شمو اور مجید پیڑا

Portrait Of Poverty

.شمو! تم میری ماں ہو؟’ مجید پیڑے نے شمو سے بڑی آس سے پوچھا’

دفع دور!’ شمو کے ہاتھ اچانک رک گئے اور اس نے رکھ کر مجید کی گردن پر بےدردی سے، جلتی ہوئی چپت لگائی

‘میں بھلا کیوں ماں ہونے لگی تیری؟’

.تو پھر تو میرا اتنا خیال کیوں رکھتی ہے؟’ مجید بیچارے نے آنسو پینے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے پوچھا’

اسلئے کہ ٹھیکیدار مجھے تیرا خیال رکھنے کے پیسے دیتا ہے.’ شمو نے مجید کے بالوں میں دوبارہ سے تیل چپڑتے ہوئے کہا

آخر کو تو ٹھیکیدار کا سب سے کماؤ فقیر ہے. تیرے لاڈ نہیں اٹھائے گا تو کیا میرے اٹھائے گا؟’ شمو نے حسرت سے دستی آینے میں اپنی چیچک کے داغوں بھری مدقوق شکل کا معائینہ کرتے ہوئے کہا

_________________________________

مجید ایک فقیر تھا اور شمو اس کی نگرانی پر معمور ایک اور فقیرنی تھی. جب مجید پیدا ہوا تو نا اس کے ہاتھ تھے اور نا پاؤں. بس صرف سر اور دھڑ ہی تھا. ایک رات کو کوئی چپکے سے اس کو فٹ پاتھ پر سوتی شمو کے پہلو میں لٹا گیا

اگلی صبح شمو نے ایک عجیب الخلقت شیرخوار بچے کو اپنی بغل میں گھستے اور رالیں بہاتے آؤں آؤں کرتے دیکھا تو گھبرا کر اٹھایا اور سیدھا ٹھیکیدار کے ڈیرے پر لے آئ

.پتہ نہیں کون کمبخت لٹا گیا میری بغل میں رات کو.’ شمو نے مجید کے اوپر سے کمبل ہٹاتے ہوئے بتایا’

.ہوں!’ ٹھیکیدار نے غور سے مجید کا معائینہ کیا اور پھر ٹھٹہ مار کرہنس پڑا’

‘بچہ کہاں ہے؟ آٹے کا پیڑا ہے یہ تو. لیکن خیر اچھی کمائی کرلے گا’

.ہلے جلے گا تو کمائی کرے گا نا.’ شمو نے مجید کا نچلا دھڑ گندگی میں لتھڑا دیکھ کر کراہت سے کہا’

‘اس کو ہلانا جلانا اور صفائی ستھرائی سب تیری ذمے داری آج سے’

.میری کیوں؟’ شمو نے چمک کر پوچھا’

ناراض کیوں ہوتی ہے؟’ ٹھیکیدار نے ایک منحوس مسکراہٹ کے ساتھ کہا ‘اس کی کمائی میں سے حصہ بھی دوں گا

______________________________

اور یوں شمو فقیرنی اور مجید پیڑے کی جوڑی مستقل ہوگئ. اس دن کے بعد صرف ایک بار ایک عورت شمو کے پاس آئ اور مجید کو غور سے دیکھنے کے بعد پانچ سو کا نوٹ شمو کی گود میں پھینک دیا. شمو نے روکنے اور پوچھنے کی کوشش کی مگر وہ دوپٹے سے آنکھیں ملتی وہاں سے بھاگ گئ. شمو سمجھ گئ کہ ہو نا ہو وہ عورت ضرور مجید کی ماں تھی اور وہ ہی رات کو اس کے پہلو میں لٹا گئ تھی

مجید جب تھوڑا بڑا ہوا تو شمو کو احساس ہوا کہ وہ صرف جسمانی طور پر ہی معزور نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی تھوڑا پسماندہ واقع ہوا تھا. جب کوئی بات سوچ لیتا تھا تو ہفتوں اور مہینوں اسی بات پر اڑا رہتا تھا

پھر ایک دن مجید کے دماغ کی سوئی ماں پر اڑ گئ

پتہ نہیں کون خبیث کا بچہ مجید کے دماغ میں یہ ماں والا کیڑا ڈال گیا، شمو سوچتی تھی. اصل میں شیدے کی ماں ابھی حال میں ہی مری تھی اور وہ اکثر مجید کے سامنے اپنی ماں کو یاد کر کر کے رویا کرتا تھا

.یہ ماں کیا ہوتی ہے شیدے؟’ مجید نے ایک دن پوچھا’

ماں وہ ہوتی ہے جس کی گود میں سکون ہی سکون ہو. ماں کی گود ایسی جگہ ہے کہ اس میں گھس جاؤ تو ہر فکر، ہر غم سے آزادی.’ شیدے نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا

‘میری ماں کون ہے شیدے اور کہاں ہے؟’

‘اب مجھے کیا معلوم. یہ بات تو تو شمو سے ہی پوچھ لینا’

