آغوش مہربانی

dvhpfgzxuaaxuy3

 

 

‘لوٹ کر آگئ ہو واپس؟’ فقیر نے مسکرا کر پوچھا’

ہاں!’ عایشہ نے سر جھکا کر اور سسک کرکہا. ‘آگئ ہوں مگر تمھیں ہماری محبت کا واسطہ، ہمارے درمیان کے خوبصورت تعلق کی قسم، اب مجھے لوٹ جانے کا نا کہنا. اب میں بہت تھک چکی ہوں

فقیر نے نرمی سے عایشہ کے جھریوں بھرے گالوں سے آنسو پونچھے اور اور نہایت پیارسے اس کے چاندی بالوں کو سہلایا

‘نہیں کہوں گا. اب آگئ ہو تو یہیں میرے پاس ہی رہ جاؤ’

لیکن وہ…….!’ عایشہ نے کچھ سوچ کر کہا. ‘وہاں….ٹرین کے اس طرف میرا بیٹا بیٹھا میرا انتظار کر رہا ہے. میں واپس نہیں جاؤں گی تو وہ بہت پریشان ہو گا

‘کچھ نہیں ہوگا.’ فقیر نے اپنے بازو پھیلائے. ‘آجاؤ شاباش! یہ پریشانی کا نہیں آرام کا وقت ہے’

عایشہ کچھ لمحے فقیر کی آنکھوں میں جھانکتی رہی. وہاں صرف محبت تھی. پھر اس نے قدم بڑھائے اور فقیر کے سینے سے لگ گئ. وہاں بہت سکون تھا. عایشہ کو لگا کہ جیسے وہ تپتے صحرا میں صدیوں چلنے کے بعد یکایک کسی مہربان درخت کی گھنی چھاؤں میں آن پہنچی ہو. اس نے سکون اور اطمینان کا ایک لمبا سانس بھرا اور ماں کی گود میں منہ چھپائے بچوں کی طرح، آنکھیں موند لیں

___________________________________

عایشہ کی فقیر سے پہلی ملاقات ہوئی تھی جب وہ تقریباً اٹھائیس تیس سال کی بھرپور جوان لڑکی تھی. سفید پوش خاندان سے تعلق تھا اور ایک عام سی کمپنی میں اکاونٹ مینیجر کی نوکری کرتی تھی مگر بےپناہ زہین، حساس اور تخلیقی تخیل کی مالک تھی. بچپن سے ہی اپنی مرضی کرنے کی اور اپنی مرضی کی راہ پر چلنے کی عادت تھی

وہ بہت عرصے سے پریشان تھی اور پریشانی کی وجہ شادی کا نا ہونا ہرگز نہیں تھا. شادی کے نام سے نفرت تھی اسے. غلامی اور بوجھ سمجھتی تھی وہ شادی کو. پریشانی کی اصل وجہ اس کے اندر کی بےسکونی تھی. ہر وقت دل و دماغ میں ایک عجیب سا انتشار اور اضطراب برپا رہتا تھا

پھر عایشہ کو کسی نے فقیر کے بارے میں بتایا. اور وہ چل پڑی اس کی تلاش میں. سنا تھا کینٹ سٹیشن کے پلیٹ فارم پر بیٹھتا ہے. وہاں پہنچی، بہت ڈھونڈا مگر نہیں ملا. اگلے دن پھر پہنچ گئ. ادھر ادھر دیکھتی رہی مگر فقیرنماء کوئی انسان دور دور تک نہیں دیکھا. جو دکھے، وہ سب کے سب مانگنے والے تھے، دینے والے نہیں. ایک ہفتہ یہ ہی سلسلہ چلتا رہا مگر وہ دھن کی پکی تھی، لگی رہی ڈھونڈنے

___________________________________

ساتویں دن مایوس ہو کر لوٹنے ہی لگی تھی کہ کسی نے آواز دی

‘کہاں جا رہی ہو عایشہ؟’

‘جی…..؟’ وہ چونک کر مڑی’

وہاں پاس ہی برگد کے پیڑ تلے رکھے لکڑی اور لوہے کے پرانے بنچ پر، ایک آدمی سکون سے، ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے، سگریٹ کے کش لگا رہا تھا اور اسی کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا

‘آپ نے……..!’ عایشہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا. ‘آپ نے مجھے آواز دی؟’

.تمہارا نام عایشہ ہی ہے نا؟’ اس نے ایک معصوم شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا’

.ہاں جی!’ عایشہ نے بیوقوفوں کی طرح اثبات میں سر ہلایا’

تو بس پھر تمھیں ہی آواز دی تھی. آجاؤ یہاں میرے پاس بیٹھو آ کر.’ اس شخص نے ہتھیلی سے بینچ کو تھپتھپا کر کہا

عایشہ ایک لمحے کو کھڑی سوچتی رہی. پھر ایک نظر اس عجیب وغریب شخص پر ڈالی اور جا کر بیٹھ گئ اس کے ساتھ

.کون ہیں آپ اور میرا نام کیسے جانتے ہیں؟’ عایشہ نے پوچھا’

میں…..؟’ اس شخص نے بدستور مسکراتے ہوئے پوچھا. ‘میں وہ ہی ہوں جس کو تم ڈھونڈ رہی تھی اتنے دنوں سے

.کون….؟’ عایشہ نے سٹپٹا کر پوچھا’

.فقییییر!’ اس شخص نے فقیر کی ی کو لمبا کھینچتے ہوئے کہا’

فقیر؟’ عایشہ نے حیرانی سے پوچھا اور اوپر سے نیچے تک اس شخص کا جائزہ لے ڈالا جو کہیں سے فقیر نہیں لگتا تھا

وہ درمیانی عمر اور قدرے بھاری جسم کا سانولا سا شخص تھا. ہلکی ہوا میں بھی پریشان، بیحد گھنے بھورے مائل کالے بال تھے جن میں سے کہیں کہیں چاندی جھلک رہی تھی. پتلی بھنووں تلے آنکھیں کسی مہنگے برانڈ کے دھوپ کے چشمے پیچھے چھپی ہوئی تھیں اور داڑھی مونچھ کا نام و نشان بھی کہیں نہیں تھا. ہلکی سرمئی زین کی پتلون اور گہرے نیلے رنگ کی کاٹن کی قمیض میں ملبوس تھا جس کے اوپر کا ایک بٹن بڑی لاپرواہی سے کھلا ہوا تھا اور پاؤں میں چمڑے کے بھاری اور خاکستری جوتے تھے

.آپ فقیر ہیں؟’ عایشہ نے حیرانی سے پوچھا’

.لوگ اسی نام سے بلاتے ہیں مجھے.’ اس نے تائید میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا’

‘آپ کو میرا نام کیسے معلوم ہے؟’

‘جن کا انتظار ہوتا ہے، ان کا نام تو معلوم ہوتا ہی ہے’

‘آپ کو میرا انتظار تھا؟’ عایشہ نے چونک کر پوچھا. ‘کب سے اور کیوں؟’

سوال بڑا چھوٹا سا ہے تمہارا.’ فقیر نے سوچتے ہوئے کہا. ‘لیکن اس کا جواب بہت لمبا ہے. انڈرومیڈہ گیلکسی کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک کے سفر سے بھی زیادہ لمبا

‘پھر بھی….!’ عایشہ نے بے چین ہو کر کہا. ‘کوئی تو چھوٹا جواب ہوگا اس کا’

دیکھو وقت ایک بہت دریا ہے. جب دو روحوں کو اس دریا کے کنارے ملنا ہوتا ہے تو وہ ایک دوسرے کا انتظار کرتی ہیں. اور جیسے تم میرا انتظار کر رہی تھیں، میں بھی تمہارا منتظر تھا

ہاں شاید!’ عایشہ نے دور گم ہوتی چمکتی پٹریوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا. ‘شاید میں واقعی کسی کا ِانتظار کر رہی تھی

_________________________________

اس دن کی وہ پہلی ملاقات، ملاقاتوں کے ایک لمبے سلسلے کی ابتداء بن گئ. جب کبھی عایشہ کا دل دنیا سے تنگ پڑتا، وہ اٹھ کر کینٹ سٹیشن کے پلیٹ فارم پر چلی آتی اور گھنٹوں فقیر کے ساتھ نجانے کن کن موضوعات پر گپیں لگاتی رہتی

