کتوں والی سرکار اور سین زوخت

mg_8155-1024x683

تمھیں یاد ہے، کچھ عرصہ قبل، تم نے مجھ سے ایک سوال پوچھا تھا اور میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا؟’ بابا جی نے اچانک پوچھا

‘ہاں….!’ میں نے سوچتے ہوئے کہا. ‘آپ کسی عجیب سے لفظ کے بارے میں بتا رہے تھے’

.سین زوخت……..یعنی “خواہشوں کا تعاقب”.’ باباجی نے نرمی سے مسکراتے ہوئے کہا’

‘میں نے کہا تھا کے اس لفظ کا مطلب سمجھنے کا وقت نہیں آیا’

ہاں…..!’ میں نے اثبات میں سر ہلایا. مجھے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن بابا جی کا دل رکھنے کو میں نے کہ دیا

.وقت آ گیا ہے بیٹے.’ بابا جی اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور میرے پاس آ کر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا’

 

میرا نام ملک عالم شہاب ہے اور میرا خاندان پاکستان بننے کے بعد میرٹھ سے اٹھ کر لاہور ہجرت کر گیا تھا. پچھلی قریباً چھ دہایئوں سے ہم لوگ، تیزاب احاطہ گوالمنڈی میں مقیم ہیں. پڑھائی میں میرا دل نہیں لگا تو میں نے بی اے کرنے کے بعد، گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس کا کام شروع کر دیا. یہ ان دنوں کی بات ہے جن دنوں میں نے اپنی دکان گوالمنڈی سے مونٹگمری روڈ پر منتقل کی

 

میری خوش قسمتی دیکھئے کے جیسے ہی میں نے دوکان منتقل کرنے کا ارادہ کیا، مجھے میرے ایک دوست نے، مونٹگمری روڈ کے ایک تاجر کے بارے میں بتایا، جس کا حال ہی میں انتقال ہوا تھا؛ اور اسکی اولاد اسکے چلتے کاروبار کو، اونے پونے داموں فروخت کر رہی تھی. میں نے آؤ دیکھا نا تاؤ اور جھٹ سے سودا فائنل کر دیا

 

دوکان کھولنے کے کچھ دن بعد، میں نے دایئں بایئں کے ماحول کا جائزہ لینا شروع کیا. میری دوکان کوپر روڈ سے مونٹگمری روڈ پر مڑتے ہی، بایئں جانب کی شروع کی کچھ  دکانوں میں سے ایک تھی. آپ میں سے جو خواتین و حضرات اس علاقے سے واقفیت رکھتے ہیں، وہ بخوبی اس امر سے واقف ہیں کے عام دنوں میں، وہاں پر ہر وقت ٹریفک جام رہتا ہے. پرانی گاڑیاں ٹھیک کرانے والے اور نئی گاڑیوں میں ڈیکوریشن کا سامان اور میوزک سسٹم لگوانے والوں کا رش اپنی جگہ، رہی سہی کسر، ٹھیلے اور ریھڑی والے پوری کر دیتے ہیں

 

آس پاس نظر دوڑانے پر، ایک شے کے علاوہ باقی سب کچھ، ماحول سے مطابقت پاتا دکھائی دیا. وہ ایک شے، ایک فقیر یا ملنگ نما بزرگ آدمی تھا، جو میری دکان کی بغل میں واقع، چائے والے کے سٹال کے سامنے فٹ پاتھ پر، ٹیلی فون کے کھمبے سے ٹیک لگائے، آرام سے بیٹھا ہوتا تھا. فقیر یا ملنگ نما اسلئے کہا کیونکہ وہ ہر وقت، صاف ستھرے مگر پیوند زدہ کپڑوں میں ملبوس ہوتا تھا. پیلا پڑتا سفید پاجامہ کرتا، گلے میں ایک موٹے موٹے لکڑی کے رنگین منکوں والی مالا اور پاؤں میں ربڑ کی ہوائی چپل

 

وہ ملنگ زیادہ تر فارغ بیٹھا ادھر ادھر دیکھتا رہتا اور دو چار آوارہ کتے سکون سے اسکے گھٹنوں سے لگے بیٹھے رہتے. کبھی کبھار اس ملنگ کے سامنے کوئی غریب آدمی یا عورت سر جھکائے بیٹھے نظر آتے. ایک دن میں نے چائے والے لڑکے سے اس ملنگ کے بارے میں پوچھا.

