اندھیرے کا سفر

A wonderful story

Arooj Zaka

images

کمرے میں آتے ہی جوتے دیوار کے ساتھ لگی کرسی کے نیچے اور موزے، ذرا فاصلے پر قالین پر پھینک دیئے۔ امی پانی کا گلاس لیکر آیہی تھیں کہ صاف ستھرے جھاڑو لگے قالین پر،مٹی میں اٹے جوتے دیکھ کر آگ بگولا ہو گئیں۔ انکی ڈانٹ میری لا پرواہ طبیعت سے شروع ہوئی اور میری مستقبل میں آنے والی بیوی سے گھر کے سارے کام کروانے پر، ختم ہوئی۔

“!امی”

میں نے امی کو کمرے سے غصے سے جاتے دیکھا تو آواز لگائی۔ انہوں نےتیوری چڑھاتے مڑ کے مجھے دیکھا اور بولیں

“کیا ہے؟”

“ایسے تیوریاں چڑھانے سے جھریاں جلدی آ جائیں گی، اور ابو کی نظریں یہاں وہاں بھٹکنے لگیں گی”

 میں نے بھی امی کا غصہ ٹھنڈا کرنے کو بات کا رخ بدلا اور خالی گلاس انکے ہاتھ میں تھما دیا۔ ایک شرمیلی مسکراہٹ انکے ہونٹوں پرنمودار ہوئی، میرے کاندھے پر ایک تھپڑ رسید کیا اور “چل ہٹ”…

View original post 4,318 more words

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s