نظر بٹو کا عشق

maxresdefault

.مولوی صاحب!’ نظر بٹو نے ڈرتے ڈرتے مولوی مشتاق کو اپنی طرف متوجوہ کیا’

.ہاں! ہاں! کہو بیٹے، کیا بات ہے؟’ مولوی صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا’

‘مولوی صاحب’

ہاں! ہاں! بولو شاباش، کیا مسلہء ہے؟’ مولوی صاحب نے اس غریب کو ہچکچاتے دیکھ کر شفقت سے پوچھا

.مولوی صاحب! کوئی دم درود تو تجویز کریں.’ نظر بٹو نے شرماتے ہوئے کہا’

‘دم درود؟ وہ کس لئے بھائی؟’

وہ…..میرے قد کیلئے. کوئی ایسا  وظیفہ بتایئں کہ میرا قد لمبا ہوجاۓ.’ اس نے بدستور شرماتے ہوئے اور سر جھکا کر کہا

.لاحول ولا قواتہ! قران نا ہوگیا جادو ٹونہ ہوگیا.’ مولوی مشتاق نے جلال میں آ کر کانوں کو ہاتھ لگایا’

آپ تو ناراض ہوگئے مولوی صاحب!’ بیچارے نظر بٹو کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے گالوں پر لڑھک گئے. ‘آپ میری آخری امید تھے. میں بڑا مان لے کر آیا تھا

ہوں….!’ مولوی صاحب نے نظر بٹو کو گھورتے ہوئے ایک لمبا ہنکارا بھرا. پھر انکو اس کی آنکھوں میں تیرتے آنسو دیکھ کر ترس آگیا

‘دیکھو میاں جلال الدین’

.نظر بٹو نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا

.بھائی تمہارا نام جلال الدین نہیں ہے؟’ مولوی صاحب نے جھنجلا کر پوچھا’

تھوڑی دیر تو نظر بٹو خالی خالی آنکھوں سے مولوی صاحب کو دیکھتا رہا. پھر اچانک اسکی کالی معصوم آنکھوں میں چراغ سے جل اٹھے

ہاں جی! ہاں جی! میرا نام جلال الدین ہے. لیکن وہ کیا ہے نا مولوی صاحب کہ کئ سالوں سے کسی نے اس نام سے پکارا ہی نہیں. سب نظر بٹو ہی کہ کر پکارتے ہیں

خیر جو بھی ہے…….. دیکھو میاں جلال الدین، یہ خدا کے کام ہیں. کسی کو چھوٹا قد دیتا ہے، کسی کو لمبا. لیکن جب بنا دیتا ہے تو اسکو تبدیل نہیں کیا جا سکتا

مولوی صاحب….’ نظر بٹو نے کچھ سوچتے ہوئے کہا. ‘پچھلے جمعہ کے خطبے میں آپ نے کہا تھا کے خدا اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے

.ہاں بالکل ایسا ہی ہے.’ مولوی صاحب نے اثبات میں سر ہلایا’

لیکن مولوی صاحب، ماں جب اپنے بچے کو گھر سے نکالتی ہے، بنا سنوار کر نکالتی ہے تاکہ کوئی اس کے بچے کو گندا یا برا نا کہے. صاف ستھرے کپڑے پہناتی ہے، بالوں میں تیل لگا کر کنگھا کرتی ہے اور پھر آنکھوں میں سرمہ ڈالتی ہے

.ہاں……پھر؟’ مولوی صاحب کو نظر بٹو کی باتوں کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی’

پھر یہ مولوی صاحب کہ خدا نے مجھے میری ماں کے پیٹ سے بنا سنوار کر کیوں نہیں نکالا؟ یہ ساڑھے تین فٹ کا قد دے کر کیوں نکالا؟ یہ کیسی محبت ہے مولوی صاحب؟

بھائی خدا کے کام خدا ہی جانے. میں بھلا کیا کہ سکتا ہوں؟’ مولوی صاحب سے کوئی جواب نا بن پڑا تو سٹپٹا کر داڑھی کو سہلانے لگے

 

‘میں خدا سے پوچھنا چاہتا ہوں مولوی صاحب.’ نظر بٹو نے معصومیت سے کہا. ‘کیسے پوچھوں بھلا؟’

‘کیسی فضول باتیں کرتے ہو میاں؟ جب ملاقات ہوگی، پوچھ لینا’

ملاقات کب ہوگی مولوی صاحب؟’ نظر بٹو کی معصومیت بدستور اپنی جگہ قائم تھی. مولوی صاحب اسکی نظر میں زمین پر خدا کے خلیفہ تھے، جن کے پاس انسانوں کی تمام مشکلات کا حل موجود ہونا چاہیے تھا

بھائی جب مرو گے، تب ہی ملاقات ممکن ہے. تب پوچھ لینا ساری باتیں.’ مولوی صاحب نے تھوڑی سنگدلی سے کہا. ان کو ٹھیک ٹھاک غصّہ چڑھنا شروع ہوگیا تھا

.جی بہتر!’ نظر بٹو نے سہم کر کہا اور بہتری اسی میں سمجھی کے وہاں سے اٹھ جائے’

____________________________________________________

کہنے کو جلال الدین ولد کمال الدین، چھبیس سال کا گورا چٹا لڑکا تھا. سر کالے گھنگریالے بالوں سے ڈھکا ہوا تھا اور موٹی موٹی کالی آنکیں تھیں. صاف ستھرا رہنے کی عادت تھی اور صاف ستھرے کپڑے پہنتا تھا. لیکن اسکے وجود کی ساری خوبصورتی بس انہی چند چیزوں تک محدود تھی. اسکا ساڑھے تین فٹ کا قد اسکے پورے وجود کی نفی کر دیتا تھا

دل کا بھی بہت اچھا تھا. جانور ہو یا انسان، کسی کی بھی تکلیف دیکھ کر اسکی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آتی تھیں؛ اور وہ پورے جی جان سے، اسکی تکلیف دور کرنے کی کوشش میں لگ جاتا تھا. لیکن انسانوں کی آنکھیں اسکے دل میں جھانک کر دیکھتیں تو اسکی خوبصورتی محسوس کرتیں. اور کر بھی لیتیں تو کیا ہوسکتا تھا. اسکا مختصر وجود لوگوں کے دلوں میں صرف تمسخر پیدا کر سکتا تھا، محبت نہیں

لیکن ایک بات یقیناً اسکی زندگی میں اچھی تھی. وہ یہ کہ پورے محلے کے آوارہ کتے اس کے دوست تھے. بچوں کو آوارہ کتوں کو پتھر مارنے سے منع کرتا تو کتے اور وہ خود، ان ہی شریر بچوں کا نشانہ بن جاتے. پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ زخمی سر کے ساتھ روتے ہوئے گھر میں داخل ہوتا تو باپ کی جوتیاں تیار ہوتیں. کبھی کبھی ماں کو ترس آتا تو وہ بیچ بچاؤ کرا دیتی. ورنہ بیچارے کا باپ کے ہاتھوں پٹنا روز کا ہی معمول تھا

ویسے جب چار بہنوں کے بعد وہ پیدا ہوا تو ماں نے بڑے پیار سے اسکا نام جلال الدین رکھا تھا. بیشک پیدائش کے وقت سر ضرورت سے کچھ زیادہ ہی بڑا تھا مگر ماں ‘سر بڑا سرداروں کا’ کہ کر دل کو تسلی دے لیتی. مگر جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا، ماں باپ کو احساس ہوگیا کہ جلال الدین کے روپ میں خدا نے رحمت نہیں زحمت بھیجی تھی. پھر جب تین سال کے بعد جمال الدین پیدا ہوا تو ماں اور باپ، دونوں کی محبت اور شفقت کا رخ چھوٹے بھائی کی طرف مبذول ہوگیا

_________________________________________________

اصل ظلم تو اسکی تائی خالدہ نے کیا. ایک دفعہ جب وہ بھائی کے گھر ٹھہری تھی تو جلال الدین مار کھا کر کہیں باہر سے روتے ہوئے آیا. سر بہت بری طرح زخمی تھا اور خون سے سارے بال چکتے ہورہے تھے. دیکھ کر ماں کا دل پگھل گیا. سر گیلے کپڑے اور ڈیٹول سے صاف کرتی جاتی اور ‘ماں صدقے! ماں صدقے!’ کہتے ہوئے روتی جاتی

