گھنگرو، شاہ حسین اور بابا غمگسار

yasir-3

وہاں جہاں شاہ حسین چپ چاپ لیٹا محبت کے خواب دیکھا رہا ہے، میلے چیکٹ چراغوں کی روشنی اور گاڑھے سیاہ دھوئیں کے ڈولتے سایوں کے بیچ، ڈھول بج رہے تھے، سنکھ پھونکے جا رہے تھے اور بابا غمگسار ناچ رہا تھا

بابا جی کو ناچتے دیکھنا بھی دل توڑ دیتا تھا. درمیانہ قد اور قدرے بھاری جسم، لمبے چاندی کے دھاگوں جیسے بال، کانوں میں مندریاں، سرخ لمبا کرتا، ننگے پاؤں اور ان سے کچھ اوپر بندھے اور چھن چھن بجتے گھنگرو

ناچ کہاں رہے تھے بلکہ گھوم رہے تھے بابا جی. گھومتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے. سرمہ لگی مچی آنکھوں سے گدلے آنسوؤں کی لڑیاں نکل کر، جھریوں بھرے گالوں پر پھیلتی جاتی تھیں اور پھر الجھی داڑھی کے چاندی بالوں میں کہیں جذب ہوتی جاتی تھیں. ہاں مگر چہرے پر ایک روشن مسکراہٹ ضرور تھی. آنسو اور مسکراہٹ مل جل کر بابا جی کے چہرے کو ایک انوکھے رنگ سے رنگ رہے تھے

.کون ہیں یہ بابا جی؟’ میں نے جھک کر وہیں بیٹھے ایک مجاور دکھتے ملنگ سے پوچھا’

یہ؟’ اس نے چرس یا بھنگ کے نشے میں سرخ آنکھوں سے مجھے اوپر سے نیچے تک گھورا. ‘بابا غمگسار

.بابا غمگسار؟ یہ کیسا نام ہوا بھلا؟’ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا’

.لوگ آتے ہیں دور دور سے اس کے پاس.’ اس نے بدستور مجھے گھورتے ہوئے کہا’

.دعا کرانے؟’ میں نے پوچھا’

نہیں! غم بانٹنے. آتے ہیں، اپنے دکھڑے سناتے ہیں، روتے دھوتے ہیں. دل ہلکا کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں.’ملنگ نے ناچتے ہوئے بابا جی کی طرف دیکھ کر کہا

‘اور……!’ میں نے کچھ سوچ کر پوچھا. ‘بابا جی اور کیا کرتے ہیں؟’

.غمگساری کرتے ہیں. محبت سے بات سنتے ہیں.’ ملنگ نے پھر میری طرف گھورا’

‘اور؟’ میں نے جز بز ہو کر پوچھا. ‘اور کیا کرتے ہیں؟’

اور کیا کرے؟’ ملنگ نے تقریباً پھنکار کر پوچھا. ‘الٹا سر کے بل کھڑا ہو جائے؟ یا پھر ہوا میں اڑنا شروع کر دے؟

میں نے خاموش رہنے میں ہی بہتری سمجھی اور دوبارہ بابا غمگسار کو ناچتے ہوئے دیکھنا شروع ہوگیا

__________________________________

ملنگ کی باتیں سن کر مجھے الله بخشے میاں اعجاز حسین یاد آ گئے. انار کلی میں ایک پبلشنگ ہاؤس کے مالک تھے جو نسل در نسل ان کے خاندان میں چلا آ رہا تھا. پچپن چھپن سال کی عمر. میاں صاحب کے چہرے پر ہمیشہ میں نے مسکراہٹ ہی رقصاں دیکھی تھی. اداس مگر روشن. بالکل ویسے جیسے سردیوں کا سورج ہوتا ہے. مدھم مگر حرارت آمیز. شادی بیاہ کے جھنجھٹ سے بالکل آزاد تھے اور درویشانہ شخصیت کے مالک تھے

میرے لئے میاں صاحب والد کی جگہ پر تھے. جب بھی ملتے تھے، اچھی ہی باتیں سمجھاتے تھے

لکھو تو ایسے لکھو کہ پڑھنے والوں کہ دل میں تمھارے الفاظ، سوکھی زمین میں بارش کے قطروں کی طرح جذب ہوجایئں.’ میاں صاحب نے میری طرف مسکراتے ہوئے دیکھا. ‘اپنے لئے مت لکھا کرو. لوگوں کیلئے لکھا کرو. آسان لکھا کرو. لوگوں کو فلسفے سے نہیں جذبات سے غرض ہوتی ہے

