ہم سب قاتل ہیں

20769939_1675018275844453_4533984488710906233_n

ابّا! اس دفعہ نا، چودہ اگست پر میں، سفید رنگ کی نئی شلوار قمیض پہنوں گا.’ آٹھ سالہ ثاقب نے اپنے باپ کی گود میں گھستے ہوئے کہا

 

.اور کیا لے گا میرا بیٹا؟’ اللہ بخش نے پیار سے اس کے بال بگاڑتے ہوئے پوچھا’

 

.اور؟ اور…………ڈھیر ساری جھنڈیاں. سبز اور سفید.’ ثاقب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا’

 

سب کچھ لے کے دوں گا اپنے بیٹے کو. لیکن اپنا وعدہ یاد ہے نا؟’ الله بخش نے اپنے بیٹے کا ماتھا چومتے ہوئے کہا

 

‘ہاں ابّا! مجھے یاد ہے. جھنڈیوں کو زمین پر گرنے نہیں دینا. پرچم کی عزت کرنی ہے’

 

.شاباش! اور پڑھائی والا وعدہ؟’ الله بخش نے پوچھا’

 

ہاں ابّا! وہ بھی یاد ہے. خوب پڑھائی کرنی ہے. پڑھائی کر کہ بڑا آدمی بننا ہے. بڑا آدمی بن کر ملک و قوم کی خدمت کرنی ہے.’ ثاقب کے تو دل پر اپنے باپ کی باتیں نقش تھیں

 

.شاباش میرا شیر!’ الله بخش کا سر فخر سے اونچا ہوگیا’

 

لیکن ابّا……!’ ثاقب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا. ‘اسکول تو دوسرے گاؤں میں ہے. میرا پڑھائی کا آدھا ٹائم تو آنے جانے میں ہی خرچ ہوجاتا ہے

 

بس تو فکر نا کر. پچھلی دفعہ الیکشن میں میاں صاحب کی پارٹی کو ووٹ دیا تھا. دیکھ لینا جلد ہی ہمارے گاؤں میں بھی اسکول بن جائے گا.’ الله بخش نے مقامی ایم پی اے کے وعدے یاد کرتے ہوئے کہا

 

شہناز پاس ہی تھڑے پر بیٹھی، کپڑے دھو رہی تھی. خاوند کی بات سن کر تنک کر بولی

ہوں!….نا ایسی باتیں کیا کر الله بخش. پہلے بھی تو انہی خبیثوں کو ووٹ دیتا رہا ہے. کتنے اسکول بن گئے اپنے گاؤں میں؟ ذرا گنوا تو سہی

 

تو چپ کر کے بیٹھی رہ. چار جماعتیں کیا پڑھ گئ، خاوند کو غلط کہ رہی ہے؟ میاں صاحب کو خبیث کہ رہی ہے؟ اری وہ تو بادشاہ ہیں اپنے؛ مائی باپ ہیں ہمارے.’ الله بخش نے طیش کھا کر کہا

 

ہاں! ہاں! چار جماعتیں پڑھنے سے آنکھیں تو کھل گیئں ہیں نا میری. جا کر ٹی وی آن کر کے دیکھ، تیرے بادشاہ اور مائی باپ سے عدالت نے کرسی چھین لی ہے. پیسہ کھایا ہے اس قوم کا، اس نے اور اسکی کمبخت اولاد نے. حساب دینا پڑے گا اسکو.’ شہناز نے ہاتھ ہلا ہلا کر خاوند کو سنائیں

 

چل چل! تو اپنا کام کر. تجھے کیا معلوم؟ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں. ہماری تو جان بھی میاں صاحب کی آن پر قربان..’ الله بخش نے غصے اور بے زاری سے بیوی کو جواب دیا

 

ابا! ٹی وی پر آ رہا تھا، چودہ اگست کے دن میاں صاحب کا جلوس بڑی سڑک سے گزرے گا. ابا میں بھی چلوں گا جلوس دیکھنے.’ ثاقب نے مچل کر کہا

 

ہاں! ہاں! ضرور چلیں گے. میں نے تو قبرستان والے کو گلاب کی سو کلو پتیوں کا آرڈر بھی دے دیا ہے. نچھاور کر دیں گے اپنے لیڈر پر. اور قسمت اچھی ہوئی تو میاں صاحب کا دیدار بھی نصیب ہو جائے گا.’ الله بخش نے عقیدت سے گردن ہلاتے ہوئے کہا

 

سو کلو گلاب کی پتیاں؟’ شہناز نے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہا. ‘ارے تیری تو مت ماری گئ ہے. پیسے کہاں سے آیئں گے دینے کیلئے؟