پتہ نہیں ان دونوں کے علم میں اس رشتے سے کوئی اضافہ ہوا تھا یا نہیں لیکن ایک بات ضرور تھی. عایشہ کی تمام پریشانیاں ایک ایک کر کے ختم ہوتی جا رہیں تھیں

یہ تم اتنا منہ لٹکائے کیوں بیٹھی رہتی ہو؟ اداس اور پریشان کیوں نظر آتی ہو؟’ دوسری ملاقات میں ہی فقیر نے عایشہ سے پوچھا

‘پتہ نہیں..’ عایشہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا. ‘میں خوش رہنا چاہتی ہوں پر رہ نہیں پاتی’

.ایسا کرو…….’ فقیر نے اپنے دھاتی سگریٹ کیس سے سگریٹ نکالتے ہوئے کہا’

وہ چمکتا دمکتا سگریٹ کیس عایشہ کو بڑا اچھا لگتا تھا. غالباً تانبے کا بنا تھا اور اس پر قدیم مصری تصویری زبان میں بیشمار نقش و نگار بنے ہوئے تھے. اور پھر عایشہ کو فقیر کا سگریٹ نکالنا بھی اچھا لگتا تھا. وہ سگریٹ کیس کو احتیاط کے ساتھ کھولتا. پھر بہت سے سگریٹوں میں سے کوئی ایک دو انگلیوں سے پکڑ کر باہر نکالتا. تھوڑی دیر پیار سے اسے دیکھتا اور پھر ہونٹوں میں دبا کر شعلہ دکھاتا. پوری کی پوری ترتیب تھی جو ہر تھوڑی دیر بعد نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ دہرائی جاتی

‘تم ایسا کیا کرو…….’ فقیر نے کہا. ‘اپنی تمام تر اداسیاں اور پریشانیاں مجھے دے دیا کرو’

‘آپ کو؟’ عایشہ نے چونک کر پوچھا. ‘آپ ان کا کیا کریں گے بھلا؟’

اداسیاں اور پریشانیاں بھی خوشیاں ہی ہوتی ہیں. وہ خوشیاں جو استمعال اور وقت کے ساتھ گرد میں اٹ کر تھوڑی میلی ہو جاتی ہیں. مجھے دے دو گی تو میں انہیں محبت کے نیم گرم پانی سے دھو کر دوبارہ سے چمکتی دمکتی خوشیاں بنا دوں گا. تمھیں واپس دوں گا تو رکھ لینا

.اور یہ آپ کب تک کرتے رہیں گے؟’ عایشہ نے مسکرا کر پوچھا’

جب تک تمھیں ضرورت ہے یا جب تک تمھیں خود خوشیاں بنانے کا طریقہ سمجھ میں نہیں آ جاتا.’ فقیر نے ہوا میں دھویں کا مرغولہ چھوڑتے ہوئے کہا

.اتنا وقت ہے آپ کے پاس؟’ عایشہ نے ہنس کر اور ہاتھ سے مرغولے کو بکھیرتے ہوئے پوچھا’

تمھارے لئے وقت نکالنا میرے لئے، اپنے لئے وقت نکالنے جیسا ہے. فقیر نے عایشہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا. ‘ہم دونوں خدا کے عظیم تجربے کا حصہ ہیں. ہم اپنا وقت اپنے لئے یا دوسروں کیلئے نہیں نکالتے. ہم اپنا وقت اس تجربے کیلئے اور خدا کیلئے نکالتے ہیں

‘ہنہ!’ عایشہ نے جواب دیا. ‘جب خدا ہمارے لئے کچھ نہیں کرتا تو ہم خدا کیلئے کچھ کیوں کریں؟’

‘ہاں تم بھی صحیح کہتی ہو لیکن اس کو ایک الگ رخ سے دیکھنے کی ضرورت ہے’

فقیر نے مسکرا کر کہا. اس کو بہت اچھا لگتا تھا جب لوگ اختلاف کرتے تھے کیونکہ اس کے نزدیک اظہار اختلاف اس بات کی نشانی تھا کہ لوگ اپنی ایک الگ سوچ رکھتے ہیں

