سانتا آنا کا پادری

d9ec0c8-046600aa-73e4-4bb0-9874-0021d1b46782

یہ سخت گرمیوں کے دنوں کی بات ہے کہ جب سانتا آنا گاؤں کے اکلوتے گرجے کے، اکلوتے پادری کا، انتقال ہو چکا تھا؛ اور پورا گاؤں بےصبری سے، نئے پادری کا انتظار کر رہا تھا

بہت سے بچے پیدا ہوچکے تھے لیکن گمنامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے

کئ محبت کرنے والے جوڑے تھے، جو کہ شادی کے بندھن میں بندھنے کیلئے اتنے بیتاب تھے کہ ہر رات کا نیا چاند، ان کے گناہ کا گواہ بن جاتا تھا

بہت سے ایسے گناہگار تھے جو شدت سے، اعتراف کے انتظار میں تھے تاکہ صاف دل کے ساتھ، ایک دفعہ پھر سے گناہوں کے راستے پر چلا جا سکے

اور بہت سے ایسے لوگ تھے جو مر چکے تھے اور دفنائے بھی جا چکے تھے لیکن ان کی روحیں، اپنی آخری رسومات کے انتظار میں، بے چینی سے زمین اور آسمان کے درمیان معلق تھیں

پھر ایک دوپہر، جب سورج عین سوا نیزے پر بےرحمی سے دہک رہا تھا تو گاؤں کی کچی فصیل کے ٹوٹے دروازے سے، ایک گھڑسوار اندر داخل ہوا. گھوڑا لاغرسا تھا اور تیز سنہری دھوپ اور بہتے پسینے سے اس کا کالا سیاہ جسم، چمک رہا تھا. گھڑسوار بھی کالے لباس میں ملبوس تھا. لیکن اس کے سر پر چوڑے چھتے والے سیاہ ہیٹ کے نیچے، اس کے خدوخال، واضح طور پر نہیں دکھتے تھے

_____________________________

سانتا آنا، قریبی شہر سے قریباً دو سو کلومیٹر پر اور صحرا کے بیچوں بیچ واقع، ایک چھوٹا سا اور نامعلوم سا غریب گاؤں تھا. بہت کم ہی کوئی بھولا بھٹکا مسافر، گاؤں میں قدم رنجہ فرماتا تھا. بلکہ مسافروں کی تعداد اس قدر کم تھی کہ بڑھے بوڑھے اب تک، گاؤں میں آنے والے تمام مسافروں کو، دو ہاتھوں کی انگلیوں پرآسانی سے گن سکتے تھے؛ اور گننے کے بعد بھی دو ایک انگلیاں بچ رہتی تھیں

_________________________________

خیر یہ نیا آنے والا کوئی مسافر نہیں بلکہ فادر آندرے بارتولو تھا – سانتاآنا گاؤں کا نیا پادری. گاؤں میں داخل ہوتے  ہی اس نے مرکزی چوک کے کنویں سے جی بھر کر پانی پیا اور کسی سے کوئی فالتو بات کئے بغیر، سیدھا گرجے گھر پر پہنچ کر، اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، گاؤں کے لوگوں کو احساس ہوا کہ فادر آندرے کوئی معمولی پادری نہیں تھا بلکہ شاید انسان کے روپ میں کوئی فرشتہ یا پھر ولی الله تھا

پچھلا پادری کھانے پینے کا انتہائی شوقین تھا اور حد درجہ کا بلانوش بھی تھا. کئ دفعہ تو اتوار کے دن دعا کے موقعے پر، گرجے کی سستی وایئن کی بوتل بھی خالی ملتی تھی؛ اور پادری صاحب کے الفاظ اور قدم، دونوں ڈگمگا رہے ہوتے تھے

لوگ فادرآندرے کو فرشتہ یا ولی الله اسلئے سمجھتے تھے کیونکہ وہ صحیح معنوں میں ایک درویش صفت آدمی تھا. نا کھانے پینے کا شوق تھا اور نا ہی پینے پلانے کا. خواتین کی طرف تو دیکھنے سے بھی گریز کرتا تھا. تمام خواہشات سے پرہیز کرتا تھا اور یوں لگتا تھا کہ جیسے خداوند نے اسے پیدا ہی پرہیزگاری کیلئے کیا تھا

_____________________________

حقیقت کیا تھی، وہ فادر آندرے سے زیادہ بہتر کوئی اور نہیں جانتا تھا. جب بھی لوگ اس کی پرہیزگاری سے متاثر ہو کر اس کے ہاتھ چومتے تھے تو وہ زیرلب ضرور مسکراتا تھا

