سنہری دروازوں والی مسجد اور چیکو سلواکیہ کی اینا

door

دبئی ایئر پورٹ شاید دنیا کا وہ واحد ائیرپورٹ ہے جہاں ہر قومیت، ہر رنگ، ہر نسل اور ہر زبان بولتا شخص نظر آتا ہے. میں اس بہت بڑے ایئر پورٹ پر پچھلے ایک گھنٹے سے مارا مارا پھر رہا تھا
جی نہیں، مجھے کسی مخصوص فلائٹ کیلئے کسی خاص گیٹ کی تلاش نہیں تھی
مجھے کسی مخصوص ایئر لائن کے ٹکٹ کاؤنٹر یا ہیلپ ڈیسک کی بھی تلاش نہیں تھی
مجھے تلاش تھی ایک عدد سموکنگ لاؤنج کی کیونکہ تہذیب یافتہ ملکوں میں ہر جگہ سگریٹ پینے کی اجازت نہیں ہوتی. یقیناً بہت اچھی بات ہے لیکن میرے جیسے تمباکو کے عاشقوں کیلئے بہت ہی عذاب کا بائث ہے

ایک بہت ہی ملنسار قسم کی خاتون نے مجھے ٹرمینل تھری پر دو نمبر گیٹ کے پاس واقع سموکنگ لاؤنج کا بتایا. بہت دور تھا مگر کیا کرتا. لیپ ٹاپ کا بیگ کندھے پر ڈالا اور چل پڑا سوئے منزل

 

سموکنگ لاؤنج تک پہنچا تو منظر ہی کچھ اور تھا. چھوٹا سا شیشے کی دیواروں سے بنا، تقریباً بارہ ضرب تیس فٹ کا ایک کمرہ تھا جو کہ کھچا کھچ سگریٹ نوشی کے دیوانوں سے بھرا پڑا تھا. یوں تو بیشمار کرسیاں، صوفے اور چمڑے کے نرم سٹول لاؤنج میں جگہ جگہ بکھرے پڑے تھے لیکن سب پر دھواں اڑاتے خواتین و حضرات کا قبضہ تھا. میں تھوڑی دیر دروازے میں کھڑا جگہ تلاش کرتا رہا. تنگ آ کر سگریٹ کا پیکٹ جیب سے نکالا اور کھڑے کھڑے سگریٹ سلگانے لگا

 

ابھی شعلے نے صحیح طور سے سگریٹ کے کنارے کو چوما بھی نہیں تھا کے میری توجوہ ایک کونے میں بیٹھی ایک گوری عورت کی طرف مبذول ہوگئ. وہ لاؤنج کے ایک کونے میں دو سیٹوں پر پھیل کر بیٹھی تھی اور مسکرا کر مجھے اپنی طرف بلا رہی تھی. پہلے تو میں نے اپنے آس پاس نظر دوڑائی کے شاید اس کی توجوہ کا مرکز کوئی اور تھا، لیکن پھر مجھے یقین ہوگیا کے وہ مجھے ہی اپنی طرف بلا رہی تھی. میں نے سگریٹ واپس پیکٹ میں ڈالا اور لوگوں کے ہجوم میں سے جگہ بناتا اس تک پہنچ گیا. اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا، تھوڑا سمٹ کر میرے لئے جگہ بنائی اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا

 

میں نے بیٹھ کر ایک گہرا سانس لیا اور لیپ ٹاپ کا بیگ کندھے سے اتار کر کمر پیچھے ٹکا دی. پھر سکون سے سگریٹ دوبارہ نکالا اور لائٹر جلانے کو تھا کے اس عورت نے ماچس کی ایک جلتی تیلی میری طرف بڑھا دی. میں نے سگریٹ جلایا اور مشکور نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا
‘تھینک یو سو مچ’
کوئی بات نہیں.’ اسکے چہرے پر بدستور وہ مسکراہٹ ناچ رہی تھی. ‘تم وہاں دروازے پر ایسے پریشان کھڑے مجھے بہت اکیلے سے لگے. میں نے سوچا، تمھیں یہیں بلا لوں
میں نے ایک قہقہہ لگایا اور پھر غور سے اسکی طرف دیکھنے لگا