.کونسا رخ؟’ عایشہ نے پوچھا’

ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خدا ہم سے الگ کوئی اور ہستی نہیں بلکہ ہمارا حصہ ہے اور ہم خدا کا حصہ ہیں. اصل میں خدا ایک کائناتی شعور کا نام ہے. اور یہ شعور ہم سب سے مل کر بنا ہے اور ہم سب اس شعور کو وسعت دینے کے پابند ہیں. ہماری تخلیق اسی لئے کی گئ تھی کہ ہم اس شعورکو وسعت دینے میں اپنا کردار ادا کریں

اچھا تو ہم کیسے اس کائناتی شعور کو وسعت دے سکتے ہیں؟ اور وہ بھی اس گندے مندے پلیٹ فارم پر بیٹھے ہوئے؟’ عایشہ نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا

‘ہا ہا!’ فقیر نے ایک چھوٹا سا قہقہہ لگایا. ‘بھئی یہ تم ہر وقت غصے میں کیوں رہتی ہو؟’

اچھا خیر! ہمارے لئے کائناتی شعور کو وسعت دینا بہت آسان ہے. اس کیلئے ہمیں صرف زندہ رہنا ہے اور اپنی زندگی جینی ہے. ہمارا ہر تجربہ، ہر احساس، ہر دکھ اور ہرغم، کائناتی شعور میں اضافے کا باعث بنتا ہے

.ہنہ! بنتا ہوگا لیکن مجھے کیا؟’ عایشہ نے کندھے اچکا کر کہا تو فقیر کچھ غصے میں آ گیا’

دیکھوعایشہ…..!’ اس نے تیوری چڑھاتے ہوئے ٹھنڈے برفیلے لہجے میں کہا. ‘ہم انسانوں کو غرور زیب نہیں دیتا. ہمیں صرف عاجزی زیب دیتی ہے. عاجزی ہماری مرضی نہیں ہے. عاجزی ہمارا فرض ہے

اور فقیر کا ٹھنڈا برفیلا لہجہ ہمیشہ عایشہ کو حواس میں واپس لے آیا کرتا تھا. لیکن وہ بیچاری اپنی عادت سے مجبور تھی. کہیں نا کہیں پھر پھسل جاتی تھی

______________________________________

پھر ایک دن عایشہ کی بات پکی ہوگئ. لڑکا مڈل کلاس کاروباری خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور شریف انسان تھا. عایشہ نے بہت احتجاج کیا مگر گھر والوں نے ایک نہیں مانی

 

.میری بات پکی ہوگئ ہے.، عایشہ نے تقریباً روتی ہوئی آواز میں فقیر کو مطلع کیا’

‘ہاہاہاہاہا!’ فقیر نے فلک شگاف قہقہہ لگایا. ‘تو یہ تو خوشی کی بات ہے اور تم رو رہی ہو؟’

‘لیکن میں شادی نہیں کرنا چاہتی’

.تو پھر نا کرو.’ فقیر نے کمال بے نیازی سے کہا’

‘لیکن میری ماں بیمار ہے.’ اس نے روہانسی ہو کر کہا. ‘اگر شادی سے انکار کیا تو وہ مر جائے گی’

‘تو پھر کر لو شادی.’ فقیر کی بے نیازی اپنی جگہ قائم تھی’

‘آپ عجیب آدمی ہیں. جو میں کہتی ہو وہ کہتے ہیں کر لو. کسی ایک بات پر قائم رہیں نا’

دیکھو عایشہ! شادی کرنا یا نا کرنا، دونوں تمھاری مرضی پر ہے. یہ دونوں دو مختلف راستے ہیں. ان پر چلنے کی اپنی اپنی قیمت ہے. جس راہ کی قیمت تم ادا کر سکتی ہو، وہ راہ اختیار کر لو. مرضی بھی تمھاری، قیمت بھی تمھاری. لیکن جب ایک راہ اختیار کر لو تو اس پر آخر تک چلو. بیچ میں مت چھوڑو ورنہ سو پیاز بھی کھاؤ گی اور سو جوتے بھی

