کال گرل اور گڑیا (Revised)

زندگی کے پیچیدہ اور کانٹوں بھرے راستوں پر مسلسل سفر کرتے، عینی کے لہو لہان پیر کب کے تھک چکے تھے. کچی قبرکی تہہ میں رکھا، سفید کفن میں لپٹا اسکا نازک وجود، اس تکان کی گواہی دے رہا تھا. گورکن نے سیمنٹ کی پہلی سلیب اٹھائی ہی تھی کہ میں نے اسے روک دیا. بغل میں دبائی سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والی گڑیا نکالی اور نیچے اتر کر عینی کے پہلو میں احتیاط کے ساتھ رکھ دی

خدا حافظ عینی!’ میں نے اس کے پھول سے وجود کو بھاری دل کے ساتھ الوداع کہا اور کفن کے اوپر سے ہی اس کی پیشانی چوم لی


Read more: کال گرل اور گڑیا (Revised)

میرا نام قباد ہے – قباد کامران. عمر تقریباً ساٹھ سال. کسی زمانے میں کراچی یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی میں پڑھاتا تھا. آباؤ اجداد کی چھوڑی ہوئی بےتحاشہ زمین تھی. کسی شےکی کمی نہیں تھی. اچھے لباس پہننے کا، اچھی موسیقی سننے کا، اچھی کتابیں پڑھنے کا اور اچھی گاڑیاں رکھنے کا شوق تھا

شادی بہت چھوٹی سی عمر میں ہی ہوگئ تھی. خوش قسمتی سے ہماری شادی ان چند شادیوں میں شامل تھی جو والدین کی جانب سے کیئے جانے کے باوجود کامیاب ہوجاتیں ہیں. مجھے اس سے بےتحاشہ محبت تھی اور وہ بھی میرے اوپر جان چھڑکتی تھی. لیکن شاید محبت میں کوئی کمی رہ گئ تھی، یا شاید میں بہت بدقسمت تھا، کیونکہ وہ شادی کے پانچویں ہی سال، کینسر کے ہاتھوں اللہ کو پیاری ہوگئ. شادی کی ایک نشانی نتاشہ کی شکل میں میرے پاس چھوڑ گئ. نتاشہ میری اکلوتی اولاد تھی اور میرے دل کا ٹکڑا. میں نے دوبارہ شادی نہیں کی. دراصل نتاشہ کی ماں نے معیار کا سانچہ ہی ایسا بنا دیا تھا کہ اس کے بعد اور کوئی عورت، اس میں فٹ نہیں بیٹھتی تھی

بیوی کے بے وقت انتقال کے بعد میری ساری زندگی نتاشہ کے گرد مدار میں چکّر لگانے لگی. میں اس کا باپ بھی تھا اور ماں بھی. وہ کیا پہننا پسند کرتی تھی، وہ کیا کھانا پسند کرتی تھی، وہ کس چیز سے الرجک تھی، سب کا خیال میں خود رکھتا تھا. ہم دونوں باپ بیٹی کی زندگی میں کسی تیسرے کی گنجائش نہیں تھی

مجھے پڑھانے کا بہت شوق تھا لہٰذا اچھی بھلی نوکری چل رہی تھی. پھر اچانک ایک دن میری اکلوتی جوان بیٹی مجھ سے ناراض ہوکر چلی گئ. وہ مجھے چھوڑ کر کیا گئ، سب ختم ہوگیا. میں نے نوکری چھوڑ دی اور گھر بیٹھ گیا. صرف اشد ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلتا. باقی کا سارا وقت کتابوں میں گزرتا. کبھی کبھی آس پڑوس سے ایک دو دوست ملنے آ جاتے لیکن وہ بھی کچھ دیر بیٹھنے کے بعد چلے جاتے تھے. اچھی طرح جانتے تھے کہ مجھے لوگوں سے اور لوگوں کی قربت سے وحشت ہوتی تھی

میں کراچی میں، کلفٹن میں واقع سمندر کے کنارے، ایک لگژری فلیٹ میں رہتا تھا. نتاشہ کے چلے جانے کے بعد بہت دفعہ سوچا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گاؤں چلا جاؤں لیکن فلیٹ کے ہر کمرے سے، میری بیٹی کی خوشبو آتی تھی. جب بھی جانے کا سوچتا، وہ خوشبو قدم جکڑلیتی تھی

