اداسی کے پیغمبر

e4101303c5d75c626be7804288674a1d

میرا نام کامران اسماعیل ہے. تقریباً پینتالیس سال عمر ہے. پیدا پاکستان میں ہوا لیکن بچپن اور جوانی ساری امریکا میں گزری. ہمیشہ سے ہی نفسیات میں دلچسپی رہی. لہٰذا سائیکالوجی میں ہی ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کیا. پھر مزید دل کیا تو سائکو انالیسس یعنی تحلیل نفسی میں مہارت حاصل کی اور لگے ہاتھوں ایک ماسٹر، کرمینالوجی میں بھی کر لیا. پہلے ٹیکساس کے ایک مشہور سائیکالوجسٹ ڈاکٹر گراہم کے ساتھ پریکٹس کرتا رہا. پھر اپنا کلینک کھول لیا. جب دو چار اچھے رسالوں میں میرے مقالے شائع ہوے تو امریکن جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے مجھے اپنے ایک اسپیشل یونٹ کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی جو میں نے فوراً قبول کر لی

جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ کام کرنے کے دوران مجھے بہت سارے خطرناک مجرموں کو دیکھنے اور ان سے بات چیت کا موقع ملا. یہ وہ مجرمان تھے جن کو عرف عام میں سیریل کلر کہا جاتا ہے یعنی ایسے لوگ جو یکے بعد دیگرے قتل پر قتل کئے جاتے ہیں. ان میں سے زیادہ تر مجرموں کو عدالت، انکی ذہنی حالت مشکوک ہونے کی وجہ سے، اسپیشل جیل نما ہسپتالوں میں بھیج دیتی ہے. یہاں ڈاکٹر انکی ذہنی حالت کا معائینہ کرتے ہیں اور پھر ان ہی ڈاکٹرز کی رائے کے مطابق، ان مجرموں کی سزا یا علاج کا تعین کیا جاتا ہے. میں اسی طرح کے ایک ہسپتال میں تعیینات تھا

ان ہسپتالوں کی ایک عجیب دنیا تھی. یہاں رکھے جانے والے مجرم بیحد خطرناک تھے اور اسی وجہ سے چوبیس گھنٹے یہاں پولیس والوں کا پہرا رہتا تھا. بھانت بھانت کے مجرم آتے تھے جو عجیب و غریب ذہنی بیماریوں اور نفسیاتی مسائل کے بائث، قتل جیسے بھیانک جرائم کا ارتکاب کرتے تھے. اور پھر صرف قتل نہیں کرتے تھے. کچھ اپنے شکار معصوم انسانوں کے جسم ٹکڑے ٹکڑے کر کے تیزاب میں گلا دیتے تھے تو کچھ، انکی لاشیں کسی پبلک مقام پر پھینک دیتے تھے. اور پھر کچھ قتل کرنے کے بعد آدم خوری کی حد تک چلے جاتے تھے. غرض یہ کہ ایسا کوئی گھناؤنا جرم نہیں تھا جو میں نے اپنی تعییناتی کے دوران نا دیکھا ہو

 

یہاں ایک بات میں واضح کرتا چلوں. میرے استاد اور مربی ڈاکٹر گراہم کہا کرتے تھے کے ہر جرم کے صرف دو نہیں بلکہ بہت سارے پہلو ہوتے ہیں. اور مریض کی ذمہ داری یا جرم کے ارتکاب کی نوعیت کا تعیّن کرنے کے لئے، ان تمام پہلوؤں کا مطالعہ ضروری ہوتا ہے. یعنی ایک جرم صرف جرم نہیں ہوتا. اسکے پیچھے ایک لمبی کہانی ہوتی ہے اور وجوہات کی ایک لمبی لسٹ ہوتی ہے جو مجرم کو جرم کا مرتکب بناتی ہے

 

مَثَلاً ایک چھتیس عورتوں کا قاتل میری نظر سے گزرا. قتل کے پیچھے کوئی جنسی محرک نہیں تھا. قتل کی جانے والی خواتین کی عمر تیس اور پینتیس کے درمیان تھی اور ان سب کو بے تحاشہ تشدّد کے بعد ہلاک کیا گیا تھا. لیکن جنسی زیادتی اس تشدد کا حصّہ نہیں تھی. قاتل کو پکڑنے کے بعد عدالت نے اسکے نفسیاتی معائینہ کیلئے اسے ہمارے ہسپتال بھجوا دیا. قاتل سے بات چیت کے دوران مجھے پتا چلا کے اسکی سگی ماں اپنے کسی عاشق کی باتوں میں آ کر، گھر سے بھاگ گئ تھی. باپ نے دوسسری شادی کر لی تو سوتیلی ماں بچے پر تشدد کرنے لگ گئ. قاتل ہر عورت میں اپنی دونوں ماؤں کی شکل تلاش کرتا تھا اور جس بدقسمت عورت کی شکل تھوڑی بہت بھی اس کی سگی یا سوتیلی ماں سے ملتی تھی، وہ اس قاتل کا شکار بن جاتی تھی. اسی طرح بیشمار قاتل ایسے تھے جو کہ قتل کے نتیجے میں حاصل ہونے والے طاقت کے احساس کے نشے کے عادی تھے. ہر قتل انکے نشے کو پورا کرتا تھا

 

