دردمند بھنورا – لاہور کا انوکھا سیریل کلر

golden_butterfly____20120102_1245_01_by_muzucya_d4l4v3y-fullview

+

 

 

میرا نام رضا خان ہے. آج سے کچھ سال قبل میں پنجاب پولیس میں ایس پی کے عہدے پر تعینات تھا، لیکن آج میں کوٹ لکھپت جیل کی بیرک نمبر ٢١١ میں، قتل کے جرم میں عمر قید بھگت رہا ہوں. یہ کہانی میری بھی ہے اور دردمند بھنورے کی بھی؛ بھنورا جو کہ لاہور میں رہنے والا ایک انوکھا سیریل کلر تھا

__________________________________________

یہ قصہ ہے آج سے دو برس پہلے کا. میری پوسٹنگ سندھ سے پنجاب میں ہوئی تھی؛ اور پولیس ڈیپارٹمنٹ میں میری سابقہ کارکردگی کومد نظر رکھتے ہوئے مجھے، اسپیشل انویسٹیگیشن سیل میں تعیناّت کیا گیا تھا. کرسی سنبھالتے ہی میرا واسطہ ایک عجیب گھن چکّر کیس سے پڑ گیا تھا

 

نومبر کے اوائل کی بات تھی کہ ایک رات مجھے آئ جی صاحب نے فون کیا اور فوری طور پر بھٹہ چوک کے پاس ایک قتل کے وقوعہ پر پہنچنے کا حکم دیا. حکم حاکم مرگ مفاجات، مرتا کیا نا کرتا، حکم کی تعمیل کرنی پڑی

 

وقوعہ بھٹہ چوک کے پاس ہی، بیدیاں روڈ کے اطراف میں واقع ایک کچی آبادی میں تھا. ایک چھوٹی سی اور صرف کچی اینٹوں سے بنی کوٹھری تھی جو کہ غالباً کچھ فقیروں نے مل کر کرائے پر لی تھی. کوٹھری میں ضرورت زندگی کا کچھ سامان اور میلے کپڑوں کی دو چار گٹھڑیاں بیچارگی سے پڑی تھیں اور ایک میلا سا اور بہت کم طاقت کا بلب، کپکپا کر ماحول کو روشن کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھا. پانچ گندے مندے اور میلے کچیلے بستروں پر پانچ فقیروں کی لاشیں پڑی تھیں. لیکن دیکھنے میں وہ قتل کی واردات بالکل نہیں لگ رہی تھی

 

پانچ فقیروں میں تین مرد تھے اور دو عورتیں. پانچوں کے پانچوں بیحد ضعیف تھے اور میرے اندازے کے مطابق ان میں سے کسی کی عمر اسی سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں تھی. پانچوں لاشیں سلیقے سے اس طرح لٹائی گئ تھیں کہ دیکھنے میں بالکل سوتے ہوئے لگ رہے تھے

 

سر باقاعدہ تکیوں پر ٹکے تھے اور جسم چادروں سے ڈھکے تھے. پھر ایک اور عجیب بات یہ تھی کہ ہر لاش کے سینے پر ایک عدد مردہ تتلی اس طرح سجائی گئ تھی کہ جیسے اڑنے کیلئے بالکل تیار ہو. تمام تتلیاں مختلف رنگوں کی تھیں مگر تمام کی تمام بیحد خوبصورت تھیں. مجھے اچھی طرح اندازہ تھا کہ لاشیں ملی ہی ایسی حالت میں ہونگی کیوںکہ فورینسک ٹیم کے آنے سے پہلے، پولیس والے وقوعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرتے تاکہ کوئی بھی ثبوت یا اہم شہادت ضائع نا ہو

 

‘کیوں قربان میاں؟’ میں نے علاقہ ایس ایچ او کو پہچانتے ہوئے پوچھا. ‘کیا چکّر ہے؟’

چکّر نہیں، گھن چکّر ہے سر!’ اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا. ‘یہ پانچوں ضعیف فقیر تھے اور انہیں کئی بیماریوں نے گھیر رکھا تھا. پھر بھی چونکہ مانگنے اور کمانے لائق تھے تو ٹھیکیدار ان سے بیگار لیتا تھا. برے حال میں تھے. اچھا ہی ہوا مر گئے

.گھن چکّر کیوں بھائی؟ کیا آلہ قتل برامد نہیں ہوا؟’ میں نے دلچسپی سے دریافت کیا’

.وہ تو ہوگیا ہے سر.’ اس نے مجھے شفاف پلاسٹک کے لفافے میں بند تین خالی سرنجیں دکھاتے ہوئے کہا’

‘یہ کیا ہے؟’ میں نے سرنجوں کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا. ‘کیا تمھیں یقین ہے کہ موت کی وجہ یہ تین سرنجیں ہی ہیں؟’

جی ہاں سر!’ اس نے یقین کے ساتھ سر ہلایا. ‘ابھی تک کیمکل ایگزامینیشن تو نہیں ہوئی لیکن مجھے پتہ ہے کیا نتیجہ نکلے گا. سب سے پہلے استمعال کی جانے والی سرنج میں سوڈیم تھایو پینٹال تھا، جو تیس سیکنڈ کے اندر اندر بیہوش کر دیتا ہے. دوسرے مرحلے میں پانکو رونیم برومائڈ کا ٹیکہ لگایا گیا جو مکمل نظام تنفس کو مفلوج کر دیتا ہے . اور تیسرا ٹیکہ پوٹاشیم کلورائڈ کا لگایا گیا جو دل کی دھڑکن بند کر دیتا ہے

‘واہ بھائی واہ!’ میں نے اس کے طبی علم سے متاثر ہوتے ہوئے کہا. ‘تم تو پورے ڈاکٹر ہو’

ڈاکٹر کہاں سر!’ اس نے خفت سے سر کھجاتے جواب دیا. ‘یہ اس طرح کا چوتھا کیس دیکھ رہا ہوں. پوسٹ مارٹم رپورٹیں پڑھ پڑھ کر دوائیوں کے نام یاد ہوگئے ہیں

‘چوتھا کیس؟’ میں چونک کر پوچھا. ‘اور وجہ کیا ہے قتل کی؟’

وہ ہی تو گھن چکّر ہے سر.’ قربان نے جیبی ڈائری نکال کر چیک کرتے ہوئے کہا. ‘میرے اندازے کے مطابق اب تک ان پانچ کو ملا کر، بھنورا ٹوٹل پندرہ قتل کر چکا ہے

.بھنورا کون؟’ میں نے چونک کر پوچھا’

ان تتلیوں کی وجہ سے ہم پولیس والوں نے اس قاتل کا نام بھنورا رکھ دیا ہے سر.’ وہ مسکرا کر کہنے لگا. ‘اور یہ پندرہ قتل وہ ہیں جو ہماری نظر میں آ گئے. پتہ نہیں ان سب سے پہلے کتنے اور قتل ایسے ہونگے جو ریکارڈ نہیں ہوئے. تمام کے تمام ایسے ہی تھے. ضعیف اور بیمار اور مفلوج لوگ. تمام کو یہ ہی تین ٹیکے باری باری لگا کر قتل کیا گیا اور تمام لاشوں کے سینوں پر سلیقے سے مردہ تتلیاں سجائی گئ تھیں

کوئی بھی وجہ نہیں؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ شاید وہ قاتل فقیروں کی جمع پونجی کے پیچھے ہو.’ میں نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا

ارے نہیں سر! ایسا نہیں ہے. یہ دیکھئے یہ گھڑا ابھی تک پیسوں سے بھرا پڑا ہے.’ قربان نے ایک کونے میں پڑے مٹی کے گھڑے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

ہوں….!’ میں کچھ نا بولا اور خاموشی سے لاشوں اور تتلیوں کا جائزہ لیتا رہا. میں کوئی ماہر حشرات تو نہیں ہوں لیکن مجھے کچھ کچھ اندازہ ہورہا تھا کہ وہ تتلیاں مقامی ہرگز نہیں تھیں بلکہ کسی باہر کے ملک سے لایئں گئ تھیں. یہ ایک بہت دلچسپ سراغ ثابت ہوسکتا تھا

