک کلائی میں تانبے کے ہلکے سے بے وقعت کڑے تھے اور دوسرے ہاتھ میں ایک پھٹا پرانا سیاہ پلاسٹک کا شاپر اور کچھ پیلے ہوتے کاغذات تھے. بوڑھا ہونے کے باوجود اس نے علاقے کی روایات کے مطابق اپنی پھٹی چادر کے پلو سے آدھا چہرہ چھپا رکھا تھا

زلیخہ کے ہر قدم کے ساتھ دھول کا ایک چھوٹا سا بادل زمین سے جدا ہوتا اور پھر ہوا کے کندھوں پر سوار ہو کر کسی دوسرے جہاں کی تلاش میں نکل جاتا. ایک اندیکھے احساس نے اچانک زلیخہ کے قدم روک لئے. وہ انہی صحراؤں کی پیداوار تھی اور اب تو کبھی کبھی اسکو یوں لگتا تھا کے جیسے صحرا کی ہوا اس کے کانوں میں سرگوشیاں کرتی ہو. اس نے مڑ کر دیکھا تو دور جہاں سڑک افق سے گلے مل رہی تھی، وہاں سے مٹی کے گہرے بادل اٹھ رہے تھے. زلیخہ نے پیشانی پر ہاتھ کا چھجہ سا بنا کر غور سے دیکھا تو گرد کے بادلوں کے درمیان گاڑیوں کے شیشوں کی چمک جھلکتی نظر آیئ

خدایا خیر!’ زلیخہ نے بےچین ہو کرسینہ تھام لیا. ‘شکاری کتے آج پھر نکل پڑے ہیں. سب کے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھ.’ زلیخہ نے بے اختیار ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتی گاؤں کی جانب چل پڑی

مگر گاڑیوں کی رفتار بہت تیز تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا کارواں زلیخہ کے سر پر پوھنچ گیا. مگر وہ سر جھکاے چلتی رہی. زلیخہ کو دیکھ کر گاڑیاں ایک دم آہستہ ہوگیئں مگر اس نے پھر بھی ان کی طرف نہیں دیکھا. وہ میر عبدل رحیم کے آدمیوں کو شیطان کے چیلے گردانتی تھی اور ان سے کسی قسم کی بات چیت کو گناہ سمجھتی تھی

سنو بی بی!’ کسی نے نہایت تمیز سے زلیخہ کو مخاطب کیا تو وہ چونک گئ مگر پھر بھی زمین پر نظریں جماے چلتی رہی
بی بی بات تو سنو. ہم تمھارے بھائیوں جیسے ہیں.’ بولنے والے نے پھر زلیخہ کو مخاطب کیا تو وہ چپ نا رہ سکی

دفعہ ہوجاؤ یہاں سے کتو. میرے پاس کچھ نہیں ہے تمھیں دینے کو. نا پیسہ اور نا جوانی. بس بوڑھی جان رہ گئ ہے. یہ چاہیے تو لے جاؤ.’ تقریباً پھنکارتے ہوئے زلیخہ نے چہرہ گھمایا تو چونک گئ

وہ میر عبدل رحیم کے آدمی اور گاڑیاں نہیں تھیں بلکہ سرکاری لوگ تھے. تین سفید رنگ کی ڈبل کیبن گاڑیاں تھیں جن کے اندر اور باہر وردیوں میں ملبوس لوگ سوار تھے. تھوڑا غور کرنے پر زلیخہ نے پہچان لیا کے فرنٹیئر کور کے لوگ تھے اور غالباً اس علاقے میں پہلی دفعہ آیے تھے

جب آگ سب کچھ جلا کر راکھ کر چکی تو اب یہ آیے ہیں ہمارا تماشہ دیکھنے.’ زلیخہ نے دل ہی دل میں سوچا مگر خاموش کھڑی مخاطب کرنے والے نائیک کو گھورتی رہی

وہ بیچارا بھی بوڑھی عورت کے تیز الفاظ اور اس کی گھورتی نگاہوں کی تاب نا لا سکا اور سر جھکا کر کھڑا ہوگیا
سب سے اگلی گاڑی میں کرنل شاہ نوازخاموش بیٹھا صورت حال کا جائزہ لے رہا تھا. پھر کچھ سوچ کر اس نے دروازہ کھولا اور باہر نکل آیا. وہ درمیانے قد کا کلین شیو افسر تھا. صاف گندمی رنگ اور نہایت سلیقے سے ترشے بال جن میں کنپٹیوں کے اوپر ہلکی سی سفیدی جھلک رہی تھی. صاف ستھری استری شدہ وردی اور شانوں پر چمکتے رینک. ہاتھ میں سرخ بینت کی ہلکی سی چھڑی اور پاؤں میں خاکی رنگ کے ٹخنوں سے اونچے جوتے. اپنی جوانی میں کارگل کی جنگ لڑچکا تھا اور پھر اورکزئی ایجنسی میں بھی شجاعت کے جوہر دیکھا چکا تھا. البتہ بلوچستان میں نوکری کا یہ پہلا تجربہ تھا جو ابھی تک خوشگوار ثابت نا ہوسکا تھا

السلام و علیکم امّاں!’ اس نے نہایت تمیز سے زلیخہ کو مخاطب کیا: ‘میرا نام کرنل شاہ نواز ہے اور میں فرنٹیئر کور کا ونگ کمانڈر ہوں
.یہاں کیا لینے آیے ہو؟’ زلیخہ کے لہجے میں اب بھی زہر گھلا تھا’
امّاں یہ علاقہ حال ہی میں میری ذمہ داری میں شامل کیا گیا ہے. بس دیکھنے آیا ہوں.’ کرنل شاہ نواز نے زلیخہ کے لہجے کی تلخی کو محسوس کر کے اپنا لہجہ مزید نرم کر دیا
.علاقہ دیکھنے آیے ہو بچے، یا تماشا دیکھنے؟’ زلیخہ کو اس کی وردی اور رینک کی کوئی پرواہ نہیں تھی’
اتنی گرمی کیوں کھا رہی ہو امّاں؟ تھوڑی تمیز سے بات کرو.’ نائیک فریاد نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا تو اچانک کرنل شاہ نواز نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا. اپنے ونگ کمانڈر کی آنکھوں میں غصّے کی بجلیاں کوندتے دیکھیں تو نائیک فریاد کی سٹی گم ہوگئ