.کیوں روتی ہو بھابی؟’ تائی نے مزہ لینے کو پوچھا’

‘اری دیکھتی نہیں ہو باجی؟ کمبختوں نے کس بیدردی سے مارا ہے’

ہاں مگر بچہ ہے.چوٹ تو لگتی ہی رہتی ہے نا بچوں کو.’ تائی نے چائے کپ سے پرچ میں انڈیلتے ہوئے کہا

بچہ کہاں ہے؟ پورے پندرہ سال کا ہوگیا ہے مگر قد وہ ہی تین فٹ.’ ماں نے تولئے سے خون روکتے ہوئے کہا. ‘ایک تو پتہ نہیں خدا نے ہمیں کن گناہوں کی سزا دی ہے اسکو پیدا کر کے

سزا نہیں دی. تیری اور تیرے خاندان کی بلایئں ٹالی ہیں.’ تائی نے چائے کے سڑکے لگاتے ہوئے کہا. ‘ اس قدر خوبصورت بیٹا ہے تیرا جمال. بارہ سال کا ہے مگر دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ کس قدر گھبرو جوان نکلے گا. جلال نے تو نظر اتاری ہے چھوٹے بھائی کی. نظر بٹو ہے یہ تو

تائی نے جلال الدین کو نظر بٹو کیا کہا، یہ ہی اس بیچارے کا نام پڑ گیا. اس کو اپنا یہ نام بہت برا لگتا تھا مگر کر بھی کیا سکتا تھا. اس غریب کی ساری امیدیں ماں سے وابستہ تھیں. وہ بھی ایک دن ڈھیر ہوگیئں

________________________________________________

جمال میری جان! دیکھ میرے بیٹے، اسکول سے واپس آکرجلال کو بھی تھوڑا بہت پڑھا دیا کر.’ ماں نے اسکول جانے سے پہلے چھوٹے بھائی کے بال سنوارتے ہوئے اس کو سمجھایا

جلال الدین نے ابتدائی کچھ سالوں میں اسکول جانا ضرور شروع کیا تھا مگر آھستہ آہستہ جب ہم جماعتوں کا مزاق اور مار پیٹ حد سے گزارنے لگی تو ماں باپ نے بہتر یہی سمجھا کے اسکو اسکول سے اٹھا لیا جائے

.تم بھی کمال کرتی ہو ماں. بھلا نظر بٹو پڑھ کر کیا کرے گا؟’ جمال نے مچل کر کہا’

.بری بات ہے بیٹے، بڑے بھائی کو ایسے نہیں کہتے.’ ماں نے تھوڑی سختی سے کہا تو لاڈلا جمال بگڑ گیا’

‘میں تو نظر بٹو ہی کہوں گا. اور اگر تم مجھ سے پیار کرتی ہو تو تم بھی اسکو نظر بٹو ہی کہا کرو’

.اچھا! اچھا! جو جی میں آئے، تو وہ کہ لینا.’ ماں نے گھبرا کر کہا. جمال میں تو اسکی جان تھی’

نہیں، میں بھی نظر بٹو کہوں گا اور تم بھی نظر بٹو ہی کہو گی اس کو. اگر نہیں کہو گی تو میں ناراض ہو کر کہیں چلا جاؤں گا.’ چھوٹی سی عمر میں بھی جمال کو اپنی طاقت کا خوب اچھی طرح اندازہ تھا

نا! نا! میری جان! ایسے نہیں کہتے.’ ماں نے جھٹ جمال کو سینے سے لگا لیا. ‘جو تو کہے گا وہ ہی میں کہوں گی

.پھر نظر بٹو کہ کر ابھی بلا اس کو.’ جمال نے شوخی سے فرمائش کی’

‘اچھا بلاتی ہوں’

.نظر بٹو! نظر بٹو!’ ماں نے اونچے لہجے میں آواز دی’

جلال کہاں کوئی دور کھڑا تھا. وہیں پیچھے دروازے کے پٹ کی اوٹ سے ماں اور چھوٹے بھائی کو دیکھ رہا تھا. لیکن ماں کی آواز سنتے ہی اسکی آنکھوں میں پتہ نہیں کہاں سے ڈھیر ساری نمی اتر آئ اور وہ دبے پاؤں وہاں سے بھاگ کر، باہر دور میدان میں، ٹیوب ویل کے ساتھ، بوڑھے برگد کی جڑوں میں جا کر بیٹھ گیا. وہاں بوڑھے برگد کی ٹھنڈی چھاؤں میں اسکا پکا ٹھکانا تھا. جب کبھی دل بہت اداس ہوتا تو وہاں جا کر بیٹھ جاتا اور روتا جاتا جب تک کہ دل ہلکا نا ہوجاتا. پھر ٹیوب ویل کے پانی سے منہ دھوتا اور واپس گھر چلا جاتا. کسی کو کبھی پتا ہی نہیں چلا تھا کہ برگد کی وہ جڑیں جانے جلال کے کتنے نمکین آنسو جذب کر چکی تھیں

______________________________________________________

اسی طرح دن گزرتے چلے گئے. پتھر اور مار کھاتے کھاتے اور دل کے ٹوٹتے جڑتے، جلال کی عمر تو بڑھ گئ مگر قد اتنا ہی رہا. لیکن جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ شاید لوگوں کا مزاق سہتے سہتے  جلال کا دل بہت حساس ہوگیا تھا؛ اور اسکو سب کی تکلیف کا بہت جلد پتہ لگ جاتا تھا. انسانوں کی تکلیف دورکرنے کی کوشش کرتا تو وہ اپنا دکھ بھول کر اس پر ہنسنا شروع ہوجاتے اور اسقدر تنگ کرتے کے وہ بیچارا بہتر یہی سمجھتا کے وہاں سے بھاگ جائے

جانوروں کے ساتھ یہ مسلہء نہیں تھا. خاص کر کتوں کو جلال کے چھوٹے اور بونے قد سے کوئی واسطہ نہیں تھا. وہ تو بس اس کی ہتھیلیوں اور انگلیوں میں چھپی محبت کی گرم خوشبو کو سونگھتے اور محسوس کرتے تھے. جب اس محبت کی حرارت ان کو محسوس ہوتی تھی تو وہ جلال کے قدموں میں لوٹ جاتے تھے. اس کے چہرے کو چاٹنے کی کوشش کرتے تھے. اس کو دیکھ کر دم ہلاتے بھاگتے آتے تھے. جلال انکو دیکھ کر خوش ہوتا تھا اور ان کے ساتھ کھیلتے کھیلتے اپنے غم بھول جاتا تھا.

ماں اور باپ دونوں کو جلال کی کتوں سے محبت سے بہت چڑ تھی. جتنا بھی روکتے، وہ آنکھ بچا کر باورچی خانے سے کھانے پینے کی چیزیں نکال کر لے جاتا. جب باقائدگی کے ساتھ دودھ اور روٹیاں غایب ہونے لگیں تو باپ نے مار مار کر چمڑی ادیھڑ دی. اس دن کے بعد سے جلال نے باورچی خانے سے چوری کرنا تو چھوڑ دیا مگر خود فاقے کر کے اپنے حصے کا کھانا کتوں کو کھلانے لگا. اسکی گرتی صحت دیکھ کر ماں باپ نے یہی مناسب سمجھا کہ اسکو اسکے حال پر چھوڑ دیا جائے. ویسے بھی کھاتے پیتے لوگ تھے. تھوڑے سے دودھ اور روٹیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا

ہاں تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ لوگوں کے مزاق سہتے سہتے اور برگد کے نیچے روتے روتے جلال جوان ہوگیا. اور پھر جیسا کہ جوان لوگوں کے ساتھ اکثر ہوتا ہے، ایک دن جلال کو محبت ہوگئ. خیر یہ کوئی ایسے اچھنبھے کی بات نہیں تھی. قد چھوٹا تھا تو کیا ہوا، دل تو جوان ہو چکا تھا اور خوبصورتی کی طرف مائل بھی ہوتا تھا. لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جلال کوئی دماغی طور پر پسماندہ نہیں تھا. پڑھا لکھا نا ہونے کے باوجود اچھا خاصا ذہین تھا. خاص طور پر دنیا کی بہت سمجھ تھی اسکو. اچھی طرح جانتا تھا کے دنیا والوں کی نظروں میں اور ان کے دلوں میں، اس کیلئے اور اس جیسوں کیلئے کوئی جگہ نہیں تھی. لیکن پھر بھی اسکو محبت ہوگئ. محبت کا کیا ہے، یہ تو بس ہو جاتی ہے. اور جب محبت آتی ہے تو عقل رخصت ہوجاتی ہے

