نندیا پورکی رانی

glitter-oxcnpxo-flickr-cc-by-2-0

.امّاں؟’ ہتھیلی پر رکھی افشاں کو پھونک مار کر اڑاتے، رانی نے پوچھا’

.جی، امّاں کی جان……اب کیا ہے؟’ عایشہ نے مسکراتے ہوئے، رانی کی طرف دیکھ کر پوچھا’

امّاں میرا دل کرتا ہے، اتنی ڈھیر ساری افشاں ہو میرے آس پاس.’ رانی نے دونوں ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا. ‘اتنی افشاں ہو، اتنی افشاں ہو کے ہر طرف بکھری پڑی ہو اور میں اس میں، دوڑتی چلی جاؤں. میرے پاؤں کے نیچے افشاں، دھول کی طرح اڑتی جائے اور ہر طرف پھیل جائے

تم بھی عجیب لڑکی ہو رانی.’ عایشہ نے ہنس کر رانی کی پیشانی چومتے ہوئے کہا. ‘بھلا افشاں بھی کوئی کھیلنے کی چیز ہے؟

نہیں امّاں، مجھے بس ہوا میں اڑتی چمکتی، افشاں اچھی لگتی ہے. ایسا لگتا ہے کے میں خواب دیکھ رہی ہوں.’ رانی نے احتیاط سے افشاں کی شیشی، اپنی گڑیا کے چھوٹے سے صندوقچے میں رکھتے ہوئے کہا

اچھا پھر ایسا کرو، تم جلدی سے نندیا پور چلی جاؤ. وہاں افشاں ہی افشاں ہوگی. آسمان پر، زمین پر، ہر جگہ. وہاں خوب کھیلنا اور صبح سویرے، میرے پاس واپس آ جانا.’ عایشہ نے رانی کے بالوں میں کنگھی پھیرتے ہوئے کہا

واقعی امّاں، نندیا پور میں اتنی ڈھیر ساری افشاں ہوگی؟’ رانی نے معصومیت سے پوچھا اور پھر ماں کے اثبات میں سر ہلانے پر پوچھنے لگی: ‘کیسے جاتے ہیں نندیا پور؟ مجھے بھی بھیج دو نا ماں

بہت آسان ہے نندیا پور جانا.’ عایشہ نے بستر پر رانی کو پیار سے لٹاتے ہوئے کہا. ‘بس اب میری گڑیا آنکھیں بند کر لے. تھوڑی دیر میں نندیا پور پہنچ جائے گی

یہ سننا تھا کے رانی نے جھٹ سے آنکھیں بند کر لیں. مگر تھوڑی دیر بعد ہی، بند آنکھوں کے ساتھ کہنے لگی

‘امّاں، کیا ابّو بھی نندیا پور میں ہوں گے؟’

تھوڑی دیر تو عایشہ، ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ، بستر پر لیٹی رانی کی طرف دیکھتی رہی

‘بتاؤ نا امّاں، کیا میں نندیا پور میں، ابّو سے بھی ملوں گی؟’

‘ہاں، تمھارے ابّو بھی وہیں کہیں ہونگے. بس ان کے کندھوں پر بیٹھ کر، افشاں کا میلہ دیکھتی رہنا’

Continue reading

نیک روحوں کا مسیحا

shutterstock_144636683

میں تمام نیک روحوں کا مربی اور سرپرست ہوں. میاں فرہاد مصطفیٰ کی روح کا، عائشہ بیگم کی روح کا اور تمھاری روح کا بھی زینب.’ اس کے چہرے پر بدستور وہ شفیق مسکراہٹ رقصاں تھی
میں ایک دفعہ تو کانپ ہی اٹھی
‘آپ موت کا فرشتہ ہیں؟ روح قبض کرنے آتے ہیں یہاں؟’
اس کی مسکراہٹ کچھ اور نمایاں ہوگئ
نہیں زینب میں موت کا فرشتہ نہیں ہوں، میں روحیں قبض نہیں کرتا. میں روحوں کی مسیحائی کرتا ہوں. لیکن صرف نیک روحوں کی مسیحائی

 

