بابا پائڈ پائپر اور نفرت کے چوہے

‘معزز کمیٹی ممبران، آج آپ سب کو یہاں اچانک بلانے کے پیچھے ایک بہت ہی اہم مقصد کارفرما ہے’

قاضی صاحب نے اپنی بھاری بھرکم آواز میں اور گھمبیر لہجے کے ساتھ گفتگو کا آغاز کیا  

تقسیم کے وقت سے لے کر آج تک، ہمارا محلہ صرف مومن مسلمانوں کا ہی مسکن رہا ہے

پوری گلی ‘بےشک! بےشک!’ اور ‘الحمدللّہ! الحمدللّہ!’ کی آوازوں سے گونج اٹھی

قاضی صاحب کچھ دیر اپنی داڑھی سہلاتے ہوئے حاضرین کی طرف ستائش بھری نظروں سے دیکھتے رہے اور پھر خاموشی چھا جانے پر بولنا شروع کیا

مجھے بےحد افسوس ہے کہ اب ایسا نہیں ہے. ہم مومنین کے درمیان ایک کافر اپنے خاندان سمیت آ بسا ہے

 

#urdu #story #fiction #tolerance #love #patience #Pakistan #Lahore #mob #qadiani #ahmadi #society #socialjustice #extremism #religion #God #humanity

 

تمام لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف تشویش ناک نظروں کے ساتھ دیکھا اور کچھ سمجھنے والے سمجھ گئے کہ قاضی صاحب کا اشارہ کس کی طرف تھا

معزز کمیٹی ممبران! آج ہم سب کا ایمان خطرے میں ہے

قاضی صاحب کے اس خطرناک اعلان کے ساتھ ہی مولوی عبدل جبار تڑپ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور چنگھاڑ کر حاضرین مجلس کو دعوت دی

نعرہ تکبیر

.الله و اکبر!’ حاضرین نے بھی گلا پھاڑ کر اپنے ایمان کو جلا بخشی’

نعرہ رسالت!’ اور جواب میں ‘یا رسول الله

محلے کی عورتوں نے نعروں کی آوازیں سن کر اور پریشان ہو کر اپنے اپنے کام چھوڑ دئے اور دروازوں کے پردوں سے جھانک جھانک کر حالات کا جائزہ لینا شروع کر دیا

 

کچھ دیر تو یہ نعرہ بازی یونہی چلتی رہی مگر پھر مولوی عبد الجبار کو احساس ہوا کہ ایمان خطرے میں ہونے کی وجہ تو پوچھی ہی نہیں

قاضی صاحب، آپ حکم کریں. کون بدبخت ہے وہ؟

قاضی صاحب نے پھر داڑھی سہلائی

وہ بدبخت…………وہ بدبخت منشی احمد علی ہے. منشی احمد علی قادیانی! اس کو وہاں راج گڑھ کے پرانے محلے سے نکالا گیا تو یہاں ہم میں آ کر بس گیا

.کیا………..؟ منشی احمد علی قادیانی ہے؟’ مولوی عبدل جبار کی آواز غصّے اور جوش کے سبب لڑکھڑانے لگ گئ

خدا کی قسم، اگر ہم سب میں ایمان ایک قطرہ خون کے برابر بھی موجود ہے، تو ناموس رسالت کے نام پر کل صبح کا سورج نکلنے سے پہلے، منشی احمد علی اور اس کے کافر خاندان کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے چاہئیں

.او حوصلہ کر مولوی، حوصلہ!’ تھانیدار سلامت خان نے اپنی گھنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا’

یہ معاملات ایسے حل نہیں ہوتے. منشی یا اس کے خاندان کو کچھ ہوا تو سب اندر ہو جاؤ گے. جنرل ضیاء نے ابھی تک قادیانیوں کو کھلم کھلا مارنے کی اجازت نہیں دی ہے

 

تھانیدار صحیح کہتا ہے مولوی. مرنے مارنے کی ضرورت نہیں ہے. بس کل نماز کے بعد ہم سب لوگ منشی احمد علی کو سلیقے سے سمجھا دیں گے کہ اب اس محلے میں اس کی کوئی جگہ نہیں. وہ کہیں اور جا کر اپنی رہائش کا انتظام کر لے.’ قاضی صاحب نے تھانیدار کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا

ٹھیک ہی تو کہتا ہے عبدل جبار. احمد علی اور اسکے خاندان کو مار دینا ہی بہتر ہے. جہاں جائے گا وہاں سے نکالا جائے گا. اوپر بھیج دیتے ہیں. میرا الله خود اس کی پکی رہائش کا بندوبست کر دے گا

ایک نرم اور میٹھی سی آواز گونجی تو سب نے مڑ کر دیکھا

سامنے بابا پائڈ پائپر کھڑا اور ہاتھ میں اپنی شہنائی پکڑے مسکرا رہا تھا

_________________________________________ 

بابا پائڈ پائپر کون تھا اور ہمارے محلے میں اچانک کہاں سے نمودار ہوگیا تھا؟

ان سوالوں کے جواب ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا. ہم تو صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ برسات کی ایک رات جب چھاچوں مینہ برسا تو اگلی صبح کے سورج نے، بابا جی کو ہمارے محلے کی مسجد کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے دیکھا

 

ہمارا محلہ اندرون لاہور میں، ریلوے روڈ اور برانڈتھ روڈ کی درمیانی تکون میں واقع تھا اور محلہ محبتیاں کے نام سے مشہور تھا. پتہ نہیں کس زمانے میں، کس ستم ظریف نے ہمارے محلے کا یہ نام رکھ دیا تھا. محبت والی تو کوئی بات نہیں تھی. اور ہوتی بھی کیسے؟ محلہ کم تھا اور کھچڑی زیادہ

 

