کلو حرامی اور پلیٹ فارم نمبر چار

محلے کے لوگ بتاتے ہیں کہ جس دن کلو حرامی کی ماں فوت ہوئی، اس کی آنکھوں سے ایک آنسو بھی نا نکل سکا. دیدے ایسے خشک پڑے تھے کہ جیسے، بارش کی بوندوں کے انتظار میں، تڑخی ہوئی اور باریک باریک دراڑوں والی سوکھی زمین. پڑوس کی ماسی بشیراں نے تو دونوں گال، تھپڑ مار مار کر لال سرخ بلکہ جامنی کر دیئے، مگر کلو نے تو جیسے قسم کھا رکھی تھی نا رونے کی. بس سرخ اینٹوں سے بنے چھوٹے سے صحن کے ایک کونے میں بیٹھا، لال لال آنکھوں سے گھورے جاتا تھا ہر آنے جانے والے کو

دیکھنے والوں نے بہت اور بہت طرح کی باتیں کیں

کسی نے کہا بچہ ہے، گھبرا گیا ہے

کسی نے کہا، سکتہ طاری ہوگیا ہے بچے پر

کسی نے کہا ابھی ڈرا ہوا ہے، بعد میں رو لے گا

اور کسی نے کہا، بچے کو کیا پتہ اس پر کیا قیامت گزر گئ

 

لیکن مجھے پتہ تھا کہ کلو کیوں نہیں رویا. میرا ابا، الله اس کو جنت نصیب کرے، کہا کرتا تھا کہ کبھی کبھی انسان اسلئے نہیں روتے کہ ان کو احساس ہو جاتا ہے کہ کوئی ان کے آنسو نہیں پونچھے گا. اسلئے چھوٹے بچوں کو جب چوٹ لگتی ہے تو وہ تب تک نہیں روتے جب تک اپنی ماں یا باپ کو نا دیکھ لیں. اور کلو کے آنسو تو صرف اسکی ماں ہی پونچھا کرتی تھی. باپ تو بہت پہلے ہی بیوی اور بیٹے کو چھوڑ کر کہیں دور چلا گیا تھا

_______________________________________

کلو حرامی کا اصل نام محمد بشیر تھا. اتنا اچھا نام کلو حرامی کیسے بن گیا اور کس نے بنایا؟ یہ بھی میں آپ کو بتاتا ہوں. کہتے ہیں جب کلو اپنی ماں کے رحم میں ابھی گوشت کا چھوٹا سا لوتھڑا ہی تھا تو اسکی ماں کو، کوئلہ چاٹنے کی لت لگ گئ. اب آپ کہیں گے کے یہ کیسی لت ہوئی تو بھائی یہ میں کیا جانوں؟عورت امید سے ہو تو کچی مٹی کیوں کھاتی ہے یا کوئلہ کیوں چاٹتی ہے؟ یہ تو عورتیں ہی بہتر جانتی ہیں

 

کلو کی ماں اچھی خاصی خوبصورت اور گوری چٹی عورت تھی اور باپ بھی مردانہ وجاہت میں کچھ کم نہیں تھا. کشمیر کے کسی گاؤں میں دیکھا تو بھگا کر لاہور لے آیا. خیربھگا کر لایا ہو یا بیاہ کر، مجھے اس سے کچھ غرض نہیں. میں تو آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ ماں باپ تو خاصے گورے چٹے تھے مگر جب کلو پیدا ہوا تو اس کو دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ جیسے ماں کا چاٹا، سارے کا سارا کوئلہ، ایک ساتھ باہر نکل آیا ہو. سنا ہے حمیداں دائ تو کلو کا کالا بھجنگ اور مریل سا وجود دیکھ کر، ایک دفعہ چکرا کر گر ہی گئ تھی

 

کلو کی پیدائش کے دوسرے ہی روز، محلے کی عورتوں نے کھسرپھسر شروع کر دی. پھر عورتوں سے نکل کر بات مردوں میں پھیل گئ. کلو کے باپ کا باہر محلے میں نکلنا محال ہوگیا. ہر طرف عجیب و غریب باتیں گونج رہیں تھیں

 

حاجی خدا بخش کے مطابق، کلو کا باپ اسکی ماں کو بھگا کر تو ضرور لایا تھا مگر نکاح نہیں کیا تھا. اسی گناہ کی سزا ان کو کلو کی صورت میں ملی تھی. پہلے تو کبھی کسی نے ایسا شک نہیں کیا تھا مگر حاجی صاحب جب اتنے معتبر انداز میں، اپنی مہندی رنگی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، اپنے خدشات کا اظہار کرتے، تو لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیتے

 

ملک غلام رسول کریانے والے کا اینٹ کتے کا بیر تھا حاجی خدا بخش سے. لیکن بجائے اسکے کہ وہ حاجی کی بات کی مخالفت کرتا، اس نے تو ایک نئی بات ہی کر ڈالی

میری اطلاع کے مطابق……’ ملک غلام رسول نے اپنی نوکیلی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا: ‘میری اطلاع کے مطابق، نومولود اپنے باپ کی اولاد نہیں بلکہ اسکی ماں کے کسی یار کا تحفہ ہے. یقین نہیں آتا تو اس کا رنگ دیکھ لو. کبھی ہوسکتا ہے کہ اتنے گورے ماں باپ کا اتنا کالا بچہ پیدا ہوجائے؟

یہ سن کر لوگوں نے خواہ مخواہ سر ہلانا شروع کر دیا. کسی نے یہ نا سوچا کہ کلو کی ماں تو کبھی گھر سے ہی نا نکلتی تھی، تو یاری اس نے جنات سے کرنی تھی کیا؟ بات چونکہ مصالحے دار تھی لہٰذا سب نے فٹ سے یقین کر لیا

 

کلو کا باپ کچھ دن تو صبر کے ساتھ لوگوں کی باتیں برداشت کرتا رہا. مگر جب ملک غلام رسول کی اڑائ بات، سب کی زبانوں سے پھسلنے لگی تو اس کی بس ہوگئ. ایک دن کام پر گیا تو واپس نہیں آیا. لوگوں نے پھر بہت باتیں کیں اور اکثریت کے خیال میں، کلو کے باپ نے، بیوی کی بیوفائی کے سبب، کہیں دور جا کر خود کشی کر لی تھی. لیکن میں جانتا تھا کہ کلو کا باپ کہاں غایب ہوگیا تھا

 