پتہ نہیں سر کون ہے اور کہاں سے آیا ہے. گزشتہ کئی سالوں سے یہیں اس فٹ پاتھ پر بیٹھا ہے. سردی ہو یا گرمی، بارش ہو یا دھوپ، یہیں بیٹھا رہتا ہے. رات کو بھی یہیں فٹ پاتھ پر سو جاتا ہے. پورے علاقے کے آوارہ کتے اس کے آس پاس پھرتے رہتے ہیں. بابا انکو کھلاتا پلاتا رہتا ہے. اسلئے لوگ اس کو کتوں والی سرکار کہتے ہیں.’ چائے والے لڑکے نے میل سے بھرا سر کھجاتے ہوئے کہا

 

تھوڑی دیر کو میرا دل کیا کہ میں جا کر، اس ملنگ کو قریب سے دیکھوں اور دو چار باتیں کروں، مگر پھر کچھ  گاہک آ گئے اور میرا دھیان بٹ گیا

 

ایک دن صبح تقریباً دس بجے میں نے دوکان کھولی ہی تھی کے اچانک، باہر سڑک پر بریک چرچرانے کی آواز سنائی دی. معمول کی بات تھی لہٰذا میں نے کوئی خاص دھیان نہیں دیا. البتہ تھوڑی دیر کے بعد شیشے سے جھانک کر دیکھا تو، ملنگ کے پاس کچھ لوگ کھڑے نظر آئے. میں باہر نکلا اور تیزی کے ساتھ چلتا ملنگ کے پاس پہنچا. وہ وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا اور اسکی گود میں ایک چھوٹا سا کتے کا پلہ، چیاؤں چیاؤں کر رہا تھا. غالباً کسی گاڑی کے نیچے آ گیا تھا کیونکہ اسکی ایک ٹانگ سے خون بہ رہا تھا. ملنگ روتا جا رہا تھا اور اس پلے کے سر پر اور کمر پر پیار سے ہاتھ پھیرتا جا رہا تھا. آہستہ آہستہ بھیڑ چھٹ گئ

 

.بابا جی!’ میں نے ملنگ کو آہستہ سے مخاطب کیا’ 

دیکھ نا! کیا حال کر دیا اس غریب کے بچے کا ظالموں نے.’ بابا جی نے پلے کی زخمی ٹانگ پیار سے سہلاتے ہوئے کہا. ان کی آنکھوں کے گوشوں سے آنسوؤں کی گدلی لڑیاں مسلسل رواں تھیں

‘کیا قصور تھا اس کا؟ بس سڑک ہی تو پار کر رہا تھا بیچارا’

اس چھوٹے سے بھورے رنگ کے پلے نے پہلے تو بابا جی کے ٹانگ پر ہاتھ لگانے پر، ہلکی سی غوں غاں کی لیکن پھر چپکا دبک گیا

 

بابا جی نے ہاتھ بڑھا کر ایک سالخوردہ لکڑی کا، چھوٹا سا بکس کھولا. پتا نہیں کیا الم غلم بھرا پڑا تھا اس میں. کپڑے کی رنگین کترنیں، دوائیوں کی ڈبیاں، چھوٹی چھوٹی شیشیاں اور پتہ نہیں کیا کچھ. پہلے انہوں نے ایک پیتل کا پیالہ نکالا اور پاس رکھے ٹین کے کنستر سے صاف پانی سے بھرا. پھر اس میں ڈیٹول کے کچھ قطرے ملائے. دو چار کترنیں نکالیں اور سیدھی کر کے ایک جانب رکھ دیں. پھر ڈھونڈ کر ایک اینٹی سیپٹک دوائی کی ٹیوب نکالی

 

یہ کیا کر رہے ہیں بابا جی؟’ میں نے حیرانگی سے پوچھا. ‘چھوڑیں دفع کریں. آوارہ کتا ہے. روز گاڑیوں کے نیچے آ کر زخمی ہوگا اور روز بلبلائے گا. آپ کب تک مرہم پٹی کرتے رہیں گے اسکی؟

نا بیٹے نا! ایسے نہیں کہتے.’ باباجی نے دایئں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو نفی میں جنبش دیتے ہوئے کہا. ‘کسی کی تکلیف دور نہیں کر سکتے؟ نا کرو. پرواہ نہیں کر سکتے؟ نا کرو. مگر اسکی تکلیف کو معمولی نا کہو. تکلیفوں کی گٹھریاں چھوٹی بڑی نظر ضرور آتی ہیں، مگر بوجھ سب کا ایک سا ہوتا ہے’

اس کتے کے پلے کی تکلیف کا بوجھ ہمارے برابر؟’ میں نے بابا جی کی گود میں دبکے کتے کے بچے کی طرف اشارہ کر کے پوچھا، جو میری ہی طرف اپنی بھوری بھوری ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا

نا بیٹے نا. اس غریب کا بوجھ تو بہت زیادہ ہے.’ بابا جی نے احتیاط سے کتے کی زخمی ٹانگ پکڑی اور بہت آرام اور نرمی سے، ڈیٹول ملے پانی سے دھونے لگے

.ہیں؟ اسکا بوجھ زیادہ ہے؟ وہ بھلا کیسے؟’ میری سمجھ میں انکی بات نہیں آ سکی’

ارے! بے زبان جو ہوا یہ. زبان ہوتی تو رو رو کر ساری دنیا کو اپنے آپ پر ہوا ظلم بتاتا. بلکہ روٹی بھی مانگ لیتا.’ بابا جی نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا

 

کتے کی ٹانگ پردوائی لگی تو اس نے کسمسانا بند کر دیا. اٹھنے کی کوشش کی تو بابا جی نے کمر پر ہاتھ کا دباؤ ڈال کر واپس اپنی گود میں بٹھا لیا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگے

‘نا بھائی نا، ابھی پٹی باقی ہے. آرام سے بیٹھ جا. پٹی کرا کے، کھانا کا کر چلے جانا’

وہ کتورا وہیں انکی گود میں آرام سے ایسے دوبارہ دبک گیا جیسے انکی بات سمجھ گیا ہو

 

‘بابا جی! آپ کو پتا ہے، آپ کے شاید انہی کاموں کی وجہ سے لوگ آپ کو کتوں والی سرکار کہتے ہیں؟’

بابا جی کے چہرے پر ایک شفیق مسکراہٹ کا نرم اجالا پھیل گیا

ہاں بیٹے! مجھے پتا ہے. لیکن غلط کہتے ہیں. میری کیا مجال کے میں کتوں کی سرکار بنوں؟ میں تو صرف باپ ہوں ان سب کا. بلکہ نہیں!…….’ بابا جی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

 ‘باپ تو ہوتے ہیں تھوڑے غصّے والے. میں تو انکی ماں ہوں’

میں بے اختیار ہنس پڑا اور وہاں سے اٹھ کر واپس اپنی دکان میں چلا گیا

       

میری دوسری ملاقات بابا جی سے کچھ مہینوں بعد ہوئی. ایک دن میں دوکان پر کچھ رقم بھول گیا. گھر پہنچ کر یاد آیا تو میں تھوڑا پریشان ہوگیا. اگلے روز اتوار کی چھٹی تھی اور رقم تھوڑی زیادہ تھی. دوکان میں چھوڑنا مناسب نہیں تھی. لہٰذا رات کا کھانا کھا کر میں نے گاڑی نکالی اور دوکان کی طرف نکل پڑا. سردیوں کی رات تھی اور پوری مارکیٹ میں ھو کا عالم طاری تھا

 

میں نے دوکان کھول کر رقم نکالی اور احتیاط سے گاڑی کے ڈیش بورڈ میں رکھ دی. گاڑی سٹارٹ کرکے آگے بڑھانے ہی لگا تھا کے ہیڈ لائٹوں کی روشنی میں، وہ ہی ملنگ نظر آیا. وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا اور اسکے سامنے سر جھکائے، کوئی آدمی بیٹھا تھا. مجھے بڑا ترس آیا. اتنی سردی میں بوڑھا آدمی فٹ پاتھ پر کیسے رات گزارتا ہوگا. کچھ سوچ کر میں گاڑی سے اتر آیا اور چلتا ہوا بابا جی کے پاس جا پہنچا

 

قریب پہنچا تو دیکھا کے وہ آدمی، بابا جی سے کوئی بات کر رہا تھا. مجھے دیکھتے ہی بابا جی نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا. میں وہیں ایک طرف کھڑا ہو کر اس آدمی کی بات سننے لگا

کیا بتاؤں بابا جی…!’ وہ آدمی ہاتھ ملتا کہ رہا تھا. ‘وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، میری نئی نویلی خوبصورت بیوی اور ماں کے درمیان تعلقات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے. اب تو میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ قصور میری بیوی کا تھا. اسکو میری ماں ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی. لیکن اس وقت میری آنکھوں پر پٹی بندھی تھی. مجھے اپنی ماں ایک ڈایئن نظر آنے لگی جو میری پریوں جیسی بیوی کا خون چوسنا چاہتی تھی

 

کہتے کہتے وہ آدمی خاموش ہوگیا. بابا جی بھی کچھ نا بولے. ان کے گھٹنے سے سمٹے دو آوارہ کتے گردن اٹھا کر کبھی اس آدمی اور کبھی بابا جی کی طرف دیکھتے اور دونوں کو خاموش پا کر دوبارہ سر جھکا لیتے. بابا جی نے پاس پڑا ٹین کا کنستر گھسیٹ کر قریب کیا اور اس میں سلگتے کوئلے کریدنے لگے. جلتے انگاروں سے چٹاخ چٹاخ کی آوازیں گونجیں تو اس آدمی نےچونک کر سر اٹھایا

 

بولتے رہو بیٹے…..بولتے رہو.!’ بابا جی نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر شفقت سے کہا.’پھر بابا جی…..پھر….!’ وہ آدمی سسکنے لگا

.بولو بیٹے….میں سن رہا ہوں. پھر کیا ہوا؟’ بابا جی نے اسکا سر سہلاتے ہوئے پوچھا’

پھر وہ کالی رات آئ بابا جی. میں کام سے گھر پہنچا تو میری بیوی حسب معمول میری ماں پر چیخ رہی تھی. مجھے دیکھتے ہی شکایتوں کے انبار لگا دئے. تھوڑی دیر تو میں چپ چاپ سنتا رہا اور پھر، میرے سر پر جیسے کوئی جن سوار ہوگیا. میں نے اپنی بوڑھی ماں کے بال پکڑ کر کھینچے اور گھسیٹتا ہوا لے جا کر، گلی میں پھینک دیا اور دروازہ بند کر لیا. وہ….وہ…..