ایک بات جو میں آپ کو بتانا بھول گیا. وہ یہ کہ جلال کو خدا نے ایک بے حد خوبصورت آواز سے نوازا تھا. کوئی باقاعدہ تربیت تو لی نہیں تھی. بس جو کچھ ریڈیو پر سنتا، وہ گنگناتا رہتا. آھستہ آہستہ اسکی آواز کی شہرت پھیلتی گئ. کہیں بھی لوگ اکٹھے بیٹھتے تو جلال کو بلوا لیتے اور گانا سنتے. جلال بیچارے کیلئے وہ واحد وقت ہوتا جب لوگ اس پر ہنس نہیں رہے ہوتے تھے، بلکہ اس کے گانے کی طرف متوجوہ ہوتے تھے. خوب تعریف بھی کرتے تھے اور کبھی کبھی زیادہ خوش ہوتے تو تھوڑا بہت انعام بھی دے دیتے. لہٰذا جلال کیلئے گانا خوشی تھی

وہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا. گاؤں کے بڑے چھوٹے سب چوپال میں اکٹھے تھے. موج مستی چل رہی تھی. ایسے میں کسی کو جلال کا خیال آ گیا تو ڈھنڈیا پڑ گئ. لڑکے بالے دوڑتے گئے تو دیکھا، جلال اپنے کتوں کے ساتھ، برگد کے بوڑھے پیڑ تلے کھیل رہا تھا. وہ اس غریب کو کھینچ کھانچ کر چوپال میں لے آئے

بھائی نظر بٹو، آج تو کشور کمار ہو جائے.’ گاؤں کے اسکول کے اکلوتے ماسٹر صاحب نے فرمائش کی. جلال پہلے تو حسب دستور کچھ شرمایا اور پھر ماسٹر صاحب کے مزید اصرار پر اس نے کھنکار کر گانا شروع کر دیا

‘زندگی کا سفر، ہے یہ کیسا سفر

کوئی سمجھا نہیں، کوئی جانا نہیں

ایک گانا غمگین، اوپر سے جلال کی چوٹ کھائی آواز. ایک سماں بندھ گیا

گاتے گاتے جلال کی نظر رضیہ پر پڑ گئ جو دوپٹے سے آنسو پونچھ رہی تھی. وہ رفیق کریانے والے کی بیٹی تھی اور پورے گاؤں کی سب سے حسین لڑکی تھی. جوانی ٹوٹ کر آئ تھی اور اسکو اپنے حسن کا احساس بھی بہت زیادہ تھا. شاید اپنی مری ماں یاد آ گئ یا پھر ویسے ہی دل بھر آیا تھا اس کا. بہرحال جب جلال نے اسکی طرف دیکھا تو وہ گیلی گیلی آنکھوں سے اور ہلکی سی افسردہ مسکان لئے اسی کی طرف دیکھ رہی تھی. بس غضب ہی ہوگیا. جلال کو یقین ہوگیا کہ رضیہ کا دل اس کیلئے ہی اداس تھا

____________________________________________

جلال کو رضیہ سے محبت کیا ہوئی، اسکا دنیا کو دیکھنے کا انداز ہی بدل گیا. لوگ وہ ہی ظالم تھے اور دنیا اتنی ہی بے درد تھی مگر جلال کو سب کچھ خوبصورت نظر آنے لگا. ریڈیو پر چلتے ہر پرانے گانے کا ہر گھسا پٹا شعر، اک نیا معنی اختیار کر گیا. اپنا خیال بھی زیادہ رکھنا شروع ہوگیا. باپ کی الماری سے عطر کی شیشی چوری کر لی اور احتیاط سے جیب میں کنگھی کے ساتھ رکھ لی کہ کیا خبر کس موڑ پر رضیہ سے ملاقات ہوجائے

پھر ایک دن ملاقات ہو ہی گئ. جلال حسب عادت برگد کے نیچے، آوارہ کتوں کے درمیان بیٹھا تھا. دور سے رضیہ آ رہی تھی مگر جلال کی توجوہ ساری کی ساری کتوں پر مرکوز تھی. اس نے دھیان ہی نہیں دیا. پتہ اس وقت چلا جب رضیہ سر پر پہنچ گئ. نا الجھے بالوں میں کنگھی کرنے کا وقت تھا اور نا کپڑوں پر عطر لگانے کا. بیچارے نے رضیہ کو کچھ فاصلے پر کھڑے اپنی طرف مسکراتے دیکھا تو سٹی گم ہوگئ

.کیا حال ہے نظر بٹو؟’ رضیہ نے شوخی سے پوچھا’

جلال کو رضیہ کا نظر بٹو کہنا بالکل بھی برا نہیں لگا

.مم…..میں ٹھیک ہوں.’ بیچارے نے سٹپٹا کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا’

.بیٹھنے کا نہیں کہو گے؟’ رضیہ نے پوچھا’

.ہاں! ہاں! …. آؤ بیٹھو.’ جلال نے بدحواس ہو کر ادھر ادھر رضیہ کے شایان شان جگہ تلاش شروع کر دی’

.کیسے آؤں؟ مجھے تمھارے دوستوں سے ڈر لگتا ہے.’ رضیہ نے کتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’

وہ شاید جلال کی زندگی کا پہلا دن تھا جب اس کو کتے برے لگے. جب اسکے آواز دینے سے کتے نہیں ہٹے تو اس نے تنگ آ کر ہاتھوں میں پتھر اٹھا لئے. بیچارے کتوں نے حیرانی سے دو چار پتھر کھائے اور پھر ٹیاؤں ٹیاؤں کرتے کچھ فاصلے پر بیٹھ کر جلال کو زخمی آنکھوں سے دیکھنے لگے. جلال کو تھوڑی دیر کو تو بہت شرم آئ مگر پھر محبوبہ کا احترام غالب آ گیا

رضیہ آھستہ آھستہ قدم اٹھاتی قریب آئ اور پھر وہیں برگد کی جڑوں میں بیٹھ گئ

آؤ تم بھی بیٹھو.’ رضیہ نے اپنی بغل میں اشارہ کیا تو جلال کی تو عید ہی ہوگئ اور وہ لپک کر بیٹھ گیا کہ کہیں رضیہ اپنی دعوت واپس ہی نا لے لے

.کیسے ہو نظر بٹو؟’ رضیہ نے مسکرا کر پوچھا’

مم…میں ٹھیک ہوں.’ جلال پر ابھی بھی بدحواسی طاری تھی. دراصل اس غریب کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ رضیہ کا آنا اور اسکے ساتھ بیٹھنا حقیقت ہوسکتا تھا

اوپر سے رضیہ کے وجود سے بھینی بھینی خوشبو اٹھ رہی تھی جو جلال پر ایک بیخودی کا عالم طاری کر رہی تھی

میں آج تمہاری مہمان ہوں.’ رضیہ نے کن اکھیوں سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا. ‘اپنی مہمان کو گانا نہیں سناؤ گے؟

ہاں….ہاں ضرور سناؤں گا.’ جلال تو اس کیلئے آسمان سے تارے توڑ کر لا سکتا تھا. گانا تو بہت معمولی شے تھی. ‘کونسا گانا سنو گی؟

‘وہ ہی جو اس دن تم چوپال میں گا رہے تھے. زندگی کا سفر’

اسکا حکم دینا تھا کہ جلال نے دو ایک بار کھنکھارا اور گانا شروع کر دیا

لیکن اس دن کی طرح آج رضیہ کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے. وہ بس خاموش بیٹھی ایک تنکے سے زمین کرید رہی تھی. جلال کو لگا کہ شاید وہ کوئی بات کہنا چاہ رہی تھی مگر کہ نہیں پا رہی تھی

جلال نے گانا ختم کیا تو رضیہ نے منہ پھیر کر اس کی طرف دیکھا اور دھیرے سے مسکرا دی