میں قلی محمد علی، لاہور ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر چار پر ڈیوٹی دیا کرتا تھا اور وہاں کلو کے کوارٹر کی بغل میں ہی، میری چھوٹی سی کوٹھری تھی. کلو کا باپ بھی میرے ساتھ ہی قلی تھا. بلکہ اس کو میں نے ہی قلی کی نوکری دلوائی تھی. بیچارا نئی نئی شادی کر کے لاہور شہر میں دھکے کھا رہا تھا. مجھے ترس آ گیا اور ٹھیکیدار سے بات کر کہ اسے اپنے ساتھ ہی لگوا لیا

 

یہ کلو کی پیدائش کے کچھ ہی دن بعد کی بات ہے. میں اور اس کا باپ محمد سلیم، پلیٹ فارم نمبر چار پر، کراچی جانے والی تیزگام کے انتظار میں بیٹھے بیڑی پی رہے تھے

تو فکر نا کر سلیم…’ میں نے اسے پریشان دیکھ کر کہا. ‘لوگوں کو تو بکواس کرنے کا شوق ہوتا ہے. وقت کے ساتھ ساتھ باتیں بھی ختم ہو جایئں گی

تو نے بشیر کا کالا رنگ دیکھا ہے؟ نا وہ کبھی میری اور اپنی ماں کی طرح گورا ہو سکے گا اور نا لوگوں کی باتیں ختم ہوں گی.’ تیزگام پلیٹ فارم پر آ کر رینگتے ہوئے رکنے کی تیاری کر رہی تھی. سلیم نے بیڑی مسل کر فرش پر پھینکی اور اٹھ کر کھڑا ہوگا

‘دل کرتا ہے یا تو اس کا گلا دبا دوں یا خود ٹرین کے آگے کود کر جان دے دوں یا پھر کہیں دور بھاگ جاؤں ہمیشہ کیلئے

ناں! ناں! ایسی باتیں نہیں کرتے سلیم. گورا کالا رنگ تو الله کی دین ہوتا ہے.’ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ میرا ہاتھ جھٹک کر ٹرین کی طرف بڑھ گیا

 

میں ایک مسافر کا سامان تانگے تک پہنچا کر واپس آیا تو ٹرین چل پڑی تھی. ڈبے میرے سامنے سے گزرتے رفتار پکڑ رہے تھے. تبھی میں نے ایک ڈبے کے دروازے پر سلیم کو کھڑا دیکھا. وہ خالی خالی نظروں سے میری ہی طرف دیکھ رہا تھا

‘سلیم کیا کر رہا ہے؟’ میں نے پکار کر کہا. ‘نیچے اتر، گاڑی چل پڑی ہے’

مگر اس نے ایک ہاتھ الوداعی انداز میں بلند کیا اور پھر منہ موڑ کر ڈبے کے اندر چلا گیا

اس کے بعد میں نے سلیم کو دوبارہ کبھی نہیں دیکھا

 

لوگ کہتے ہیں کے سلیم غیرت مند تھا. لوگوں کی باتیں برداشت نہیں کر سکا، لہٰذا بیوی بچے کو چھوڑ کر چلا گیا. لیکن میرا خیال لوگوں سے کچھ مختلف ہے. میرا ابا، الله اس کو جنت نصیب کرے، کہا کرتا تھا کہ سب مسائل اور تکلیفوں پریشانیوں سے کنارہ کر کے، زندگی نئے سرے سے شروع کرنے میں، ایک عجیب سی کشش ہوتی ہے. اتنی زیادہ کشش کہ کبھی کبھی لوگ اپنی اولاد کو بھی چھوڑ دیتے ہیں. اور پھر لوگوں کا سامنا کرنے سے اور ذمہ داریاں نبھانے سے، فرار بزدلی سہی، مگر زیادہ آسان کام ہوتا ہے

_____________________________________________

ماں کا جنازہ محلے والوں نے اٹھایا تو کلو بھی اپنی جگہ سے اٹھا اور جنازے کے پیچھے پیچھے چل پڑا. خالی خالی آنکھوں سے لوگوں کو اپنی ماں کو قبر میں اتار کر مٹی ڈالتے دیکھتا رہا اور پھر وہیں ایک طرف بیٹھ گیا

 

میں تو کہتا ہوں، کلو کو بھی ماں کے برابر لٹا کر مٹی ڈال دو اوپر سے.’ ملک غلام رسول کے لونڈے نے دعا کے بعد، اپنے دوستوں کی طرف دیکھ کر کہا. جواب میں تعریفی قہقہے بلند ہوئے تو مولوی عبدل کریم کو غصّہ چڑھ گیا

‘بکواس مت کرو اور دفعہ ہوجاؤ یہاں سے’

کیا ہوگیا قبلہ مولوی صاحب؟’ ملک غلام رسول نے برا مناتے ہوئے کہا، ‘بچے ہیں، ہنسی مزاق کر رہے ہیں’

بچے؟ ہنسی مزاق؟ وہ بھی قبرستان میں اور ایک غریب عورت کے جنازے پر؟’ مولوی صاحب نے کندھے پر چار خانہ رومال درست کرتے ہوئے طیش کھاتے کہا. ‘جب تمھارے جنازے پر تمہارا بیٹا چار لطیفے سنائے گا نا تو پھر قبر سے اٹھ کر کہنا کہ بچہ ہی تو ہے

اور لوگوں نے بھی غلام رسول کو لعن طعن کی تو وہ خاموش ہوگیا اور بات آئ گئ ہوگئ

 

بشیر! بشیر بیٹے!’ باقی لوگوں کے جانے کے بعد مولوی عبدل کریم نے شفقت سے کلو کے کندھے پر ہاتھ رکھا. ‘چلو گھر چلیں

گھر؟ کونسے گھر؟’ کلو نے مولوی صاحب کی طرف دیکھ کر پوچھا. ‘گھر میں کون ہے؟ ماں تو چلی گئ. اب گھر میں کون میرا انتظار کر رہا ہے مولوی صاحب؟

.ہاں یہ تو ہے.’ مولوی صاحب لاجواب سے ہو کرداڑھی کھجانے لگے. پھر ان کے دماغ میں ایک خیال آیا’

‘تم میرے ساتھ چل کر رہو بیٹے. میں بھی اکیلا رہتا ہوں. تم بھی ساتھ  ہوگے تو رونق ہوجائے گی’

.میں ابھی کچھ دیر اور ماں کے پاس بیٹھوں گا.’ کلو نے ماں کی قبر کی گیلی مٹی تھپتھپاتے ہوئے کہا’

ہاں! ہاں! ضرور بیٹھو بیٹے. لیکن جب اٹھو تو میری طرف آ جانا. میں تب تک تمھارے کھانے پینے کا کچھ انتظام کرتا ہوں

