کلو حرامی اور پلیٹ فارم نمبر چار

محلے کے لوگ بتاتے ہیں کہ جس دن کلو حرامی کی ماں فوت ہوئی، اس کی آنکھوں سے ایک آنسو بھی نا نکل سکا. دیدے ایسے خشک پڑے تھے کہ جیسے، بارش کی بوندوں کے انتظار میں، تڑخی ہوئی اور باریک باریک دراڑوں والی سوکھی زمین. پڑوس کی ماسی بشیراں نے تو دونوں گال، تھپڑ مار مار کر لال سرخ بلکہ جامنی کر دیئے، مگر کلو نے تو جیسے قسم کھا رکھی تھی نا رونے کی. بس سرخ اینٹوں سے بنے چھوٹے سے صحن کے ایک کونے میں بیٹھا، لال لال آنکھوں سے گھورے جاتا تھا ہر آنے جانے والے کو

Continue reading