شیدو اور لیونارڈو ڈاونچی کا اڑن کھٹولہ

leonardo-da-vinci-antique-flying-machine-under-parchment-nenad-cerovic

دنیا میں چار اقسام کے افراد پائے جاتے ہیں شیدو.’ بابا ڈا ونچی نے اپنی لمبی سفید داڑھی ہلاتے ہوئے کہا. ‘پہلی قسم وہ زندہ رہنے کے باوجود اپنی زندگی نہیں جیتے. جیسے کہ وہ بدنصیب جو ساری زندگی پیسہ جمع کرنے میں لگا دیتے ہیں مگر ان کو پیسہ خرچنے کی یا صحیح معنوں میں پیسے سے لطف اندوز ہونے کی تمیز نہیں ہوتی

.یہ کیسے ہوسکتا ہے ڈاونچی بابا؟’ شیدو نے اپنی کالی کالی چمکتی آنکھوں سے پوچھا’

ہو سکتا ہے بلکہ دنیا میں، زیادہ تر لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے.’ بابا جی نے دایئں ہاتھ کی انگلیوں سے داڑھی میں کنگھی کرتے ہوئے کہا. ‘مزید پیسے کا لالچ ان کو مصروف رکھتا ہے اور اپنے پیچھے پیچھے بھگاتا رہتا ہے

Continue Reading

رفیق پریمی اور شہناز انجان

wallpaper-11e4e

لاہور میں ماڈل ٹاؤن کچہری کے باہر، فیروز پور روڈ انڈر پاس کے نیچے، سڑک کنارے فٹ پاتھ پر، کچھ عرضی نویس کرسیاں لگائے بیٹھے ہوتے ہیں. ذرا غور سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان سب کے درمیان ایک جگہ خالی ہے. یہاں کل تک رفیق پریمی کی کرسی میز لگی ہوتی تھی

Continue Reading

نظر بٹو کا عشق

maxresdefault

.مولوی صاحب!’ نظر بٹو نے ڈرتے ڈرتے مولوی مشتاق کو اپنی طرف متوجوہ کیا’

.ہاں! ہاں! کہو بیٹے، کیا بات ہے؟’ مولوی صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا’

‘مولوی صاحب’

ہاں! ہاں! بولو شاباش، کیا مسلہء ہے؟’ مولوی صاحب نے اس غریب کو ہچکچاتے دیکھ کر شفقت سے پوچھا

.مولوی صاحب! کوئی دم درود تو تجویز کریں.’ نظر بٹو نے شرماتے ہوئے کہا’

‘دم درود؟ وہ کس لئے بھائی؟’

وہ…..میرے قد کیلئے. کوئی ایسا  وظیفہ بتایئں کہ میرا قد لمبا ہوجاۓ.’ اس نے بدستور شرماتے ہوئے اور سر جھکا کر کہا

.لاحول ولا قواتہ! قران نا ہوگیا جادو ٹونہ ہوگیا.’ مولوی مشتاق نے جلال میں آ کر کانوں کو ہاتھ لگایا’

آپ تو ناراض ہوگئے مولوی صاحب!’ بیچارے نظر بٹو کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے گالوں پر لڑھک گئے. ‘آپ میری آخری امید تھے. میں بڑا مان لے کر آیا تھا

ہوں….!’ مولوی صاحب نے نظر بٹو کو گھورتے ہوئے ایک لمبا ہنکارا بھرا. پھر انکو اس کی آنکھوں میں تیرتے آنسو دیکھ کر ترس آگیا

‘دیکھو میاں جلال الدین’

.نظر بٹو نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا

.بھائی تمہارا نام جلال الدین نہیں ہے؟’ مولوی صاحب نے جھنجلا کر پوچھا’

تھوڑی دیر تو نظر بٹو خالی خالی آنکھوں سے مولوی صاحب کو دیکھتا رہا. پھر اچانک اسکی کالی معصوم آنکھوں میں چراغ سے جل اٹھے

Continue Reading

مون – دی گریٹ گٹار پلیئر

guitar-player-sketch

مون! تو الو کا پٹھا ہے اور الو کا پٹھا ہی رہے گا ہمیشہ.’ ابا جی نے غصے میں پھنپھناتے ہوئے کہا. مخاطب میں تھا – ان کا انیس سالہ بیٹا مون

‘اس گٹار بجانے میں کچھ نہیں رکھا. برباد ہو جائے گا اس کام میں. لاکھ دفعہ کہا ہے، اگر پڑھنے لکھنے کا دل نہیں کرتا، میرے ساتھ دوکان پر جا کر بیٹھا کر. چار پیسے کمانا سیکھ لے. مگر کہاں؟ تو بے غیرت کا بے غیرت. پتہ نہیں مر کیوں نہیں جاتا؟