_____________________________________

ماں کے انتقال کے وقت کلو کی عمر تقریباً چھ سال تھی اور یہ چھ سال ماں بیٹے پر بہت مشکل گزرے تھے. خاوند کی گمشدگی کے بعد کچھ دن تو اس کے انتظار میں ہی گزر گۓ. جب اس کی واپسی کی امید تقریباً ختم ہی ہوگئ تو اس غریب نے، مدد کیلئے ادھر ادھر دیکھا. مگر حاجی خدا بخش اور ملک غلام رسول کی پھیلائی افواہوں کی وجہ سے محلے والوں نے ماں بیٹے کا ایک طرح سے معاشرتی مقاطعہ کر دیا تھا

 

واپس گاؤں جانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ اس نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف سلیم سے شادی کی تھی؛ اور نکاح کے وقت اقرار نے، واپسی کے تمام دروازے، ہمیشہ کیلئے بند کر دیئے تھے

 

محلے میں میرا خاندان شاید واحد خاندان تھا جس کو اس عورت سے ہمدردی تھی لیکن انسانیت کے رشتے کی خاطر، محلے والوں کی بدصورت باتیں سننے کی ہمت مجھ میں بھی نہیں تھی. میرا ابا، الله اس کو جنت نصیب کرے، کہا کرتا تھا کہ انسانیت، اصول، بہادری اور ایمان جیسی اونچی چیزیں، بھرے پیٹوں کی میراث ہوتی ہیں. مفلس اور بھوکے ننگے لوگوں کا ان چیزوں سے کم ہی تعلق ہوتا ہے

 

لیکن میری بیوی مجھ سے کچھ الگ طرح سے سوچتی تھی. وہ بہت سے ایسے کام کر گزرتی تھی جن کے بارے میں، میں ابھی صرف سوچ ہی رہا ہوتا تھا. میری بیوی کو اس بیچاری کے حالات کا اندازہ ہوا تو ایک دن محلے والوں سے نظر بچا کر، اس کے گھر چلی گئ؛ اور اسے لفافے بنانے کے کام پر لگا دیا. پیسے تو زیادہ نہیں ملتے تھے لیکن عزت سے روکھی سوکھی ضرور ملنے لگی

_______________________________________

وقت کا پہیہ گھومتا رہا لیکن اتنا گھومنے کے باوجود محمد بشیر پر مہربان نہیں ہوسکا. بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کی شکل نکل آ جاتی ہے، لیکن وہ بیچارا ان بچوں میں شامل نہیں تھا. رنگ تو پہلے ہی سیاہی مائل بلکہ تقریباً سیاہ ہی تھا. اس پر بیچارے کو چار سال کی عمر میں چیچک نکل آئ. جو کچھ کسر باقی تھی، وہ چیچک کے بدنماء داغوں نے پوری کر دی

 

محمد بشیر کو محلے والے بالعموم اور بچے بالخصوص، بہت پہلے سے کلو کا نام دے چکے تھے. چونکہ ہوش سنبھالنے سے بہت پہلے یہ عرفیت زبان زد عام ہو چکی تھی لہٰذا بشیر کو زیادہ نہیں چبھتا تھا. لیکن پھر ایک دن جب اسکول میں بچوں نے کچھ زیادہ ہے تنگ کیا تو گھر آ کر ماں سے پوچھا

‘اماں! میرا اصل نام کیا ہے؟ بشیر یا کلو؟’

.تیرا نام بشیر ہے بیٹے….محمد بشیر ولد محمد سلیم.’ ماں نے پیار سے بالوں میں تیل چپڑتے ہوئے کہا’

‘پھر تیرے علاوہ اور چاچا محمد علی اور اس کی بیوی کے علاوہ باقی سب لوگ مجھے کلو کیوں کہتے ہیں؟’

دماغ خراب ہے لوگوں کا. دھوپ کی کالی عینکیں لگا رکھی ہیں سب مردودوں نے. کالے شیشوں سے دیکھیں گے تو سب کالے ہی نظر آیئں گے

کونسی عینکیں اماں؟’ اس نے معصومیت سے پوچھا. ‘مجھے تو انکی آنکھوں پر کوئی عینک چڑھی نظر نہیں آتی

‘بس ہوتی ہیں کچھ عینکیں جو نظر نہیں آتیں’

 

بشیر تھوڑی دیر خاموش رہا اور بالوں میں ماں کی محبت بھری انگلیوں کا لمس محسوس کرتا رہا. پھر کچھ سوچ کر کہنے لگا

‘اماں! یہ الله نے مجھے اتنا کالا کیوں بنایا ہے؟’

ہوں…..!’ ماں کی انگلیوں کی گردش ایک لمحے کو تھم سی گئ. ‘اصل میں الله کو کالا رنگ بہت پسند ہے. اس کا بڑا گھر بھی کالا، وہاں پر جنت سے لایا پتھر بھی کالا اور اس کے محبوب کی کملی بھی کالی

لیکن ان سب چیزوں کو تو لوگ پیار کرتے ہیں، چومتے ہیں. مجھے کیوں نہیں پیار کرتے اور چومتے؟ میں بھی تو کالے رنگ کا ہوں.’ بشیر نے کچھ سوچ کر پوچھا

ماں صدقے!’ وہ بیقرار سی ہو کر بولی. ‘میں ہوں نا تجھے چومنے اور پیار کرنے کیلئے. تجھے لوگوں کی کیا فکر؟

یہ کہ کر ماں نے بشیر کو اپنی آغوش میں لے لیا اور اس کو یوں لگا کہ جیسے ماں کی محبت بھری گرمی سے اس کا کالا کوئلے جیسا رنگ، دہک کر لال سرخ ہوگیا ہو

_____________________________________________

ماں کے مرنے کے بعد کلو مستقل مولوی عبدل کریم کے حجرے میں منتقل ہوگیا. بہت ہی شفیق انسان تھے وہ. باقی سارے مولویوں سے بہت الگ. اپنا تو کوئی خاندان تھا نہیں. ساری زندگی ایک مسجد سے دوسری مسجد تک امامت میں گزر گئ تھی. لیکن پتا نہیں کیوں، انکی شخصیت کی مٹی میں  پیار بہت زیادہ گندھا ہوا تھا. کلو کو انہوں نے خدا کی طرف سے بھیجا انعام سمجھ کر بہت احتیاط سے سنبھال لیا

 

دیکھتے ہی دیکھتے مولوی صاحب کے پاس، کلو کو رہتے تقریباً پانچ سال ہوگئے. لیکن مولوی صاحب کی آدھی دہائی کی شفقت بھی، دنیا کے دیئے زخموں پر پوری طرح سے مرہم نہیں رکھ سکی. میرا ابا، الله اس کو جنت نصیب کرے، کہا کرتا تھا کہ بعض زخم ہوتے ہی اتنے گہرے ہیں کہ گھاؤ سیدھا دل تک پہنچ جاتا ہے. کوئی بھی مرہم ہو، صرف اوپری زخموں کو مندمل کر سکتا ہے. اب ایسا مرہم کہاں سے ملے جو دل تک اثر کرے

