غبارے، دیوسائی اور بوڑھا میجر

7798274768_a56d9ebeea_b

دیوسائی کے برف پوش میدانوں میں شیوسر نامی ایک جھیل ہے. اس  جھیل کے پاس، ایک اکیلے پہاڑ کی چوٹی پر، بدھ بھکشوؤں کی ایک قدیم اور ویران خانقاہ ہے. سنا ہے کے کچھ سال پہلے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر دنیا سے تنگ آ کر وہاں جا کر بس گیا تھا. وہ شاید تمھارے سوالات کے جواب دے سکے.’ بوڑھے غبارے والے نے میری طرف دیکھے بغیر کہا اور پھر ایک غبارہ سلنڈر کی نوزل پر چڑھا کر گیس بھرنے لگا

 

دیوسائی کے میدان اور بدھ بھکشوؤں کی قدیم خانقاہ؟’ میں نے سر کھجاتے ہوئے پوچھا. ‘بابا جی! میں نے تو کبھی کسی سفرنامے میں بھی ایسی کسی جگہ کے بارے میں نہیں پڑھا. اور پھر میں دیوسائی گیا ہوں اور وہاں کے لوگوں سے بھی ملا ہوں. ایسی کسی جگہ کے بارے میں کبھی نہیں سنا

 ہر جگہ، ہر انسان کے، اور ہر وقت دیکھنے والی نہیں ہوتی. کچھ منزلیں صرف تلاش کرنے والوں کو ایک خاص وقت پر ہی نظر آتی ہیں.’ بابے نے غبارےکا دھاگہ ایک بچے کی مٹھی میں تھمایا اور پھر پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر توجوہ دوبارہ میری طرف مبذول کی

‘اب کی بار دیوسائی جاؤ گے تو میرے خیال میں تم اس خانقاہ کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاؤ گے’

 میرا دیوسائی جانے کا دور دور تک کوئی پروگرام نہیں. اس دفعہ تو ویسے بھی میں امریکا جا رہا ہوں. اور میں دیوسائی کے میدانوں سے اچھی طرح سے واقف ہوں. وہاں ایسی کوئی خانقاہ نہیں ہے.’ میں نے مسکرا کر کہا

 کہاں جانا ہے اور کب جانا ہے؟ یہ فیصلے تمھارے ہاتھ میں نہیں ہیں.’ بابے نے اپنی کالی آنکھوں سے مجھے سختی سے گھورا تو یکایک مجھے لاھورکی شدید گرمی میں بھی ٹھنڈ سی لگتی محسوس ہوئی. میں نے ہاتھ بغل میں دبائے تو شاید اسے مجھ پر ترس آ گیا. کالی آنکھوں میں جیسے چراغ روشن ہوگئے

بہت آسان سوال پوچھتے ہو بیٹے لیکن جتنے سوال آسان ہیں، اتنے ہی انکے جواب مشکل ہیں. میرے پاس انکے جواب نہیں ہیں. لیکن جہاں سے تمھیں یہ جواب مل سکتے ہیں، وہاں کا پتہ بتا دیا ہے. آگے تمہاری مرضی

  

یہ واقعہ آج سے کچھ سال پہلے کا ہے. میرا نام ارتضاء ہے اور میں نئی اور پرانی گاڑیوں کی خریدو فروخت کا کاروبار کرتا ہوں جو مجھے والد مرحوم سے وراثت میں ملا ہے. مزنگ چونگی کے قریب ہی میرا ایک شو روم ہے اور گھر ماڈل ٹاؤن میں واقع ہے. خیر گاڑیوں کا کاروبار تو گزر بسر کیلئے ہے. میرا اصل شوق سیاحت ہے. مجھے دنیا گھومنے کا اور نت نئے لوگوں سے ملنے کا اور انکی کہانیاں سننے کا، جنون کی حد تک شوق ہے. بہت دنیا پھر چکا ہوں اس شوق کے پیچھے

 

تو وہ مئی کے اوائل کی بات تھی اور ہفتے کی ایک گرم شام. بیوی بچوں نے شاپنگ کیلئے ضد کی تو انکو لے کر لبرٹی مارکیٹ چلا گیا. بیوی بڑی بیٹی عائشہ کو لے کر دوکانوں کے چکّر لگانے لگی. تھوڑی دیرتومیں نے اس کا ساتھ دینے کی کوشش کی مگر پھر جلد ہی بور ہوگیا. میں نے تنگ آ کرتین سالہ فاطمہ کو گود میں اٹھایا اور اسے لے کر مارکیٹ کے برآمدے سے باہر ایک بنچ پر بیٹھ گیا. حسب عادت، میری نگاہیں آس پاس سے گزرتے لوگوں کے چہرے ٹٹول رہی تھیں

 

بابا……. غبارہ!’ میری بیٹی نے میری تھوڑی پکڑ کر تھوڑا دور کھڑے غبارے والے کی طرف توجوہ دلائی تو میں اٹھ کر اس طرف بڑھ گیا

 

غبارے والا بوڑھا آدمی تھا. تھوڑا عجیب سا حلیہ تھا. درمیانہ قد، سر پر رنگین ڈبوں والی گول ٹوپی جس کے نیچے سے سفید زلفیں نکل کر کندھوں پر بکھریں تھیں، صاف گندمی رنگ اور بالکل برف جیسی گھنی داڑھی مونچھیں اور بھنویں، گلے میں رنگ برنگے، موٹے، چھوٹے منکوں والی نجانے کتنی مالائیں جھول رہی تھیں. سفید رنگ کا صاف ستھرا کرتا شلوار، جس پر جگہ جگہ پیوند لگے نظر آ رہے تھے اور پاؤں میں ربڑکی ہوائی چپل. وہ اگر غبارے نا بیچ رہا ہوتا تو میں یقیناً اسکو کوئی ملنگ یا فقیر سمجھتا

 

وہ ایک تین پہیوں والی چھوٹی سی لکڑی کی ریڑھی کے ساتھ کھڑا تھا. ریڑھی بھی کیا تھی، بس کالے لوہے کے ایک بڑے سے گیس سلنڈر کو، ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کا ذریعہ تھی. ایک ہتھی سے ایک رنگین غباروں سے بھرا پلاسٹک کا شاپر لٹک رہا تھا اور دوسری ہتھی سے کچھ پہلے سے پھلائے گئےغباروں کے دھاگے بندھے تھے

 

چونکہ پہلے سے دو چار بچے غباروں کے انتظار میں کھڑے تھے تو میں فاطمہ کو اٹھائے قریب جا کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا. تھوڑی دیر میں مجھے محسوس ہوا کے فضاء میں کسی بہت مہنگے پرفیوم کی دلنواز مہک پھیلی ہوئی تھی. تھوڑا غور کرنے پر اندازہ ہوا کے خوشبو بوڑھے غبارے والے کے کپڑوں سے اٹھ رہی تھی

.ارے واہ! کیا دلچسپ اور اعلی ذوق پایا ہے بابا جی نے.’ میں نے سوچا’