شرم کرو فریاد. تمھاری ماں سے بھی بڑی عمر کی ہے.’ فریاد کے منہ سے ایک مدھم سے ‘جی سر!’ کے علاوہ کچھ نا نکل سکا
امّاں آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے. علاقے کا ونگ کمانڈر ہونے کے باعث میں آپ کی جان و مال اور عزت کا نگہبان ہوں. میں بھلا تماشہ کیوں دیکھوں گا؟’ کرنل نے دوبارہ زلیخہ سے مخاطب ہوتے ہوے کہا
میں تمھاری حفاظت کو خوب جانتی ہوں بچے. تم لوگ سب آپس میں ملے ہو. اور اب آیے ہو تم ہماری جان و مال اور عزتوں کی رکھوالی کرنے جب یہ سب چیزیں ناپید ہوچکی ہیں؟ جاؤ بھاگ جاؤ یہاں سے. یہاں اب تمھارے مطلب کی کوئی چیز نہیں بچی. سب کچھ میر عبدل رحیم اور اسکے کتے سمیٹ کر لے گئے ہیں.’ زلیخہ کے آنسو اس کے چہرے کی مٹیالی جھریوں میں راستہ تلاش کر رہے تھے. مگر اس کے لہجے میں سچائی کے طوفانوں کی کڑک گونج رہی تھی

یہ دیکھو میرے معصوم بچے کے کپڑے’ زلیخہ نے شاپر کھول کر کچھ جلے ہوئے چیتھڑے کرنل شاہ نواز کی جانب بڑھاے. ‘تم اسوقت کہاں تھے جب وہ ظالم میرے بچے کو زندہ جلا رہے تھے؟ تم اسوقت کہاں تھے جب وہ ظالم میری بیٹی کی عزت لوٹ رہے تھے؟ ہنہ! بڑے آیے، ہماری جانوں اور عزتوں کے محافظ.’ چیختے چیختے زلیخہ کی ہچکیاں بندھ گیئں

جاؤ گاڑی میں رکھے میرے تھرموس سے ٹھنڈا پانی لے کر آؤ.’ کرنل نے فریاد کو اشارہ کرتے ہوئے کہا. وہ دوڑ کر گیا اور شیشے کے گلاس میں ٹھنڈا پانی لے آیا
یہ لو امّاں، پانی پیو اور پھر میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جاؤ. جہاں کہو گی، اتار دوں گا.’ اس نے محبت سے پانی کا گلاس زلیخہ کی جانب بڑھایا
میں لعنت بھیجتی ہوں تم پر، تمھارے ٹھنڈے پانی پر اور تمھاری مہربانیوں پر.’ زلیخہ نے ہاتھ مار کر گلاس زمین پر گرا دیا اور چادر سے آنسو پونچھتی اپنے راستے پر تیز تیز قدموں کے ساتھ چل پڑی
.سر جی میں اسے روکوں؟’ فریاد نے آگے بڑھتے ہوئے کہا’
نہیں. جانے دو اسے. نفرتوں کی جڑی بوٹیوں کی جڑیں بڑی گہری ہوتی ہیں. انہیں اتنی آسانی کے ساتھ کھینچ کر نہیں نکالا جاسکتا.’ کرنل شاہ نواز نے اداسی سے کہا اور فریاد کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا

_________________________________
پانچ منٹ کے مزید سفر کے بعد فرنٹیئر کور کی گاڑیاں یتیمان نامی چھوٹے سے گاؤں میں داخل ہوگیئں. گاؤں بھی کیا تھا، بس تیس چالیس گھروں کا ایک بے ترتیب مجموعہ تھا. چھوٹے چھوٹے دیواروں سے نا مانوس، کچے گھروں کے صحنوں میں عورتیں اپنے کاموں میں مشغول تھیں. جگہ جگہ ممیاتی بکریاں، کہیں کہیں کھجور کے اکیلے دکیلے درخت ایستادہ تھے. ایک چھوٹے سے کچے اسکول کی سالخوردہ عمارت کے سامنے کچھ بچے ہاتھ میں لکڑی اور پلاسٹک کےپستول اور بندوقیں تھامے غالباً چور سپاہی کھیل رہے تھے اور ان کا مریل سا استاد سامنے پڑی میز کرسی پر بیٹھا اونگھتا لگ رہا تھا

گاڑیوں کے گاؤں میں گھسنے کی دیر تھی کے ایک قیامت سی برپا ہوگئ. عورتوں نے اپنا کام وہیں پر چھوڑا اور گھروں میں گھس کر دروازے بند کر لئے. اسکول کے سامنے بیٹھے بچے کچھ دیر تو سہمے بیٹھے گاڑیوں کو یک ٹک گھورتے رہے اور پھر اٹھ کر اپنے استاد کی کرسی کے پیچھے جمع ہوگئے. ان کے استاد نے بھی آنکھیں کھول کر گاڑیوں کی طرف دیکھا اور پھر ادھر ادھر دیکھ کر وہیں کرسی پر بیٹھا رہ گیا. صرف بکریاں رہ گیئں جنہیں شاید آنے والے انسانوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی

اسکول کے سامنے ہی گاڑیوں کا قافلہ رک گیا.کرنل شاہ نواز گاڑی سے اترا اور اسکول ماسٹر کی جانب بڑھا. اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ، بھاگ کر کرنل کے گھٹنے پکڑ لئے
.میں نے کچھ نہیں کیا صاحب. مجھے معاف کر دیں.’ اس نے گڑگڑاتے ہوئے درخواست کی’
ہم آپ کو کوئی تکلیف نہیں دینے اے ماسٹر صاحب. آپ استاد ہیں. جھک کر مجھے شرمندہ نا کریں.’ کرنل شاہ نواز نے ماسٹر کو کندھوں سے پکڑ کر زبردستی کھڑا کرتے ہوئے کہا. ماسٹر نے بھی اس کے لہجے میں نرمی اور شفقت محسوس کرتے ہوئے ہمّت پکڑی اور ادھر ادھر پھیلے فرنٹیئر کور کے جوانوں کی طرف دیکھا
.معاف کیجئے گا صاحب. میں سمجھا شاید میر عبدل رحیم کے آدمی آیے ہیں. مگر آپ لوگ تو سرکاری آدمی ہیں’

فریاد، گاڑی سے بچوں کے لئے تحفے نکال کر لاؤ.’ کرنل شاہ نواز نے ڈرے اور سہمے بچوں کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا
نائیک فریاد دوڑ کر گیا اور گاڑی سے فٹ بال اور کرکٹ کے بلّے اور گیندیں نکال کر لے آیا

ادھر آؤ بیٹے. کیا نام ہے تمہارا؟’ کرنل شاہ نواز نے ایک چھوٹے سے بچے کو اشارے سے بلایا جو دوسرے بچوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا تھا
جی، میرا نام عبدل باقی ہے.’ بچے نے ڈرتے ڈرتے کہا اور تھوڑا آگے بڑھا. اس کے ہاتھ میں ایک پٹاخوں والی پستول تھی
.اچھے بچے پستولوں سے نہیں کھیلتے.’ کرنل شاہ نواز نے اس کے ہاتھوں سے پستول لیتے ہوئے کہا’
فٹ بال سے کھیلو گے؟’ کرنل نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھرتے ہوئے کہا اور پھر اس کے اثبات میں سر ہلانے پر ایک فٹ بال اس کے ہاتھوں میں تھما دی
صوبیدار صاحب، یہ باقی کھیل کا سامان، کاپیاں پنسلیں اور مٹھائی بھی بچوں میں تقسیم کر دیں.’ کرنل صاحب نے حکم دیا تو صوبیدار صاحب باقی بچوں کو لیکر قریب ہی درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور سامان تقسیم کرنے لگے

.آپ خیریت سے تشریف لاے ہیں کرنل صاحب؟’ ماسٹر نے ڈرتے ڈرتے پوچھا’
.یہ بتائیے، اس گاؤں کا نام یتیمان ہے؟’ کرنل شاہ نواز نے پوچھا’
.جی بالکل یہ یتیمان گاؤں ہے. آپ کو یہاں کس سے ملنا ہے؟’ ماسٹر نے اوسان سنبھالتے ہوئے پوچھا’
وہ میں بعد میں بتاؤں گا. پہلے یہ بتائیں، یہ عبدل رحیم کون ہے؟ اور آپ لوگ اس سے اسقدر خوفزدہ کیوں ہیں؟’ کرنل صاحب نے ایک کرسی گھسیٹی اور دوسری پر ماسٹر کو بیٹھنے کا اشارہ کیا

عبدل رحیم ہمارا میر ہے کرنل صاحب. بلکہ یوں کہیں کے میر عبدل رحیم ہمارا خدا ہے.’ ماسٹر نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا
.یہ کیا فضول بات ہے ماسٹر صاحب؟’ کرنل شاہ نواز نے ٹوپی اتار کر پسینہ پونچھتے ہوئے کہا’
فضول بات نہیں ہے صاحب، حقیقت ہے. خدا کیا ہوتا ہے؟ جو مارتا ہے، زندگی دیتا ہے، کھانا دیتا ہے اور یا پھر بھوک سے تڑپاتا ہے. یتیمان گاؤں آپ کے خدا کی خدائی سے بہت دور ہے. یہاں کا خدا میر ہے.’ ماسٹر نے سر جھکا کر جواب دیا

اس کے لہجے میں چھپی افسردگی اور اپنی بےبسی پر غصہ کرنل سے چھپے نا رہ سکے. وہ مصلحت کے تحت خاموش رہا اور ماسٹر کو بولتے رہنے کا اشارہ کیا

کرنل صاحب، آج سے تقریباً پانچ سات سال پہلے ساتھ والے گاؤں میں ایک آدمی مستری کا کام کرتا تھا. بہت غریب آدمی تھا مگر چالاک بھی بہت تھا. جب یہاں حالات خراب ہونا شروع ہوئے اور بلوچستان لبریشن آرمی نے اپنی کاروائیوں کا آغاز کیا تو وہ مستری صوبائی حکومت کا مخبر بن گیا. آہستہ آہستہ حکومت کی شہ پا کر اس نے ایران سے ہونے والی پٹرول کی اسمگلنگ اور منشیات کا کاروبار سنبھال لیا. چونکہ حکومت کا خاص آدمی تھا تو لہذا اسکے آدمی ہتھیار اٹھا کر کسی روک ٹوک کے بغیر کھلا گھومتے تھے. یوں پیسہ اور طاقت دونوں بے حساب آتے گئے اور رحیم مستری میرعبدل رحیم بن گیا

ماسٹر نے بات ختم کی تو کرنل شاہ نواز نے پوچھا
ماسٹر صاحب، سنا ہے بلوچستان لبریشن آرمی کے لیڈر فیض الله کا تعلق بھی یتیمان گاؤں سے ہے. چکّر لگاتا ہے وہ اب بھی؟
ماسٹر کی تو گویا جان پر بن آی
‘یہ مجھ سے نا پوچھیں صاحب. میں غریب آدمی ہوں. یہ لوگ میرے بچوں کو مار دیں گے’

