نندیا پورکی رانی

glitter-oxcnpxo-flickr-cc-by-2-0

.امّاں؟’ ہتھیلی پر رکھی افشاں کو پھونک مار کر اڑاتے، رانی نے پوچھا’

.جی، امّاں کی جان……اب کیا ہے؟’ عایشہ نے مسکراتے ہوئے، رانی کی طرف دیکھ کر پوچھا’

امّاں میرا دل کرتا ہے، اتنی ڈھیر ساری افشاں ہو میرے آس پاس.’ رانی نے دونوں ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا. ‘اتنی افشاں ہو، اتنی افشاں ہو کے ہر طرف بکھری پڑی ہو اور میں اس میں، دوڑتی چلی جاؤں. میرے پاؤں کے نیچے افشاں، دھول کی طرح اڑتی جائے اور ہر طرف پھیل جائے

تم بھی عجیب لڑکی ہو رانی.’ عایشہ نے ہنس کر رانی کی پیشانی چومتے ہوئے کہا. ‘بھلا افشاں بھی کوئی کھیلنے کی چیز ہے؟

نہیں امّاں، مجھے بس ہوا میں اڑتی چمکتی، افشاں اچھی لگتی ہے. ایسا لگتا ہے کے میں خواب دیکھ رہی ہوں.’ رانی نے احتیاط سے افشاں کی شیشی، اپنی گڑیا کے چھوٹے سے صندوقچے میں رکھتے ہوئے کہا

اچھا پھر ایسا کرو، تم جلدی سے نندیا پور چلی جاؤ. وہاں افشاں ہی افشاں ہوگی. آسمان پر، زمین پر، ہر جگہ. وہاں خوب کھیلنا اور صبح سویرے، میرے پاس واپس آ جانا.’ عایشہ نے رانی کے بالوں میں کنگھی پھیرتے ہوئے کہا

واقعی امّاں، نندیا پور میں اتنی ڈھیر ساری افشاں ہوگی؟’ رانی نے معصومیت سے پوچھا اور پھر ماں کے اثبات میں سر ہلانے پر پوچھنے لگی: ‘کیسے جاتے ہیں نندیا پور؟ مجھے بھی بھیج دو نا ماں

بہت آسان ہے نندیا پور جانا.’ عایشہ نے بستر پر رانی کو پیار سے لٹاتے ہوئے کہا. ‘بس اب میری گڑیا آنکھیں بند کر لے. تھوڑی دیر میں نندیا پور پہنچ جائے گی

یہ سننا تھا کے رانی نے جھٹ سے آنکھیں بند کر لیں. مگر تھوڑی دیر بعد ہی، بند آنکھوں کے ساتھ کہنے لگی

‘امّاں، کیا ابّو بھی نندیا پور میں ہوں گے؟’

تھوڑی دیر تو عایشہ، ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ، بستر پر لیٹی رانی کی طرف دیکھتی رہی

‘بتاؤ نا امّاں، کیا میں نندیا پور میں، ابّو سے بھی ملوں گی؟’

‘ہاں، تمھارے ابّو بھی وہیں کہیں ہونگے. بس ان کے کندھوں پر بیٹھ کر، افشاں کا میلہ دیکھتی رہنا’

میرا نام بابر خان ہے اور پاکستان کے شمال میں پرفضاء مقامات پر، چھوٹے چھوٹے ہوٹل کھولنا میرا مشغلہ اور پیشہ دونوں ہے. یہ ان دنوں کی بات ہے جن دنوں میں، خانس پور میں ایک زمین کا ٹکڑا دیکھنے گیا ہوا تھا، جو قریب واقع گاؤں کے قبرستان سے منسلک تھی. زمین دیکھ کر میں نے علاقہ پٹواری اور اپنے میزبان سے اجازت لی. ابھی واپسی کیلئے گاڑی کا دروازہ کھولا ہی تھا کے، قریب قبرستان میں ایک عورت جو کے ایک چھوٹی سی قبر کے سرہانے کھڑی تھی، پر نظر پڑی. پتا نہیں، اس میں ایسی کیا چیز تھی کے میں نے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور اس جانب بڑھ گیا

میں تھوڑا قریب گیا تو دیکھا کے قبر کسی بچی کی تھی. ننھے سے کتبے پر صرف اتنا لکھا تھا: ‘رانی ولد شاہد علی، ساکن نندیا پور‘. میں خاصا حیران ہوا کیونکہ قریب کے گاؤں کا نام کھنہ تھا اور میں اس پورے علاقے سے اچھی طرح واقف تھا. دور دور تک، نندیا پور نامی کوئی گاؤں نہیں تھا. پھر وہ خاموش کھڑی عورت بھی کچھ عجیب سی تھی. جواں سال تھی، تقریباً پینتیس یا چالیس سال کی ہوگی. گہرا سانولا رنگ اور چہرے پر چیچک کے گہرے داغ. اس نے جون کے اس گرم مہینے میں بھی دو چار بھاری بھرکم کمبل لپیٹ رکھے تھے؛ اور یوں کانپ رہی تھی کے جیسے، برف پڑ رہی ہو. مانتا ہوں کے پہاڑی علاقہ ہونے کی سبب، موسم خاصا خوشگوار تھا، لیکن اتنا ٹھنڈا بھی نہیں تھا کے اتنے سارے کمبل لپیٹے جاتے