 تھوڑا اور غور کیا تو ایک اور عجیب بات دیکھی. میرے سامنے دو تین بچوں نے غبارے تو لے لئے لیکن بابے نے ان سے کوئی پیسے نا لئے

میں سوچ ہی رہا تھا کے بابے نے باقی بچوں کو فارغ کر کے ہماری طرف توجوہ کی اور مسکراتے ہوئے پوچھا

‘ہاں جی کس رنگ کی خوشیاں حاضر کریں شہزادی کو؟’

.خوشیاں؟’ میں نے چونک کر پوچھا’

ہاں….. تو؟ غبارے تو یہ تمھیں دکھائی دیتے ہیں. بچوں کیلئے تو غبارے خوشیاں ہی ہیں. رنگین خوشیاں اور ہواؤں کے سنگ اڑتی خوشیاں.’ بابے نے ریڑھی سے بندھے غباروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

.ایک نیلا اور ایک پیلا.’ فاطمہ نے تھوڑے شرماتے ہوئے جواب دیا’

ایسا کرتے ہیں، ایک نیلا، ایک پیلا اور ایک لال لے لو. پھر جتنے چاہے رنگ، ان تین رنگوں کو ملا کر بنا لینا.’ بابے نے مسکراتے ہوئے کہا اور لفافے میں سے مطلوبہ رنگ کے غبارے تلاش کرنے لگ گیا

 

بابے کے منہ سے پرائمری کلرز کی تعریف سن کر میں بری طرح سے چونک گیا

.آپ جانتے ہیں بنیادی تین رنگ کونسے ہوتے ہیں؟’ میں نے حیرانگی سے پوچھا’

اس میں ایسی کونسی عجیب بات ہے بیٹے؟’ بابے کی ساری توجوہ غبارے تلاش کرنے پر مرکوز تھی. ‘جو سوچتے ہیں، وہ جانتے بھی ہیں

 

بابے نے نہایت مہارت سے ایک ایک کرکے غباروں کو سلنڈر کی نوزل پر چڑھایا اور گیس بھرتا چلا گیا. گیس بھرنے کے بعد اس نے تینوں غباروں کو دھاگوں سے باندھا اور ایک گرہ سی بناکر فاطمہ کے ہاتھ میں تھما دی

 

.غبارے خوشیاں ہیں تو گیس کیا ہے؟’ میں نے جیب سے بٹوا نکالتے ہوئے اور بابے کو چھیڑتے ہوئے پوچھا’

غبارے خوشیاں ہیں تو گیس امید ہے بیٹے. خوشیوں کے غباروں میں امید کی گیس بھرتی ہے تبھی تو خوشیاں، خوشیاں بنتی ہیں.’ بابے نے یوں بات کی جیسے بہت معمولی بات تھی اور اسے افسوس تھا کے یہ معمولی سی بات میرے علم میں کیوں نہیں تھی

.اور پھر دھاگہ کیا ہوا؟’ میں نے کچھ شرمندہ ہوتے ہوئے پوچھا’

خود سوچ کر بتاؤ.’ بابے نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا تو میں نے خود کو پانچویں جماعت کا طالبعلم محسوس کیا

غبارے خوشیاں ہیں، گیس امید ہے تو پھر دھاگہ شاید زندگی کی ڈور ہونا چاہئے.’ میں نے سوچتے ہوئے جواب دیا’

.شاباش!’ بابے کے چہرے پر یکدم خوشی پھیل گئ’

 

.کتنے پیسے ہوئے؟’ میں نے بٹوا کھولتے ہوئے پوچھا’

.کس چیز کے؟’ بابے نے پوچھا’

.خوشیوں، امید اور زندگی کے.’ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا’

.خود قیمت لگا لو.’ بابے کی چمکتی کالی آنکھیں میری آنکھوں میں گڑی تھیں’

.خوشیوں، امید اور زندگی کی تو کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی.’ میں نے کہا تو بابا  بےاختیار ہنس پڑا’

‘ہوتی ہے، بہت بڑی قیمت ہوتی ہے. لیکن پیسوں میں نہیں لگائی جاسکتی’

.کیا قیمت ہوتی ہے؟’ میں نے دلچسپی سے پوچھا’

زندگی کی حقیقت سے انحراف کرنا سیکھو. سوچنا چھوڑ دو. خدا کو سمجھنے کی کوشش کرنا چھوڑ دو. جب یہ سب کچھ چھوڑ دو گے تو اس قابل ہوجاؤ گے کے خوشیاں اور امیدیں خرید سکو.’ بابے نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا

.اور اگر یہ سب نا چھوڑا، تو پھر؟’ میں نے اسکی بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا’

تو پھر؟’ بابے نے گیس کا والو ٹائٹ کرتے ہوئے کہا: ‘تو پھر آگہی کی چھری چل جائے گی. آگہی کی چھری کی دھار بڑی تیز ہوتی ہے بیٹے. خوشیوں کے غباروں سے امید کی گیس شوں کر کے نکال دیتی ہے

.لیکن میں آگہی چاہتا ہوں.’ میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا’

‘آگہی چاہتے ہو تو خوشیوں کی امید چھوڑ دو. آگہی صرف اداسی ہے’

بابے نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے شفقت سے کہا اور پھر پوچھنے لگا

‘ویسے کس راز کی آگہی کی تلاش ہے؟’    

.ہر راز کی آگہی. موت کیا ہے؟ ایمان کیا ہے؟ مذھب کیا ہے؟’ میں بولتا چلا گیا’

‘بہت ضروری سوال ہیں سوچنے والوں کیلئے، لیکن میرے پاس تمھارے سوالوں کے جواب نہیں ہیں’

پھر کہاں سے ملیں گے ان سوالوں کے جوابات؟’ میں نے بابے سے پوچھا اور اس نے مجھے دیوسائی کی قدیم خانقاہ کے بارے میں بتایا

__________________________________

 بابے نے جب یہ کیہ دیا کے تماری مرضی، جاؤ یا نا جاؤ تو میں ایک دم سے حال میں واپس آ گیا

کمال ہے ویسے، مجھے بھی کیا ہوگیا ہے؟ میں ایک غبارے والے سے کس قسم کی گفتگو کر رہا ہوں؟ کوئی سنے گا تو کیا سوچے گا میرے بارے میں؟’ میں نے سوچا اور پھر سر جھٹک کر بابے سے پوچھا

‘آپ پیسے تو بتایئں بابا جی’

تھوڑے سے پیسے ہیں لیکن تمھارے بٹوے میں ٹوٹے پیسے نہیں ہیں اور میرے پاس کھلا نہیں ہے.’ بابے نے ایک گہری نظر میرے بند بٹوے پر ڈالی

میں نے کھول کر چیک کیا تو واقعی بٹوے میں صرف بڑے نوٹ تھے

اوہ واقعی!’ مجھے بابے کے صحیح اندازے پر حیرت ہوئی. ‘میں ایسا کرتا ہوں کسی دوکان سے کھلا لیکر آتا ہوں

