The Boy and the Lake

dark_green_lake_by_raikohillust_d54fmgo-fullview

     There once was a little boy called Sebastian, who was fond of wanderings and adventures. In fact, these wanderings and adventures were his ‘walkabout’. What is a ‘walkabout’, you may ask. That is indeed an interesting question.

It is said that once a child reaches puberty amongst the Australian aborigines, he or she is ordered to roam in the wild, preferably under the watchful eye of a tribal elder. So the child wanders here and there and sees all. The sights become perceptions; the perceptions become observations; and the observations become learning.

            Though Sebastian was never ordered by anyone to roam; he loved doing it. He loved the tall trees and the green mountains and the blue sky filled with billowing summer clouds. He loved nature and all its wonderful smells.

Continue reading

آغوش مہربانی

dvhpfgzxuaaxuy3

 

 

‘لوٹ کر آگئ ہو واپس؟’ فقیر نے مسکرا کر پوچھا’

ہاں!’ عایشہ نے سر جھکا کر اور سسک کرکہا. ‘آگئ ہوں مگر تمھیں ہماری محبت کا واسطہ، ہمارے درمیان کے خوبصورت تعلق کی قسم، اب مجھے لوٹ جانے کا نا کہنا. اب میں بہت تھک چکی ہوں

فقیر نے نرمی سے عایشہ کے جھریوں بھرے گالوں سے آنسو پونچھے اور اور نہایت پیارسے اس کے چاندی بالوں کو سہلایا

‘نہیں کہوں گا. اب آگئ ہو تو یہیں میرے پاس ہی رہ جاؤ’

لیکن وہ…….!’ عایشہ نے کچھ سوچ کر کہا. ‘وہاں….ٹرین کے اس طرف میرا بیٹا بیٹھا میرا انتظار کر رہا ہے. میں واپس نہیں جاؤں گی تو وہ بہت پریشان ہو گا

‘کچھ نہیں ہوگا.’ فقیر نے اپنے بازو پھیلائے. ‘آجاؤ شاباش! یہ پریشانی کا نہیں آرام کا وقت ہے’

عایشہ کچھ لمحے فقیر کی آنکھوں میں جھانکتی رہی. وہاں صرف محبت تھی. پھر اس نے قدم بڑھائے اور فقیر کے سینے سے لگ گئ. وہاں بہت سکون تھا. عایشہ کو لگا کہ جیسے وہ تپتے صحرا میں صدیوں چلنے کے بعد یکایک کسی مہربان درخت کی گھنی چھاؤں میں آن پہنچی ہو. اس نے سکون اور اطمینان کا ایک لمبا سانس بھرا اور ماں کی گود میں منہ چھپائے بچوں کی طرح، آنکھیں موند لیں

Continue reading