میرے دیکھتے ہی دیکھتے، اس عورت نے کمبلوں میں سے ایک چھوٹی سی شیشی نکالی اور پھر اس کا ننھا سا ڈھکن کھول کر، قبر پر افشاں بکھیردی. پھر اس نے پھونکیں مار مار کر افشاں ہوا میں اڑائ اورافشاں کے ہوا میں اڑتے، دھوپ میں چمکتے ذرات کو دیکھ کر اور چیخ چیخ کر، رونا شروع کر دیا

مجھے معاف کر دے رانی. مجھے معاف کر دے. دیکھ تجھے تیری ماں کا واسطہ. تجھے عایشہ اور شاہد کا واسطہ، مجھے معاف کر دے

وہ روتی جاتی اور چیختی جاتی. پھر اس نے ایک ایک کر کے کمبل اتارنے شروع کر دیئے. غالباً سردی کی کیفیت کچھ کم ہو چلی تھی. آہستہ آہستہ وہ بے دم سی ہو کر خاموش ہوگئ اور زمین پر بیٹھ کر اپنے دوپٹے سے، قبر کی گرد جھاڑنی شروع کر دی

میں اسکی حالت دیکھ کر دوڑا دوڑا گیا اور گاڑی سے ٹھنڈے پانی کا فلاسک نکال لایا. میں نے فلاسک کے ڈھکنے میں تھوڑا سا پانی انڈیلا اور احترام سے اس عورت کی طرف بڑھایا

‘یہ پانی پی لیں، بی بی’

اس نے چونک کر میری طرف یوں دیکھا کے جیسے اسی وقت، میری موجودگی سے واقف ہوئی ہو. پھر کچھ سوچ کر فلاسک کا ڈھکنا پکڑا اور غٹاغٹ چڑھا گئ

.یہ قبر کس کی ہے بی بی؟’ اسکی حالت تھوڑی درست ہوئی تو میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا’

.کیا کرو گے پوچھ کر؟’ اس نے پھر سے قبر جھاڑتے ہوئے پوچھا’

مجھے کچھ عجیب سا لگا آپ کا یوں چیخنا. پھر آپ نے کمبل بھی لپیٹ رکھے تھے اور پھر افشاں………میں کچھ سمجھ نہیں سکا

وہ تھوڑی دیر خاموش رہی اور پھر اشارے سے مزید پانی مانگا. میں نے پورا فلاسک ہی تھما دیا. اس نے آرام سے دو تین دفعہ اور پانی پیا اور پھر مجھے بیٹھنے کیلئے کہا. میں پاس ہی دوسری قبر کے پختہ چبوترے پر بیٹھ گیا

.مجھ  دوزخی کا نام نسرین ہے اور یہ قبر، میری بھانجی رانی کی ہے.’ اس نے اپنی کہانی کا آغاز کیا’

رانی صرف چار سال کی تھی اور عایشہ کی اکلوتی اولاد. بہت ہی پیاری بچی تھی. ایسی کے جسے دیکھ کر، پتھر دلوں کو بھی بےساختہ پیار آ جائے. خوب بڑی بڑی کالی آنکھیں اور گھنی پلکیں. ریشمی سیاہی مائل، بھورے بال اور گلابی گال. جب مسکراتی تھی تو دونوں گالوں میں گڑھے پڑ جاتے. ماں سارا دن بلایئں لیتی نا تھکتی تھی

رانی پوری کی پوری اپنی ماں پر گئ تھی. عایشہ کا شمار خاندان، بلکہ پورے گاؤں کی خوبصورت ترین خواتین میں ہوتا تھا. سیرت کی بھی اچھی خاصی تھی. شاید یہ ہی وجہ تھی کے دوسری بہن نسرین کے مقابلے میں، عایشہ کی شادی بھی اچھی جگہ ہوئی تھی. شاہد نتھیا گلی کے ایک بینک میں، اسسٹنٹ مینیجر تھا اور اسکی محنت، لگن اور اچھے کردار کی وجہ سے، شادی کے فوری بعد، برانچ مینیجر کے عہدے پر، ترقی بھی ہوگئ تھی

عایشہ کے مقابلے میں نسرین بہت ہی معمولی شکل و صورت کی مالک تھی. چہرے پر چیچک کے داغ تھے اور رنگت بھی بہت گہری تھی. خیر شکل و صورت تو خدا کی بنائی چیز ہوتی ہے، نسرین کی عادتیں بھی بہت خراب تھیں. جہاں عایشہ بیحد خوش اخلاق، ملنسار اور سلیقہ مند تھی، وہاں نسرین اتنی ہی بد تمیز، منہ پھٹ اور پھوہڑ واقع ہوئی تھی. ماں باپ نے بڑی مشکل سے، محکمہ جنگلات کے ایک کلرک کو پھنسا کر، نسرین کو بیاہ دیا تھا. خاوند کی کم تنخواہ اور نسرین کی فضول خرچی کی عادتوں کی وجہ سے، بڑی مشکل سے گزارا چلتا تھا

