آؤ اب خود کو فراموش کر دیں

 

آؤ اب خود کو

فراموش کر دیں

 

بہت کہہ چکے ہیں

بہت سن چکے ہیں

وار ہزاروں

بہت سہہ چکے ہیں

دل کا، انا کا

دم گھونٹ کر اب

دل کو، انا کو،

خاموش کر دیں

آؤ اب خود کو

فراموش کر دیں

 

بہت چاہ چکے ہیں

خواہشیں تھی جتنی

سب خواہشوں کو

شعلوں میں جھونکیں

پھر وہ راکھ چن کر

ماتھے پر مل کر

سب خواہشوں کو

خاموش کر دیں

آؤ اب خود کو

فراموش کر دیں

 

بہت چل چکے ہیں

رستے ہزاروں

اب کھو چکے ہیں

ہمت تھی جتنی

خاک ان رستوں کی

چھانی ہے جتنی

وہ سب خاک ایسے

ہوا دوش کر دیں

آؤ اب خود کو

فراموش کر دیں

 

 

بہت رہ لیا ہے

دن تھے وہ جتنے

راتیں بھی لمبی

گزاری ہیں جتنی

ماضی کے سب باب

سیاہ پوش کر کے

سب طعنے تشنعوں کو

خاموش کر دیں

آؤ اب خود کو

فراموش کر دیں

 

نا تھا کوئی اپنا

نا اپنا کوئی ہوگا

خوابوں کے پیچھے

وہ بھگڈر تھی جتنی

بیکار ضائع

ہمت کی جتنی

وہ سب خواب مٹی میں

روپوش کر دیں

آؤ اب خود کو

فراموش کر دیں

 

بہت رو لیا ہے

بہت ہنس لیا ہے

لمحے تھے جتنے

مقدر میں لکھے

وہ لمحے مٹانے کا

وقت ہوگیا ہے

آؤ اب دنیا سے

روپوش ہو کر

آؤ اب خود کو

فراموش  کر دیں

آؤ اب خود کو

فراموش کر دیں

You may also like

Leave a Reply