.نظر بٹو! میرا ایک کام کرو گے؟’ تھوڑی دیر خاموشی کے بعد رضیہ نے پوچھا’

.ہاں ہاں کیوں نہیں.’ جلال کے دل میں محبوبہ کی خدمت کے خیال سے ہی لڈو پھوٹنا شروع ہوگئے’

.تم حکم تو کرو.’ جلال نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر جھکاتے ہوئے کہا تو رضیہ کی ہنسی نکل گئ’

.تم مجھے بڑے اچھے لگتے ہو نظر بٹو.’ رضیہ نے ایک ادا سے کہا’

جلال کو یوں لگا کہ جیسے میلوں صحرا میں پیدل چلنے کے بعد یکایک وہ کسی ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے کے کنارے آ کھڑا ہو. ساری عمر کے غم ایک طرف اور رضیہ کا اقرار محبت ایک طرف. جلال نے اپنے آپ کی طرف دیکھا تو اسکو اپنا مختصر وجود چھ فٹ کا دکھائی دیا

مجھے بھی تم…..مجھے بھی تم بہت اچھی لگتی ہو رضیہ.’ اس نے پتہ نہیں کہاں سے ہمت جمع کی اور رضیہ کے حضور اقرار محبت پیش کر دیا

.مجھے پتہ ہے.’ رضیہ نے شرما کر کہا’

.تمھیں کیسے پتہ ہے؟’ جلال نے حیرانی سے پوچھا’

.میں تو پورے گاؤں کو اچھی لگتی ہوں.’ رضیہ کھلکھلا کر ہنس پڑی’

.ہاں یہ تو ہے.’ جلال نے بیوقوفی سے سر ہلا کر اور ہنس کر کہا’

 

تمھیں پتہ ہے، میں پورے گاؤں کو اچھی لگتی ہوں لیکن مجھے صرف ایک ہی اچھا لگتا ہے؟’ رضیہ نے آہستگی سے سوال پوچھا

.مجھے سب پتہ ہے رضیہ.’ جلال نے دانشمندی سے گردن ہلا کر کہا’

.ہیں تمھیں پتہ ہے نظر بٹو؟ بھلا تمھیں کیسے پتہ ہے؟’ رضیہ نے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا’

.بس مجھے پتہ ہوتا ہے باتوں کا.’ جلال نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے اور تقریباً ڈوبتے ہوئے کہا’

‘اچھا!’ رضیہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا. ‘پتہ ہے تو یہ اسکو دے دینا’

رضیہ نے اپنے گریبان سے پسینے میں بھیگا ایک گلابی لفافہ نکالا اور جلال کی مٹھی میں تھما دیا. پھر اسکو ایک دلنواز مسکراہٹ سے نوازا اور مزید کچھ کہے بغیر اٹھ کر چلی گئ

رضیہ کے جانے کے بعد کچھ  دیر جلال وہیں اس کی قربت کے نشے میں سرشار بیٹھا رہا. پھر لفافے کو غور سے دیکھا. کچھ کچھ پڑھنے کی کوشش کی تو دیکھا کہ لفافے پر اسی کا نام لکھا تھا. اندر سے خط نکال کر دیکھا. الفاظ تو زیادہ سمجھ نہیں آئے مگر جگہ جگہ بنی دل کی تصویروں اور تیر کے نشانوں کو ضرور پہچان گیا. اسکو اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آ رہا تھا

‘واہ میرے مولا!’ اس نے آسمان کی طرف گردن اٹھا کر دیکھا. ‘دیا بھی تو چھپڑ پھاڑ کر. موجیں ہی کرا دیں. مولوی صاحب ٹھیک ہی کہتے تھے. تو واقعی بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے

اب جلال دین کیلئے سب سے بڑا مسلہء خط کو ٹھیک طرح سے پڑھنے کا تھا. لے دے کر اس کے پاس اسکا چھوٹا بھائی ہی تھا جو اسکی مدد کر سکتا تھا. امید تو کم تھی مگر اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا

_________________________________________

شام کو جمال الدین کھیتوں پر کام کر کے واپس آیا اور کھانا وغیرہ کھا کر چھت پر چلا گیا. مغرب کی طرف سے کبھی کبھی ٹھنڈی ہوا چلتی تھی تو چھت پر زیادہ محسوس ہوتی تھی. جلال بھی ڈرتے ڈرتے اس کے پیچھے چھت پر چڑھ گیا اور بھائی کے پاس ہی منڈیر پر بیٹھ گیا

.کیا بات ہے نظر بٹو؟ بڑا لال سرخ ہورہا ہے.’ جمال کا موڈ اچھا تھا’

وہ ایک کام تھا تم سے.’ جلال نے شرماتے ہوئے کہا اور جیب سے رضیہ کا خط نکال کر بھائی کی طرف بڑھا دیا

اب یہ کیا ہے؟’ جمال نے خط پکڑا اور غور سے دیکھنے کے بعد کھول لیا. اس نے خاموشی سے خط پڑھا اور پھر مونچھوں کو تاؤ دے کر زیر لب مسکرانے لگا

.کیا لکھا ہے؟’ جلال نے شوق سے پوچھا’

.تجھے کیا تکلیف ہے؟ جا دفعہ ہوجا یہاں سے.’ جمال نے دھتکار کر کہا’

‘مجھے کیوں نہیں تکلیف ہوگی؟ میرا خط ہے آخر’

.یہ شک تجھے کیسے ہوا کہ یہ تیرا خط ہے؟’ جمال نے اس کو گھور کر پوچھا’

.میرا نام لکھا ہے اس پر. غور سے دیکھ.’ جلال نے انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا’

جمال نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا

‘یہ؟ یہ جلال نہیں جمال لکھا ہے، عقل کے اندھے. ان پڑھ جاہل، بونا ہے تو’

نہیں تم جھوٹ بول رہے ہو. یہ میرا خط ہے.’ جلال کی آواز روہانسی سی ہوگئ. ‘میں جا کر ماں کو بتاتا ہوں.’

 دماغ تو نہیں خراب ہوگیا نظر بٹو؟ میرا پتہ ہیں نا؟ ماں کو بتایا تو الٹا لٹکا دوں گا.’ جمال نے ایک تھپڑ جلال کے گال پر جڑ کر کہا تو وہ بیچارہ روتا ہوا بھاگ گیا

اگلے دن رضیہ کو سہیلیوں کے ساتھ ٹیوب ویل پر دیکھا تو جلال دوڑتا پہنچ گیا

.رضیہ؟’ اس نے ڈرتے ڈرتے آواز دی’

‘کیا ہے نظر بٹو؟’

‘یہاں ایک سائیڈ پر آ، میں نے ایک ضروری بات کرنی ہے’

رضیہ نے اسکی طرف غور سے دیکھا اور پھر معنی خیز انداز میں مسکرا کر اس کے ساتھ جا کر برگد کے نیچے بیٹھ گئ. سہیلیوں نے مزاق کرنے کی کوشش کی مگر رضیہ نے ایک گھوری ماری تو چپ کر گیئں

‘ہاں بول نظر بٹو کیا ہے؟ میرے لئے کسی نے کچھ بھیجا ہے کیا؟’

‘نہیں، کسی نے کچھ نہیں بھیجا.’ جلال نے ڈرتے ڈرتے کہا. ‘وہ تیرا خط مجھ سے جمال نے چھین لیا’

.پھر؟’ رضیہ نے اشتیاق سے پوچھا’

‘پھر اس نے مجھے کچھ نہیں بتایا کہ تم نے اس میں کیا لکھا تھا’

.تو نے جان کر کیا کرنا تھا نظر بٹو؟’ رضیہ نے مسکرا کر پوچھا’

کیوں مزاق کرتی ہو رضیہ؟’ جلال نے افسردگی سے کہا. ‘تمہارا محبت نامہ تھا میرے نام. میرے لئے تو ہر لفظ ہیرا موتی تھا تیرا

‘کیا کہا؟’ رضیہ تنتنا کر کھڑی ہوگئ. ‘دماغ تو نہیں چل گیا تیرا؟’

