ہم سب قاتل ہیں

20769939_1675018275844453_4533984488710906233_n

ابّا! اس دفعہ نا، چودہ اگست پر میں، سفید رنگ کی نئی شلوار قمیض پہنوں گا.’ آٹھ سالہ ثاقب نے اپنے باپ کی گود میں گھستے ہوئے کہا

 

.اور کیا لے گا میرا بیٹا؟’ اللہ بخش نے پیار سے اس کے بال بگاڑتے ہوئے پوچھا’

 

.اور؟ اور…………ڈھیر ساری جھنڈیاں. سبز اور سفید.’ ثاقب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا’

 

سب کچھ لے کے دوں گا اپنے بیٹے کو. لیکن اپنا وعدہ یاد ہے نا؟’ الله بخش نے اپنے بیٹے کا ماتھا چومتے ہوئے کہا

Continue reading

کامران کی بارہ دری اور ریڈ انڈین حسینہ

d77c76cd4c58da8a898aabab435271fd

وہ دسمبر کی ایک کالی برفیلی رات تھی، جب میں نے کامران کی بارہ دری کے سامنے ایک ریڈ انڈین حسینہ کو، بھڑکتی آگ کے الاؤ کے گرد ناچتے دیکھا. ذرا سوچئے، ہر طرف چھایا رات کا گھپ، کہرے سے ٹھٹرتا اندھیرا؛ راوی کے گدلے پانی پر ناچتے دھند کے گہرے بادل، کامران کی بارہ دری کا پر آسیب ماحول اور ویرانے کا بوجھل سناٹا. ایسے میں چلتے چلتے اچانک آپ کی نظر، دور بھڑکتی آگ پر پڑتی ہے. کپکپاتے ہاتھ اور حرارت کی خواہش آپ کو، آگ کے قریب لئے جاتے ہیں. لیکن تھوڑا دور ہی سےآپ کو، آگ کے گرد ایک سایہ ناچتا دکھائی دیتا ہے. ساتھ ہی کسی اجنبی زبان اور لوچ سے بھرپور نسوانی لہجے میں، گانے کی آواز آتی ہے. آپ اور قریب جاتے ہیں تو سائے کے خد و خال نمایاں ہونے شروع ہوجاتے ہیں. آپ اپنی آنکھیں ملتے ہیں، بازوؤں پر چٹکیاں لیتے ہیں، لیکن وہ خواب نہیں حقیقت ہے. دریاۓ راوی کے کنارے واقعی ایک ریڈ انڈین حسینہ ناچ رہی ہے

___________________________________________

Continue reading

اداسی کے پیغمبر

e4101303c5d75c626be7804288674a1d

میرا نام کامران اسماعیل ہے. تقریباً پینتالیس سال عمر ہے. پیدا پاکستان میں ہوا لیکن بچپن اور جوانی ساری امریکا میں گزری. ہمیشہ سے ہی نفسیات میں دلچسپی رہی. لہٰذا سائیکالوجی میں ہی ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کیا. پھر مزید دل کیا تو سائکو انالیسس یعنی تحلیل نفسی میں مہارت حاصل کی اور لگے ہاتھوں ایک ماسٹر، کرمینالوجی میں بھی کر لیا. پہلے ٹیکساس کے ایک مشہور سائیکالوجسٹ ڈاکٹر گراہم کے ساتھ پریکٹس کرتا رہا. پھر اپنا کلینک کھول لیا. جب دو چار اچھے رسالوں میں میرے مقالے شائع ہوے تو امریکن جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے مجھے اپنے ایک اسپیشل یونٹ کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی جو میں نے فوراً قبول کر لی

Continue reading

نندیا پورکی رانی

glitter-oxcnpxo-flickr-cc-by-2-0

.امّاں؟’ ہتھیلی پر رکھی افشاں کو پھونک مار کر اڑاتے، رانی نے پوچھا’

.جی، امّاں کی جان……اب کیا ہے؟’ عایشہ نے مسکراتے ہوئے، رانی کی طرف دیکھ کر پوچھا’

امّاں میرا دل کرتا ہے، اتنی ڈھیر ساری افشاں ہو میرے آس پاس.’ رانی نے دونوں ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا. ‘اتنی افشاں ہو، اتنی افشاں ہو کے ہر طرف بکھری پڑی ہو اور میں اس میں، دوڑتی چلی جاؤں. میرے پاؤں کے نیچے افشاں، دھول کی طرح اڑتی جائے اور ہر طرف پھیل جائے

تم بھی عجیب لڑکی ہو رانی.’ عایشہ نے ہنس کر رانی کی پیشانی چومتے ہوئے کہا. ‘بھلا افشاں بھی کوئی کھیلنے کی چیز ہے؟

نہیں امّاں، مجھے بس ہوا میں اڑتی چمکتی، افشاں اچھی لگتی ہے. ایسا لگتا ہے کے میں خواب دیکھ رہی ہوں.’ رانی نے احتیاط سے افشاں کی شیشی، اپنی گڑیا کے چھوٹے سے صندوقچے میں رکھتے ہوئے کہا

اچھا پھر ایسا کرو، تم جلدی سے نندیا پور چلی جاؤ. وہاں افشاں ہی افشاں ہوگی. آسمان پر، زمین پر، ہر جگہ. وہاں خوب کھیلنا اور صبح سویرے، میرے پاس واپس آ جانا.’ عایشہ نے رانی کے بالوں میں کنگھی پھیرتے ہوئے کہا

واقعی امّاں، نندیا پور میں اتنی ڈھیر ساری افشاں ہوگی؟’ رانی نے معصومیت سے پوچھا اور پھر ماں کے اثبات میں سر ہلانے پر پوچھنے لگی: ‘کیسے جاتے ہیں نندیا پور؟ مجھے بھی بھیج دو نا ماں

بہت آسان ہے نندیا پور جانا.’ عایشہ نے بستر پر رانی کو پیار سے لٹاتے ہوئے کہا. ‘بس اب میری گڑیا آنکھیں بند کر لے. تھوڑی دیر میں نندیا پور پہنچ جائے گی

یہ سننا تھا کے رانی نے جھٹ سے آنکھیں بند کر لیں. مگر تھوڑی دیر بعد ہی، بند آنکھوں کے ساتھ کہنے لگی

‘امّاں، کیا ابّو بھی نندیا پور میں ہوں گے؟’

تھوڑی دیر تو عایشہ، ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ، بستر پر لیٹی رانی کی طرف دیکھتی رہی

‘بتاؤ نا امّاں، کیا میں نندیا پور میں، ابّو سے بھی ملوں گی؟’

‘ہاں، تمھارے ابّو بھی وہیں کہیں ہونگے. بس ان کے کندھوں پر بیٹھ کر، افشاں کا میلہ دیکھتی رہنا’

Continue reading