آخری کنارہ

dbc8yg-dc0ea5f7-152f-4f77-8ee5-6813e9a337bc

اسکی گاڑی رنگ روڈ کے ایک نسبتاً ویران ٹکڑے پر، سڑک کی ایک سائیڈ پر پارک تھی. وہ گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگا کر کھڑا تھا. داہنے ہاتھ کی انگلیوں میں ایک سگریٹ پتہ نہیں کتنی دیر سے سلگ رہا تھا کیونکہ اس کی راکھ ضرورت کے باوجود، ابھی تک جھاڑی نہیں گئ تھی

دور سرسبز کھیتوں اور اکادکا ہاؤسنگ سکیموں کے پار، جہاں آسمان کی چادر زمین کے پیرڈھانپنے کی کوشش کر رہی تھی، سورج ڈوب رہا تھا. وہ ڈوبتے سورج کو بڑی حسرت سے دیکھ رہا تھا کہ شاید اس کی بچی کچھی روشنی اور حرارت سے اس کے اندر کی برف پگھل جائے. لیکن ہمیشہ کی طرح، اس دن بھی ایسا کچھ نہیں ہوسکا

بہت بچپن میں اس نے شمالی علاقوں کے سفر کے دوران، پہلی دفعہ برف سے ڈھکے پہاڑ دیکھے تھے. ان پہاڑوں کو دیکھ کر اسے عجیب سا احساس ہوا تھا. جیسے ان سے اس کا کوئی بہت پرانا رشتہ تھا، بالکل ویسا جیسے سوتیلی ماؤں کے ساتھ ہوتا ہے – احترام آمیز نفرت کا

پھر وقت گزرنے کے ساتھ اسے احساس ہوا کہ وہ برف سے ڈھکے پہاڑ اس کے اندر ہی کہیں ہمیشہ سے ایستادہ تھے. وہ بہت کوشش کرتا تھا مگر ان پہاڑوں کی برف کبھی پگھلنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی

‘آپ کا بچہ انتہائی زہین مگر بےحد حساس ہے. میرے اندازے کے مطابق یہ ان دونوں خصوصیات میں ٹکراؤ کی وجہ سے، شدید ذہنی دباؤ اور پژ  مردگی کا شکار رہتا ہے

 

مگر اس کے والدین نا اس بات کو سمجھ سکے تھے اور نا ان کے پاس ایسی باتوں کو سمجھنے کا وقت تھا. پھر وہ زمانہ بھی پرانا تھا جب لوگوں کو نفسیاتی مسائل اور خاص طور پر بچوں کے نفسیاتی مسائل سے، صحیح آگاہی حاصل نہیں تھی

لہٰذا وہ اس برف کے ساتھ زندہ تھا. ہاں کبھی کبھی ایسا ضرور لگتا تھا کہ جیسے وہ برف کچھ دنوں کیلئے کہیں غایب ہوگئی ہے. وہ خوش ہوتا تھا، مسکراتا تھا، قہقہے بھی لگا لیتا تھا؛ لیکن دل کے کسی گوشے میں برف کی واپسی کا خوف اسے کھل کر ہنسنے بھی نہیں دیتا تھا. پھر کوئی واقعہ ایسا ہوتا تھا یا کوئی بات ایسی ہوتی تھی کہ وہ پھر سے، ان پہاڑوں پر جمی برف کی خنکی کی لپیٹ میں آ جاتا تھا

‘شاں!’ اچانک اس کے پیچھے سے کوئی گاڑی تیز رفتاری سے گزری تو ایک لمحے کیلئے سوچ کی ترتیب بکھرسی گئ. شام گہری ہوتی جا رہی تھی اور تاریکی بڑی تیزی کے ساتھ شام کے دھندلکوں کا تعاقب کر رہی تھی. اس نے جیب سے موبائل نکال کر سکرین آن کی مگر وہاں کچھ نہیں تھا. پھر اسے یاد آیا کہ ہمیشہ کی طرح اس دن بھی اس نے، تنہائ کی شدید خواہش میں، نیٹ ورک آف کیا ہوا تھا