خیر خوش قسمت تو عایشہ بھی ثابت نہیں ہوئی تھی. رانی کی پیدائش کے تین سال بعد ہی، شاہد کو اچانک دل کا دورہ پڑا اور اس سے پہلے کے اسے ہسپتال لے جایا جاتا، اس کا انتقال ہوگیا. موت کہاں جوانی اور بڑھاپا دیکھتی ہے. وہ تو بینک کی نوکری تھی اور شاہد کے تعلقات بھی، بینک کے وائس پریذیڈنٹ کے ساتھ اچھے تھے. شاہد کے انتقال کے بعد بینک والوں نے نا صرف، کافی مالی امداد کی بلکہ عایشہ کو اکاؤنٹنٹ کی نوکری بھی دے دی تھی. پھر جس گھر میں رہتے تھے، وہ شاہد کے اپنے ماں باپ کا چھوڑا ہوا تھا اور شاہد اکلوتی اولاد تھا

عایشہ کی بےوقت بیوگی کے باوجود، نسرین کی جلن کچھ کم نہیں ہوئی تھی. حسد کی ابتدا تو اسی دن ہوگئ تھی جس دن، ماں کی ساری توجوہ عایشہ کے پیدا ہوتے ہی، ننھی سی جان پر مرکوز ہوگئ تھی. پھر نسرین کے مقابلے میں عایشہ تھی بھی بہت خوبصورت. گھر میں آتے جاتے لوگ، مہمان وغیرہ نسرین کے سر پر تو ہاتھ پھیر کر ایک طرف کر دیتے اور عایشہ کو گود میں بٹھا لیتے. پھر عایشہ کی شادی بھی اچھی جگہ ہوگئ اور نا بھی ہوتی تو بھی، نسرین کی عادت صبر کرنے کی نہیں تھی. عایشہ اسکو بہت سمجھاتی کے خاوند کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور کفایت شعاری سے گھر کا خرچہ چلائے مگروہ کہاں سنتی تھی.

شاہد کے چالیسویں پر تو غضب ہی ہوگیا جب، نسرین نے ساری عورتوں کے درمیان بیٹھے کہا

تیری قسمت بہت اچھی ہے عایشہ. دیکھ کیسے، بیٹھے بٹھاہے بنا بنایا گھر، ہاتھ آ گیا اور بینک نے پیسا بھی ڈھیر سارا دے دیا

اری کیسی بیہودہ باتیں کرتی ہے نسرین؟’ اسکی ماں نے اسے ٹوکا. ‘کیسی خوش قسمتی؟ بیوہ ہوگئ ہے بہن تیری اور تو بیٹھی بکواس کر رہی ہے کے اچھا ہوا؟

تو کچھ نہیں جانتی امّاں. بس چپکی بیٹھی رہ.’ نسرین نے تنک کر کہا. ‘ایک میرا میاں ہے کے مرتا ہی نہیں. مر بھی گیا تو کونسا میری عید ہوجائے گی؟ معمولی کلرک ہے. ایک دھیلا نہیں ملنا، جنگلات والوں سے

اب نسرین سے کون ماتھا لڑاتا. سب عورتیں منہ پر ہاتھ رکھے، ایک دوسرے کی طرف دیکھتی کی دیکھتی رہ گیئں

شاہد کے انتقال کے بعد عایشہ نے بیشمار رشتے آنے کے باوجود، دوسری شادی سے انکار کر دیا. وہ خوب جانتی تھی کے ایک تو، رشتے کی خواہش کرنے والے، اس میں کم اور اسکی جائداد میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے. دوسرا اس کو پتہ تھا کے دوسری شادی کے چکّر میں، رانی رگڑی جائے گی. اور رانی میں اسکا دل تھا. ایک ہی بچی تھی اسکی اور اس ایک بچی میں، عایشہ کی پوری کائنات چھپی تھی

ماں کا بیٹی کے بغیر اور بیٹی کا ماں کو دیکھے بغیر، دل نہیں لگتا تھا. پتہ نہیں کس دل کے ساتھ، سارا دن نانا نانی کے گھر میں رہ کر، ماں کی بینک سے واپسی کا انتظار کرتی. اور پھر ماں کو دیکھتے ہی ایسے اس کے گلے سے جا چمٹتی کے جیسے، صدیوں سے ملاقات نا ہوئی ہو. دیکھنے والے ماں بیٹی کا پیار دیکھتے اور خوش بھی ہوتے اور حیران بھی

رانی تھی بہت صابر و شاکر بچی. سہیلیوں اور ہمجولیوں کے باپوں کو دیکھ کر، ماں سے باپ کے بارے میں پوچھتی ضرور اور ابھی ایک سال ہی تو ہوا تھا. کچھ نا کچھ، باپ کی شکل ذہن میں ضرور تھی. خاص طور پر، باپ کا اپنے کندھوں پر بٹھا کر ساری دنیا میں گھومتے پھرنا، اس کو اچھی طرح سے یاد تھا

امّاں، ابّو ہمیں چھوڑ کر کیوں چلے گئے؟’ کبھی کبھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر ماں سے پوچھ ہی بیٹھتی

