رفیق پریمی اور شہناز انجان

wallpaper-11e4e

لاہور میں ماڈل ٹاؤن کچہری کے باہر، فیروز پور روڈ انڈر پاس کے نیچے، سڑک کنارے فٹ پاتھ پر، کچھ عرضی نویس کرسیاں لگائے بیٹھے ہوتے ہیں. ذرا غور سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان سب کے درمیان ایک جگہ خالی ہے. یہاں کل تک رفیق پریمی کی کرسی میز لگی ہوتی تھی

رفیق پریمی کون تھا؟ یہ بڑا معمولی سا سوال ہے کیونکہ رفیق ایک معمولی سا آدمی تھا. اتنا معمولی کہ نا دنیا کو اس کے آنے کی خبر ہوئی نا جانے کی. شاید پیدائش پر خوشیاں ضرور منائی گئ ہوں گی لیکن اس کی موت پر کسی کی آنکھ سے ایک آنسو تک نا گر سکا. دیکھنے میں بھی معمولی سا انسان تھا. صاف گندمی رنگ، درمیانہ قد، اکہرا جسم اور چھدری داڑھی. ہر وقت ہلکے رنگ کا صاف ستھرا شلوار قمیض پہنے رکھتا تھا. غرضیکہ رفیق کی پوری شخصیت میں کہیں کچھ غیر معمولی نہیں تھا

رفیق کب پیدا ہوا؟ کیسے بڑا ہوا؟ اس کے ماں باپ کون تھے؟ ان سب سوالوں سے اس کہانی کا کوئی سروکار نہیں. ہاں یہ میں آپ سب کو ضرور بتانا چاہوں گا کہ اس کے نام کے ساتھ لفظ ‘پریمی’ کا اضافہ کیوں اور کیسے ہوا

ہم سب کو مختلف قسم کی عادتیں ہوتی ہیں. کسی کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے تو کسی کو سچ بولنے کی. کسی کو بسیار خوری کی عادت ہوتی ہے تو کسی کو بھوکا رہنے کی. کسی کو چوری کی عادت ہوتی ہے تو کسی کو ایمان داری کی. تو رفیق کو محبت کرنے کی عادت تھی

رفیق سب سے محبت کرتا تھا. وہ اپنی بوڑھی ماں سے محبت کرتا تھا. وہ محلے والوں سے محبت کرتا تھا. وہ جانوروں سے بھی محبت کرتا تھا. اس کو اپنے ارد گرد سب لوگ کسی بھی خاص وجہ کے بغیر اچھے لگتے تھے. حسین چہرے تو سب کو ہی اچھے لگتے ہیں لیکن رفیق کا معاملہ کچھ الگ سا تھا. اس کو چہروں کے حسن سے کوئی مطلب نہیں تھا. بلکہ اس کو کسی بھی چیز سے کوئی مطلب نہیں تھا

میرے خیال میں رفیق کا خمیر محبت سے اٹھایا گیا تھا. خدا نے اس کو محبت کرنے کی طاقت سے نوازا تھا اور وہ اس طاقت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتا تھا. ویسے بھی ہر انسان میں محبت کرنے کی قابلیت نہیں ہوتی. زیادہ تر انسانوں میں دل لگانے کی قابلیت ہوتی ہے یا پھر اپنی ہوس پوری کرنے کی خواہش ہوتی ہے. بے لوث محبت کرنے کی قابلیت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے. اور رفیق ایسا ہی ایک انسان تھا

 

رفیق کی سب سے محبت کرنے کی عادت کی وجہ سے دوستوں یاروں نے اسے ازراہ مزاق پریمی کے نام سے بلانا شروع کر دیا. آہستہ آہستہ یہ ہی اس کا نام پڑ گیا. بلکہ اس نے اسی نام کو اپنی میز پر پڑی تختی پر بھی لکھوا لیا تھا

لیکن آخر کو رفیق انسان تھا اور پھر جوان بھی تھا. کبھی کبھی اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ کسی ایک کو ٹوٹ کر چاہے. اتنا چاہے، اتنی محبت کرے کہ محبت کا حق ادا ہوجائے. وہ ایسی محبت کے حصول کیلئے اپنی ذات کی نفی کیلئے بھی تیار تھا. لیکن ابھی تک رفیق کو ایسا کوئی نہیں مل سکا تھا