 

وہ تقریباً پچاس یا پھر پچپن کے پیٹے میں ایک بھاری بھرکم سی خاتون تھی. پیشانی پر گھنے بھورے مائل اور چاندی کی چمک لئے نرم بال بکھرے پڑے تھے. سبز گہری آنکھیں نظر کی نازک سنہرے فریم والی عینک کے عدسوں کے پیچھے سے بڑے انہماک سے میرا مطالعہ کر رہی تھیں. اسکے بیضوی چہرے پر کسی بچے کی مانند صاف ستھری معصومیت چمک رہی تھی. کانوں سے سبز زمرد کے لمبے کانٹے لٹک رہے تھے اور گلے میں اسی پتھر کا ایک پینڈنٹ لٹک رہا تھا. اور اس پینڈنٹ کے علاوہ بھی چھوٹے بڑے رنگین منکوں والے جانے کتنے ہار. سفید بلاؤز، پنڈلیوں تک کھنچی کالی چست جینز اور پاؤں میں چمڑے کی سینڈل. اسکے پورے وجود میں سب سے پر کشش چیز اسکی مسکراہٹ تھی. زندگی سے بھرپور، کسی اندررونی حدت سے دہکتی، آنچ دیتی، مہربان اور شفیق

 

.شہریار…..فرام پاکستان!’ میں نے مسکرا کر ہاتھ آگے بڑھایا’
.اینا……فرام چیکو سلواکیہ!’ اس نے گرم جوشی سے میرا ہاتھ تھام لیا’
اس سے ہاتھ ملاتے ہی مجھے یوں لگا کے حرارت کی ایک لہر اسکے وجود سے نکل کر میرے وجود میں سرائیت کر گئ ہو

 

میں لائٹر کے بجائے، ماچس کی تیلی سے سگریٹ جلانے کو ترجیح دیتی ہوں.’ اس نے میرا ہاتھ پکڑے اور میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا
.وہ کیوں بھلا؟’ میں نے پوچھا’
‘ماچس کی تیلی کا جلنا اور پھر اسکا راکھ ہونا، مجھے اچھا لگتا ہے’
.مجھے بھی.’ میں نے مسکرا کر اسکی تائید کی’
تھوڑی دیر ہم خاموش بیٹھے سگریٹ کے کش لگاتے رہے

 

.کسی خاص چیز کی تلاش میں کہیں جا رہے ہو؟’ اس نے اچانک پوچھا تو میں چونک گیا’
ہاں شاید..!’ میں نے اسکی طرف کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا. ‘کیا ہم سب، ایئر پورٹ پر موجود یہ سب لوگ…’ میں نے آس پاس ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا. ‘کیا ہم سبھی لوگ، کسی نا کسی چیز کی تلاش میں نہیں جا رہے؟
ہاں بالکل!’ اینا نے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے کہا. ‘بالکل ٹھیک کہا تم نے. تلاش تمام مسافروں کی مشترک نشانی ہے

.تم کہاں جا رہی ہو اینا؟’ میں نے پوچھا’
میں؟’ اس نے سگریٹ کے دھوئیں کو غور سے فضاء میں بکھرتے دیکھا. ‘پتا نہیں. تم بتاؤ، تم کس چیز کی تلاش میں نکلے ہو؟
مجھے اس کا جواب عجیب سا لگا لیکن میں نے اپنے چہرے سے اظہار نہیں ہونے دیا