میں نے بابے سے کہا اور فاطمہ کو لیکر مارکیٹ کی طرف بڑھ گیا

 

بیوی عائشہ کی انگلی پکڑے ایک دوکان کے باہر کھڑی تھی اور ادھر ادھردیکھتی غالباً ہمیں ہی تلاش کر رہی تھی

.کہاں چلے گئے تھے آپ؟’ اس نے میری شکل دیکھ کر سکھ کا سانس لیا’

ادھر قریب ہی کھڑا تھا. ذرا چیک کرنا، تمھارے پرس میں ٹوٹے پیسے ہیں تو مجھے دو. غبارے والے کو دینے ہیں.’ میں نے پوچھا

.بابا میں نے بھی غبارے لینے ہیں.’ عائشہ نے اصرار کیا’

.کونسا غبارے والا؟’ بیوی نے پرس سے ٹوٹے پیسے نکال کر مجھے دئے اور ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا’

وہ کھڑا ہے.’ میں نے مڑ کر اشارہ کرنے کی کوشش کی مگر وہاں کوئی نہیں تھا. شاید بابا ریڑھی لے کر جا چکا تھا. لیکن اتنی جلدی کیسے غائب ہوگیا؟ اور جلدی کس بات کی تھی؟ پیسے لیتا جاتا. افسوس تو مجھے بہت ہوا مگر کیا کیا جا سکتا تھا. بیوی بچوں کو لے کر پارکنگ میں کھڑی گاڑی کی جانب بڑھ گیا

 

ابھی گاڑی میں بیٹھ کر سٹارٹ کی ہی تھی کے موبائل کی گھنٹی بجی. میں نے سکرین پر نظر ڈالی تو معین کا فون تھا. میرا بہت پرانا دوست ہے اور عرصہ دراز سے اپنی فیملی کے ساتھ ڈنمارک میں مقیم ہے. لیکن کبھی کبھی عزیز رشتے داروں اور گھومنے گھمانے کیلئے پاکستان کا چکّر لگاتا رہتا ہے. حیرت کی بات یہ تھی کے نمبر اس کے لاہور کے گھر کا تھا

.السلام و علیکم جناب!’ میرے ہیلو کے جواب میں اسکی زندگی سے بھرپور آواز گونجی’

.وعلیکم اسلام! حضور کدھر ہیں آپ؟’ میں نے حیرت سے پوچھا’

یار تین دن پہلے ایک فیملی ایمرجنسی کی وجہ سے پاکستان آنا پڑا. معافی چاہتا ہوں، مصروفیت کی وجہ سے رنگ نہیں کر سکا

.اوہ! خیریت تو ہے؟’ میں نے پریشانی سے پوچھا’

‘ہاں جی! بالکل خیریت ہے. چھوٹی بہن کے رشتے کا مسئلہ تھا. حل ہوگیا ہے الله کا شکر’

.زبردست! تو اب کیا پروگرام ہے جناب کا؟’ میں نے اطمینان کی سانس لیتے ہوئے پوچھا’

‘بس پروگرام کیا ہونا ہے. میں بیس دن کی چھٹی لے کر آیا تھا. ابھی اتنی جلدی واپس جانے کا موڈ نہیں ہے’

ہاں تو اتنی جلدی واپس بھی کیوں جانا ہے؟ ملاقات رکھتے ہیں اور آگے کا پروگرام بناتے ہیں.’ میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا

آگے کا پروگرام میں نے بنا بھی لیا. تم صرف بوریا بستر باندھو. اس دفعہ میرا دیوسائی جانے کا ارادہ ہے. سنا ہے بہار آئ ہے اور دیوسائی کے میدان پھولوں سے بھرے پڑے ہیں

.دیوسائی………..؟’ میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں بول پایا’

‘ہاں بھائی، دیوسائی. خود تو کتنی دفعہ دیکھ آئے ہو. اس دفعہ اس غریب کو بھی سیر کرا دو’

 

میں نے جلدی جلدی بیوی بچوں کو گھر ڈراپ کیا اور خود معین کی طرف چلا گیا. رسمی گفتگو سے فارغ ہوئے تو میں نے اسے غبارے والے کے قصّے سے آگاہ کیا. تھوڑا حیران تو وہ ہوا مگر اچھی طرح جانتا تھا کے میرے ساتھ اس قسم کی وارداتیں ہوتی رہتی تھیں. خیر پلان یہ بنا کے اگلے روز دیوسائی جایا جائے گا اور مل کر وہ خانقاہ ڈھونڈی جائے گی

 _________________________________

وقت بچانے کیلئے میں نے پی آئ اے میں اپنے ایک گہرے دوست سے بات کی اور سکردو کیلئے جہاز کی سیٹوں کا بندوبست کر لیا. قسمت اچھی تھی کے موسم ٹھیک تھا اور ٹھیک دو دن بعد ہم سکردو میں تھے. سکردو میں آغا جی بہت پرانے واقف کاروں میں سے تھے. انہوں نے نہ صرف سکردو میں ہمارے قیام و طعام کا بہت اچھا بندوبست کیا بلکہ اگلے ہی دن ایک اچھی سی نئے ماڈل کی جیپ، ڈرائیور اور باورچی کا انتظام بھی کر دیا

 

صبح سویرے سکردو سے نکلے تو موسم تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہا تھا. دیوسائی ٹاپ سکردو شہر سے تیس کلومیٹر دور واقع ہے لہٰذا ہم تقریباً دو گھنٹے میں سدپارہ سے ہوتے ہوئے پوھنچ گئے. تھوڑا رکنے اور کھانا وغیرہ کھانے کے بعد شام تک ہم شیو سر جھیل کے کنارے تھے

 

باقی لوگ کیمپ لگانے میں مشغول ہوگئے تو میں نے معین کو ساتھ لیا اور آس پاس کے مقامی لوگوں سے خانقاہ کے بارے میں معلومات لینے کی کوشش کرنے لگا. لیکن جس سے بھی بات کرتا، اسکا سر خانقاہ کے بارے میں سن کر نفی میں ہلنے لگتا. آخر مایوس ہوکر واپس جھیل کنارے چلے گئے

 ­­­­­­­­­­­­­­­­­­­­­­­­­_________________________________

دو دن وہیں شیوسر کے کنارے گزر گئے. نا کسی خانقاہ کا پتہ چلا اور نا کسی ریٹائرڈ فوجی افسر کا. مجھے یقین ہو چلا تھا کے وہ غبارے بیچنے والا یا تو دماغی طور پر کچھ کھسکا ہوا تھا یا پھر کسی نشے کا عادی تھا. خیر ہمارا کون سا کوئی نقصان ہوا تھا؟ سیر و تفریح کی غرض سے آئے تھے اور سیر کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی. دوسری رات کے کھانے پر پروگرام بن گیا کے اگلی صبح کیمپ اکھاڑیں گے اور خرمنگ کیطرف کوچ کیا جائے گا