رفیق کا باپ تو بہت بچپن میں ہی مر گیا تھا. ماں نے پرورش کر کے بڑا کیا تھا اور اس کو رفیق کی شادی کا بہت ارمان تھا. لیکن رفیق نہیں مانتا تھا

رفیق تو کیوں نہیں مانتا بوڑھی ماں کی بات؟ مان جا. شادی کر لے میری بہن کی بیٹی سے. لڑکی بھی اچھی ہے اور اس کی ماں کو تجھ سے پیار بھی بہت ہے.’ ماں رفیق کو واسطے دیتی کہتی

.اماں! زینب بہت اچھی لڑکی ہے. لیکن…..’ رفیق سر کھجاتا کہتا’

.لیکن کیا؟’ ماں پوچھتی’

لیکن مجھے اس سے محبت نہیں ہے ماں.’ رفیق مسکراتا جملہ مکمل کرتا. ‘میں تو اس سے ہی شادی کروں گا جس سے مجھے محبت ہوگی. میرا دل کہتا ہے ایک نا ایک دن مجھے ایسی لڑکی ضرور ملے گی

.الله کرے جلد مل جائے.’ ماں دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیتی اور بات ختم ہوجاتی’

رفیق کی منتیں کرتی اور دعایئں کرتی اس کی ماں ایک دن الله کو پیاری ہوگئ. لیکن رفیق کے سر پر سہرا نہیں دیکھ سکی. ماں مر گئ تو رشتے داروں سے تعلق واسطہ بالکل ہی ختم ہوگیا. اور پھر دنیا میں کسی کو بھی رفیق کی شادی کی فکر نے نا ستایا

پھر ایک دن رفیق کو شہناز سے محبت ہوگئ. شہناز کچہری کے ہی ایک وکیل کے دفتر میں ملازمت کرتی تھی اور روز رفیق کی کرسی کے عین سامنے ویگن کا انتظار کرتی تھی. شاید گھر کہیں قریب ہی تھا کیونکہ جس دن ویگن نہ ملتی، وہ پیدل ہی چلی جاتی

رفیق کی طرح شہناز بھی ایک معمولی لڑکی تھی. معمولی سے مگر صاف کپڑے پہنتی تھی اور معمولی اور قبول صورت نقش و نگار کی مالک تھی. لیکن اس کی شخصیت میں ایک چیز ایسی تھی جس نے رفیق کا دل کھینچ لیا. وہ چیز تھی شہناز کی آنکھیں. بڑی بڑی خوفزدہ سی دکھتی کٹورا آنکھیں تھیں. ان آنکھوں کو دیکھ کر رفیق کا دل چاہتا تھا کہ وہ شہناز کو دنیا کی بھوکی نظروں سے دور، کہیں چھپا کر رکھ لے

شہناز روز سٹاپ پر آ کر کھڑی ہوتی تھی مگر رفیق میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ اس کو مخاطب کرسکتا یا پھر اپنے دل کا حال بیان کرسکتا. بس ٹکٹکی باندھے اس کو دیکھتا رہتا جب تک کہ وہ ویگن میں بیٹھ کر چلی نا جاتی. جس دن ویگن نا ملتی اور شہناز پیدل چل پڑتی تو رفیق سب کام بھول کر اس کے پیچھے چل پڑتا اور اس کو گھر پہنچا کر ہی واپس آتا. شہناز کو کبھی پتہ بھی نہیں چلا تھا کہ رفیق اس کے پیچھے پیچھے چلتا تھا

شہناز کے پیچھے جانے سے رفیق کے کام کا بہت حرج ہوتا تھا. کیونکہ وہ دل کی ڈیوٹی کے پیچھے کسی گاہک کی بھی پرواہ نہیں کرتا تھا. لوگ منتیں کرتے، گالیاں دیتے مگر رفیق روبوٹ کی طرح اٹھتا اور شہناز کے پیچھے چل پڑتا. شہناز کا گھر پاس ہی بوستان کالونی میں واقع تھا. وہ سلامتی کے ساتھ اپنے گھر میں داخل ہوتی تو رفیق بھی مڑ کر واپس کچہری چلا جاتا