Continue Reading

اظہار کرو، انتظار نا کرو

maxresdefault-1.jpg

دیکھئے صاحب! میں بالکل بھی پاگل نہیں ہوں. ہاں میرے الفاظ سننے میں پاگل پن ضرور لگتے ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے

دیکھئے آپ میری بات پر دھیان ضرور دیجئے. بیشک پاگل سمجھ کر پتھر مار دیں مگر ایک لمحے کو میری بات پر دھیان ضرور دیں

ایک بار میری کہانی سن لیں، یقین مانیں اس میں آپ کا ہی فائدہ ہے

Continue Reading

لارنس گارڈن، سائبیریا اور عشق

thumb-1920-96294

عایشہ کے ساتھ کامران کی پہلی ملاقات ایک کانفرنس میں ہوئی. دیکھنے میں عام سی لڑکی تھی. کھلتا ہوا گندمی رنگ، سرو قد، متناسب جسم، کالی گہری آنکھیں، لمبی لمبی مخروطی انگلیاں، سر پر سکارف، ایک کلائی میں پتلی پتلی سونے کی دو چوڑیاں اور سادہ سا ہلکے سے رنگ کا شلوار قمیض. شرمیلی بہت تھی اور اتنے سارے مردوں میں اکیلی لڑکی ہونے کے باعث بالکل اپنے آپ میں سمٹی جا رہی تھی

 

Continue Reading

سنہری دروازوں والی مسجد اور چیکو سلواکیہ کی اینا

door

دبئی ایئر پورٹ شاید دنیا کا وہ واحد ائیرپورٹ ہے جہاں ہر قومیت، ہر رنگ، ہر نسل اور ہر زبان بولتا شخص نظر آتا ہے. میں اس بہت بڑے ایئر پورٹ پر پچھلے ایک گھنٹے سے مارا مارا پھر رہا تھا
جی نہیں، مجھے کسی مخصوص فلائٹ کیلئے کسی خاص گیٹ کی تلاش نہیں تھی
مجھے کسی مخصوص ایئر لائن کے ٹکٹ کاؤنٹر یا ہیلپ ڈیسک کی بھی تلاش نہیں تھی
مجھے تلاش تھی ایک عدد سموکنگ لاؤنج کی کیونکہ تہذیب یافتہ ملکوں میں ہر جگہ سگریٹ پینے کی اجازت نہیں ہوتی. یقیناً بہت اچھی بات ہے لیکن میرے جیسے تمباکو کے عاشقوں کیلئے بہت ہی عذاب کا بائث ہے

Continue Reading

کتوں والی سرکار اور سین زوخت

mg_8155-1024x683

تمھیں یاد ہے، کچھ عرصہ قبل، تم نے مجھ سے ایک سوال پوچھا تھا اور میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا؟’ بابا جی نے اچانک پوچھا

‘ہاں….!’ میں نے سوچتے ہوئے کہا. ‘آپ کسی عجیب سے لفظ کے بارے میں بتا رہے تھے’

.سین زوخت……..یعنی “خواہشوں کا تعاقب”.’ باباجی نے نرمی سے مسکراتے ہوئے کہا’

‘میں نے کہا تھا کہ ابھی اس لفظ کا مطلب سمجھنے کا وقت نہیں آیا’

ہاں…..!’ میں نے اثبات میں سر ہلایا. مجھے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن بابا جی کا دل رکھنے کو میں نے کہ دیا

.وقت آ گیا ہے بیٹے.’ بابا جی اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور میرے پاس آ کر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا’

 

Continue Reading

ہم سب قاتل ہیں

20769939_1675018275844453_4533984488710906233_n

ابّا! اس دفعہ نا، چودہ اگست پر میں، سفید رنگ کی نئی شلوار قمیض پہنوں گا.’ آٹھ سالہ ثاقب نے اپنے باپ کی گود میں گھستے ہوئے کہا

 

.اور کیا لے گا میرا بیٹا؟’ اللہ بخش نے پیار سے اس کے بال بگاڑتے ہوئے پوچھا’

 

.اور؟ اور…………ڈھیر ساری جھنڈیاں. سبز اور سفید.’ ثاقب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا’

 

سب کچھ لے کے دوں گا اپنے بیٹے کو. لیکن اپنا وعدہ یاد ہے نا؟’ الله بخش نے اپنے بیٹے کا ماتھا چومتے ہوئے کہا

Continue Reading