فلیٹوں میں رہنے والے باقی لوگوں میں زیادہ تر عیش پسند امیرزادے تھے جو رہتے تو کہیں اور تھے، لیکن فلیٹوں کو عیاشی کے اڈوں کے طور پر استمعال کرتے تھے. خیر ان کی وجہ سے کبھی کوئی مسلہء نہیں ہوا. زمانہ ہی ایسا ہے کہ اپرکلاس میں کسی کے پاس دوسرے کی زندگی میں جھانکنے کا یا دلچسپی لینے کا وقت ہی نہیں ہوتا


وہ اگست کے اوائل کا ایک دن تھا. طوفان آنے کو تھا. ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بار بار کراچی کے مکینوں کو سمندری طوفان کی ممکنہ تباہ کاریوں سے آگاہ کیا جا رہا تھا. لیکن مجھے طوفان بہت پسند ہیں. عجیب سی بات ہے لیکن طوفان جتنا شدید ہو، میرے اندر اتنا ہی زیادہ سکون موجیں مارتا ہے. میں نے کھڑکی سے باہر سمندر کی طرف جھانکا تو لہریں غیض و غضب ڈھارہی تھیں. سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا لیکن باہر تاریکی چھا چکی تھی. پورا آسمان سرمئی کالے بادلوں سے ڈھکا پڑا تھا اور ہوائیں پام کے نازک درختوں کو دوہرا کئے دے رہی تھیں

میں نے پائپ سلگانے کو تمباکو کی تھیلی نکالی تو صرف چٹکی بھر تمباکو دیکھ کر پریشان ہوگیا. تمباکو کے بغیر میرا گزارا نہیں ہوتا. اپنی یاداشت کو کوستے لباس تبدیل کیا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر، تمباکو خریدنے نکل کھڑا ہوا. میرا فلیٹ پانچویں منزل پر ہے. باہر لابی میں نکل کر لفٹ کا بٹن دبایا تو پتہ چلا کہ چاروں لفٹوں میں سے صرف ایک ہی کام کر رہی تھی. خیر خدا خدا کر کے لفٹکا دروازہ کھلا اور دروازہ کھلتے ہی ایک دلنشیں خوشبو نے مجھے اپنے حصار میں گھیرلیا

لفٹ خالی نہیں تھی. اس میں ایک اکیلی لڑکی کھڑی میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی. تقریباً اکیس یا بائیس کا سن اور اونچا لمبا قد. کھلتا ہوا گندمی بے داغ رنگ اور متانسب جسم. اس نے بال غالباً کسی بہت اچھی جگہ سے رنگوائے تھے. وہ بال تھے تو گہرے سرخی مائل بھورے رنگ کے مگر ان میں کہیں کہیں سنہرا رنگ جھلک رہا تھا. اونچی روشن پیشانی اور دو گھنی بھنووں تلے بادامی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک نمایاں تھی. کانوں سے جدید وضع کے لمبے بندے لٹک رہے تھے. لڑکی نے نیلی اڑی رنگت کی چست جینز پہنی ہوئی تھی اور اوپر اسی رنگت اور کپڑے کی جیکٹ. پاؤں میں ٹخنوں تک چڑھے چمڑے کے بھورے جوتے

.آپ اوپر جا رہی ہیں یا نیچے؟’ میں نے اس سے پوچھا تو وہ ہنس پڑی

‘آپ کو کہاں جانا ہے؟’

.جی مجھے تو نیچے بیسمنٹ میں واقع پارکنگ میں جانا ہے.’ میں نے کچھ شرمندہ سا ہوتے ہوئے جواب دیا

.آپ اندر آ جایئے. میں پہلے آپ کو بیسمنٹ میں اتار دوں گی.’ اس نے مہربانی سے کہا تو میں انکار نہیں کر سکا

اس نے دروازہ بند ہوتے ہی پندھرویں منزل کا بٹن دوبارہ دبا کر کینسل کیا تو میں مزید شرمندہ ہوگیا. خیر کیا ہوسکتا تھا. میں خاموش کھڑا اس کا جائزہ لیتا رہا اور وہ کھڑی مسکراتی رہی. آپ میرے اسے غور سے دیکھنے کا کوئی غلط مطلب نا تلاش کریں. اس لڑکی میں ایک عجیب سی کشش تھی. کوئی ایسی چیز ضرور تھی جو مجھے اپنی نتاشہ کی یاد دلا رہی تھی