ایک کیس بہت دلچسپ تھا. ہیلن نامی ایک درمیانی عمر کی نرس تھی جو کہ ایک خیراتی ادارے کے قائم کردہ نرسنگ ہوم میں تعیینات تھی. دیکھنے میں ایک مشفق مگر اداس عورت لگتی تھی لیکن اس نے پچاس سے زیادہ قتل کئے تھے. تمام مقتولین نرسنگ ہوم میں مقیم، بیمار اور بوڑھے لوگ تھے جن کا دنیا میں کوئی نہیں تھا. اس نرسنگ ہوم میں مقیم لوگ زیادہ تر سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے ملے، بے گھر لوگ تھے. بظاھر ہیلن کے جرائم کے پیچھے کوئی مالی یا نفسیاتی محرک نہیں تھا. اور پھر وہ کوئی نقصان پہنچانے والی یا پر تشدد مریضہ نہیں تھی. خاصی اچھی عادات کی مالکہ تھی اور اپنی نگرانی پر مقرر عملے اور باقی لوگوں سے بہت خندہ پیشانی سے ملتی تھی. مجھے ابھی تک یاد ہے وہ دسمبر کی ایک برفانی شام تھی جب میری ہیلن سے ملاقات ہوئی

 

جب دو گارڈ ہیلن کو بازوؤں سے پکڑے میرے معائینے کے کمرے میں داخل ہوئے تو میں اسے دیکھ کر حیران سا ہوگیا. وہ تقریباً پچپن سال کی ایک درمیانے قد اور دبلے پتلے اکہرے جسم کی مالک دلکش عورت تھی. سلیقے سے سنورے سنہری بالوں میں کسی حد تک سفیدی کی آمیزش تھی. صاف ستھری سفید رنگت. نہایت نازک ہاتھ جن میں سے ایک کی لمبی پتلی انگلیوں میں لکڑی کے موٹے موٹے دانوں والی ایک تسبیح دبی تھی. گھٹنوں تک لمبا، بھورے کھردرے کپڑے کا لباس اور پاؤں میں معمولی چپل. اسکی پوری شخصیت میں سب سے زیادہ نمایاں چیز، اسکی سبز گہری آنکھیں تھیں. آنکھوں میں سکون کے سمندر پر اداسیوں کے کالے بادل منڈلاتے نظر آتے تھے

 

.تشریف رکھیے!’ میں نے گارڈز کو باہر بھیجنے کی بعد ہیلن کو نرمی سے مخاطب کیا’
مجھے لگتا ہے کے جیسے مذہب کے ساتھ آپکی خاصی گہری وابستگی ہے.’ میں نے اسکی انگلیوں میں دبی تسبیح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
اندازے مت لگاؤ ڈاکٹر.’ اس نے نرمی سے مجھے ٹوکا. ‘میں خدا پر تو یقین رہتی ہوں مگر مذہب میرے نزدیک صرف دھوکہ ہے
.تو پھر یہ تسبیح؟’ میں نے حیران ہوکر پوچھا’
یہ صندل کی لکڑی سے بنی ہے اور مجھے صندل کی خوشبو بہت پسند ہے.’ اس نے تسبیح اٹھا کر اپنے نتھنوں کے پاس لے جاتے ہوئے کہا

 

کچھ دیر کمرے میں خاموشی رہی. پھر میں نے کھنکار کر گلا صاف کیا
‘کیا میں پوچھ سکتا ہوں کے آپ نے ان پچاس لوگوں کو کیوں قتل کیا؟’
کیونکہ وہ سب بہت تکلیف میں تھے. ان میں سے کچھ کو اپنا نام تک نہیں یاد تھا. ان کے ذھن میں کوئی یاد باقی نہیں تھی. کیا تم کسی بھی یاد کے سہارے کے بغیر، زندگی گزارنے کا تصور کر سکتے ہو؟ ان میں سے کچھ اٹھ کر غسل خانے نہیں جانے سکتے تھے. ہر وقت غلاظت میں لتھڑے رہتے تھے. کیا تم ایسی غلیظ زندگی کا تصور کر سکتے ہو؟ اور ان میں سے کچھ شدید تکلیف میں تھے اور نرسنگ ہوم کے پاس اتنا پیسا نہیں تھا کے انکی تکلیف کم کرنے کیلئے مناسب مقدار میں ادویات کا بندوبست کیا جا سکتا. کیا تم ہر وقت تکلیف میں رہنا برداشت کر سکتے ہو؟

 

میں کچھ دیر اسکی بات سن کر سر جھکائے سوچتا رہا. پھر میں نے اسکی آنکھوں میں جھانک کر کسی گم گشتہ احساس جرم کو تلاش کرنے کی کوشش کی
‘میں تمھاری باتوں سے اتفاق کرتا ہوں لیکن پھر بھی قتل…….؟’
قتل نہیں احسان کہو. انکو مار ڈالنا ہی ان کے حق میں بہتر تھا. وہ سب بہت تکلیف میں تھے. میں نے تو انکی تکلیف کم کی ہے. وہ سب اب بہت سکون میں ہیں. اگر دنیا پھر بھی اسکو قتل کہتی ہے تو کہتی رہے. میرا ضمیر مطمئن ہے.’ اس کی آنکھوں میں اب بھی سکون تھا

میں کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور کھڑکی سے باہر گرتی برف دیکھنا شروع ہوگیا. مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کے مزید کیا بات کروں. پھر کچھ سوچ کر میں نے اسکی طرف دیکھا. وہ میری ہی طرف دیکھ کر نرمی سے مسکرا رہی تھی