 

____________________________________________

معاملہ ہی کچھ ایسا تھا کہ پورے کا پورا پولیس ڈیپارٹمنٹ گڑبڑا کر رہ گیا تھا. یہ ٹھیک ہے کہ اس سیریل کلر کا نشانہ نا ہی خواتین تھیں اور نا ہی بچے. اگر ایسا ہوتا تو ابھی تک شاید بہت سے تبادلے بھی ہو چکے ہوتے.لیکن پھر بھی معاملہ میڈیا کی نظر میں آ چکا تھا. ملک کے حالات بھی نارمل تھے. نا کوئی سیاسی بے چینی تھی اور نا ہی کوئی مذہبی انتشار. لہٰذا میڈیا کی ساری توجوہ کا مرکز یہ ہی کیس تھا

 

کچھ ہی دنوں میں اس سیریل کلر کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد پچیس سے تجاوز کر چکی تھی. کچھ فٹ پاتھ پر لیٹے فقیر تھے اور کچھ اولڈ ہومز میں داخل مریض. اور وہ سب کے سب نہایت ضعیف اور بیمار تھے اور ان کا وجود معاشرے اور انکے رشتے داروں، دونوں پر بھاری تھا

____________________________________________

 

میرے لئے یہ کیس اسلئے بھی بہت مشکل تھا کیونکہ ان دنوں میری بیوی ذکیہ شدید علیل تھی. مجھ سے صرف تین سال چھوٹی تھی لیکن اس چھوٹی سی عمر میں ہی اسے ہڈیوں کے سرطان جیسے موذی مرض نے آن گھیرا تھا. ہماری محبت کی شادی تھی اور معاشرے کے خیالات اور اندازوں کے برعکس ہماری شادی بہت کامیاب تھی. حالانکہ شادی کے پانچ سال گزرنے کے باوجود اولاد نہیں تھی لیکن پھر بھی ہماری محبت میں کوئی کمی نہیں آئ تھی. ایک دوسرے کیلئے ہم دونوں ہی کافی تھے

 

بیماری کی وجہ سے وہ بہت تکلیف میں تھی. اس کے ماں باپ دونوں بہت قبل وفات پا چکے تھے. بس ایک بھائی تھا اور وہ بھی امریکا میں مقیم تھا. اس کو بہن کی بیماری کی خبر تھی لیکن وہ بیچارہ بھی کیا کرتا؟ نوکری چھوڑ کر آ تو نہیں سکتا تھا. رہ گیا میرا خاندان تو ذکیہ سے شادی کی وجہ سے بہت پہلے، مجھے تقریباً عاق کر چکا تھا. لہٰذا لے دے کر بس میں ہی اس کے پاس تھا

 

ذکیہ لاہور کے ایک معروف پرائیویٹ ہسپتال میں داخل تھی اور بیماری کی اسٹیج کچھ ایسی تھی کہ اسے ڈسچارج کرنا ناممکن تھا. تکلیف کی وجہ سے مسلسل مارفیا کی ڈرپ لگی رہتی تھی. میں شام تک دفتر میں وقت لگاتا تھا اور پھر اگلی صبح تک ہسپتال میں ذکیہ کے ساتھ رہتا تھا. صبح سورج نکلتا تو میں گھر جا کر وردی پہنتا اور پھر سے دفتر حاضر ہوجاتا

 

آپ سمجھ ہی چکے ہوں گے کہ ان مصروفیات اور روٹین کے ساتھ میرے لئے اس کیس پر توجوہ دینا کس قدر مشکل تھا. لیکن پھر بھی میں اپنی پوری کوشش کر رہا تھا کہ کوئی سستی نا ہو

_______________________________________

     

ایک دن اسی کیس کے سلسلے میں مجھے آئ جی صاحب نے اپنے دفتر طلب کر لیا. بہت ہی پروفیشنل انسان تھے اور اپنے ماتحتوں سے بھی اسی پیشہ وارانہ فرض شناسی کی امید رکھتے تھے

 

.آؤ رضا بیٹھو، کہو کیسے ہو؟’ انہوں نے سرد سرد لہجے کے ساتھ میرا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا’

میں بالکل ٹھیک ہوں سر. آپ بتائیے آپ کیسے ہیں؟’ چونکہ وہ کسی زمانے میں پولیس اکیڈمی میں میرے استاد رہ چکے تھے تو میں اتنی بے تکلفی کو اپنا حق سمجھتا تھا

وہ تھوڑی دیر کچھ نا بولے اور خاموش بیٹھے میری طرف دیکھتے رہے. پھر آھستہ آہستہ ان کے لبوں پر ایک اداس مسکراہٹ نمودار ہوئی

‘ذکیہ کیسی ہے؟’

جی ویسی ہی ہے. ڈاکٹروں نے تو جواب دے دیا ہے. کہتے ہیں بس دعا کرو کہ الله اس کی تکلیف اور مشکل آسان کرے. سو وہ میں دن رات کر رہا ہوں

ہوں!’ انہوں نے ایک ہنکارا بھرا. ‘اگر تم چاہو رضا تو جتنی چاہے چھٹی لے سکتے ہو. محکمہ اعتراض نہیں کرے گا. اس وقت محکمے سے زیادہ ذکیہ کو تمھاری ضرورت ہے

میں آپ کی شفقت کیلئے بیحد مشکور ہوں سر.’ میں نے گردن جھکا کر کہا. ‘لیکن وہ سارا دن دوائیوں کے زیر اثر بیہوش پڑی ہوتی ہے. کون آیا کون گیا، کون بیٹھا رہا کون نہیں، اس کو کچھ پتہ نہیں. شام کو بھی میں اسلئے اس کے پاس چلا جاتا ہوں کہ اس کی شکل دیکھے بغیر میرا گزارا نہیں ہوتا. ویسے بھی کام میں دل لگا رہتا ہے تو اس کی بیماری کی پریشانی کچھ کم ہوجاتی ہے

 

وہ کچھ نا بولے بس آھستہ آھستہ سر ہلاتے رہے. پھر تھوڑی دیر بعد کہنے لگے

میں کافی پریشان ہوں رضا اور تم میری پریشانی کا سبب اچھی طرح جانتے ہو.’ انہوں نے شہادت کی انگلی سے پیشانی کھجاتے ہوئے کہا

جی سر میں واقف ہوں. اور میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ معاملہ جلد سے جلد حل ہوجائے.’ میں نے شرمندگی سے سر جھکاتے ہوئے کہا

کوشش نہیں رضا، اس قاتل کو پکڑنا اشد ضروری ہے. بہت سی انسانی جانوں کا سوال ہے اور پھر میڈیا دن رات پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بدنام کرنے میں لگا ہوا ہے.’ آئ جی صاحب نے میز پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے کہا

یہ یورپ یا امریکا نہیں ہے سر، پاکستان ہے اور ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے بہت سارے تکنیکی مسائل ہیں اور پھر وسائل کی کمی کو آپ سے بہتر کون سمجھتا ہے.’ میں نے بیچارگی سے کہا

اگر یورپ یا امریکا نہیں ہے تو اس کو یورپ اور امریکا بناؤ. کسی پروفیشنل سائیکاٹرسٹ کی مدد لو. اس قاتل کی سائیکولوجیکل پروفائلنگ کرو.’ آئ جی صاحب نے میری نظروں میں نظریں گاڑتے ہوئے کہا

.جی بہتر سر، میں تلاش کرتا ہوں کسی قابل سائیکاٹرسٹ کو.’ میں نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا’

ٹھہرو!’ انہوں نے دراز سے ایک وزٹنگ کارڈ نکال کر مجھے تھما دیا. ‘یہ ڈاکٹر رفیق بھٹی کا کارڈ ہے. ان کا کلینک گارڈن ٹاؤن میں ہے. بہت قابل آدمی ہیں. یہ اور بات ہے کہ گمنام رہنا پسند کرتے ہیں. ان سے مدد لینے کی کوشش کرو