بہت شکریہ بیٹے. میں معذرت خواہ ہوں کہ تمھیں میری وجہ سے دوبارہ نیچے تک آنا پڑا.’ بیسمنٹ میں پہنچ کر لفٹ کا دروازہ کھلا، تو میں نے شفقت سے اس کا شکریہ ادا کیا

.جی کوئی بات نہیں.’ اس نے نہایت شستہ لہجے میں جواب دیا

لفٹ کا دروازہ بند ہوا تو میں نے سر جھٹکا اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا


آس پاس کی کسی دکان پر میرا پسندیدہ تمباکو نہیں ملتا تھا. لہٰذا مجھے صدر تک جانا ہی پڑا. تمباکو خرید کر دوکان سے باہر نکلا تو ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی. میں نے گاڑی میں بیٹھ کر پائپ سلگایا، ڈیک پر ترکی نثاد محموت اورحان کی ایک پسندیدہ دھن لگائی اور پھر بے مقصد کراچی کی سڑکوں پر چکّر لگانے لگا. یہ شہر مجھے بیحد پسند ہے. گنجان آباد ہونے کے باوجود اس شہر کی شاموں میں، ایک عجیب سی تنہائی رچی بسی ہوتی ہے. یہاں لوگوں کا ہجوم ہونے کے باوجود ہر شخص اکیلا دکھائی دیتا ہے. یا شاید لوگ اکیلے نہیں تھے، میرا اپنا دل اکیلا تھا. دھیمے غمناک سروں میں وائلن بجتا رہا اور میں دنیا دیکھتا رہا

شہر کی گیلی چمکتی سڑکوں پر پھرتے پھرتے کب شام گہری رات میں ڈھل گئ، احساس ہی نہیں ہوا. بارش کچھ زیادہ ہی تیز ہوگئ تو گھر واپس جانے کا سوچا. جب میں نے بلڈنگ کی بیسمنٹ میں لے جا کر گاڑی کھڑی کی تو تقریباً آدھی رات ہو چکی تھی. میں گاڑی لاک کر کے لفٹ کی جانب بڑھا ہی تھا کہ ایک نسوانی کراہ میرے کان میں پڑی. میں نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا. مجھے ایک سلیٹی رنگ کی کلٹس کے ساتھ وہ ہی لڑکی نظر آئ. لیکن غالباً کچھ گڑبڑ تھی. وہ گاڑی کے بونٹ کے اوپر ہاتھ ٹکائے جھکی کھڑی تھی. میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک زوردار ابکائی لی اور پھر کمزوری سے وہیں بونٹ کے اوپر گر گئ

میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھا اور اسے سنبھالنے کی کوشش کی

.ارے کیا ہوا آپ کو؟’ میں نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا

می….میں نے……شا….شاید کوئی زہ……زہریلی چیز کھ….کھا لی ہے.’ اس نے لڑکھڑاتے لہجے میں مجھے بتانے کی کوشش کی

.آپ کا فلیٹ کون سا ہے؟ گھر پر اور کون ہے؟’ میں نے گھبرا کر پوچھا

.میں…..یہاں نہ……نہیں رہتی……ڈاکٹر….ہس …..ہسپتال!’ اس کے منہ سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نکلے اور وہ بیہوش ہوگئ

میں اسے بمشکل گھسیٹ کر اپنی گاڑی تک لیکر گیا اور پھر کچھ سوچ کر اپنے ایک ڈاکٹر دوست کو کال کی، جو قریب ہی ایک پرائیویٹ کلینک چلاتا تھا. خدا کا شکر ہوا، وہ پہلے ہی کسی ایمرجنسی کے سلسلے میں کلینک پر موجود تھا

میرے دوست نے اس کے معدہ کی اچھی طرح صفائی کی اور پھر کچھ دوائیاں تجویز کر کے مجھے کمرے سے باہر لے گیا

.یہ کیا چکّر ہے؟’ اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے ساری کہانی سنا دی

لڑکی نے غالباً پہلی دفعہ میجک مشروم کا استمعال کیا ہے. شاید اس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ کیا چیز منہ میں ڈال رہی تھی. خیر میں نے صفائی کر دی ہے. خطرے کی کوئی بات نہیں. دوائیوں کے باعث صبح تک غنوندگی کا گہرا اثر رہے گا. تم اس کو لے جا سکتے ہو. لیکن خیال رہے کہ اگلے کچھ دن اس کو آرام کرنا چاہیے

میں بمشکل سہارا دے کر اسے گاڑی تک لے گیا اور اگلی سیٹ لمبی کر کے اسے آرام سے لٹادیا