ابھی یہ باتیں چل ہی رہیں تھیں کے زلیخہ بھی چلتے چلتے پوھنچ گئ مگر وہ گاڑیوں کے پاس رکنے کے بجاے سیدھا چلتی رہی اور پھر ایک گھر میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا

ماسٹر صاحب، یہ عورت کون ہے؟’ کرنل نے پوچھا تو ماسٹر گڑبڑا گیا. تھوڑی دیر خاموش رہا مگر پھر ہمت کر کے بولا
یہ امّاں زلیخہ ہے…………… بلوچستان لبریشن آرمی کے لیڈر فیض الله کی ماں.’ اور پھر کرنل شاہ نواز کے چہرے پر حیرانی دیکھ کر بولا
‘بہت دکھی عورت ہے صاحب. میر عبدل رحیم نے اسکا سب کچھ لوٹ لیا’
.فیض الله نے مدد نہیں کی ماں کی؟’ کرنل نے حیرانی سے پوچھا’
فیض الله نے بھی بلوچستان لبریشن آرمی میر عبدل رحیم کی وجہ سے جائن کی تھی صاحب. ورنہ وہ بیچارہ تو سیدھا سادھا لڑکا تھا.’ ماسٹر نے افسوس کے ساتھ بتایا
وہ کیسے؟ آپ مجھے تفصیل کے ساتھ بتائیں ماسٹر صاحب. گھبرائیں نا، میں کہیں آپ کا نام نہیں لوں گا.’ کرنل نے ماسٹر کو تسّلی دی

یہ آج سے قریب قریب ایک سال پہلے کا واقعہ ہے کرنل صاحب.’ کچھ دیر سوچنے کے بعد ماسٹر نے کہانی کا آغاز کیا
چار افراد تھے فیض الله کے چھوٹے سے خاندان میں. ایک اسکی ماں، ایک جواں بہن گوہر، ایک چھوٹا بھائی کریم الله اور فیض الله خود. شریف لوگ تھے. فیض الله بارڈر پر مزدوری کرتا اور چھوٹا بھائی گھر کا خیال رکھتا. گوہر بہت خوبصورت لڑکی تو نہیں تھی مگر پھر بھی نین نقش بہت سوں سے اچھے تھے. ایک دن بدقسمتی سے میر عبدل رحیم کی نظروں میں آ گئ. وہ تو عیاش آدمی ہے. کسی کی ماں بہن کی کوئی عزت نہیں اس کے دل میں. گوہر نظر آی تو اس کی ہوس بھڑک اٹھی. زبردستی اٹھانے کی کوشش کی مگر چھوٹا بھائی اور ماں آڑے آ گئے. اس ظالم نے کریم الله پر پٹرول چھڑک کر سارے گاؤں کے سامنے آگ لگا دی. وہ غریب جلتا رہا، بھاگتا رہا مگرمیر کے آدمیوں نے کسی کو آگ بجھانے نا دی. بس ایک غریب زلیخہ تھی جو آگ بجھانے کی ناکام کوشش کرتی رہی اور خود بھی بری طرح سے جھلس گئ. وہ ظالم گوہر کو اٹھا کر لے گئے

.اس سارے واقعہ کے دوران فیض الله کہاں تھا؟’ کرنل شاہ نواز نے نم آنکھوں کے ساتھ پوچھا’
فیض الله ایران بارڈر پر مزدوری کے لئے گیا تھا صاحب. واپس آیا تو غریب کی دنیا ہی اجڑ چکی تھی. جس بہن کی شادی کے لئے دن رات محنت کرتا تھا، وہ میر کے قبضے میں تھی اور شادی کے قابل ہی نا رہی تھی. زلیخہ کو چونکہ میر کا بہت ڈر تھا تو اس نے زبردستی فیض الله کو پہاڑوں پر بھجوا دیا. اس نے بھی پہاڑوں میں بھوکا مرنے سے بہتر سمجھا کے بلوچستان لبریشن آرمی میں شامل ہوجاے. وہ اب بھی میر سے انتقام لینا چاہتا ہے مگر میر بہت طاقتور ہے.’ ماسٹر نے بے بسی سے کرنل کی طرف دیکھا
.اور پولیس؟ لیویز؟ کسی نے کچھ نہیں کیا؟’ کرنل نے ماسٹر سے پوچھا’
کونسی پولیس اور کونسی لیویز صاحب؟ سب میر کی بے پناہ طاقت کے آگے کچھ نہیں کر سکتے.’ ماسٹر کی مسکراہٹ میں بے بسی کوٹ کوٹ کر بھری تھی
بیچاری زلیخہ اب بھی مہینے میں ایک آدھ دفعہ میر کی بارگاہ میں انصاف کے لئے حاضری دیتی ہے. مگر اس کے آدمی ہنسی ٹھٹھا اڑا کر اسکو وہاں سے بھگا دیتے ہیں. کبھی بیچاری میر کے گھر پر بیٹی کو ملنے کی کوشش کرتی ہے مگر میر کے آدمی اندر نہیں گھسنے دیتے. وہ دکھیا ماں بیچاری وہیں دیوار سے لپٹ کر رو پیٹ لیتی ہے

‘کہاں رہتا ہے یہ میر؟’ کرنل شاہ نواز نے خلا میں گھورتے ہوئے پوچھا’
میں نے دیکھا ہے اس کا گھر سر. ہمارے ہیڈ کوارٹر کے قریب ہی ہے. ویسے دن کو بازار میں اپنے ہوٹل پر بیٹھتا ہے.’ اس سے پہلے کے ماسٹر بولتا، نائیک فریاد نے آگے بڑھ کر جواب دیا
ٹھیک ہے ماسٹر صاحب. پھر کبھی دوبارہ چکّر لگائیں گے یتیمان کا. کبھی آپ کا یا گاؤں کے کسی اور فرد کا کوئی مسلہ ہو تو بلا جھجک اس نمبر پر مجھے اطلاع دے دیں.’ کرنل نے ایک پرچہ ماسٹر کے ہاتھ میں تھمایا اور اپنی پارٹی کو لیکر روانہ ہوگیا

