لارنس گارڈن، سائبیریا اور عشق

thumb-1920-96294

عایشہ کے ساتھ کامران کی پہلی ملاقات ایک کانفرنس میں ہوئی. دیکھنے میں عام سی لڑکی تھی. کھلتا ہوا گندمی رنگ، سرو قد، متناسب جسم، کالی گہری آنکھیں، لمبی لمبی مخروطی انگلیاں، سر پر سکارف، ایک کلائی میں پتلی پتلی سونے کی دو چوڑیاں اور سادہ سا ہلکے سے رنگ کا شلوار قمیض. شرمیلی بہت تھی اور اتنے سارے مردوں میں اکیلی لڑکی ہونے کے باعث بالکل اپنے آپ میں سمٹی جا رہی تھی

 

چائے کے وقفے سے پہلے اس کی آخری باری تھی. وہ اٹھ کر ڈائس پر کھڑی ہوئی تو کامران کو ڈر تھا کے شاید بیچاری پوری طرح سے اپنی بات بھی مکمل نا کر سکے. اسکو نجانے کیوں اس لڑکی سے ہمدردی سی محسوس ہورہی تھی. اس نے سر جھکایا اور اپنے پیڈ پر بے معنی سی تصویریں بنانے لگا. جب بولنے سے پہلے وہ ایک دو دفعہ کھنکھاری تو کامران کو یقین سا ہونے لگا کے اگلے پانچ دس منٹ، اس دھان پان سی لڑکی پر بہت بھاری گزریں گے

 

جنٹلمین، آئ ایم عایشہ……………’ اس لڑکی نے نہایت شستہ اور نفیس انگریزی لہجے میں اپنی پریزنٹیشن کا آغاز کیا

 

پھر تو کمال ہی ہوگیا. کامران نے اوپر دیکھا اور دیکھتا اور سنتا ہی رہ گیا. اس شرمیلی لڑکی کی جگہ اچانک ایک خود اعتمادی سے بھرپور لڑکی لے چکی تھی. ایک ایک لفظ نپا تلا، ایک ایک جملہ سلیقے سے ترتیب دیا ہوا. اپنے موضوع پر حد درجہ مہارت رکھتی تھی. پانچ منٹ میں اس نے اپنی بات اسقدر خوبصورتی سے مکمّل کی کہ سوالات کی کوئی گنجائش نہیں رہی. پھر بھی سینئر ڈائریکٹر حضرات نے اپنی اہمیت جتانے کے لئے دو تین سوال ضرور کئے. اس نے اسی خود اعتمادی سے سوالات کے جوابات دئے اور اپنی پریزنٹیشن کا اختتام کر دیا

 

بہت سنجیدہ اور کاروباری نوعیت کی کانفرنس تھی لیکن جانے کیسے، پریزنٹیشن مکمل ہوتے ہی کامران نے بے ساختہ ہلکی سی تالی بجا دی. تمام لوگوں کو اپنی طرف مڑ کر دیکھتا پایا تو اپنی بیوقوفی کا احساس ہوا مگر شکر ہے کہ دو ایک سینئر ڈائریکٹرز بھی اس کے ساتھ شامل ہوگئے. شرمندگی کا احساس کچھ کم ہوگیا

 

رہی عایشہ ….. وہ کچھ ثانیے تو خاموش ڈائس پر کھڑی کامران کی طرف دیکھتی رہی. بہت زہین لڑکی تھی. اس کو جلد ہی احساس ہوگیا کے کامران کی تالیوں میں بڑا ہاتھ اسکی پیشہ وارانہ مہارت کیلئے ستائش کا تھا. اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گردن کو جنبش دی اور خاموشی سے اپنی جگہ جا کر بیٹھ گئ

 

کامران نہیں جانتا تھا کے وہ مدھم سی مسکراہٹ اسکے لئے زندگی بھر کا عذاب بن جائے گا. بہت ہی دلکش مسکراہٹ تھی. ہیلن کی اس مشہور مسکراہٹ سے بھی زیادہ دلکش، جس کی وجہ سے ٹرائے تباہ ہوگیا تھا. قلو پطرا کی مسکراہٹ سے بھی زیادہ دل موہ لینے والی، کے جس کے آگے جولیس سیزر اور مارک انتھونی، دونوں بے بس ہو گئے تھے. غالباً ایک سیکنڈ کے عرصے پر محیط تھی وہ مسکراہٹ، لیکن کامران کو یوں لگا کہ جیسے اس مسکراہٹ کے ارتقاء میں صدیاں گزر گئ ہوں

 

پھر وہ تھی بھی بڑی پراسرار مگر جاندار مسکراہٹ. اس مسکراہٹ نے عایشہ کی کالی آنکھوں کی گہرائی میں جنم لیا اور کچھ یوں گہرائی سے نکل کر اس کی آنکھوں کے کناروں کو چوما کے جیسے، سردیوں کی خنک اور لمبی رات کے بعد، سورج کی پہلی گرم کرن، سفید برف پوش پہاڑوں کی چوٹیوں کو چومتی ہے. آنکھوں سے ڈھلک کر اس مسکراہٹ نے اسکے گالوں میں پڑنے والے دو دلنشیں گڑھوں میں ڈبکی لگائی؛ اور پھر وہاں سے طلوع ہوکر اس کے ہونٹوں کے گوشوں میں غروب ہوگئ

 

جب کامران ہوش میں واپس آیا تو چائے کا وقفہ ہوچکا تھا اور تمام لوگ سائیڈ پر رکھی میزوں اور لوازمات میں مصروف تھے. کانفرنس ٹیبل پر صرف وہ اور عایشہ بیٹھے رہ گئے تھے. کامران ابھی تک اسکی مسکراہٹ کے نشے میں سرشار تھا اور وہ خاموش بیٹھی اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرنے میں مشغول تھی

 

آخر کامران اٹھا، جاکر چائے کے دو کپ اٹھائے اور عایشہ کی جانب بڑھ گیا. وہ ایک بہت سنجیدہ مزاج اور سلجھا ہوا انسان تھا مگر اسوقت اسکی حرکات، اسکے بس سے باہر تھیں

_____________________________________

 