تم نے کہا کے تمھیں خدا پر یقین ہے. کیا تم نہیں سمجھتی کے ان تمام لوگوں کو مار کر، تم نے خدا کے کام میں رکاوٹ ڈالی ہے؟ آخر پیدا کرنا اور مارنا، دونوں اسی کے کام ہیں
بیشک وہ ہی پیدا کرنے والا اور مارنے والا ہے ڈاکٹر. لیکن اسکو لوگوں کی تکلیف سے کوئی واسطہ نہیں. وہ بس ایک عظیم سائنسدان ہے اور ہم لوگ، اس سائنسدان کی تجربہ گاہ کی بھول بھلیوں میں چکّر لگاتے مجبور چوہے. وہ ایک عظیم مصور ہے اور ہم سب اس عظیم مصور کے تخیّل کی پیداوار ہیں. ہاں میں مانتی ہوں کے میں نے اس عظیم سائنسدان کے تجربے میں رکاوٹ ڈالی ہے. اسکے کچھ چوہوں کو مار ڈالا ہے. میں نے اس عظیم مصور کے تخیل کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی ہے. لیکن پھر بھی میرا ضمیر مطمئن ہے

 

.کچھ لوگ تمھیں شیطان کا پجاری سمجھتے ہیں. ایسا کیوں ہے؟’ میں نے اسکی فائل پڑھتے ہوئے پوچھا’
‘ہاں! وہ شاید اسلئے کے میں نے عدالت میں کھڑا ہو کر کہا تھا کے میں نے شیطان کا کام آسان کیا’
.لیکن تم تو مذہب کو نہیں مانتی. پھر یہ شیطان کہاں سے آ گیا؟’ میں نے حیرت سے پوچھا’
شیطان کسی عفریت کا نہیں، بلکہ ایک فلسفے کا نام ہے.’ اس نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا. اور پھر میری طرف دیکھ کر پوچھنے لگی
‘تم مسلمان ہو نا ڈاکٹر؟’
‘ہاں بالکل. میں مسلمان ہوں. لیکن اتنا مذہبی نہیں ہوں’
تم لوگ اس بات کو مانتے ہو کے شیطان نے انسان کو خدا کے حکم کے باوجود، سجدے سے انکار کیا تھا. لیکن درحقیقت ایسا نہیں تھا
.تو پھر حقیقت کیا ہے؟’ مجھے اسکی گفتگو بہت دلچسپ لگ رہی تھی’
دراصل شیطان خدا کے تجربے سے متففق نہیں تھا. وہ اچھی طرح جانتا تھا کے زندگی اور شعور، انسان کے لئے گھاٹے اور تکلیف کا سودا ہیں. لیکن جب انسان تخلیق کر دیا گیا تو شیطان نے، انسان کو زندگی کی تکلیفوں اور پریشانیوں سے بچانے کیلئے گمراہی کا راستہ دکھایا. شیطان مشففق ہے. شیطان ہمارے حق میں مہربان ہے

 

میں نے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا. وہ کہیں سے بھی شیطان کی پجارن نہیں لگ رہی تھی. میں نے دل ہی دل میں اسکی بکواس پر لاحول پڑھی. لیکن آخر کو ڈاکٹر تھا. میں اپنے عقائد کو اپنے پیشے پر حاوی ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا

 

میں شیطان کی پجارن نہیں ہوں ڈاکٹر.’ پتہ نہیں اسے کیسے پتا چلا کے میں کیا سوچ رہا تھا. ‘میں نے کہا نا کے شیطان کسی کردار کا نہیں بلکہ ایک فلسفے کا نام ہے. ہاں البتہ مجھے کوئی نام دینا چاہیں تو شاید مجھے اداسی کا پیغمبر کہنا زیادہ مناسب ہوگا
‘اداسی کا پیغمبر؟’ میں نے چونک کر پوچھا. ‘یہ اداسی کا پیغمبر کیا ہے؟’
جو لوگ دنیا کو سمجھ جاتے ہیں. خدا کو سمجھ جاتے ہیں. یہ جان لیتے ہیں کے زندگی صرف اداسی اور تکلیف کا نام ہے. وہ لوگ اداسی کا پیغمبر بن جاتے ہیں. وہ اداسی کو خوشی سے تو نہیں بدل سکتے مگر کبھی کبھی، اداسی کے سلسلے کو ختم ضرور کر سکتے ہیں جیسا کے میں نے کیا

 

اس دن کے بعد بھی میری ہیلن سے کئی ملاقاتیں ہوئیں. میرے علاوہ اور بھی ڈاکٹروں نے اسکا معائینہ کیا لیکن کسی خاص نتیجے پر نہیں پہنچ سکے. آخر کار اسٹیٹ آف ٹیکساس نے ہیلن کو موت کی سزا دے دی اور دو سال بعد اسکو زہریلا ٹیکا لگا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا. ہاں یہ میں ضرور بتاتا چلوں کے مرنے سے پہلے، ہیلن اپنی صندل کے موٹے موٹے دانوں والی تسبیح، میرے لئے ترکے میں چھوڑ گئ. اس نے کیوں ایسا کیا، یہ تو میں نہیں جانتا. بس میں نے چپ کر کے وہ تسبیح اپنے پاس رکھ لی. چونکہ ہیلن کی طرح مجھے بھی صندل کی خوشبو پسند تھی تو زیادہ تر وہ تسبیح میری جیب میں موجود رہتی
_______________________________________________