________________________________

 اگلی صبح میری آنکھ کھلی تو سورج نکلنے میں تھوڑی دیر تھی. مجھے ہمیشہ سے صبح کا سکون بہت پسند ہے، جس وقت بہت کم لوگ جاگ رہے ہوتے ہیں. لہٰذا موقع کو غنیمت جان کر باہر نکل گیا. میرا اندازہ صحیح تھا. پورا کیمپ نیند کے مزے لوٹ رہا تھا. میں کیمپ سے تھوڑا ہٹ کر ایک قدرے اونچی چٹان پر پاؤں پسار کر بیٹھ گیا اور سورج نکلنے کا انتظار کرنے لگا

 

تھوڑی دیر میں مشرقی پہاڑوں کی چوٹیاں چومتے بادل، کالے سے سرمئی اور پھر بیشمار رنگ تبدیل کرتے، سنہرے رنگ کا لبادہ اوڑھنے لگے. جھیل کے سیاہی مائل نیلگوں رنگ نے بھی آہستہ آہستہ تاریکی کا لحاف سرکایا اور اسکی چھوٹی  چھوٹی لہروں میں سنہرے  بادلوں کا عکس جھلکنے لگا

 

اچانک میری نظر ایک سنہری رنگ کے پرندے پر پڑی جو ٹھنڈی ہوا کے دوش پر،  پر پھیلائے مشرق سے جنوب مغرب کی طرف محو پرواز تھا. پہلے میرا خیال تھا کے پرندے کا سنہری رنگ طلوع ہوتے سورج کی روشنی میں ایسا دکھائی دے رہا تھا. لیکن پھر مجھے احساس ہوا کے اسکا رنگ واقعی سنہرا تھا. بالکل یوں لگتا تھا کے جیسے سونے کے پتروں سے بنا پرندہ ہو. حجم میں بھی ایک جوان مور کے برابر ضرور تھا. اس کو دیکھ کر مجھے کہانیوں کا فینکس نامی پرندہ یاد آ گیا، جو مرتے وقت جل اٹھتا ہے اور اسی کی راکھ سے دوسرے پرندے کی پیدائش ہوتی ہے

 

میری نظریں پرندے پر جمی رہیں اور میں خدا کی قدرت پر عش عش کرتا رہا. تھوڑی دیر کے بعد مجھے احساس ہوا کے پرندہ شیوسر کے جنوب مغرب میں دور برفپوش چوٹیوں پر، مدھم سی دکھائی دیتی ایک عمارت کی طرف اڑ رہا تھا. میں بڑی سے بڑی قسم کھانے کو تیار ہوں کے پچھلے دو روز میں وہ عمارت ہم میں سے کسی کو دکھائی نہیں دی تھی. ہمارے شیوسر پوھنچنے کے اگلے ہی دن موسم بھی صاف ہوگیا تھا لہٰذا عمارت نا دکھائی دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا

 

وہ چینی پگوڈے نما عمارت دیکھ کر تھوڑی دیر تو میں آنکھیں مل مل کر یقین کرتا رہا کے وہ عمارت میرے تخیّل کی پیداوار نہیں تھی. یقین ہونے پر میں دوڑتا ہوا کیمپ کی طرف گیا اور معین کو جگانے کی کوشش کی. لیکن وہ تو یوں لگتا تھا کے جیسے گھوڑوں کا پورا اصطبل بیچ کر سویا تھا. ٹس سے مس نہیں ہوا. میں اسکے ٹینٹ سے باہر نکلا تو دیکھا کے وہ عمارت کچھ دھندلا سی رہی تھی. اس ڈر سے کے کہیں بالکل غائب نا ہوجائے، میں نے جلدی جلدی جیکٹ چڑھائی، ٹخنوں تک اونچے جوتے پہنے اور تھوڑا سا کھانے پینے کا سامان اور پانی کی دو چار بوتلیں ایک تھیلے میں ڈال کر نکل کھڑا ہوا

 

عمارت کو منزل بنا کر پتا نہیں کتنی دیر چلتا رہا. لیکن عجیب بات یہ تھی کے جب کبھی چوٹیوں اور وادیوں کے بیچ راستہ کھو بیٹھتا تو وہ ہی سنہرا پرندہ، پتا نہیں کہاں سے آکر میرے آگے آگے اڑنے لگتا. میری حیرت کی انتہاء اور مشکل چڑھائی، وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا. میرا سانس بری طرح پھول چکا تھا. گھٹنے، ہاتھ اور بازو خراشوں سے بھر چکے تھے. لیکن میں چلتا رہا. ایک چوٹی کے بعد دوسری چوٹی اور اسکے بعد تیسری چوٹی. ہر چوٹی سے وہ عمارت دھندلی سی ہی دکھائی دیتی. سورج غروب ہونے کو تھا اور میں تقریباً حوصلہ ہار چکا تھا. ہر قدم پر اس غباروں والے بابے اور اپنی مہم جو طبیعت کو کوس رہا تھا. معین اور باقی ہمسفروں کا بھی خیال آتا تھا کہ نجانے کہاں کہاں ڈھونڈتے ہونگے

 

چلتے چلتے بلکہ گرتے گھسٹتے، میں ایک پہاڑ کے دامن میں پوھنچا تو پتھروں کے پیچھے لکڑی کی بوسیدہ سیڑھیاں اوپر چڑھتی دکھائی دیں. مرتا کیا نا کرتا، آہستہ آہستہ چڑھنا شروع کر دیا. وہ سیڑھیاں بہت برے حال میں تھیں. لکڑی بوسیدہ اور سیاہ ہوکر جگہ جگہ سے تڑخ چکی تھی. جس رسی سے سیڑھیاں بندھی تھیں، وہ بھی گل سڑ چکی تھی. کہیں پر پیر پھسلتا تو سانس حلق میں اٹک جاتا. دور نیچے ہزاروں فٹ گہرائی میں نوکدار پتھر سر اٹھاے شاید میرے ہی پھسل کر گرنے کے انتظار میں تھے

 

پھر اچانک سے سیڑھیاں ختم ہوگیئں اور میں نے اپنے آپ کو ایک لکڑی کے بوسیدہ تختوں سے بنے، بیس ضرب تیس فٹ کے پلیٹ فارم پر پایا. سیڑھیوں کے مقابل پلیٹ فارم کے دوسرے کنارے پر اسی عمارت کا صدر دروازہ تھا. اور صدر دروازے کے عقب سے بھکشوؤں کے جاپ کی بھنبھناہٹ سنائی دے رہی تھی. میں نے مڑ کر دیکھا تو پوری وادی گھنے سرمئی بادلوں سے ڈھک چکی تھی. ایک عجیب دل دہلا دینے والا مگر عظیم الشان نظارہ تھا. تیز ٹھنڈی ہوا کے جھکڑ چل رہے تھے اور بادل اپنی شکلیں تبدیل کر رہے تھے. سورج بادلوں سے نیچے جا چکا تھا اور مجھے یوں لگ رہا تھا کے جیسے دھنکی ہوئی روئی سے بھرے سمندر کے کنارے کھڑا ہوں

 