سہیلیوں نے رضیہ کی اونچی آواز سنی تو وہ بھی دوڑتی پہنچ گیئں

.میں نے ایسا کیا کہ دیا رضیہ؟’ جلال بیچارا تو ہکا بکا کھڑا رہ گیا’

میں کیوں لکھوں گی تجھے محبت نامہ؟ بونے مردود، شکل اور قد دیکھا ہے اپنا؟ بڑا آیا ساڑھے تین فٹ کا مرد.’ رضیہ نے کمر پر ہاتھ رکھ کر چیخ کر کہا

.مگر اس خط پر……اس پر تو میرا نام لکھا تھا.’ جلال نے رندھی ہوئی آواز میں کہا’

جاہل! گنوار!’ رضیہ نے جلال کا گریبان پکڑ کر اس بیچارے کو جھنجوڑا. ‘اس پر تیرے بھائی کا نام لکھا تھا….جمال کا

اس کے بعد تو حد ہوگئ. رضیہ اور اسکی سہیلیوں نے ناخن اور چپلیں مار مار کر جلال بیچارے کا حلیہ بگاڑ دیا. وہ بیچارا روتا جاتا اور اپنے مختصر سے بازوؤں سے  اپنے آپ کو بچانے کی ناکام کوشش کرتا رہا. مار مار کر لڑکیاں تھک کر گھر چلی گیئں تو جلال وہیں برگد کی چھاؤں تلے بیٹھ کر روتا رہا. جسم کی چوٹوں کی درد تو پتہ نہیں تھی کہ نہیں لیکن دل بہت درد کر رہا تھا. اس کو روتا دیکھ کر کتے بھی اس کے اردگرد اکٹھے ہوگئے اور اس کے زخم چاٹنے کی کوشش کرنے لگے

_________________________________________

اس دن کے بعد جلال کو بہت عرصے کسی نے گاؤں میں نہیں دیکھا. باپ نے کافی ڈھونڈا. تھوڑی بہت کوشش گاؤں والوں نے بھی کی. مگر نجانے زمین کھا گئ یا آسمان نگل گیا، جلال کا کوئی پتہ نہیں چلا. ماں بھی تھوڑا بہت روئی دھوئی لیکن پھر صبر کر کہ بیٹھ گئ. سوچتی تھی اچھا ہی ہوا کے کہیں چلا گیا. یوں بھی گاؤں میں اسکی زندگی اجیرن تھی

___________________________________________

میں ایک مصنف ضرور ہوں مگر یقین مانئے کہانی کے پلاٹ پر میرا کم ہی قابو ہوتا ہے. کردار خود ہی کہانی کو کہیں کا کہیں لے جاتے ہیں. لیکن مصنف ہونے کا ایک فائدہ ضرور ہے. وہ یہ کہ میں بہت سی ایسی باتیں جانتا ہوں جو کہانی کے باقی کردار نہیں جانتے. جیسا کہ مجھے یہ معلوم ہے کے جلال کہاں تھا

_______________________________________________

اس دن، رضیہ اور اس کی ظالم ہمجولیوں کے ہاتھوں پٹائی کے بعد جلال کو یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کی زندگی میں صرف محرومیاں ہی لکھی تھیں. گاؤں سے اس کا دل اٹھ چکا تھا مگر رضیہ سے محبت ابھی بھی باقی تھی. اس کو یقین تھا کہ رضیہ کے دل میں کہیں نا کہیں اس کیلئے، تھوڑی بہت پسندیدگی موجود تھی

تھوڑی دیر رونے دھونے کے بعد اٹھا. منہ ہاتھ دھویا. چپکے سے اپنے گھر میں داخل ہوا. ابا ماں کی نظر بچا کر کہاں پیسے چھپا کر رکھتا تھا، اس کو اچھی طرح معلوم تھا. پیسے نکالے، نیفے میں اڑسے اور نکل پڑا

گاؤں سے شہر کیلئے آخری گاڑی نکلنے ہی والی تھی. وہ اس میں بیٹھ گیا اور شہر پہنچ گیا. اڈے کے سامنے ہی سرکس لگا ہوا تھا. جلال کی تو باچھیں کھل گیئں. سرکس کا بچپن سے بہت شوقین تھا. آؤ دیکھا نا تاؤ، ٹکٹ خریدا اور گھس گیا تمبو میں. جانوروں کے کرتبوں میں، جوکروں کی مستیوں میں اور بھانت بھانت کے لوگوں میں وہ بہت جلد اپنا غم بھول گیا

کیا نام ہے بیٹے تمہارا؟’ کسی نے اچانک بہت پیار سے جلال کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو اس نے چونک کر پوچھنے والے کی طرف دیکھا

ایک سفید بالوں اور برف سی سفید داڑھی مونچھوں والے بابا جی کھڑے شفقت سے مسکرا رہے تھے. اجلا سفید کرتا پاجامہ پہنے تھے اور دلچسپ بات یہ تھی کہ ان کا قد جلال سے بس کچھ ہی انچ لمبا تھا

.جی میں نظر بٹو ہوں.’ جلال نے جھینپتے ہوئے جواب دیا’

ناں! ناں! بیٹے. ایسے نہیں کہتے. تمھیں کس نے کہا کہ تم نظر بٹو ہو؟ بابا جی نے کندھا تھپکتے ہوئے پوچھا

وہ تو جی، جب سب کہتے تھے تو میں نہیں مانتا تھا لیکن جب ماں نے بھی یہی کہنا شروع کر دیا تو ماننا پڑا. اب ماں تو جھوٹ نہیں بولتی نا جی؟’ جلال نے معصومیت سے جواب میں پوچھا

ہاں! یہ تو ہے. مائیں جھوٹ نہیں بولتیں.’ بابا جی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا. ‘لیکن ایسا ہے نا برخودار کہ مائیں بھی انسان ہوتی ہیں. لہٰذا کبھی کبھی مجبور ہو کر وہ سب کچھ کہ جاتی ہیں جو کہ نہیں کہنا چاہئے

‘اچھا جی!’ جلال نے سعادت مندی سے سر ہلایا. ‘ویسے جی میرا نام جلال الدین ہے’

‘واہ! بہت اچھا نام ہے.’ بابا جی مسکرائے. ‘کوئی کام شام بھی کرتے ہو یا صرف سرکس ہی دیکھتے ہو؟’

.وہ جی آج ہی گاؤں سے شہر آیا تھا. گاڑی سے اترا تو سرکس نظر آ گیا. بس یہاں آ گیا.’ جلال نے جواب دیا اور پھر کچھ سوچ کر کہنے لگا: ‘مزدوری کے ارادے سے ہی شہر آیا تھا جی

 

.مزدوری؟ ہاہاہاہا!’ بابا جی نے ایک قہقہہ لگایا تو جلال بیچارا شرمندہ سا ہوگیا’

ہم جیسے لوگ مزدوری نہیں کرتے بیٹے. ہم جیسے لوگ صرف دوسرے لوگوں کی تفریح و طبع کیلئے پیدا کئے گئے ہیں

جلال کو یوں محسوس ہوا کہ یہ کہتے کہتے بابا جی کا لہجہ کچھ کڑوا سا ہوگیا تھا

میں ہر کام کرنے کو تیّار ہوں جی. لوگوں کو ہنسانا بھی آتا ہے اور رلانا بھی.’ جلال نے پرجوش انداز میں کہا

.ہنسانا تو سمجھ میں آتا ہے. یہ رلاتے کیسے ہو تم؟’ بابا جی نے حیرت سے پوچھا’

وہ جی گانا گاتا ہوں نا میں. غمگین گیت گاتا ہوں تو لوگ دکھی ہوجاتے ہیں.’ جلال کو یہ کہتے ہی رضیہ کی آنکھوں سے گرتے آنسو یاد آ گئے اور وہ خود بھی دکھی سا ہوگیا

‘زبردست! تم تو بہت کام کے آدمی ہو. آؤ میرے ساتھ آ جاؤ’

_______________________________________

بابا جی کا نام گگلو استاد تھا اور وہ اور ان کا پورا خاندان سرکس میں کام کرتا تھا. وہ خود بونے تھے مگر انکی بیوی نارمل قد کاٹھ کی تھی. پتہ نہیں وہ بے جوڑ شادی کیسے ہوئی تھی مگر ان کی اکلوتی لڑکی بھی بونے قد کی ہی تھی. گگلو استاد کی بیوی بھی جلال سے مل کر بہت خوش ہوئی اور اس کے ساتھ ایسے گھل مل گئ کہ جیسے وہ میلے میں بچھڑا بیٹا ہو