اس آدمی کی ہچکی بندھ گئ اور اس نے آگے بڑھ کر اپنا متورم چہرہ بابا جی کی گود میں چھپا لیا

‘بولو بیٹے…بولتے رہو….بولو گے نہیں تو بوجھ ہلکا کیسے ہوگا؟’

‘نہیں بابا جی میں نہیں بتا سکتا. میری زبان میں اپنا گناہ بیان کرنے کی طاقت نہیں ہے’

کوشش کرو بیٹے….بولتے رہو. میں سن رہا ہوں.’ بابا جی کی پرسکون نظریں سامنے خلا میں میں کسی غیر مرئ نقطے پر مرکوز تھیں

 

ہچکیاں لیتے لیتے اس آدمی نے ایک لمبا سانس لیا اور وہیں بابا جی کی گود میں سر چھپائے کہنے لگا

پھر میں نے دروازہ نہیں کھولا بابا جی. میری ماں رو رو کر مجھے آوازیں دیتی رہی، پکارتی رہی…..بشیر…او بشیر…دروازہ کھول دے پتر…دل سخت نا کر…باہر بڑی سخت ٹھنڈ ہے پتر. مگر میں نے دروازہ نہیں کھولا. محلے والے میرے غصے سے اچھی طرح واقف تھے لہٰذا اگر انہوں نے کچھ سنا بھی تو، ان سنا کر دیا. جب ماں نے بہت آوازیں دیں تو میری بیوی نے مجھے رضائی میں گھسیٹ کر، اپنے ساتھ چمٹا لیا. ماں کی محبت پر بیوی کی حرارت آمیز آغوش کی خواہش، غالب آ گئ. کانوں میں ماں کی آواز آنی بند ہوگئ. جب تین چار گھنٹوں کے بعد خواہش کی، نشہ بھری غنوندگی سے باہر نکلا ت،و ماں کا خیال آیا. جا کر دروازہ کھولا تو ماں وہیں پڑی تھی اکڑی ہوئی. بس جسم میں …….بس جسم میں جان نہیں تھی

یہ کہتے ہی اس آدمی نے دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیا

‘مجھے معافی کیسے ملے گی بابا جی؟ مجھے بتاؤ بابا جی….مجھ گناہ گار کو معافی کیسے ملے گی؟’

معافی دینا میرا کام نہیں ہے بیٹے. میں تو بس یہ بوجھ بانٹ سکتا ہوں تیرا. بس یہ شرمندگی، شرمساری اور پچھتاوے کی بوری جو تو اٹھائے پھرتا ہے. یہ ہی بوجھ ہے.’ بابا جی کی انگلیاں بدستور اس آدمی کے بالوں میں شفقت سے گردش کر رہی تھیں

 

میری عجیب و غریب حالت تھی. اسکی کہانی سن کر میرے جسم میں آگ لگ گئ تھی. میں اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ سکا. آگے بڑھا اور گھسیٹ کر اس آدمی کو بابا جی سے علیحدہ کر دیا اور مارنا شروع کر دیا

کمینے، بے شرم، بے غیرت….تجھے شرم نا آئ، اپنی بیوی کی باتوں میں آ کر، اپنی بوڑھی ماں کو اس ظالم سردی میں گھر سے نکال دیا؟ قتل کر دیا بیدردی سے اور اب معافی کی بات کر رہا ہے؟ تو جہنمی ہے

چھوڑ دو اسکو بیٹے. انسان ہے، خطا کا پتلا ہے. غلطی ہوگئ ہے اس سے.’ بابا جی نے چھڑانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا. مگر میں کہاں سنتا تھا. تھوڑی دیر مار کھانے کے بعد میں سانس لینے کو رکا تو وہ اپنا دامن چھڑا کر بھاگ گیا. میں نے پیچھے جانے کی کوشش کی تو بابا جی نے میری کلائی تھام لی؛ اور زبردستی مجھے وہیں نیچے فٹ پاتھ پر، اپنے ساتھ بٹھا لیا

 

تھوڑی دیرہم دونوں میں سے کوئی نا بولا اور میں بیٹھا سانس درست کرنے کی کوشش کرتا رہا. تھوڑی دیر بعد میرے اوسان بحال ہوئے تو بابا جی نے، پاس رکھے گھڑے سے پانی ایک سٹیل کے گلاس میں انڈیلا اور میری طرف بڑھا دیا. میں نے چپ چاپ گلاس ہاتھ میں پکڑا اور ایک ہی سانس میں چڑھا گیا