میں نے وادی پر چھائے بادلوں پر ایک نظر ڈالی اور مڑ کرعمارت کے صدر دروازے کی طرف قدم بڑھائے. دروازہ پلیٹ فارم سے تقریباً ڈیڑھ فٹ اونچا تھا اور اسکے دونوں اطراف پتھر کے چبوتروں پر ایک ایک سنہری پرندہ بیٹھا تھا. ان میں سے ایک غالباً میرا رہبر تھا. حیرت کی بات یہ تھی کے دونوں پرندے بالکل ایک ہی پوز میں بیٹھے اپنی سرخ سرخ جگمگاتی آنکھوں سے میری ہی طرف گھور رہے تھے. موروں کی طرح انکے سنہرے پر پیچھے کی جانب سلیقے سے سمٹے تھے. دونوں میرے قریب پوھنچنے پر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلے تو میں نے ڈرتے ڈرتے ایک کی پشت پر ہلکے سے ہاتھ پھیرا. ارے یہ کیا؟ وہ جیتے جاگتے پرندے نہیں تھے بلکہ کسی ماہر کاریگر اور مجسّمہ ساز کے ہاتھوں سے ڈھلا شاہکار تھے

 

میں تھوڑی دیر کھڑا ان پرندوں کی خوبصورتی اور بنانے والے کے فن کو داد دیتا رہا اور پھر دوبارہ سے دروازے کی طرف بڑھا. کالی بوسیدہ لکڑی سے بنا، تقریباً آٹھ فٹ اونچا بھاری بھرکم دروازہ تھا. دونوں پاٹوں پر سنہری اور نقرئی دھات سے ابھرے ہوئے بیشمار نقش و نگار تھے. غور کرنے پر معلوم پڑا کے دایئں پٹ پر سنہرے رنگ میں جنّت جبکہ بایئں پٹ پر نقرئی کام میں جہنم کا نقشہ پیش کیا گیا تھا. دونوں پاٹوں کے عین بیچ میں اور زمین سے چار فٹ اونچائی پر، تانبے کے دو چمکتے کڑے لٹک رہے تھے. میں نے ان میں سے ایک کو پکڑا اور بجا دیا

 

میرا خیال تھا بلکہ مجھے یقین تھا کے دروازہ کھولنے والا زرد اور زغفرانی رنگ کا لبادہ اوڑھے کوئی بوڑھا بدھ بھکشو ہوگا. میں ہاتھ جوڑ کر سلام کرنے اور جھکنے کیلئے بالکل تیّار کھڑا تھا. لیکن جب دروازہ کھلا اور میں نے کھولنے والے کو اوپر سے نیچے تک دیکھا تو شرمندگی سے جڑے ہاتھ کھولے اور پیچھے باندھ لئے

___________________________________

دروازہ کھولنے والا درمیانی قد کا ایک بوڑھا آدمی تھا. سر پر کالی اون سے بنی روسی ٹوپی اور ٹوپی کے کناروں سے پانی کی لہروں کی طرح موجیں مارتے اور کندھوں تک لٹکتے لمبے چاندی بال. بھورے نرم چمڑے کی جیکٹ، چمڑے کی ہی پتلون اور پاؤں میں ٹخنوں تک اونچے جوتے. ایک ہاتھ میں سیاہ چمکدار لکڑی کی چھڑی جس کی مٹھ کسی ریڈ انڈین سردار کے سر کے روپ میں چاندی سے ڈھلی تھی. دوسرے ہاتھ میں سیاہ آبنوس کا تمباکو نوشی کا پائپ جس میں سے ہلکا ہلکا خوشبو دار دھواں اٹھ رہا تھا

 

پہلی نظر میں مجھے اس کا چہرہ بالکل غباروں والے بابے سے ملتا جلتا محسوس ہوا. لمبی لمبی قلمیں، گھنی سفید مونچھیں اور لمبی داڑھی. رنگت شاید کسی زمانے میں گندمی رہی ہوگی مگر ٹھنڈ اور پہاڑی علاقے کے موسموں کی شدّت کے باعث، گہرے بھورے رنگ میں تبدیل ہوچکی تھی. دونوں آنکھوں کی چمک، مچی ہونے کے باوجود نمایاں تھی اور پرسکون جھیلوں کے پانیوں پر چمکتی چاندنی جیسی تھی. تھوڑی دیر اس کی آنکھوں میں جھانکنے کے بعد مجھے اپنے تھکے جسم میں ایک خوش گوار حرارت کی لہر دوڑتی محسوس ہوئی. رہی سہی کسر اس کے ہونٹوں پر دوڑتی شفیق مسکراہٹ نے پوری کر دی

 

.آؤ، اندر آ جاؤ. باہر کیوں کھڑے ہو؟’ اس نے ایک طرف ہو کر مجھے اندر بڑھنے کا اشارہ کیا’

.جی…..!’ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ سکا اور اندر کی جانب قدم بڑھائے

 

دروازے سے اندر داخل ہوا تو میں نے اپنے آپ کو اونچی چھت والے ایک بڑے سے ہال کمرے میں کھڑا پایا. لکڑی کی بوسیدہ کڑیوں کی تاریک چھت تھی اور ترشے پتھروں کی دیواریں. ایک دو جگہ پر دیوار میں لگی مشعلیں تاریکی سے لڑنے کی ناکام کوشش کر رہی تھیں. حیرت کی بات یہ تھی کی پورا ہال کمرہ بھکشوؤں کی آوازوں سے گونج رہا تھا لیکن کوئی دکھائی نہیں دیتا تھا. گانے والے بار بار ایک ہی فقرے کی گردان کر رہے تھے لیکن ہر دفعہ الفاظ کی گونج میں معمولی سی تبدیلی محسوس کی جا سکتی تھی

‘اوم مانی پدمے ہم

اوم مانی پدمے ہم

اوم مانی پدمے ہم

اوم مانی پدمے ہم

 

میری نظریں ابھی گاتے جھومتے بھکشوؤں کی تلاش میں تاریک کونے کھدروں کی تلاشی لے ہی رہیں تھیں کے میرے میزبان نے نرمی سے میری کہنی پکڑی اور کہنے لگا

‘ریکارڈ بج رہا ہے. پریشان مت ہو. یہاں تمھارے اور میرے علاوہ، اور کوئی نہیں ہے’

جی بہتر!’ میں نے اطمینان کا سانس لیکر اس کی طرف مسکرا کر دیکھا. پھر خیال آیا کے اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں

‘……….جی میرا نام’

میں جانتا ہوں تمہارا نام. ارتضاء نام ہے تمہارا. مجھے تمھاری آمد کے بارے میں مطلع کر دیا گیا تھا.’ میرے میزبان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

.آپ کو کس نے مطلع کیا؟’ میں نے حیرت سے پوچھا’

اسی نے، جس نے تمھیں یہاں میرے پاس بھجوایا ہے. اور پھر شیوسر سے یہاں تک میرا ایک دوست مستقل تمھارے ساتھ ساتھ رہا

.اس غبارے والے بابے نے؟’ میں نے پوچھا’