کیا ………؟’ عایشہ نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا. ‘کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں ہمیشہ یہیں آپ کے پاس بیٹھی رہوں؟

ہوں…!’ فقیر نے ہنکارا بھرا. ‘میں اور تم زندگی کا راستہ نہیں ہیں. ہم یہاں بیٹھے صرف وقت کا ایک لمحہ ہیں. ایک ثانیے میں زندہ ہیں. تمھاری زنگی کا راستہ الگ ہے. میں صرف تمھاری زندگی کے راستے پر ایک گھنا چھتناور درخت ہوں، جس کی چھاؤں میں تم کچھ دیر کو سستا لیتی ہو

لیکن میرا دل کہیں اور نہیں لگتا.’ عایشہ نے مچل کر کہا. ‘میرا دل یہیں لگتا ہے، اس پلیٹ فارم پر، آپ کے پاس اس  درخت کے نیچے

میں سمجھتا ہوں.’ فقیر نے پیار سے عایشہ کا سر تھپتھپایا. ‘یہ درخت اور اس کی محبت بھری چھاؤں ہمیشہ تمھارے لئے یہیں موجود رہے گی. جب بہت تھک جایا کرنا تو آ جانا. تھوڑی دیر سستا لینا اور پھر اپنی راہ پر چل دینا

مگر میں آپ کو تھوڑی دیر سستانے کیلئے استمعال نہیں کرنا چاہتی.’ عایشہ نے گلوگیر آواز میں کہا. ‘میں آپ کو اپنی منزل کی طرح دیکھنا چاہتی ہوں

جب بہت تھک جاؤ گی اور زندگی کا تجربہ ختم ہونے کو ہوگا تو آ جانا. میں تمھیں یہیں بیٹھا ملوں گا. پھر ہمیشہ میرے پاس رہنا

____________________________________

پھر کچھ مزید مہینے گزرے تو عایشہ کی شادی کی تاریخ بھی مقرر ہوگئ اور وہ فقیر کو خدا حافظ کہنے پلیٹ فارم پر آئ. اس دن فقیر بھی اپنے مخصوص موڈ میں نہیں تھا. اس کے چہرے پر بھی اداسی چھائی ہوئی تھی

مجھے عمر قید بامشقت کی سزا سنا دی گئ ہے اور میں جا رہی ہوں.’ عایشہ نے بےبسی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا

فقیر تھوڑی دیر کچھ نہیں بولا. بس خاموش بیٹھا اپنے سنہری سگریٹ کیس کو انگلیوں میں گھماتا رہا. پھر کچھ سوچ کر عایشہ کی طرف دیکھا

جو لوگ اندر سے آزاد ہوتے ہیں، وہ کبھی قید نہیں کئے جا سکتے. اگر تم اپنی آزادی پر یقین نہیں رکھو گی تو کوئی اور بھی نہیں رکھے گا. اگر خود قید ہونا چاہو گی تو دنیا زنجیریں لے کر دوڑے گی. اور پھر تم تو خوش قسمت ہو، تمھارے پاس سستانے کیلئے یہ درخت موجود ہے. دنیا میں زیادہ تر تو ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی زندگیوں کے تپتے ہوئے اور لق ودق صحراؤں میں بالکل اکیلے ہوتے ہیں

.مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا میری زندگی کا کیا بنے گا؟’ عایشہ نے سر جھکا کر مایوسی سے کہا’

دیکھو عایشہ…..!’ فقیر نے اس کے کندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھا. ‘ہم اپنی قسمت کا تعین نہیں کر سکتے تو کیا ہوا؟ زندگیوں کی تصویر خود بنا سکتے ہیں اور خود اس میں رنگ بھرسکتے ہیں. اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہمیں زندگی میں کیا ملتا ہے یا کیا نہیں. فرق پڑتا ہے تو صرف اس بات سے کہ ہم اپنی زندگی کیسے گزارتے ہیں

وہ دونوں بہت دیر خاموش بیٹھے رہے. ٹرینیں آتی جاتی رہیں. مسافر اترتے چڑھتے رہے. پلیٹ فارم کبھی آباد اور کبھی ویران ہوتا رہا مگر ان دونوں سے کسی کو کوئی غرض نہیں تھی. وقت کے اس ثانیے میں وہ دونوں اکیلے تھے اور صرف وہ دونوں، وقت کے اس ثانیے کے مالک تھے