اصل میں بہت بچپن سے ہی فادرآندرے کو پادری بننے کا شوق تھا. اسلئے کہ یہ وہ واحد پیشہ تھا جس میں لوگوں پر برتری پانے کیلئے، کسی دولت یا تعلقات کی ضرورت نہیں تھی. پھر اس کا یہ بھی دل چاہتا تھا کہ شاید اس کے مرنے کے بعد یا اس سے پہلے ہی لوگ اسے کوئی سینٹ سمجھیں اور فرط عقیدت سے اس کے آس پاس چکر لگاتے رہیں

_________________________

پادری بننے کے بعد اسے احساس ہوا کہ پرہیزگاری کی راہ پر چلنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں تھا. ہر قدم پر دل کو مارنا پڑتا تھا؛ اور یہ اس کیلئے بیحد مشکل ثابت ہورہا تھا

چونکہ فادر آندرے کا تعلق ایک بہت غریب خاندان سے تھا اور بچپن بہت محرومی اور بھوک میں گزرا تھا تو جب بھی کسی دعوت میں شریک ہوتا، تو ہاتھ اور منہ روکنا مشکل ہوجاتا. اور پھر کون صحیح الدماغ انسان اچھی سرخ وایئن کو ٹھکرا سکتا تھا. جب پیٹ مرغن غذاؤں سے بھرجاتا تو پھر نظر حسین چہروں اور صحت مند نسوانی جسموں پر چلی جاتی

آہستہ آہستہ ان حرکات کی وجہ سے اس کا مزاق اڑنا شروع ہوگیا. یہاں تک کہ مَیکسکن چرچ کی طرف سے دو تین انتباہی مراسلے بھی موصول ہوگئے تو فادرآندرے کو تو اپنے مقدس خواب مٹی میں ملتے نظر آئے. لیکن باوجود بھرپور کوشش کے وہ اپنی خواہشات پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا

_________________________

پھر ایک شام شیطان اس سے ملنے چلا آیا اور اسے ایک ایسی پیشکش کی فادرآندرے اسے قبول کرنے پر مجبور ہوگیا

‘مرنے کے بعد اپنی روح مجھے سونپ دینا. میں تمھاری سب خواہشات پوری کر دوں گا ایک پل میں.’ شیطان نے مسکراتے ہوئے کہا

یہ ہی تو مسلہ ہے.’ فادر آندرے نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا. ‘میں اپنی خواہشات سے ہی تو جان چھڑانا چاہتا ہوں

‘ہیں؟’ شیطان چونک کر کھڑا ہوگیا. ‘یہ کیسی خواہش ہے؟’

بس یہ ہی میری خواہش ہے…..’ نوجوان پادری نے کہا. ‘میں چاہتا ہوں کہ میری ساری خواہشات ختم ہو جایئں اور میں اپنی زندگی میں ہی سینٹ کا رتبہ پا جاؤں

‘ٹھیک ہوگیا!’ شیطان نے جیب سے معاہدہ نکالتے ہوئے کہا. ‘اس پر اپنے خون سے دستخط کر دو’

فادرآندرے شیطان کے ساتھ معاہدہ کر کے بہت خوش تھا. اس کو پوری امید تھی کہ چونکہ وہ خواہشات سے جان چھڑا چکا ہے تو روزمحشر وہ کوئی گناہ نا ہونے کے بائث سیدھا جنت میں جائے گا اور شیطان کچھ بھی نہیں کر سکے گا

_______________________________

وقت گزرتا چلا گیا. فادرآندرے پہلے بشپ اور پھر کارڈینل بن گیا. تھوڑے عرصے میں اس کی پرہیزگاری سے متاثر ہو کر لوگوں نے اسے سینٹ بنا لیا اور دور دور سے اس کی زیارت کو آنے لگے

پھر ایک دن وہ مر گیا اور فرشتے اسے لے کر بارگاہ الہی میں لے گئے

.اس کو سیدھا جہنم میں لے جا کر پھینک دو.’ خداوند نے حکم دیا’

کیا مجھے اسلئے جہنم میں پھینکا جا رہا ہے کیونکہ میں نے شیطان سے معاہدہ کیا تھا؟’ فادرآندرے نے گڑگڑا کر پوچھا

نہیں!’ خداوند نے بے اعتنائی سے کہا. ‘تمھیں اسلئے جہنم میں پھینکا جا رہا ہے کیونکہ تم نے خواہشات سے انکار کیا. کیونکہ تم یہ بھول گئے کہ خواہشات بھی میں نے کسی مقصد سے بنائی ہیں. انسان خواہش کرتا ہے؛ پھر گناہ کرتا ہے؛ پھر گناہ پر پچھتاتا ہے؛ اور پھر توبہ کر کہ پرہیزگاری کے رستے پر چلتا ہے. جب تم نے خواہش سے ہی انکار کر دیا تو پھر پرہیزگاری کیسی؟

4 thoughts on “سانتا آنا کا پادری

  1. A classic in a nutshell.
    I wonder who passes the ultimate test, the habitual sinner or the habitually pious 🤔 both can be doomed as easily as the other, and saved too, if He has decided to be merciful…

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s