پھر ایک دن جب اسی طرح شہناز پیدل گھر جا رہی تھی اور رفیق اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا تو اچانک ایک لڑکے نے شہناز کا پرس چھینا اور دوڑ لگا دی. رفیق نے آؤ دیکھا نا تاؤ اور اس لڑکے کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیا. نجانے کن کن گلیوں اور بازاروں سے گزر کر آخر ایک ویران سی گلی میں رفیق نے اس لڑکے کو پکڑ ہی لیا

لڑکے نے پہلے تو زور لگا کر جان چھڑانے کی کوشش کی مگر رفیق کہاں جانے دیتا تھا. آخر کو معاملہ محبوبہ کے پرس کا تھا جو کے رفیق کو جان سے بھی زیادہ عزیز تھا. جب طاقت سے کام نہیں نکلا تو پرس چھیننے والے لڑکے نے جیب سے پستول نکالا اور فائر کر دیا. گولی رفیق کی ران میں لگی. لیکن گولی کھانے کے بعد بھی اس نے پرس پر اپنی گرفت ہلکی نا ہونے دی

گولی کی آواز سن کر پاس پڑوس کے لوگ باہر نکلنے لگے تو لڑکا پرس چھوڑ کر فرار ہوگیا اور لوگ رفیق کو اٹھا کر ہسپتال لے گئے. خدا کا شکر یہ ہوا کے گولی ہڈی میں نہیں لگی تھی اور گوشت کے آر پار ہوگئ تھی. لہٰذا تیسرے دن شام کو رفیق کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا

وہ بیچارا ہسپتال سے رکشہ کرا کے اور پرس واپس کرنے کی نیّت سے سیدھا شہناز کے گھر کے پاس اترا اور لنگڑاتا ہوا اس کے دروازے کے پاس پہنچا. دروازہ کھٹکھٹانے ہی لگا تھا کے اندر سے باتوں کی آواز سن کر رک گیا

شہناز آخر تو سلیم کو سمجھاتی کیوں نہیں؟ اس کو تجھ سے اتنی محبت ہے تو اپنی ماں کو کیوں نہیں کہتا کے ضد چھوڑ دے.’ آواز غالباً شہناز کی ماں کی تھی

اماں سلیم بہت ہی اچھا لڑکا ہے.’ شہناز کی آواز رفیق کے کان میں پڑی. ‘لیکن ماں کے سامنے اس کی ایک نہیں چلتی

ہنہ! خاک اچھا لڑکا ہے. مجھے تو لگتا ہے کہ یہ سب ماں بیٹے کی ملی جلی سازش ہے. ماں کہتی ہے کے بیٹے کو موٹر سائکل دینے کا وعدہ کرو گے جہیز میں تو میں تاریخ مقرر کروں گی. بیٹا کچھ نہیں بولتا.’ شہناز کی ماں کی آواز آئ. ‘میں تو کہتی ہوں، سلیم کا کھیڑا چھوڑ دے. میں کہیں اور تیرے رشتے کی بات چلاتی ہوں

خبردار اماں!’ شہناز نے کڑک کر کہا. ‘سلیم کی جگہ کسی اور کا نام لیا تو زہر کھا کر مر جاؤں گی میں. پھر تو شوق سے میری میّت کسی اور کے ساتھ رخصت کر دینا

اتنی محبت ہے سلیم سے تو پھر اس کو سمجھا کہ ماں سے بات کرے کے موٹر سائکل کی ضد نا کرے.’ ماں نے جل کر جواب دیا

محبوبہ کی زبان سے کسی اور کا نام سن کر رفیق کی تو دنیا ہی اندھیر ہوگئ. بیچارا جن پاؤں آیا تھا، خاموشی سے انہی پاؤں لوٹ گیا. ساری رات کروٹیں بدلتا رہا اور سوچتا رہا. صبح فجر کی اذان ہوئی تو رفیق کی سوچ ایک فیصلے پر پہنچ چکی تھی. ماں نے اس کی شادی کیلئے تھوڑا بہت زیور جمع کیا تھا. وہ اٹھایا، بازار میں بیچا اور جتنی رقم تھی، شہناز کے پرس میں ڈال کر، اگلی رات اس کے گھر میں پھینک آیا. ساتھ ہی ایک رقعہ بھی ڈال دیا جس پر صرف اتنا لکھا تھا کہ :’شہناز کے جہیز کیلئے، ایک ہمدرد کی طرف سے

