ریسائیکلنگ آف ویسٹ مٹیرئل

One of the best modern short stories. Kudos to the brilliant writer!

Arooj Zaka

“جانے کیا کیا گند بلاء سنبھال کر رکھتی ہے یہ لڑکی” بواء نے ریا کی الماری میں، دھلے کپڑے رکھتے ہوئے، قدرے جھلا کر کہا۔ یہ جملہ ہم گھر والوں کے لیئے نیا نہیں تھا۔ ہر روز صبح شام، اٹھتے بیٹھتے، ریا کو ردی سنبھال کر رکھنے پر، بواء سے ایسے ہی ڈانٹ پڑتی تھی۔ وہ بھی چپ چاپ سن لیتی تھی. آخر کیوں نہ سنتی، ماں کی طرح پالا تھا بواء نے ہمیں۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ہمارا گھرانہ چار افراد پر مشتمل ہے: پتا جی، بواء، ریا اور میں…. پریا۔ پتا جی ممبئی کے بہت بڑے نہ سہی مگر، اوسط درجے کے کامیاب کاروباری آدمی ہیں. میں انکی بڑی بیٹی پریا۔۔۔ میڈیکل کی تعلیم کے بعد ہاؤس جاب کر رہی ہوں؛ اور ریا۔۔۔ شہر کے مشہور کالج سے آرٹس میں ماسٹرز کر رہی ہے. ماتا جی ریا کے پیدائش کے وقت ہی انتقال کر گئیں تھیں۔ بواء ہماری بہت پرانی ملازمہ…

View original post 1,702 more words

ہم سب قاتل ہیں

20769939_1675018275844453_4533984488710906233_n

ابّا! اس دفعہ نا، چودہ اگست پر میں، سفید رنگ کی نئی شلوار قمیض پہنوں گا.’ آٹھ سالہ ثاقب نے اپنے باپ کی گود میں گھستے ہوئے کہا

 

.اور کیا لے گا میرا بیٹا؟’ اللہ بخش نے پیار سے اس کے بال بگاڑتے ہوئے پوچھا’

 

.اور؟ اور…………ڈھیر ساری جھنڈیاں. سبز اور سفید.’ ثاقب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا’

 

سب کچھ لے کے دوں گا اپنے بیٹے کو. لیکن اپنا وعدہ یاد ہے نا؟’ الله بخش نے اپنے بیٹے کا ماتھا چومتے ہوئے کہا

Continue reading

کامران کی بارہ دری اور ریڈ انڈین حسینہ

d77c76cd4c58da8a898aabab435271fd

وہ دسمبر کی ایک کالی برفیلی رات تھی، جب میں نے کامران کی بارہ دری کے سامنے ایک ریڈ انڈین حسینہ کو، بھڑکتی آگ کے الاؤ کے گرد ناچتے دیکھا. ذرا سوچئے، ہر طرف چھایا رات کا گھپ، کہرے سے ٹھٹرتا اندھیرا؛ راوی کے گدلے پانی پر ناچتے دھند کے گہرے بادل، کامران کی بارہ دری کا پر آسیب ماحول اور ویرانے کا بوجھل سناٹا. ایسے میں چلتے چلتے اچانک آپ کی نظر، دور بھڑکتی آگ پر پڑتی ہے. کپکپاتے ہاتھ اور حرارت کی خواہش آپ کو، آگ کے قریب لئے جاتے ہیں. لیکن تھوڑا دور ہی سےآپ کو، آگ کے گرد ایک سایہ ناچتا دکھائی دیتا ہے. ساتھ ہی کسی اجنبی زبان اور لوچ سے بھرپور نسوانی لہجے میں، گانے کی آواز آتی ہے. آپ اور قریب جاتے ہیں تو سائے کے خد و خال نمایاں ہونے شروع ہوجاتے ہیں. آپ اپنی آنکھیں ملتے ہیں، بازوؤں پر چٹکیاں لیتے ہیں، لیکن وہ خواب نہیں حقیقت ہے. دریاۓ راوی کے کنارے واقعی ایک ریڈ انڈین حسینہ ناچ رہی ہے

___________________________________________

Continue reading