پاس کی مسجد سے مغرب کی اذان بلند ہوئی تو عایشہ چونک کر کھڑی ہوگئ

‘بہت دیر ہوگئ. مجھے اب چلنا چاہئے’

فقیر کچھ نا بولا. بس بیٹھے بیٹھے اثبات میں سر ہلا دیا

.مجھے ڈر لگتا ہے.’ عایشہ نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا’

.کس بات سے؟’ فقیر نے نرمی سے پوچھا’

مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں آپ مجھے بھول نا جایئں. آپ کی چھاؤں میں بیٹھنے والے تو بہت ہوں گے. مجھے ڈر لگتا ہے کہ ان سب کے چہروں میں میرا چہرہ کہیں گم نا ہو جائے

بات یہ ہے عایشہ کہ جو لوگ ہمیں بھول جاتے ہیں، وہ ہمارے قابل ہی نہیں ہوتے. وہ ہی لوگ ہمارے قابل ہوتے ہیں جو ہمیں یاد رکھتے ہیں اور ہمیشہ اپنے دروازے ہمارے لئے کھلے رکھتے ہیں

______________________________________

عایشہ کی شادی کو بہت سال بلکہ بہت دہایاں گزر چکی تھیں. الله نے اولاد بھی دی اور ان کی بہترین پرورش کا موقع بھی دیا. اولاد جوان ہوگئ اور پھر اولاد کی بھی اولاد ہوگئ

خاوند کی وفات کے بعد عایشہ اپنے بڑے بیٹے کے ہاں اٹھ آئ. بیٹا بہت سعادت مند تھا اور بہو بھی خدمت کرنے والی تھی. کوئی تکلیف نہیں تھی لیکن عایشہ پھر بھی بے کل سی رہنے لگی تھی. بہت دل لگانے کی کوشش کی لیکن نہیں لگا

پھر ایک سردیوں کی دوپہر جب بے کلی حد سے بڑھی تو عایشہ نے بیٹے کو بلایا

‘مجھے ایک جگہ لے جاؤ گے؟’

‘ضرور اماں!’ اس نے سر ہلا کر کہا. ‘جہاں کہو گی لے جاؤں گا’

‘پھر مجھے کینٹ سٹیشن لے چلو’

‘کینٹ سٹیشن؟’ بیٹے نے حیرت سے پوچھا. ‘کہاں جا رہی ہو ہمیں چھوڑ کر؟’

‘جا کہیں نہیں رہی.’ عایشہ نے دوپٹہ لپیٹتے ہوئے کہا. ‘بس وہاں کوئی ہے جس سے مجھے ملنا ہے’

تو یہیں بیٹھا رہ چائے والے کے پاس. میں دوسری طرف کے پلیٹ فارم پر مل کر ابھی آتی ہوں.’ عایشہ نے بیٹے کو کہا تو وہ گھبرا گیا

‘اکیلی کیوں جاؤ گی اماں؟ میں بھی چلتا ہوں نا ساتھ’

نہیں میں اکیلی ہی جاؤں گی.’ عایشہ نے بیٹے کی پیشانی چومتے ہوئے کہا. ‘تو فکر نا کر. میں کوئی بچی تھوڑی ہوں جو گم ہو جاؤں گی

__________________________________

عایشہ کا بیٹا چپ چاپ بنچ پر بیٹھا ماں کو سیڑھیاں چڑھ کر لوہے کے پل پر چلتا دیکھتا رہا. پھر جب وہ دوسری طرف کی سیڑھیاں اتر رہی تھی تو اس نے ماں کو مسکرا کر کسی کی طرف ہاتھ ہلاتے دیکھا. اس کی نظروں نے ماں کے اشارے کا تعاقب کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے کے وہ کچھ دیکھ سکتا، کراچی جانے والی ٹرین پلیٹ فارم پر داخل ہو کر، اس کی نظروں کے سامنے رکاوٹ بن گئ