پاکستان میں کوئی قابل ذکر رشتے دار نا ہونے کے باوجود میرا اپنے ملک سے رشتہ ٹوٹ نہیں سکا تھا. کچھ بچپن کے دوست تھے جن سے وقتاً فوقتاً بات چیت ہوتی رہتی تھی. ملک کے حالات بھی پتا چلتے رہتے تھے. یہ غالباً سن ٢٠٠١ کے اوائل کی بات ہے، جب مجھے میری ایک ایسی ہی دوست صائمہ نے فون کیا. وہ بھی میری طرح غیر شادی شدہ تھی اور نفسیات میں گہری دلچسپی رکھتی تھی؛ اور پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں پروفیسر تھی. کچھ دیر گپ شپ اور حال احوال پوچھنے کی بعد کہنے لگی
‘یار کامران تم پاکستان کیوں نہیں آ جاتے؟ یہاں تمھارے جیسے لوگوں کی بہت ضرورت ہے’
میں بے اختیار ہنسنے لگا
بھلا میری کیوں ضرورت پڑ گئ وہاں؟ میرا کام سیریل کلرز کا نفسیاتی معائینہ ہے اور پاکستان میں یا تو ایسے قاتل وجود نہیں رکھتے؛ یا پھر پاکستانی معاشرہ ابھی تک، ایسے قاتلوں کے وجود کا اعتراف کرنے کیلئے تیار نہیں ہے
کیوں وجود نہیں رکھتے ایسے قاتل پاکستان میں؟ کیا تم نے ابھی تک سو بچوں کے قاتل، جاوید اقبال مغل کے بارے میں نہیں سنا؟’ صائمہ پوچھنے لگی
جاوید اقبال مغل؟ سو بچوں کا قاتل؟ یہ کہاں سے نکل آیا؟ کیا کہانی ہے اس کی؟’ میں نے حیران ہو کر پوچھا’
ہے ایک قاتل. ابھی حال ہی میں اس کا کیس سامنے آیا ہے. جج نے سزا بھی سنا دی ہے. اگر چاہو تو پاکستان آ جاؤ. میں پولیس میں اپنے تعلقات کا استعمال کر کے تمھاری ملاقات کروا سکتی ہوں

 

قصّہ مختصر، صائمہ کی بات نے میرے شوق کی آگ بھڑکا دی. اور پھر میرے کونسے بیوی بچے تھے. چھڑا چھانٹ آدمی تھا. ہفتے بھر میں سامان پیک کیا، ڈیپارٹمنٹ سے لمبی چھٹی لی اور پاکستان چل پڑا. لاھور پہنچا تو صائمہ کے ہاں ہی ٹھہرا. میری بدقسمتی دیکھئے کے ابھی جاوید اقبال سے ملنے کی تیاری چل ہی رہی تھی کے خبر ملی، اس نے جیل میں ہی خود کشی کر لی. اپنے نصیب کو بہت کوسا لیکن کیا کیا جا سکتا تھا. میں تو واپس جانا چاہ رہا تھا لیکن صائمہ نے ضد کر کے روک لیا

 

ایک دن صبح ہی صبح وہ میرے کمرے میں مسکراتی داخل ہوئی
‘بھئی مان گئے کہ تم بہت خوش قسمت ہو’
.بھلا وہ کیسے؟ کیا جاوید اقبال کے مرنے کی خبر جھوٹی تھی؟’ میں نے چونک کر پوچھا’
بس کچھ ایسا ہی سمجھ لو. مجھے میرے ایس ایس پی دوست نے ابھی فون کر کے بتایا ہے کے کچھ روز قبل پولیس نے ارسلان نامی ایک اور قاتل گرفتار کیا تھا. اس نے تقریباً پچیس افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے
‘لیکن اخبار میں تو کچھ ایسا نہیں چھپا.’ میں نے دوبارہ سے میز پر پڑے اردو اور انگریزی کے اخبارات پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا
ہاں غالباً پولیس نے جاوید اقبال والے معاملے سے گھبرا کر، ابھی تک اس خبر کو میڈیا میں آنے نہیں دیا. پھر مقتولین میں زیادہ تر بوڑھے اور معذور فقیر شامل ہیں. بہرحال جج نے ابتدائی نفسیاتی معائینہ کیلئے مجرم کو مینٹل ہسپتال بھجوا دیا ہے.’ صائمہ نے موبائل فون پر غالباً اپنے دوست کا میسج پڑھتے ہوئے کہا
.تو پھر؟’ میں نے بے تابی سے پوچھا’
‘بس پھر اب میں یونیورسٹی جا کر کچھ انتظام کرتی ہوں’

 

صائمہ کے والد کسی زمانے میں صوبائی حکومت میں وزیر رہ چکے تھے. آدمی ابھی بھی خاصے اثر و رسوخ والے تھے. ان کی اور صائمہ کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے مینٹل ہسپتال لاہور کی انتظامیہ نے مجھے، چھ مہینوں کیلئے اسپیشل کنسلٹنٹ کے طور پر، اپنے پاس رکھنے کی آفر دے دی. اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں؟ میں نے جھٹ سے آفر قبل کر لی اور اگلے ہی روز مینٹل ہسپتال رپورٹ کر دی

______________________________________________________________________

ویسے تو امریکا اور پاکستان میں بہت فرق ہے لیکن یہ فرق مینٹل ہسپتال دیکھ کر کچھ اور ہی واضح ہو جاتا ہے. بیشک باھرسے دیکھنے میں مینٹل ہسپتال، ہسپتال کم اور پارک زیادہ معلوم ہوتا ہے؛ لیکن اندر داخل ہوتے ہی تمام خوبصورتی بدصورتی میں تبدیل ہو جاتی ہے. ہر چہرے پر ویرانی اور ہر آنکھ میں ایک عجیب یاس چکراتی نظر آتی ہے. اس ہسپتال کے مکینوں کو دیکھ کر احساس ہوتا تھا کے جیسے امید کی روشنی کی، اس اندھیرے ہسپتال میں کوئی پہنچ نہیں تھی