ایسا نہیں تھا کہ وہ تنہائی کا شکار تھا یا اسے دوستوں اور محبت کرنے والوں کی کمی تھی. سب تھے اس کے پاس. وہ بہت سوں کیلئے، زندگی کے طوفانوں کے اس پار ایک مانوس اور محفوظ کنارہ تھا. بہت سوں کیلئے وہ گھنی چھاؤں والا درخت بھی تھا. نا اس نے کبھی کسی کو چھاؤں میں بلانے کی کوشش کی تھی اور نا بیٹھنے والوں کو کبھی اٹھنے کا کہا تھا. شاید یہ ہی وجہ تھی کہ اس کی چھاؤں میں رونق میلہ لگا رہتا تھا

‘لیکن میرا کنارہ کہاں ہے؟’ وہ اکثر اپنے آپ سے پوچھا کرتا تھا. یہ بات بھی وہ اچھی طرح سمجھتا تھا کہ کناروں مے محفوظ یا غیر محفوظ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا. فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ آپ کیسے اپنے کنارے کی شناخت کرتے ہیں اور کیسے اس کنارے کو دیکھتے ہیں. لیکن یہ سب کچھ سمجھنے کے باوجود وہ اپنے آخری کنارے کو پہچان نہیں پایا تھا

.کہاں ہے میرا کنارہ؟’ اس نے سگریٹ کو مسلتے ہوئے، بے چینی سے اپنے آپ سے سوال پوچھا’

میں یہاں ہوں!’ تاریکی میں سے ایک روشن آواز، بھیگتی رات کی ٹھنڈی ہوا کے، شانوں پر سوار ہوتی سنائی دی

.کہاں؟ کون؟’ اس نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا مگر کچھ نظر نہیں آیا’

.غور سے دیکھو. مجھے محسوس کرو.’ آواز پھر گونجی’

مجھے تو کچھ نظر نہیں آ رہا.’ اس نے بے بسی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا. ‘تم کیسا کنارہ ہو جو نظر ہی نہیں آتا؟

.غور سے دیکھو….تمھیں میرے ساحل پر جلتی آگ نظر آجائے گی.’ آواز پھر سے سرسرائ’

.آگ؟’ اس نے چونک کر پوچھا’

‘ہاں آگ!’ آواز نے کہا. ‘حرارت آمیز آگ جو ہمیشہ کیلئے تمھارے پہاڑوں پر جمی برف کو پگھلا دے گی’

اس نے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا تو واقعی دور ایک روشنی دہک رہی تھی. اس نے روشنی کی طرف قدم بڑھایا اور پھر کچھ سوچ کر رک گیا

.شاباش! سوچو نہیں، چلتے رہو. میرے پاس آ جاؤ. کیا تم برف کو پگھلانا نہیں چاہتے؟’ آواز نے پوچھا’

‘ہاں!’ اس نے اثبات میں سر ہلایا. ‘میں تنگ آ چکا ہوں اس برف کی خنکی سے’

بس پھر آ جاؤ.’ آواز نے بلایا اور وہ دوبارہ سے دہکتی آگ کی روشنی کی طرف چلنا شروع ہوگیا. ہر نئے قدم کے ساتھ اس کے اندر کی برف پگھلتی جا رہی تھی. وہ قدم بڑھاتا چلا گیا یہاں تک کہ آگ کی گرم روشنی سے اس کی آنکھیں چندھیانا شروع ہوگیئں

اس کو یوں پاگلوں کی طرح سڑک کے درمیان چلتا دیکھ کر ٹرک کے ڈرائیور نے بریک لگانے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہو سکا. بریکوں کی چرچراہٹ سے پوری فضاء لرز گئ. اس کا جسم ٹرک سے ٹکرا کر فضاء میں اچھلا اور پھر بری طرح سے بھاری پہیوں کے نیچے روندا گیا

ٹرک تھوڑا آگے جانے کے بعد رک گیا اور ڈرائیور اور کلینر بھاگتے ہوئے آئے

.کوئی پاگل لگتا ہے استاد.’ کلینر نے کہا’

نہیں!’ ڈرائیور نے جھک کر اس کی لاش کا معائینہ کرتے ہوئے کہا. ‘کپڑوں سے کوئی اچھے گھر کا صاحب لگتا ہے. شاید خودکشی کرنا چاہتا تھا

وہاں سڑک کے عین درمیان، سفید لکیروں کے بیچ میں اس کا تڑا مڑا وجود بکھرا پڑا تھا. ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ تھی اور پہاڑوں کی پگھلتی برف کا پانی، وہاں اس کی بےجان آنکھوں کے ویران گوشوں میں، خاموشی سے چمک رہا تھا

One thought on “آخری کنارہ

Leave a Reply to Your Old Friend Cancel reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s