.جی بہتر سر.’ میں نے کارڈ جیب میں ڈالا اور سیلوٹ کر کے دفتر سے باہر آ گیا’

 

________________________________________

 

ڈاکٹر صاحب کو میں نے ملاقات کا ٹائم لینے کیلئے فون کیا تو بہت ہی بھلے مانس نکلے. بہت نرمی سے میری بات سنی اور اسی دن شام کو آنے کا کہ دیا. ان کا کلینک ڈھونڈنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئ. برکت مارکیٹ کے عقب میں ایک پرائیویٹ اسکول کی بغل میں واقع تھا

 

ایک بہت ہی پرانے انداز کا پیلا اور سفید مٹیالے رنگ کا گھر تھا جس پر جنگلی بیلیں چڑھی ہوئی تھیں. باہر ایک پرانی دیمک خوردہ  تختی بھی لگی ہوئی تھی جس پر مشکل سے ‘ڈاکٹر رفیق بھٹی – ماہر نفسیات’ پڑھا جا سکتا تھا. سالخوردہ لکڑی کا ہی گیٹ تھا. کسی زمانے میں اس پر یقیناً رنگین ڈبے بنائے گئے ہونگے لیکن اب رنگوں کا سراغ صرف کچھ دھبوں سے ہی پتہ چلتا تھا

 

بہت تلاش کرنے پر بھی کوئی گھنٹی کا بٹن نہیں نظر آیا تو میں نے ڈرائیور کو اشارہ کیا اور اس نے گیٹ بجا دیا. تھوڑی دیر کے بعد ایک بہت ہی ضعیف اور کمزور آدمی باہر نکلا. عینک کے موٹے عدسے صاف کر کہ میری اور جیپ کی طرف دیکھا. نا تو میں وردی میں تھا اور نا ہی میرے ساتھ آنے والا ڈرائیور اور دونوں گارڈ، لیکن جیپ سرکاری تھی اور پھر گارڈز کے ہاتھوں میں خودکار ہتھیار بھی تھے. وہ بیچارا ہمیں دیکھ کر کچھ پریشان سا ہوگیا

‘جی کہئے صاحب!’ اس نے میری طرف دیکھ کر نہایت ادب سے پوچھا. ‘کس سے ملنا ہے آپ کو؟’

چاچا جی! میرا نام ایس پی رضا خان ہے اور مجھے ڈاکٹر بھٹی صاحب سے ملنا ہے. وقت لے رکھا ہے میں نے. انہوں نے ہی شام کو آنے کا کہا تھا.’ میں نے بھی تمیز سے کہا

اوہ بہت اچھا سرکار! آپ گاڑی اندر لے آیئے. میں ڈاکٹر صاحب کو خبر کرتا ہوں. ویسے وہ ابھی ایک مریضہ کے ساتھ ہیں.’ اس نے بمشکل گیٹ کھولتے ہوئے کہا. پتہ نہیں دونوں پٹ کب کے بند تھے. کھلے تو ایسے چرچرائے کہ جیسے وہیں ستونوں کے ساتھ زمین پربھربھرا کر ڈھیر ہو جایئں گے

 

اندر جا کر میں نے تفصیل سے گھر کا جائزہ لیا. بہت ہی افسردگی اور بیچارگی طاری تھی اس گھر کے درودیوار پر. جگہ جگہ سے پلستر اکھڑ رہا تھا اور چونے پر پیلے اور بھورے داغ، گزشتہ کئ برسوں کی بارشوں کی کہانی بیان کر رہے تھے. کوٹھی کے سامنے ہی ایک برآمدہ تھا جس میں زنگ آلود آرام کرسیاں، جو کبھی سفید رنگ کی ہونگی، قرینے سے رکھی ہوئی تھیں. برآمدے کے سامنے ایک کھلا لان تھا جس میں گلاب کی چند جھاڑیاں اور گھاس بےترتیبی سے اگی ہوئی تھیں

 

ابھی میں ادھر ادھر دیکھ ہی رہا تھا کہ برآمدے میں نظر آنے والے گھر کے داخلی دروازے کا ایک جالی والا پٹ کھلا اور ایک چادر میں لپٹی خاتون باہر نکلیں. میرے پاس سے گزریں تو میں نے آھستہ سے سلام کیا. انہوں نے چونک کر ایسے میری طرف دیکھا کہ جیسے میری موجودگی سے بالکل بےخبر تھیں. میں نے ان کے خدوخال میں ماضی کی پاکستان ٹیلی ویژن کی ایک بہت خوبرو اداکارہ کو پہچان لیا.انہوں نے اشارے سے سر ہلا کر جواب دیا اور آہستگی سے گیٹ سے باہر نکل گیئں اور میں دلچسپی سے انکو باہر جاتا دیکھتا رہا

 

آجایئے ایس پی صاحب! خوش آمدید!’ میرے عقب میں ایک نرم سی آواز بلند ہوئی تو میں نے مڑ کر دیکھا. برآمدے کے چبوترے پر بوڑھے ملازم کے ساتھ وہ یقیناً ڈاکٹر بھٹی ہی کھڑے تھے

 

درمیانہ قد اور گندمی رنگ اور تقریباً اسی یا پچاسی کے لگ بھگ عمر تھی. لمبے چاندی بال اور اسی رنگ کی وین ڈایک داڑھی. گہری نیلی آنکھوں پر سنہرا نازک فریم کا چشمہ. ایک نہایت ہی گھسی ہوئی سفید مائل نیلی جینز کی پتلون اور سفید شرٹ میں ملبوس تھے اور کھلے گلے سے آبنوسی لکڑی کے چھوٹے چھوٹے منکوں سے بنا ہار تھا

 

.السلام و علیکم ڈاکٹر صاحب!’ میں آگے بڑھ کر مصافحہ کیا’

موسٹ ویلکم رضا صاحب!’ انہوں نے میرا ہاتھ تھاما تو ایک نرم حرارت کی لہر ان کے ہاتھ سے نکل کر میرے پورے وجود میں پھیل گئ. ان کے چہرے پر ایک نہایت ہی دلنشیں مسکراہٹ تھی. بلا شبہ ڈاکٹر صاحب کو کسی بھی ملاقاتی کو صرف پہلی ملاقات میں، اپنی مسکراہٹ کے بل بوتے پر اپنا گرویدہ بنانا آتا تھا

 

.بہت خوبصورت گھر ہے آپ کا لیکن بہت پرانا ہو چکا ہے.’ میں نے ارد گرد اشارہ کرتے ہوئے کہا’

جی ہاں!’ انہوں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا. ‘ہر گھر کی ایک عمر ہوتی ہے اور یہ اب اپنی عمر کب کی پوری کر چکا ہے

.تو آپ ٹھیک کیوں نہیں کرواتے اس کو؟’ میں نے پوچھا’

ٹھیک کروا کر کیا کرنا ہے؟’ انہوں نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا.’اس گھر کا مکین بھی اب اپنی عمر تقریباً پوری ہی کر چکا ہے

‘اپنے لئے نا کروایئں، اپنے بچوں کیلئے ہی کروا لیں’

نا بچے ہیں نا بیوی. وہ بھلی مانس تو پانچ سال پہلے ہی الله کو پیاری ہوگئ. بچے اس کے مرنے سے بہت پہلے کینیڈا شفٹ ہو چکے تھے. اب کس نے آنا ہے اس کھنڈر میں؟’ ڈاکٹر صاحب نے کچھ افسردگی سے کہا تو میں اپنی بلا وجہہ کی دخل اندازی پر کچھ شرمندہ سا ہوگیا

‘معاف کیجئے گا ڈاکٹر صاحب، مجھے آپ کی ذاتیات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی’

