سب کھڑکیاں خاموش ہیں

123b548150804f3906600ef25ecb41da

اس شہر کے ہر گھر کی

سب کھڑکیاں خاموش ہیں

کھڑکیوں سے گونجتے

کھنکتے اور مہکتے

جگمگاتے سے، بہکتے

قہقہے بھی خاموش ہیں

 

اس شہر کے ہر گھر کی

سب کھڑکیاں تاریک ہیں

کھڑکیوں سے جھانکتے

سسکتے اور بلکتے

مایوسی سے لپٹ کر روتے

خواب بھی تاریک ہیں

 

اس شہر کے ہر گھر کی

سب کھڑکیاں بس غار ہیں

جبڑے کھولے

دانت نکوسے

مردہ بھیڑیوں کی

ویران اور سرانڈ دیتی

متروکہ کچھار ہیں

 

اس شہر کے ہر گھر کی

کھڑکیوں کے غیبی مکین

مکڑی جالے میں پھنسے

تڑپتے، ایڑیاں رگڑتے

ہاتھ اٹھاتے، پیشانی رگڑتے

بےبس لاچار شکار ہیں

 

اس شہر کے ہر گھر کی

سب کھڑکیاں سوراخ ہیں

وقت کی پھٹی چادر سے

جھانکتے، شرمندہ چہرہ

بدصورت رازوں کا

تلخ حقیقت قصوں کا

چھپا ہوا سراغ ہیں

 

غاروں میں تھوڑا جھانک کر

خاک وقت کو پھانک کر

ٹوٹی دیواروں پر ٹنگی

مانند تصویر ماضی

لاشیں پرانی

کچھ ہیں مگر

چہروں پر بہت سی گرد ہے

مسکراتی ہیں مگر

آخری مسکراہٹ زرد ہے

 

اس شہر کے ہر گھر کی

سب کھڑکیوں میں بھوت ہیں

ڈراؤنے، چیختے

بین کرتے بھوت ہیں

کچلی خواہشوں کے

کرچی خوابوں کے

بہت واضح

مگر سب دھندلے

گدلائے سے ثبوت ہیں

 

اس شہر کے ہر گھر کی

سب کھڑکیوں میں موت ہے

ساکت سینے، مردہ دل

بوسیدہ اور متعفن موت ہے

شعور سے بہت دور

بکھری زندگیوں کے

بوجھل وزن تلے دبی

بس مچلتی موت ہے

 

اس شہر کے ہر گھر کی

سب کھڑکیاں خاموش ہیں

خواہشیں مردہ ہیں سب

اور خواب فراموش ہیں

اس شہر کے ہر گھر کی

سب کھڑکیوں میں رات ہے

دیوانگی روشن ہے لیکن

یہ الگ ایک بات ہے

 

2 thoughts on “سب کھڑکیاں خاموش ہیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s