‘چھوڑ کر نہیں گئے میری بنو.’ ماں گلے سے لگا کر جواب دیتی. ‘بس الله میاں نے اپنے پاس بلا لیا’

‘امّاں!’ وہ معصوم، ماں کی گردن میں سر گھساتی بولتی. ‘مجھے ابّو بہت یاد آتے ہیں’

‘ہاں بیٹی، مجھے بھی تیرے ابّو بہت یاد آتے ہیں’

یونہی وقت گزرتا گیا، شاہد کے انتقال کو دو سال ہو چلے تھے. رانی نے اب اسکول جانا شروع کر دیا تھا. تھوڑی سمجھدار بھی ہوگئ تھی، لیکن افشاں کے ساتھ اس کا لگاؤ، ویسے کا ویسا تھا. پتہ نہیں کہاں کہاں سے، رنگ برنگی اور چمکیلی افشاں کی چھوٹی چھوٹی شیشیاں، جمع کرتی. پھر پھونکیں مار مار کر، ہوا میں اڑاتی اور دیکھ کر تالیاں بجاتی. اور کبھی کبھی، ہوا میں اڑتی افشاں کو دیکھ کر، چپ سی ہوجاتی

.کیوں کیا ہوا رانی؟ اداس کیوں ہوگئ ایک دم سے؟’ ماں گھبرا کر پوچھتی’

امّاں، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کے چمکتے ذروں کے پیچھے سے، ابّو مجھے دیکھ دیکھ کر مسکرا رہے ہوں. لیکن جب میں غور سے انکی شکل دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں، تو وہ غائب ہوجاتے ہیں

ہاں تو ٹھیک ہے نا. تیرے ابّو کی روح تجھے خوش دیکھ کر خوش ہوتی ہے.’ عائشہ اپنے آنسو چھپاتے ہوئے کہنے لگی

.امّاں؟’ ہتھیلی پر رکھی افشاں کو پھونک مار کر اڑاتے، ایک دن رانی نے پوچھا’

.جی، امّاں کی جان……اب کیا ہے؟’ عایشہ نے مسکراتے ہوئے رانی کی طرف دیکھ کر پوچھا’

امّاں میرا دل کرتا ہے، اتنی ڈھیر ساری افشاں ہو میرے آس پاس.’ رانی نے دونوں ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا. ‘اتنی افشاں ہو، اتنی افشاں ہو کے ہر طرف بکھری پڑی ہو؛ اور میں اس میں دوڑتی چلی جاؤں. میرے پاؤں کے نیچے افشاں، دھول کی طرح اڑتی جائے اور ہر طرف پھیل جائے

تم بھی عجیب لڑکی ہو رانی.’ عایشہ نے ہنس کر رانی کی پیشانی چومتے ہوئے کہا. ‘بھلا افشاں بھی کوئی کھیلنے کی چیز ہے؟

نہیں امّاں، مجھے بس ہوا میں اڑتی چمکتی، افشاں اچھی لگتی ہے. ایسا لگتا ہے کے میں خواب دیکھ رہی ہوں.’ رانی نے احتیاط سے، افشاں کی شیشی، اپنی گڑیا کے چھوٹے سے صندوقچے میں، رکھتے ہوئے کہا

اچھا پھر ایسا کرو، تم جلدی سے نندیا پور چلی جاؤ. وہاں افشاں ہی افشاں ہوگی. آسمان پر، زمین پر، ہر جگہ. وہاں خوب کھیلنا اور صبح سویرے میرے پاس، واپس آ جانا.’ عایشہ نے رانی کے بالوں میں کنگھی پھیرتے ہوئے کہا

واقعی امّاں، نندیا پور میں اتنی ڈھیر ساری افشاں ہوگی؟’ رانی نے معصومیت سے پوچھا اور پھر ماں کے اثبات میں سر ہلانے پر، پوچھنے لگی: ‘کیسے جاتے ہیں نندیا پور؟ مجھے بھی بھیج دو نا ماں

بہت آسان ہے نندیا پور جانا.’ عایشہ نے بستر پر رانی کو پیار سے لٹاتے ہوئے کہا. ‘بس اب میری گڑیا آنکھیں بند کر لے. تھوڑی دیر میں نندیا پور پہنچ جائے گی

یہ سننا تھا کے رانی نے، جھٹ سے آنکھیں بند کر لیں. مگر تھوڑی دیر بعد ہی، بند آنکھوں کے ساتھ کہنے لگی

‘امّاں، کیا ابّو بھی نندیا پور میں ہونگے؟’

تھوڑی دیر تو عایشہ ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ، بستر پر لیٹی رانی کی طرف دیکھتی رہی

‘بتاؤ نا امّاں، کیا میں نندیا پور میں، ابّو سے بھی ملوں گی؟’

‘ہاں، تمھارے ابّو بھی وہیں کہیں ہونگے. بس ان کے کندھوں پر بیٹھ کر، افشاں کا میلہ دیکھتی رہنا’

دوسری صبح جب عایشہ نے اٹھایا تو، رانی بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئ اور ماں کی طرف دیکھ کر، مسکرانے لگی