میرے خیال میں چھنا گیا پرس دیکھ کر اور پھر اس میں ڈھیر ساری رقم پا کر شہناز اور اسکے گھر والے پریشان تو ضرور ہوئے ہونگے لیکن پھر اسے معجزہ سمجھ کر خوش ہو گئے ہونگے. خیر شہناز کی شادی سلیم سے ہو گئ. رفیق کو پتہ تب چلا جب اس نے کچہری والے اسٹاپ پر شہناز کو سلیم کے ساتھ موٹر سائکل پر جاتے ہوئے دیکھا

عجیب آدمی تھا رفیق بھی. اس کی جگہ اور کوئی ہوتا تو حسد کی آگ میں جلتا لیکن وہ تو الٹا شہناز اور سلیم کی محبت دیکھ کر خوش ہوتا تھا. ہاں کبھی کبھی آنکھوں میں نمی سی ضرور اتر آتی لیکن شاید وہاں کچہری کے سامنے سڑک پر، گاڑیوں کا دھواں بہت تھا جس کی وجہ سے آنکھیں جلتی تھیں

خیر، سلیم روز چھٹی کے وقت اسٹاپ پر شہناز کا ِانتظار کرتا اور پھر اس کو پیچھے بیٹھا کر گھر کی جانب روانہ ہو جاتا. پھر ایک دن جب سلیم اسٹاپ پر کھڑا تھا تو موٹر سائکل پر سوار دو لڑکے اس کے پاس رکے. پیچھے والا لڑکا اترا اور پستول دکھا کر سلیم کا موٹر سائکل چھین کر لے گیا. لمحوں میں ساری کاروائی پوری ہوگئ اور موٹر سائکل چھیننے والے یہ جا وہ جا

تھوڑی ہی دیر میں شہناز بھی وہاں پہنچ گئ. راہگیروں کی بھیڑ چھٹنے کے بعد دونوں میاں بیوی تھکے تھکے قدموں سے کچہری تھانہ کی طرف چلے گئے. تھوڑی منت سماجت اور شہناز والے وکیل صاحب کی مداخلت سے کیس تو درج ہوگیا لیکن موٹر سائکل کی برآمدگی کی امید کسی کو نہیں تھی

زندگی پرانی ڈگر پر چل پڑی. شہناز نے دوبارہ سے ویگن پر یا پیدل گھر جانا شروع کر دیا. رفیق بھی پہلے ہی کی طرح شہناز کے پیچھے چلتا اور اس کو خیریت سے گھر پہنچا کر واپس آ جاتا. شہناز کا سسرال بھی بوستان کالونی میں ہی تھا لہٰذا رفیق کو زیادہ دور نہیں جانا پڑتا تھا

شہناز پہلے بھی نظریں جھکائے دفتر سے سیدھا گھر جایا کرتی تھی اور شادی کے بعد بھی اس کے معمول میں کوئی تبدیلی نہیں آئ تھی. لیکن اب وہ بیچاری کبھی کبھی حسرت سے موٹر سائکلوں پر سوار جوڑوں کو ضرور تکا کرتی تھی اور کبھی کبھی تو بیچاری کی خوبصورت آنکھوں میں دو چار آنسو بھی آ جاتے تھے جو وہ خاموشی سے ہاتھ کی پشت سے پونچھ لیا کرتی تھی

رفیق سے بھلا شہناز کے آنسو کہاں چھپتے تھے. شہناز کی گیلی آنکھیں اس سے برداشت نہیں ہوتی تھیں. وہ ہمیشہ ان آنکھوں میں خوشیوں کے چراغ جلتا دیکھنا چاہتا تھا. لہٰذا بہت سوچنے کے بعد اس نے اپنا آبائی کوارٹر نما گھر فروخت کر دیا. خود کرائے کے ایک کمرے میں منتقل ہوگیا اور پہلے کی طرح رات کے اندھیرے میں شہناز کے گھر چپکے سے رقم پھینک دی. ساتھ ہی پھر سے ایک رقعہ ڈال دیا جس پر صرف اتنا لکھا تھا کہ :’سلیم صاحب کے نئے موٹر سائکل کیلئے، ایک ہمدرد کی طرف سے

رقم اور رقعہ دیکھ کر سلیم تو بہت حیران ہوا مگر شہناز نے تحریر پہچان لی تھی. لیکن خیر اس ہمدرد کی شناخت تو وہ بھی نہیں کر سکتی تھی. قصہ مختصر، سلیم نے غیبی امداد سمجھ کر نئی موٹر سائکل خرید لی اور پہلے کی طرح شہناز کو دفتر سے گھر چھوڑنے لگا