جب ایک دفعہ ماں کا ذکر شروع ہوگیا تو پھر ہوتا چلا گیا. یوں لگتا تھا کہ جیسے مجید پیڑے کا سیارہ ماں کے گرد مدار میں چکر لگا رہا تھا

‘میری ماں ہوتی تو میرے بالوں سے جویئں نکال دیتی’

‘میری ماں ہوتی تو یوں بخار میں اکیلا نا چھوڑتی مجھے’

میری ماں ہوتی تو مجھ سے پیار کرتی. مجھے چومتی گلے سے لگاتی اور میں اس کی گود میں سر چھپائے روتے روتے سو جاتا

.میری ماں ہوتی’ سن سن کر شمو کے کان پک گئے. پھر ایک دن اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا’

اتنا پیار کرنے والی تیری ماں ہوتی مجید تو یوں میرے بغل میں فٹ پاتھ پر پھینک کر نا جاتی. نفرت تھی اسے تجھ سے اور مجھے بھی نفرت ہے تیرے وجود سے. گھن آتی ہے مجھے

‘جھوٹ بکتی ہے تو حرامزادی!’ مجید نے بلک کر کہا. ‘میری ماں آئے گی ایک دن تو میں خود پوچھوں گا’

.پوچھ لینا، شوق سے پوچھ لینا.’ شمو نے اکتا کر کہا’

__________________________________

تھی تو بڑی عجیب بات لیکن ایک دن مجید کا اپنی ماں سے آمنا سامنا ہو ہی گیا

برسات کا مہینہ تھا اور راوی پانی سے بھرا پڑا تھا. بند پر بڑا رونق میلہ تھا. زیادہ کمائی کی امید میں شمو مجید کی ریڑھی دھکیلتی وہاں چلی گئ. پھر اچانک ہجوم میں مانگتے مانگتے شمو کی نظر ایک عورت پر پڑی اور وہ چونک کر رک گئ

‘وہ دیکھ مجید…..’ شمو نے اشارہ کیا. ‘وہ دیکھ تیری ماں’

.کہاں؟ کہاں؟’ مجید نے بے چینی سے پوچھا’

اتنے میں اس عورت کی نظر بھی شمو اور مجید پر پڑ گئ. اس نے تھوڑی دیر تو غور سے دونوں کی طرف دیکھا اور پھر یکایک منہ پھیر کر نکلنے کی کوشش کی

ٹھہر تو ……جاتی کہاں ہے؟’ شمو بھی اس کے سر پر پہنچ گئ. اس کو پوری امید تھی کہ مجید کی ماں ڈر کے مارے کافی سارے پیسے پکڑا دے گی

.اماں!’ مجید نے بڑی حسرت سے اس عورت کو پکارا تو وہ بوکھلا گئ’

‘منحوس فقیر کی اولاد…مجھے اماں کہہ کر کیوں بلاتا ہے؟’

.تو ماں ہے میری….میں بیٹا ہوں تیرا.’ مجید نے گڑگڑا کرکہا’

‘ہنہ میرا بیٹا؟’ اس عورت نے چیخ کر کہا. ‘تو میرا بیٹا ہوتا تو میں پیدا ہوتے گلا دبا کر مار نا دیتی تجھے؟’

یہ سن کر مجید خاموش ہوگیا. بالکل ایک پتھر کی طرح خاموش. بس آنکھوں سے میلے میلے آنسو مسلسل بہتے جارہے تھے. ہبھری گود کیجوم سے کیسے نکلے؟ اس عورت سے مزید کیا بات ہوئی؟ مجید کو کچھ پتا نہیں تھا

ویسے مجید، اچھا ہی ہوتا تجھے تیری ماں پیدا ہوتے ہی مار دیتی.’ شمو نے اس کے گالوں پر پھیلے آنسو دیکھ کر، ترس بھرے لہجے میں کہا. ‘اچھا میں تجھے یہیں چھوڑ کر جا رہی ہوں. جلیبیاں لے کر آتی ہوں. وہ کھائے گا تو سب بھول جائے گا

_____________________________

شمو کے جانے کے بعد مجید نے ادھر ادھر کا جائزہ لیا. اس کی ریڑھی بند کے کنارے پر کھڑی تھی. سورج غروب ہوچکا تھا اور قریب کوئی بھی نہیں تھا

اس نے کچھ سوچا اور پھر اپنے دھڑ کو جھٹکے دے دے کر ریڑھی کو بند کی ڈھلان سے لڑھکا دیا. لڑھکتی ہوئی ریڑھی پانی میں جا گری اور پھر ڈوبتی چلی گئ

   پانی میں ڈوبتے ہوئے مجید پیڑے کو احساس ہوا کہ وہاں دریا کی گود میں بہت سکون تھا

بالکل ویسا ہی سکون جیسا ماں کی گود میں ہونا چاہئے تھا

.ماں!’ مجید پیڑے نے دل ہی دل میں دریا کے کالے پانیوں کو پکارا. پھر بے اختیار کھلکھلا کر ہنس دیا’

2 thoughts on “شمو اور مجید پیڑا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s