‘میں ایک سوال کے جواب کی تلاش میں جا رہا ہوں’
.کہاں جا رہے ہو؟’ اس نے بدستور دھوئیں کے مرغولوں کی طرف گھورتے ہوئے پوچھا’
.مدینہ اور مکہ.’ میں نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا’
‘اوہ!’ اس نے چونک کر میری طرف دیکھا. ‘خدا سے کچھ پوچھنے جا رہے ہو؟’
.ہاں!’ میں نے سر ہلایا’
‘تو پھر یہیں ہی کیوں نہیں پوچھ لیتے؟’ وہ مسکرائی. ‘خدا تو یہاں بھی ہے’
.ہاں!’ میں بھی مسکرا دیا. اسکی بات بہت پر وزن تھی’
‘لیکن میں وہاں جا کر اپنے آپ کو ٹٹولنا چاہتا ہوں. اپنے اندر کچھ تلاش کرنا چاہتا ہوں’
‘ہوں!’ اس نے ایک لمبا ہنکارا بھرا. ‘تو تم خدا سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہو؟’
.کیا خدا مجھ سے الگ کوئی دوسری ذات ہے اینا؟’ میں نے اس سے پوچھا’
وہ بجائے جواب دینے کے، تھوڑی دیر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گھورتی رہی اور پھر میری ٹانگ پر زور سے ہاتھ مار کر ہنسنے لگی

اچھا اب جاؤ اچھے لڑکے ورنہ اپنی فلائٹ مس کر دو گے.’ اس نے ہنسی پر کنٹرول کرتے ہوئے کہا تو میں نے چونک کر کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف نظر دوڑائی

مدینے کی فلائٹ کا وقت بس ہونے کو تھا. میں نے سگریٹ کا آخری کش لگا کر اسے ایش ٹرے میں کچلا اور اینا کو خدا حافظ کہ کر گیٹ کی طرف چل پڑا. ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کے اچانک ایک سوچ نے قدم روک لئے
اینا کو کیسے پتا چلا کے میری فلائٹ کا ٹائم ہورہا تھا؟ میں نے تو اسے اپنی فلائٹ کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا
میں انہیں قدموں واپس لوٹا اور لاؤنج کا دروازہ کھول کر اینا کے صوفے کی طرف دیکھا. مگر وہاں کوئی عرب جوڑا بیٹھا ہوا تھا. اینا کہیں جا چکی تھی. خیر میں نے دل ہی دل میں اینا کے اندازے کی داد دی اور دوبارہ تیز تیز قدموں سے گیٹ کی طرف چل پڑا

 

مدینہ بڑا دلنشیں شہر ہے. میں بالکل بھی مذہبی نہیں ہوں لیکن اس شہر کی فضاؤں میں کچھ تھا کہ جس نے میرے حواس پر ایک نشہ سا طاری کر دیا. شاید موسم بھی خوبصورت تھا اور شہر صاف ستھرا تھا. لیکن ان چیزوں کے علاوہ بھی کچھ ایسا تھا جس کا گھیراؤ میں لفظوں سے نہیں کر سکتا. بس اتنا کہ سکتا ہوں کے دل میں کوئی پریشانی باقی نہیں تھی. بس دل چاہ رہا تھا کے لمبے لمبے سانس لیتا رہوں اور اس شہر کے سکوں کو اپنے اندر سمیٹ لوں

 

آپ شاید میرے بارے میں کوئی عجیب سا اندازہ قائم کریں لیکن صداقت یہ ہے کے مسجد نبویﷺ کو دیکھ کر میرے اوپر کوئی خاص اثر نہیں ہوا. حالانکہ میں اس انتظار میں تھا کے کب میری آنکھیں نم ہوتی ہیں اور کب مجھے اپنے گناہ یاد آتے ہیں. لیکن یہ بات ضرور ہے کہ مسجد کو اور اسکے مینار دیکھ کر مجھے اچھا لگا. اپنا اپنا سا لگا

 

یہ سفرنامہ ہرگز نہیں ہے. لہٰذا میں آپ کو ہوٹل کی یا سیر و تفریح کی کہانیاں نہیں سنانا چاہتا. میں تو صرف آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کے مسجد نبویﷺ میں مجھے اپنے سوال کا جواب کیسے ملا

 