شہر کے باقی محلوں کی طرح زیادہ تر گھر تو سنیوں کے تھے اور کچھ شیعوں کے. عیسائیوں کی تو خیر پوری کی پوری آبادی ہی الگ تھی. ان کا ہمارے ساتھ رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا. جنرل ضیاء کے دور کے آخری دن چل رہے تھے لہٰذا ابھی تک شیعہ بگڑے مسلمان ہی سمجھے جاتے تھے. ان کی موجودگی پر کسی کو زیادہ اعتراض نہیں ہوتا تھا. لیکن معاشرتی اونچ نیچ بہت زیادہ تھی. محلے میں تین یا چار گھر امراء کے تھے اور باقی سب غریب غربا. یہ دونوں طبقے تو آپس میں میل جول سرے سے رکھتے ہی نہیں تھے مگر غرباء بھی آپس میں مل جل کر کم ہی رہتے تھے

 

ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی لڑائی ہوتی ہی رہتی تھی. کبھی بچے آپس میں سر پھٹول کرتے تو بات بڑوں تک پہنچتے پہنچتے سنگین رخ اختیار کر لیتی تھی اور ڈنڈوں سوٹوں کا استمعال بے دریغ کیا جاتا تھا. عورتوں میں کوئی جھگڑا ہوتا تو خاوندوں کے گھر لوٹنے تک محاز آرائی ہو چکی ہوتی تھی. ان بیچاروں کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ بھی خم ٹھونک کر میدان جنگ میں اتر جایئں

 

پھر وی سی آر اور ہندوستانی فلموں کا رواج عروج پر تھا. فلمی معاشقوں سے متاثر ہو کر کوئی لڑکا کسی لڑکی کو چھیڑ دیتا یا پھر کوئی جوڑا چھتوں پر ملتا پکڑا جاتا. گناہ گاروں کو گلی میں لا کر ضرور پیٹا جاتا اور مرمت کرنے کا سلسلہ اکثر جوڑے کی حدود سے باہر نکل کر ان کے والدین تک پہنچ جاتا

 

ایک دفعہ تو نظام دین موچی کا بیٹا قاضی کرم دین کونسلر کی منجھلی بیٹی کو نکال لے گیا. ان دونوں کو تو پتہ نہیں زمین کھا گئ یا آسمان نگل گیا البتہ اس جرم کی پاداش میں نظام دین کی بیوی اور بیٹی کو ننگا کر کے پورے محلے میں بطور عبرت پھرانے کی کوشسش ضرور کی گئ

 

خیر بات ہورہی تھی بابا پائڈ پائپر کی

 

عجیب و غریب حلیہ تھا بابا جی کا. کھلتا ہوا گندمی رنگ، کاندھوں تک لمبے سفید چاندی بال اور سینے تک لٹکتی اسی رنگ کی داڑھی. کالی گہری آنکھیں اور ہونٹوں پر ہمیشہ ایک دھیمی سی مسکراہٹ رقصاں رہتی. گیروے رنگ کا چولا جس کے اصل رنگ پر لاتعداد رنگین کپڑوں کے پیوند غالب آ چکے تھے. گلے میں ہزار رنگ کے موٹے موٹے منکوں والی مالا اور تازہ موتیئے کے گجرے کلائی سے لپٹے رہتے تھے. واحد اثاثے کے نام پر ایک پرانی سی شہنائی تھی جو جب وہ کبھی موڈ میں آ کر بجاتے تو سماں بندھ جاتا تھا

 

محلے چھوٹا سا تھا اور اس چھوٹے سے محلے کی ایک ہی چھوٹی سی مسجد تھی. مسجد کے باہر، داخلی محرابی دروازے کے دونوں جانب، ایک تین فٹ چوڑا سیمنٹ کا چبوترہ تھا جس کے نیچے سے گندے پانی کی نالی گزرتی تھی. یہ چبوترہ ہی بابا پائڈ پائپر کا مستقل مسکن تھا. سردی ہو یا گرمی، دن ہو یا رات، بارش ہو یا دھوپ، بابا جی وہاں ہی پائے جاتے تھے. مسجد کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے رہتے اور یا تو خلا میں گھورتے رہتے اور یا آنے جانے والوں کو دیکھتے رہتے. دونوں صورتوں میں ان کی میٹھی مسکراہٹ اپنی جگہ قائم رہتی تھی

 

بابا جی کی ذات میں عام لوگوں کو متاثر کرنے والی کوئی بات نہیں تھی لیکن پھر بھی امیر ہو یا غریب، کوئی ان سے بدتمیزی کرنے کے بارے میں سوچتا بھی نہیں تھا. اس کی بنیادی وجہ ضعیف الاعتقادی تھی. باباجی کی ذات سے یوں تو بہت ساری مافوق الفطرت باتیں منسوب تھیں لیکن کچھ حقیقت بھی یقیناً تھی. مَثَلاً ان کی کلائی پر ہمیشہ تازہ موتیئے کے پھولوں کا گجرا بندھا ہوتا تھا. وہ کہاں سے آتا تھا یا بابا جی کہاں سے لاتے تھے؟ کوئی نہیں جانتا تھا. پھر آج تک باباجی کو کسی نے غسل کرتے یا ضروریات زندگی سے فارغ ہوتے نہیں دیکھا تھا. اس کے باوجود ان کے وجود سے ہر وقت ایک بھینی بھینی خوشبو پھوٹتی رہتی تھی

 

ضعیف الاعتقادی کی ایک اور وجہ کچھ اتفاقات بھی تھے. مَثَلاً ایک دفعہ محبوب ہارڈویر کے مالک شیخ محبوب کے جوان بیٹے نے ایک آوارہ کتے کو اینٹ دے ماری. کتا بلبلاتا ہوا بابا پائڈ پائپر کی گود میں گھس گیا اور چیاؤں چیاؤں کرنے لگا. بابا جی نے لڑکے کو پتھر مارنے سے روکا تو اس نے بابا جی کی غصے میں ماں بہن ایک کر دی. باباجی نے کچھ نہ کہا، بس مسکراتے رہے، آسمان کی طرف شہادت کی انگلی اٹھا کر آنکھیں ذرا دیر کو بند کیں اور پھر شہنائی اٹھا کر ایک درد بھری دھن چھیڑ دی

 

دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ شیخ صاحب کا شقیق القلب بیٹا رشید عرف شیدا، پہلے تو مضحکہ خیز مسکراہٹ کے ساتھ بابا جی کو دیکھتا رہا. پھر شہنائی کے بلند ہوتے سروں کے ساتھ بتدریج اس کی حالت تبدیل ہوتی گئ. آدھے گھنٹے کے بعد وہ ہی شیدا جس کی زبان اور ہاتھوں سے کوئی ذی روح محفوظ نہیں رہتا تھا، زخمی کتے کے ساتھ زمین پر بیٹھ گیا اور روتے روتے اس کی زخمی ٹانگ سہلانے لگ گیا

 

اس دن کے بعد شیدے کو ایک چپ سی لگ گئ. سارا دن اپنے گھر کے صحن میں بیٹھا رہتا لیکن باباجی کی شہنائی کی آواز سنتے ہی دوڑ کر گلی میں نکل آتا اور چبوترے پر ایک طرف بیٹھ کر چپ چاپ شہنائی سنتا رہتا اور روتا رہتا

 

بابا جی؟’ ایک دن شیدے کی ماں سے بیٹے کی مجذوبوں والی حالت دیکھی نا گئ تو وہ اٹھ کر مسجد کے چبوترے پر جا پہنچی

.کہو بیٹی!’ بابا جی نے شہنائی ایک طرف رکھتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا’

.یہ میرا بیٹا………’ اس بیچاری نے ایک طرف بیٹھے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’

‘یہ آپ نے اسے کیا کر دیا ہے؟ نا بولتا ہے. نا ہنستا ہے. کھانا بھی زبردستی کھلاتی ہوں’

.کبھی ہیرا دیکھا ہے؟ کتنا چمکتا دمکتا ہوتا ہے.’ بابا جی نے آنکھیں موندتے ہوئے پوچھا’

‘جی’

لیکن جب ہیرا تراشا جا رہا ہوتا ہے تو وہ ایسا چمکتا دمکتا نہیں ہوتا. اس پر چوٹیں لگانی پڑتی ہیں. ہلکی ہلکی مگر مسلسل اور کافی دیر تک اور ہر زاویئے سے. پھر کہیں جا کر ہیرے کی آب و تاب سامنے آتی ہے

.ہیرے کا میرے بیٹے کی حالت سے کیا تعلق ہے باباجی؟’ شیدے کی ماں نے بےچین ہو کر پوچھا

تیرا بیٹا شیشے کا بھدا سا ٹکڑا تھا بیٹی. میری شہنائی اس کو تراش خراش رہی ہے. جلد ہی اصل ہیرا نکل آئے گا. تو صبر کر. تجھے تیرا بیٹا ایسی حالت میں واپس ملے گا کہ تو اس پر فخر کرے گی

پتہ نہیں باباجی کے لہجے میں ایسی کیا بات تھی کہ شیدے کی ماں کو سکون آ گیا اور وہ چپ چاپ گھر لوٹ گئ

      

 باباجی اذان یا نماز کے وقت تو نہیں البتہ باقی اوقات میں کبھی کبھی وہیں مسجد کی دیوار سے ٹیک لگائے شہنائی بجاتے تھے. لیکن یہ آواز مسجد کے پچھلے امام حاجی الله بخش مرحوم کی سماعت پر بہت گراں گزرتی تھی. ایک دن طیش کھا کر مسجد سے باہر نکل آئے اور چیخ چیخ کر بابا پائڈ پائپر کو کوسنے لگے. پہلے تو باباجی نے ان کی مداخلت کو بالکل بھی اہمیت نہیں دی اور بدستور شہنائی بجاتے رہے. لیکن پھر جب حاجی صاحب جلال کے عالم میں بابا جی کو لات رسید کرنے آگے بڑھے تو باباجی نے شہنائی ایک طرف رکھ کر صرف ایک دفعہ گھور کر ان کی طرف دیکھا. پتہ نہیں باباجی کی آنکھوں میں کیا تھا کہ حاجی صاحب اپنی جگہ ساکت ہوگئے اور پھر سٹپٹاتے ہوئے واپس اپنے حجرے میں چلے گئے

 

دراصل حاجی الله بخش کی باباجی سے پرخاش کا ایک اور اہم سبب بھی تھا. باباجی کی محلے میں آمد سے پہلے محلے کے کسی گھر میں کچھ میٹھا بنتا تھا یا عید شب برات کا کھانا صرف حاجی صاحب کو ہی آیا کرتا تھا. اب چونکہ باباجی وہیں مسجد کے باہر بیٹھے ہوتے تھے تو کھانے کے دو حصے دار ہوگئے. ویسے تو حاجی صاحب کے حصے پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا مگر آدمی وہ تھوڑے سے لالچی واقع ہوئے تھے

 

ایک دن تو غضب ہوگیا. بخشو کوچوان کے گھر لڑکا پیدا ہوا تو اس نے میٹھے چاولوں کی دیگ دی اور ٹرے بھر کر حاجی صاحب کو بھجوا دیا. لانے والا بھی کوئی لاپرواہ بچہ تھا. اس بیچارے نے مسجد کے اندر جانے کے بجائے ٹرے باہر باباجی کے سامنے رکھ دی اور رفو چکر ہوگیا. باباجی کی بھوک ہی کتنی تھی. دو لقمے لئے اور ٹرے پر خوان پوش دے کر ایک طرف رکھ دی. تھوڑی دیر بعد حاجی صاحب توند پر ہاتھ پھیرتے باہر نکلے اور ٹرے دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئے

‘یہ میٹھے چاول کہاں سے آئے؟’

رزق دینا اوپر والے کا کام ہے.’ باباجی نے حسب عادت مسکراتے ہوئے جواب دیا. ‘اب اس سے کون پوچھے کہ کہاں سے دیا اور کیسے دیا؟

‘لو تم بھی چکھ کر دیکھو. بہت مزے کے بنے ہیں’

یہ کہ کر بابا پائڈ پائپر نے ٹرے حاجی صاحب کی جانب سرکا دی

میں اب تمہارا جوٹھا کھاؤں گا؟’ حاجی صاحب نے غصے سے کانپتے ہوئے پوچھا اور پاؤں سے ٹھوکر مار کر چاولوں بھری ٹرے گندی نالی میں پھینک دی