             

بتانے والے بتاتے ہیں کے ساہیوال سنٹرل جیل کا، کسی زمانے میں ایک سپرنٹنڈنٹ ہوا کرتا تھا. عبدل کریم نام تھا اسکا.’ باباجی نے اچانک بولنا شروع کیا تو میں چونک گیا. کچھ پوچھنے کی کوشش کی لیکن پھر خاموش ہوگیا

بہت ذمہ دار، فرض شناس اور دیانت دار آدمی تھا. دن رات قیدیوں کی دیکھ بھال میں لگا رہتا. انکے کھانے پینے، رہنے سہنے کا خیال رکھتا. بہت دعائیں ملتی تھیں اسکو. پڑھا لکھا بھی تھا. کتابیں پڑھنے کا اور جمع کرنے سے، دیوانگی کی حد تک لگاؤ تھا اس کو. اسی طرح قیدیوں کو دیکھتے دیکھتے، ان کے ساتھ رہتے رہتے اور کتابیں پڑھتے، ایک دن بنانے والے نے اور بنانے والے کی قدرت نے، اس کی آنکھیں کھول دیں. اس نے دنیا تیاگ دی، افسری پر لعنت بھیجی اور چلا گیا کہیں

 

تھوڑی دیر بابا جی خاموش رہے تو میں نے پوچھا

‘کہاں چلا گیا عبدل کریم بابا جی؟’

یہ ضروری نہیں ہے کے پتہ چلے کے وہ کہاں چلا گیا تھا. البتہ یہ ضروری ہے جاننا کہ، عبدل کریم نے قیدیوں کو دیکھ کر، ان کے ساتھ رہ کر، کیا سبق سیکھا

.کیا سبق سیکھا عبدل کریم نے بابا جی؟’ میں نے اشتیاق سے پوچھا’

‘ہوں…!’ بابا جی نے ایک ہنکارا بھرا. ‘اس نے سیکھا کے دنیا سین زوخت ہے’

‘سین زوخت؟’ میری سمجھ میں انکی بات نہیں آئ. ‘یہ سین زوخت کیا بلا ہے بابا جی؟’

.جرمن زبان کا لفظ ہے…….’ بابا جی نے مسکرا کر کہا’

.جرمن..؟’ میں کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن بابا جی نے میری بات سنی ان سنی کر دی اور بولتے چلے گئے’

‘جرمن زبان کا لفظ ہے اور اسکا مطلب ہے ”خواہشوں کا تعاقب”. زندگی سین زوخت ہے بیٹے’

.میں سمجھا نہیں بابا جی.’ میں نے بیچارگی سے کہا’

ابھی سمجھنے کا وقت نہیں آیا کاکا. جب وقت آئے گا، سمجھ  بھی آ جائے گی. ابھی گھر جا. رات بہت بھیگ چکی

میں نے بابا جی کی باتوں کو انکے دماغ کا خلل قرار دیا اور اٹھ کر گھر چلا گیا

 

گھر جا کر بیوی سے ساری بات کا ذکر کیا تو وہ بہت ہنسی

‘جانے کہاں سے مل جاتے ہیں ایسے لوگ آپ کو’

میری بیوی بہت نیک عورت تھی. پھر مجھے اس سے محبت بھی بہت تھی. بہت خدمت گزار تھی اور تین بیٹے ہونے کے بعد سے تو وہ، ہمارے گھر کی ملکہ بن گئ تھی. میری شادی بہت جوانی میں ہی ہو گئ تھی. دوسرا ابّا جی مرحوم کا رعب و دبدبہ بھی بہت تھا. لہٰذا اکلوتا ہونے کے باوجود، کبھی آوارہ گردی کی طرف دھیان نہیں گیا تھا

 

مارکیٹ میں مسلسل بیٹھنے اور دو چار نئے دوستوں کی صحبت کی وجہ سے، صورت حال تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتی چلی گئ. بازار حسن کے چکّر بھی لگنے لگے. کبھی کبھار شراب بھی پینے لگا. چلتا کاروبار تھا. پیسے کی کمی نہیں تھی. لیکن ان سب باتوں کے باوجود، بیوی سے محبت کم نہیں ہوئی تھی. میں تب بھی اسکو اپنی زندگی کا محور سمجھتا تھا

 