چائے پیجئے.’ کامران نے اسکے سامنے چائے کی پیالی رکھی تو وہ چونک سی گئ. تھوڑی دیر ٹھنڈی برف نگاہوں سے اسکے چہرے کو کریدتی رہی لیکن پھر شاید کسی اچھے نتیجے پر پہنچنے کے بعد دوبارہ سے مسکرا دی

.اس میں دودھ نہیں ملایا آپ نے؟’ اس نے پیالی کا بغور جائزہ لیتے ہوئے پوچھا’

جی. اگر آپ چاہیں تو میں دودھ ملا دیتا ہوں لیکن میرے نزدیک دودھ ملانا اسکے سنہرے رنگ کے ساتھ شدید ناانصافی ہے.’ کامران کو واقعی چائے کا سنہرا رنگ بہت عزیز تھا

ہوں……….’ وہ اور کچھ نا بولی اور خاموشی سے چائے کی چسکی لی. اس کی مطمئن مسکراہٹ سے کامران کو اندازہ ہوا کے وہ کم چینی پسند کرتی تھی

 

اس نے اپنے آپ پر اور عایشہ کے پاس مزید رکنے کی خواھش پر قابو پایا اور کچھ ڈائریکٹر حضرات کے سآتھ گفتگو میں شریک ہوگیا

 

کامران ایک چھوٹی سی ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں کریٹو ڈائریکٹر کے عھدے پر فائز تھا. عمر تقریباً بتیس سال، قد درمیانہ، ہلکی سانولی رنگت اور گھنے کالے بال. وہ گنتی کے ان چند لوگوں میں شامل تھا جو کہ خوب اچھی طرح سے جانتے ہیں کے ان پر کیا لباس اور کس رنگ کا لباس جچتا ہے. لہذا اسکے ملنے والے نا صرف اسکے ذوق کو مانتے تھے بلکہ کئ ایک تو اسکی تقلید کی بھی ناکام کوشش کرتے تھے

 

کامران کو بچپن ہی سے رنگوں سے کھیلنے، کتابیں پڑھنے اور کلاسیکی موسیقی سننے کا شوق تھا. چونکہ یہ شوق باقی دنیا سے کچھ الگ تھے تو لہذا دوستوں کا ایک بیحد محدود حلقہ تھا. غیر شادی شدہ تھا اور والدین سے الگ رہتا تھا. سگریٹ پینے کے علاوہ کوئی بری عادت نہیں تھی. دوستوں نے شراب شروع کرانے کی کوشش کی مگر کامران کو جلد ہی احساس ہوگیا کے نشے اور خود فراموشی کیلئے اسے موسیقی ہی کافی تھی

 

خیر بات ہورہی تھی عایشہ کی. اس دن کی کانفرنس دراصل ایک بڑے پروجیکٹ کے سلسلے میں تھی جس میں تین مشہور کمپنیاں برابر کی حصے دار تھیں. کامران اپنی کمپنی کی طرف سے پروجیکٹ کا کریٹو ڈائریکٹر تھا جبکہ عایشہ اپنی کمپنی کی جانب سے فنانس ڈائریکٹر. کانفرنسوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تو اسکی اورعایشہ کی ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں. کامران کا ہر وقفے میں اسکے لئے چائے لیکر جانا معمول بن گیا

 

آہستہ آہستہ بے تکلّفی بڑھی تو احساس ہوا کے چائے کے علاوہ کچھ اورشوق بھی ان دونوں میں مشترک تھے. مثلاً کہ اچھی موسیقی اور اچھی کتابوں کا شوق. یہ بڑی حیران کن بات تھی کیونکہ عایشہ کا رجحان بہت حد تک مذہب کی طرف تھا. لیکن چونکہ شاید روایتی مذہب سے زیادہ اسکو صوفیانہ طرز زندگی سے لگاؤ تھا، اسلئے موسیقی سے بہت محبت کرتی تھی

 

عایشہ بیحد زہین لڑکی تھی. ہر موضوع پر عبور حاصل تھا. بات شروع کرتی تو دل چاہتا کے بس سنتے ہی چلے جاؤ. باقی لڑکیوں کے مقابلے میں مختلف تو تھی ہی مگر سب سے منفرد بات اس کا لوگوں سے ایک مناسب فاصلہ رکھنا تھا. کامران سے کچھ بے تکلفی کے باوجود وہ اسکو ایک فاصلے پر رکھتی تھی. اور وہ بھی اس فاصلے کو خوشی سے برداشت کرتا تھا کیونکہ عایشہ کی مسکراہٹ کی دل خوش کن حرارت، فاصلے کے باوجود اسکے دل تک پہنچ جاتی تھی

 

دیکھتے ہی دیکھتے کانفرنسوں کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا. دو ایک دفعہ ملاقات کا بہانہ کامران نے خود بنایا مگر تمام بہانے بھی پروجیکٹ ختم ہونے کے ساتھ ختم ہوگئے تو وہ ٹھنڈا ہوکر بیٹھ گیا. عایشہ کے سنجیدہ مزاج کیوجہ سے اسکی اتنی جرات ہی نہیں ہوئی کے دفتری ماحول سے نکل کر ملنے کی بات کرسکتا

 

اس دونوں کی آخری ملاقات ہوئے تقریباً ایک ماہ گزر چکا تھا. دفتر کا وقت تو کبھی کا ختم ہوچکا تھا مگر کامران کا اٹھنے کا دل نہیں کر رہا تھا. دفتر میں لگا ٹی وی آن کیا تو ایک مغربی چینل پر یورپ کا مشور فینٹم آف دی آپیرا چل رہا تھا. وہیں ٹھہر گیا. مغربی کلاسیکی موسیقی میں وہ کامران کا پسندیدہ آپیرا تھا؛ اور اسکو اس حد تک پسند تھا کہ اسکے ڈائلاگ اور نغمے اسے زبانی یاد تھے

 

وہ موسیقی سنتا رہا، زیر لب گنگناتا رہا اور کھڑکی کے سامنے کھڑا سگریٹ کے کش لگاتا، لاہور کی بارش دیکھتا رہا. گاڑیاں پانی کے فوارے اچھالتی دوڑی جا رہیں تھیں. کچھ لوگ چھتریاں تانے اور زیادہ تر، بھیگے کپڑوں کے ساتھ گھروں کی طرف رواں دواں تھے

 