‘کیوں کیا بات ہے؟ آج تو میری گڑیا ماشاءاللہ، صبح ہی صبح مسکرا رہی ہے’

امّاں، رات کو میں نندیا پور گئ تھی. وہاں جیسے تو نے بتایا تھا، ہر طرف افشاں ہی افشاں پھیلی ہوئی تھی. اورپتہ ہے کیا امّاں؟ مجھے ابّو بھی ملے تھے. انہوں نے مجھے کندھوں پر بٹھا کر خوب سیر کروائی اور یہ بھی بتایا کے، میں نندیا پور کی رانی ہوں. پھر ہم دونوں نے مل کر خوب افشاں اڑائ.’ رانی نے آنکھیں ملتے ہوئے بتایا

واہ بھائی، بڑی سیریں ہوتی رہیں نندیا پور کی اور وہ بھی ابّو کے ساتھ.’ عائشہ نے مسکراتے ہوئے بستر درست کیا

امّاں، کیا ایسے نہیں ہوسکتا کے میں، ہمیشہ کیلئے نندیا پور چلی جاؤں؟’ رانی نے معصومیت سے پوچھا تو عائشہ نے دل پکڑ لیا

نہیں میرے بچے. ایسے نہیں کہتے. تو اگر وہاں چلی گئ تو تیری ماں کا کیا بنے گا؟’ عائشہ نے رانی کو گود میں سمیٹتے ہوئے کہا

لیکن امّاں، میرا دل کرتا ہے، ہمیشہ ابّو کے پاس رہوں. آپ بھی چلیں نا میرے ساتھ.’ رانی نے منہ بسورتے ہوئے کہا

ایسا نہیں کہتے بیٹے.’ عائشہ نے بمشکل آنسو روکتے ہوئے کہا. ‘اچھا ایسا کرو، جب کبھی ابّو سے ملنے کا دل چاہے، آنکھیں بند کر لیا کرو اور تھوڑی دیر کیلئے، نندیا پور چلی جایا کرو.میں بھی تو ایسا ہی کرتی ہوں. جب کبھی تمھارے ابّو سے ملنے کا دل کرتا ہے، آنکھیں بند کرتی ہوں اور نندیا پور جا کر مل آتی ہوں

‘سچ امّاں؟’

‘ہاں رانی، بالکل سچ’

پھر ایک دن رانی کی خوشیوں کو نظر لگ گئ. بینک سے واپسی پر، سڑک کراس کرتے ہوئے، عایشہ ایک تیز رفتار ویگن کے نیچے آ گئ اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر، غریب نے وہیں سڑک کنارے، جان دے دی. پہلے تو رانی کو کچھ سمجھ نا آئ کے یک بیک، اسکی اتنا لاڈ پیار کرنے والی ماں، کہاں غائب ہوگئ. پھر جب کچھ کچھ سمجھ آئ کے ماں بھی، باپ کے پاس چلی گئ ہے تو اس نے حقیقت سے سمجھوتہ کرنے سے، صاف انکار کر دیا

رانی کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی تھی. سارا دن یا تو روتی رہتی یا پھر، پورے گاؤں میں ماں کو ڈھونڈتی رہتی. کئ دفعہ تو بوڑھی نانی، اسے گاؤں کے بس اسٹاپ سے، گھسیٹ کر واپس لاتی، جہاں کھڑے ہو کر وہ، ماں کا انتظار کرتی رہتی. آہستہ آہستہ حالات، بوڑھے نانا نانی کے بس سے باہر ہوگئے تو انہوں نے، رانی کو نسرین کے حوالے کر دیا. نسرین تو کب سے موقعہ کی تلاش میں تھی. اس نے فٹ اپنا کرائے کا گھر خالی کیا اور رانی کو لیکر، عایشہ کے مکان میں منتقل ہوگئ

کہنے کو تو نسرین، رانی کی سگی خالہ تھی مگر، سلوک زیادہ تر، سوتیلی ماؤں سے بھی بدتر رہتا تھا. اس کو رانی کی معصوم شکل میں، عائشہ نظر آتی. اور بہن کا سارا جلاپہ وہ، معصوم بچی پر نکالتی. پھر رانی کی اپنی حالت ایسی تھی کے وہ خالہ کو بالکل بھی، ماں کا درجہ دینے کیلئے تیّار نہیں تھی. ویسے بھی خالہ نے کبھی اس سے، ماں کی زندگی میں بھی، پیار کا سلوک نہیں کیا تھا. ہمیشہ اس کو دیکھ کر ناک بھوں ہی چڑائی تھی

خالہ میری ماں کی چیزوں کو ہاتھ مت لگاؤ.’ جب نسرین عائشہ کی چیزوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی یا استمعال کرتی تو رانی کو غصّہ چڑھتا

.کیوں نا ہاتھ لگاؤں؟ کمبخت وہ تو چلی گئ، تجھے بھی کیوں نا ساتھ لے گئ؟’ نسرین تپ کر جواب دیتی’