 

دوست یار تو تھا نہیں اس کا کوئی. سب حقارت سے بلاتے تھے یا ایسے ظاہر کرتے تھے کہ دیکھا ہی نہیں. وہ بیچارہ اکیلا تھا، بہت زیادہ اکیلا. اتنا اکیلا کہ خود اس کو اس کی اپنی نظر سے دیکھا جاتا تو شاید نظر ہی نہیں آتا

 

بات صرف کلو کی عرفیت تک محدود رہ جاتی تو بہت بہتر ہوتا. لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا. ایک دن حسب معمول، اسکول کے میدان میں چھٹی کے بعد، کلو کو اس کے ہم جماعتوں نے گھیرا ہوا تھا. پہلے تو صرف فقرے چست ہوتے رہے لیکن پھر ملک غلام رسول کے بیٹے توقیر نے ازراہ تفنن، گردن پر رکھ کر ایسا جلتا ہوا ہاتھ مارا کہ کلو بیچارے کی روح تڑپ گئ. ویسے تو دبو سا لڑکا تھا لیکن اس دن نجانے اتنی ہمت کہاں سے آ گئ کہ اس نے جواب میں توقیر کے گال پر تھپڑ رسید کر دیا

 

کلو نے توقیر کو تھپڑ مارا تو ایک لمحے کو سب کو سانپ سونگھ گیا. کسی کو اس سے رد عمل کی امید ہی نہیں تھی. لیکن پھر جب توقیر نے غصے سے بے قابو ہوتے ہوئے، کلو کو لاتوں گھونسوں پر رکھ لیا تو باقی سب کو بھی ہوش آ گئ؛ اور وہ سب اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے. مار کٹائی میں کوئی نوکدار چیز لگنے سے کلو  کے سر سے خون بہنے لگا تو سب گھبرا کر پیچھے ہٹ گئے

 

میرا باپ آئے گا نا، تو تم سب کو دیکھ لے گا.’ کلو بیچارے نے بالوں میں خون کی چپچپاہٹ انگلیوں سے محسوس کرتے ہوئے آنسوؤں سے گلوگیر آواز میں کہا

‘باپ؟ وہ بھی تیرا؟’ توقیر نے تمسخرانہ انداز میں کہا. ‘تیرا کوئی باپ نہیں ہے کلو’

ہے! میرا باپ ہے. اور وہ آ کر تم سب کو دیکھ لے گا.’ کلو نے چیختے ہوئے آنسوؤں کی دھند کے اس پار سے احتجاج کیا

‘تیرا کوئی باپ نہیں ہے کلو.’ توقیر نے الفاظ کو چباتے ہوئے کہا. ‘تو حرامی ہے…..کلو حرامی’

 

اس دن سے کلو کا نام کلو حرامی پڑ گیا. میرے خیال میں یہ بچے بہت ظالم ہوتے ہیں. لیکن میرا باپ، الله اس کو جنت نصیب کرے، کہا کرتا تھا کہ انسان اور بندر کے بچے میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا. جو دیکھتے ہیں، وہ ہی کرتے ہیں. برائی دیکھتے ہیں تو برا سوچتے اور کرتے ہیں. اچھائی دیکھتے ہیں تو اچھا دیکھتے اور سوچتے ہیں

 

اس دن جب کلو واپس مولوی عبدل کریم کے حجرے میں پہنچا تو وہ سر جھکائے قران کی تلاوت میں مصروف تھے

‘مولوی صاحب؟’

.ہاں بیٹے؟’ کہو!’ انہوں نے اوپر دیکھ بغیر جواب دیا’

‘مولوی صاحب!’ کلو نے ہمت مجتمع کرتے ہوئے پوچھا. ‘یہ حرامی کیا ہوتا ہے؟’

.کیا؟’ مولوی صاحب نے چونک کر اوپر دیکھا’

 

کلو چپ چاپ ہاتھ باندھے کھڑا تھا. گھنگریالے چھدرے اور مٹی بھرے کالے بالوں سے، پسینہ، تیل اور خون بہ کر چہرے پر پھیل چکے تھے. اور ان کے اوپر سے آنسوؤں کی کاجل بھری لکیروں نے ایک عجیب سا نقشہ کھینچ دیا تھا. کپڑے لیرو لیر تھے اور جوتوں کا کوئی اتا پتا نہیں تھا

 

یہ کیا ہوگیا؟ کیسے ہوگیا؟ کس نے مارا ہے تمھیں میرے بچے؟’ مولوی صاحب نے بیقرار ہو کر پوچھا اور پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر، باہر مسجد کے صحن میں، وضو کی ٹینکی کے پاس لے گئے اور خون پسینہ صاف کرنے لگے

.یہ تو روز ہوتا ہے مولوی صاحب. بس آج کچھ زیادہ ہوگیا.’ کلو نے خالی خالی آنکھوں کے ساتھ کہا’

‘پھر بھی….کچھ بتاؤ تو سہی. کس نے اس بے دردی سے مارا ہے؟’

‘سب نے مارا ہے مولوی صاحب. لیکن آپ اس بات کو چھوڑیں. مجھیں یہ بتایئں کہ یہ حرامی کیا ہوتا ہے؟

.لاحول ولا قوتہ! یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟’ مولوی صاحب نے کچھ سٹپٹا کر کہا’

.بس آج سے میرا نام محلے کے لڑکوں نے کلو حرامی رکھ دیا ہے.’ اس نے بیچارگی سے سر جھکا کر کہا’

بکواس کرتے ہیں سب. تمہارا نام محمد بشیر ہے اور محمد بشیر ہی رہے گا.’ مولوی صاحب نے جلال میں آتے ہوئے کہا

اس نام سے کون بلائے گا مجھے مولوی صاحب؟’ کلو نے پوچھا. ‘ایک دن آپ بھی ماں کی طرح چلے جاؤ گے. پھر پیچھے سب مجھے کلو حرامی ہی بلایئں گے

.ہوں….!’ مولوی صاحب کوئی جواب نا دے سکے اور سر جھکا کر نیچے چبوترے پر بیٹھ گئے’

 

میرا باپ مجھے اور میری ماں کو چھوڑ کر کہاں چلا گیا تھا مولوی صاحب؟’ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کلو نے پوچھا

‘بھائی یہ تو تم محمد علی سے پوچھو. اس کو بہتر پتہ ہے. وہ تمھارے باپ کا گہرا دوست تھا’

