درد کا آخری شہر

d1xre41-5d4d0d76-7227-4c76-bad1-bc1116b7a7c2

لا حاصل تمنا اور

ناممکن تعبیر کے درمیان

کہیں دور

ایک اندھیری وادی میں

درد کا آخری شہر

چپ چاپ سے بستا ہے

 

اس شہر کے

سب کیواڑ مقفل ہیں

حسرتوں کے جنازے

قطار اندر قطار

چار کندھوں کے

بے سود انتظار میں

پڑے سڑتے ہیں

 

درد اس شہر کی

گہری اتھاہ بنیادوں میں

کالے پارے کی مانند

کپکپاتا اور سسکتا

خاموشی سے بہتا ہے

کوئی احتجاج نہیں

کوئی شکوہ شکایت بھی نہیں

بس خاموشی سے بہتا ہے

 

درد کے آخری شہر کی

کوئی فصیل نہیں

کوئی واضح حد بندی بھی نہیں

لہٰذا جھکے کندھوں

اور گھسٹتے قدموں کے ساتھ

ہر دن، ہر ساعت، ہر لمحے

کارواں چلے آتے ہیں

آتے ہیں

شہر میں داخل ہوتے ہیں

اور بس یہیں کے ہو رہتے ہیں

 

درد کے آخری شہر کے

بہت سے مسافر ہیں

کچھ آگہی کے ہاتھوں

مجبور اور بےکس

کچھ مایوسی کے ہاتھوں

ناکام اور بےبس

بہت سے مسافر ہیں

کہ درد جن کی منزل ہے

اور درد ان کی انکہی آرزو

 

درد کے آخری شہر کی

مہیب تاریکی میں

اک اکیلی جگمگاتی روشنی

ہمدردی کی ہے

غم گساری کی ہے

اس شہر کے

لاتعداد مکین ہیں

اور ہر مکین کا دل

دوسرے کیلئے دھڑکتا ہے

درد کے آخری شہر میں

رنگ و نسل سے بالاتر

مذہب و فرقے سے بھی الگ

درد کی قدر مشترک ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s