خدا کے دیئے رزق کی عزت کرنا سیکھو حاجی ورنہ اس کیلئے رزق تنگ کرنا کچھ مشکل نہیں.’ بابا جی نے آسمان کی طرف شہادت کی انگلی بلند کی اور آنکھیں بند کر لیں

حاجی صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا اور تلملاتے ہوئے واپس اپنے حجرے میں چلے گئے

 

حاجی صاحب اور بابا جی کے درمیان دوسری اور آخری جنگ عظیم چھیمو گونگی کے معاملے پر ہوئی

 

چھیمو بیچاری ناٹے سے قد کی اور کالی رات کی طرح کالی ایک گونگی فقیرنی تھی. کچھ ذہنی طور پر معذور بھی تھی. باباجی کے آنے سے پہلے وہ کبھی کبھی حاجی صاحب سے نظر بچا کر مسجد کے چبوترے پر رات گزار لیتی تھی. پھر ایک رات، اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر محلے کے کسی بدبخت نے وہیں چبوترے پر اس کی عزت لوٹ لی. بیچاری چھیمو کس کو اور کس طرح شکایت لگاتی؟ وہیں پڑی روتی سسکتی رہی اور اپنی پھٹی ہوئی قمیض سے اپنا ننگا جسم چھپانے کی ناکام کوشش کرتی رہی. صبح فجر کی نماز کے بعد حاجی صاحب کی نظر پڑی تو دھکے مار مار کر اس غریب کو وہاں سے بھگا دیا

 

چھیمو کی کمبختی کہ زیادتی کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئ. پہلے تو پتا نہیں چلتا تھا مگر پھر پیٹ نمایاں ہونے پر اس بیچاری کا محلے سے گزرنا عذاب بن گیا. بھیک مانگنا اس کی مجبوری تھی. مگر محلے میں داخل ہوتے ہی اب آوارہ بچے پیچھے لگ جاتے اور گا گا کر پوچھتے کہ اس کے پھولے پیٹ میں کیا ہے. کبھی پتھر بھی مارتے. وہ غریب مار اور گالیاں کھاتی رہتی مگر پھر بھی در در مانگنے پر مجبور تھی

 

اس دن بھی ایسا ہی ہوا. چھیمو کا محلے میں داخل ہونا تھا کہ بچوں کا ایک جم غفیر اس کے پیچھے لگ گیا. مسجد کے سامنے پہنچی ہی تھی کہ ایک لونڈے نے تاک کر ایک نوکیلا اور اچھا خاصا بڑا پتھر دے مارا جو سیدھا چھیمو غریب کے سر میں جا لگا اور اس کے سر سے خون پرنالے سے پانی کی طرح بہنے لگا. یہ دیکھ کر بابا جی بےچین سے ہو کر فوری اٹھے، بچوں کو سرزنش کی اور چھیمو کی مدد کرنے کو بڑھے. اس غریب کو باباجی کی صورت میں نجانے کیا نظر آیا، دوڑ کر ان کے قدموں سے لپٹ گئ اور چیخ چیخ کر رونا شروع کر دیا. باباجی نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور پھر چبوترے پر بیٹھ کر اپنے چوغے کے دامن سے اس کا خون پونچھنا شروع کر دیا

 

باہر گلی میں شوروغوغا سن کر حاجی صاحب بھی باہر نکلے اور پھر چھیمو کو بابا جی کی گود میں سر رکھ کر روتا دیکھ کر بپھر گئے

‘حرام زادی! گشتی! تو پھر آ گئ اپنا کالا منہ لے کر. جا دفعہ ہوجا’

یہ کیہ کر حاجی صاحب نے ایک لات اس بیچاری کے پھولے پیٹ پر رسید کی تو وہ غریب درد سے وہیں دوہری ہوگئ

‘خدا کے بندوں کی عزت کرنا سیکھ حاجی ورنہ اس کو عزت واپس لیتے ہوئے وقت نہیں لگتا’

یہ کہتے ہوئے باباجی کی شہادت کی انگلی حسب معمول آسمان کی طرف بلند تھی البتہ ان کے چہرے پر کوئی مسکراہٹ نہیں تھی. دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ یوں لگتا تھا کہ جیسے ان کی آنکھوں سے نادیدہ شعلے سے نکل رہے ہوں

‘جا بڑا آیا خدا کے بندوں کی وکالت کرنے والا. جا تو بھی اپنی معشوق کے ساتھ اپنے خدا کے پاس دفع ہوجا’

حاجی صاحب نے نہایت نفرت سے کہا اور واپس حجرے میں چلے گئے

‘خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کس نے، کب اور کہاں دفع ہونا ہے’

باباجی نے حاجی صاحب کی چوڑی چکلی پشت کو مخاطب کیا اور پھر ایک رکشا بلوا کر چھیمو کو ہسپتال لے گئے

مگر چھیمو اسقاط حمل اور اس کے نتیجے میں زیادہ خون بہ جانے کی وجہ سے نہیں بچ سکی. بیچاری کی لاش کو ایدھی والوں نے دفنا دیا مگر حاجی صاحب کی طرف کسی نے اشارہ تک نا کیا

 

جس روز چھیمو فوت ہوئی اس دن بھی شام کو بابا جی چبوترے پر بیٹھے شہنائی بجاتے رہے. لیکن اس شام ان کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی اور شہنائی کی آواز میں کوئی خوشی نہیں تھی

 

دو چار روز بعد حسب عادت حاجی صاحب ظہر کی نماز پڑھا کر قاضی کرم دین کونسلر کے گھر چلے گئے. ان کی سب سے بڑی بیٹی کے ساتھ کچھ نفسیاتی مسلہ تھا جس کو حاجی صاحب جن کا سایہ بتاتے تھے اور ہر ہفتے کونسلر کے گھر جا کر اور لڑکی کے ساتھ اکیلے کمرے میں بند ہو کر، جن اتارا کرتے تھے. اس روز حاجی صاحب کی قسمت خراب تھی کہ عین موقع پر کونسلر کی بیوی کمرے میں داخل ہوگئ. جن تو کیا اترا ہونا تھا، بے ہوش لڑکی کے کپڑے ضرور اترے ہوئے تھے. بیوی کے شور کرنے پر کونسلر اور اس کا جوان بیٹا لطیف موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے وہیں گھر میں حاجی صاحب کو لاتوں، گھونسوں اور ڈنڈوں سے اتنا مارا کہ ان کی موت واقع ہوگئ