میں مدینے اپنے چھوٹے بھائی اسکی بیوی اور اپنی والدہ کے ساتھ گیا تھا. ہوٹل پہنچ کر اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ہم لوگ مسجد نبویﷺ کی طرف چل پڑے. میری بھابی والدہ کو لیکر ایک مخصوص دروازے سے مسجد میں داخل ہوئی اور میں اور میرا بھائی دوسرے دروازے سے. میں یہاں یہ بتاتا چلوں کے میری نسبت میرا چھوٹا بھائی بہت ہی صاف ستھرا اور ایمان والا انسان ہے. اسکے چہرے پر پھیلی معصوم خوشی دیکھ کر میں بہت شرمندہ ہورہا تھا. خیر مسجد میں داخل ہوئے اور چلتے چلتے روضہ رسولﷺ کے پاس جا پہنچے. بھائی نے نفل پڑھنے تھے. وہ ایک طرف ہوگیا اور میں وہیں ایک ستون سے ٹیک لگا کر ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لینے لگا

 

روضہ رسولﷺ اور اسکے آس پاس مسجد کا ماحول دیکھنے میں بہت قدیم لگتا ہے. روضہ رسولﷺ کے دروازے بھی دیکھنے میں نئے فن تعمیر کا حصّہ نہیں لگتے. آس پاس کے ستون بھی قریب قریب واقع ہیں

 

آپ یقین مانئے میں نے دل کی گہرایوں سے کوشش کی کہ دل بھر آئے اور آنکھوں میں آنسو آ جایئں لیکن بےسود. تنگ آ کر جاننے والوں کیلئے دعا کی اور پھر آس پاس لوگوں کو غور سے دیکھنے لگا کہ شاید انکا حال دیکھ کر میرے اندر کو بھی شرم آ جائے. میرے بالکل قریب ہی، وہیل چیر پر ایک شخص بیٹھا تھا. غالباً بہت بیمار تھا. وزن بہت زیادہ تھا اور دونوں پاؤں سوجے ہوئے تھے جن پر سفید پٹیاں بندھی ہوئی تھیں. اس کی آنکھیں بند تھیں اور بند آنکھوں کے گوشوں سے آنسوؤں کی لڑیاں رواں تھیں

 

اسکو دیکھ کر اچانک مجھے پتہ نہیں کیا ہوا. میری آنکھوں میں نمی سی آ گئ اور یکایک میرا دل پھر سے دعا کرنے کو چاہا. ہاتھ اٹھائے تو اپنے لئے دعا کرنا کچھ معیوب سا لگا. آنسو جو اس بیمار آدمی کی وجہ سے آئے تھے. میں نے مناسب یہ ہی سمجھا کہ اس غریب کی صحت کیلئے دعا کر لی جائے. میں نے اسکی صحت کیلئے دعا کی اور اسکی طرف دیکھا تو وہ مسکراتا ہوا میری ہی طرف دیکھ رہا تھا

 

تھوڑی دیر ہم دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے اور پھر اس نے مجھے اشارے سے اپنی طرف بلایا. میں اسکے پاس گیا تو اس نے میری گردن پر نرمی سے ہاتھ رکھ کر میرا سر اپنی طرف جھکایا اور میرے کان میں کہنے لگا
‘یہ تمھاری جگہ نہیں ہے بیٹے، تم باہر مسجد کے صحن میں چلے جاؤ’
مجھے بڑا افسوس ہوا. شاید وہ شخص میرے چہرے سے میرے کمزور ایمان کو بھانپ چکا تھا. اور اسکو اچھا نہیں لگا کے میرا جیسا شخص مسجد کے ماحول اور روضہ رسولﷺ کے پاکیزہ ماحول کو آلودہ کرے. میں بھاری دل سے اٹھا اور مسجد کے دروازے سے باہر نکل گیا

 

دروازے سے نکل کر پاؤں میں چپل پہن ہی رہا تھا کسی نے مانوس سے لہجے میں مجھے آواز دی
‘شہریار! ادھر میرے پاس آ جاؤ’
میں نے چونک کر آواز کی سمت دیکھا. وہاں مسجد نبویﷺ کی دیوار سے ٹیک لگائے اینا بیٹھی مسکرا رہی تھی

.اینا! تم یہاں؟’ میری حیرت کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا’
ہاں میں! یہاں آ کر میرے پاس بیٹھو.’ اس نے اپنے سامنے ٹھنڈے فرش کو ہتھیلی سے تھپتھپاتے ہوئے کہا’
میں کچھ نا سمجھتے ہوئے خاموشی سے اسکے سامنے جا کر بیٹھ گیا