ہوں………..!؛ ڈاکٹر رفاقت نے اپنے سامنے رکھے میرے بائیو ڈیٹے پر ایک نظر دوڑاتے ہوئے لمبا ہنکارا بھرا. وہ مینٹل ہسپتال کے منتظم اعلی تھے اور خاصی عمر کے، مدبّر چہرے والے لیکن بہت مشفق انسان تھے
مجھے بہت خوشی ہے کے ہمارے ادارے کو آپ جیسے قابل آدمی کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے.’ انہوں نے مسکراتے ہوئے اور چائے کا کپ میری طرف سرکاتے ہوئے کہا
پلیز مجھے شرمندہ نا کریں ڈاکٹر صاحب. خوش قسمتی تو میری ہے کے جسے آپ نے اتنے شارٹ نوٹس پر کنسلٹنٹ رکھنے کی حامی بھر لی.’ میں نے انکساری سے کہا
چلئے پھر ایسا کرتے ہیں کے خوش قسمتی آدھی آدھی تقسیم کر لیتے ہیں.’ ڈاکٹر رفاقت نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا
تھوڑی دیر ایسے ہی خوش گپیوں کا دور چلتا رہا. پھر کام کی باتیں شروع ہوئیں

 

ارسلان کا کیس بہت دلچسپ ہے. کل ملا کر اس نے پچیس قتل کئے ہیں. پندرہ مرد اور دس عورتیں. تمام کے تمام مقتول، ضعیف اور معذور تھے یا پھر ایسے لوگ تھے جنہیں ہم معاشرے پر بوجھ سمجھتے ہیں. فقیر، بے گھر لوگ، نشئی وغیرہ. دوسری دلچسپ بات یہ ہے کے اس نے تمام قتل اس انداز میں کئے کے اس کے شکار لوگوں کو، کم سے کم تکلیف محسوس ہو.زیادہ تر قتل مارفین کی اوور ڈوز دے کر کئے گئے.’ ڈاکٹر رفاقت نے مجرم کی فائل کھول کر پڑھتے ہوئے کہا
.وجہ کیا بتاتا ہے وہ قتل کرنے کی؟’ میں نے دلچسپی سے پوچھا’
ہوں…..!’ ڈاکٹر رفاقت نے پھر ایک لمبا ہنکارا بھرا. ‘یہ باوجود کوشش کے ابھی تک ہم معلوم نہیں کر سکے. وہ کسی ڈاکٹر سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھتا. ویسے دیکھنے میں ٹھیک ٹھاک آدمی ہے لیکن زیادہ تر خاموش رہتا ہے. یہ اب آپ پر منحصر ہے کے آپ، اس سے کیسے ڈیل کرتے ہیں اور کچھ معلوم کر سکتے ہیں یا نہیں
‘جی بہتر، میں پوری کوشش کروں گا کے اس کے کئے گئے قتلوں کے پیچھے، محرکات کا پتہ چل سکے’
.اسکے علاوہ ایک اور درخواست ہے میری.’ ڈاکٹر رفاقت نے کہا’
‘جی ضرور. حکم کیجئے، میں ہر خدمت کیلئے حاضر ہوں’
میں چاہوں گا کے آپ ارسلان کے علاوہ بھی تین اور مریضوں کی ذمہ داری سنبھال لیں. رشیدہ بیگم، پرویز اقبال اور خالد شفقت. یہ تینوں مریض علاج کے بس سے باہر ہیں اور بہت برے حال میں ہیں. کوئی رشتے دار وغیرہ بھی نہیں. آپ دیکھ لیجئے کے اگر آپ کچھ کر سکتے ہوں.’ ڈاکٹر رفاقت نے اپنی الماری سے تین فائلیں نکال کر میرے حوالے کرتے ہوئے کہا

میں نے حامی بھری اور چاروں فائلیں اٹھا کر ڈاکٹر رفاقت کے ساتھ چل پڑا
________________________________________________

مجھے مینٹل ہسپتال لاہور میں تقریباً دو مہینے ہو چلے تھے. لیکن ابھی تک چاروں مریضوں میں سے کسی کے ساتھ، کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی. رشیدہ بیگم، پرویز اقبال اور خالد شفقت، ان تینوں کا تو خیر کیس ہی الگ تھا

رشیدہ بیگم کو اپنا نام تک نہیں یاد تھا. کچھ ٹوٹی پھوٹی یادیں شاید ضرور باقی تھیں لیکن انکو سمیٹنے کے چکّر میں ناکام ہونے کے بعد، وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی تھیں. میں ایک ڈاکٹر ضرور تھا لیکن ایک ساٹھ سال کی خاتون کو بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھنا، خاصا مشکل کام تھا

پرویز اقبال تقریباً پچاس سال کا اونچا لمبا اور دبلا پتلا مریض تھا. ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے دماغ کی کوئی نس پھٹ گئ تھی. نتیجتاً وہ ایک زندہ لاش بن کر رہ گیا تھا. کبھی کبھار زندگی کی کوئی رمک محسوس ہوتی لیکن زیادہ تر وہ خود اٹھ کر غسل خانے تک نہیں جا سکتا تھا. ہر وقت غلاظت میں لتھڑا پڑا رہتا تھا. کسی نرس کو یا ڈاکٹر کو ترس آتا تو صفائی بھی ہو جاتی تھی