 

سارے محلے کو حقیقت کا پتہ تھا مگر کونسلر کا اثر و رسوخ اتنا تھا کہ پولیس نے ایک چکّر بھی نہیں لگایا اور راتوں رات حاجی صاحب کی تدفین کر دی گئ. حاجی صاحب کا چھیمو کو مارنا، باباجی کا وارننگ دینا اور پھر حاجی صاحب کا قتل. اس واقعہ نے بھی بابا پائڈ پائپر کے بارے میں ایک نئی کہانی کو جنم دے دیا. اس کا فائدہ باباجی کو یہ ہوا کہ حاجی الله بخش مرحوم کی جگہ سنبھالنے والے مولوی عبدل جبار باباجی سے ڈرنے لگے

 

 بابا جی کا ذکر ہو رہا ہے تو اب یہ بھی بتاتا چلوں کہ ان کا یہ نام کیسے پڑا

 

ان کا یہ نام اسی محلے میں رہنے والے ماسٹر غلام رسول نے رکھا تھا جو قریب ہی ایک سرکاری اسکول میں پندرہ سال پہلے تک انگریزی پڑھایا کرتے تھے. محلے کے لوگوں میں مشہور تھا کہ تھے تو وہ ملتان کے آس پاس کے کسی گاؤں کے، لیکن پنجاب یونیورسٹی میں حصول تعلیم کے دوران ہی اپنی کسی ہم جماعت سے محبت ہو گئ تھی. اس کی شادی کہیں اور ہوگئ لیکن ماسٹر صاحب نے ساری زندگی اس کی یاد میں شادی نہیں کی اور یہیں لاہور میں مستقل ٹھکانہ بنا لیا

 

ماسٹر صاحب بہت ہی شریف النفس بزرگ اور پڑھے لکھے آدمی تھے. ان کو کبھی کسی نے اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھا تھا. وہ غالباً واحد آدمی تھے جو آتے جاتے باباجی کو سلام ضرور کرتے تھے اور اگر باباجی شہنائی بجا رہے ہوتے تھے تو وہیں کھڑے ہوجاتے،  چپ چاپ سنتے رہتے اور پھر آنکھیں پونچھتے گھر چلے جاتے.

ایک دن موڈ میں آئے تو کہنے لگے

‘آپ کی شہنائی میں تو پائڈ پائپر کا سا جادو ہے’

‘پائڈ پائپر؟’ باباجی نے مسکرا کر پوچھا. ‘وہ کون ہے بھلا؟’

ہے نہیں تھا.’ ماسٹر صاحب نے جواب دیا. ‘کہانی مشہور ہے کہ وہ اپنی شہنائی کے جادو سے ایک شہر سے طاعون کے سب چوہے بھگا کر لے گیا تھا. آپ کی شہنائی بھی جادو ہے. بجاتے ہیں تو دل یوں ایک دم ہلکا سا ہوجاتا ہے

یہ نفرت اور ظلم، طاعون جیسی بیماریاں ہی تو ہیں ماسٹر.’ باباجی نے کہا. ‘جب پھیل جاتی ہیں تو دل سخت کر دیتی ہیں اور آخرکار سب برباد ہو جاتا ہے. میری شہنائی سے محبت کی اور دل نرم کرنے والی دھنیں پھوٹتی ہیں

آپ کا کیا خیال ہے……..’ ماسٹر صاحب نے محلے کے گھروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا. ‘آپ کی شہنائی اس محلے سے نفرت کے یہ چوہے بھگا سکے گی؟

میرا کام صرف دلوں کی مٹی نرم کر کے محبت کا بیج بونا ہے. بیج سے پودا اگانا اور پھر پودے کو درخت بنانا اس کریم ذات کا کام ہے.’ باباجی نے شہادت کی انگلی بلند کرتے ہوئے کہا

اچھا یہ بتاؤ ماسٹر صاحب….’ باباجی نے اچانک پوچھا. ‘چوہوں کو تمھارے پائڈ پائپر نے بھگا تو دیا مگر پھر کیا ہوا؟

پھر…..’ ماسٹر صاحب نے مسکراتے جواب دیا. ‘پھر شہر کے لوگوں نے وعدہ خلافی کی اور اس کو اسکا مقرر کردہ معاوضہ دینے سے مکر گئے

.پھر کیا ہوا؟’ باباجی نے پوچھا’

پھر سزا کے طور پر اس پائڈ پائپر نے اپنی جادوئی شہنائی بجائی تو شہر بھر کے سب بچے اس کے پیچھے چل پڑے. وہ ان سب کو لے کر ایک پہاڑ کے دامن میں کہیں ایسا غایب ہوا کہ پھر کبھی نہ ملا

پتہ نہیں ماسٹر صاحب کی یہ کہانی سچی تھی کہ نہیں لیکن اس دن سے باباجی کا نام بابا پائڈ پائپر ضرور پڑ گیا

 

باباجی کی ذات کچھ پراسرار ضرور تھی. پہلے تو یہ صرف لوگوں کا شک تھا لیکن پھر اس دن یہ شک یقین میں بدل گیا جس دن نظام دین موچی کا بیٹا، قاضی کرم دین کونسلر کی منجھلی بیٹی کو گھر سے بھگا لے گیا تھا. جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ اس جرم کی پاداش میں نظام دین کی بیوی اور بیٹی کو ننگا کر کے پورے محلے میں بطور عبرت پھرانے کی کوشسش کی گئ

 

