آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

وہ محبت جو کبھی کی تو بڑے شوق سے تھی

وہ محبت جو نامکمل تھی، نامکمل ہی تمام ہوئی

وہ چاہت کہ جس کا چراغ کبھی شام کی رونق تھی

وہ چاہت جو نا کبھی میری، نا کبھی تیری غلام ہوئی

وہ انا جو کبھی عشق کی دہلیز پر چکنا چور تھی

وہ بے خودی جو نا عشق تھی، نا کبھی عشق انجام ہوئی

وہ خون لفظ جو کبھی زنگ خوردہ زنجیر تھی

وہ نظم جو ادھوری تھی، ادھوری ہی زبان زد عام ہوئی

آؤ وہ پرانے خواب، اپنی صحرا آنکھوں سے

خود ہی کھنگالتے ہیں، خود ہی سوچتے ہیں

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

Continue Reading

زندگی کے سٹیشن پر

تم اس ٹرین کے مسافر تھے

میں اس ٹرین کا مسافر تھا

تمہاری ٹرین مشرق کو

میری ٹرین مغرب کو

مدھم پڑتی کرنوں کی

پٹڑیوں کے جالے پر

بھاگتی تھیں دھڑ دھڑ وہ

Continue Reading

مٹی دے باوے

Little Clay Dolls

ایتھے مٹی دے نے سارے

سوہنی سوہنی مورتاں وی

کالیاں پھکی صورتاں وی

اچے لمے شملے وی

ٹلھے ماٹھے کملے وی

مٹی دے سارے باوے نیں

کروڑ تے ہزار

Continue Reading

وعدہ

holding_hands_by_annakoutsidou_d5ssqyh-fullview

جب خوشیاں ہر سو مہکیں گی

اور روشن سارے پل ہوں گے

یا ہر تمنا پا کر تم

کھلکھلاتے ہنس دو گے

جب امید افق پر چمکے گی

اور کوئی اپنا بھی پاس ہو گا

یا تم قسمت کے دامن سے

خوشیاں ساری چن لو گے

میں اب بھی تمھارے ساتھ ہی ہوں

میں تب بھی تمھارے ساتھ ہوں گا

Continue Reading