آغوش مہربانی

dvhpfgzxuaaxuy3

 

 

‘لوٹ کر آگئ ہو واپس؟’ فقیر نے مسکرا کر پوچھا’

ہاں!’ عایشہ نے سر جھکا کر اور سسک کرکہا. ‘آگئ ہوں مگر تمھیں ہماری محبت کا واسطہ، ہمارے درمیان کے خوبصورت تعلق کی قسم، اب مجھے لوٹ جانے کا نا کہنا. اب میں بہت تھک چکی ہوں

فقیر نے نرمی سے عایشہ کے جھریوں بھرے گالوں سے آنسو پونچھے اور اور نہایت پیارسے اس کے چاندی بالوں کو سہلایا

‘نہیں کہوں گا. اب آگئ ہو تو یہیں میرے پاس ہی رہ جاؤ’

لیکن وہ…….!’ عایشہ نے کچھ سوچ کر کہا. ‘وہاں….ٹرین کے اس طرف میرا بیٹا بیٹھا میرا انتظار کر رہا ہے. میں واپس نہیں جاؤں گی تو وہ بہت پریشان ہو گا

‘کچھ نہیں ہوگا.’ فقیر نے اپنے بازو پھیلائے. ‘آجاؤ شاباش! یہ پریشانی کا نہیں آرام کا وقت ہے’

عایشہ کچھ لمحے فقیر کی آنکھوں میں جھانکتی رہی. وہاں صرف محبت تھی. پھر اس نے قدم بڑھائے اور فقیر کے سینے سے لگ گئ. وہاں بہت سکون تھا. عایشہ کو لگا کہ جیسے وہ تپتے صحرا میں صدیوں چلنے کے بعد یکایک کسی مہربان درخت کی گھنی چھاؤں میں آن پہنچی ہو. اس نے سکون اور اطمینان کا ایک لمبا سانس بھرا اور ماں کی گود میں منہ چھپائے بچوں کی طرح، آنکھیں موند لیں

Continue reading

کلو حرامی اور پلیٹ فارم نمبر چار

محلے کے لوگ بتاتے ہیں کہ جس دن کلو حرامی کی ماں فوت ہوئی، اس کی آنکھوں سے ایک آنسو بھی نا نکل سکا. دیدے ایسے خشک پڑے تھے کہ جیسے، بارش کی بوندوں کے انتظار میں، تڑخی ہوئی اور باریک باریک دراڑوں والی سوکھی زمین. پڑوس کی ماسی بشیراں نے تو دونوں گال، تھپڑ مار مار کر لال سرخ بلکہ جامنی کر دیئے، مگر کلو نے تو جیسے قسم کھا رکھی تھی نا رونے کی. بس سرخ اینٹوں سے بنے چھوٹے سے صحن کے ایک کونے میں بیٹھا، لال لال آنکھوں سے گھورے جاتا تھا ہر آنے جانے والے کو

Continue reading

کبوتروں کا مزاروں سے کیا تعلق ہوتا ہے؟

56a877eda0dc2

 

 

میں گڑھی شاہو کے قریب، میاں میرکے مزار پر، لوگوں کی جوتیاں سیدھی کرتا ہوں. جی ہاں، میں مزار کے دروازے کے باہر بیٹھ کر، زائرین کی جوتیوں کی نگرانی کرتا ہوں. میں یہاں کیسے پہنچا، آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں. یہ کہانی میری ہے، شہناز بیگم کی ہے اور شاید محبت کی بھی ہے. محبت کی تو بہت کہانیاں ہوتی ہیں لیکن یہ کہانی ان سے بہت مختلف ہے

Continue reading

دردمند بھنورا – لاہور کا انوکھا سیریل کلر

golden_butterfly____20120102_1245_01_by_muzucya_d4l4v3y-fullview

+

 

 

میرا نام رضا خان ہے. آج سے کچھ سال قبل میں پنجاب پولیس میں ایس پی کے عہدے پر تعینات تھا، لیکن آج میں کوٹ لکھپت جیل کی بیرک نمبر ٢١١ میں، قتل کے جرم میں عمر قید بھگت رہا ہوں. یہ کہانی میری بھی ہے اور دردمند بھنورے کی بھی؛ بھنورا جو کہ لاہور میں رہنے والا ایک انوکھا سیریل کلر تھا

Continue reading

شیدو اور لیونارڈو ڈاونچی کا اڑن کھٹولہ

leonardo-da-vinci-antique-flying-machine-under-parchment-nenad-cerovic

دنیا میں چار اقسام کے افراد پائے جاتے ہیں شیدو.’ بابا ڈا ونچی نے اپنی لمبی سفید داڑھی ہلاتے ہوئے کہا. ‘پہلی قسم وہ زندہ رہنے کے باوجود اپنی زندگی نہیں جیتے. جیسے کہ وہ بدنصیب جو ساری زندگی پیسہ جمع کرنے میں لگا دیتے ہیں مگر ان کو پیسہ خرچنے کی یا صحیح معنوں میں پیسے سے لطف اندوز ہونے کی تمیز نہیں ہوتی

.یہ کیسے ہوسکتا ہے ڈاونچی بابا؟’ شیدو نے اپنی کالی کالی چمکتی آنکھوں سے پوچھا’

ہو سکتا ہے بلکہ دنیا میں، زیادہ تر لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے.’ بابا جی نے دایئں ہاتھ کی انگلیوں سے داڑھی میں کنگھی کرتے ہوئے کہا. ‘مزید پیسے کا لالچ ان کو مصروف رکھتا ہے اور اپنے پیچھے پیچھے بھگاتا رہتا ہے

Continue reading

گھنگرو، شاہ حسین اور بابا غمگسار

yasir-3

وہاں جہاں شاہ حسین چپ چاپ لیٹا محبت کے خواب دیکھا رہا ہے، میلے چیکٹ چراغوں کی روشنی اور گاڑھے سیاہ دھوئیں کے ڈولتے سایوں کے بیچ، ڈھول بج رہے تھے، سنکھ پھونکے جا رہے تھے اور بابا غمگسار ناچ رہا تھا

Continue reading