نظام دین موچی کے بیٹے کا کیا چکّر تھا؟ وہ کیسے قاضی صاحب کی بیٹی کو بھگا کر لے گیا؟ محلے میں کسی کو اس بات کا پتہ نہیں تھا. پتہ تو اس وقت لگا جب لطیف نے، محلے سے باہر کے کچھ کرائے کے غنڈوں کے ساتھ مل کر نظام دین کے گھر کے باہر ایک تماشہ کھڑا کر دیا. پہلے تو وہ سب باہر کھڑے اونچی آوازوں میں ننگی گالیاں دیتے رہے. نظام دین کو بھی غالباً کچھ کچھ اندازہ ہو چلا تھا لہٰذا وہ دل ہی دل میں بیٹے کو گالیاں دیتا گھر کا دروازہ بند کئے خاموش بیٹھا رہا. اس کی بیوی اور جواں بیٹی دونوں کا ڈر کے مارے حال خراب تھا. ماں جائے نماز پر بیٹھی عافیت کی دعایئں کر رہی تھی اور سولہ سترہ سال کی جوان بچی آندھی میں بید مجنوں کی شاخ کی طرح کانپ رہی تھی

 

جب اندر سے کوئی آواز نہیں آئ اور نا کوئی باہر نکلا تو لطیف نے اپنے ساتھی غنڈوں کے ساتھ مل کر دروازہ توڑ ڈالا. تھوڑی دیر تو اندر ایک طوفان بدتمیزی برپا رہا اور برتن ٹوٹنے اور عورتوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں آتی رہیں. پھر یک دم لطیف اور اس کے غنڈے، نظام دین اور اسکی بیوی اور بیٹی کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے باہر گلی میں لے آئے

 

یہ سب دیکھ کر بابا پائڈ پائپر چبوترے سے اٹھ کر یک دم کھڑے ہوگئے اور اس مجمعے کی طرف بڑھے. لیکن دیکھتے ہی دیکھتے لطیف نے دونوں عورتوں کے کپڑے پھاڑ کر ان کو الف ننگا کر دیا اور وہ اور اس کے ساتھی غنڈے ان کے گرد ایک دائرے میں کھڑے ہو کر گالیاں دینا شروع ہوگئے

.خدا کے لئے ہمیں معاف کر دو.’ نظام دین نے لطیف کے پاؤں میں گرتے ہوئے اور روتے ہوئے فریاد کی’

تیرے بیٹے نے معاف کیا تھا میرے خاندان کو؟’ لطیف نے اس غریب کے سر پر ایک زوردار ٹھوکر رسید کرتے ہوئے کہا

‘اب بھگت’

‘چلو ان دونوں کو آگے لگاؤ. پورے محلے اور بازار کی سیر کرواؤں گا میں آج’

لطیف نے اپنے غنڈوں کو اشارہ کیا تو دونوں عورتوں نے جو اب تک اپنی برہنگی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہیں تھیں، چیخ چیخ کر رونا اور فریاد کرنا اور محلے والوں کو مدد کیلئے پکارنا شروع کر دیا. لیکن کس کا دماغ خراب تھا کہ مدد کو آتا؟ دروازوں کے آگے لٹکے پردوں کی حرکت سے اندازہ ہوتا تھا کہ سب دروازوں میں لوگ چپ چاپ کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے مگر کسی نے باہر گلی میں نکلنے کی جرات نہیں کی

 

‘بس!’

فضاء میں باباجی کی آواز گونجی تو لطیف اور اس کے ساتھیوں نے مڑ کر دیکھا

‘تم بیچ میں مت آؤ بابے!’ لطیف نے غصے سے کہا. ‘یہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے’

آپس کا معاملہ ہے تو چاردیواری میں حل کرنا چاہئے تھا.’ باباجی کا لہجہ نرم ضرور تھا مگر اس لہجے میں کمزوری کی کوئی نشانی نہیں جھلک رہی تھی. ‘اور پھر یوں ان بچیوں کی عزت سر بازار اچھالنے کی اجازت تمھیں کس نے دی؟

 

‘بابے کو اپنی بکواس کرنے دو!’ لطیف نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا. ‘جو میں نے کہا، تم وہ کرو. گھسیٹ کر لے چلو ان دونوں کو بازار میں’

.خبردار!’ باباجی کی آواز پھر گونجی اور لطیف اور اس کے ساتھیوں کے قدم جیسے زمین نے جکڑ لئے’

باباجی نے آگے بڑھ کر لطیف کے کندھوں سے کشمیری دوشالہ اتارا اور بچی کا جسم اس سے ڈھانپ دیا اور ساتھ ہی نظام دین کو بھی اشارہ کیا

 

نظام دین پہلے تو کھڑا ڈر کے مارے کانپتا ہوا لطیف اور اس کے ساتھیوں کی طرف دیکھتا رہا. مگر وہ سب تو اپنی جگہ ایسے بت بنے کھڑے تھے کہ جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں. یہ دیکھ کر نظام دین نے ہمت پکڑی. اپنی قمیض اتار کر اپنی بیوی کو پہنائی اور پھر دونوں کو لے کر گھر میں واپس اندر چلا گیا

 

گھر کا دروازہ بند ہوا تو بابا پائڈ پائپر سکون کے ساتھ مڑے اور واپس جا کر مسجد کے چبوترے پر بیٹھ گئے. کچھ دیر ان کی نظریں خلاء میں کسی غیر مرئ نقطے پر مرکوز رہیں اور پھر انہوں نے شہنائی اٹھا کر بجانا شروع کر دی

 

فضاء میں شہنائی کی دھن گونجی تو لطیف اور اس کے ساتھی جیسے ہوش میں واپس آگئے. ان سب نے سٹپٹاتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا کہ جیسے کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں. پھر غنڈے تو سر کھجاتے اور نشئیوں کی طرح ڈھیلے ڈھالے قدموں پر چل کر وہاں سے غایب ہوگئے لیکن لطیف وہیں کھڑا چپ چاپ باباجی کی طرف دیکھتا رہا

 

تھوڑی دیر اور گزری تو لطیف کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے. وہ بھی آہستہ آہستہ چلتا قریب آیا اور وہیں چبوترے پر ایک طرف، باباجی کے سامنے اور شیدے کے پہلو میں بیٹھ کر شہنائی سننے لگا. اس دن کے بعد سے وہ وہیں چبوترے پر شیدے کے ساتھ بیٹھا نظر آنے لگا