گگلو استاد نے سرکس کے مینیجر سے بات کر کہ جلال کو بھی نوکری دلوا دی. نوکری کیا تھی، بس اسے سرکس کے مختلف کرتبوں کے درمیان تماشائیوں کا دل بہلانے کوگانے گانا تھا. جلد ہی جلال کی اچھی آواز سن کر اور اس کی پرفارمنس سے متاثر ہو کر مینیجر نے اس کی نوکری پکّی کر دی

____________________________________

جلال کو نوکری بھی مل گئ اور سرکس کے ماحول میں رونق میلہ بھی بہت تھا. پھر سیر و تفریح الگ. آج ایک شہر تو کل دوسرا. ایک ہفتے ایک قصبہ تو اگلے ہفتے دوسرا. لیکن گاؤں کے واقعات جلال کے دماغ سے نکلنے کا نام نہیں لیتے تھے. وہ کام کے بعد بس ایک طرف اداس بیٹھا دنیا دیکھتا رہتا تھا

کیوں بھائی، یہ تم ہر وقت اداس اور غمگین کیوں بیٹھے رہتے ہو؟’ ایک دن گگلو استاد اس سے پوچھ ہی بیٹھا

سننے کو ہمدرد کان ملے تو جلال بلک پڑا. ساری کہانی تفصیل سے استاد کو سنا ڈالی

ہوں!’ کہانی سننے کے بعد استاد نے ایک گہرا سانس بھرا. ‘بہت ظلم ہوا ہے تم پر بیٹے. لیکن غلطی تمہاری بھی تھی

‘جی میری غلطی؟’ جلال نے چونک کر پوچھا. ‘میری غلطی کیسے؟’

دیکھو بیٹے!’ استاد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے کی کوشش کی. ‘یہ عورتوں کو قد وغیرہ سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی. یہ صرف یہ دیکھتی ہیں کہ مرد ان کو کما کر کتنا کھلا سکتا ہے. اب مجھے ہی دیکھ لو. اپنے قد کو بیٹھا روتا رہتا تو نا شادی ہوتی نا نوکری کر سکتا. لیکن دیکھ لو، شادی بھی ہو گئ اور اچھے پیسے بھی کماتا ہوں

.تو کیا آپ کی بیوی نے آپ کے قد کی وجہ سے آپ کا مزاق نہیں اڑایا؟’ جلال نے حیرت سے پوچھا’

لو بھلا، مزاق کیوں اڑاتی وہ؟’ گگلو استاد نے ہنستے ہوئے کہا. ‘اپنا بھلا برا اچھی طرح جانتی تھی. بہت کچھ سوچ سمجھ کر اس نے مجھ سے شادی کا فیصلہ کیا تھا. اور اب تک وہ کبھی اپنے فیصلے پر نہیں پچھتائ

 

تو پھر آپ کے کہنے کا یہ مطلب ہوا کہ اگر میں بہت سا پیسہ کما لوں تو رضیہ مجھ سے شادی پر راضی ہوجائے گی؟ مجھ سے محبت کرنا شروع ہو جائے گی؟’ جلال نے سوچتے ہوئے پوچھا

ہاں کیوں نہیں.’ استاد نے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا. ‘اگر تم اس کو ایک روشن مستقبل کی ضمانت دے دو گے تو وہ ضرور تمہاری ہوجائے گی

گگلو استاد تو یہ کہ کر چلا گیا لیکن جلال کے دل میں امید کی شمع روشن کر گیا. جلال کو یقین ہو چلا تھا کہ پیسہ کمانا ہی اس کے دل کے درد کا واحد حل تھا

____________________________________________

گگلو استاد  کی اکلوتی بیٹی کا نام عطیہ تھا. جلال سے کوئی پانچ یا چھ برس چھوٹی ہوگی. خوبصورت اتنی تھی کہ اس کے بے انتہاء چھوٹے قد کے باوجود، بے شمار قدر دان تھے. مگر لڑکی تھی بہت مختلف. اس کو عام لوگوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا. پھر وہ یہ بھی اچھی طرح جانتی تھی کے نارمل مردوں کے نزدیک اس کی حیثیت، ایک خوبصورت کھلونے سے زیادہ نہیں تھی. وہ ان مردوں کے بھوکے ہاتھوں میں مٹی کا کھلونا بن کر، ٹوٹنا نہیں چاہتی تھی

عطیہ سرکس میں بازیگروں کے ساتھ کرتب دکھاتی تھی. ابھی جواں تھی تو جسم میں لوچ تھا. پھر چھوٹا قد ہونے کی وجہ سے وزن بھی تھوڑا تھا. اپنے کام میں بہت ماہر تھی. زمین سے بیسیوں فٹ اونچے تنے رسے پر چلتی اچانک جھولے پر چھلانگ لگاتی تو کمزور دل لوگوں کی چیخیں ہی نکل جاتیں

عطیہ کا دل پہلے دن ہی سے جلال پر آ گیا تھا. اس کو جلال کی متورم اور خواب ناک آنکھیں اور اس کے بات کرنے کا انداز دیکھ کر ہی اس کی حساسیت کا اندازہ ہو گیا تھا. پتہ نہیں جلال کی شخصیت میں اس کے علاوہ اور کیا تھا کہ اس کو دیکھ کر رضیہ کا دل چاہتا تھا کہ وہ اپنی نرم انگلیوں سے، اس کے سیاہ گھنگریالے بالوں کو سلجھائے؛ اور کسی بھی طرح سے اس کے ٹوٹے دل کو جوڑ دے

جلال بچہ نہیں تھا کہ اس کو عطیہ کی آنکھوں میں جگمگاتے خواب نظر نا آتے. لیکن اس کی آنکھوں پر رضیہ کے عشق کی پٹی بندھی تھی. وہ اب بھی یہ سمجھتا تھا کہ رضیہ کے دل میں اس کے لئے کوئی نا کوئی نرم گوشہ ضرور تھا. اور یہ بھی کے سہیلیوں کی موجودگی کی وجہ سے شاید رضیہ کا رویہ ٹھیک نہیں تھا. اتنی مار اور اتنی بے عزتی کسی اور کی ہوئی ہوتی تو وہ کب کا سبق سیکھ چکا ہوتا. لیکن جلال کا معاملہ کچھ الگ ہی تھا. دراصل رضیہ جلال کی کشتی کا پہلا کنارہ تھی. پہلے کنارے کو چھوڑنا ہمیشہ بہت مشکل ہوتا ہے. اور پھر استاد کی باتوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا

ان سب باتوں سے بےخبر عطیہ بیچاری بدستور جلال کی توجوہ مبذول کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھی. اپنے آپ کو بناتی سنوارتی، اچھے کپڑے پہنتی. لیکن جلال تو گویا پتھر کا انسان تھا. اس کے چہرے پر ہر وقت ایک تلخی سی دوڑتی رہتی تھی. پھر اس کو دنیا کی ہر خوبصورت لڑکی کا رضیہ سے مقابلہ کرنے کی عادت تھی

 

رضیہ گاؤں کی تھی اور شکل و صورت کی بہت اچھی تھی مگر سادہ کپڑوں اور میک اپ سے عاری چہرے کی مالک تھی. اس کے مقابلے میں عطیہ ہر وقت بنی ٹھنی رہتی تھی اور سرکس کے مخصوص ماحول میں پلی بڑھی تھی. لہٰذا ساتھ کام کرنے والے بازی گروں کے ساتھ ہنسی ٹھٹھے کو برا نہیں سمجھتی تھی. مگر یہ سب جلال کو دیکھ کر بہت برا لگتا تھا. وہ عطیہ کو اچھے کردار کا مالک نہیں سمجھتا تھا

بہت دن تو عطیہ بہت صبر کے ساتھ جلال کو لبھانے کی کوشش کرتی رہی. اس کو یقین تھا کہ جس طرح گرتے پانی کی نرم بوندیں سخت سے سخت پتھر میں بھی سوراخ کر دیتی ہیں، ایک دن اس کی محبت بھی جلال کے دل کو نرم کر دے گی. لیکن  پھر ایک دن اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا

جلال کا شناختی کارڈ دیکھ کر عطیہ کو یہ پتہ چل چکا تھا کہ اس کی سالگرہ یکم دسمبر کو ہوتی تھی. اس محبت کی ماری نے ایک مہینے پہلے سے ہی پیسے بچانے شروع کر دئے تھے تاکہ جلال کو کوئی اچھا سا تحفہ دے سکے. اس کو بالکل بھی ایسے تماشائی اچھے نہیں لگتے تھے جن کی نظر تماشے سے زیادہ، اس کے جسم کی گولاءیوں پر ہوتی تھی. مگر مرتی کیا نا کرتی. مسکراتی رہی. ان جانوروں کے سامنے داد کیلئے جھکتی رہی اور پیسے اکٹھے کرتی رہتی. اس کوشش میں کوئی زیادہ ہی رنگین مزاج ہاتھ بھی لگا جاتا تو برداشت کر لیتی. آخر محبت قربانی مانگتی ہے

 تماشائیوں سے داد میں ملا ایک ایک پیسہ جوڑ کر بیچاری نے، ایک ولایتی خوشبو کی خوبصورت سی بوتل خریدی، نرم ریشمی رومال میں رنگین ربن سے باندھی اور رات کو چپ کر کے ایک محبت بھرے خط کے ساتھ، جلال کے سرہانے رکھ دی

عطیہ!’ جلال کی سرد آواز عطیہ کے کانوں سے ٹکرائی. وہ اپنے تمبو میں شام کے شو کیلئے میک اپ کر رہی تھی

کیا ہے جلال؟’ اس نے بظاھر بے اعتنائی سے زلفیں سنوارتے ہوئے کہا لیکن اندر سے اس کا چھوٹا سا دل بلیوں کی طرح اچھل رہا تھا

یہ کیا بکواس ہے؟’ جلال نے غصے سے خوشبو کی شیشی عطیہ کے سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر پھینکی تو وہ ٹوٹ گئ اور پورے تمبو میں تیز خوشبو پھیل گئ

یہ کیا کیا جلال تو نے؟’ عطیہ نے زخمی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا. ‘کتنا بے درد ہے تو. میں نے کتنی محنت سے اپنی حق حلال کی کمائی جوڑ کر یہ تحفہ خریدنے کیلئے پیسے جمع کئے اور تو نے ظالم، اسے ایسے بے قدری سے پھینک کر توڑ دیا؟

حق حلال کی کمائی؟’ جلال نے بے رحمی سے کہا. ‘تو بے شرم ہے عطیہ. اپنے جلوے بیچتی ہے تو. حسن فروخت کرتی ہے تو اپنا. اور میرے لئے تحفہ کیوں؟ میں تیرا کونسا خصم ہوں؟

تو کیسی باتیں کرتا ہے جلال؟ آخر تیرے دل میں میرے لئے تھوڑی سی بھی جگہ نہیں؟’ عطیہ نے بے قرار ہو کر پوچھا. اس کی خوبصورت آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھر آئے تھے

‘میرا دل؟’ جلال نے تمسخرانہ انداز میں کہا. ‘میرا دل تو رضیہ کا ہے’

.رضیہ کون؟’ عطیہ تو دل پکڑ کر بیٹھ گئ’

‘ہے ایک. تجھے اس سے کیا؟’

‘میرے تیرے جیسی ہے؟’ عطیہ نے کچھ سوچ کر پوچھا. ‘یا پھر نارمل ہے؟’

.اونچی لمبی اور گوری چٹی ہے وہ. بونی نہیں ہے.’ جلال نے فخر سے کہا’

.تو پھر وہ تجھے بھلا کیوں کر ملے گی؟’ عطیہ نے حیرت سے پوچھا’

کیوں نہیں ملے گی؟’ جلال نے غصے سے کہا. ‘ملے گی اورضرور ملے گی. بس چار پیسے میرے ہاتھ میں آجایئں گے تو وہ انکار نہیں کر سکے گی

میری بات غور سے سن جلال.’ عطیہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی. ‘رضیہ جیسی لڑکیوں کے نزدیک، ہم جیسے لوگ انسان نہیں ہوتے. وہ کبھی تجھ سے شادی نہیں کرے گی. تو مجھ سے شادی کر لے. میں تجھے بہت پیار دوں گی

تو اس کے پاؤں کی مٹی بھی نہیں. وہ شرم و حیاء کی پیکر ہے اور تو فاحشہ اور بے حیاء. بہتر یہی ہے کہ تو اپنی ناپاک زبان سے اس کا نام نا لے

سخت الفاظ کی بے رحم بارش برسا کر، جلال تو عطیہ کے تمبو سے نکل گیا لیکن اس غریب کی آرزویئں، تاش کے پتوں کے محل کی طرح، ایک ہی لمحے میں ڈھیر ہوگیئں. اس کا دل کتنا حساس تھا، خود اس کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا

_____________________________________

شام کے شو میں عطیہ کا سیگمنٹ شروع ہونے سے کچھ لمحے پہلے ہی، جلال سرکس کے تمبو سے باہر نکل آیا. وہ عطیہ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا. وہ چلتا ہوا اپنے تمبو میں داخل ہوا تو بستر کے سرہانے ایک چوٹی سی کپڑے کی پوٹلی نظر آئ. اس نے حیرت سے پوٹلی کھولی تو وہ زیورات سے بھری ہوئی تھی. اوپر ہی ایک پرچی لکھی پڑی تھی. اس پر لکھا تھا.

‘تمھارے لئے، بہت پیار اور خلوص کے ساتھ. جاؤ رضیہ کو اپنا لو. فقط عطیہ

ابھی جلال زیورات اور پرچی پکڑے کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک سرکس کے تمبو کی طرف سے غیر معمولی شورو غل کی آواز بلند ہوئی. وہ گھبرا کر باہر نکلا تو دیکھا لوگوں کا غول تمبو سے باہر نکل رہا تھا. ہر آدمی کی زبان پر مختلف باتیں تھی

‘لڑکی رسے سے گر کر مر گئ’

‘لڑکی بیچاری پھسل گئ’

‘لڑکی نے خود کشی کر لی’

جلال تیزی سے لوگوں کو دھکیلتا تمبو کے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ بہت سے لوگ پنڈال کے بیچ میں اکٹھے ہوئے تھے. بہت کوشش کرنے پر وہ بھی ان کے درمیان سے ہوتا ہوا بیچ میں پہنچ گیا. دیکھا تو زمین پر عطیہ کی تڑی مڑی لاش پڑی تھی اور باچھوں سے خون نکل کر سینے پر پھیل رہا تھا

صبح فجر کے فوری بعد عطیہ کا جنازہ پڑھا کر دفنا دیا گیا. عطیہ پھسل کر گری یا اس نے خود کشی کر لی، کوئی نہیں جانتا تھا. مگر جلال کو حقیقت اچھی طرح معلوم تھی. عطیہ کی ماں بین کر رہی تھی اور گگلو استاد بھی ایک طرف، سرکس کے باقی لوگوں کے درمیان بیٹھا آنسو بہا رہا تھا. جلال کچھ دیر خاموشی سے کھڑا ان کو دیکھتا رہا. پھر وہ اپنے خیمے میں گیا، زیورات کی پوٹلی اٹھائی اور جا کر گگلو استاد کے قدموں میں رکھ دی. اس سے پہلے کے استاد اس سے کچھ پوچھتا، جلال تیز تیز قدم اٹھاتا سرکس کے میدان سے نکل گیا

وہ بہت پریشان تھا. اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر عطیہ نے خود کشی کیوں کی. بیوقوف کو یہ نہیں پتہ تھا کہ عطیہ نے بالکل اسی وجہ سے خود کشی کی تھی، جس وجہ سے جلال نے گاؤں چھوڑا تھا. فرق صرف اتنا تھا کہ دل ٹوٹنے پر جلال نے صرف گاؤں چھوڑا تھا لیکن عطیہ نے تو دنیا ہی چھوڑ دی. دل دل کی بات ہوتی ہے. کچھ دل ٹوٹنے کا صدمہ برداشت کر لیتے ہیں، کچھ نہیں کرتے