میں کیا کروں میاں صاحب؟’ میں نے بالوں میں انگلیاں پھیرتے جواب دیا. ‘دماغ بالکل سن سا ہوگیا ہے. کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا لکھوں

اپنے آس پاس دیکھا کرو. لوگوں کی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے درد کو محسوس کیا کرو. اس درد کی کہانیاں لکھا کرو. یوں لکھو گے بھی اور غمگساری بھی کرو گے.’ میاں صاحب نے شفقت سے کہا

‘غمگساری؟’ میں نے حیرت سے پوچھا. ‘یہ لکھنے میں غمگساری کہاں سے آ گئ میاں صاحب؟’

ارے بھائی کمال کرتے ہو.’ میاں صاحب نے چونک کر کہا. ‘غمگساری ہی تو اصل شے ہے. ہمیں پیدا ہی دنیا میں غمگساری کیلئے کیا گیا ہے

‘اور غمگساری کیا ہے؟’ میں نے پوچھا’

غمگساری سیڑھیاں چڑھنے کا نام ہے میاں.’ میاں صاحب نے عینک کے عدسے رومال سے  سہلاتے جواب دیا. ‘پہلے غم دیکھو، پھر غم سہو، پھر اپنے غم سے اپنے بارے میں جانو، پھر دوسروں کا غم محسوس کرو اور اس کو سمجھو. اور آخر میں ان کے غم کو بانٹو اور پھر اس پر کہانی لکھو

.مجھے تو کوئی کہانی نظر نہیں آتی. آپ کو کبھی نظرآئ ہو تو بتایئں.’ میں نے مایوسی سے کہا’

_________________________________________

وہاں میلہ چراغاں کی لاکھوں روشنیوں میں بابا غمگسار ناچ رہا تھا اور میں بیٹھا دیکھ رہا تھا. ڈھول کی تھاپ سیدھی دل کی دھڑکن کے آہنگ دھمک رہی تھی. بابا جی کو دیکھتے دیکھتے مجھے کچھ یوں لگا کہ جیسے وہ ساکت ہوں اور پورا مزار ان کے ارد گرد رقص کررہا ہو. میں نے سر جھٹکا اور ماحول کا جائزہ لیا

میرے آس پاس خواہشات کا تعاقب کرنے والوں کا میلہ لگا ہوا تھا. ان کی آنکھوں میں امید چمک رہی تھی. یہ جاننے کے باوجود کہ بہت کم دعائیں قبول ہوتی ہیں یا شاید قبول ہوتی بھی ہیں یا نہیں، انکی آنکھیں امید سے بھری پڑی تھیں

_________________________________

.دنیا مطلب کی ہے بیٹے.’ کبھی کبھی جب بہت موڈ میں ہوتے میاں اعجاز حسین تو دھیمے لہجے میں کہتے ‘

‘یہ تو دنیا کی فطرت ہوئی نا میاں صاحب.’ میں سر کھجاتا کہتا. ‘اب فطرت سے کیا شکایت کریں؟’

ہاں تو نا کرو شکایت.’ میاں صاحب مسکراتے کہتے. ‘لیکن خود تو مطلب کے پیچھے مت دوڑو. خود صرف غمگساری کی کوشش کرو. یہی حیات انسانی کا مقصد ہے

_________________________________

ڈھول کی تاپ تبدیل ہوئی تو میں نے چونک کر اوپر دیکھا. بابا غمگسار اب بھی ناچ رہا تھا. بابا جی کو دیکھ کر مجھے میاں صاحب کی سنائی ایک کہانی یاد آ گئ. کہانی لاہور کے ایک رئیس زادے کی تھی

میاں صاحب بتاتے تھے کہ کسی زمانے میں لاہور کا ایک رئیس زادہ تھا. نام تو پتہ نہیں کیا تھا مگر سب پیار سے مٹھو کہہ کر بلاتے تھے. دوستوں کے ساتھ میلہ چراغاں دیکھنے گیا. وہاں بہت سارے ملنگوں کے بیچ ایک لڑکی بھی ناچ رہی تھی. لڑکی کو دیکھا تو اسی کا ہو کر رہ گیا