 

وہ ملک صاحب کا حکم تھا، انکار کیسے کرتا؟’ الله بخش نے سر کھجاتے مقامی ایم پی اے کا حوالہ دیا. ‘وہ دیں گے نا پیسے

 

وہ حرام زادہ  دے گا پیسے؟ وہ کمینہ تو مفت میں کسی کے جنازے کو کندھا نا دے.’ شہناز کو شدید غصّہ چڑھا ہوا تھا. ‘میں پوچھتی ہوں پیسے کہاں سے آیئں گے؟

 

وہ تیری بالیاں ہیں نا سونے کی؟ بس وہ بیچ دیں گے. یا میں اپنی موٹر سائیکل بیچ دوں گا. دیکھنا میاں صاحب اقتدار میں واپس آ گئے نا، تو دن پھر جایئں گے ہم غریبوں کے. آخر کو میرے ووٹ سے وزیر اعظم بنے تھے میاں صاحب.’ الله بخش نے کھسیانا ہو کر کہا

 

یہ سننا تھا کے شہناز نے تو قیامت برپا کر دی. میاں صاحب اور ملک صاحب، دونوں کے خاندانوں کے بارے میں وہ خطرناک گل افشانیاں کی الله بخش کو کان لپیٹ کر گھر سے نکلنا پڑ گیا

_________________________________________________________________

 

چودہ اگست کے دن ثاقب صبح ہی صبح تیّار ہو گیا. ماں نے نہلا دھلا کر اور خوب تیل سرمہ لگا کر، بیٹے کو تیار کیا تھا

 

شہزادہ لگ رہا ہے میرا بیٹا!’ شہناز نے ماتھا چوم کر کہا. ‘دیکھنا وہاں جلوس میں احتیاط سے کھڑا ہونا. سڑک پر گاڑیاں تیز چلتی ہیں. بس تو نے باپ کی انگلی نہیں چھوڑنی

 

تو فکر بہت کرتی ہے اماں! اب میں جوان ہوگیا ہوں.’ ثاقب نے مایا لگی، سفید کڑ کڑ کرتی شلوار قمیض احتیاط سے پہنتے ہوئے کہا

 

ماں نے محبت بھری آنکھوں سے اپنے ننھے سے جوان بیٹے کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں بلائیں لینی لگی

_________________________________________________________

 

دونوں باپ بیٹے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر بڑی سڑک پہنچ گئے. باپ نے گلاب کی پتیوں کے تھیلے ملک صاحب کی خدمت میں پیش کئے تو انکے نحوست زدہ چہرے پر رونق سی آ گئ

‘شاباش الله بخشے! شاباش! تو یہاں میری بغل میں کھڑا ہوجا’

 

الله بخش غریب کی تو عید ہی ہوگئ. ثاقب کا ہاتھ پکڑا اور وہیں ملک صاحب کے ساتھ کھڑا ہو کر دور اٹھتی گرد کی طرف دیکھنے لگا

 

لگتا ہے جلوس پہنچ گیا.’ ملک صاحب نے آنکھوں پر ہاتھ سے چجھہ بناتے ہوئے گرد کی طرف دیکھا؛ اور پھر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کی طرف دیکھ کر سختی سے کہنے لگے

قیمے والے نان کھانے ہیں تو ذرا گلا پھاڑ کر میاں صاحب زندہ باد کے نعرے لگنے چاہئیں. میاں صاحب کو بھی پتا چلے کہ وہ میرے حلقے سے گزر رہے ہیں

 

ملک صاحب نے حکم کیا دیا، ساتھ کھڑے غریبوں کو تو بجلی لگ گئ. الله بخش نے بھی ثاقب کا ہاتھ چھوڑا اور دونوں مٹھیاں گلاب کی پتیوں سے بھر کر تیار کھڑا ہوگیا

 

جلوس سر پر پہنچ گیا. پہلے آٹھ دس پولیس کی گاڑیاں ہوٹر بجاتی زن زناتی گزر گیئں. پیچھے پیچھے کالی جیپوں کی ایک لمبی قطار تھی. الله بخش نے بھی پورے جوش و خروش سے پتیاں پھینکنی شروع کر دیں. دوسری کالی جیپ میں میاں صاحب تشریف فرما تھے اور ہاتھ ہلا ہلا کر رعایا کی عقیدت کا جواب دے رہے تھے

 

