نظر بٹو کا عشق

maxresdefault

.مولوی صاحب!’ نظر بٹو نے ڈرتے ڈرتے مولوی مشتاق کو اپنی طرف متوجوہ کیا’

.ہاں! ہاں! کہو بیٹے، کیا بات ہے؟’ مولوی صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا’

‘مولوی صاحب’

ہاں! ہاں! بولو شاباش، کیا مسلہء ہے؟’ مولوی صاحب نے اس غریب کو ہچکچاتے دیکھ کر شفقت سے پوچھا

.مولوی صاحب! کوئی دم درود تو تجویز کریں.’ نظر بٹو نے شرماتے ہوئے کہا’

‘دم درود؟ وہ کس لئے بھائی؟’

وہ…..میرے قد کیلئے. کوئی ایسا  وظیفہ بتایئں کہ میرا قد لمبا ہوجاۓ.’ اس نے بدستور شرماتے ہوئے اور سر جھکا کر کہا

.لاحول ولا قواتہ! قران نا ہوگیا جادو ٹونہ ہوگیا.’ مولوی مشتاق نے جلال میں آ کر کانوں کو ہاتھ لگایا’

آپ تو ناراض ہوگئے مولوی صاحب!’ بیچارے نظر بٹو کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے گالوں پر لڑھک گئے. ‘آپ میری آخری امید تھے. میں بڑا مان لے کر آیا تھا

ہوں….!’ مولوی صاحب نے نظر بٹو کو گھورتے ہوئے ایک لمبا ہنکارا بھرا. پھر انکو اس کی آنکھوں میں تیرتے آنسو دیکھ کر ترس آگیا

‘دیکھو میاں جلال الدین’

.نظر بٹو نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا

.بھائی تمہارا نام جلال الدین نہیں ہے؟’ مولوی صاحب نے جھنجلا کر پوچھا’

تھوڑی دیر تو نظر بٹو خالی خالی آنکھوں سے مولوی صاحب کو دیکھتا رہا. پھر اچانک اسکی کالی معصوم آنکھوں میں چراغ سے جل اٹھے

Continue reading

مون – دی گریٹ گٹار پلیئر

guitar-player-sketch

مون! تو الو کا پٹھا ہے اور الو کا پٹھا ہی رہے گا ہمیشہ.’ ابا جی نے غصے میں پھنپھناتے ہوئے کہا. مخاطب میں تھا – ان کا انیس سالہ بیٹا مون

‘اس گٹار بجانے میں کچھ نہیں رکھا. برباد ہو جائے گا اس کام میں. لاکھ دفعہ کہا ہے، اگر پڑھنے لکھنے کا دل نہیں کرتا، میرے ساتھ دوکان پر جا کر بیٹھا کر. چار پیسے کمانا سیکھ لے. مگر کہاں؟ تو بے غیرت کا بے غیرت. پتہ نہیں مر کیوں نہیں جاتا؟

Continue reading

Last Dance of the Golden Butterflies

golden_butterflies-wallpaper-1440x960

            The sky was intermittently dark. Each period of darkness ended in a lightening flash. Each flash was succeeded by a deep growl up above in the belly of the clouds. The light breeze smelt of a subtle promise of rain.

            The old man with a head full of bushy silver hair stood quietly in the veranda. He was looking towards the western skies. His cloudy brown eyes were open but looked at nothing in particular. Instead they were filled with the grey shadows of memories.

Continue reading

THE WOMAN IN THE PORCELAIN MASK

porcelain__by_lugubrious_drollery

     Once I was Ashastû, son of Darsha and the resident of the ancient city of Nishapur. Once I was the bird, imprisoned by a gilded cage. I was the follower of Mazdayasna and the worshipper of Ahura Mazda.

      Like a butterfly, which once is a caterpillar, I was all that but no more. I have become the bearer of the most ancient of all legacies – the legacy of the forgotten wisdom. This is the story of my transformation and my transition, from a caterpillar to a butterfly; and from the path of dark ignorance to the path of bright wisdom.

_________________________________________________________________

Continue reading