‘کاش تم پھر سے میرے پاس ہوتے’ نامی نغمہ شروع ہوا تو اسکے دل میں یکایک عایشہ کا خیال آگیا. نجانے اس معمولی سی لڑکی میں کونسی کشش تھی کے جس کے سحر سے وہ نکل نہیں پا رہا تھا

 

اچانک موبائل بجا تو وہ چونک گیا. کوئی اجنبی نمبر تھا. موسیقی اور بارش، دونوں میں دخل اندازی پسند نہیں تھی لہذا تھوڑی دیر نظر انداز کرتا رہا. پھر تنگ آکر اٹھا لیا

.جی!’ اس نے اپنے مخصوص لہجے میں اور کچھ ضرورت سے زیادہ خنک انداز میں کہا’

کیا بات ہے کامران صاحب؟ میرا فون کرنا کچھ پسند نہیں آیا تو میں معذرت خواہ ہوں.’ دوسری طرف سے عایشہ کی میٹھی آواز گونجی تو کامران کو ایک لمحے کیلئے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا. ابھی اسی کے بارے میں تو سوچ رہا تھا

 

.ارے آپ؟ ابھی ابھی تو میں…………’ وہ بے اختیار اسے بتاتے بتاتے رک گیا’

.ابھی ابھی کیا؟’ کامران کو اس کی آواز کی نرمی میں مسکراہٹ کی حدت محسوس ہوئی’

جی کچھ نہیں. چھوڑئیے اس بات کو. آپ بتائیے خیریت سے فون کیا؟ کہئے کیا خدمت کر سکتا ہوں آپ کی؟’ اس نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے پوچھا

 

خدمت کوئی نہیں ہے. بس دو باتوں کیلئے فون کیا ہے. ایک تو کامیاب پروجیکٹ کیلئے میری طرف سے مبارکباد قبول کیجئے اور دوسرا آپ کا شکریہ ادا کرنا تھا.’ اس کی آواز کی دھیمی نرمی برقرار تھی

.بیحد نوازش عایشہ. لیکن شکریہ کس بات کیلئے؟’ کامران نے تھوڑا سا حیران ہوتے ہوئے پوچھا’

شکریہ بھی دو باتوں کیلئے: پہلی آپکی سنہری چائے کا اور دوسری آپکا اتنے خلوص سے مجھے کانفرنسوں کے دوران، تنہائی کا احساس نا ہونے دینے کا.’ اس نے کہا تو کامران کو ایسا لگا کے جیسے اسکے بہت اندر کہیں، ڈھیر سارے وائلن ایک ساتھ بج اٹھے ہوں

.ارے نہیں. وہ تو بس…………..!’ اسکو کوئی مناسب جواب نہیں سوجھا تو چپ ہوگیا’

 

وہ تو بس کیا کامران صاحب؟’ وہ شاید پھر سے مسکرا رہی تھی اور پھر کامران کی مسلسل خاموشی پر کہنے لگی

یہ اچھی بات نہیں ہے. ابھی ابھی آپ نے دو دفعہ اپنی بات ادھوری چھوڑ دی. اگر میرے ممکنہ رسپانس کی نوعیت سے گھبرا کر خاموش ہوگئے تھے تو یہ اچھا نہیں کیا آپ نے. آپ اپنی بات پوری کریں. میں بالکل بھی ناراض نہیں ہوں گی.’ وہ واقعی بیحد زہین تھی

 

.اچھا……..’ کامران کچھ لمحے سوچنے کے بعد ایک نتیجے پر پہنچ گیا’

 

جس وقت تمہارا فون آیا، میں تمھارے ہی بارے میں سوچ رہا تھا. اسلئے حیران ہوا. دوسرا کانفرنسوں کے دوران میں تم سے باتیں اسلئے نہیں کرتا تھا کے تم خود کو اکیلا نا محسوس کرو. بلکہ اسلئے کرتا تھا کیونکہ مجھے تم بہت اچھی لگی تھی

کامران کی بات کے جواب میں وہ کچھ دیر خاموش رہی تو ایک ایک کر کے اس غریب کے اندر بجتے وائلن خاموش ہونے لگے. دل ڈوبنا شروع ہوگیا

 

کامران صاحب، جب سچ کی داستان شروع ہو ہی گئ ہے تو میں بھی ایک اقرار کرنا چاہتی ہوں.’ عایشہ نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا

.جی ضرور. میں سن رہا ہوں.’ کامران نے اس کے لہجے میں خنکی اور برہمی تلاش کرتے ہوئے کہا’

میں نے آپ کو فون آج شکریہ ادا کرنے کیلئے اور مبارکباد دینے کیلئے نہیں کیا تھا. بلکہ اسلئے کیا تھا کیونکہ مجھے بھی آپ اچھے لگے تھے. اور میں مزید آپکی کال کا انتظار نہیں کرنا چاہتی تھی.’ اس نے آہستہ آہستہ کہا تو کامران کو یوں لگا کے جیسے اسکے دل میں نرم سی بارش شروع ہوگئ ہو 

_____________________________________________

 

وہ ٹیلیفون کال، کامران اور عایشہ کے درمیان ایک خوبصورت رشتے کی ابتداء بن گئ. ہر گزرتے دن کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کے قریب سے قریب تر ہوتے گئے. پسندیدگی کے شربت میں باہمی احترام کی چاشنی گھل گئ؛ اور پھر جب وقت نے اپنا نقرئی چمچہ ہلایا تو پسندیدگی کا شربت، محبت کے جام میں بدل گیا

 

عایشہ کو کامران کی شرافت بہت عزیز تھی اور کامران کو اسکے کردار کی معصومیت اور شفافیت. دونوں کے ملاپ میں بظاھر کوئی دنیاوی رکاوٹ نہیں تھی. کامران کو اپنے والدین کی طرف سے پوری اجازت تھی کہ جسے چاہے زندگی کا ساتھ چن لے؛ اور عایشہ کے والدین کا بہت بچپن ہی میں انتقال ہو چکا تھا. ایک خالہ نے پرورش کی تھی اور وہ بھی گزشتہ سال اللہ کو پیاری ہو چکی تھی

 

.مجھے تم سے بے پناہ محبت ہے عایشہ.’ کامران نے بے بسی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا’

وہ دونوں سردیوں کی اس دھندلی شام میں، لارنس گارڈن کے ایک ویران باغیچے میں چکّر لگا رہے تھے’