.کیوں اداس ہو اچھے لڑکے؟’ اس نے پیار سے میری تھوڑی کو اپنی انگلیوں سے اٹھاتے ہوئے پوچھا’

میں کچھ دیر اسکے چہرے پر پھیلی شفقت دیکھتا رہا اور پھر مجھے پتا نہیں کیا ہوا، میری آنکھوں سے سوتے پھوٹ پڑے

.اینا…..!’ میں نے ہچکچیاں لیتے ہوئے اسے بتانے کی کوشش کی’
.ہاں شاباش بولو! کیا ہوا؟’ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا’
اینا! یہاں سب….یہاں سب کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے کے جیسے یہ سب اپنے مہربان باپ کی گود میں پناہ لینے آئےہیں. ان سب کو اپنی بخششس کی تواقوہ ہے. سب کو اپنی خواہشیں پوری ہونے کی امید ہے. سب کے دل میں پیار ہے اور پیار ملنے کی امید ہے
.ہاں تو پھر؟’ اینا نے مسکراتے ہوئے پوچھا’
تو پھر یہ اینا کہ میں تو صرف ایک سوال لے کر آیا تھا. صرف ایک سوال. مجھے اسکا جواب کیوں نہیں مل رہا؟

.پوچھو نا اپنا سوال. پوچھو گے نہیں تو جواب کیسے ملے گا؟’ اینا نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا’
‘کس سے پوچھوں؟’ میں نے آنسوؤں کی دھند کے پیچھے سے پوچھا. ‘تم سے پوچھوں؟’
جس سے دل چاہے پوچھو. مجھ سے، اپنے آپ سے یا پھر مسجد کے مکینﷺ سے یا پھر اس ماحول سے. لیکن پوچھو ضرور. بس یہ یاد رکھو کے یہ رعب و دبدبے کی جگہ نہیں ہے. یہ احترام، محبت اور علم کی جگہ ہے. یہاں قریب قریب ڈیڑھ ہزار سال سے محبت، شفقت اور علم کا سلسلہ جاری ہے. ایک دریا بہ رہا ہے. تم بھی ہاتھ دھو لو

 

میں کچھ دیر سر جھکائے سوچتا رہا اور پھر گردن اٹھا کر اینا کی طرف دیکھا. سفید رنگ کے لبادے میں اسکا گورا چہرہ کچھ زیادہ ہی روشن لگ رہا تھا

.تم کون ہو اینا؟ تم مجھے کیوں ملی ہو؟’ میں نے کچھ سٹپٹا کر پوچھا’
.کیا یہ سوال پوچھنا چاہتے تھے؟’ اس نے مسکرا کر میرے گال پر ہلکی سی چپت لگائی’
.نہیں!’ میں نے شرمندہ سا ہو کر کہا’
تو پھر وہ پوچھو جو پوچھنا چاہتے ہو. وقت تھوڑا ہے. تمہارا بھائی نماز ختم کرنے کو ہے. تمھیں ڈھونڈے گا. تم نہیں ملو گے تو پریشان ہوگا
میں کچھ نا بولا اور چپ چاپ اینا کی طرف دیکھتا رہا

.پوچھو شاباش!’ اس نے شفقت سے کہا’
میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کے کیا میرا راستہ صحیح ہے؟
کیا میں صحیح راستے پر چل رہا ہوں؟
اگر نہیں تو میری درخواست ہے کے میرا راستہ صحیح کر دیا جائے. میں غلط راستے پر نہیں بھٹکنا چاہتا

 

کچھ دیر ہم دونوں یوں ہی خاموش بیٹھے رہے. پھر یکایک اینا نے مجھے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا
دیکھو شہریار! راستہ کوئی بھی غلط نہیں ہوتا’
بس کسی نا کسی راستے پر چلنا ضروری ہوتا ہے
کچھ کا راستہ مسجدوں اور محرابوں سے ہو کر گزرتا ہے