_____________________________
گشت سے آ کر کرنل شاہ نواز نے کھانا لگوایا مگر کھانے بیٹھا تو دل نہیں کیا. بار بار نظر کے سامنے زلیخہ کے جھریوں بھرے چہرے پر گدلے آنسوؤں کی لکیریں اور اس کے بیٹے کا جلا ہوا لباس سامنے آ جاتا. پھر کچھ سوچ کر اٹھا اور صوبیدار صاحب کو گاڑیاں اور فورس تیّارکرنے کا حکم دیا

______________________________
فرنٹیئر کور کی گاڑیاں بازار میں اچانک داخل ہوئیں اور سیدھا میر عبدل رحیم کے ہوٹل کے سامنے جا کر رک گیئں
‘کرنل صاحب آپ یہاں اچانک؟ خیریت تو ہے؟’ کرنل شاہ نواز کو یوں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اپنے ہوٹل میں داخل ہوتے دیکھ کر میر عبدل رحیم بوکھلا گیا. پہلے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی مگر وہ اکثر کرنل کو بازار سے گزرتا دیکھ چکا تھا

کرنل شاہ نواز نے ایک گہری نظر میر پر ڈالی. ساٹھ پینسٹھ سال کا درمیانے سے قد کا شخص تھا. پیلی مائل آنکھیں اور موٹے موٹے شہوانی ہونٹ. سانولا رنگ اور خوشبو دار تیل لگے کندھوں تک رنگے ہوئے بال. سفید کلف لگا شلوار قمیض پہن رکھا تھا اور قمیض پر سونے کے چمکتے بٹن نمایاں تھے. ایک ہاتھ میں زمرد کے دانوں والی تسبیح اور پاؤں میں بھورے چمڑے کی چمکتی ہوئی چپل. کوئی بہت مہنگی خوشبو لگا رکھی تھی. مگر صاف ستھرا حلیہ اور مہنگی خوشبو کے باوجود اسکی شخصیت کا مجموعی تاثر کراہت آمیز تھا

ہاں میر صاحب. خیریت ہی ہے.’ کرنل شاہ نواز نے میر کا مصا ہفے کے لئے آگے بڑھا ہاتھ نظر انداز کر کے ہال میں رکھی ایک کرسی سنبھالتے ہوئے کہا
‘چاے منگواؤں یا ٹھنڈا؟’
نہیں کسی تکلّف کی ضرورت نہیں. میں تم سے ایک معاملے کے بارے میں معلومات لینے آیا ہوں.’ کرنل نے گھمبیر لہجے میں کہا
جی پوچھئے کرنل صاحب. میں ہر خدمت کے لئے تیّار ہوں. آپ کا خادم جو ہوا.’ میر نے ایک مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ نہایت سعادت مندی سے سر ہلایا
.یہ یتیمان گاؤں کی زلیخہ کا کیا قصّہ ہے؟’ کرنل صاحب نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے کہا’
.زلیخہ؟ کون زلیخہ؟’ میر نے بوکھلا کر پوچھا’
ووہی زلیخہ جس کی بیٹی گوہر کو تم نے اغواء کر لیا تھا، آج سے ایک سال پہلے.’ کرنل شاہ نواز کی گہری نظریں میر کے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے چہرے پر جمی تھیں

میر نے خشک گلےسے بمشکل آواز نکال کر اپنے منشی کو بلایا اور پانی لانے کو کہا اور جیب سے رومال نکال کر پیشانی پر یکایک آ جانے والا پسینہ پونچھنے لگا. وہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکا تھا اور کرنل شاہ نواز کے بارے میں کافی تو نہیں مگر اتنا ضرور جانتا تھا کے سر پھرا افسر تھا. جس کام کے پیچھے پڑ جاتا، مکمل کر کے دم لیتا

تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا میر صاحب؟ سنا ہے زلیخہ باقائدگی سے چکّربھی لگاتی ہے تمھارے پاس، اپنی بیٹی کی برآمدگی کیلئے؟’ کرنل نے بینت کی چھڑی ہلکے ہلکے ران پر مارتے ہوئے پوچھا
میں یتیمان گاؤں کا میر ہوں اور علاقے کا ایک معزز شخص ہوں کرنل صاحب. ہم جیسے لوگ ہمیشہ کمینے لوگوں کی حسد کا نشانہ ہوتے ہیں. پھر زلیخہ تو بلوچستان لبریشن آرمی کے فیض الله کی ماں ہے. ظاہر ہے کے جب ہم جیسے لوگ حکومت کی مدد کریں گے تو فیض الله جیسے لوگوں کی دشمنی بھی مول لیں گے.’ میر نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا
تو پھر یہ بات بے بنیاد ہے کے تم نے گوہر کو اغواء کر رکھا ہے اور اس کے چھوٹے بھائی کریم الله کو زندہ جلا دیا تھا؟’ کرنل شاہ نواز کا لہجہ اسقدر سفّاک اور ٹھنڈا تھا کے جون کے مہینے میں بھی میر پر کپکپی سی طاری ہونے لگی
کریم الله کو زندہ جلانے کے بارے میں تو میں کچھ نہیں جانتا. لیکن گوہر جیسی لڑکیاں خراب کردار کی ہوتی ہیں کرنل صاحب. آج اس کی گود میں تو کل کسی اور کی
میر صاحب. ذرا خیال سے بات کرو. یہ میری بڑی پرانی عادت ہے کے میں ہر لڑکی کو اپنی بہن سمجھتا ہوں. تمھیں شاید یہ عادت بری لگے مگر میں اسے اپنے کردارکی اساس سمجھتا ہوں.’ کرنل نے اٹھتے ہوئے کہا. مگر پھر دروازے تک پوھنچ کر رکا اور مڑے بغیر بولا
اور خیال رہے میر صاحب، میں گوہر کو تو کہیں نا کہیں سے برآمد کر ہی لوں گا. مگر اس چکّر میں کون رگڑا جائے، کون مارا جائے، مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں

کرنل شاہ نواز کو ہوٹل سے نکلتا دیکھ کر میر نے اپنے سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیری، منشی کو ایک گندی گالی دے کر دوسرا پانی کا گلاس لانے کا کہا اور خاموشی سے کچھ سوچنے لگا
کیوں پریشان ہیں میر صاحب؟ معاملہ حل ہوجاۓ گا.’ منشی نے ٹھنڈے پانی کا گلاس میر کے سامنے میز پر رکھتے ہوئے کہا
کیسے حل ہوجاۓ گا منشی؟ بیوقوفی کی باتیں مت کرو. وہ کرنل کا بچہ اچھی طرح جانتا ہے کے گوہر میرے قبضے میں ہے.’ میر نے پانی کا ایک بڑا سا گھونٹ بھر کر اپنی باچھیں صاف کرتے ہوئے کہا
میری سمجھ میں تو بس یہ حل آتا ہے کے گوہر کو مار کر کہیں گاڑ دیتے ہیں. جب گوہر نہیں ملے گی تو کرنل میرا پیچھا شاید چھوڑ دے. کل صبح فجر سے پہلے ہی یہ نیک فریضہ انجام دے دیتے ہیں

_____________________________
کرنل شاہ نواز بھی کل کا بچہ نہیں تھا. وہ اچھی طرح جانتا تھا کے اس کے پوچھنے کے بعد میر عبدل رحیم گوہر کو غائب کرنے کی پوری کوشش کرے گا. اس نے اسی رات میر کے گھر پر ریڈ کرنے کا فیصلہ کر لیا

_______________________________
وہ کوئی پنجاب کا شہر تو تھا نہیں. جنوبی بلوچستان کا ایک درمیانہ سا قصبہ تھا. پھر حالات بھی کچھ ٹھیک نہیں تھے. لوگ مغرب کی نماز پڑھتے ہی گھروں میں بند ہوجاتے. عشاء کی اذان تک تو پورے قصبے میں ایک سنّاٹا طاری ہوجاتا

فرنٹیئر کور کی تین گاڑیاں قصبے کی حدود میں داخل ہوئیں اور آھستہ آھستہ گلیوں میں رینگتی ہوئی میر عبدل رحیم کے گھر سے کچھ فاصلے پر رک گیئں. ماحول پر ایک ہو کا عالم طاری تھا. ٹھنڈی ٹھنڈی صحرائی ہوا کے جھونکے سرسراتے پھر رہے تھے. گاڑیوں کو دیکھ کر کچھ آوارہ کتوں نے بھونکنے کی کوشش کی مگر مزید کوئی حرکت نا ہوتی دیکھ کر خاموشی سے دم لپیٹ کر غائب ہوگئے. میر عبدل رحیم کے گھر کی دیواریں کچی مگر آٹھ سے دس فٹ بلند تھیں. سامنے کی جانب ایک بلند و بالا لوہے کا مظبوط اور وزنی بند گیٹ تھا

فرنٹیئر کور کے جوان گاڑیوں سے اترے اور خاموشی کے ساتھ ، ہمراہ لائی بانس کی سیڑھیوں پر چڑھ کر دیوار پر پوزیشنیں سنبھال لیں. ان کے سرچ لائٹیں آن کرتے ہی کرنل شاہ نواز کے اشارے پر صوبیدار صاحب نے میگا فون آن کیا
‘میر عبدل رحیم! تمھارے گھر کو چاروں اطراف سے فرنٹیئر کور نے گھیر لیا ہے. تمھیں حکم دیا جاتا ہے کے اپنے ہتھیار پھینک کر اپنے آدمیوں سمیت باہر نکل آؤ اور گوہر کو با حفاظت ہمارے حوالے کر دو. تمھارے پاس پانچ منٹ کا وقت ہے. اگر اس عرصے میں تم گوہر کو لیکر باہر نا نکلے تو ہم زبردستی اندر گھس آییں گے

____________________________
اس وقت گھر کے اندر بیٹھک میں محفل سجی تھی اور میر عبدل رحیم اپنے آدمیوں اور منشی کے ہمراہ گوہر کو مارنے کا ہی منصوبہ فائنل کر رہا تھا. میگا فون پر گونجنے والی آواز اس سب کے اعصاب پر بجلی بن کر گری
اب کیا کریں منشی؟ یہ تو اندر گھس آے گا اور گوہر کو برآمد کر لے گا. پھر گھر میں نا صرف ہتھیار ہیں بلکہ پیچھے گودام میں چرس کی بوریاں بھی رکھی ہیں. وہ سب اس کرنل کے ہاتھ لگ گیا تو اس کے بعد جو ہوگا وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے.’ میر عبدل رحیم نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا
فکرنا کریں میر صاحب. آپ گوہر کو لیکر پیچھے بھوسے والی کوٹھری میں چھپ جایئں. میں ان بدبختوں کو کہ دوں گا کے آپ کوئٹہ کسی ضروری کام سے گئے ہیں.’ منشی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا. آخر کو میر کا پرانا نمک خوار تھا. خوب جانتا تھا کے پکڑا گیا تو فرنٹیئر کور پولیس کے حوالے کر دے گی. اور اسکو پولیس سے چھڑوانا میر کے بایئں ہاتھ کا کھیل تھا