مجھے اس بات کا اچھی طرح سے علم ہے کامران؛ اور میں تمھاری محبت کی بہت قدر کرتی ہوں.’ عایشہ نے ایک دھیمی سی اداس مسکراہٹ کے ساتھ کہا

‘صرف قدر ہے؟’ کامران نے کچھ بے چین ہوکر پوچھا. ‘صرف قدر کیوں ہے؟ محبت کیوں نہیں ہے؟’

 

تھوڑی دیر عایشہ نے کوئی جواب نہیں دیا. وہ دونوں قدم سے قدم ملائے خاموش چلتے رہے. پھر عایشہ نے اچانک کامران کا ہاتھ پکڑ لیا. کچھ عجیب سی حدت تھی اسکے لمس میں

مجھے تم بہت اچھے لگتے ہو کامران. تم ہو بھی ایک بہت اچھے آدمی. میں اسی احساس کی وجہ سے تمھارے قریب ہوئی تھی. لیکن

لیکن کیا عایشہ؟’ کامران کو لگا کہ جیسے اسکی پوری زندگی اس ایک ‘لیکن’ کے گرد مدار میں گھوم رہی ہو

لیکن….میں اس طرح اپنی چاہت کو محبت میں تبدیل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی. میں چاہتی ہوں ہماری محبت لازوال بن جائے، بے مثال بن جائے، عشق بن جائے. ہماری محبت ہماری روح میں سرائیت کر جائے. ایک ایک پور سے بھاپ بن کر اٹھے

لازوال؟ بےمثال؟ عشق؟ تم کیسی باتیں کرتی ہو عایشہ؟ ہم دونوں انسان ہیں. ہم دونوں کو انسان ہی رہنے دو. نا میں رانجھا ہوں، نا تم ہیر، نا تم سوہنی، نا میں مہینوال.’ کامران جیسے اندر سے تھک سا گیا تھا. اس نے نم گھاس پر بیٹھ کر ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا لی

 

میری مانو عایشہ….اس عشق کے چکّر سے باہر نکل آؤ. چلو شادی کر لیتے ہیں. میں تمھیں بہت خوش رکھوں گا. تمھاری خدمت کروں گا. تم سے وفادار رہوں گا. اس عشق  وشق میں کچھ نہیں رکھا. یہ سب قصے کہانیوں کی باتیں ہیں.’ کامران نے آنکھیں موندے ہوئے، ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا

 

یہ کوئی نئی بحث نہیں تھی. عایشہ ہمیشہ سے ایسی ہی باتیں کرتی آئ تھی. وہ رومی کی شاعری کی شیدائی تھی. وہ شمس تبریز کے راستے پر چلنا چاہتی تھی. اسکے مطابق انسان ہونے کی معراج عشق کرنا تھا اور عشق میں فنا ہونا تھا. پریکٹیکل زندگی اور پریکٹیکل محبت کیا ہوتی ہے؟ اسکو اس میں ذرا برابر دلچسپی نہیں تھی

 

کامران اسکی ذات کی اس پراسرار گانٹھ سے اچھی طرح سے واقف ہوچکا تھا. اسکے خیال میں عایشہ ابنورمل حد تک کتابی علم سے متاثر تھی. وہ اپنی ذات کی تنہائی میں اسقدر مقیّد رہ چکی تھی کے اسکو اپنے تخلیات ہی آئیڈیل نظر آتے تھے. کامران کے نزدیک یہ محض بچگانہ پن تھا

 

وہ خاموش بیٹھا عایشہ کو دیکھتا رہا. وہ سفید رنگ کی عبا میں ملبوس تھی جس نے اسے سر کے بالوں سے ٹخنوں تک ڈھانپ رکھا تھا. کامران اچھی طرح جانتا تھا کے عایشہ کی عبا کا تعلق مذہب یا پردے سے نہیں تھا. اسکو شوق تھا ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے کا

 

اچانک قریب ہی واقع گاڑیوں کی پارکنگ سے موسیقی کی آواز بلند ہونا شروع ہوئی. غالباً کچھ من چلے تھے جو موسم کی خنکی سے پوری طرح سے لطف اندوز ہونا چاہ رہے تھے. کچھ عجیب سی موسیقی تھی، بھاری بھرکم ڈرم اور انکے درمیان سسکتی ہوئی وائلن کی آواز. جیسے بابل کی کسی قدیم خانقاہ میں کوئی حسینہ اپنے بچھڑے محبوب کیلئے رو رو کر دعایئں کر رہی ہو

 

عایشہ تھوڑی دیر خاموش بیٹھی موسیقی سنتی رہی. پھر یکایک اسکو پتہ نہیں کیا ہوا. وہ اٹھی اور گیلی سرد گھاس پر. جوتی اتار کر, گول گول گھومنا شروع ہوگئ

کیا کر رہی ہو عایشہ؟ کوئی دیکھ لے گا تو کیا کہے گا؟’ کامران نے سٹپٹا کر کہا. لیکن عایشہ نے گھومتے ہوئے صرف مسکرا کر اسکی طرف دیکھا اور اپنا رقص جاری رکھا

 

کامران نے ادھر ادھر دیکھا. ہر طرف دھند ہی دھند پھیلی ہوئی تھی. کوئی دیکھنے والا نہیں تھا. اس نے اطمینان کی ایک گہری سانس لی اور پھر سے درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر عایشہ کو دیکھنے لگا

 

عایشہ واقعی بہت خوبصورت لگ رہی تھی. دھند کے بادلوں کے بیچ گھومتی، رقص کرتی، وہ کامران کو کوئی الپسرا لگ رہی تھی جو اپنی سہیلیوں سے بھٹک کر، زمین پر اتر آئ ہو. سرمئی ماحول، پراسرار موسیقی اور عایشہ کا سفید لبادہ. وہ ہر بات سے بےخبر بس گھومتی چلی جا رہی تھی اور موسیقی کی لے پر اٹھتے اسکے قدم، ہر چکّر کو تیز سے تیز تر کرتے جا رہے تھے. ایک ہاتھ آسمان کی طرف بلند اور دوسرا کمر پر ٹکا ہوا تھا

 

‘بہت بیوقوف ہو تم.’ کامران نے پیار سے مسکراتے ہوئے کہا. ‘یہ قونیہ نہیں ہے. یہ لاہور ہے’