کبھی کبھی، دل کے کسی کونے کھدرے میں دبا پیار، باہر بھی آ جاتا تو رانی اس پیار کو، قبول کرنے سے، صاف انکار کر دیتی. بچی کو بیشک پیار محبت کی ضرورت تھی مگر، نسرین میں نا ہی اتنا حوصلہ تھا نا ہی اتنا صبر. پھرغصّے کی بھی بہت تیز تھی. پیار کی ہر کوشش کا اختتام بھی، مار پر ہی ہونے لگا

جب رانی کو دن رات خالہ سے مار پڑنے لگی تو معصوم بچی آہستہ آہستہ، خاموش رہنا شروع ہوگئ. ایک دن نسرین رانی کو آوازیں دیتی رہی مگر جواب میں بلکل خاموشی تھی. ڈھونڈتے ڈھونڈتے چھت پر پہنچی تو دیکھا کے، رانی ہتھیلی پر افشاں لئے، پھونکیں مار مار کر اڑا رہی تھی اور اپنی ہی کسی الگ دنیا میں گم تھی

کمبخت! بہری ہوئی ہے کیا؟ کتنی دیر سے آوازیں دے رہی ہوں. سارے برتن گندے پڑے ہیں اور نواب زادی یہاں، افشاں سے کھیل رہی ہے.’ نسرین نے رانی کی مختصر سی گت پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے کہا

.میں یہاں تھی ہی نہیں جو تمھاری آواز سنتی.’ رانی نے سرد لہجے میں کہا’

‘اری یہاں نہیں تھی تو کیا، ولایت گئ تھی؟ میں خوب جانتی ہوں تیرے بہانے حرام خور’

.میں نندیا پور گئ تھی.’ رانی نے بدستور اسی سرد لہجے میں جواب دیا تو نسرین مزید بپھر گئ’

‘ارے کونسا نندیا پور؟ کہاں کا نندیا پور؟ اور کونسا یار رہتا ہے تیرا نندیا پور میں؟’

نندیا پور میں میرے امی ابّو رہتے ہیں. میں ان سے ملنے جاتی ہوں. اور جا کر خوب تمھاری شکایت لگاتی ہوں.’ رانی نے معصومیت بھرے یقین سے کہا

اس دن تو رانی کو خالہ سے اتنی مار پڑی کے محلے والیاں گھر کے آگے جمع ہوگیئں

نسرین کوئی خدا کا خوف کر. یتیم بچی پر اتنا ظلم؟’ خالہ نصیب نے سمجھانے کی کوشش کی تو نسرین نے سنی ان سنی کر دی

شرم کر نسرین، جس کے گھر پر قبضہ کر کے بیٹھی ہے، کم از کم اس کی اولاد سے تو اچھا سلوک کر.’ ایک اور پڑوسن نے کہا تو نسرین ہتھے سے اکھڑگئ

تم لوگ اپنے کام سے کام رکھو. زیادہ ترس آ رہا ہے تو گھر لے جاؤ اپنے. دو دن پالو گے تو سمجھ ٹھکانے آ جائے گی ساری. بچی نہیں ہے یہ، ڈائن ہے ڈائن. ایک دن کلیجہ چبا جائے گی میرا

اس دن نسرین کا خاوند واپس گھر آیا تو وہ بھی، رانی کے چہرے پر، زخم اور نیل دیکھ کر پریشان ہوگیا

‘الله سے ڈرو نسرین. معصوم بچی پر ظلم نا کرو’

تم اپنے کام سے کام رکھو جی. زیادہ ٹھیکیدار بننے کی کوشش نا کرو.’ نسرین نے تیوری چڑھا کر جواب دیا تو وہ بیچارہ بھی، خاموش ہوگیا

ہوتے ہوتے سردیوں کے دن آن پہنچے. پہاڑی علاقے کی سردیاں یوں بھی بہت شدید ہوتی ہیں. اس دن تو حد ہی ہوگئ. صبح سے لگاتار برف گر رہی تھی. موسم بہت خراب تھا. نسرین کے خاوند نے، صبح دفتر جاتے ہوئے ہی بتا دیا تھا کے موسم خراب ہوا تو وہ وہیں، ڈاک بنگلے میں رات گزار لے گا؛ اور گھر واپس نہیں آئے گا. رانی بھی، دوپہر کے بعد سے غائب تھی. نسرین تو کوئی خاص گرم کپڑے پہناتی نہیں تھی. پھر اسقدر شدید سردی میں، ٹھنڈے پانی سے برتن کپڑے دھونا بھی بہت مشکل تھا. لہٰذا رانی اپنی ایک سہیلی کے گھر، چھپی بیٹھی تھی. نسرین پوچھتے پوچھتے اس گھر تک بھی گئ، لیکن سہیلی کی ماں نے رانی کی حالت پر ترس کھا کر، نسرین کو نہیں بتایا

رات بھیگنے تک نسرین کا پارہ آسمان سے باتیں کر رہا تھا. ناشتے اور کھانے کے سارے برتن، گندے پڑے تھے. پھر اسکو اپنی پڑوسنوں کے اوپر بھی شدید غصّہ تھا. اچھی طرح جانتی تھی کے ان میں ہی سے کسی نے، رانی کو چھپایا ہوا تھا

