آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

وہ محبت جو کبھی کی تو بڑے شوق سے تھی

وہ محبت جو نامکمل تھی، نامکمل ہی تمام ہوئی

وہ چاہت کہ جس کا چراغ کبھی شام کی رونق تھی

وہ چاہت جو نا کبھی میری، نا کبھی تیری غلام ہوئی

وہ انا جو کبھی عشق کی دہلیز پر چکنا چور تھی

وہ بے خودی جو نا عشق تھی، نا کبھی عشق انجام ہوئی

وہ خون لفظ جو کبھی زنگ خوردہ زنجیر تھی

وہ نظم جو ادھوری تھی، ادھوری ہی زبان زد عام ہوئی

آؤ وہ پرانے خواب، اپنی صحرا آنکھوں سے

خود ہی کھنگالتے ہیں، خود ہی سوچتے ہیں

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

 

وہ بول جو سوچتے سوچتے، وقت ماضی کا فسانہ ہوا

وہ نغمے جو لکھے نا گئے، کبھی گنگنائے نا گئے

وہ جو سمندر کا نمک، اتنی مشکل سے کشید ہوا

وہ اشک جو اندر ہی کہیں جذب کئے، کبھی بہائے نا گئے

وہ جو ہم آگ مانگ کر لائے تھے کوہ طور سے

وہ شعلے جو بھڑکنا تو دور، کبھی جلائے نہ گئے

وہ جو ستم تم روز نئے تراشتے تھے اپنے شوق سے

وہ ظلم جو چپ کر کے سہہ لئے، کبھی ڈھائے نا گئے

آؤ اپنے سب پچھتاوے، زخم خوردہ ہاتھوں سے

خود ہی جانچتے ہیں، خود ہی گوندھتے ہیں

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

 

وہ جو ہم میں، تم میں، سرے سے کبھی تھا ہی نہیں

وہ جو ایک خواب سا تھا، حقیقت سے بہت دور تھا وہ

وہ جو تھا، اس کے ہر لمس میں، پیار تو کبھی تھا ہی نہیں

وہ جو ایک سراب سا تھا، چاند پر داغ ضرور تھا وہ

خیال کی ہر ساعت میں، خیال تو کبھی تھا ہی نہیں

وہ جو ایک گرداب تھا، رقصاں خواہش ضرور تھا وہ

آؤ پھر کیا ہوا؟ پھر کیوں ہوا؟ یہ سب سوال

خود ہی پوچھتے ہیں، خود ہی کھوجتے ہیں

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

You may also like

Leave a Reply