ریسائیکلنگ آف ویسٹ مٹیرئل

One of the best modern short stories. Kudos to the brilliant writer!

Arooj Zaka

“جانے کیا کیا گند بلاء سنبھال کر رکھتی ہے یہ لڑکی” بواء نے ریا کی الماری میں، دھلے کپڑے رکھتے ہوئے، قدرے جھلا کر کہا۔ یہ جملہ ہم گھر والوں کے لیئے نیا نہیں تھا۔ ہر روز صبح شام، اٹھتے بیٹھتے، ریا کو ردی سنبھال کر رکھنے پر، بواء سے ایسے ہی ڈانٹ پڑتی تھی۔ وہ بھی چپ چاپ سن لیتی تھی. آخر کیوں نہ سنتی، ماں کی طرح پالا تھا بواء نے ہمیں۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ہمارا گھرانہ چار افراد پر مشتمل ہے: پتا جی، بواء، ریا اور میں…. پریا۔ پتا جی ممبئی کے بہت بڑے نہ سہی مگر، اوسط درجے کے کامیاب کاروباری آدمی ہیں. میں انکی بڑی بیٹی پریا۔۔۔ میڈیکل کی تعلیم کے بعد ہاؤس جاب کر رہی ہوں؛ اور ریا۔۔۔ شہر کے مشہور کالج سے آرٹس میں ماسٹرز کر رہی ہے. ماتا جی ریا کے پیدائش کے وقت ہی انتقال کر گئیں تھیں۔ بواء ہماری بہت پرانی ملازمہ…

View original post 1,702 more words

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s