بہت ہی حسین لڑکی تھی. رنگ تو کچھ کچھ سانولا تھا مگر اس کے وجود سے ایک حدت سی اٹھتی تھی. بالکل ویسی ہی حدت جیسی آگ پر جوش کھاتے دودھ سے اٹھتی ہے. میٹھی اور اشتہا انگیز. پھر اسکی آنکھیں. بڑی بڑی کالی آنکھیں جن میں ناچتے ہوئے بھی آنسوؤں کی نمی صاف جھلکتی دکھائی دیتی تھی

وہ رئیس زادہ اس لڑکی کو گھنگرو باندھے ناچتا دیکھتا رہا. اتنا مسحور ہوگیا کہ جب دوستوں کے کہنے پر بھی وہاں سے ہلنے کو تیار نا ہوا تو وہ اس کو وہیں چھوڑ کر چلے گئے

بہت وقت گزر گیا مگر وہ لڑکی ناچتی رہی اور مٹھو وہیں ایک طرف بیٹھا اس کے گھنگرؤں کی چھن چھن پر دل لٹاتا رہا. زائرین تھک ہار کر واپس جانے لگے اور ڈھول بجانے والے تھک کر رک گئے تو اس لڑکی نے بھی ناچنا بند کیا، تالاب سے منہ ہاتھ دھویا اور سر پر چادر کا پلو اوڑھ کر ایک طرف کو چل پڑی. مٹھو بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا

پتہ نہیں باغبان پورہ کی کن تاریک گلی کوچوں میں وہ لڑکی چلتی گئ اور مٹھو اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا. آخر کار ایک ٹوٹی دیوار عبور کر کہ وہ لڑکی شالامار باغ میں داخل ہوگئ

رات کے اس پہر، باغ ویران پڑا تھا. لیکن لگتا تھا کہ اس لڑکی کو کسی کا ڈر نہیں تھا. وہ فواروں کے ساتھ ساتھ باغ کے صدر دروازے کی طرف چلنے لگی مگر پھر کچھ سوچ کر رک گئ

.کون ہو تم اور کیا چاہتے ہو؟’ اس نے یکایک مڑ کر مٹھو سے پوچھا تو وہ بھی ٹھٹھک کر رک گیا’

‘میں…..؟’ اس نے سر جھکا کر کچھ سوچا. ‘پتہ نہیں میں کون ہوں اور کیا چاہتا ہوں’

کیسی فضول باتیں کر رہے ہو؟’ لڑکی نے جھنجلا کر کہا. ‘آخر اتنی دیر سے میرے پیچھے پیچھے کیوں چل رہے ہو؟

.چاند سورج کے پیچھے پیچھے کیوں چلتا ہے؟’ مٹھو نے کھوئے کھوئے لہجے میں پوچھا’

‘ہوں……..! لڑکی نے کچھ سوچا اور پھر بولی. ‘روشنی کی تلاش میں’

ہاں تو پھر میں بھی روشنی کی تلاش میں تمھارے پیچھے پیچھے چل رہا تھا. وہاں مادھو لال حسین کے مزار پر تم ناچ رہی تھی. تمھارے اندر سے ایک روشنی پھوٹتی نظر آئ اور میرا دل بیقرار ہوگیا

.روشنی؟ وہ بھی میرے اندر سے؟’ لڑکی نے ایک کھنکتا قہقہہ لگایا’

‘جانتے بھی ہو میں کون ہوں؟’

نہیں. میں کچھ نہیں جانتا.’ مٹھو نے فواروں کے تالاب کی منڈیر پر بیٹھتے ہوئے کہا. ‘اور نا ہی مجھے کچھ جاننے کی غرض ہے. میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ تمھاری طرف میرا دل کھنچتا ہے

.ہوں….!’ لڑکی نے ایک لمبا ہنکارا بھرا اور پھر کچھ سوچ کر وہیں مٹھو کے پاس بیٹھ گئ’

‘میرا جسم چاہتے ہو؟’

نہیں.’ مٹھو نے سر اٹھا کر جواب دیا. ‘میں کوئی شریف آدمی نہیں ہوں. سینکڑوں راتیں انجان پہلوؤں میں راتیں کالی کی ہیں. مگر مجھے تمھارے جسم سے کوئی غرض نہیں

.پھر کس چیز سے غرض ہے؟’ لڑکی نے حیرت سے پوچھا’

میرا یقین مانو.’ مٹھو نے بیقراری سے ہاتھ ملے. ‘مجھے واقعی علم نہیں کے میں کیا چاہتا ہوں. بس تمھارے اندر کچھ ہے جو مجھے چاہئے

