29Oct2015 ہم دونوں (The revision) Posted in Poetry Urdu by Shehryar Khawar ہم دونوں گزرے وقتوں کی داستانوں کے کردار نہ سہی انسان تو ہیں عشق کی پہچان تو ہیں ہم دونوں ہیر رانجھا سوہنی مہینوال نا سہی انسان تو ہیں دل کی دنیا پے حکمران تو ہیں ہم دونوں عقل و خرد کے خواستگار نا سہی انسان تو ہیں بللھے شاہ کے ترجمان تو ہیں ہم دونوں آتش فرقت کے قابل نا سہی انسان تو ہیں جذبات کی تنی کمان تو ہیں ہم دونوں خدا و مذہب کے طلبگار نا سہی انسان تو ہیں خیال یار کے پاسبان تو ہیں ہم دونوں فرسودہ رسومات کے پابند نا سہی انسان تو ہیں نیّت شوق کے نگہبان تو ہیں انسان کے جن میں محبّت کرنے کا جذبہ ایک ہونے کی خواھش لازوال بھی ہے بےمثال بھی ہے بات ہوتی ہے عشق کرنے کی ایک ہونے کی مگر عشق کرنے سے ایک ہونے سے روکنے والی سنگلاخ دیواریں اور بھی ہیں عشق کرنے سے ایک ہونے سے روکنے والی قہر کی اقداراور بھی ہیں دیواریں کے جن کی اساس سنگدل پتھر ہیں قہر کے جن کی بنیاد سلگتے جبر ہیں دیواریں جو میرے تیرے درمیان ایستادہ ہیں اقدار جو میرے تیرے درمیان معلق ہیں دیواریں جو فاصلوں کو جنم دیتی ہیں اقدار جو فرقتوں کو جلا دیتی ہیں (jila) ہم دونوں ہم بےبس ناچار ہی سہی کمزورو لاچار ہی سہی مگر ہماری طاقت محبّت ہے ہماری قوّت امید ے قربت ہے ایک ہونے کی خواھش ہے ایک ہونے کا مطلب جسموں کا ملاپ بھی روحوں کا اتصال بھی ایک ہونے کا مطلب عکسے ماہتاب بھی خشبوے گلاب بھی آؤ عہد کریں دیوارے ظلم ڈھانے کا جبر کو مٹانے کا محبّت کرنے کا آؤ عہد کریں بادے مخالف سے لڑنے کا فاصلے عبور کرنے کا ایک ہونے کا آؤ عہد کریں، آؤ تجدید کریں کہ مجھے تم سے محبّت ہے شہریار خاور Share this: Click to share on X (Opens in new window) X Click to share on Facebook (Opens in new window) Facebook Click to share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Like Loading... Related
Pingback: ہم دونوں (The revision) | shehryar khawar
I couldn’t resist commenting. Exceptionally well written!
LikeLike
I am so very grateful for your kindness
LikeLike