‘ارے نہیں!’ انہوں نے شفقت سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا. ‘چھوڑئیے اس بات کو. چلیں اندر چل کر کلینک میں بیٹھتے ہیں’

اندر جانے سے پہلے انہوں نے اپنے بوڑھے ملازم کو چائے لانے کیلئے کہا اور وہ سر ہلا کر کوٹھی کے عقب میں کہیں غائب ہوگیا

 

کوٹھی اندر سے بھی بالکل ویسی ہی تھی جیسی باہر سے. تاریک چھتیں لکڑی کی بلیوں اور اینٹوں کی بنی تھیں اور فرش گلے ہوئے قالینوں سے ڈھکے تھے. زیادہ تر فرنیچر تو سفید میلی چادروں سے ڈھکا ہوا تھا لیکن جتنا نظر آ رہا تھا اس کو بھی جگہ جگہ سے دیمک لگی ہوئی تھی. پورے ماحول میں ایک عجیب سی سیلن کی بو پھیلی ہوئی تھی

یہ کہاں بھیج دیا آئ جی صاحب نے مجھے؟’ میں نے دل ہی دل میں سوچا اور ڈاکٹر صاحب کے پیچھے ان کے کلینک میں داخل ہو گیا

 

ڈاکٹر صاحب کی طرح ان کے کلینک کی بھی اپنی ایک علیحدہ شخصیت تھی. چھوٹا سا بارہ ضرب بارہ فٹ کا اونچی چھت کا کمرہ تھا جسکی مغربی دیوار میں ایک کافی بڑی کھڑکی باہر لان کی طرف کھلتی تھی. کھڑکی کی دونوں اطراف بھاری بھرکم کلیجی رنگ کے مخملی پردے، سلیقے سے چمکتے تانبے کے ہکوں سے بندھے تھے

 

کھڑکی کے سامنے ہی ایک وزنی لکڑی کی آفس ٹیبل تھی اور جس کے پیچھے ایک آرامدہ گھومنے والی کرسی اورسامنے ملاقاتیوں کیلئے دو کرسیاں لگی ہوئی تھیں. ایک کونے میں غالباً مریضوں کے لیٹنے کیلئے ایک سبز مخمل چڑھا دیوان لگا ہوا تھا اور کمرے کی باقی دیواروں کے ساتھ فائلوں اور کتابوں سے بھری پانچ چھ الماریاں تھیں

 

اس چھوٹے سے کلینک کی سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ تھی کہ الماریوں اور آفس ٹیبل کے اوپر بیشمار چمکتے دمکتے سائنسی آلات اور ریت گھڑیوں کی بھرمار تھی. بہت غور سے دیکھنے پر بھی مجھے ان میں کوئی ماڈرن آلہ نظر نہیں آیا. وہ سب کے سب گزشتہ صدیوں کے آلات تھے جو اب شاید صرف یا تو عجائب گھروں میں اور یا ڈاکٹر صاحب جیسے قدردانوں کے ہاں نظر آتے تھے

 

وہیں ایک نسبتاً نیم تاریک سے کونے میں، ایک چھوٹی سی تپائی پر تین گہرے سرخ رنگ کی لکڑی کے چوڑے ڈبے بھی اوپر نیچےسلیقے سے لگے ہوئے تھے؛ جن پر کچھ سنہری نقش و نگار بھی بنے ہوئے تھے. میں آگے بڑھ کر ان کا قریب سے معائینہ کرنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا

ان کو چھوڑئیے، یہ میرے ایک گم گشتہ مریض کی امانت ہیں. یہاں تشریف رکھیے ایس پی صاحب!’ انہوں نے ایک کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

مجھے کچھ یوں لگا کہ شاید ڈاکٹر صاحب نہیں چاہتے تھے کہ میں ان ڈبوں کو قریب سے دیکھوں. خیر میں نے اپنے شبے کو جھٹک کر ان سے پوچھا

‘آپ تمام قسم کے نفسیاتی مسائل کو دیکھتے ہیں یا پھر آپ کی دلچسسپی کا مرکز کوئی خاص شعبہ ہے؟’

میں تو تمام ہی مسائل میں دلچسپی رکھتا ہوں، لیکن میرے کام سے واقفیت رکھنے والے لوگ مجھے ماہر خود کشی کہتے اور سمجھتے ہیں.’ ڈاکٹر صاحب نے میز کی دراز سے ایک چمڑے کی تھیلی نکال کر کھولتے ہوئے کہا

‘ماہر خود کشی؟’ میں ایک دم سے چونک سا گیا. ‘یہ کیسی مہارت ہوئی؟’

.ہوں……!’ ڈاکٹر صاحب نے چمڑے کی تھیلی سے ایک پائپ برآمد کیا اور اس کو گھورتے ہوئے ایک ہنکارا بھرا’

اصل میں ایس پی صاحب، گزشتہ چند برسوں سے میرے پاس صرف ڈپریشن کے مریض آ رہے ہیں اور وہ بھی ایسے جو ڈپریشن کی شدت سے خود کشی کرنا چاہتے ہیں.’ ڈاکٹر بھٹی نے پائپ میں تمباکو کی چٹکی ڈال کر اسے انگوٹھے سے دباتے ہوئے کہا. ‘بس میں چونکہ ان کا علاج کرتا ہوں اور ان کو خود کشی کی سرحد سے واپس لے کر آنے کی کوشش کرتا ہوں تو، میرے ہم عصر مجھے ماہر خود کشی سمجھتے ہیں

 

انہوں نے ماچس کی تیلی سے تمباکو کو آگ دکھائی تو کمرے کی فضاء میں ایک خوشگوار مہک پھیل گئ

اتنے میں ان کا ملازم چائے کے برتن لے آیا اور سلیقے سے ڈاکٹر صاحب کے سامنے رکھ کر رخصت ہوگیا

 

.ڈاکٹر صاحب کیا آپ جانتے ہیں کہ میں آج آپ کی خدمت میں کیوں حاضر ہوا ہوں؟’ میں نے ملازم کے جانے کے بعد پوچھا’

جی ہاں بالکل!’ انہوں نے کیتلی سے سنہری چائے دو کپوں میں انڈیلتے ہوئے کہا. ‘آپ کے آئ جی صاحب سے میری کسی وجہ سے اچھی دعا سلام ہے. انہوں نےمجھے آپ کے کیس کے بارے میں بتایا تھا

تو پھرآپ کے خیال میں یہ درندہ ان معصوم لوگوں کو قتل کیوں کرتا ہے؟’ میں نے چائے کا ایک گھونٹ بھرا اور کپ میز پر رکھتے ہوئے ڈاکٹر بھٹی سے پوچھا

.میرا زیادہ علم اور تجربہ جان بچانے سے متعلق ہے، جان لینے سے نہیں.’ ڈاکٹر بھٹی نے مسکراتے ہوئے کہا’

لیکن کچھ باتیں میں آپ کے گوش گزار کرتا چلوں. پہلی یہ کہ میری ناقص رائے میں اس کو درندہ کہنا کچھ غلط ہوگا. آخر اس نے ابھی تک صرف ایسے لوگوں کو قتل کیا ہے جو پہلے ہی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے اور بظاھر بہت تکلیف میں تھے. اگر ان مقتولوں سے انکی مرضی پوچھی جاتی تو میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ وہ ایسی بیچارگی کی زندگی پر موت کو ترجیح دیتے

آپ یوتھینیسیہ یعنی رحمانہ قتل کی بات کر رہے ہیں.’ میں نے اختلاف کرتے ہوئے کہا. ‘لیکن شاید آپ بھول رہے ہیں کہ یہ بات یورپ اور امریکا میں رہنے والے تو کر سکتے ہیں لیکن، ہم جس معاشرے اور مذہب کا حصّہ ہیں، اس میں یہ خودکشی ہی گردانی جاتی ہے اور خودکشی حرام سمجھی جاتی ہے

__________________________________________

 