میرے اندر کچھ نہیں ہے لڑکے.’ لڑکی نے کچھ اداسی سے کہا. ‘میں ایک طوائف ہوں. طوائفوں کے اندر کچھ نہیں ہوتا. ہم تو خالی مکان ہوتی ہیں

‘طوائف؟’ مٹھو نے حیرت سے پوچھا. ‘تو وہاں شاہ حسین کے مزار پر کیوں ناچ رہی تھیں؟’

میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی. میری ماں نے شاہ حسین کے مزار پر منت مانی تھی. منت پوری ہو گئ اور شادی کے ٹھیک گیارہ سال بعد میں پیدا ہوئی. ماں باپ کی بہت لاڈلی تھی مگر پھر ایک حادثے میں ان کا انتقال ہوگیا. ان کے جانے کے بعد دنیا نے ایسے چکر میں ڈالا کہ میں بازار حسن پہنچ گئ. اب ہر سال عرس پر پاؤں میں گھنگرو باندھ کر شاہ حسین کے حضور فریاد کرتی ہوں. ناچ ناچ کر پاؤں چھالہ ہو جاتے ہیں مگر وہ کوئی جواب نہیں دیتا

.میرا نہیں خیال کہ مزاروں میں مدفون بزرگ فریادیں سنتے ہیں.’ مٹھو نے تاسف سے سر ہلا کر کہا’

ٹھیک کہتے ہو.’ لڑکی نے چادر کے کونے سے آنکھیں پونچھیں. ‘مگر میں اور کیا کروں؟ کس کی گود میں سر رکھ کر روؤں؟ کس سے سسک سسک کر فریاد کروں؟ اس پوری دنیا میں صرف شاہ حسین ہی میرا اپنا ہے

مجھے اپنے ساتھ لے چلو.’ مٹھو نے بے چین ہو کر کہا. ‘میں تمہاری خدمت کروں گا. تمھارے آنسو پونچھوں گا. میں تم سے محبت کروں گا. اتنی محبت کہ تمھارے سارے گلے شکوے دور ہو جایئں گے

نہیں.’ لڑکی نے مٹھو کے کندھے پر ہاتھ رکھا. ‘وہ جگہ تمھارے جانے کی، تمھارے رہنے کی نہیں ہے. نالی کی اینٹیں مسجدوں میں نہیں لگتیں

لیکن مجھے تم سے محبت ہے.’ مٹھو نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا. ‘میں اس محبت کو کہاں لیکر جاؤں؟’

‘محبت ہے تو میری بات مانو.’ لڑکی نے کھڑا ہوتے ہوئے کہا. ‘محبت ہے تو میرا پیچھا نہیں کرنا’

لڑکی دوبارہ صدر دروازے کی طرف چل پڑی. مٹھو تھوڑی دیر تو بیٹھا اسے جاتے دیکھتا رہا. مگر پھر اٹھ کر کھڑا ہو کر لڑکی کو پکار کر بولا

میری محبت مجھے ہر سال میلہ چراغاں پر لائے گی. میں ہر سال تمھیں ناچتا ہوا دیکھوں گا. مجھے یقین ہے ایک نا ایک دن تمہارا دل ضرور پگھلے گا

لڑکی نا رکی نا مٹھو کی بات کا جواب دیا، اور تیز تیز قدموں سے چلتی باغ کے صدر دروازے سے باہر نکل گئ

_______________________________

.پھر کیا بنا ان دونوں کا میاں صاحب؟’ انہوں نے کہانی ختم کی تو میں نے پوچھا’

‘سنا ہے وہ لڑکا اب بھی ہر سال میلہ چراغاں پر جاتا ہے. اور وہاں بیٹھ کر اس لڑکی کو ناچتا ہوا دیکھتا ہے’

‘اور وہ لڑکی؟’ میں بے چینی سے پوچھا. ‘وہ مانی نہیں مٹھو کی بات؟’

‘نہیں’

.کیوں نہیں مانی؟’ میں نے پوچھا’

 

میاں صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اپنے مخصوص مدھم اور نرم لہجے میں شاہ حسین کی ایک کافی گنگنانے لگے

