Tales of the Ancient Turtle – Merchant of Dreams

image (9)

‘Dreams can either be the most terrible or most wonderful of all experiences, God has ever created.’ The turtle slowly opened his sleepy eyes.

 

‘Why terrible?’ I was taken aback at the turtle’s response. I thought he was a dreamer like me.

 

‘Dreams are terrible when they remain dreams. They try to survive by raising their delicate heads and breathing in the air of imagination. But a time comes when they die. And when they breathe their last, they lose their vibrant colors and turn into the grey dust of regret.’ The turtle said, sadly prodding the dry leaves littering the pale grass.

 

‘But I thought dreams were beautiful things –romance, adventure and imagination.’ I felt my legs weakening and I sat down on the pale grass besides the turtle.

 

‘Yes they are sometimes beautiful. They are beautiful once they evolve into something meaningful; something which can be cherished and something which can become a legacy. But when you allow them to die, they become the ugly remnants of their former majestic selves. And most of the dreamers do just that – they let their dreams die.’

Continue reading

ریسائیکلنگ آف ویسٹ مٹیرئل

One of the best modern short stories. Kudos to the brilliant writer!

Arooj Zaka

“جانے کیا کیا گند بلاء سنبھال کر رکھتی ہے یہ لڑکی” بواء نے ریا کی الماری میں، دھلے کپڑے رکھتے ہوئے، قدرے جھلا کر کہا۔ یہ جملہ ہم گھر والوں کے لیئے نیا نہیں تھا۔ ہر روز صبح شام، اٹھتے بیٹھتے، ریا کو ردی سنبھال کر رکھنے پر، بواء سے ایسے ہی ڈانٹ پڑتی تھی۔ وہ بھی چپ چاپ سن لیتی تھی. آخر کیوں نہ سنتی، ماں کی طرح پالا تھا بواء نے ہمیں۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ہمارا گھرانہ چار افراد پر مشتمل ہے: پتا جی، بواء، ریا اور میں…. پریا۔ پتا جی ممبئی کے بہت بڑے نہ سہی مگر، اوسط درجے کے کامیاب کاروباری آدمی ہیں. میں انکی بڑی بیٹی پریا۔۔۔ میڈیکل کی تعلیم کے بعد ہاؤس جاب کر رہی ہوں؛ اور ریا۔۔۔ شہر کے مشہور کالج سے آرٹس میں ماسٹرز کر رہی ہے. ماتا جی ریا کے پیدائش کے وقت ہی انتقال کر گئیں تھیں۔ بواء ہماری بہت پرانی ملازمہ…

View original post 1,702 more words

ہم سب قاتل ہیں

20769939_1675018275844453_4533984488710906233_n

ابّا! اس دفعہ نا، چودہ اگست پر میں، سفید رنگ کی نئی شلوار قمیض پہنوں گا.’ آٹھ سالہ ثاقب نے اپنے باپ کی گود میں گھستے ہوئے کہا

 

.اور کیا لے گا میرا بیٹا؟’ اللہ بخش نے پیار سے اس کے بال بگاڑتے ہوئے پوچھا’

 

.اور؟ اور…………ڈھیر ساری جھنڈیاں. سبز اور سفید.’ ثاقب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا’

 

سب کچھ لے کے دوں گا اپنے بیٹے کو. لیکن اپنا وعدہ یاد ہے نا؟’ الله بخش نے اپنے بیٹے کا ماتھا چومتے ہوئے کہا

Continue reading