مجھے ڈاکٹر صاحب کی رحمانہ قتل والی بات سے اچانک اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آ گیا. میں غالباً دس بارہ سال کا تھا. اسکول کے کسی امتحان میں کامیابی پر مجھے ایک ایئر گن تحفے میں ملی تھی. سو ان دنوں میرا محبوب مشغلہ یہ تھا کہ میں ایئر گن کے کر نکل جاتا اور ہر چیز پر نشانہ آزمائی کرتا. ایک دن ایک غریب جنگلی کبوتر کہیں سے اڑتا ہوا آیا اور ٹی وی کے انٹینا پر بیٹھ کر سستانے لگا. میں نے سوچے سمجھے بغیر بندوق میں چھرا بھرا اور نشانہ لے کر فائر کر دیا جو اس غریب کے پیٹ میں کہیں لگا؛ اور وہ وہیں چھت پر گر کر تڑپنے لگا

 

میں یہاں یہ آپ کو بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں طبیعتاً قطعی طور پر ظالم نہیں تھا. بلکہ لوگوں کی اور جانوروں کی بھی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف دیکھ کر بھی میرے آنسو جھٹ سے نکل آتے تھے. پتہ نہیں اس دن میں نے کیسے اس غریب پرندے پر فائر کر دیا

 

خیر جب وہ کبوتر گر کر تڑپنے لگا تو مجھے ہوش آیا. میں نے اس کے تڑپتے ہوئے نرم سرمئی وجود کو دونوں ہاتھوں میں لیا اور رونے لگا. مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اپنے ظلم کا ازالہ کیسے کروں

 

میں نے اپنی نم ہتھیلیوں سے اس کے نازک دل کی دھڑکن محسوس کی اور پھر شاید خود ہی میرے دونوں انگوٹھوں کی گرفت، اس کے حلقوم پر مضبوط ہوتی چلی گئ. وہ بیچارہ ایک آدھ دفعہ زور سے پھڑپھڑایا اور پھر اس نے دم توڑ دیا. میرا وہ عمل شعوری نہیں تھا لیکن شاید کہیں میرے لاشعور میں یہ یقین ضرور موجود تھا کہ صرف موت ہی اس کی تکلیف کا واحد حل تھا

_________________________________________

      

میری ناقص رائے میں، مذہبی اعتقاد، شدید جسمانی اور روحانی تکلیف کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا ایس پی صاحب.’ ڈاکٹر صاحب کی آواز نے مجھے میری یادوں سے اچانک جھنجوڑ کر باہر نکال لیا

انسان تکلیف میں خدا کو جتنا بھی پکار لے، تکلیف کم نہیں ہوتی. ہاں خدا کو یاد  کرنے سے نفسیاتی سکون ضرور مل جاتا ہے مگر وہ بھی صرف کچھ دیر کیلئے.’ انہوں نے عینک کے عدسے رومال سے صاف کرتے ہوئے کہا

کیسی باتیں کرتے ہیں آپ ڈاکٹر صاحب؟’ میں نے کچھ برا مناتے ہوئے جواب دیا. ‘مذہب اور خدا انسان کو، شدید ناامیدی میں بھی امید کی کرن دکھاتے ہیں

‘ناامیدی؟’ ڈاکٹر بھٹی نے ایک قہقہہ لگایا. ‘ناامیدی کوئی چیز نہیں ہوتی ایس پی صاحب’

‘کیسے کوئی چیز نہیں ہوتی؟’ میں نے حیرت سے پوچھا. ‘آخر جو لوگ خودکشی کرتے ہیں، وہ ناامید ہو کر نہیں کرتے کیا؟’

نہیں بالکل نہیں!’ ڈاکٹر بھٹی نے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا. ‘خودکشی کرنے والے کو بھی اپنی کوشش کی کامیابی اور مرنے کی امید ضرور ہوتی ہے. امید کبھی بھی انسان کا ساتھ نہیں چھوڑتی. بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ہم ایک کے بعد دوسرا سانس بھی امید پر ہی لیتے ہیں

‘عجیب بات کر رہے ہیں آپ بھی.’ میں نے چکرا کر کہا. ‘تو پھر آخر لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں؟’

‘بس وہ چلتے چلتے تھک جاتے ہیں یا پھر ان کو یقین ہوجاتا ہے کہ ان کو دکھائی دیتی منزل، ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں’

 

ڈاکٹر بھٹی نے کھڑکی کا پردہ سرکایا. باہر لاہور کی سرد رات دسمبر کی دبیز دھند میں کہیں گم تھی

 

.مجھے ایک چیز کی بالکل بھی سمجھ نہیں آئ.’ میں نے کہا تو ڈاکٹر صاحب نے مڑ کر میری طرف دیکھا’

‘وہ کیا؟’

‘وہ یہ کہ بھنورا یعنی کہ وہ قاتل، لاشوں کے سینوں پر مردہ تتلیاں کیوں رکھتا ہے؟’

ہوں…..!’ ڈاکٹر صاحب نے پائپ کا ایک کش لگایا اور دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئے. ‘دنیا کے بیشتر مذاھب اور بالخصوص عیسایت میں تتلی کو، موت کے بعد دوبارہ پیدائش کا نشان سمجھا جاتا ہے. میرا خیال ہے وہ قاتل موت کے بعد دوبارہ پیدائش، جس کو آپ شاید آواگون بھی سمجھ سکتے ہیں، پر یقین رکھتا ہے. اس کو لگتا ہے کہ وہ جب ان غریب بوڑھوں کو مارتا ہے تو نا صرف وہ اپنی تکلیفوں سے نجات پا جاتے ہیں؛ بلکہ دوبارہ سے کسی اور جسم میں ایک نیا جنم لیتے ہیں

 

تو آپ کے خیال میں اس قاتل کی سائیکالوجوکل پروفائلنگ کی جا سکتی ہے؟’ میں نے گفتگو کا رخ واپس اپنے مطلب کی طرف موڑتے ہوئے کہا

کی تو بالکل جا سکتی ہے لیکن اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو……’ ڈاکٹر صاحب نے کسی گہری سوچ سے نکلتے ہوئے کہا، ‘تو میرے خیال میں میں آپ کے قاتل سے شاید واقف ہوں

‘کیا مطلب؟’ میں حیرت سے اچھل کر کھڑا ہوگیا. ‘آپ اس قاتل کو کیسے جانتے ہیں؟’

حوصلہ کیجئے!’ ڈاکٹر بھٹی نے ایک ہاتھ اٹھا کر کہا. ‘میں نے لفظ شاید کا استعمال کیا ہے. میرے خیال میں وہ میرے سابقہ مریضوں میں سے ایک ہے

لیکن کیا آپ اپنے مریضوں کی معلومات میرے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں؟’ میں نے واپس بیٹھتے ہوئے کہا. ‘کیا یہ آپ کے پیشہ وارانہ اصولوں کے خلاف نہیں ہوگا؟

نہیں ایسا نہیں ہے. جب معاملہ قتل کی نوبت تک پہنچ جائے تو پھر ایسے مریضوں کی معلومات شیئر کی جا سکتی ہیں.’ ڈاکٹر بھٹی نے بھی واپس اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا. ‘لیکن مجھے دو چار دنوں کا وقت درکار ہے. مجھے بہت ساری فائلوں میں سے اسکی فائل تلاش کرنی ہوگی

آپ اگر فائل کچھ جلد تلاش کر لیں گے تو شاید کچھ معصوموں کی جان بچ سکے.’ میں نے درخواست کی تو انہوں نے وعدہ کر لیا اور میں اٹھ کر چلا آیا

__________________________________________

    

ڈاکٹر صاحب نے میری درخواست کو مد نظر رکھتے ہوئے، فائل ڈھھونڈنے میں زیادہ وقت نہیں لگایا. مجھے تیسرے ہی دن ان کی کال آ گئ اور میں فوراً انکی کوٹھی پر حاضر ہوگیا

_________________________________________

 

.تشریف رکھیے ایس پی صاحب!’ ڈاکٹر بھٹی نے ایک کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’