‘مائے نی میں کِنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی
دھواں دُھکھے میرے مرشد والا
جاں پھولاں تے لال نی
درد وچھوڑے دا حال نی
سُولاں مار دیوانی کیتا
برہوں پیا ساڈے خیال نی
درد وچھوڑے دا حال نی
دُکھاں دی روٹی، سُولاں دا سالن
آہیں دا بالن بال نی
درد وچھوڑے دا حال نی
جنگل بیلے پھرے ڈھڈیندی
اجے ناں پائیو لال نی
درد وچھوڑے دا حال نی
رانجھن رانجھن پھراں ڈھوڈیندی
رانجھن میرے نال نی
درد وچھوڑے دا حال نی
کہے حُسین فقیر نمانا
شوہ ملے تے تھیواں نہال نی

 

.میں یہ کہانی لکھوں گا.’ میاں صاحب نے گنگنانا ختم کیا تو میں نے کہا’

نہیں ابھی نہیں. پہلے کہانی کو ختم تو ہونے دو. پھر شوق سے لکھ لینا.’ میاں صاحب نے مسکرا کر جواب دیا

_____________________________________

میں نے وہ کہانی پھر نہیں لکھی. میاں صاحب جو رخصت ہو گئے تھے. وہ کہانی پوری نہیں کر سکے. ان کے رخصت ہونے کی بھی عجیب کہانی تھی. ایک دن میں ان کے پبلشنگ ہاؤس پہنچا تو وہاں بڑا سا تالا لٹکتے دیکھا. پتہ لگا کہ میاں صاحب کسی کو بھی خبر کئے کہیں چلے گئے تھے. پھر کچھ سالوں بعد سنا کہ وہ باہر امریکا چلے گئے تھے اور وہیں پر ان کا انتقال بھی ہوگیا تھا. خیر نیک آدمی تھے اور میں ہمیشہ ان کا خیال آنے پر مغفرت کی دعا ضرور کرتا تھا

__________________________________

میاں صاحب کیلئے دعا کر کہ میں نے اپنی اطراف کا جائزہ لیا. رش آہستہ آہستہ کم ہورہا تھا. ڈھولی بھی ایک طرف بیٹھے پسینہ پونچھ رہے تھے. میں نے بابا غمگسار کو ڈھونڈنے کی کوشش کی. تھوڑا تلاش کرنے پر مجھے کسی نے بتایا کہ وہ مزار سے منسلک قبرستان میں ملیں گے. میں ڈھونڈتا وہاں پہنچا تو مجھے بابا جی وہاں قبرستان کے احاطے میں ایک کچی اور بے کتبہ قبر سرہانے، ایک بوڑھے درخت کے تنے سے ٹیک لگائے نظر آئے

میں کچھ سوچ کر ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا مگر وہ آنکھیں موندے بیٹھے رہے. میں بھی احترام کو ملحوظ خاطر رکھے خاموش بیٹھا رہا اور ان کے پرسکون چہرے کی طرف دیکھتا رہا. بہت گہرا سکون تھا ان کے چہرے پر جیسے تمام فکروں سے اور غموں سے آزاد ہوں

 تھوڑا انتظار کرنے پر بھی انہوں نے آنکھیں نہیں کھولیں تو میں اٹھنے لگا مگر ان کے کچھ گنگنانے پر میرے قدم وہیں زمین پر جم گئے. وہ بہت نرم اور دھیمے لہجے میں گنگنا رہے تھے

 ‘مائے نی میں کِنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی
دھواں دُھکھے میرے مرشد والا
جاں پھولاں تے لال نی
درد وچھوڑے دا حال نی
سُولاں مار دیوانی کیتا
برہوں پیا ساڈے خیال نی
درد وچھوڑے دا حال نی
دُکھاں دی روٹی، سُولاں دا سالن
آہیں دا بالن بال نی
درد وچھوڑے دا حال نی
جنگل بیلے پھرے ڈھڈیندی
اجے ناں پائیو لال نی
درد وچھوڑے دا حال نی
رانجھن رانجھن پھراں ڈھوڈیندی
رانجھن میرے نال نی
درد وچھوڑے دا حال نی
کہے حُسین فقیر نمانا
شوہ ملے تے تھیواں نہال نی’

_____________________________________

.میاں صاحب؟’ کافی ختم ہوئی تو میں نے آہستہ سے آواز دی’

اس جسم میں اب کوئی میاں صاحب نہیں رہتا. یہاں اب صرف بابا غمگسار کا بسیرا ہے.’ انہوں نے بدستور آنکھیں موندے جواب دیا