‘نہیں کامران.’ عایشہ نے بدستور گھومتے ہوئے سرگوشی کی. ‘یہ کائنات ہے. یہ کائنات کا رقص ہے’

.اور اس کائنات میں ہماری محبت کی کیا کوئی جگہ ہے میرے حسین درویش؟’ کامران نے پوچھا’

کائنات کی حقیقت تاریکی ہے کامران. اس تاریکی میں محبت کی روشنی کا اجالا کرنے کیلئے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے، بڑا کشٹ کرنا پڑتا ہے.’ اسکے لہجے سے کامران کو اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کچھ کچھ تھک چکی ہے

 

مجھے بتاؤ عایشہ….مجھے بتاؤ کیا قربانی دینی ہے؟ کیا کشٹ کرنا ہے؟ میں تیّار ہوں.’ کامران اس سے شادی کیلئے، اسکو اپنا بنانے کیلئے، اسکی ہر بچگانہ خواہش پوری کرنے کو اور ہر آزمائش کیلئے تیّار تھا

محبت کی روشن منزل پر پہنچنے کیلئے قدر کے کانٹوں بھرے راستے پر چلنا پڑتا ہے. ہجر کی آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے. تم چل سکو گے؟ گزر سکو گے؟

میں تمھاری بہت قدر کرتا ہوں عایشہ. اور کیسا ہجر؟ میں تم سے دور ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا. اور پھر ہمیں کیا تکلیف ہے کہ ہم ایک دوسرے سے دور ہوں؟’ کامران کو عایشہ کی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی

.تکلیف ہی تو نہیں ہے کامران. جب تکلیف نہیں تو قدر کیسی؟’ عایشہ نے قدم روکے اور گھومنا بند کر دیا’

‘جب تک ہمارے درمیان ہجر کا دشت حائل نہیں ہوگا، قدر کیسے ہوگی؟’

تمہارا مطلب ہے کہ ایک دوسرے سے محبت کیلئے ہمیں ایک دوسرے سے دور رہنا ہوگا؟’ کامران نے پریشان ہوکر پوچھا

.ہاں بالکل!’ عایشہ نے اثبات میں سر ہلایا’

.مگر کب تک؟’ کامران کو پورا یقین ہو چلا تھا کہ عایشہ کے دماغ کا کوئی پرزہ یقیناً ڈھیلا تھا’

.جب تک ہمیں ایک دوسرے کی قدر محسوس نہیں ہوتی.’ عایشہ نے مسکراتے ہوئے کہا’

‘تمہارا دماغ خراب ہے عایشہ.’ کامران نے کھڑے ہو کر جینز کی پشت ہاتھ سے جھاڑتے ہوئے کہا’

ہم دونوں اچھا بھلا ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں. سماج کی کوئی ظالم دیوار ہمارے راستے میں حائل نہیں ہے. ہمیں ایک دوسرے کو اپنانے کی پوری آزادی ہے. تو پھر ان سب ڈراموں کی کیا ضرورت ہے؟

 

یہ ڈرامہ نہیں ہے کامران. یہ میری ذات کی ضرورت ہے. اگر تمھیں مجھ سے واقعی کوئی لگاؤ ہے، اگر تم واقعی مجھے چاہتے ہو تو پھر تمھیں ہجر کا کشٹ کاٹنا ہی پڑے گا.’ عایشہ نے بھی اپنے کپڑے درست کرتے ہوئے کہا

.اور اگر میں یہ احمقانہ کشٹ کاٹنے سے انکار کر دوں تو پھر؟’ کامران نے غصے سے پوچھا’

تو پھر یہ کشٹ میں تم پر مسلط کر دوں گی کیونکہ میں تمھیں بیحد چاہتی ہوں.’ عایشہ نے واپس پارکنگ کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے کہا

 

کامران کو اتنا شدید غصّہ چڑھا ہوا تھا کہ نا اس نے عایشہ کی بات کا کوئی جواب دیا اور نا اس میں چھپی دھمکی پر کوئی غور کیا

_________________________________________________

 

 پھر ایک دن عایشہ واقعی غائب ہوگئ. اسکا فون مسلسل بند ملنے پر کامران پریشان ہوگیا اور سیدھا ورکنگ ویمن ہوسٹل پہنچ گیا جہاں عایشہ رہتی تھی. وارڈن ایک اچھی عورت تھی اور کامران سے واقف تھی

‘کامران صاحب، عایشہ نے تو کل ہی اپنا کمرہ خالی کر دیا تھا. سارا سامان لیکر چلی گئ’

.کہاں چلی گئ اچانک سے؟’ کامران نے بے کل ہو کر پوچھا’

یہ تو میں نہیں جانتی. میں نے پوچھا بھی تھا لیکن اس نے کوئی صاف جواب نہیں دیا. کچھ پریشان اور اداس لگ رہی تھی

 

کامران کا اگلا سٹاپ عایشہ کا دفتر تھا. لیکن وہاں بھی کسی کو کچھ نہیں پتا تھا. عایشہ نے باقاعدہ ایک مہینے کا نوٹس دینے کے بعد نوکری چھوڑی تھی. کامران بیچارا بس ہر کسی سے پوچھتا رہا اور کوئی جواب نا ملنے پر، اس کے چہرے پر مایوسی کی گھٹا گہری سے گہری ہوتی چلی جا رہی تھی. جب بالکل بے بس ہوگیا تو تھکے قدموں سے باہر نکل آیا

.کامران تمھیں کیا ہوا ہے؟ کہاں لور لور پھر رہے ہو؟’ ایک چہکتی ہوئی آواز نے کامران کے پاؤں پکڑ لئے’

 

اس نے مڑ کر دیکھا. پیچھے یمنہ کھڑی مسکرا رہی تھی. اس کے کالج کی کلاس فیلو تھی اور وہیں عایشہ کے دفتر میں ہیومن ریلیشن ڈیپارٹمنٹ میں ایک اچھی پوسٹ پر کام کرتی تھی

 

کامران نے یمنہ کو ساری کہانی سے آگاہ کیا

 