پھر ایک دن ایک محفل میں میری ملاقات شبنم سے ہوئی. لاہور کی ابھرتی ہوئی اسٹیج ایکٹریس تھی. خدا نے بے پناہ حسن و شباب سے نوازا تھا. پھر اسکو بننے سنورنے کا سلیقہ بھی بہت تھا. مجھے نہیں سمجھ آئ کہ میں کب، اس دشمن جان کی زلف کا اسیر ہوگیا. پھر اسکی خاص نظر کرم بھی ہوگئ مجھ پر تو، دن عید اور راتیں شب برات ہو گیئں. اسکے نخروں اور خواہشات پر میرا پیسا، پانی کی طرح بہنے لگا. قارون کا خزانہ تو تھا نہیں. آہستہ آہستہ جائداد بک گئ، گاڑیاں بک گیئں. فیملی کو کرائے کے گھر میں شفٹ کرنا پڑا. بیوی کا زیور بکنے کی باری آئ تو وہ بھلی مانس میری راہ میں، دیوار کی طرح کھڑی ہوگئ اور مجھے رو رو کر سمجھانے کی کوشش کی. مگر میں کہاں سنتا تھا. میرے دماغ پر تو شبنم کا حسن شیطان بن کر سوار تھا. تین لفظ طلاق کے بولے، زیور اٹھایا اور گھر سے نکل پڑا

 

شبنم کے گھر پہنچا تو چار پانچ دن تو خوب آؤ بھگت ہوئی. اسکی خرانٹ ماں میری بلائیں لیتی نا تھکتی تھی. اور شبنم، وہ تو کنیز ہوگئ تھی میری. پھر ایک دن وہ زیور بھی ختم ہوگیا. جب شبنم اور اسکے گھر والوں کو سمجھ آ گئ کہ میرے پلے تو گھاس کا تنکا بھی نہیں رہ گیا تھا تو مجھے، گھر سے دھکے مار مار کر نکال دیا. میں نے غصے میں انکے ٹاؤن شپ میں واقع گھر کے گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر، خوب گالیاں بکیں. جب شور سن کر پڑوسی باہر نکلنے لگے تو شبنم کے بھائیوں نے مجھے بہت مارا پیٹا اور گاڑی میں ڈال کر، زخمی اور بیہوش حالت میں میری دوکان کے سامنے پھینک گئے

 

میری آنکھ کھلی تو کسی سرکاری ہسپتال کے وارڈ میں پڑا تھا. درد سے کراہا تو کسی نے مجھے سہارا دے کر بیڈ پر سیدھا کر کے بٹھایا اور پانی کا گلاس میرے منہ سے لگا دیا. میں نے آنکھیں کھولی تو وہ ہی کتوں والے بابا جی تھے

.بابا جی….آپ؟’ میں نے کراہتے ہوئے پوچھا’

ہاں! تمھیں وہ لوگ دوکان کے سامنے پھینک گئے تھے. رات کا وقت تھا. مارکیٹ تو بند پڑی تھی. میں نے رکشے میں ڈالا اور ہسپتال لے آیا. آج تیسرا دن ہے تمھیں ہسپتال میں

بابا جی……میں……!’ میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا

‘میں سب جانتا ہوں بیٹے’

.میری بیوی بابا جی……’ مجھے اچانک اپنے بیوی بچوں کا خیال آیا’

‘ہاں…! پتہ کرنے گیا تھا میں تمھارے گھر’

.پھر؟ آپ نے ان لوگوں کو خبر کی؟’ میں نے پوچھا’

لیکن بابا جی نظریں جھکائے خاموش کھڑے رہے

بتائیں نا بابا جی….کیا کہا ان لوگوں نے؟ مجھے سے میری بیوی بہت خفا ہوگی یقیناً. لیکن میں اسکو منا لوں گا. معافی مانگ لوں گا اس سے.’ میں نے بے تابی سے کہا

منانے کا وقت گزر گیا بیٹے……جب میں تمہارے گھر پہنچا تو تمھاری بیوی کا جنازہ اٹھ رہا تھا. غالباً دل کا دورہ پڑا تھا اس غریب کو

کیا کہ رہے ہیں آپ؟ وہ تو جوان عورت تھی. دل کا دورہ کیسے پڑ گیا؟’ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا. ہر طرف سیٹیاں سی بج رہی تھیں

‘کبھی کبھی جب دل زیادہ حصوں میں ٹوٹ جائے بیٹے، تو دھڑکنا بھول جاتا ہے’

‘نہیں بابا جی، یہ غلط ہے. آپ ……. آپ پھر چیک کریں’

بولتے بولتے میری ہچکیاں بندھ گیئں اور پھر میں نے دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا. بابا جی خاموش بیٹھے میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے رہے. جب حالت زیادہ خراب ہوگئ تو کسی نرس نے آ کر کوئی سکون آور انجکشن لگا دیا

 

میری آنکھ کھلی تو دن کا اجالا پھیل چکا تھا اور سورج کی روشنی، وارڈ کی کھڑکیوں سے چھن چھن کر اندر آ رہی تھی. میں نے کروٹ بدلی تو پاس ہی لکڑی کے بنچ پر بیٹھے بابا جی پر نظر پڑی جو، میری ہی طرف دیکھتے مسکرا رہے تھے. میں خالی خالی نظروں سے انکی طرف گھورتا رہا. مجھے رات کی باتیں ایک بھیانک خواب کی طرح لگ رہی تھیں. پھر مجھے ایک خیال آیا تو میں نے بابا جی سے پوچھا