ابھی میاں صاحب کی گاڑی دس بارہ فٹ دور تھی کہ ثاقب کے ہاتھ سے پاکستان کا چھوٹا سا جھنڈا نکل کر سڑک پر گر گیا

 

ابّا! میرا جھنڈا!’ ثاقب نے باپ کو متوجوہ کرنے کی کوشش کی مگر الله بخش تو میاں صاحب کی ایک جھلک پانے کو بیتاب تھا

 

ثاقب جھنڈا اٹھانے کو لپکا تو میاں صاحب کی جیپ کا اگلا ٹائر اس غریب کی ٹانگ کے اوپر سے گزر گیا. ڈرائیور نے بریک تک لگانے کی زحمت نہیں کی اور پچھلا ٹائر ثاقب کے ننھے سینے کو کچلتا گزر گیا

 

.کیا ہوا؟’ میاں صاحب نے گاڑی کو جھٹکا لگنے پر چونک کر پوچھا’

کچھ نہیں ابّا جی! کسی الو کے پٹھے کی ٹانگ آ گئ ہے ٹائر کے نیچے.’ میاں صاحب کے داماد نے جو گاڑی چلا رہا تھا، پیچھے گردن گھما کر کہا. ‘آپ اپنا مزہ خراب نا کریں. یہ بڑے سخت جان لوگ ہیں، انہیں کچھ نہیں ہوتا

 

سخت جان بھی اور بیوقوف بھی! کچھ ہو بھی گیا تو کیا ہوا؟ جمہوریت کو شہیدوں کا لہو چاہئے.’ میاں صاحب کی بغل میں بیٹھے ایک وفاقی وزیر نے داماد صاحب کی ہاں میں ہاں ملائی؛ اور پوری گاڑی کی خنک فضاء، بے شرم قہقہوں سے گونج اٹھی

 

زخموں سے چور ثاقب کو کراہنے اور چیخنے کا موقع بھی نہیں مل سکا کیونکہ پیچھے آنے والی جیپ نے بھی رکنے کا تکلف نہیں کیا اور اسکا بھاری بھرکم ٹائر، اس کے ننھے سر کو کچلتے ہوئے گزر گیا

 

الله بخش کو تب پتہ چلا جب جیپوں کے پیچھے پیچھے آنے والی کالی کرولا نے بریکیں لگایئں اور دروازہ کھول کے ایک وزیر نے باہر جھانک کر، خون میں لت پت ثاقب کا معائینہ کیا

 

سر! پیچھے پیچھے پانچ ایمبولینسیں آ رہی ہیں.’ وزیر کے منشی نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر کہا. ‘حکم دیں تو ایک ایمبولینس زخمی کے ساتھ کر دیں؟

 

دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا؟’ وزیر نے برا منہ بناتے ہوئے اور دروازہ بند کرتے ہوئے کہا. ‘ایمبولینسیں میاں صاحب اور جلوس کیلئے ہیں. خود ہی بندوبست کرتے رہیں گے ہسپتال پہنچانے کا. تم تیز سپیڈ کر کے آگے قافلے سے ملو، ورنہ پیچھے رہ جایئں گے

 

الله بخش پہلے تو سکتے کے عالم میں کھڑا گاڑیوں کو جاتا دیکھتا رہا. ساتھ والے کچھ لوگوں کو تھوڑی شرم آئ تو انہوں نے آگے بڑھ کر ثاقب کو اٹھانے کی کوشش کی. پھر الله بخش نے بیٹے کو اکھڑی سانسیں لیتا دیکھا تو ہوش آئ اور آگے بڑھ کر اسکو گود میں سمیٹ لیا

 

ملک صاحب! مائی باپ!’ الله بخش نے ایم پی اے کے آگے ہاتھ جوڑ دئے. ‘میرا بیٹا مر جائے گا ملک صاحب. آپ کو خدا رسول کا واسطہ، اسکو ہسپتال لے جایئں

 

دماغ پھر گیا ہے تیرا الله بخش؟ تیرے بیٹے کو ہسپتال لے گیا تو میاں صاحب کے قافلے کے ساتھ تیرا باپ ملے گا جا کر؟’ ملک صاحب نے اپنی لینڈ کروزر میں بیٹھتے ہوئے کہا

 

دفعہ کر اس فرعون کو الله بخش اور ادھر لےکر آ بچے کو! میں لے کر جاؤں گا ہسپتال.’ چاچا فقیر نے ثاقب کی حالت دیکھ کر، پہلے ہی چنگچی سٹارٹ کر لی تھی

 