منشی کی بات میر کے دل کو لگی. اور کوئی چارہ بھی نا تھا. وہ اٹھا اور تیزی سے گوہر کے کمرے میں داخل ہوگیا. وہ غریب پہلے ہی جاگی ہوئی تھی اور غور سے میگا فون پر وقفے وقفے سے ہونے والے اعلانات سن رہی تھی. وہ بیوقوف ہرگز نا تھی اور اچھی طرح سمجھتی تھی کے فرنٹیئر کور کے جوانوں کے روپ میں خدا نے فرشتے بھیجے تھے، جو اس کو میر کی قید سے چھڑانے آے تھے. میر نے اسکو زبردستی بازو سے کھینچ کر اٹھانے کی کوشش کی تو اس نے پھل کاٹنے والی چھری میر کی ران میں گھونپ دی. میر نے ایک چیخ ماری اور ایک زوردار چانٹا گوہر کے منہ پر دے مارا. لیکن گوہر ٹس سے مس نا ہوئی. تھوڑی دیر میر نے گوہرکے بال کھینچ کر اٹھانے کی کوشش کی مگر پھر باہر سے میگا فون پر گونجتی آواز سن کر کمرے سے نکل بھاگا اور لالٹین اٹھا کر بھوسے والی کوٹھری میں داخل ہوگیا اور اندر سے سوچے سمجھے بغیر کنڈی لگا لی
جو ہوگا دیکھا جائے گا. ابھی تو کسی طرح گرفتاری سے بچنا چاہیے.’ میر نے سوچا اور لالٹین ایک سائیڈ پر رکھ کر بھوسے میں چھپنے کیلئے جگہ بنانے لگا

_________________________________
پانچ منٹ کی مدّت ختم ہوتے ہی صوبیدار صاحب نے کرنل شاہ نواز کی طرف دیکھا اور اشارہ پا کر جوانوں کو گھر کے اندر کودنے کا حکم دیا. نائیک فریاد نے اندر کود کر بڑا گیٹ کھولا تو کرنل شاہ نواز اور صوبیدار صاحب بھی گھر کے اندر داخل ہوگئے. لیکن اس سے پہلے کے کرنل لات مار کر گھر کا داخلی دروازہ توڑتا، دروازہ خود کھل گیا اور میر کے آدمی منشی کی سربراہی میں ہاتھ سر پر رکھے باہر نکل آے

کرنل شاہ نواز نے ایک زوردار چانٹا منشی کے منہ پر مارا
‘تمہارا باپ میر کہاں ہے؟’
.میر صاحب تو مغرب سے پہلےہی کوئٹہ چلا گیا صاحب.’ منشی نے تقریباً روتے ہوئے کہا’
جھوٹ بولتے ہو تم’. کرنل شاہ نواز پر تو گویا جنون طاری ہوگیا اور اس نے منشی کو لاتوں، مکوں اور گھونسوں پر رکھ دیا. ‘بتاؤ تمہارا باپ کہاں ہے؟ سچ سچ بتاؤ ورنہ یہیں گولیوں سے چھلنی کر دوں گا
بتاتا ہوں. مت مارو صاحب، بتاتا ہوں.’ منشی نے آستین سے ہونٹوں اور ناک سے بہتا خون صاف کرتے ہوئے کہا: ‘وہ پیچھے بھوسے والی کوٹھری میں چھپا ہوا ہے
فریاد تم کچھ لڑکوں کے ساتھ اندر جاؤ اور میر کو نکال کر لاؤ. ہم اتنی دیر گوہر کو ڈھونڈتے ہیں.’ کرنل شاہ نواز نے نائیک فریاد کو حکم دیا
.گوہر کا پتہ بھی یہ سور بتاے گا سر.’ صوبیدار صاحب نے خونخوار آنکھوں سے منشی کو گھورتے ہوئے کہا’
مگر اس سے پہلے کے منشی کچھ بولتا، اندر گھر سے چادر میں لپٹی ایک عورت تیر کی طرح نکلی اور آ کر کرنل کے پاؤں سے لپٹ گئ

.تمہارا نام گوہر ہے بہن؟’ کرنل شاہ نواز نے عورت کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا.
لڑکی نے اعتراف میں سر کو جنبش دی
.شاباش منہ سے بولو. تم زلیخہ کی بیٹی گوہر ہو؟’ صوبیدار صاحب نے لڑکی سے کہا’
لڑکی کچھ نا بولی. بس ٹکر ٹکر پھٹی آنکھوں سے کبھی کرنل سہیل اور کبھی صوبیدار صاحب کی طرف دیکھتی رہی

بولو شاباش. تم یہاں بلکل محفوظ ہو. میری بہن ہو. میں تم پر آنچ نہیں آنے دوں گا.’ کرنل نے شفقت سے کہا مگر لڑکی نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا. بس دیوانوں کی طرح سر ہلاتی رہی
یہ غریب کیا بولے گی کرنل صاحب. میر نے تو اس کی زبان کاٹ ڈالی ہے. بیچاری کچھ نہیں بول سکتی.’ منشی خود ہی بول پڑا
آپ اسکو عزت کے ساتھ گاڑی میں بٹھائیں. میں میر کو نکال کر لاتا ہوں.’ کرنل نے صوبیدار صاحب کو حکم دیا اور اندر کی طرف بڑھا ہی تھا کے فریاد نے دوڑ کر اسے اطلاع دی

سر منشی جس بھوسے والی کوٹھری کا بتا رہا ہے، اس میں آگ لگی ہوئی ہے. لڑکے دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں

کرنل شاہ نواز صوبیدار صاحب کو لیکر فٹا فٹ اندر کی جانب بڑھ گیا. جب تک کوٹھری کا دروازہ توڑ کر آگ بجھائی گئ، اندر سب کچھ جل کر راکھ ہوچکا تھا. ایک جانب ایک لاش کوئلہ بنی پڑی تھی اور فضاء میں جلتے ہوئے گوشت کی بدبو پھیلی ہوئی تھی