ہاں بالکل! لیکن وہ غبارے والا نہیں ہے. غبارے وہ بیچتا نہیں ہے. صرف بانٹتا ہے.’ میرے میزبان نے پائپ کا ایک کش لیتے ہوئے کہا تو لمحہ بھر کو پائپ کے کٹورے میں جلتے تمباکو کی سرخ چمک نے، اسکے چہرے پر پھیلے لکیروں کے اداس جال کو، مزید واضح کر دیا

.اور وہ سنہرا پرندہ آپ کا پالتو ہے؟’ میں نے سر جھٹک کر پوچھا’

پالتو نہیں ہے، دوست ہے.’ اس نے نتھنوں سے گاڑھا سفید دھواں اگلتے جواب دیا اور پھر مجھے لیکر ہال کمرے سے متصل ایک اور نسبتاً چھوٹے کمرے میں داخل ہوگیا

 

وہ دوسرا کمرہ چھوٹا ضرور تھا مگر دیکھنے میں کسی عجائب گھر سے کم نہیں تھا. داخلی دروازے کے بالکل سامنے، ایک پوری دیوار جتنی کھڑکی تھی جس پر نا کوئی جالی تھی، نا کوئی لکڑی کا فریم اور نا ہی کوئی شیشہ. بس کھڑکی کے دونوں اطراف دو قوی ہیکل ستون تھے، جن پر لگے تانبے کے چمکتے ہکوں کی مدد سے دبیز مخملی اور سیاہی مائل پردے بندھے تھے. اس کھڑکی نے اس کمرے کو برآمدہ بنا دیا تھا. کھڑکی کا رخ مغرب کی جانب تھا اور ڈوبتے سورج کی سنہری پرچھائیاں سفید برفپوش چوٹیوں کی بلائیں لیتی نظر آ رہی تھیں. کمرہ غالباً عمارت کے مغربی کونے پر واقع تھا کیونکہ کھڑکی سے آگے صرف بادلوں کی تہہ نظر آ رہی تھی

 

‘یا خدا یہ کس الف لیلوی ماحول میں پوھنچ گیا ہوں میں؟’

مجھے بالکل یوں محسوس ہورہا تھا کے ابھی کسی کونے سے سفید چادر میں ملبوس رائڈر ہیگرڈ کی شی نکلے گی اور میرا ہاتھ تھامے، آتش جاوید میں غسل دینے لے چلے گی

 

کمرے کی دیواریں یقیناً سیاہی مائل پرانے پتھروں کی ہی ہونگی لیکن تمام کی تمام، بیش قیمت ایرانی اور افغانی قالینوں اور پرانی روغنی تصاویر کے بھاری بھرکم فریموں سے ڈھکی ہوئی تھیں. زیادہ تر تصاویر نیوڈز کی تھیں جن کو دیکھ کر کم از کم کان ضرور سرخ ہوجاتے تھے. لیکن کمپوزیشن اسقدر خوبصورت تھی کے فحاشی کا گمان تک نا ہوتا تھا. میں خود روغنی تصاویر کا بہت شائق ہوں اور ان تصویروں میں مجھے فرانسسکو ڈی گویا اور کاراوجیو کے کام کی جھلک تو ضرور نظر آتی تھی مگر کوئی خاص مماثلت نہیں تھی

 

ایک کونے میں ایک چوڑےچکلے آتش دان میں آگ بھڑک رہی تھی، جس کی روشنی جگہ جگہ تپائیوں پر سجے، انواع و اقسام کے نوادرات کو، مختلف زاویوں سے روشن کر رہی تھی. کیا کیا نہیں تھا اس چھوٹے سے کمرے میں؟ پرانے زمانے کا گراموفون جس پر بدھ بھکشوؤں کے جاپ کا ریکارڈ بج رہا تھا؛ چمڑے، لکڑی اور ہڈی سے بنے مصری اور افریقی ماسک؛ جنوبی امریکا کے قبائلیوں کے ہاتھ سے بنے سکڑے ہوئے انسانی سر؛ جاپانی اور چینی لالٹینیں؛ تانبے اور چاندی سے بنے سمت نما اور دیگر نا سمجھ میں آنے والے بےشمار آلات؛ کرسٹل کے شفاف گولے اور پتہ نہیں کیا کیا. میرا تو سر چکرانا شروع ہوگیا

 

اچھی طرح جائزہ لے چکے ہو تو آؤ آگ کے پاس بیٹھ جاؤ. میں تمھارے لئے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرتا ہوں.’ میرے میزبان نے دھیمے اور مسکراتے لہجے میں کہا تو میں شرمندہ سا ہوگیا

.وہ میرا دوست وہیں شیوسر کے کنارے ہی رہ گیا. مجھے ڈھونڈ رہا ہوگا.’ مجھے اچانک معین کی یاد آئ’

تم اسکی فکر نا کرو. کوئی تمھیں ڈھونڈ نہیں رہا.’ اسکی مسکراہٹ میں کوئی ایسی خاص بات تھی کے ایک دم سے میرا دل مطمئن ہوگیا

 

کھانے سے فارغ ہوکر میں نے تھوڑے پاؤں پسارے تو پتہ نہیں کب گہری نیند نے آن گھیرا. جب آنکھ کھلی تو باہر صبح کا اجالا پھیل چکا تھا اور میرا میزبان میری جانب پشت کئے، کھڑکی کی سل پر آسن جمائے بیٹھا تھا. میرے ہلنے جلنے کی سرسراہٹ سن کر اس نے گردن پھیری، میری طرف مسکرا کر دیکھا اور دوبارہ سے مراقبے کا آغاز کر دیا

 

ناشتے سے فارغ ہوکر میرے میزبان نے مجھے ساتھ لیا اور خانقاہ کی سیر کرانے لگ گیا

 

.آپ یہاں اتنی اونچائی پر، دنیا سے دور کیوں رہتے ہیں؟’ میں نے موقعہ غنیمت جان کر پوچھا’

کبھی کسی جنگل میں سیر کرو تو کیا جنگل کے بیچ میں کھڑے،  پورے جنگل کے جغرافیے کا اندازہ لگا سکتے ہو؟’ اس نے میرے سوال کا جواب سوال سے دیا

جی نہیں، پورے جنگل کا اندازہ تو، دور کسی اونچی جگہ سے ہی کیا جاسکتا ہے.’ میں نے تھوڑا حیران ہوتے ہوئے جواب دیا

دنیا کو جاننے کیلئے بھی دنیا سے دور جانا پڑتا ہے. پھر عمر اور ذہنی پختگی، نا صرف کھڑا ہونے کیلئے ایک اونچی جگہ مہیا کر دیتے ہیں، بلکہ دیکھنے والی نظر اور سمجھنے والی عقل بھی عطا کر دیتے ہیں.’ اس نے وادی کی گہرائی میں نظر آنے والے زمین کے مختلف رنگ کے ٹکڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور تھوڑی دیر خاموشی سے آنکھیں بند کر کے، کسی نا سنائی دینے والی دھن پر ہلکے ہلکے جھومتا رہا. پھر آہستہ سے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور بولا