آنے دو آج نواب زادی کو. میں سکھاؤں گی اسے کام چوری.’ اس نے غصّے میں جلتے ہوئے سوچا اور دل ہی دل میں، رانی کیلئے مناسب سزا کا منصوبہ بناتی رہی

باہر کا دروازہ کھڑکنے کی آواز آئ تو نسرین بھوکے چیتے کی طرح، باہر لپکی. دیکھا تو بیچاری رانی دبے پاؤں اندر آ رہی تھی. نسرین نے اس معصوم کو تو دھکّا دے کر دیوار سے دے مارا اور تیزی کے ساتھ بڑھ کر، باہر کے دروازے کو اندر سے تالا لگا دیا

کمبخت میں دیکھتی ہوں آج کے تو پھر باہر کیسے جاتی ہے. جب تک سارے برتن دھو نہیں لیتی، اندر آنے کا نام نہیں لینا.’ یہ کہ کر، نسرین نے دو زوردار چانٹے، رانی کے معصوم گالوں پر مارے اور اسے بالوں سے پکڑ کر، گھسیٹتے ہوئے، گندے برتنوں کے ڈھیر کے پاس لے جا مارا. پھر کمرے میں گئ اور اندر سے کنڈی لگا لی

تھوڑی دیر باہر سے، رانی کے رونے سسکنے کی آوازیں آتی رہیں

خالہ دروازہ کھولو. باہر بہت سردی ہے.’ تھوڑی دیر کے بعد باہر سے رانی کی آنسوؤں سے لبریز آواز گونجی

‘کمبخت کہا جو ہے کے پہلے برتن دھو سارے، پھر اندر آنے دوں گی’

خالہ سارا پانی برف بنا پڑا ہے. مجھے چولہا جلانا بھی نہیں آتا. کیسے دھؤں برتن؟’ رانی نے تقریباً گڑگڑاتے ہوئے کہا

.یہ پڑوسیوں کے گھر، چھپنے سے پہلے سوچنا تھا.’ نسرین پھنکاری’

خالہ صبح دھو دوں گی. میں وعدہ کرتی ہوں، آئندہ کہیں نہیں جاؤں گی. ابھی اندر آنے دو. باہر بہت سردی ہے.’ رانی بیچاری نے پھر فریاد کی

ایک لمحے کو نسرین کا دل نرم پڑا مگر پھر، اس نے رضائی کے سوراخ سے روئی کھینچ کر نکالی اور کانوں میں گھسا کر، سر لپیٹ کر لیٹ گئ. جانے کب آنکھ لگ گئ، اس کو پتہ ہی نہیں چلا

بیچاری رانی، اپنے نیلے ہوتے ہاتھوں سے بہت دیر دروازہ بجاتی رہی. آخر اس کو احساس ہوگیا  کے خالہ دروازہ نہیں کھولے گی. پھر اسکے ننھے ننھے ہاتھوں میں، درد بھی بہت ہورہا تھا. وہ جا کر صحن کے ایک کونے، میں دیوار سے لگ کر بیٹھ گئ. بہت شدید سردی تھی. پورا صحن برف سے بھرا پڑا تھا. وہ بیٹھی کانپتی رہی اور ہاتھ ملتی رہی. پھر کچھ خیال آیا تو چادر کے کونے سے بندھی، افشاں کی شیشی کھول لی. ہتھیلی پر افشاں ڈالی اور ہلکی سی پھونک مار کر ہوا میں اڑا دیا. پورے چاند کی سفید ٹھنڈی روشنی میں، چمکدار ذرے رقص کرنے لگے. ابھی ماں باپ کے دھندلے چہرے نظر ہی آئے تھے کے، تیز برفانی ہوا افشاں کو اڑا کر لے گئ

بیچاری رانی نے پھر سے ہتھیلی پر افشاں ڈالی اور پھونک مار کر اڑا دیا. آہستہ آہستہ، شیشی خالی ہوتی گئ

الله میاں! بالکل تھوڑی سی افشاں رہ گئ ہے. اب تو ہوا کو روک دیں. مجھے نندیا پور جانا ہے.’ رانی نے دونوں ہاتھ جوڑ کر دعا کی، بالکل ویسے جیسے، ماں سکھایا کرتی تھی

خدا تو خاموش رہا مگر پل بھر کو، ہوا بلکل رک گئ. بلکہ پوری کائنات پر، لمحہ بھر کو، ایک گہرا سکوت طاری ہوگیا

رانی نے بڑی احتیاط سے، بچی کچھی افشاں، ہتھیلی پر ڈالی اور بہت آہستگی سے پھونک ماری

افشاں کے چمکتے ذروں نے رقص شروع کیا اور آہستہ آہستہ، عائشہ اور شاہد کے ہیولے واضح ہوتے چلے گئے

.امّاں؟ ابّو؟’ رانی نے تیزی سے نیلے پڑتے ہونٹوں سے، بمشکل آواز نکالی’

رانی میری بچی!’ عایشہ نے آگے بڑھ کر، رانی کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیا. ‘دیکھو میں آ گئ ہوں اپنی بیٹی کے پاس

رانی نے ایک سکون بھری سانس لی. وہاں ماں کی گود میں بہت گرمی تھی. محبت بھری حرارت

 