______________________________

فقیر وہیں برگد کے درخت کے نیچے بنچ پر، اپنے مخصوص انداز میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا

.لوٹ کر آگئ ہو واپس؟’ فقیر نے مسکرا کر پوچھا اور پھر اٹھ کر کھڑا ہوگیا’

ہاں!’ عایشہ نے سر جھکا کر اور سسک کرکہا. ‘آگئ ہوں مگر تمھیں ہماری محبت کا واسطہ، ہمارے درمیان کے خوبصورت تعلق کی قسم، اب مجھے لوٹ جانے کا نا کہنا. اب میں بہت تھک چکی ہوں

فقیر نے نرمی سے عایشہ کے جھریوں بھرے گالوں سے آنسو پونچھے اور اور نہایت پیارسے اس کے چاندی بالوں کو سہلایا

‘نہیں کہوں گا. اب آگئ ہو تو یہیں میرے پاس ہی رہ جاؤ’

لیکن وہ…….!’ عایشہ نے کچھ سوچ کر کہا. ‘وہاں….ٹرین کے اس طرف میرا بیٹا بیٹھا میرا انتظار کر رہا ہے. میں واپس نہیں جاؤں گی تو وہ بہت پریشان ہو گا

‘کچھ نہیں ہوگا.’ فقیر نے اپنے بازو پھیلائے. ‘آجاؤ شاباش! یہ پریشانی کا نہیں آرام کا وقت ہے’

عایشہ کچھ لمحے فقیر کی آنکھوں میں جھانکتی رہی. وہاں صرف محبت تھی. پھر اس نے قدم بڑھائے اور فقیر کے سینے سے لگ گئ. وہاں بہت سکون تھا. عایشہ کو لگا کہ جیسے وہ تپتے صحرا میں صدیوں چلنے کے بعد یکایک کسی مہربان درخت کی گھنی چھاؤں میں آن پہنچی ہو. اس نے سکون اور اطمینان کا ایک لمبا سانس بھرا اور ماں کی گود میں منہ چھپائے بچوں کی طرح، آنکھیں موند لیں

___________________________________

عایشہ کا بیٹا بہت دیر ماں کا انتظار کرتا رہا. پھر جب کراچی جانے والی ٹرین رخصت ہوئی تو اس نے دیکھا کے مخالف پلیٹ فارم پر، برگد کے درخت کے ارد گرد بہت سے لوگ جمع تھے اور عایشہ کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا. وہ بیچارا گھبرا کر دوڑا اور سیڑھیاں پھلانگتے دوسری طرف جا پہنچا

لوگوں کا ہجوم برگد کے درخت کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے کر کھڑا تھا. ادھر ادھر جگہ بنا کر وہ اندر پہنچا تو دیکھا کہ اس کی ماں درخت کے تنے کو اپنے بازوؤں میں سمائے ساکت کھڑی تھی

.کیا کرتی ہو اماں؟’ عایشہ کے بیٹے نے کچھ شرمندہ ہوتے ہوئے ماں کے شانے پر ہاتھ رکھا’

ماں کا بے جان وجود سرک کر وہیں تنے کی جڑوں میں ڈھیر ہوگیا. بیٹے نے جھک کر دیکھا. ماں کے گالوں پر آنکھوں سے پھسلے دو آنسو لکیریں بنا رہے تھے اورچہرے پر ایک سکون آمیز مسکراہٹ رقصاں تھی

6 thoughts on “آغوش مہربانی

  1. Yes, boundless love has to be like this. Otherwise it is not love at all, but something temporary.
    I suppose, the story could have ended in the after life, which it did in a way. As as we are mostly too proud to go back in this life, especially once time, the great healer has passed considerably.
    So the events of this story may not come to pass in reality, but are always possible in the realm of love, which is timeless and will transcend this life.
    I wish both a union in the timeless era, when the egos, responsibilities and time itself will not be a barrier, and God will ask his still miserable children what He can do to make them more Happy.

    Liked by 1 person

    • You are familiar with that theory…… For each imagination of ours, an alternate universe is created where that imagination becomes a reality. I believe that’s what we do. We create alternative universes where we are the gods and architects of our own alternative realities

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s