خالد شفقت بھی ادھیڑ عمر اور قدرے بھاری جسم کا مریض تھا اور اس کو پورا یقین تھا کے اسکے سر میں، کسی نے بم فٹ کیا ہوا ہے. وہ ہر وقت تکلیف سے چیختا رہتا اور پھر آخر کار بے دم ہوکر بیہوش ہوجاتا

 

ان تینوں مریضوں کیلئے میرے پاس اسکے سواء کوئی چارہ نہیں تھا کے سایکاٹرسٹ کے تعاؤن سے، انہیں زیادہ تر خواب اور سکون اور دواؤں کے زیر اثر رکھتا. لیکن پھر بھی صبح اور شام میں انکو دیکھنے ضرور جاتا تھا

 

ارسلان کا معاملہ کچھ الگ تھا. ڈاکٹر رفاقت نے بالکل سہی کہا تھا کے دیکھنے میں ارسلان کہیں سے ایک خطرناک قاتل نہیں لگتا تھا. بلکہ جب پہلی دفعہ میں نے اسکو دیکھا تو کچھ لمحوں کیلئے گڑبڑا کر رہ گیا. وہ ایک ادھیڑعمر اور درمیانے قد والا، سانولا سا آدمی تھا. سر پرسفیدی مائل بکھرے بالوں کا ایک گھنا چھتا اور چہرے پر سجی وین ڈائک داڑھی. آنکھوں پر نازک سنہرے فریم والا نظر کا چشمہ اور ہونٹوں کے کناروں پر ناچتی، ایک مستقل مگر اداس مسکراہٹ. سفید کرتا اور پاجامہ. قاتل سے زیادہ، نیند سے اٹھایا گیا یونیورسٹی کا کوئی پروفیسر لگتا تھا. مجھے اس کی گہری سیاہی مائل بھوری آنکھیں دیکھ کر جانے کیوں، ہیلن کی سبز آنکھیں یاد آ گیئں. شاید آنکھوں میں ناچتا تاثر ایک ہی تھا. گھمبیر سکون اور گہری اداسی کے سائے

 

ارسلان نے میری گفتگو کی تمام کوششیں ناکام بنا دیں. میں گھنٹوں اس کے کمرے کی سلاخوں کے باہر، کرسی لگائے بیٹھا رہتا. وہ اپنے کمرے کی سفید دیوار سے کمر ٹیکے بیٹھا، میری طرف دیکھتا رہتا یا پھر آنکھیں بند کر لیتا. البتہ وہ اداس مسکراہٹ ہر وقت اسکے ہونٹوں کے گوشوں پر ناچتی رہتی
___________________________________________

پھر ایک دن کفر ٹوٹ گیا. وہ اگست کی ایک دوپہر تھی. باہر شدید بارش برس رہی تھی. میں اسی طرح ارسلان کے کمرے کے باہر کرسی پر بیٹھا تھا. بوریت سے تنگ آ کر میں نے جیب سے، ہیلن کی دی گئ صندل کے دانوں والی تسبیح نکالی، آنکھیں موندیں اور نتھنوں کے قریب لیجا کر سونگھنے لگا

یہ تسبیح؟ یہ تسبیح کہاں سے آئ تمھارے پاس؟’ میں نے چونک کر آنکھیں کھولیں تو ارسلان سلاخیں پکڑے میری انگلیوں میں دبی تسبیح کو بیچینی سے دیکھ رہا تھا
مجھے یہ تسبیح کسی نے مرنے سے پہلے تحفہ دی تھی.’ میں نے بےساختہ جواب دیا. اور پھر اپنی حیرت پر قابو پا کر پوچھنے لگا
‘اس تسبیح میں آپ کو کیا خاص چیز نظر آ گئ؟ یہ ایک معمولی لکڑی کے دانوں والی تسبیح ہی تو ہے’
یہ معمولی تحفہ نہیں ہے بیٹے. یہ تحفہ صرف ان کو دیا جاتا ہے جو اس تحفے کے، صحیح معنوں میں حقدار ہوتے ہیں

 

اچانک ارسلان نے ہاتھ سلاخوں سے باہر نکالا اور میرے ہاتھ کو مضبوطی سے تھام کر، اپنی آنکھیں بند کر لیں. پہلے تو میں نے گھبرا کر ہاتھ چھڑانےکی کوشش کی مگر پھر ارسلان کی طرف سے، مزید کوئی حرکت نا ہونے پر، اپنی کوشش ترک کر دی. تھوڑی دیر ایسے ہی رہنے کے بعد ارسلان نے اپنی آنکھیں کھولیں اور میری آنکھوں میں جھانکنے لگا. آپ یقین مانئے، مجھے یوں لگا کے جیسے وہ میری روح کی اتاہ گہرائیاں ناپ رہا ہو. پھر اس نے مسکرا کر میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور کہنے لگا
‘اوہ! اب میں سمجھا
.کیا سمجھا؟ کیا سمجھ گئے آپ؟’ میں نے کچھ گڑبڑا کر پوچھا’
‘کچھ خاص نہیں اور شاید کچھ بہت ہی خاص. خیر تم پوچھو مجھ سے کیا کیا پوچھنا چاہتے ہو’
میں تھوڑی دیر اس کے عجیب رویے کے بارے میں سوچتا رہا مگر پھر سر جھٹک دیا. وہ ایک مریض تھا اور مجھے خواہ مخواہ متاثر کرنے کی کوشش کر رہا تھا