 

اپنے جوان بیٹے کی بدلی ہوئی حالت دیکھ کر ایک دن قاضی کرم دین کونسلر نے شیخ محبوب کو ساتھ لیا اور دونوں باباجی کے سامنے آ کر کھڑے ہوگئے

.یہ تو نے ہمارے بچوں پر کیا جادو کر دیا ہے؟’ قاضی صاحب نے سختی سے پوچھا’

جادو نہیں کیا…….’ باباجی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا. ‘بس ان کا دل نرم کر کے نفرت کے چوہے بھگائے ہیں اور محبت کا بیج بویا ہے

نہیں تو نے ان بچوں پر کوئی تعویذ گنڈا کیا ہے.’ شیخ صاحب نے غصے سے کانپتے ہوئے کہا. ‘اسی وقت ان دونوں کو اپنے جادو سے آزاد کر دے ورنہ بہت برا ہوگا

آزاد تو اب یہ تب ہی ہوں گے جب محبت کا بیج پھوٹ کر پودا بنے گا.’ باباجی نے سکون سے کہا اور پھر سے شہنائی اٹھا کر منہ سے لگا لی

.تیری تو ایسی کی تیسی!’ قاضی صاحب نے نیفے میں اڑسا پستول نکالتے ہوئے کہا’

 

ابھی قاضی صاحب باباجی پر پستول تان ہی رہے تھے کہ شیدا اور لطیف دونوں اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور جا کر اپنے باپوں کے سامنے سینہ تان کر مگر خاموشی سے کھڑے ہوگئے. شیخ صاحب اور قاضی صاحب اپنے بیٹوں کی خالی آنکھوں میں جھانکتے رہے. پھر مایوس ہو کر گھر لوٹ گئے

 

تھانیدار سلامت خان کا بیٹا جعفر عرف جیرا، شیدے اور لطیف کا تیسرا دوست تھا اور غنڈہ گردی اور بدمعاشی کے تمام معاملات میں پیش پیش رہا کرتا تھا. باپ نے کبھی پوچھا نہیں تھا لہٰذا شتر بے مہار پھرتا تھا. جب سے لطیف اور شیدا باباجی کے زیر سایہ چلے گئے تھے، وہ اکیلا رہ گیا تھا. وہ دونوں تو اس کی باتوں کا جواب دیتے نہیں تھے اور اس کے سب سوالوں کے جواب میں بس خالی خالی آنکھوں سے اسے گھورتے رہتے تھے. ایک دن تنگ آ کر وہ بھی باباجی کے پاس چلا گیا

 

یہ دونوں سارا دن آپ کے پاس بیٹھے کیا کرتے رہتے ہیں؟’ جیرے کے دل میں باباجی کا خوف بیٹھا ہوا تھا اس لئے بدتمیزی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا

‘کچھ نہیں کرتے.’ باباجی نے مسکرا کر جواب دیتے ہوئے کہا. ‘بس یہاں میرے پاس بیٹھے شہنائی سنتے رہتے ہیں’

.شہنائی میں ایسا کیا ہے کہ یہ دونوں سب دنیا بھول گئے؟’ جیرے نے ہمت کر کے پوچھا’

شہنائی درد بھری دھنیں بجاتی ہے جو نفرت کے چوہوں کیلئے زہر ثابت ہوتی ہیں. یہ دھنیں چوہوں کو مار بھگاتی ہیں اور ان بچوں کا دل نرم کرتی ہیں اور محبت کے بیج کو پروان چڑھاتی ہیں

.لو تم بھی سنو!’ باباجی نے شفقت سے کہا اور شہنائی لبوں سے لگا لی’

شہنائی کی آواز فضاء میں گونجی تو جیرا بھی وہیں کا وہیں بیٹھا رہ گیا اور پھر نا اٹھ سکا

 

خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئ

 

میں ذکر کر رہا تھا محلہ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کا جس کے آخر میں منشی احمدعلی اور اس کے خاندان کو محلے سے نکالنے کا فیصلہ کیا جا رہا تھا جب باباجی نے دخل اندازی کرنا ضروری سمجھا تھا

_________________________________________________________

 

ٹھیک ہی تو کہتا ہے عبدل جبار. احمد علی اور اسکے خاندان کو مار دینا ہی بہتر ہے. جہاں جائے گا وہاں سے نکالا جائے گا. اوپر بھیج دیتے ہیں. میرا الله خود اس کی پکی رہائش کا بندوبست کر دے گا

ایک نرم اور میٹھی سی آواز گونجی تو سب نے مڑ کر دیکھا

سامنے بابا پائڈ پائپر کھڑا اور ہاتھ میں اپنی شہنائی پکڑے مسکرا رہا تھا

 

.منشی احمد علی کافر ہے. خدا کا گناہگار ہے.’ مولوی عبدل جبار نے چمک کر جواب دیا’

.خدا کا گناہگار ضرور ہوگا. ہم سب خدا کے گناہگار ہیں.’ باباجی نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا’

.خدا کی لعنت ہے اس پر.’ مولوی صاحب نے پھر اصرار کیا’

اچھا؟’ باباجی نے اچھنبے سے پوچھا. ‘لیکن کچھ عجیب سی لعنت ہے کہ خدا اس کو رزق پھر بھی دیتا ہے. سر چھپانے کو ٹھکانا بھی دیا ہے

تم بیچ میں مت آؤ باباجی ورنہ اس دفع معافی نہیں ملے گی. یہ معاملہ کفر اور ایمان کا ہے.’ تھانیدار سلامت خان نے آگے بڑھ کر کہا

تھانیدار کا یہ کہنا تھا کہ پوری کمیٹی کے ممبران نے اپنی گردنوں کو اثبات میں جنبش دی

 

بلکہ آج موقع محل بھی ہے. محلہ کمیٹی کے تمام معزز ارکان بھی موجود ہیں.’ قاضی صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے اور اپنی چھدری داڑھی کریدتے ہوئے کہا