 

اور یوں کلو یہ بات پوچھنے میرے پاس پلیٹ فارم نمبر چار پر چلا آیا

 

دیکھو بیٹے! تمھارا باپ تمھاری پیدائش کے فوری بعد کراچی چلا گیا تھا.’ میں نے اپنی لال پگڑی کے پلو سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا

‘آپ یہ بات اتنے یقین سے کیسے کہ سکتے ہیں؟’

‘وہ ایسے کہ میرے سامنے وہ یہیں، اسی پلیٹ فارم سے، تیز گام میں سوار ہوا تھا’

.واپس کب آئے گا؟’ کلو نے خالی خالی آواز میں پوچھا’

.جلدی آ جائے گا.’ میں نے بات ٹالتے ہوئے کہا’

.پھر میں یہیں پلٹ فارم پر اس کا انتظار کروں گا.’ اس نے ایک عجیب سے عزم سے کہا’

.جلدی سے میری مراد آج نہیں. آج تو تیزگام بھی ہو کر چلی گئ ہے.’ میں نے گھبرا کر کہا’

کوئی بات نہیں.’ اس نےمسکرا کر کہا. ‘تیزگام تو روز آتی ہے. میں بھی روز آجایا کروں گا. جب ابا آجائے گا، آپ مجھے دکھا دینا. میں یہیں مل لوں گا اس سے

.روز؟’ میں پریشان ہو گیا تھا’

ہاں روز چاچا محمد علی.’ اس نے پھر اسی پرعزم لہجے میں کہا. ‘آپ کا کیا خیال ہے کہ ابا مجھے دیکھ کر خوش ہوگا؟

‘ہاں بیٹے!’ میں نے جلدی سے سر ہلا کر کہا. ‘کیوں نہیں خوش ہوگا؟ بہت زیادہ خوش ہوگا’

 

ایک لمحے کو میرے دل میں آیا کہ اس کو حقیقت سے آگاہ کر دوں. لیکن پھر اس کے چہرے پر چھائی خوشی کی روشنی دیکھ کر میں کچھ نا بول سکا

آپ کے خیال میں وہ میرا کالا رنگ اور چیچک کے داغ دیکھ کر گھن تو نہیں کھائے گا؟’ کلو نے کچھ سوچ کر پوچھا

‘ارے نہیں میرے بچے! ماں باپ کو تو اولاد جیسی بھی ہو، اچھی اور پیاری ہی لگتی ہے’

.ہیں واقعی؟’ اس نے چھوٹے بچوں کی طرح مچل کر پوچھا تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا’

وہ آئے گا نا چاچا تو میں اس کے گلے لگ کر خوب روؤں گا. ماں کی بہت باتیں اس کو بتاؤں گا. پھر اس سے وہ ساری باتیں کروں گا جو میں نے آج تک کسی سے نہیں کیں. سب کی شکایت لگاؤں گا. پھر وہ میرا ماتھا چوم کر کہے گا….بشیر میں آ گیا ہوں نا. سب کو دیکھ لوں گا. ایک ایک کا انتظام کر دوں گا. بس اب تو فکر نا کر

وہ بولتا گیا اور میں اس کی باتیں سن کرچوری چھپے اپنے آنسو پونچھتا رہا

________________________________________

اس دن کے بعد، روز کلو تیز گام کی آمد سے پہلے پلیٹ فارم نمبر چار پر آ کر بیٹھ جاتا. ہر آتے جاتے مسافر کو غور کر دیکھتا اور پھر میری طرف تصدیق کیلئے دیکھتا. میرے نفی میں سر ہلانے پر بھی مایوس نہیں ہوتا اور ہجوم میں اگلے چہرے کو تلاش کرنے لگتا

 

لوگ انتظار کیوں کرتے ہیں؟ یہ ایک بڑا عجیب سوال ہے. میرا ابا، الله اس کو جنت نصیب کرے، کہا کرتا تھا کہ انتظار بعض اوقات ذات کا لنگر بن جاتا ہے. لوگ اس انتظار سے بندھے ساری ساری زندگی گزار دیتے ہیں. حالانکہ ان کے اندر کوئی چیز ہوتی ہے جو ان کو بتاتی رہتی ہے کہ انتظار کا کوئی فائدہ نہیں. جانے والے لوٹ کر کم ہی واپس آتے ہیں. لیکن انتظار کرنے والے پھر بھی انتظار کرتے رہتے ہیں. اسلئے کہ اس واحد امید سے ان کی ذات کا لنگر بندھا ہوتا ہے

______________________________________________

وقت اسی طرح گزرتا رہا. پانچ سال مزید گزر گئے. لیکن کلو کی روٹین میں کوئی فرق نہیں پڑا. صبح اسکول جاتا اور پھر واپس آ کر کھانا کھا کر، پلیٹ فارم نمبر چار پر آ جاتا اور تیزگام کا انتظار کرنے لگتا. پہلے پہلے تو وہ بھی تیزگام کے جانے کے بعد واپس چلا جاتا تھا. لیکن پھر آھستہ آہستہ اس نے، پلیٹ فارم پر مزید دیر کیلئے رکنا شروع کر دیا. وہیں ایک سائیڈ پر لکڑی کے بنچ پر، رات بھیگنے تک بیٹھا رہتا اور خاموشی سے آتے جاتے لوگوں کو تکتا رہتا

 

پہلے میں نے سوچا کے زبردستی کروں اور اسے جلدی مولوی صاحب کے پاس بھجوا دیا کروں، لیکن پھر ترس آ گیا. بیچارا بہت اکیلا تھا. پلیٹ فارم نمبر چار کی بھیڑ میں بھی بہت اکیلا. لیکن کم از کم اس کا دل لگا ہوا تھا

 

میرا ابا، الله اسے جنت نصیب کرے، کہا کرتا تھا کہ رات جتنی بھی لمبی اور تاریک کیوں نا ہو، اس کے بعد صبح ضرور آتی ہے. کلو کی زندگی کی کالی رات میں ایک دن صبح آ ہی گئ. اس کا باپ تو کبھی واپس نہیں آیا لیکن ایک دن اس کو، وہیں پلیٹ فارم نمبر چار پر کانو مل گئ

 

اس دن کلو حسب معمول بنچ پر بیٹھا لوگوں کی بھیڑ کو متلاشی نظروں سے ٹٹول رہا تھا. اچانک بنچ کی لرزش محسوس کی تو مڑ کر دیکھا. سامنے کانو بیٹھی، اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی

 