 

‘آپ یہ بتائیے کے آپ نے پچیس قتل کیوں کئے؟’
.بالکل اسی وجہ سے کئے جس وجہ سے، ہیلن نے پچاس قتل کئے تھے.’ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا’
‘کیا مطلب؟ آپ ہیلن کو کیسے جانتے ہیں؟’
میں اسلئے ہیلن کو جانتا ہوں کیونکہ وہ اور میں، ایک ہی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں.’ ارسلان نے واپس دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے کہا
.کیا کہ رہے ہیں آپ؟ کیسا گروہ؟’ میری حیرت کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا’
اداسی کے پیغمبروں کا گروہ. ہم تھوڑے سے ہیں اسلئے، ایک دوسرے سے واقف رہتے ہیں.’ اس نے اپنے کرتے کی جیب سے بالکل میری تسبیح کی طرح کی، صندل کے دانوں والی تسبیح نکالی اور میری آنکھوں کے سامنے لہرائی

کون ہیں آپ؟ ہیلن کون تھی؟’ میں بہت زیادہ کنفیوز ہو چکا تھا. مجھے اس گھن چکّر کے سامنے اپنی تمام تر پیشہ ورانہ مہارت ملیا میٹ ہوتی نظر آ رہی تھی
دیکھو بیٹے، خدا نے جب روحیں تخلیق کیں تو ان میں سے کچھ روحوں کو الگ کر کے، ان میں آگہی کا شعور پھونک دیا
‘ آگہی؟ کیسی آگہی؟ کس چیز کی آگہی؟’
‘زندگی کی آگہی. اس بات کی آگہی کہ زندگی اداسی اور تکلیف کا ایک لمبا سلسلہ ہے’
تو آپ نے ان پچیس افراد کا قتل کر کے، اداسی اور تکلیف کے سلسلے کو ختم کر دیا؟’ میں نے کچھ کچھ طنزیہ لہجے میں سوال کیا تو وہ مسکرا دیا
ہاں! ان پچیس افراد کی حد تک اداسی اور تکلیف کا سلسلہ تمام ہوا. اور دیکھا جائے تو دنیا میں ہر خوشی ایک نشہ ہے جو ہم دکھوں اور تکلیف کو، بھولنے کیلئے استمعال کرتے ہیں. موت وہ واحد خوشی ہے جو دکھوں اور تکلیف کا حل ہے

کیا بکواس ہے یہ؟’ مجھے محسوس ہوا کے جذبات کی شدّت سے، میرا جسم کانپ رہا تھا. ‘زندگی تکلیف اور اداسی ہے. موت خوشی ہے. یہ سب کیا بکواس ہے؟

جب غصّہ ٹھنڈا ہو تو اپنے ارد گرد کی دنیا پر غور کرنا. سمجھ آ جائے گی کہ زندگی کا خمیر، اداسی سے اٹھایا گیا ہے؛ اور خوشی اس حقیقت کو بھولنے کا ایک طریقہ ہے. ایک دن یہ بات ضرور تمھاری سمجھ میں آ جائے گی؛ اور جس دن یہ سمجھ گئے، اس دن تم بھی، اداسی کے پیغمبر بن جاؤ گے
میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور اٹھ کر چلا گیا
_______________________________________________________

میں اس دن بہت پریشان تھا. مسلسل کئی گھنٹے برستی بارش میں بھیگتا رہا. پھر اگلے کئی دن بھی یہ ہی حال رہا. عجیب بات یہ تھی کہ ارسلان کی عجیب و غریب باتوں کے بعد، مجھے دکھائی دینے والا ہر منظر، اس کی باتوں کی تائید کرتا نظر آیا. مجھے لوگوں کی مسکراہٹیں اور انکے چمکتے چہروں کے پیچھے لدے، نا آسودہ خواہشوں کے انبار نظر آنے لگے. مجھے زندگی ذمہ داریوں اور تکلیفوں کا بوجھ دکھائی دینے لگی. کئی دفعہ تو میں نے اپنے آپ کو یہ سوچتے پایا کے شاید، ہیلن اور ارسلان ان لوگوں کو قتل کرنے میں حق بجانب تھے. میں جب بھی اپنے آپ کو یہ سوچتا پاتا تو، ایک لمحے کو چونک جاتا اور پھر میرا دماغ، میرے دل کو کوسنا شروع ہوجاتا. عجیب و غریب حال ہوگیا تھا. کبھی بیٹھے بٹھائے رونا شروع کر دیتا تو کبھی پہروں خاموش بیٹھا سوچتا رہتا

 