میں نے فوج میں پچیس سال گزارے ہیں بیٹے. جب ریٹائر ہوگیا تو کاروبار شروع کر دیا لیکن جلد ہی مجھے احساس ہوگیا دنیا کی حقیقت، فکر معاش اور بیوی بچوں کے علاوہ بھی کچھ ہے. لہٰذا میں یہاں آ گیا. دنیا سے دور، دنیا کو سمجھنے کیلئے

.آپ اپنے حلیے اور شوق سے تو بالکل مذہبی نہیں لگتے.’ میں نے ہلکے سے مسکرا کر کہا تو وہ ہنس پڑا’

جس روایتی مذہب کی طرف تمہارا اشارہ ہے، مجھے کبھی اس سے شغف نہیں ہوا. میرے خیال میں ہر مذہب کے کچھ مدار ہوتے ہیں، بالکل ایٹموں کی طرح. جس طرح ایٹم کے نیوکلیس کے گرد، مدار میں چکر لگانے والے ہر الیکٹرون کا، انرجی لیول مختلف ہوتا ہے، بالکل اسی طرح، مذھب کے ماننے والوں کے مدار بھی مختلف ہوتے ہیں. ہر مدار سے مذہب کا نیوکلیس مختلف روپ میں نظر آتا ہے

.نیوکلیس سے آپکی مراد غالباً خدا پر ایمان سے ہے؟’ میں نے دلچسپی سے پوچھا’

.خدا پر ایمان بھی اور مذہب کے بنیادی فلسفے بھی.’ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا’  

‘اونچائی سے خدا پر ایمان کو کیسا دیکھا آپ نے؟’

ہاں یہ بڑا اہم سوال کیا تم نے.’ اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا. ‘خدا پر ایمان کو تم ایک پہاڑی چوٹی سمجھو، جس کو منزل بنانا ضروری ہے. منزل سب متلاشیوں کی ایک ہے مگر راستوں کا انتخاب سب کی ذاتی سوجھ بوجھ پر منحصر ہے. کچھ لوگ سمندروں میں ڈوبنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور کچھ صحراؤں کی خاک چھاننے کو بہتر سمجھتے ہیں. کچھ دشوار گزار راستوں کا انتخاب کرتے ہیں، اور کچھ آسان راستوں کا. لیکن راستوں سے فرق نہیں پڑتا، جب تک منزل درست ہو

 

ہم ابھی باتیں کر ہی رہے تھے کے اچانک وہ سنہری پرندہ کہیں سے اڑتا ہوا آیا اور آ کر میرے میزبان کے کندھے پر براجمان ہوگیا. اس نے پیار سے اس کے پروں پر ہاتھ پھیرا اور پھر جیب سے کچھ دانے نکال کر اسکی چونچ کے سامنے ہتھیلی پر رکھ کر پیش کر د ئے

 

بڑا عجیب سا پرندہ ہے. لگتا ہے پورے کا پورا سونے کا بنا ہو. میں نے کبھی ایسے پرندے کے بارے میں کہیں نہیں پڑھا.’ میں نے تعریفی نظروں سے پرندے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

کیوں نہیں پڑھا؟ ضرور پڑھا ہے اور جانتے بھی اچھی طرح سے ہو.’ میرے میزبان نے پرندے کو ایک تھپکی دے کر کندھے سے رخصت کرتے ہوئے کہا. اور پھر میری تجسّس بھری نگاہیں دیکھ کر کہنے لگا

‘اسے ہی تو فینکس کہتے ہیں’

.کیا کہ رہے ہیں آپ؟ وہ تو کہانیوں قصّوں کی بات ہے.’ میں نے سر کھجاتے ہوئے کہا تو وہ ہنس پڑا’

‘ہر کہانی یا قصّے کی بنیاد، کسی نا کسی حد تک، حقیقت میں گڑی ہوتی ہے بیٹے’

.کیا واقعی نیا فینکس، پرانے پرندے کی راکھ سے جنم لیتا ہے؟’ میں نے حیرانگی سے پوچھا’

کیوں؟ اس میں اتنی حیرانی کی کیا بات ہے؟ تمام زندگیاں پچھلی زندگیوں سے ہی تو جنم لیتی ہیں. اسی طرح تو، مجموعی انسانی ادراک پختہ ہوتا ہے. ہر نسل گیان کی طرف ایک نیا قدم اٹھاتی ہے. اگلی نسل اگلا قدم اٹھاتی ہے، اور اس طرح گیان یعنی علم و شعور کا ارتقاء ہوتا ہے. ہندو مت میں شاید اسی فلسفے کو آواگون کی صورت میں مسخ کر دیا گیا ہے.’ اس کی نظریں دور فضاؤں میں گم ہوتے فینکس پر جمی تھیں

 

میرا میزبان مجھے لیکر پوری خانقاہ میں پھرتا رہا. تنگ و تاریک بھکشوؤں کے رہائیشی کمرے، اونچے لمبے عبادت کے ہال کمرے، بدھ کے جا بجا رکھے سٹوپے. میرے میزبان کے مطابق اس خانقاہ کی بنیاد سینکڑوں سال پہلے رکھی گئ تھی. وقت گزرنے کے ساتھ اور موسموں کی سختی کی وجہ سے آہستہ آہستہ ویران ہوتی چلی گئ. جب میں نے اس سے پوچھا کے وہ خانقاہ ہر ایک کو نظر کیوں نہیں آتی تو اس نے ہنس کر بات ٹال دی

 

رات کے کھانے کے بعد آتشدان کے سامنے بیٹھ کر قہوے کی چسکیاں لینی شروع کیں تو وقت کیسے گزرا، پتا ہی نہیں چلا. وقت کا احساس تب ہوا جب میرے میزبان نے اچانک کہا

‘تم مزید کچھ پوچھنا چاہتے ہوتو پوچھ لو. تھوڑی دیر میں صبح ہونے والی ہے اور تمھیں واپس جانا ہوگا’

.وہ کیوں بھلا؟’ میں نے چونک کر پوچھا’

وقت کے ساتھ بس ایک خاص حد تک ہی کھیلا جا سکتا ہے.’ اس نے کھڑکی سے باہر مغربی پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

میں نے بوڑھے میجر کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے باہر دیکھا لیکن چاندنی رات میں چمکتی برف کے علاوہ کچھ نظر نہیں آیا. خیر میں نے اخلاقاً مزید بحث مناسب نہیں سمجھی. میرے پاس بس ایک ہی سوال بچا تھا سو پیش کر دیا

‘یہ بتائیے، یہ آپ کیسے جانتے ہیں کے جو آپ یقین رکھتے ہیں یا سمجھتے ہیں، وہ ہی حقیقت ہے؟’

 