Continue reading

کال گرل اور گڑیا

bca4f4f166067540648f1a36740757d1

زندگی کے پیچیدہ اور کانٹوں بھرے راستوں پر مسلسل سفر کرتے، عینی کے لہو لہان پیر کب کے تھک چکے تھے. کچی قبرکی تہہ میں رکھا، سفید کفن میں لپٹا اسکا نازک وجود، اس تکان کی گواہی دے رہا تھا. گورکن نے سیمنٹ کی پہلی سلیب اٹھائی ہی تھی، کے میں نے اسے روک دیا. بغل میں دبائی سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والی گڑیا نکالی اور نیچے اتر کر عینی کے پہلو میں احتیاط  کے ساتھ، رکھ دی

خدا حافظ عینی!’ میں نے اس کے پھول سے وجود کو بھاری دل کے ساتھ الوداع کہا اور کفن کے اوپر سے ہی، اس کی پیشانی چوم لی

 

Continue reading

فوجو چوہڑا اور مولوی عبدالغفور

matt-brandon-rajasthan-03-07-09-56-20_panor

مجھے اپنے محلے میں ہمیشہ سے، دو لوگ بہت پسند تھے. وہ تھے مولوی عبد الغفور اور فوجو چوہڑا. حیرت کی بات یہ تھی کے وہ دونوں ایک دوسرے کے نہایت گہرے دوست تھے اور ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے. اب آپ یقیناً سوچتے ہونگے کے کہاں ایک مومن مسلمان مولوی اور کہاں ایک غریب عیسائی خاکروب؟ بات تو بہت عجیب و غریب ہے، لیکن ہے حقیقت

Continue reading

غبارے، دیوسائی اور بوڑھا میجر

7798274768_a56d9ebeea_b

دیوسائی کے برف پوش میدانوں میں شیوسر نامی ایک جھیل ہے. اس  جھیل کے پاس، ایک اکیلے پہاڑ کی چوٹی پر، بدھ بھکشوؤں کی ایک قدیم اور ویران خانقاہ ہے. سنا ہے کے کچھ سال پہلے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر دنیا سے تنگ آ کر وہاں جا کر بس گیا تھا. وہ شاید تمھارے سوالات کے جواب دے سکے.’ بوڑھے غبارے والے نے میری طرف دیکھے بغیر کہا اور پھر ایک غبارہ سلنڈر کی نوزل پر چڑھا کر گیس بھرنے لگا

 

Continue reading

محافظ

fc-balochistan-arrests-6-terrorists

سورج سوا نیزے پر کھڑا دہک رہا تھا. نیلے شفاف آسمان پر کہیں کہیں آوارہ بادلوں کے ٹکڑے رینگ رہے تھے اور اتنی آہستگی سے اپنی شکل تبدیل کر رہے تھے کے دیکھنے والوں کو احساس تک نا ہوتا تھا. گرم ہوا کے تھپیڑے منہ پر پڑتے تو یوں معلوم ہوتا تھا کے جیسے تندور کے دہانے پر جھکے اندر جھانک رہے ہوں. دور حد نگاہ تک زمین سے ابھرے ریت اور مٹی کے ٹیلے دیکھ کر یوں لگتا تھا کے جیسے وہ جنوبی بلوچستان کا صحرائی علاقہ نا ہو بلکہ غریب جنوں کا کوئی قبرستان ہو

Continue reading

شام غریباں

hussein_as_by_muharram-d4n1mls

وہ غالباً دسمبر کی ایک سرد شام تھی جب میری ملاقات پہلی دفعہ غلام حسین سے ہوئی. وہ ایک گمنام مگر بیمثال گائیک تھا اور پیشے کے لحاظ سے باٹا کا سیلزمین تھا. مجھے اپنی پسندیدہ ساخت کے جوتے خریدنے تھے مگر بہت ڈھونڈنے پر بھی اور پورا ملتان چھان ڈالنے پر بھی نا ملے. آخر خدا بھلا کرے ایک صدر میں واقعہ جوتوں کی دوکان والے کا کہ جس نے مجھے پرانے قلعہ کے قرب میں واقعہ باٹا کی ایک شاخ کا پتہ بتایا. میں نے اپنے آٹھ سالہ بیٹے کو ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور چل پڑا

Continue reading