جب اور کچھ سمجھ نہیں آیا تو جلا ل نے واپس گاؤں جانے کا فیصلہ کیا. کچھ تو ماں کی یاد ستا رہی تھی اور کچھ رضیہ کو ملنے کی خواہش تھی. تھوڑے بہت پیسے تو جمع ہو ہی چکے تھے. سوچتا تھا کہ وہ پیسے رضیہ کو دے گا اور مزید کا وعدہ کر کے پھر شہر آ جائے گا

________________________________

ویگن گاؤں کے باہر رکی تو ظہر کی اذان ختم ہو رہی تھی. جلال ویگن سے اترا اور تھکے تھکے قدموں سے چلتا ہوا گھر کی جانب چل پڑا. گلی میں داخل ہوا تو دیکھا گھر کے باہر خوب رونق تھی. قناتیں لگی ہوئی تھیں اور دریاں بھچی پڑی تھیں. پورا گاؤں زرق برق کپڑے پہنے اکٹھا ہوا تھا اور ایک طرف سفید وردیاں پہنے بینڈ والے بھی کھڑے دھوپ تاپ رہے تھے

جلال کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ سب کیا ہو رہا تھا. اس کو دیکھ کر کچھ لوگ چونکے اور اس کو آواز دے کر بلایا مگر وہ سنی ان سنی کر کے گھر میں داخل ہوگیا

.ماں صدقے! آ گیا میرا نظر بٹو.’ ماں نے دیکھتے ہی بازو پھیلا دئے’

اماں!’ جلال اور کچھ نہیں بول سکا اور متورم آنکھوں کے ساتھ دوڑ کر ماں کی گود میں ننھے بچے کی طرح سمٹ گیا

مجھے پتہ تھا تو ضرور آئے گا مگر تیرا باپ نہیں مانتا تھا.’ ماں نے اس کے بال سہلاتے ہوئے کہا. ‘اسی لئے میں نے تیرے لئے سنہری اطلس کی شیروانی سلوا کر رکھ لی تھی

‘شیروانی؟’ جلال نے حیرت سے سر اٹھا کر ماں کی طرف دیکھا. ‘شیروانی کس لئے اماں؟’

.شہ بالا ہیں نا تو جمال کا. شیروانی پہنے گا تو شہ بالا لگے گا.’ ماں نے مسکرا کر جواب دیا’

جمال کی شادی ہو رہی ہے؟’ جلال کا دل کسی اندیکھے اندیشے سے دہل سا گیا. ‘کس سے ہورہی ہے شادی اس کی؟

رفیق کریانے والے کی بیٹی رضیہ سے. تجھے تو پتہ ہی ہوگا نا بھائی کی محبت کا.’ ماں نے ہنستے ہوئے جواب دیا

جلال کے کانوں میں تو سیٹیاں سی بجنا شروع ہوگیئں اور وہ لمحوں میں زندہ لاش بن کر رہ گیا. کب، کس نے اور کس طرح اس کو شیروانی پہنائی؟ کب اس کو جمال کے آگے بچوں کی طرح گھوڑی پر بٹھایا گیا؟ ہوش آیا تو تب جب بارات رضیہ کے گھر کے دروازے پر پہنچ کر رک گئ. دولہا اور شے بالے کو گھوڑی سے اتارا گیا تو کب اور کیسے لوگوں کے درمیان سے جلال غائب ہوگیا، کسی کو خبر نہیں ہوئی

___________________________________

بارات کے پہنچنے کی گہما گہمی، نکاح کے چھوہاروں کی تقسیم میں لڑائی اور کھانے کے شورو غل میں کسی کو جلال کا خیال ہی نہیں آیا. کھانے کے بعد سب مل کر بیٹھے تو ماسٹر صاحب کو جلال کا خیال آیا. بہت ڈھونڈا پر نہیں ملا. تنگ آ کر بھولے مراثی نے ہی گانا گانا شروع کر دیا

اچانک ماسٹر صاحب کے کان میں کوئی عجیب سی آواز پڑی. انہوں نے غور سے سننے کی کوشش کی تو چہرے کا رنگ اڑ گیا

.چپ ہو جاؤ سارے. میں نے کہا چپ ہو جاؤ.’ ماسٹر نے پہلے آرام سے اور پھر چیخ کر کہا’

شادی کے پنڈال میں سناٹا طاری ہوگیا. سب کان لگا کر سننے لگے. بہت ہی عجیب سی بات تھی. ابھی عصر کا وقت نہیں ہوا تھا لیکن کتوں کے رونے کی آواز آ رہی تھی

توبہ! توبہ!’ ماسٹر جی نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا. ‘ایسا کبھی دیکھا نا سنا. کیسی نحوست بھری آواز ہے. بھلا بھری دوپہر میں کتے کہاں روتے ہیں

واقعہ کچھ ایسا عجیب تھا کے سب لوگ شادی کی مصروفیت بھول کر باہر نکل گئے کہ کتوں کے رونے کی وجہ تلاش کر سکیں. کتوں کی آواز گاؤں کے باہر سے ٹیوب ویل کی طرف سے آ رہی تھی لہٰذا مجمع اس طرف چل پڑا. گاؤں سے باہر نکلے تو دیکھا کہ دور میدان میں، ٹیوب ویل کے ساتھ، بوڑھے برگد کے نیچے کتوں کا ایک غول بیٹھا تھا اور سر اوپر اٹھا کر با جماعت رو رہا تھا

لوگ کچھ اور پاس پہنچے تو دیکھا برگد کی ایک شاخ سے جلال کا بےجان لاشہ جھول رہا تھا

‘چک! چک!’ ماسٹر صاحب نے تاسف سے سر ہلایا. ‘لگتا ہے بیچارے نظر بٹو نے خود کشی کر لی’

نہیں!’ مجمع میں سے مولوی مشتاق کی آواز بلند ہوئی. ‘خود کشی نہیں کی ہے. جلال الدین کو بس خدا سے ملاقات کی اور اس سے کچھ پوچھنے کی جلدی تھی

خدا سے ملاقات؟’ ماسٹر صاحب نے حیرت سے مولوی صاحب کی طرف دیکھا. ‘کیا پوچھنا چاہتا تھا جلال خدا سے؟

‘یہی کہ اگر خدا جلال سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے تو اس کو نظر بٹو بنا کر کیوں پیدا کیا؟’

 

13 thoughts on “نظر بٹو کا عشق

  1. شہریار حسب معمول بہت اچھی کاوش۔۔۔ اس مرتبہ انداز یکسر مختلف۔۔۔ اسلوب ویسا ھی۔ اور ھمیشہ کی طرح مرکزی کردار معشرے کا ایک مختلف کردار۔۔۔۔ بہت عمدہ۔۔۔۔ ٹیپو۔۔۔۔۔۔۔

    Liked by 1 person

  2. شہریار خاور کو جب بھی پڑھا بھیگ کر ہی اٹھا۔۔۔اس شخص کو بھگونے کا فن آتا ہے۔۔۔فن کہاں یہ تو تاثیر ہے اس کے لفظوں میں۔۔۔بہت کم ایسے مصنف ہیں جو مجھے باندھے رکھتے ہیں۔۔۔
    ،اس کہانی میں ایکشن ہے، بیک گراونڈ ہے، ڈویلپمینٹ ہے، کلائمکس ہےاور عمدگی سے نبھایا گیا اختتام ہے۔۔۔
    اس میں کیا نہیں ہے؟؟ شہریار بھائی ڈھیروں مبارکباد ایک عمدہ کہانی کیلئے۔۔۔

    Liked by 1 person

  3. شہریار خاور کو جب بھی پڑھا بھیگ کر ہی اٹھا۔۔۔اس شخص کو بھگونے کا فن آتا ہے۔۔۔فن کہاں یہ تو تاثیر ہے اس کے لفظوں میں۔۔۔بہت کم ایسے مصنف ہیں جو مجھے باندھے رکھتے ہیں۔۔۔
    ،اس کہانی میں ایکشن ہے، بیک گراونڈ ہے، ڈویلپمینٹ ہے، کلائمکس ہےاور عمدگی سے نبھایا گیا اختتام ہے۔۔۔
    اس میں کیا نہیں ہے؟؟ شہریار بھائی ڈھیروں مبارکباد ایک عمدہ کہانی کیلئے۔۔۔

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s