ہم سب کا یہ فیصلہ ہے کہ تم آج ہی یہ محلہ چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے کہیں دور چلے جاؤ. ہمیں تمھاری کوئی ضرورت نہیں ہے

درست فرمایا آپ نے.’ تھانیدار سلامت خان نے وردی کی پتلون اوپر کھینچتے ہوئے قاضی صاحب کی ہاں میں ہاں ملائی

.بے شک!’ شیخ صاحب نے بھی سر ہلایا’

محلہ کمیٹی کے باقی ممبران میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا

 

بابا پائڈ پائپر کچھ دیر خاموشی سے کھڑے مسکراتے رہے اور محلہ کمیٹی کے تمام ممبران کی طرف دیکھتے رہے

ٹھیک ہے اگر آپ سب لوگوں کا یہ ہی فیصلہ ہے تو میں چلا جاتا ہوں. ویسے بھی میرا نہیں خیال یہاں اس محلے میں میری کوئی ضرورت باقی رہ گئ ہے

 

باباجی یہ کہ کر چبوترے کی طرف گئے، ہاتھ میں پکڑی شہنائی وہاں چپ کر کے بیٹھے جیرے، لطیف اور شیدے کے درمیان رکھی؛ اور آہستہ آہستہ قدموں سے چلتے ہوئے محلہ محبتیاں سے اور ہماری زندگیوں سے ہمیشہ کے لئے نکل گئے

 

.کیا یہ واقعی اتنی آسانی کے ساتھ محلہ چھوڑ کر چلا گیا ہے؟’ مولوی عبدل جبار کی خوشی دیدنی تھی’

.لگتا تو یہ ہی ہے.’ تھانیدار نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا’

.خس کم جہاں پاک!’ قاضی صاحب نے ایک اطمینان کی ایک لمبی سانس بھرتا ہوئے کہا’

چلو اپنے بچوں کو گھر لے چلیں.’ شیخ صاحب نے کھلی ہوئی باچھوں کے ساتھ چبوترے کی جانب جانے کی کوشش کی تو قاضی صاحب نے بازو پکڑ کر روک لیا

جادوگر دفع ہوگیا ہے تو اس کا جادو بھی ٹوٹ جائے گا. سختی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں. یہ تینوں خود ہی گھروں کو واپس آ جایئں گے

اس کے ساتھ ہی محلہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس برخواست ہوگیا

 

اگلے روز جمعہ تھا. نماز کے بعد محلہ کمیٹی کے سب ارکان باہر نکلے تو جیرا، شیدا اور لطیف وہیں چبوترے پر بیٹھے تھے

.یہ تینوں رات گھر نہیں آئے. لگتا ہے رات یہیں چبوترے پر گزار دی.’ شیخ صاحب نے پریشانی سے کہا’

کوئی بات نہیں!’ قاضی صاحب نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا. ‘پہلے منشی احمدعلی اور اس کے خاندان کو باہر نکال دیں، پھر ان کو گھر لے جایئں گے

 

.کون ہے؟’ تھانیدار سلامت خان نے دروازہ بجایا تو اندر سے منشی احمد علی کی آواز گونجی’

.باہر نکلو!’ تھانیدار نے سختی سے کہا’

.ارے آپ سب لوگ….خیریت تو ہے؟’ منشی کو کچھ کچھ حالات کا اندازہ ہو چلا تھا’

خیریت نہیں ہے.’ قاضی صاحب نے آگے بڑھ کر جواب دیا. ‘لیکن خیریت ہو سکتی ہے اگر تم اپنے کافر خاندان کو لے کر ابھی اس وقت اس محلے سے کہیں دور دفع ہوجاؤ

 

.نہیں ابا!’ اچانک قاضی کرم دین کونسلر کا بیٹا اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوگیا’

نہیں ابّا اب ایسے نہیں ہوگا. ہم مسلمان ہونے سے پہلے انسان ہیں اور آج سے ہم انسانوں کی طرح مل جل کر رہیں گے

تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے؟ یہ کافر ہے.’ قاضی صاحب کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اتنے عرصے سے خاموش اپنے بیٹے کے پہلی دفعہ بولنے پر خوشی کا اظہار کریں یا اس کے اس طرح روکنے پر برہم ہوں

لطیف ٹھیک کیہ رہا ہے.’ جیرے نے یکدم آگے بڑھ کر کہا. ‘ہم تم لوگوں کو منشی کو اس محلے سے نہیں نکالنے دیں گے

جعفر!’ تھانیدار سلامت خان نے چونک کر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا. ‘یہ ناموس رسالت کا معاملہ ہے میرے بچے. تم اس معاملے میں مت پڑو اور اپنے دوستوں کو لے کر گھر جاؤ. تمھاری ماں کب سے تمھاری راہ دیکھ رہی ہے

جس پاک ذات کی ناموس کا نام لے کر آپ منشی صاحب کو اس محلے سے نکال رہے ہیں، اس کا دل ہماری ماؤں سے بھی زیادہ محبت، شفقت اور برداشت سے لبریز تھا.’ اب تک خاموش کھڑا شیدا بھی بول پڑا

 

یہ کہ کر شیدے نے جیرے اور لطیف کا ہاتھ پکڑا اور وہ تینوں منشی احمد علی کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے

.لگتا ہے محبت کا بیج پھوٹ کر پودا بن ہی گیا آخر کار!’ پیچھے کھڑے مسٹر صاحب کی آواز گونجی’

.کیا مطلب؟’ شیخ صاحب نے چونک کر پوچھا’

بابا پائڈ پائپر نے اپنی شہنائی کے جادو سے ہمارے اس محلے سے نفرت اور عدم برداشت کے بھیانک اور مکروہ چوہوں کو مار بھگایا تھا. مگر آپ لوگوں نے اس کی قدر نہیں کی. آپ نے اس خدمت کے عیوض اس کو اپنے محلے سے باہر نکال دیا. لہٰذا وہ سزا کے طور پر آپ کے بچے اپنے ساتھ لے گیا

You may also like

Leave a Reply