‘مٹھو کا کیا بنا بابا جی؟’

وہ کچھ نا بولے اور کچھ دیر خاموش رہے

مٹھو کو میلہ چراغاں پر آتے بہت سال ہو چکے تھے. اتنے سال کے اس کے بالوں کی سیاہی پر سفیدی غالب آ چکی تھی. مگر اس کی محبت اپنی جگہ قائم و دائم تھی. وہ آتا، اس لڑکی کو خاموشی سے بیٹھا ناچتا دیکھتا اور پھر اس کے پیچھے چلتا شالیمار باغ تک جاتا. وہاں وہ دونوں کچھ دیر خاموشی سے بیٹھے رہتے اور پھر وہ لڑکی اٹھ کر چلی جاتی

پھر ایک دن جب مٹھو میلے پر آیا تو وہ لڑکی نہیں تھی. وہ انتظار کرتا رہا مگر وہ نا آئ. بہت بیقرار ہوا مگر کیا کر سکتا تھا. بازار حسن بہت بڑا تھا اور وہاں ہزاروں طوائفیں تھیں. کس طرح اس ایک چہرے کو تلاش کرتا

کچھ دن کے بعد مٹھو کو اس لڑکی کی طرف سے بلاوا آیا. وہ میو ہسپتال میں داخل تھی اور آخری سانسیں گن رہی تھی. بس مٹھو کے پہنچنے کی دیر تھی. اس کی آغوش میں جان دے دی

بابا جی خاموش ہوگئے. انکی بند آنکھوں کے پیچھے سے آنسوؤں کی لڑیاں رواں تھیں

.پھر کیا ہوا بابا جی؟’ میں نے بھی رندھی ہوئی آواز میں پوچھا’

پھر مٹھو نے دنیا پر لات ماری. اپنی محبت کے گھنگرو اٹھائے اور یہاں شاہ حسین کے سرہانے آ کر بیٹھ گیا. ہر میلہ چراغاں پر گھنگرو باندھتا ہے اور ناچتا ہے. ناچتا جاتا ہے، اس کو یاد کرتا ہے اور جب ناچتا ناچتا تھک جاتا ہے تو یہاں آ کر اپنی محبت کی اس بے نام و نشان قبر پر بیٹھ جاتا ہے

‘اور یہاں بیٹھ کر کیا کرتا ہے مٹھو، بابا جی؟’

‘سوال کا جواب تلاش کرتا ہے’

‘کس سوال کا جواب تلاش کرتا ہے؟’

‘یہی کہ خدا دکھ کیوں دیتا ہے؟’

‘کوئی جواب ملا؟’

‘ہاں ملا’

‘کیا جواب ملا بابا جی؟’

کہ خدا دکھ اسلئے دیتا ہے کہ مخلوق کے دکھ سمجھے جایئں اور اس کی مخلوق کی غمگساری کی جا سکے

12 thoughts on “گھنگرو، شاہ حسین اور بابا غمگسار

  1. Or maybe those He wants to love, and turn their hearts towards Himself, those are the lucky few who suffer the most, 1st the sufferings of the World, loss of some one dear and near, loss of love, and then , once they have attained His love and forgotten the 1st loss, the dread of a new loss and suffering, HIS, and Only His. Because He wants all attention to be towards Himself.
    The path to His love is through Love of His creation and sharing the suffering of His creation. IMHO.

    Liked by 2 people

  2. Ye ghumgusar log bhi boht khudgharz hoty hain, dosron ki ghumgusari kar ky ye apny lliye dua lety hain , aise dua jo un ki bechen roh orr beqarar dil ko sakon dey sakey. Yehi beqarari in ghamgusaron ko khidmat e khalq per majbor karti hy iss umed per k shayed un ky dard ki dawa kisi ky pass ho.

    Sofiyana kalam iss tehreer ki jan hy.

    Liked by 1 person

    • You mean there is no sour or poisonous aftertaste of times gone by with strangers as there would be with people “known to You”… I think they are called friends.

      Once “well-wishers” with personal agendas, every step of the way, while one just keeps giving them the slack they need, letting it all play out according to their intentions, hopes and will…

      Call me a fool but I think… That is probably also “GHam’gusaari” of sorts…

      Undoubtedly… It takes a toll on the soul, but what a “kundan” soul it must be… eventhough very much unappreciated, unvalued and totally misunderstood.

      There might just be hope for humanity yet, with people like that out there…

      Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s