‘بابا جی! میرے بچے کہاں ہیں؟’

.انکو انکا بڑا ماموں اپنے ساتھ لے گیا ہے.’ بابا جی نے کہا’

میں کچھ نا بولا اور خاموش لیٹا سوچتا رہا

 

تمھیں یاد ہے، کچھ عرصہ قبل، تم نے مجھ سے ایک سوال پوچھا تھا اور میں نے جواب نہیں دیا تھا؟’ بابا جی نے اچانک پوچھا

‘ہاں….!’ میں نے سوچتے ہوئے کہا. ‘آپ کسی عجیب سے لفظ کے بارے میں بتا رہے تھے’

.سین زوخت……..یعنی “خواہشوں کا تعاقب”.’ باباجی نے نرمی سے مسکراتے ہوئے کہا’

‘میں نے کہا تھا کے اس لفظ کا مطلب سمجھنے کا وقت نہیں آیا’

ہاں…..!’ میں نے اثبات میں سر ہلایا. مجھے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن بابا جی کا دل رکھنے کو میں نے کہ دیا

 

.وقت آ گیا ہے بیٹے.’ بابا جی اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور میرے پاس آ کر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا’

انسان کا خمیر خواہش سے اٹھا ہے بیٹے. پیدائش سے لیکر موت تک، ہر انسان سفر کرتا ہے. خواہشوں سے خواہشوں کا سفر. ایک خواھش سے دوسری خواہش. ایک آرزو سے دوسری آرزو. ایک سراب سے دوسرا سراب. کبھی خواھش پوری ہوجاتی ہے اور کبھی نہیں. لیکن انسان یہ نہیں سمجھتا کہ دونوں صورتوں میں اسکے لئے گھاٹا ہے. خواہش پوری ہوجائے تو اسکے نتیجے میں کشید کی گئ لذت کی ندامت؛ اور پھر کسی اور خواھش میں، اسی لذت کی دوبارہ تلاش کی تھکن. خواھش نا پوری ہو تو حاصل پچھتاوا. انسان پوری زندگی ان ندامتوں اور پچھتاووں کی گٹھڑی کندھے پر اٹھائے پھرتا رہتا ہے. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، یہ گھٹڑی بھاری ہوتی چلی جاتی ہے؛ اور انسان کی روح تھکتی چلی جاتی ہے. یہ ہی سین زوخت ہے

 

.لیکن کیا کیا جا سکتا ہے؟ سبق کیا حاصل ہوا؟’ میں نے کچھ چڑ کر پوچھا’

سبق؟’ بابا جی نے مسکراتے ہوئے میرا کندھا بھینچا. ‘سبق یہ ہے کہ ہم سب کے کندھوں پر، گھٹڑیاں لدی ہیں اور ہم سب کی گھٹڑیاں بھاری ہیں. ایک گھٹڑی اٹھانے والے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ، دوسرے کی گھٹڑی پر، دوسرے کی ندامتوں پر، دوسرے کے پچھتاووں پر اور دوسرے کے گناہوں پر اعتراض کرے

.تو کیا کریں پھر؟ اپنی گھٹڑی سنبھالیں اور دوسروں کی فکر چھوڑ دیں؟’ میں ابھی بھی نہیں سمجھ سکا تھا’

نہیں بیٹے، فکر نہیں چھوڑیں بلکہ بوجھ اٹھانے میں انکی مدد کریں.’ بابا جی نے میرے بالوں میں شفقت سے انگلیاں پھرتے ہوئے کہا

.وہ کیسے؟’ میں نے حیرانی سے پوچھا’

دوسروں کی بات کسی بھی تعصب اور نفرت کے بغیر سمجھنا اور سننا؛ اور انکے گناہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی، ان کی کمزوری سمجھ کر، ان سے محبت کرنا. یہی تو مدد کرنا ہے. خدا بھی تو شاید یہ ہی کرتا ہے یا کم از کم، ہم اس سے اس کی امید ضرور کرتے ہیں

میں نے بابا جی کی بات سن کر سر جھکا لیا اور مجھے وہ رات یاد آ گئ کے جب میں نے اس شرمسار آدمی کو مارا پیٹا تھا. مجھے اپنی بیوی پر کئے گئے اپنے ظلم یاد آ گئے. مجھے اپنے گناہ یاد آ گئے اور میں نے بے اختیار رونا شروع کر دیا

 

.میں بہت گناہگار ہوں بابا جی.’ میں نے سسکتے ہوئے کہا’

.میں بھی گناہگار ہوں بیٹے. ہم سب گناہگار ہیں.’ بابا جی نے مجھے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا’

‘میرا بوجھ بہت بھاری ہے بابا جی’

‘میرا بھی بوجھ بھاری ہے بیٹے. ہم سب کا بوجھ بہت بھاری ہے’

پتا نہیں میں کتنی دیر روتا رہا اور پھر بابا جی کے سینے سے لگا لگا بیہوش ہوگیا

 