.ڈاکٹر صاحب …….!’ میں بیٹھتے ہی اشتیاق سے پوچھنے لگا تو وہ میری بےصبری پر مسکرانے لگے’

بتاتا ہوں!’ انہوں نے میز پر سامنے رکھی ایک پیلے  رنگ کی فائل کھولتے ہوئے کہا. ‘دردمند آج سے تقریباً دس سال پہلے میرے پاس پہلی دفعہ آیا تھا

.دردمند؟’ میں نے حیرت سے پوچھا’

‘جی ہاں!’ ڈاکٹرصاحب نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے کہا. ‘میرے خیال میں آپ کے بھنورے کا اصل نام دردمند ہے’

‘پور انام…؟’

‘اس نے میرے بیحد اصرار کے باوجود صرف اتنا ہی نام بتایا تھا’

 

.بہتر ہے کے میں پہلے آپ کو اس کی کیس ہسٹری سے آگاہ کر دوں.’ ڈاکٹر صاحب نے پائپ سلگاتے ہوئے کہا’

 

دردمند ایک بیحد زہین اور حساس بچہ تھا. وہ نا صرف اپنے اردگرد ہونے والے تمام حالات واقعات کو غور سے دیکھتا اور سمجھتا تھا بلکہ ان کا اثر اس کے مزاج اور شخصیت پر اسقدر شدید ہوتا تھا کہ برداشت نہیں کر پاتا تھا. اسی وجہ سے اکثر وہ کسی نا کسی کونے میں چپ چاپ بیٹھا یا روتا ملتا تھا

 

پھر آھستہ  آہستہ اس نے بہت ہی عجیب و غریب خواب دیکھنے شروع کر دئے. عجیب و غریب میں ان خوابوں کو اس لئے کہوں گا کیونکہ ہم عام انسانوں کی طرح اس کے خواب بےترتیب نہیں ہوتے تھے. بلکہ وہ فلموں کی طرح کے خواب ہوتے تھے جن کا باقاعدہ آغاز اور اختتام ہوتا تھا

 

میرے خیال میں ان خوابوں کی وجہ، اس بچے کی غیرمعمولی طاقت تخیّل اور اس کا بہت زیادہ کتابیں پڑھنا تھا. وہ سب جو وہ دن کو پڑھتا تھا اور سوچتا تھا، رات کو جب اس کا لاشعور، اس تمام انفارمیشن کو پراسیس کرتا تھا تو اس کا نتیجہ خوابوں کی صورت میں برآمد ہوتا تھا. لیکن چونکہ تھا تو بچہ ہی، اسلئے کئی دفعہ خواب دیکھ کر ڈر جاتا تھا. جب اس کا رات کو سوتے میں ڈر کر جاگنا کچھ زیادہ ہی ہوگیا تو ماں باپ کو فکر لاحق ہوئی

 

تعلیم یافتہ ماں باپ تھے لہٰذا کوئی دم درود کرنے کی بجائے سیدھا ایک ماہر نفسیات کے پاس لے گئے. دردمند کے ساتھ کافی ساری تفصیلی ملاقاتوں کے بعد اس ماہر نفسیات نے جو تجزیہ کیا اس کے مطابق، دردمند کلینکل ڈپریشن کا شکار تھا؛ اور وہ ڈپریشن اس کی بے انتہاء ذہانت، بے پناہ طاقت تخیّل اور حساسیت کے درمیان کشمکش کا نتیجہ تھا. لیکن اس ماہر نفسیات کا یہ بھی کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ شاید وہ ڈپریشن ختم یا پھر بہت کم ہوجائے

 

بدقسمتی سے دردمند کا ڈپریشن کم یا ختم ہونے کی بجائے بڑھتا چلا گیا لیکن آھستہ آھستہ اس کو اپنے ڈپریشن کو خوبصورتی سے چھپانا ضرور آ گیا. وقت گزرنے کے ساتھ وہ بڑا ہوتا چلا گیا. شادی بھی کی اور بچے بھی ہوئے. ذہانت اور حساسیت بھی اپنی جگہ قائم تھیں. لیکن اس کی شخصیت میں پہلا بڑا تغیر اس وقت رونما ہوا جب اس کی عمر نے چالیس کا ہندسہ عبور کیا

 

.مڈ لائف کرائسس؟’ میں نے پوچھا’

جی ہاں شاید!’ ڈاکٹر صاحب نے میری ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا. ‘لیکن دردمند کے اپنے مطابق چالیس کی عمر کے بعد اس کو چیزوں کی سمجھ آنا شروع ہوگئ. یہاں چیزوں سے میری مراد اس کے اطراف انسانوں سے، ان کے رویوں سے، انسانی تعلقات سے اور زندگی کے اصل مقصد سے ہے

.میں آپ کی بات صحیح طرح سے سمجھ نہیں پا رہا ڈاکٹر صاحب.’ میں نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا’

میں سمجھاتا ہوں آپ کو.’ وہ مسکرا دئے. ‘اصل میں جب بیحد زہین لوگ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں تو انکو خواہ مخواہ بہت زیادہ سوچنے کی عادت پڑ جاتی ہے. وہ ہر چیزکا، ہر واقعے کا اور زندگی کے ہر پہلو کا بغور تجزیہ کرنے لگ پڑتے ہیں. اور یہ تجزیہ ہمیشہ تکلیف دہ ہوتا ہے

.بھلا وہ کیوں ڈاکٹر صاحب؟’ میں نے حیرت سے پوچھا’

وہ اسلئے ایس پی صاحب، کیونکہ ہمارے ہر عمل کے پیچھے، ہماری ہر محبت اور نفرت کے پیچھے اور ہمارے ہر گناہ اور نیکی کے پیچھے کوئی نا کوئی غرض چھپی ہوتی ہے. خیر میرے خیال میں ہم موضوع سے کچھ بھٹک رہے ہیں. میں آپ کو مختصراً بس یہ بتاتا چلوں کہ یہ تجزیہ کرتے کرتے دردمند آخر اس نتیجے پر پہنچا کہ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد دردمندی یا غم بانٹنا تھا. اور وہ وہ کچھ لوگوں کی جان لینے کو ظلم نہیں بلکہ دردمندی سمجھتا تھا

.وہ کیسے ڈاکٹر صاحب؟’ میں نے گرم چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا’

.بات پھر رحمانہ قتل کی آ جاتی ہے ایس پی صاحب.’ انہوں نے مسکرا کر کہا تو مجھے پھر میرے بچپن کا وہ کبوتر یاد آگیا’

آخر جن لوگوں کی جان ابھی تک لی گئ ہے اور جس انداز میں لی گئ ہے، اسے بہرحال آپ ظلم تو نہیں کہ سکتے. ہے تو آخر وہ دردمندی ہی

میں کچھ نا بول سکا. بس سر ہلا کر رہ گیا

 

مجھے اس کی باتوں سے کچھ کچھ اندازہ ہوگیا تھا کہ دردمند کے والدین اور بیوی کی اموات بھی قدرتی نہیں تھیں. شاید وہ اس کی دردمندی کے پہلے شکاروں میں شامل تھے

.یہ اندازہ کیسے ہوا آپ کو؟’ میں نے دلچسپی سے پوچھا’

ہوں……!’ ڈاکٹر صاحب نے بجھتے ہوئے پائپ کو پھر سے سلگایا اور کمرے کے آرام دہ ماحول میں پھر سے خوشبودار دھویں کے مرغولے چکرانے لگے

وہ ایسے کہ دردمند کے مطابق وہ تینوں مرنے سے قبل شدید تکلیف کا شکار تھے. والد اور والدہ کا بنیادی مسلہء تو یقیناً ضعیفی ہی تھا لیکن اس کی بیوی کسی خاص قسم کے کینسر کا شکار تھی اور شدید تکلیف میں مبتلا تھی. جب میں نے دردمند سے پوچھا کہ ان تینوں کی موت سے اس کو کتنا دکھ ہوا تو وہ کچھ عجیب سے انداز میں مسکرا دیا. مجھے اس مسکراہٹ میں فخر جھلکتا دکھائی دیا. خیر میرے پوچھنے پر بھی اس نے ان کے قتل کا اقرار نہیں کیا.اور اس دن کے بعد میرے پاس دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا

لیکن آپ کے پاس یقیناً اس کی کچھ تفصیلات تو موجود ہونگی جن کی مدد سے اس کا پتہ لگایا جا سکے؟ جیسےکہ اس کا ٹیلی فون نمبر یا پھر اس کے گھر کا پتہ؟’ میں نے پوچھا

جی ہاں بالکل!’ ڈاکٹر بھٹی نے فائل سے ایک کارڈ علیحدہ کر کے میرے حوالے کرتے ہوئے کہا. ‘اس کارڈ پر یہ دونوں چیزیں اور اس کا حلیہ تفصیل سے درج ہیں

________________________________________

 

بدقسمتی سے کارڈ پر موجود کوئی بھی تفصیل کارآمد ثابت نہیں ہوسکی. حلیہ تو خیر وہ ہی درج تھا جو کسی بھی بوڑھے انسان کا ہوسکتا ہے. گھر کا پتہ علامہ اقبال ٹاؤن کا درج تھا. لیکن جب ہم اس پتے پر پہنچے تو وہاں صرف ایک خالی پلاٹ تھا. ارد گرد سے پتہ چلا کہ متنازع پلاٹ تھا اور ہمیشہ سے ایسے ہی خالی پڑا تھا. ٹیلی فون نمبر بھی جعلی نکلا

 

میں اپنی ہر کوشش میں ناکام ہو گیا اور آئ جی صاحب کو بھی آگاہ کر دیا. خیر وہ بھی کیا کر سکتے تھے، بس مجھے اس قاتل کو ڈھونڈتے رہنے کا کہا. قتل بدستور ہوتے چلے گئے اور ہم اس کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کرتے رہے اور بری طرح ناکام ہوتے رہے

_______________________________________

اس شام میں دفتر سے فارغ ہو کر ذکیہ کے پاس چلا گیا. اس روز وہ بیچاری کچھ زیادہ ہی تکلیف میں تھی. مارفیا کی زیادہ سے زیادہ محفوظ خوراک بھی ناکافی ثابت ہورہی تھی. وہ بیہوشی کی حالت میں مسلسل کراہ رہی تھی. جب اس نے میرا نام لیکر پکارا تو میں اس کا ہاتھ تھام کر وہیں بستر پر اس کے سرہانے بیٹھ گیا

 

بالکل ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ گئ تھی میری ذکیہ. میں نے آنسو بھری آنکھوں سے اس کے تیزی کے ساتھ جھڑتے بال دیکھ اور پھر اپنے ہاتھوں سے اس کے استخوانی وجود کو محسوس کرتا رہا. لیکن میرا محبت کی گرمی بھرا لمس بھی اس کی تکلیف کو کم نہیں کر پا رہا تھا

 

مجھے اچانک ڈاکٹر بھٹی سے کی گئ گفتگو، دردمند کے خیالات اور اپنے بچپن کا کبوتر یاد آ گیا. ایک دفعہ تو میرے دل میں آیا کہ منہ پر تکیہ رکھ کر ذکیہ کی مشکل آسان کر دوں. لیکن یہ سوچ آتے ہی میں نے اسے یکدم جھٹک دیا. اٹھ کر دو نفل پڑھے اور دل سے اور گڑگڑا کر خدا سے رحم کی اور ذکیہ کی تکلیف آسان کرنے کی دعا کی. میرے دل کو تو تھوڑا سکون مل گیا لیکن ذکیہ کی تکلیف میں کوئی کمی نہیں آئ اور وہ بیچاری بدستور تڑپتی رہی

 

میں تھوڑی دیر تو کھڑا اس کو دیکھتا رہا. پھر اس کا تڑپنا اور اپنی بےبسی برداشت نا کر سکا تو کچھ دیر کو کمرے سے باہر نکل آیا

_________________________________________

 

کمرے کے باہر گیلری بالکل نیم تاریک اور ویران پڑی تھی. سامنے نرسنگ کاؤنٹر تھا، جس کے پیچھے دو نرسیں کرسیاں جوڑ کر سو رہی تھیں. ذکیہ کے کمرے کی بغل میں انتہائی نگہداشت کا وارڈ تھا. وارڈ کی ایک بڑی سی کھڑکی گیلری میں کھلتی تھی. میں اس کے سامنے کھڑا ہوگیا اور وقت گزاری کیلئے وارڈ میں جھانکنے لگا

 

انتہائی نگہداشت کا وہ وارڈ ویسا ہی تھا جیسے کہ عموماً ہسپتالوں کا ہوتا ہے. اندر روشنی تقریباً نا ہونے کے برابر تھی. بس مشینوں کی روشنیاں جل بجھ رہی تھیں. لمبا سا کمرہ تھا جس کے دونوں اطراف پندرہ بیس بیڈ لگے ہوئے تھے جو کے سب کے سب مریضوں سے بھرے ہوئے تھے اور درمیان میں چلنے کیلئے ایک کشادہ راستہ چھوڑ دیا گیا تھا

 

میں اندر جھانک ہی رہا تھا کہ میں نے وارڈ کے اندر کا ایک بغلی دروازہ کھلتے دیکھا اور ایک سایہ خاموشی سے وارڈ میں داخل ہوا. میں نے غور کیا تو اندازہ ہوا کہ شاید کوئی ہسپتال کے سٹاف کا آدمی تھا کیونکہ اس نے سفید کوٹ پہن رکھا تھا. چہرہ تاریکی کی وجہ سے نظر نہیں آ رہا تھا

 

وہ ایک کونے سے شروع ہوا اور باری باری اس نے ہر بیڈ کی پائنتی پر رکھا میڈیکل کارڈ اٹھا کر جائزہ لینا شروع کیا. تیسرے مریض کا کارڈ دیکھ کر اس نے واپس رکھا اور پھر ہاتھ میں پکڑا کالے رنگ کا ایک بیگ بیڈ پر رکھ کر کھولا. اندر سے کچھ سرنجیں نکالیں اور باری باری اس مریض کے بازو میں لگی ربڑ کی نالی میں انجیکٹ کر دیں

 

اس نے انجیکشن لگانے کے بعد مریض کی گردن تکیے پر ایڈجسٹ کی اور پھر چادر اس کے جسم پر درست کی. ابھی تک مجھے اس آدمی کی تمام حرکات بالکل نارمل لگ رہیں تھیں. وہ غالباً کوئی ڈیوٹی ڈاکٹر تھا. لیکن پھر اس نے ایک ایسی حرکت کی کہ میں چونک کر رہ گیا

 

اس نے جھک کر مریض کی پیشانی چومی اور پھر ہاتھ میں پکڑی کوئی شے احتیاط سے مریض کے سینے پر رکھ دی. میں ہڑبڑا کر اپنے ٹرانس سے باہر نکلا اور وارڈ کے مین دروازے پر لات مار کر اندر داخل ہوگیا

 

.خبردار حرکت نا کرنا.’ میں نے بغلی ھولسٹر سے سرکاری پستول نکال کر اس آدمی پر تانتے ہوئے کہا’

اس نے گھبرا کر میری طرف دیکھا اور مشینوں کی روشنی میں مجھے اس کی شکل نظر آئ. کچھ لمحے ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتے رہے. پھر اس نے میری حیرت کا فائدہ اٹھایا اور بیگ ہاتھ میں پکڑ کر جس دروازے سے اندر داخل ہوا تھا، وہیں سے دوڑ کر باہر نکل گیا. میں بھی اس کے پیچھے دوڑا. دروازے کے باہر بالکل اندھیرا تھا

 