دیکھو کامران مجھے بہت افسوس ہوا ہے تمھاری کہانی سن کر. میں یہ تو نہیں جانتی کے عایشہ کہاں چلی گئ ہے لیکن میں یہ ضرور جانتی ہوں کے اس ساری دنیا میں اسکے ایک دور کے چچا ہیں؛ جو سائبیریا میں کسی آئل کمپنی میں سینئر انجنیئر ہیں. کبھی کبھی انکا خط آتا تھا عایشہ کے نام. شاید عایشہ ان کے پاس چلی گئ ہو

.سائبیریا میں کہاں یمنہ؟ سائبیریا تو بہت بڑا ہے.’ کامران نے پوچھا’

.مجھے نہیں پتہ کامران. میں نے کبھی عایشہ سے زیادہ کرید کر نہیں پوچھا’

____________________________________________

وہ دن آخری دن تھا جب کامران کو کسی نے لاہور میں دیکھا. اس کو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئ، کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا. اس کے بوڑھے والدین کو اس کی گمشدگی کا پتا چلا تو وہ بھی فورا پہنچ گئے. لیکن کامران کہاں چلا گیا تھا، یہ کوئی نہیں جانتا تھا. کئ سال ایسے ہی تلاش میں گزر گئے اور کامران کے والدین کے انتقال کے بعد کسی کو اسکے معاملے میں دلچسپی نہ رہی. ہاں دوست یار جب بھی آپس میں مل کر بیٹھتے، رسمی طور پر ‘بیچارے کامران’ کا ایک آدھ دفعہ ذکر ضرور کرتے. کچھ عرصے کے بعد کسی نے خبر دی کے کامران شمالی علاقہ جات میں کہیں تھا. پھر خبر ملی کے وہیں کسی ایکسیڈنٹ میں اسکا انتقال ہوگیا

____________________________________________

.عایشہ!….. عایشہ بیٹی؟’ جمشید صاحب نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے آواز دی’

.جی!’ عایشہ کا اداس اور اجڑا چہرہ دیکھ کر جمشید صاحب کے شفیق چہرے پر اداسی پھیل گئ’

یوں ہی کب تک کمرہ بند کر کے پڑی رہو گی بیٹی؟ باہر نکلو. دنیا دیکھو. دیکھو بہار آ چکی ہے.’ انہوں نے شفقت سے عایشہ کا سر سہلاتے ہوئے کہا

جلدی سے تیّار ہو جاؤ. چلو آج میں تمھیں نیشنل جیوگرافک کی ایک ٹیم سے ملانے لے چلتا ہوں. سنا ہے یہاں سے تقریباً پچاس میل دور، ایک جنگل میں نایاب بھیڑیوں کا ایک نیا خاندان آ  بسا ہے. انہی بھیڑیوں کی تصویریں کھینچنے کیلئے ایک ٹیم امریکہ سے یہاں آئ ہے

مجھے بھیڑیوں میں یا انکی تصویریں کھینچنے والوں سے کوئی دلچسپی نہیں چچا. مجھے تنہا چھوڑ دیں پلیز.’ عایشہ نے آہستہ سے کہا

.کیوں کیا ہوا ہے؟’ جمشید صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا’

مجھے کامران کی بہت یاد آتی ہے چچا. وہ مجھے بہت چاہتا تھا. شاید میں بیوقوفی نا کرتی تو وہ آج زندہ میرے پاس ہوتا.’ عایشہ کی آنکھوں سے آنسو چھلک اٹھے

میں بہت بیوقوف تھی چچا. مجھے اس مہربان آدمی کی محبت کو چھوڑ کر یہاں نہیں آنا چاہئے تھا. بہت بچگانہ پن کا مظاہرہ کیا میں نے. بہت…….’ عایشہ سے مزید نہیں بولا گیا اور جمشید صاحب کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

_______________________________________________

 

جمشید صاحب، عایشہ کے اکلوتے چچا تھے. عجب آزاد منش آدمی تھے. کبھی انسانوں میں دل نہیں لگا. پھر لندن میں تعلیم کے دوران ایک نارویجن لڑکی سے محبت ہوئی. بدقسمتی سے شادی کے کچھ عرصے بعد ہی اس غریب کا کینسر سے انتقال ہوگیا. اولاد تھی نہیں. سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایک آئل کمپنی میں ملازمت کر لی اور سائبیریا چلے آئے. پچھلے پچیس سال سے مشرقی سائبیریا میں، منگولیا کی سرحد کے قریب، ارکٹسک نامی جگہ پر نوکری کر رہے تھے. پوری دنیا میں عایشہ کے علاوہ انکا کوئی نہیں تھا

 

تقریباً چھ سال قبل عایشہ نے اچانک ان کو فون کیا اور ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی. وہ انکار نا کر سکے. بلکہ عایشہ کو اپنی سگی بیٹی بتایا اور وہیں ارکٹسک میں ہی ایک چھوٹا سا مکان بھی خرید لیا. انکا پورا ارادہ تھا کہ وہ عایشہ کو اپنے پاس رکھیں گے. لیکن جب عایشہ نے انکو کامران کے بارے میں بتایا تو وہ اس کی بیوقوفی پر بہت ناراض ہوئے. خود اس کو لے کر واپس پاکستان پہنچے لیکن بہت دیر ہو چکی تھی. کامران کب کا غائب ہو چکا تھا. ایک دو سال وہیں کامران کی تلاش میں گزارے. پھر اسکے انتقال کی خبر سن کر اسکی قبر تلاش کرتے رہے. جب ناکام ہوگئے، تو مایوس ہو کر عایشہ کو لیکر واپس سائبیریا چلے آئے

______________________________________________

 

اب بہت وقت گزر گیا ہے بیٹی. اب اپنے آپ کو معاف کر دو.’ انہوں نے عایشہ کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے کہا

عایشہ کچھ نا بولی اور انکے سینے سے لگی سسکتی رہی

____________________________________________

 

گرمیوں میں اور بالخصوص بہار کے موسم میں مشرقی سائبیریا کا حسن دیکھنے کے لائق ہوتا ہے. گہرا نیلا آسمان اور سفید دھنکی ہوئی روئی جیسے بادل. بادلوں کے متحرک سائے تلے لمبے چوڑے اور وسیع و عریض گھاس کے میدان؛ اور ان میدانوں میں چرتے جنگلی گھوڑے. کہیں کہیں گھنے جنگلوں کے ٹکڑے اور پورے چاند کی راتوں میں جنگلوں سے اٹھتی بھیڑیوں کے رونے کی آوازیں. ایک بہت عجیب و غریب سرزمین ہے

