زندگی کے سٹیشن پر

تم اس ٹرین کے مسافر تھے

میں اس ٹرین کا مسافر تھا

تمہاری ٹرین مشرق کو

میری ٹرین مغرب کو

مدھم پڑتی کرنوں کی

پٹڑیوں کے جالے پر

بھاگتی تھیں دھڑ دھڑ وہ

تم اس ٹرین کے مسافر تھے

میں اس ٹرین کا مسافر تھا

شام کے پچھلے پہر

زندگی کے سٹیشن پر

پٹڑیوں کے جالے میں

الجھ کر جو رک گیئں

زندگی کچھ دیر کو

سانس لینے رک گئ

زندگی کے سٹیشن پر

لالٹینیں جلتی تھیں

دھند میں دمکتی تھیں

چائے کی دھیمی مہک

سیٹیوں کی گونج بھی

نرم ہوا کے دوش پر

سرگوشیاں سی کرتی تھیں

زندگی کے سٹیشن پر

دو ٹرینیں جو رک گیئں

کھڑکیوں کے سامنے

کھڑکیاں ساکت ہوئیں

کھڑکیوں میں چہرے تھے

چہروں پر آنکھیں سجی

آنکھوں میں خواب تھے

خوابوں میں حسرت سجی

زندگی کے سٹیشن پر

تم کو میں نے دیکھا تو

کچھ یوں لگا ایسے

تمھارے چہرے پر

جو سائے تھے

محبتوں کی دھوپوں کے

منتظر ہوں صدیوں سے

تمھاری آنکھوں میں تھی ویرانی

کچھ عجیب حیرانی

کہ جیسے تم نے دیکھا ہو

وہ سب جو کہ دوزخ تھا

کہ جیسے تم نے جھیلا ہو

وہ سب جو کہ ناحق تھا

زندگی کے سٹیشن پر

تم کو میں نے دیکھا تو

یک لخت میں اتر آیا

ہاتھ جو ہلایا تو

تمھاری برف آنکھوں میں

چراغ جیسے جل اٹھے

مسکراہٹ چمکی اور

تم بھی اتر آئ

زندگی کے سٹیشن پر

پلیٹ فارم کے کونے میں

اک تاریک گوشے میں

ہم دو اکیلے دل

کچھ دیر کو اکٹھے تھے

میرے ہاتھ میں تمہارا ہاتھ

کچھ یوں دھڑکتا تھا

جیسے وہ کبوتر ہو

شکاریوں کے چنگل میں

پھڑپھڑاتا روتا ہو

زندگی کے سٹیشن پر

بس کچھ دیر ہم نے رکنا تھا

باتیں کیا ہم نے کرنی تھیں

یادیں اکٹھا کرنی تھیں

وقت اتنا ظالم تھا

ہمارا ساتھ بس جتنا بھی تھا

لمحوں میں بیت جاتا تھا

کچھ دیر جو بھی ملنا تھا

پھر اپنی اپنی ٹرینوں پر

بیٹھ سفر کرنا تھا

زندگی کے سٹیشن پر

میں نے تو بہت روکا

محبتوں کے واسطے

عہد وفا کے سب کرم

میں نے تو یہ بھی کہا

کہ زندگی بس تم سے ہے

ہر سانس میں رچے ہو تم

کہ تمھارے بعد کچھ نہیں

ہر دھڑکن میں بسے ہو تم

مگر تم نے کچھ نا سنا

اصول منہ پر مار کر

میرا ہاتھ چھوڑ کر

بس اٹھ گئے کہ ہم چلے

خالی خالی آنکھوں سے

میں بیٹھا بس تکتا رہا

اور تمھاری ٹرین چل پڑی

زندگی کے سٹیشن پر

پلیٹ فارم کے کونے میں

میں ابھی بھی بیٹھا ہوں

وقت کے بہتے پانی پر

چپ چاپ، منتظر، ساکن

شاید کچھ ایسا بھی ہو

کہ زندگی کے سٹیشن پر

پھر کبھی تم مل جاؤ

You may also like

4 Comments

Leave a Reply