کیا خیال ہے صوبیدار صاحب، کیا ہوا ہوگا یہاں؟’ کرنل صاحب نے ناک پر رومال رکھتے ہوئے پوچھا تو صوبیدار صاحب نے زمین پر سے ایک جلی ہوئی لالٹین اٹھاتے ہوئے کہا
.میرا خیال ہے سر، میر عبدل رحیم چھپنے کی کوشش کر رہا تھا تو لالٹین سے آگ لگ گئ’
ہوں…..! خیال رکھنا صوبیدار صاحب، میر بہت چالاک آدمی ہے. کہیں کسی اور کو تو اپنی جگہ مار کر نہیں پھینک گیا؟’ کرنل شاہ نواز نے لاش کو رائفل کی نال سے ٹہوکہ دیتے ہوئے کہا
الله معاف کرے سر. اتنی بری طرح جل چکی ہے کے پہچانی نہیں جا رہی. لگتا تو میر عبدل رحیم ہی ہے مگر میں یقین سے کچھ نہیں کہ سکتا.’ صوبیدار صاحب نے غور سے لاش کا جائزہ لیتے ہوئے کہا

اچانک پیچھے سے ایک دیوانگی سے بھرپور ایک نسوانی قہقہہ گونجا. کرنل شاہ نواز نے مڑ کر دیکھا تو گوہر کھڑی تھی. وہ نہ جانے کب میر رحیم کا نام سن کر گاڑی سے باہر نکل آی تھی. اس نے صوبیدار کو ایک طرف دھکّا دیا،لاش کی انگلیوں میں دبی زمرد کے دانوں والی تسبیح کھینچی اور لاش کے منہ پر تھوک دیا. پھر وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئ اور بے اختیار رونا شروع ہوگئ. کچھ دیر تو کرنل شاہ نواز چپ چاپ کھڑا دیکھتا رہا پھر آگے بڑھا اور شفقت سے گوہر کے سر پر ہاتھ رکھا
‘بس کرو میری بہن. اسکو اسکے کئے کی سزا مل گئ’

گوہر اٹھی اور آہستہ آہستہ چلتی واپس گاڑی میں بیٹھ گئ
آپ پولیس کو وائرلیس پر اطلاع کریں صوبیدار صاحب. ہم گوہر کو لے کر اس کے گاؤں چلتے ہیں.’ کرنل نے صوبیدار کو حکم دیتے ہوئے کہا
سر میری مانیں تو آج بہت دیر ہوچکی ہے. راستہ بھی خطرناک ہے. آج رات اس بچی کو میں اپنی بیوی کے حوالے کرتا ہوں. کل صبح چلے چلیں گے
کرنل شاہ نواز نے بھی گھڑی دیکھی تو رات کے دس بج چکے تھے
ٹھیک ہے صوبیدار صاحب. آپ ابھی ماسٹر کو ٹیلی فون پر مطلع کر دیں کے کل ہم گوہر کو لیکر آ رہے ہیں. وہ اسکی ماں کو بتا دے

______________________________
فرنٹیئر کور کی گاڑیاں یتیمان گاؤں کی حدود میں داخل ہوئیں تو دوپہر ڈھلنے کو تھی. سارا گاؤں اسکول کی عمارت کے سامنے اکٹھا کرنل شاہ نواز کی آمد کا انتظار کر رہا تھا. گاڑیاں ایک ایک کرکے رکتی چلی گیئں. درمیانی گاڑی سے گوہر اتری تو زلیخہ نے ایک چیخ ماری اور ‘میری بچی’ کہ کر اس سے لپٹ گئ. اس کےپیچھے ہی ایک جواں سال لڑکا کھڑا تھا جس کی داڑھی اور بال لمبے اور آنکھوں میں وحشت تھی. ماں بیٹی کو روتا دیکھ کر اسکی آنکھیں بھی بھر آیئں اور اس نے گوہر اور زلیخہ دونوں کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا

.سر چائے کا بندوبست کیا ہے میں نے.’ ماسٹر نے آگے بڑھ کر کہا’
نہیں ماسٹر صاحب، شام ہونے کو ہے. اب ہم واپس چلیں گے.’ کرنل شاہ نواز نے رومال سے آنکھیں پونچیں اور صوبیدار صاحب کو گاڑیوں میں سوار ہونے کا اشارہ کیا

ٹھریں کرنل صاحب. مجھے بھی ساتھ لیتے چلیں.’ کرنل نے حیرانی سے مڑ کر دیکھا تو لمبی داڑھی اور بالوں والا جواں سال لڑکا کھڑا تھا
‘تم کون ہو؟’
میرا نام فیض الله ہے. میں بلوچستان لبریشن آرمی سے تعلق رکھتا ہوں اور اپنے محسن کے سامنے ہتھیار ڈالنا چاہتا ہوں.’ اس لڑکے نے کہا اور چادر میں چھپائی ایس ایم جی نکال کر کرنل شاہ نواز کے پاؤں میں رکھ دی

اس کو عزت کے ساتھ گاڑی میں بٹھائیں صوبیدار صاحب.’ کرنل نے شفقت سے فیض الله کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

اچانک زلیخہ آگے بڑھی تو کرنل رک گیا

آپ فکر نا کریں امّاں. دو چار دن میں حکومت کی طرف سے معافی مل جائے گی تو میں خود فیض الله کو آپ کے پاس چھوڑ جاؤں گا.’ لیکن زلیخہ نے اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی جھک کر کرنل شاہ نواز کا ہاتھ چوم لیا اور پھر چومتی ہی چلی گئ

‘مجھے کوئی فکر نہیں. میرا فیض الله اپنے بھائی کی تحویل میں ہے’
کرنل شاہ نواز مسکرایا اور مڑکر گاڑی میں بیٹھ گیا

دور دھول کے بادلوں میں گم ہوتی گاڑیوں کے قافلے کو دیکھ کر ماسٹر بولا
‘بہت اچھا افسر ہے’
.نہیں افسر نہیں ہے.’ زلیخہ بولی’
‘یہ محافظ ہے ہماری جان اور عزت کا’

12 thoughts on “محافظ

  1. loved the story. It sets the standard code of conduct expected of Pak Army. And there are still such officers and gentlemen with many a real stories much more interesting then this one.

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s