_________________________________________________

 

ہچکولے لیتی گاڑی سے باہر کا منظر بہت خوبصورت تھا لیکن عایشہ آنکھیں موندی، سیٹ کی پشت سے سر ٹیکائے بیٹھی تھی. چچا کے اصرار پر سیر کو نکل تو آئ تھی لیکن اسکا دل وہیں لاہور میں اور کامران کی یاد میں اٹکا ہوا تھا

 

.عایشہ بیٹی اٹھو. ٹیم کا کیمپ آ گیا ہے.’ گاڑی رکی تو جمشید صاحب نے عایشہ کا کندھا پکڑ کر ہلایا’

مجھے نئے لوگوں سے ملنے میں کوئی دلچسپی نہیں چچا. آپ جایئں، میں یہیں گاڑی میں آپ کا انتظار کروں گی

اسکے انکار پر جمشید صاحب نے مزید اصرار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اسکا کندھا تھپتھپا کر اتر گئے

 

عایشہ کچھ دیر تو گاڑی میں بیٹھی رہی اور پھر باہر گھنے جنگل کی خوبصورتی دیکھ کر اتر آئ. بہت ہی خوبصورت جگہ تھی. کچے راستے کے ایک طرف ایک چھوٹی سی جھیل تھی اور دوسری طرف گھنا جنگل. جنگل ہی میں تھوڑی سی جگہ صاف کر کے کیمپ لگایا گیا تھا. کیمپ کی طرف سے ہنسی مزاق کی آوازیں سن کر عایشہ دوسری جانب چل پڑی

 

جانے کتنی دیر اپنی سوچوں میں گم چلتی رہی. ہوش تب آیا جب درختوں کے پیچھے سے کسی جانور کے ہلکے سے غرانے کی آواز آئ. اس نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا. وہ کہاں کھڑی تھی؟ واپسی کا راستہ کہاں تھا؟ کچھ پتا نہیں تھا

 

اس نے کچھ سوچ کر ایک جانب قدم بڑھائے اور پھر جھاڑیوں کا ایک گھنا سا جھنڈ عبور کرتے ہی چونک کر رک گئ

 

وہاں پر اونچے درختوں کے سائے تلے، پگھلی ہوئی برف سے بنا ایک چھوٹا سا گہرا سبز تالاب تھا. تالاب کے کنارے ہی ایک صاف سی جگہ پر، ایک بڑے سے چپٹے پتھر پر، کوئی اسکی طرف پشت کئے بیٹھا تھا. پتھر کے ارد گرد پانچ چھ جسیم بھیڑیے، دائرے میں یوں بیٹھے تھے کے جیسے پتھر پر بیٹھا آدمی انکی کلاس لے رہا ہو

 

عایشہ کو بھیڑیوں سے ڈر لگا لیکن ایک آدھ دفعہ دیکھنے کے علاوہ، بھیڑیوں نے اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی. اس نے تھوڑا بے فکر ہو کر پتھر پر بیٹھے آدمی کا جائزہ لیا. گندمی رنگت تھی اور اس قدر دبلا پتلا تھا کے ہڈیوں کا پنجر صاف دکھائی دے رہا تھا. اوپری جسم عریاں تھا اور پیٹھ تک لمبے بھورے الجھے بال، بکھرے ہوئے تھے. وہ بالکل ساکت بیٹھا تھا کہ جیسے کوئی مراقبہ کر رہا ہو

 

عایشہ ایک آدھ دفعہ ہلکے سے کھنکھاری مگر اس آدمی کے کان پر جوں تک نا رینگی. کچھ سوچ کر عایشہ نے چکر لگاتے ہوئے اس کے سامنے جانے کا ارادہ کیا. سیدھا تو جا نہیں سکتی تھی کیونکہ بھیڑیے بیٹھے تھے

 

عایشہ نے چھوٹے چھوٹے قدم لینے شروع کئے. بھیڑیوں پر اب بھی اسکی موجودگی کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا. چکّر مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ اس آدمی کا چہرہ نمایاں ہوتا چلا گیا، لیکن عایشہ کی پوری تواجوہ بھیڑیوں پر مرکوز تھی. تھوڑی دیر میں جب چکّر مکمل ہوگیا اور بھیڑیوں نے بھی کوئی خاص حرکت نہیں کی تو عایشہ  نے سکھ کا سانس لیا؛ اور اس آدمی کے چہرے پر نظر دوڑائی

 

چہرہ کیا تھا، جھاڑ جھنکار سے بھرا ہوا ایک جنگلی چہرہ تھا. بھنویں بالوں میں اور مونچھیں داڑھی میں گم تھیں. تھوڑی دیر عایشہ اسکے چہرے کو بغور گھورتی رہی اور پھر آہستہ آہستہ اسکی آنکھوں میں بے یقینی اترنے لگی. اور اس کو یوں لگا کے کسی بھی لمحے اسکا سینے میں دھڑ دھڑ کرتا دل بند ہوجائے گا

.کامران؟’ عایشہ کے ہونٹ ہلے اور اس نے سرگوشی کے انداز میں اس آدمی کو مخاطب کیا’

 

عایشہ کی سرگوشی سنتے ہی اس کی بند آنکھیں ایسے کھلیں کے جیسے اندھیرے میں اچانک چراغ جل اٹھیں. عایشہ نے ان آنکھوں میں جھانکا اور اسکو اپنی محبت کی جھلک دکھلائی دی. وہ واقعی کامران ہی تھا

 

کامران کو پہچانتے ہی عایشہ بے اختیار آگے بڑھی اور بھیڑیوں کی موجودگی کی پرواہ کئے بغیر اس سے جا کر چمٹ گئ

.کامران تم یہاں؟ تم زندہ ہو؟’ اس نے کامران کی گود میں سر چھپاتے ہوئے اور ہچکچیاں لیتے ہوئے پوچھا’

ہاں میں زندہ ہوں عایشہ…..لیکن تم نے آنے میں بہت دیر کر دی.’ کامران نے ایک ہاتھ اٹھا کر عایشہ کے سر پر رکھا

مجھے معاف کر دو کامران.’ عایشہ بری طرح سے سسک رہی تھی. اسکا بس نہیں چل رہا تھا کے وہ کامران کے استخوانی وجود کو اپنے اندر سمیٹ لے