دیکھنے میں اور حلیے سے فقیرنی لگ رہی تھی. بالکل کلو جیسی ہی چمکتی سیاہ رنگت اور اسی کی طرح کے سیاہ گھنگریالے مگر میلے چیکٹ بال. ایک فرق ضرور تھا. اس کی ایک آنکھ نہیں تھی. جہاں آنکھ ہونی چاہئے، وہاں پر ایک بدنماء گڑھا تھا جس سے بدستور میلہ سا پانی بہ رہا تھا. لیکن کلو کو اس سے کراہت محسوس نہیں ہوئی. اس کی واحد آنکھ میں چمکتی شرارت اور اس کے لبوں پر مسکان تھی ہی اتنی پرکشش کہ کلو اپنی پوری کوشش کے باوجود نظریں نا ہٹا سکا

 

.اے! کیا دیکھ رہا ہے بٹر بٹر؟’ اس نے بدستور مسکراتے ہوئے پوچھا’

.میں کہاں دیکھ رہا ہوں؟ دیکھ تو تو رہی ہے مجھے.’ کلو نے گڑبڑا کر کہا’

ہاں تو….. تو ہے ہی اتنا پیارا. دیکھوں نا تو کیا کروں؟ نظر ہٹتی ہی نہیں، جتنی بھی کوشش کر لوں.’ اس لڑکی نے شوخی سے کہا

پیارا؟ میں پیارا ہوں؟’ کلو نے اچھنبے سے کہا. ‘لگتا ہے یا تو تو مزاق کر رہی ہے اور یا پھر تیری دوسری آنکھ بھی خراب ہے

ہائے! کبھی اپنے آپ کو میری نظر سے دیکھ.’ اس لڑکی نے ایک ہاتھ دل پر رکھا اور دوسرے سے کلو کے گال پر چٹکی کاٹتے ہوئے کہا

ہے! یہ کیا کرتی ہے؟’ کلو نے لال سرخ ہوتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا. ‘بےشرم! کوئی دیکھ گا تو کیا کہے گا؟

‘کون دیکھے گا؟’ اس نے بنچ پر پھیل کر بیٹھتے ہوئے کہا. ‘اس دنیا میں سب اپنی اپنی دھن میں مگن ہیں. کسی کو ہماری طرف دیکھنے کی فرصت نہیں

 

کلو نے ادھر ادھر دوبارہ دیکھا تو واقعی کسی کو ان دونوں کی پرواہ نہیں تھی

.تو آخر ہے کون اور کہاں سے آ گئ؟’ کلو نے پوچھا’

میں؟’ اس نے شوخی سے انگلی اپنے سینے پر رکھ کر پوچھا؛ اور پھر خود ہی کہنے لگی: ‘کانو نام ہے میرا اور یہیں سٹیشن پر رہتی ہوں، اسی پلیٹ فارم پر

‘یہ کانو کیسا نام ہوا؟’

‘ارے بدھو! کانی ہوں نا میں تو کانو نام پڑ گیا. جیسے تو کالا ہے اور تیرا نام کلو پڑ گیا’

.تجھے میرا نام بھی پتا ہے؟’ کلو نے حیرانگی سے پوچھا’

‘ہاں نا! مجھے سب پتا ہے’

.آنکھ کیسے ضایع ہوگئ تیری؟’ کلو کو آھستہ آہستہ اس لڑکی سے باتوں میں مزہ آ رہا تھا’

یہیں پلیٹ فارم پر باقی لڑکیوں سے لڑائی ہوگئ تھی. ایک نے ناخن مار کر آنکھ پھوڑ دی میری. لیکن میں نے بھی اس کے گال پر ایسا کاٹا کہ سوراخ ہوگیا وہاں.’ کانو نے ٹھٹا مار کر کہا

‘توبہ توبہ!’ کلو نے کانوں کو ہاتھ لگایا. ‘کیسی لڑکی ہے تو؟’

میں تو بس اب ایسی ہی ہوں.’ کانو نے کھڑے ہو کر کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر کہا. ‘قبول ہوں تو ٹھیک ورنہ میں چلی

‘ارے ارے!’ کلو نے بوکھلا کر پوچھا. ‘یہ قبول کا کیا مطلب؟’

 

فکر نا کر، نکاح نہیں پڑھوا رہی تجھ سے. دوستی کی بات کر رہی ہوں. تو مجھے اچھا لگتا ہے. اگر تجھے بھی میں اچھی لگی ہوں تو ٹھیک ورنہ میں اپنے رستے اور تو اپنے رستے. اچھا چل کل ملیں گے یہیں پر.’ یہ کر وہ لڑکی یہ جا اور وہ جا

 

کلو کیلئے یہ ساری صورت حال بہت انوکھی تھی. وہ کبھی کسی کو اچھا لگ سکتا ہے، یہ تو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا. اور وہ بھی ایک لڑکی کو؟ خیر آہستہ آہستہ حیرانگی کی جگہ ایک عجیب سی دھڑکتی ہوئی گرم سی خوشی نے لے لی

 

اس رات جب کلو واپس حجرے میں پہنچا تو وہ گنگنا رہا تھا

‘ارے بیٹا!’ مولوی صاحب نے حیران ہو کر پوچھا. ‘تمھیں کیا ہوگیا آج؟’

‘میں آج خوش ہوں مولوی صاحب، بہت زیادہ خوش’

ارے واہ! یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن ہمیں بھی تو بتاؤ خوشی کی وجہ.’ مولوی صاحب نے مسکرا کر پوچھا

.بس یہ ایک راز کی بات ہے.’ کلو نے شرماتے ہوئے کہا’

اچھا بھائی تمھاری مرضی. راز کو راز ہی رکھو. بس خوش رہو ہمیشہ. ایسے ہی مسکراتے گاتے رہو.’ مولوی صاحب نے دعا دیتے ہوئے کہا

 

اس رات کلو کو خوشی کے مارے نیند ہی نہیں آئ. ساری رات کانو کو خوابوں میں دیکھتا رہا. اگلے دن جب اسکول سے واپس آیا توآتے ہی ماں کا پرانا چھوٹا سا ٹین کا بکسہ نکالا اور اس میں کچھ تلاش کرنے لگا. پھر شاید اس کو وہ چیز مل ہی گئ. فٹا فٹ نہایا دھویا اور پھر چپکے سے مولوی صاحب کا عطر تھوڑا سا اپنے اوپر چھڑک کر سٹیشن چلا گیا

 

پلیٹ فارم نمبر چار پر اپنی بنچ پر جا کر بیٹھ گیا اور بےصبری سے ادھر ادھر کانو کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگا. لیکن وہ نظر نہیں آئ. مایوس ہو کر سر جھکایا ہی تھا کہ کسی نے پیچھے سے ہلکے سے اس کے بالوں کو جھٹگا دیا. مڑ کر دیکھا مگر کوئی نہیں تھا. سوچا شاید واہمہ تھا

