آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

وہ محبت جو کبھی کی تو بڑے شوق سے تھی

وہ محبت جو نامکمل تھی، نامکمل ہی تمام ہوئی

وہ چاہت کہ جس کا چراغ کبھی شام کی رونق تھی

وہ چاہت جو نا کبھی میری، نا کبھی تیری غلام ہوئی

وہ انا جو کبھی عشق کی دہلیز پر چکنا چور تھی

وہ بے خودی جو نا عشق تھی، نا کبھی عشق انجام ہوئی

وہ خون لفظ جو کبھی زنگ خوردہ زنجیر تھی

وہ نظم جو ادھوری تھی، ادھوری ہی زبان زد عام ہوئی

آؤ وہ پرانے خواب، اپنی صحرا آنکھوں سے

خود ہی کھنگالتے ہیں، خود ہی سوچتے ہیں

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

Continue Reading

Sorrow

Sorrow is the pallbearer of dead forsaken dreams;

marching on a slow beat amidst the silent screams

Sorrow is the herald announcing the tragic death;

while fate is the puppeteer – it laughs and schemes

Continue Reading