میں نے تمھیں بہت ڈھونڈا عایشہ…… میں نے بہت ہجر کاٹا. میں تمھاری محبت کی آزمائش میں پورا اتر گیا.’ کامران کا ہاتھ عایشہ کا سر سہلا رہا تھا، مگر اسکی نظریں دور کہیں کسی اندیکھی روشنی کے نقطے پر مرکوز تھیں

مجھے کسی آزمائش کی کوئی پرواہ نہیں ہے کامران. میں بہت…..میں بہت بیوقوف تھی.’ عایشہ کو اپنا آپ بکھرتا ہوا محسوس ہورہا تھا

.تم بیوقوف نہیں ہو عایشہ…..صرف بدقسمت ہو.’ کامران نے نرمی سے کہا’

ہاں ہوں، بہت بدقسمت ہوں، مگر اب نہیں. اب میں دنیا کی خوش قسمت ترین عورت ہوں. مجھے میرا کامران مل گیا ہے

مجھے بہت افسوس ہے عایشہ. تمھاری بدقسمتی اپنی جگہ قائم ہے. میں اب تمہارے کسی کام کا نہیں.’ کامران کی آنکھوں سے دو میلے آنسو نکلے اور گالوں پر بہتے ہوئے اس کی داڑھی میں جذب ہو گئے

کیوں ایسا کہ رہے ہو کامران؟ کیا ہوا ہے تمھیں؟’ عایشہ کو یوں لگ رہا تھا کے جیسے ریت کی طرح زندگی اسکی بھنچی ہوئی مٹھی سے بہتی جا رہی ہے

میں تمھیں ڈھونڈنے نکلا تھا عایشہ. میں نے تمھیں بہت ڈھونڈا مگر تم نا ملی. لیکن اس تلاش میں، ہجر کے راستے پر چلتے چلتے، مجھے وہ مل گیا جس کی تلاش مجھے تھی ہی نہیں. اب میں اسکا ہوں

 

عایشہ نے سر اٹھا کر کامران کی آنکھوں میں جھانکا. اس کو ان آنکھوں میں کچھ نظر آیا جس کو دیکھ کر اس نے ایسے چیخ ماری، جیسے اپنا سب کچھ لٹا بیٹھی ہو؛ اور پھر کامران کے سینے سے جا لگی

______________________________________________

جمشید صاحب کافی دیر امریکنوں کے ساتھ مل کر عایشہ کو ڈھونڈتے رہے. پھر انکو جنگل سے بھیڑیوں کے رونے کی آواز آئ

ویری سٹرینج!’ بوڑھے امریکی فوٹو گرافر نے جمشید صاحب کی طرف حیرت سے دیکھا. ‘یہ کب سے دن کی روشنی میں رونے لگے؟

 

کسی نا گہانی سے ڈر کر وہ سب آوازوں کے تعاقب میں دوڑتے جنگل میں گھس پڑے

 

تالاب کے پاس پہنچ کر جمشید صاحب یکا یک رک گئے

 

وہاں آسمان کی طرف منہ اٹھائے، روتے بھیڑیوں کے بیچ، ایک پتھر پر کامران اور عایشہ کے بے جان جسم پڑے تھے. ہجر کا راستہ اپنی منزل کو پہنچ چکا تھا

    

                  

  

 

  

   

   

‘         

            

12 thoughts on “لارنس گارڈن، سائبیریا اور عشق

  1. The words in this story were different, beautiful in their rhythm and show a better writing style developing in you. As always, your imagination takes you to places seen by others in photos but ignored, not in your case. It takes you there. And us , with you there. Thanks for that.

    Liked by 2 people

  2. آپ شاید سوچیں کے میں نے کہانی کو زیادہ دل پر لے لیا۔۔۔
    مگر درحقیقت بدقسمتی سے ایسے احمک لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔
    جیسے ِزنگی پہلے سے ہی اپنے آپ میں ہی پیچیدگیوں سے بھرا معمہ نہ ہو۔۔۔ بس اس کی کمی رہ گئی تھی۔۔

    ایک محاورہ یاد آ رہا ہے۔۔۔

    “آ بيل۔۔۔۔ مُجھے مار”

    لیکِن “مُجھے” کی جگہ “میری” استعمال کرتے ہوئے۔۔

    اُفف۔۔۔ زندگی کیا کچھ ہو سکتی تھی اگر ہم زیادہ سیانے بننے کی کوشش نہ کریں۔۔؟؟

    جب بندہ قفرانے نعمت کرے گا ، تو خمیازہ تو بھوگتنا ہو گا۔۔۔

    لےلو تکلیف اور ہجر کی قدر کے مذّے۔۔۔ 🙄

    .

    Liked by 2 people

  3. لارنس گارڈن سے ساءیبریا کا سفر، عشق حقیقی سے عشق مجازی کا سفر۔۔۔ کامران پر ترس بھی آیا اور رشک بھی ، مگر عائشہ کے فیصلے پر صرف غصّہ آیا۔ اگر کسی کا نہ ملنا قدرت کا فیصلہ ہو تو تب تو قابلِ قبول ہوتا ہے مگر خود سے اتنے عظیم فیصلے کرنا اور پھر ان پر پچھتانا۔۔۔ بات سمجھ نہیں آتی۔۔۔گو کہ یہ صرف ایک تحریر ہے حقیقت نہیں مگر تحریر وں کا بھِی کوئی نہ کوئی ماخذ تو ہوتا ہی ہے۔ بہرحال تحریر ہمیشہ کی طرح بہت بہترین ہے۔

    Liked by 2 people

  4. معاف کیجئیے گا آپ کی تحریر انتہائ بے ربط، غیر حقیقی، سطحی اور غیر ضروری طوالت کے سبب غیر دلچسپ ہے۔ عشق حقیقی کو بڑا بد صورت اور تکلیف دہ ثابت کیا ہے۔ میں نے آپکی ایک تحریر پڑھی تھی دیوسائ والی خامیاں تو اس میں بھی تھیں لیکن اج اس کو پڑھ کے اندازہ ہوا ترقی معکوس ہو رہی یے۔
    دعا ہے کہ میرا ظالمانہ تجزیہ آپ کے لئے مہمیز ثابت ہو

    Liked by 2 people

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s