 

.کلو!’ کسی نے اس کے کان میں گرم سی سرگوشی کی تو اسکے جسم میں پھریری سی دوڑ گئ’

چونک کر کھڑا ہوا تو بنچ کے پیچھے سے کانو نکل کر ہنسنے لگی

‘تو بدھو کا بدھو ہے. ہر جگہ دیکھ لیا مگر بنچ کے پیچھے نہیں دیکھا’

شرارت چھوڑ، یہ دیکھ میں تیرے لئے کیا لایا ہوں؟’ کلو نے سرخ چہرے کے ساتھ بڑے اشتیاق سے کہا اور پھر جیب سے ایک لال رنگ کا ربن نکال کر کانو کی طرف بڑھایا

 

ہائے ظالم! یہ تو بڑا پیارا ہے.’ کانو نے ربن ہاتھ میں پکڑ کر انگلیوں سے سہلایا. ‘اگر میرے لئے لایا ہے تو خود میرے بالوں میں باندھ دے اس کو

کلو نے ادھر ادھر دیکھا لیکن پہلے کی طرح کسی کو غرض نہیں تھی کہ بنچ پر معصوم محبت کیسے جڑ پکڑ رہی تھی. اس نے شرماتے ہوئے کانو کے کالے بالوں میں سرخ ربن باندھ دیا

 

.اچھا لگ رہا ہے؟’ کانو نے بالوں کو  جھٹکا دے کر کہا’

.ہاں تجھ پر تو  ہر چیز ہی اچھی لگتی ہے.’ کلو نے شرما کر کہا’

واہ رے میرے پیارے!’ کانو نے مسکراتے ہوئے کہا، ‘ایک ہی دن میں، میں تجھے اچھی بھی لگنا شروع ہوگئ؟

کلو کچھ نا بولا، بس سرخ ہوتے کان کھجانے لگ پڑا

 

یہاں سے کلو اور کانو کی عجیب سی محبت کی کہانی کی ابتداء ہوگئ. وہ دونوں روز لاہور ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر چار پر، چائے والے کے ٹھیلے کے پاس، اسی بنچ پر ملتے اور گھنٹوں گپیں لڑاتے رہتے. دوپہر سے شام اور پھر شام سے رات کب ہوتی، بالکل پتہ نہیں چلتا تھا. رات جب بہت بھیگ جاتی تو کلو بڑی مشکل سے بوجھل دل کے ساتھ واپس مولوی صاحب کے حجرے کی طرف چل پڑتا

 

کلو کی زندگی کی طویل رات کی صبح واقعی ہو چکی تھی. رفتہ رفتہ کانو اس کیلئے وہ سب کچھ بن گئ جس کی کلو کی زندگی میں کمی تھی. اب تو بلکہ تیزگام بھی آتی اور پھر چلی جاتی مگر کلو، کانو کے ساتھ باتوں میں مصروف رہتا

 

کلو نے کانو کے ساتھ وہ سب باتیں کیں جو وہ کسی اپنے کے ساتھ کرنا چاہتا تھا. اس نے کانو کو اپنی ماں کے بارے میں بتایا اور بلکہ ایک شام تو اسے لیکر ماں کی قبر پر بھی چلا گیا

 

کانو!’ کلو نے قبر پر سے گھاس پھونس اکھاڑتے ہوئے کہا، ‘آج ماں زندہ ہوتی تو تجھے میرے ساتھ دیکھ کر بہت خوش ہوتی

.تجھے ماں بہت یاد آتی ہے؟’ کانو نے پوچھا’

ہاں!’ کلو نے اثبات میں سر ہلایا. ‘ایک وہ ہی تو تھی جس کو میرا درد تھا. باہر مار کھا کر آتا تھا تو اس کی گود میں سر چھپا کر روتا تھا. وہ پیار کرتی تھی تو میرا سارا درد کہیں دور بھاگ جاتا تھا

 

کانو چپ چاپ بیٹھی اس کو سنتی رہی

 

تجھے پتہ ہے کانو؟’ کلو نے اس کی بغل میں کچی مٹی پر بیٹھتے ہوئے کہا. ‘ماں کو میرا کالا رنگ اور چیچک کے داغ بھی نظر نہیں آتے تھے. میں اس کو بہت پیارا لگتا تھا. وہ کہتی تھی الله کو کالا رنگ پسند ہے. اسلئے تو تجھے بھی الله نے کالا بنایا ہے

‘ہاں!’ کانو نے سر ہلایا. ‘لیکن الله کے بندوں کو کالا رنگ نہیں پسند. منحوس سمجھتے ہیں’

کانو! مجھے کلو کہلوانے سے تکلیف نہیں ہوتی.’ کلو نے گیلی آنکھوں سے کانو کی طرف دیکھ کر کہا. ‘لیکن جب یہ مجھے حرامی کہتے ہیں نا، قسم سے بڑی سخت درد ہوتی ہے یہاں دل میں

میں تیرا درد سمجھ سکتی ہوں کلو. دنیا بہت ظالم ہے، بہت زیادہ ظالم. لیکن میں ہوں نا تیرے پاس. دنیا کی ظالم دھوپ میں، تو میرا گھنی چھاؤں والا درخت اور میں تیرا درخت

 

کلو کچھ نہیں بولا. بس کانو کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں موند لیں. اس کی گود کی گرمی بالکل ماں کی گرمی جیسی تھی. وہیں پڑا پتہ نہیں کتنی دیر سسکتا رہا اور کانو اس کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں پھیرتی رہی

________________________________________

گرمیوں کے لمبے دن کب رفتہ رفتہ سردیوں کی لمبی راتیں بن گئے، پتہ ہی نہیں چلا. دسمبر کی ایک رات، جب بہت تیز بارش ہورہی تھی، کلو اٹھنے لگا تو کانو نے روک لیا

‘آج نا جا کلو، یہیں رک جا. ساری رات باتیں کریں گے’

اچھا میں بس یوں گیا اور یوں آیا.’ کلو نے کہا اور دوڑ کر گھر سے اونی چادر لے آیا. مولوی صاحب تو رضائی میں لپٹے سوئے پڑے تھے. ان کو کچھ خبر نا ہوئی

 

واپس آیا تو کانو سردی سے ٹھٹر رہی تھی. ادھر ادھر دیکھا. چائے والے کا سٹال کب کا بند ہوچکا تھا. کونے سے ترپال اٹھا کر اندر گھسا اور دودھ کی گرم دیگچی سے ایک پیالہ بھر کر نکال لایا. مگر دودھ پی کر بھی کانو کی کپکپاہٹ کم نہیں ہوئی