کچھ کا صحراؤں اور پہاڑوں سے ہو کر گزرتا ہے
کچھ لوگ منزل کو پہچان لیتے ہیں
کچھ بھٹکتے رہتے ہیں
تم اپنی تواجوہ منزل پر رکھو
روشنی کے مینار کی طرف دیکھتے رہو
راستے پر تواجوہ مرکوز مت کرو
نیچے مت دیکھو، اوپر دیکھو

.بس اینا؟’ میں نے بیتاب سا ہوکر پوچھا’
ہاں بس اتنا ہی. لیکن اتنا یاد رکھنا’
راستے میں کبھی دل کو سخت نا کرنا
لوگوں پر مہربان رہنا اور محبت کرتے رہنا
اپنی غلطیوں پر پچھتانا ضرور لیکن پھر اپنے آپ کو معاف کر دینا

 

اسکے لہجے میں کچھ تھا. کچھ عجیب سا جیسے گرمیوں میں بارش کے بعد چلنے والی پروا میں نشہ ہوتا ہے. مجھے اپنے حواس پر سکوں طاری ہوتا محسوس ہوا. میں نے اینا کی آغوش کی مہربان گرمی محسوس کی اور اطمینان سے آنکھیں موند لیں

 

.بھائی چلیں؟’ میں نے آنکھیں کھولیں تو سامنے بھائی کھڑا مسکراتا پوچھ رہا تھا’
میں نے ارد گرد دیکھا. میں وہیں تھا. مسجد کے اندر اور روضہ رسولﷺ کے سامنے. ستون سے ٹیک لگائے

میں نے بھائی کا ہاتھ پکڑا اور کھڑا ہوگیا. بہت عجیب و غریب خواب تھا. میں دل ہی دل میں مسکرا دیا. کہاں اینا اور کہاں مسجد نبویﷺ. میرا تخیّل بھی بعض دفعہ عجیب کرتب دکھاتا ہے

 

ہم مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میری نظر اسی وہیل چیر پر بیٹھے معذور شخص پر پڑی. وہ میری ہی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا. اس نے پھر اشارہ کر کے مجھے اپنی طرف بلایا. اتنے میں بھائی کچھ آگے نکل گیا تھا. میں ہچکچاتا اسکی طرف بڑھا. اس نے پھر سے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر میرا سر جھکایا اور میرے کان میں کہنے لگا
‘اس نے جو بھی سمجھایا وہ بھولنا نہیں. یاد رکھنا ہے. بار بار ایسے سبق نہیں ملتے’
میں نے جھٹکے سے گردن سیدھی کی اور اسکی مسکراتی آنکھوں میں بوکھلا کر گھورنے لگا

‘کس کی بات کر رہے ہیں آپ؟’
اس نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا
‘اینا فرام چیکو سلواکیہ کی بات کر رہا ہوں. اور کسی نے بھی یہاں کچھ سمجھایا ہے کیا؟’

13 thoughts on “سنہری دروازوں والی مسجد اور چیکو سلواکیہ کی اینا

  1. آپ نے اپنے تلاش کے سفر کی محسوسات کو جس طرح بیان کیا اُسے پڑھ کر آنکھیں نم ہوگئیں۔خود کو گناہگار اور غلط کار بیان کرناہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی ، یہاں تو یہ حال ہے کہ ہرشخص دوسروں کے عیب تلاش کرنے اور خود کو سب سے پڑا ننیکوکار ظاہرکرنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر چلائے۔ آمین ۔ اپنا بلاش کا سفو چاری رکھیں ۔ کھوجی ایک نہ ایک دن منزل پا لیتے ہیں ،بس ارادہ، لگن، ، خلوصِ نیت شرط ہے۔ ایک بات اور۔۔۔ مستقبل میں جب آپ اپنی منزل کو پا لیں تو براہ مہربانی دوسرون کی رہبری کا بھی فریصہ ضرور انجام دیں ، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ تلاش کا سفر ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ اور اس سفر ہر جانے کا موقع بھی قسمت والون کو ملتا ہے۔ فقط ۔۔۔ اس سفر کی ایک اور مسافر

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s