میرا میزبان کچھ دیر خاموشی سے جلتے انگارے کریدتا رہا اور پھر بولا

میں بالکل یہ نہیں سمجھتا کے جو میں سوچتا ہوں وہ ہی حقیقت ہے. علم رک جائے تو اس میں کھڑے پانی کی طرح کائی جم جاتی ہے اور سرانڈ پیدا ہوجاتی ہے. تم بس یہ سمجھ لو کے میرے جوابات تمھیں صرف، سوچ کا ایک نیا راستہ فراہم کر سکتے ہیں. حقیقت کیا ہے؟ کوئی بھی نہیں جانتا اور نا جان سکتا ہے. ہم اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق صرف اندازے لگا سکتے ہیں. میری سوچنے کے پیچھے اور جوابات تلاش کرنے کے پیچھے، نیت صرف یہ ہے کے جب میں مروں، تو علم کی تلاش کرتے ہوئے جان دوں، تاکہ اگلی نسلوں کے علم کے ارتقاء میں کوئی کڑی ادھوری نا رہ جائے

            

جاتے وقت بوڑھے میجر نے مجھے بہت محبت سے رخصت کیا. خانقاہ کے دروازے پر رک کرکہنے لگا

میرا دوست تمھارے ساتھ شیوسر تک جائے گا. اپنا خیال رکھنا. اور جب کسی ایسے انسان سے ملاقات ہو جس کو جوابات کی تلاش ہو تو یہاں میرے پاس بھیج دینا

.یہ خانقاہ کسی کو نظر آ ئے گی، تو وہ یہاں پوھنچے گا نا.’ میں نے مسکراتے ہوئے کہا’

‘تم فکر نا کرو. جس کو صحیح معنوں میں علم کی تلاش ہوگی، اسکو یہ خانقاہ ضروردکھائی دے گی’

 

جب میں نے سنہرے فینکس کی ہمراہی میں خانقاہ کی سیڑھیاں اترنی شروع کیں تو افق پر اجالا پھیل رہا تھا. میں نے دو عجیب باتیں محسوس کیں. ایک تو واپسی کا سفر بالکل بھی تھکا دینے والا نہیں تھا. دوسرا، میں جب تک شیوسر کے کنارے اپنے کیمپ تک نہیں پوھنچا، افق پر اجالا تو پھیلا رہا مگر سورج نے سر نہیں نکالا

___________________________________

 جب میں کیمپ پہنچا تو حسب توقع سب سوئے ہوئے تھے. میں نے معین کے ٹینٹ کا پردہ سائیڈ پر کیا اور اس کو جھنجوڑ کر اٹھایا. اس نے اٹھتے ہی آنکھیں ملتے ہوئے کہا

‘یار کیا مصیبت ہے؟ کیوں اٹھایا ہے؟ میں نے کونسا نوکری پر جانا ہے؟’

.یار دیکھ تو سہی کون آیا ہے؟’ میں نے اسکا کندھا دباتے ہوئے کہا’

کون آیا ہے؟’ اس نے پوری آنکھیں پھاڑ کر پہلے ادھر ادھر دیکھا اور پھر میرے کندھے کے اوپر سے باہر دیکھنے کی کوشش کی

.یار میں آ گیا ہوں بخیریت واپس. اور کس نے آنا ہے بھلا؟’ میں نے بھنا کر کہا’

تمہارا دماغ تو درست ہے؟ تم کہاں گئے تھے؟ یہیں پر تو تھے.’ اس نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی نشہ کر رکھا ہو

.او ئےتمھیں میری کوئی فکر نہیں تھی کے دو دن سے کہاں غائب ہوں؟’ میں نے سمجھا کے وہ مزاق کر رہا ہے’

دو دن سے؟’ معین نے سر کھجاتے ہوئے کہا. ‘یار ابھی کل رات ہی تو سوئے تھے، آج صبح خرمنگ جانے کا پلان بنا کر. یہ بیچ میں تم نے دو دن کہاں سے نکال لئے؟

 اتنے میں ہماری بات چیت کا شور سن کر باقی لوگ بھی اکٹھے ہوگئے. جب ان سب نے بھی معین کی بات کی تصدیق کی تو میرا دماغ گھوم گیا

یار مجھ سے قسم لے لو، پرسوں صبح کیمپ سے چلا تھا. دو راتیں اور کل کا سارا دن میجر صاحب کے ساتھ خانقاہ میں گزارا اور آج صبح واپسی کے لئے چل پڑا

.خانقاہ؟ تجھے مل گئ وہ خانقاہ؟ کہاں ہے وہ؟’ معین نے حیرت سے پوچھا’

‘ہاں بالکل. باہر آؤ میں تمھیں دکھاتا ہوں’

میں ان سب کو لیکر کیمپ سے باہر آیا اور چٹان پر چڑھ کر خانقاہ کو دیکھنے کی کوشش کی. مگر کہاں صاحب. نا وہ خانقاہ نظر آئ اور نا ہی وہ پہاڑ جس پر خانقاہ واقع تھی

 

کافی دیر کی بحث کے بعد معین کو میری کہانی پر کچھ کچھ یقین تو آ گیا لیکن آج تک ہم دونوں اس مسلئے کا حل نہیں تلاش کر سکے کے جو دو دن اور دو راتیں، میں نے سفر میں اور خانقاہ پر گزارے، وہ بیچ میں سے کہاں =غائب ہو گئے

 

­_____________________________

 

جائیے آپ بھی کوشش کریں، خانقاہ تلاش کرنے کی. مجھے یقین ہے کے اگر آپ واقعی علم کے متلاشی ہیں، تو ایک دن وہ دیوسائی کی وہ قدیم خانقاہ تلاش کرنے میں، ضرور کامیاب ہو جایئں گے. بس جب کامیاب ہو جایئں اور وہاں پوھنچ جایئں، تو میجر صاحب کو میرا سلام پیش کیجئے گا

  

12 thoughts on “غبارے، دیوسائی اور بوڑھا میجر

  1. Reading this story…. the meaning of “ignorance is bliss” really dawned upon me in its entirety…. yet I am also now inclined to think and question myself…. “Is it really”…!!

    Love the Anology:

    “غبارے خوشیاں ، گیس امید اور دھاگہ زندگی کی ڈور ”

    !!!واہ۔۔۔

    Liked by 1 person

  2. اندازتحریر اتنیا حقیقی کہ کہانی سے زیادہ سفرنامے کا گمان ہوتا ہے۔بہترین اور گہرا فلسفہ “آگہی صرف اُداسی ہے ” آگہی کی چھری بڑی تیز ہوتی ہے “، کہان جانا ہے اور کب جانا ہے یہ تمہارے ہاتھ میں نہین ہے ” ۔ ۔ ۔

    Liked by 1 person

  3. Great writing. Although I found a few spelling issues here and there, mentioning so these can be corrected.
    Another great story. I think each journey is to find the truth about the creator. At least for some. As God Said or words to the effect “I was a Hidden Treasure, Waiting to be Found”. I wish some of these stories are made into good quality Dramas. As works like these came from Ishfaq Ahmed Sahib, although on a more traditional note. Do revisit his main dramas , they are true classics and I think a bit unconscious back drop to your writing style.
    Happy writing sir. A good story came after some long awaited time.

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s