.کانو چل میں تجھے اپنے حجرے میں لے جاتا ہوں.’ کلو نے گھبرا کر کہا’

نہیں کلو! بس تو یہاں مجھے اپنے ساتھ لگا لے اور چادر میں لپیٹ لے. تیرے جسم کی گرمی ملے گی تو میں ٹھیک ہوجاؤں گی

 

اپنے ساتھ لگانے سے کانو کی سردی کم ہوئی تو کلو نے بھی سکھ کا سانس لیا. کپڑے تو اس کے بھی گیلے تھے لیکن اس کو اپنے سے زیادہ کانو کی فکر تھی

 

.کانو!’ کلو نے بلایا تو کانو نے مندھی آنکھیں کھول کر اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا’

‘کانو! مجھے کبھی کبھی لگتا ہے، تو میرا کوئی بہت خوبصورت خواب ہے’

 ‘ہاں تو پھر؟’ کانو نے پوچھا. ‘خواب دیکھنے میں کیا حرج ہے؟’

حرج تو کوئی نہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ابھی یہ خواب ٹوٹ جائے گا اور تو کہیں غایب ہوجائے گی.’ کلو نے افسردہ سے لہجے میں کہا

‘میں کہیں نہیں جاؤں گی. میں کبھی کہیں نہیں جاؤں گی کلو. ہمیشہ تیرے ساتھ رہوں گی’

‘ہمیشہ؟’ کلو نے پوچھا. ‘یہ ہمیشہ کتنا لمبا ہوتا ہے کانو؟’

ہمیشہ کا تعلق سانسوں سے ہوتا ہے کلو. اب سانسوں کے پرے کا تو وعدہ نہیں کیا جا سکتا. سانسوں کے پرے کون جانے کیا ہے؟’ کانو نے کلو کی گردن میں سر گھساتے ہوئے کہا. ‘میں تیری اور اپنی آخری سانس تک، تیرے ساتھ رہوں گی

.وعدہ؟’ کلو نے پوچھا’

پکا وعدہ!’ کانو کی ہلکی سی آواز آئ اور کلو نے ایک اطمینان بھری سانس لے کر کانو کے بالوں میں ناک گھسا دی

___________________________________________

صبح فجر کے بعد میں گھر سے ڈیوٹی کیلئے نکلا تو بارش بدستور ہورہی تھی. مسجد کے سامنے سے گزرا تو حجرے کے دروازے میں مولوی صاحب لالٹین اٹھاے پریشان کھڑے تھے

‘کیا بات ہے مولوی صاحب؟ خیر تو ہے؟

نہیں بیٹے! بشیر رات سے گھر نہیں آیا. فجر کی اذان دینے کیلئے اٹھا تو اس کی چارپائی خالی ملی. پتہ نہیں کہاں چلا گیا

آپ فکر نا کریں مولوی صاحب، وہیں سٹیشن پر ہوگا کہیں. بارش کی وجہ سے واپس نہیں آیا ہوگا. میں جا کر دیکھتا ہوں

.اچھا!’ مولوی صاحب کے چہرے پر کچھ اطمینان آیا اور میں سٹیشن کی طرف چل پڑا’

 

پلیٹ فارم نمبر چار پر پہنچا تو دیکھا چائے والے کے ٹھیلے کے ساتھ، بنچ کے ارد گرد کچھ لوگ جمع تھے. دھڑکتے دل کے ساتھ قریب گیا اور لوگوں کو ادھر ادھر کر کے دیکھا. وہاں بنچ پر چادر میں لپٹا کلو اکڑا ہوا پڑا تھا. ہونٹ اور ہاتھ پاؤں سب نیلے پڑ چکے تھے. میں نے ہلا جلا کر دیکھا مگر کلو کب کا اس کے حضور پہنچ چکا تھا، جس کو کالا رنگ بہت پسند ہے

 

میں نے کانو کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑایئں لیکن نظر نہیں آئ. کلوکے ساتھ چولی دامن کا ساتھ تھا. کہیں قریب ہی ہونی چاہیے تھی. پھر کچھ سوچ کر میں نے کلو کے اوپر سے چادر کھینچ کر اتاری. اس کی گود میں کانو بھی اکڑی پڑی تھی اور اس کے گلے میں بندھا سرخ ربن چمک رہا تھا

 

پتا نہیں اس لڑکے کو اس منحوس کالی اور کانی بلی میں کیا نظر آتا تھا؟ ہر وقت اسی کے ساتھ چپکا رہتا تھا.’ چائے والے نے کہا تو میں نے اس کی طرف گھورا

‘چلو اب کیا فکر کرنی؟ اب تو دونوں منحوس ہی چلے گئے’

 

میں نے دوبارہ نم آنکھوں سے دونوں کے اکڑے ہوئے جسموں کی طرف دیکھا

 

ویسے تو ہر کوئی اس دنیا میں اکیلا آتا ہے اور اکیلا جاتا ہے لیکن کچھ بدنصیب ایسے ہوتے ہیں جو دنیا میں رہتے بھی اکیلے ہی ہیں. میرا ابا، الله اس کو جنت نصیب کرے، کہا کرتا تھا……….لیکن آپ سے کیا پردہ. میرا ابا تو میری پیدائش سے بھی دو ماہ پہلے فوت ہوگیا تھا

 

11 thoughts on “کلو حرامی اور پلیٹ فارم نمبر چار

  1. Someone “Special” once wrote…
    “Love is Faith, and Faith is Forever”.

    “Forever” as per experience in my opinion… my friend, is an oxymoron at best.

    Because in reality… Forever is but just a special limited moment/ time frame, that for the lucky ones lasts a lifetime.

    There You have it… The anchor You were talking about… However beautiful and heart-warming it might be, it is nevertheless a heavy cross to bear.

    I don’t know if it is good or bad, but I feel that this at times painful anchor makes You… A better person, more caring and forgiving, more humane even…

    Furthermore, it gives You an added special sort of tolerance and patience and an extra effective radar for all the mindless bull… people around You, heartlessly throw Your way, in spite of You seeing through all of them and their games… As clear as day… Crystal clear..!!

    Liked by 1 person

  2. A master class after a long time. I was thinking yesterday about it being a long time since I read a long story by you. Never knowing you were busy polishing a gem.
    Sir, a great story after a long time, great and very sad as usual, but I love your usual and have yet to find a similar output in recent writers.

    Liked by 1 person

  3. What a story fully emotions and clearly shed light on bullying in our society. For Muhammad Bashir, Kanoo was a sweet spot and like a breeze in summer.
    You made my day Sheryar Khawar.

    Liked by 1 person

Leave a Reply to Shehryar Khawar Cancel reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s