ثاقب ہسپتال پہنچنے سے پہلےہی دم توڑ گیا. بیچارا الله بخش کچھ بھی نا کر سکا. بس رومال سے بیٹے کا بہتا خون روکنے کی کوشش کرتا رہا. پتہ نہیں ننھے سے جسم میں کہاں سے اتنا خون آ گیا تھا کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا

 

الله بخش ثاقب کی لاش لیکر گھر پہنچا تو ایک کہرام مچ گیا. کافی دیر تو ماں کو اکلوتے بچے کی موت کا یقین ہی نہیں آیا

 

ثاقب! او ثاقب! اٹھ نا! ماں صدقے اٹھ. دیکھ تیری ماں کا کلیجہ پھٹ جائے گا. جلدی سے اٹھ جا.’ وہ بیچاری بڑی دیر اسکو جھنجوڑ جھنجوڑ کر جگانے کی کوشش کرتی رہی

 

پھر جب کچھ پتہ لگا تو اس نے الله بخش کا گریبان پکڑ لیا

 

تو بتا مجھے الله بخشے! جب میرے بیٹے کو لیکر سفید شلوار قمیض میں گیا تھا، تو واپس سرخ کپڑوں میں کیوں لایا ہے؟ تو بتا! جواب دے میری بات کا! سرخ گلاب کی پتیاں بیٹے کی قبر کیلئے بھی بچا کر رکھی ہیں یا سب نچھاور کر دیں اپنے خداؤں پر؟

 

بیچارے الله بخش کے پاس بیوی کی کسی بات کا کوئی جواب نہیں تھا. وہ تو بس چپ سادھے، چارپائی پر پڑی اپنے خوابوں کی ننھی لاش دیکھتا رہا اور آنسو اس کی چھدری داڑھی بھگوتے رہے

_________________________________________________________

 

وہ پندرہ اگست کے دن، صبح کے تقریباً نو بجے کا وقت تھا جب مقامی تھانے کے ایس ایچ او کو اطلاع ملی. اس نے نفری لی اور بڑی سڑک کے بازار والے چوک پر پہنچ گیا. بجلی کے بڑے ٹرانسفارمر والے کھمبے پر، پاکستان کی بیشمار جھنڈیوں کے بیچ اور میاں صاحب کی مسکراتی نورانی تصویر والے پوسٹر کے ساتھ ہی، الله بخش کی لاش رسی کے ساتھ جھول رہی تھی

 

آہ خاہ! ایس ایچ او نے نیچے ہی کھڑے لاش کا سرسری معائینہ کرتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھری. ‘لگتا ہے بیچارا بیٹے کی موت کا غم برداشت نہیں کر سکا اور خود کشی کر لی

 

بچوں والی باتیں نا کر تھانیدار!’ بوڑھے چاچے فقیر نے اپنی چنگچی سے اترتے ہوئے کہا. ‘خودکشی تو ضرور کی الله بخش نے لیکن اسلئے کی کیونکہ اپنے بیٹے کا قاتل وہ خود تھا

 

کیا بکواس کر رہا ہے چاچا؟’ تھانیدار نے پتلون پیٹ پر چڑھاتے ہوئے کہا. ‘اسکا بیٹا تو میاں صاحب کے قافلے کی گاڑیوں کے نیچے آ کر کچلا گیا

 

بس یہی تو غلط فہمی ہے تم لوگوں کی.’ چاچے نے الله بخش کی بےنور آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا’

 

الله بخش کا بیٹا میاں صاحب کے قافلے کی گاڑیوں کے نیچے نہیں، بلکہ الله بخش کے دئے گئے ووٹ کے نیچے آ کر کچلا گیا. اس نے اپنے ہاتھوں سے بیلٹ پیپر پر مہر لگا کر، اپنے بیٹے کو قتل کیا. وہ خود اپنے بیٹے کا قاتل تھا. بلکہ ہم سب اسکے بیٹے کے قاتل ہیں

  

 

      

9 thoughts on “ہم سب قاتل ہیں

  1. اقتدار کی ہوس میں لُتھڑے ہوئے سفاک انسان نما درندوں کے منہ پر ایک تما چہ، ساتھ ہی ساتھ ہماری بے وقوف عوام کے لئے ایک سبق۔مگر افسوس نہ ہی وہ اپنی خو چھوڑیں گے نہ ہم اپنی وضع بدلیں گے۔۔اور سب کچھ اسی طرح جاری و ساری رہے گا۔

    Liked by 1 person

  2. Too inhuman to digest but too human to understand ……. but do you think that All Allah Buksh will understand and will all Saquibs be saved? ……… Not being Pessimist just a BTW comment.

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s