مجھے دور ایک سایہ بھاگتا دکھائی دیا. میں نے اس کے پیچھے بھاگنے کی کوشش کی مگر پھر کسی چیز سے ٹکرا کر میں زمین پر گر گیا. پستول بھی ہاتھ سے نکل گیا. میرے گھٹنے پر شدید چوٹ لگی تھی. خیر میں لنگڑاتا ہوا اٹھا اور موبائل نکال کر اس کی ٹارچ روشن کی. پستول ڈھونڈ کر اٹھایا اور اپنی قسمت کو کوستا ہوا اور لنگڑاتا ہوا واپس وارڈ میں داخل ہوا

 

اتنے میں شور سن کر نرسیں بھی اندر داخل ہو چکی تھیں اور کچھ مریض بھی جاگ چکے تھے. میں جلدی سے اس بستر کی طرف گیا جس کے ساتھ وہ شخص کھڑا تھا. کوئی خاتون تھیں اور غالباً دم توڑ چکی تھیں کیونکہ مشین کی سکرین پر چلتی لائن بالکل سیدھی تھی اور ایک ٹوں کی آواز مسلسل گونج رہی تھی. اس عورت کے سینے پر، سفید چادر کے اوپر، ایک نیلے رنگ کی خوبصورت مگر مردہ تتلی اس طرح رکھی گئ تھی کہ جیسے ابھی اڑنے کو ہو

________________________________________

 

مجھے اچھی طرح معلوم تھا کے مجھے کیا کرنا تھا اور کہاں جانا تھا کیونکہ میں قاتل کا چہرہ پہچان چکا تھا. میں نے جلدی جلدی فون پر آئ جی صاحب کو اطلاع کی اور پھر دوسرا فون فورس کیلئے کر کے گاڑی دوڑانی شروع کر دی

 

صبح صادق کا وقت تھا اور لاہور کی کشادہ سڑکیں تقریباً ویران اور خالی پڑی تھیں. میں پندرہ بیس منٹ میں ہی ڈاکٹر رفیق بھٹی کی کوٹھی کے باہر کھڑا تھا. میرے پہنچتے ساتھ ہی پولیس کی تین چار گاڑیاں بھی ہوٹر بجاتی پہنچ گیئں

 

میں نے فورس کو کوٹھی کو گھیرے میں لینے کا حکم دیا اور پھر چار پانچ سپاہیوں کو لیکر کوٹھی کے اندر داخل ہوگیا جس کا گیٹ پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا

 

اندر بالکل خاموشی اور تاریکی طاری تھی. میں نے برآمدے میں سوئچ بورڈ ڈھونڈ کر بلب روشن کیا اور پھر صدر دروازے سے اندر داخل ہوا. پورا گھر تاریکی کی آغوش میں تھا مگر ڈاکٹر بھٹی کے کلینک کے دروازے کے نیچے درز سے مدھم سی روشنی جھلک رہی تھی. میں نے پستول سیدھا کیا اور دروازہ کھٹکھٹائے بغیر اندر داخل ہوگیا

 

کلینک کے کمرے میں صرف سرخ شیڈ والا ایک لیمپ جل رہا تھا. سامنے ڈاکٹر بھٹی میز پر بازوؤں پر سر جھکا کر بیٹھے تھے. میں نے قریب جا کر دیکھا تو وہ دم توڑ چکے تھے. ان کے سامنے میز پر تین خالی سرنجیں پڑی تھیں اور میز کی ایک کھلی دراز سے اس طرح کی بیشمار بھری ہوئی سرنجیں جھانک رہی تھیں. میں نے کھول کر دیکھا. تین تین سرنجوں کے ربڑ کے چھلوں سے بندھے دس بارہ سیٹ تھے

 

میں نے باقی درازوں کی بھی تفصیل سے تلاشی لی اور پھر اسی تپائی کی طرف بڑھا جس پر تین گہرے سرخ رنگ کی لکڑی کے چوڑے ڈبے، جن پر کچھ سنہری نقش و نگار بھی بنے ہوئے تھے، پڑے ہوئے تھے. میں نے باری باری ان سب کو کھول کر دیکھا. ان ڈبوں میں بہت سلیقے سے، اوپر نیچے لگی تہوں میں بہت سی خوبصورت مردہ تتلیاں سجی ہوئی تھیں

 

میں نے سرنجوں کا ایک سیٹ اور ایک تتلیوں والا ڈبہ اٹھایا، اپنے ساتھ آنے والوں کو جائے وقوعہ کا معائینہ کرنے کی ہدایت کی اور خود آئ جی صاحب کو بریف کرنے ان کے بنگلے پر چلا گیا

______________________________________

 

جب میں آئ جی صاحب کے ہاں سے فارغ ہوا تو سورج طلوع ہو چکا تھا. میں نے گھر کی طرف گاڑی موڑی ہی تھی کے موبائل پر ہسپتال سے فون آ گیا. ذکیہ کی تکلیف بہت بڑھ چکی تھی. میں نے گھر جا کر آرام کرنے کا ارادہ ترک کیا اور سیدھا ہسپتال چلا گیا

__________________________________________

 

ذکیہ واقعی بہت تکلیف میں تھی. اس کا پیلا پڑتا چہرہ شدید درد سے مسخ ہو چکا تھا. مجھے اندر آتا دیکھ کر نرس باہر نکل گئ. میں نے ہاتھ میں پکڑا سامان میز پر رکھا اور ذکیہ کے پہلو میں بیٹھ گیا

 

یا الله! مجھے اپنے پاس بلا لے. بس کر دے اب. بس کر دے.’ اس کے سوکھے ہونٹوں سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نکلے تو میں نے اس کی بخار میں جلتی پیشانی پر ہاتھ رکھا. انگلیوں سے اس کے روکھے بالوں کی لٹ کو سنوارا اور بیچارگی سے سر جھکا لیا. اس کو میری موجودگی کی کوئی خبر نہیں تھی

 

تھوڑی دیر سوچنے کے بعد میں ایک نتیجے پر پہنچ چکا تھا. میں نے خاموشی سے اٹھ کر کمرے کا دروازہ اندر سے لاک کیا اور پھر ذکیہ کی حالت کو مانیٹر کرتی مشین کا سوئچ بورڈ سے نکال دیا. میں نے باری باری ڈاکٹر بھٹی کے کلینک سے لائ گئ تینوں سرنجیں مارفیا کی ڈرپ کی نالی میں لگا دیں اور پھر لکڑی کا ڈبہ کھول کر جائزہ لیا. کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے اس میں سے ایک سنہری تتلی منتخب کی اور اس کو احتیاط سے نکال کر ذکیہ کے سینے پر رکھ دیا

 

رضیہ نے ایک گہری سانس لی اور آھستہ آہستہ کسمسانا بالکل بند کر دیا. میں اس کے پاس لیٹ گیا اور اس کے وجود کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیا. مجھے اس کے دل کی مدھم دھڑکن اپنی چھاتی پر محسوس ہورہی تھی. آھستہ آھستہ وہ دھڑکن مدھم ہوتی چلی گئ اور پھر بالکل خاموش ہوگئ

 

پھر کچھ لمحات کے بعد میں نے اپنے سینے کے ساتھ کچھ حرکت محسوس کی. میں نے چونک کر نیچے دیکھا. وہ سنہری تتلی ہولے سے پھڑپھڑا رہی تھی. میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پر سمیٹے اور پھر اڑتے ہوئے پہلے کمرے کا ایک چکر لگایا اور پھر کھلی کھڑکی سے باہر چمکتی دھوپ میں کہیں گم ہوگئ. میں نے مسکراتے ہوئے جھک کر ذکیہ کی سرد پیشانی چومی اور دو آنسو میری آنکھوں سے نکل کراس کے پپوٹوں کے گوشوں میں جزب ہوگئے

4 thoughts on “دردمند بھنورا – لاہور کا انوکھا سیریل کلر

    1. Thank you and nothing escapes ur eagle eyes. Yes I borrowed the idea of butterfly from Mr Harris but where he used moths and cocoons placed within the oral cavities of the victims, I chose butterflies placed on the chests

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s