یوں ہی زندگی گزرتی رہی. شہناز دفتر آتی رہی. سلیم اس کو اسٹاپ سے لیتا رہا اور رفیق اپنی جگہ بیٹھا سب کچھ دیکھتا رہا اور چپ چاپ شہناز سے خاموش محبت کرتا رہا. عجیب محبت تھی وہ بھی. نا ملاپ تھا نا حصول کی امید. بس محبوب خوش تھا اور محبوب کی خوشی میں وہ خوش تھا

پھر ایک دن، جیسا کہ اکثر شادیوں کے بعد ہوتا ہے، شہناز امید سے ہوگئ. جب اس نے دفتر آنا چھوڑ دیا تو رفیق تو پریشان ہوگیا. پھر جس دفتر میں شہناز کام کرتی تھی. وہاں سے پتہ چلا کہ بچے کی پیدائش کے سبب شہناز نے کچھ مہینوں کیلئے چھٹی لے لی تھی

رفیق یہ خبر سن کر خوش بھی ہوا اور پریشان بھی ہوا. پریشان اسلئے کہ وہ جانتا تھا کہ شہناز اور سلیم کے گھر کے حالات اچھے ہسپتال کی اجازت نہیں دیتے تھے. گھر کی فروخت سے حاصل ہوئی کچھ رقم باقی تھی. پہلے کی طرح رقم تھیلے میں ایک رقعے کے ساتھ ڈال کر شہناز کے گھر پھینک دی

رفیق کی مالی مدد کی وجہ سے شہناز نے ایک اچھے ہسپتال میں ایک صحتمند بچے کو جنم دیا اور دل ہی دل میں اپنے غیبی ہمدرد کو ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا. لیکن اس کے ہمدرد کو کسی دعا کی ضرورت نہیں تھی. وہ تو بس شہناز کی خوشی میں خوش تھا

وقت گزرتا رہا. شہناز دفتر آتی رہی. سلیم اس کو اسٹاپ سے لیتا رہا. جب ان کا بچہ تھوڑا بڑا ہوگیا تو وہ بھی کبھی کبھی باپ کے ساتھ ماں کو لینے آ جاتا. رفیق حسب معمول اپنی جگہ بیٹھا سب کچھ دیکھتا رہا اور حسب عادت اور حسب تقدیر، چپ چاپ شہناز سے خاموش محبت کرتا رہا

مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ آپ سب کو تھوڑی جھنجھلاہٹ ضرور ہو رہی ہوگی. بات بھی تو ایسی ہی ہے. آخر دنیا میں ایسا کب ہوتا ہے؟ لوگ ہمیشہ کسی نا کسی ذاتی ضرورت کے باعث محبت کرتے ہیں. کچھ کو زندگی گزارنے کیلئے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے. کچھ کو سہارا بننے کی ضرورت ہوتی ہے. کچھ کو جسمانی خواھشات کی جائز تکمیل چاہئے ہوتی ہے. اور کچھ کو سر پر محفوظ چھت کی ضرورت ہوتی ہے

بغیر کسی وجہ کے کون کسی سے محبت کرتا ہے؟ لیکن رفیق ایسا ہی تھا. اس کو بس شہناز کی خوشی سے محبت تھی. میری ذاتی رائے میں رفیق ایک بہت تنہا انسان تھا اور اس کی ویران تنہا زندگی کو کسی محور کی ضرورت تھی. شہناز وہ محور تھی

خیر کہانی کی طرف واپس آتے ہیں. وقت گزرنے کے ساتھ شہناز کا بیٹا بڑا ہوتا چلا گیا اور پھر ایک دن وہ کچہری کے پاس ہی ایک پرائیویٹ اسکول میں داخل ہوگیا. میرے خیال میں یہ بتانا کچھ خاص ضروری نہیں کہ پرائیویٹ اسکول کی فیس کا انتظام بھی شہناز کے غیبی ہمدرد کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکا تھا