کیا بات ہے کامران؟ تم بہت عجیب لگ رہے ہو آج کل.’ ایک دن صبح ناشتے کی میز پر، صائمہ سے ملاقات ہوئی تو اس نے پوچھا
کچھ خاص نہیں.’ ایک لمحے کو میرے دل میں آیا کے اس سے اپنی پریشانی بانٹوں مگر پھر نجانے کیا سوچ کر خاموش رہا
.تمھیں پتہ ہے کامران، تم بہت تبدیل ہو چکے ہو؟’ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد صائمہ نے پوچھا’
.تبدیل؟ کیا مطلب کیسی تبدیلی؟’ میں نے چونک کر پوچھا’
‘ہر وقت خاموش رہتے ہو. لوگوں سے دور بھاگتے ہو. اور پھر تمھاری آنکھیں’
.کیا ہوا ہے میری آنکھوں کو؟’ میں نے پوچھا’
پتہ نہیں، تم شاید ہنسو میری بات پر مگر تمہاری آنکھوں میں، ایک گہرا اور اداس سکون اتر رہا ہے. جیسے ابھی میں اپنی باتوں کے کنکر تمھاری آنکھوں کے تالاب میں پھینک رہی ہوں مگر ان میں کوئی بھنور نہیں پڑتا، کوئی لہر نہیں اٹھتی. اور پھر تمھارے ہاتھ میں ہر وقت یہ لکڑی کی تسبیح رہتی ہے. کیا ہوگیا ہے تمھیں؟ تم تو کبھی بھی مذہبی نہیں تھے

میں نے مسکرا کر صائمہ کی بات کو تو ٹال دیا مگر شاید وہ صحیح کہتی تھی. میں واقعی بہت تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہا تھا
______________________________________________________

اس دن اتوار کی تعطیل تھی. بارش پھر زوروں پر تھی. میں پتا نہیں کہاں کہاں گاڑی گھماتا رہا. اور پھر نجانے کیسے اور کب، میری گاڑی مینٹل ہسپتال کی پارکنگ میں جا کر رک گئ. میں بھیگتا ہوا اپنے وارڈ کی طرف چل پڑا

سر خیریت تو ہے؟ میں آپ کو کھڑکی سے آتا دیکھ رہی تھی. اتنی تیز بارش میں آج تک میں نے، کسی کو اتنے سکون سے چلتا نہیں دیکھا جتنے سکون سے، آپ چل رہے تھے. اور پھر آپ سارے کے سارے بھیگ چکے ہیں.’ ڈیوٹی نرس نے پوچھا تو میں نے چونک کر اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے وہ کوئی اجنبی ہو
‘ہاں سب ٹھیک ہے. تم بتاؤ میرے مریض کیسے ہیں؟’
‘جی سب ٹھیک ہے. تینوں اپنے اپنے کمرے میں ادویات کے زیر اثر سو رہے ہیں’
میں نے سر ہلایا اور ان کے کمروں کی طرف بڑھ گیا. نرس نے ساتھ آنے کی کوشش کی تو میں نے اسے روک دیا

 

میں باری باری رشیدہ بیگم، پرویز اقبال اور خالد شفقت کے کمروں میں گیا اور انکے چہروں کو غور سے دیکھتا رہا. مجھے انکے سوتے چہروں میں، خوشی کی کوئی رمق دور دور تک دکھائی نا دی. صرف ایک گہری یاس اور اداسی تھی. نا امیدی کے کیڑے، انکے چہروں کی جھریوں میں رینگ رہے تھے. باہر بارش کا مہیب شور تھا اور اندر صرف اداسی کا سکوت راج کر رہا تھا. میں نے تسبیح نکل کر اس کو اپنے نتھنوں کے قریب کیا تو صندل کی دھیمی دھیمی خوشبو نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا

______________________________________________

سر اور یہ ہے خطرناک مریضوں کا سیکشن. یہاں آج کل صرف ایک ہی مریض بند ہے ڈاکٹر کامران.’ نرس نے نئے آنے والے ڈاکٹر کو وارڈ کا دورہ کرواتے ہوئے کہا
.ڈاکٹر کامران؟ کیا یہ مریض واقعی ڈاکٹر ہے؟’ نئے ڈاکٹر نے حیرانی سے پوچھا’
جی سر. بہت ہی قابل ڈاکٹر سمجھے جاتے تھے. اب سے کچھ عرصہ پہلے، ایک مریض ارسلان کا علاج کرنے یہاں آئے تھے. خدا ہی جانتا ہے کے ان پر کیا گزری. ایک رات انہوں نے اپنے تین مریضوں کو گلا دبا کر مار ڈالا. تب سے یہیں بند ہیں. زیادہ بات چیت نہیں کرتے. سکون سے ایک ہی جگہ بیٹھے، تسبیح پڑھتے رہتے ہیں.’ نرس نے افسوس کے ساتھ بتایا
‘عجیب واقعہ ہے.’ نئے ڈاکٹر نے سر ہلاتے ہوئے کہا. ‘اور اس ارسلان کا کیا بنا؟’
‘اسکو آج سے تین مہینوں پہلے پھانسی ہوگئ تھی سر’

 

ڈاکٹر کامران! کامران صاحب!’ نئے ڈاکٹر نے اگے بڑھ کر کامران کو آواز دی جو کمرے میں سلاخوں کے پیچھے، سفید دیوار سے ٹیک لگائے، سکون سے آنکھیں موندے بیٹھا تھا. اس کے ہاتھ میں صندل کے دانوں والی تسبیح دبی تھی
.میں ڈاکٹر کامران نہیں ہوں.’ کامران نے آنکھیں کھولے بغیر جواب دیا’
.تو پھر کون ہیں آپ؟’ نئے ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے پوچھا’
‘میں…….؟’ کامران نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا. ‘میں اداسی کا پیغمبر ہوں’

6 thoughts on “اداسی کے پیغمبر

  1. Well Sir , a good story after a relatively long time. Seems your newly found Freedom has made you busy :), hence proved that Jails are the best source for creative work, Great and small.
    A good story, but if you intend venturing into Mystery writing then the art form has its own nuisances , however this was a big departure from your tried and tested path, and a pretty good one.
    Happy Writing

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s