ہوا نے ایک ہلکی سی کروٹ لی. افشاں کے ناچتے ذرات، آہستہ آہستہ، غائب ہونا شروع ہوگئے. لیکن تین ہیولے ابھی بھی، کچھ کچھ واضح تھے. ایک باپ کا ہیولہ جس کے کندھوں پر، ایک ننھی بچی سوار تھی. اور بچی کا ایک ہاتھ پکڑے، ایک ماں کا ہیولہ. سرد ہوا کے سرسراتے جھونکوں کے ساتھ، دیکھتے ہی دیکھتے، تینوں نندیا پور کے ابدی سکون میں، کہیں گم ہوگئے

.پھر کیا ہوا؟’ میں نے گیلی آنکھوں سے  نسرین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا’

پھر…..صبح اذان کی آواز کے ساتھ میری آنکھ کھلی. رانی کا خیال آیا تو جلدی سے دروازہ کھولا مگر بہت دیر ہو چکی تھی. وہ کب کی، اپنے ماں باپ کے ساتھ، نندیا پور جا چکی تھی. وہاں صحن کی سفید برف پر تو صرف، ایک اکڑا ہوا ننھا سا جسم پڑا ہوا تھا جس کے آس پاس، افشاں ہی افشاں بکھری ہوئی تھی

.اگلے دن رانی کو یہاں دفنا دیا گیا.’ نسرین نے قبر کو پیار سے سہلاتے ہوئے کہا’

.لیکن میں سمجھا نہیں. تمہارا دل کیسے پگھل گیا؟’ میں نے اس سے پوچھا’

کچھ گناہ گاروں کا، دل نہیں پگھلتا. ان کا عذاب شروع ہوتا ہے. رانی کو دفنانے کے کچھ دن بعد، میرا خاوند مجھے طلاق دے کرچلا گیا. میں نے بھی نہیں روکا. اس کے جانے کے بعد ایک رات، میں سوئی پڑی تھی جب میری آنکھ کسی کے آہستہ سے دروازہ بجانے سے، کھلی

.کون؟’ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا’

خالہ! دروازہ کھولو خالہ! باہر بہت سردی ہے.’ میں قسم کھانے کو تیّار ہوں صاحب، وہ بالکل رانی کی آواز تھی

میں ساری رات رضائی میں گھسی، ڈر کے مارے کانپتی رہی. صبح دن نکلا تو دل کڑاک کر دروازہ کھولا. باہر کوئی نہیں تھا. بس برف پر رانی کے ننگے پیروں کے نشان تھے اور دروازے کی دہلیز پر، افشاں کی یہ چھوٹی سی شیشی رکھی تھی

.پھر؟’ میں نے تاسف سے اس پاگل عورت کی طرف دیکھا’

پھر مجھے سردی لگنا شروع ہوگئ. شدید سردی. دن کی دھوپ میں سردی اور رات کی تاریکی میں سردی. سردیوں اور گرمیوں، دونوں کی دوپہروں میں سردی. اور اتنی شدید سردی، جو میری ہڈیوں کے جوڑوں میں گھس جاتی ہے. اب میں روز ایک افشاں کی شیشی لئے، رانی کی قبر پر آتی ہوں. افشاں پھونک مار کر اڑاتی ہوں اور چمکتے ذرات میں، نندیا پور تلاش کرتی ہوں. رانی کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہوں، تاکہ معافی کا کوئی راستہ نکلے. لیکن نا نندیا پور ملتا ہے، نا ہی رانی. مگر تھوڑی دیر کو سردی ختم ضرور ہوجاتی ہے

یہ کہ کر، نسرین نے اپنے کمبل دوبارہ اوڑھے اور آہستہ آہستہ، گاؤں کی طرف چل دی. میں بہت دیر وہیں کھڑا رہا اور سوچتا رہا. کیا پچھتاوا واقعی اسقدر طاقتور ہوتا ہے؟ یا پھر موت کی سرحد سے اس پار، روحیں واقعی انتقام کی طاقت رکھتی ہیں؟

میں نے رانی کی قبر پر فاتحہ پڑھی اور بوجھل قدموں سے، گاڑی میں جا بیٹھا. تھوڑا آگے جا کر، بیک ویو مرر میں جھانکا تو بہت دور، رانی کی قبر کے اوپر، افشاں کے چمکتے ذارت میں، ایک ننھی سی بچی کا ہیولہ کھڑا، مسکرا رہا تھا

9 thoughts on “نندیا پورکی رانی

  1. Well Sir, little Match Girl is always heart wrenching in all of its incarnations. Your version again brought tears. It’s time to start compiling these gems into a book for the benefit of your fans.
    Happy Writing.

    Liked by 1 person

  2. شہریار خاور صاحب ۔۔۔ آپ کو رُلانے کے علاوہ بھی کوئی کام آتا ہے ؟ اس تحریر نے نہ صرف میری آنکھوں کو بلکہ دل کوبھِیآنسوبہانے پر مجبور کردیا۔
    تحریر پڑھنے سے لیکر اب تک میں اس کے اثر سے نہیں نکل پائِ۔ آللہ کرے زورقلم اور زیادہ ۔۔۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s