جب میری آنکھ کھلی تو شام ہوچکی تھی اور بابا جی جا چکے تھے. اگلے دن صبح ہسپتال والوں نے مجھے ڈسچارج کر دیا. میں سے بہت سوچا کے کہاں جاؤں. پھر دل ہی دل میں بابا جی سے مشورہ کرنے کا فیصلہ کیا اور لوگوں سے لفٹ مانگ کر مونٹگمری روڈ پہنچا. بابا جی کی جگہ خالی پڑی تھی. میں نے چائے والے لڑکے سے پوچھا

.ملک صاحب! آپ کو کیا ہوا ہے؟’ اس نے ترحم آمیز نظروں سے میرے حلیے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا’

.اس بات کو چھوڑو. بابا جی کہاں گئے؟’ میں نے بے چینی سے پوچھا’

‘کون بابا جی؟’ اس نے سر کھجاتے پوچھا’

.کتوں والی سرکار کا پوچھ رہا ہوں یار.’ میں نے جھنجلا کر کہا’

.اوہ اچھا اچھا!’ اس نے لمبی سانس لے کر کہا’

‘وہ بابا بیچارہ تو کچھ دن پہلے ایک کتے کو بچاتے بچاتے گاڑی کے نیچے آ کر چل بسا’

‘کیا؟’ کچھ لمحوں کیلئے مجھے لگا کے میں نے غلط سنا ہے. ‘کچھ دنوں پہلے؟ کتنے دن پہلے’

یہ ہی کوئی چار پانچ دن ہوئے ہونگے.’ اس نے سوچ کر جواب دیا اور پھر اپنے مالک کے آواز دینے پر، مجھے ہکابکا چھوڑ کر، سٹال کے اندر چلا گیا

 

میں وہاں کھڑا بہت دیر سوچتا رہا. لیکن کچھ پلے نا پڑا. تنگ آ کر ایک طرف کو چل پڑا

ملک صاحب! او ملک صاحب!’ میرے کان میں آواز پڑی تو میں نے مڑ کر دیکھا. وہ ہی چائے والے کا ملازم لڑکا تھا

میں وہیں رک گیا اور وہ لڑکا دوڑ کر میرے پاس آ گیا

ملک صاحب! بابا یہیں سڑک پر زخمی پڑا آخری سانسیں لے رہا تھا. میں نے پانی کا گلاس منہ سے لگایا تو اس نے مجھے، اپنا لکڑی کا ڈبہ، آپ کے حوالے کرنے کو بولا تھا

یہ کہ کر اس نے اپنے ہاتھ سے لٹکا ڈبہ میرے بازو میں لٹکایا اور واپس بھاگ گیا

 

میں وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا اور ڈبے کی تلاشی لینے لگا. کیا دولت ہونی تھی اس میں. وہ ہی کپڑے کی کترنیں، شیشے کی بوتلیں، پانی پینے کا پیالہ اور گلاس اور دوائیاں. پھر مجھے ڈبے کی تہ میں احتیاط سے رکھی، چھوٹی سی، کپڑے کی پوٹلی نظر آئ. پوٹلی کی گرہ کھولی تو کچھ خطوط اور ایک آدھ شناختی کارڈ نما کوئی چیز تھی. میں نے خطوط واپس رکھ کر کارڈ اٹھا کر دیکھا. سنٹرل جیل ساہیوال کا بنا شناختی کارڈ تھا. کارڈ پر نام لکھا تھا “سپرنٹنڈنٹ عبدل کریم” اور تصویر میں بابا جی کا، داڑھی مونچھوں سے صفا چہرہ مسکرا رہا تھا

 

میں اب بھی وہیں ہوتا ہوں. مونٹگمری روڈ پر. لیکن اب لوگ مجھے ملک صاحب نہیں کہتے. اب لوگ مجھے کتوں والی سرکار کہتے ہیں

19 thoughts on “کتوں والی سرکار اور سین زوخت

  1. A long awaited gift to your fans on new year 🙂
    Sir, Happy Writing , and wishing you the best of both the World’s.
    A good strory by the way,but I am getting late , so bye 😀

    Liked by 1 person

  2. Sheheryar Khawar Bhai, This was simply awesome. I read it in one swing and was totally a part of this happening till I finished it. I did my engineering from UET Lahore so I almost knew the surroundings of the spot. Really enjoyed it because it was totally different and gave me a shade of the writings of Ashfaq Ahmed, Mumtaz Mufti and also of Saadat hasan manto……Thanks for the beautiful share.

    Liked by 1 person

  3. اس تحریر کو کہانی سے زیادہ محسوسات، تجربات ، مشاہدات یا کیفیات کہا جاَئے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ بہترین مکالمات،اور خوبصورت عنوان، بلاشبہ بے مثال اندازِ تحریر۔۔۔آپ کی تحریر وقت کے ساتھ مزید نکھر رہی ہے۔

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s