اب شہناز کا بیٹا، اسکول کی یونیفارم پہن کر اور باپ کے ساتھ موٹر سائکل کی ٹینکی پر بیٹھ کر ماں کو لینے آتا. شہناز آتی، بیٹے کو باہوں میں لے کر پیار کرتی اور میاں کے پیچھے بیٹھ کر گھر چلی جاتی. ان تینوں کی خوشی دیکھ کر رفیق خوش ہوتا رہتا. مگر کمبخت گاڑیوں کا دھواں اب بھی اس کی آنکھوں میں اکثر لگتا رہتا تھا

اس دن بھی کچھ ایسا ہی منظر تھا. سلیم بیٹے کو اسکول سے لیکر کچہری کے سٹاپ پر بیوی کا انتظار کر رہا تھا. بیٹے نے باپ سے ضد کی تو اس نے غبارے لیکر دئے اور خود کسی دوست یار سے موبائل پر گپ شپ میں مصروف ہوگیا. بچہ غباروں سے کھیلتے کھیلتے اچانک سڑک پر آ گیا اور قریب تھا کہ ایک تیز رفتار ویگن کے نیچے آ جاتا. رفیق نے منظر دیکھتے ہی، اپنی میز ایک طرف الٹائ اور چھلانگ لگا کر بچے کو فٹ پاتھ کی طرف دھکیل دیا

شہناز کا بیٹا تو بچ گیا مگر رفیق ویگن کے پہیوں کے نیچے آ کر بری طرح سے کچلا گیا. ہر طرف شور مچ گیا اور لوگ اکٹھے ہو گئے. سلیم نے فوری طور پر ایک رکشہ روکا اور کچھ راہگیروں کی مدد سے رفیق کے ٹوٹے پھوٹے وجود کو اٹھا کر اتفاق ہسپتال لے گیا. شہناز کو بھی موبائل پر ساری صورت حال سے آگاہ کیا تو وہ بھی ہسپتال پہنچ گئ

میرا لعل!’ شہناز نے بیٹے کو دیکھتے ہی باہوں میں سمیٹ لیا اور بے اختیار چومنے لگی. پھر نظر اٹھا کر خاوند کی طرف دیکھا جو رفیق کی اکھڑتی سانسیں دیکھ کر بے چارگی سے ہاتھ مل رہا تھا

.آج اگر یہ نا ہوتا تو ہمارا بیٹا………!’ سلیم نے رفیق کی طرف اشارہ کر کے جملہ ادھورا چھوڑ دیا’

شہناز نے رفیق کی طرف دیکھا جو غالباً زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا اور ادھ کھلی آنکھوں سے محبوبہ کا آخری دیدار کر رہا تھا

.پتہ نہیں کون ہے بیچارا!’ شہناز نے افسردہ سی سانس بھری’

‘پتہ نہیں کون ہے بیچارا’

‘پتہ نہیں کون ہے بیچارا’

‘پتہ نہیں کون ہے بیچارا’

کچھ لمحات تو شہناز کے یہ الفاظ ایک چابک کی طرح بار بار رفیق کی سماعت پر وار کرتے رہے. پھر اس کے بہت اندر کوئی نازک سی چیز ٹوٹ گئ اور وہ چپکے سے مر گیا

.یہ کیا ٹوٹا؟’ شہناز نے چونک کر سلیم سے پوچھا’

.کہاں؟ کیا؟’ سلیم نے ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا’

پتہ نہیں! مجھے کہیں کچھ ٹوٹنے کی آواز آئ تھی.’ شہناز نے کہا اور پھر جھک کر رفیق کے بےجان چہرے کی طرف دیکھا جہاں دو آنسو اس کی بےنور آنکھوں سے نکل کر اس کے گالوں پر لڑھک گئے تھے

8 thoughts on “رفیق پریمی اور شہناز انجان

  1. I would not over do, if I say that your stories are the closest thing to “Becharay Loog” by Dostoevsky in Urdu. Keeps up the good work sir, happy writing.

    Liked by 1 person

  2. Ashfaq Ahmed sahib Ky ‘ek mohabat so afsany’ ki tarah aap ky tehrer ki gaee kahaniyon ko bhi agar drama ki shakal mil jaye tu kia bat hy. Ek orr nakam mohabat ka afsana, akhri manzar boht purasar tha. Aap ki kawishein kitabi shakal kub ikhtiyar kar rahi hain? Intizar hy.

    Liked by 1 person

  3. Did not like such sad ending. Just made me really upset or shall I say annoyed. How can a woman be so ignorant that she in how many years never ever noticed him around

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s