کیا نام ہے تمہارا بیٹی؟ کہاں رہتی ہو؟’ گاڑی سٹارٹ کر کے میں نے اس سے پوچھا. کوئی جواب نا ملنے پر اس کی طرف دیکھا تو وہ دنیا و مافیا سے بے پرواہ بیہوش پڑی تھی


بڑی مشکل کی بات تھی. جوان لڑکی تھی. رات بھی بہت بھیگ چکی تھی. نجانے کہاں رہتی تھی؟ خیر کچھ دیر سوچ کر میں اسے، اپنے فلیٹ پر واپس لے گیا. وہ تو خدا کا شکر ہوا کہ لفٹ ابھی تک چل رہی تھی، ورنہ میں اس عمر میں کہاں اٹھا کر لے جاتا. پھر وہ کچھ کچھ ہوش میں بھی آ چکی تھی. بول تو نہیں پا رہی تھی مگر کم از کم اس کا پورا بوجھ مجھے اٹھانا نہیں پڑ رہا تھا

میں اسکو سیدھا ٹی وی لاؤنج میں لیکر چلا گیا. صوفے پر احتیاط سے بٹھایا، اور کچن سے ایک اورنج جوس کا گلاس لیکر آیا. وہ کچھ نہیں بولی، بس خالی خالی آنکھوں سے مجھے دیکھتی رہی اور چپ چاپ جو کہتا گیا، کرتی رہی. پھر جوس کا ایک گھونٹ بھر کر بولی

آئ ایم…… سوری! مے……..میری وجہ سے…آ…آ… آپ کو بہت تکلیف ہوئی.’ نقاہت کے سبب اسکی زبان ابھی تک لڑکھڑا رہی تھی

‘کوئی بات نہیں بیٹے. تم چپ چاپ جوس پیو’

.تمہارا نام کیا ہے بیٹے؟’ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد میں نے پوچھا

‘جی عینی……!’ اس نے دھیمے سے جواب دیا. پھر کچھ سوچ کر کہنے لگی. ‘پورا نام……..قرات العین’

بہت پیارا نام ہے. بالکل تمھاری طرح.’ میں نے مسکرا کر کہا. پتہ نہیں کیا بات تھی لیکن میرے دل میں اس بچی کیلئے یکایک محبت اور شفقت کا سمندر موجیں مارنے لگا تھا

اس نے جوس پی لیا اور دوبارہ گردن پیچھے ٹیک کر آنکھیں موندنا ہی چاہتی تھی کہ میں نے اس کا بازو پکڑ کر احتیاط سے اسے اٹھایا اور نتاشہ کے کمرے میں لے گیا


نتاشہ کے جانے کے بعد سے اس کا کمرہ ویسے کا ویسا ہی تھا. ہلکی گلابی اور کاسنی رنگ کی دیواریں، ایک کونے میں اس کا بچپن کے زمانے کا سفید کاٹ اور اس کے اندر اس کے پرانے کھلونے. الماری میں ڈھیر ساری کتابیں اور دیواروں پر لگے مغربی پاپ موسیقاروں اور گلوکاروں کے اونچے اونچے پوسٹر. ایک دیوار صرف نتاشہ کی اپنی اور میرے ساتھ کھینچی لاتعداد تصویروں کے لئے مخصوص تھی. کتنی حیرت کی بات تھی. میرا اور میری بیٹی کا ساتھ کہنے کو تو پچیس سالوں پر محیط تھا لیکن وہ پچیس سال صرف پچیس تیس رنگین کاغذ کے ٹکڑوں میں سمٹ آئے تھے

عینی حیرانگی سے کمرے کو دیکھتی رہی. میں نے اس کو بستر پر لٹایا، آرام سے اس کے جوتے اور موزے اتارے، جیکٹ اتاری. پھر واش روم سے گرم پانی میں تولیہ بھگو کر لایا اور اچھی طرح سے اس کا چہرہ اور گردن صاف کئے

‘تم آرام سے سو جاؤ. صبح تمھاری طبیعت سنبھل جائے گی تو جہاں کہو گی چھوڑ آؤں گا’

میں لائٹ آف کر کمرے سے نکلنے لگا تو اس نے کہا

‘مجھے اندھیرے سے بہت ڈر لگتا ہے. اگر ممکن ہو تو لائٹ جلی چھوڑ جایئں’

میں نے مسکرا کر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کے ساتھ لگا سوئچ آن کیا تو کمرے کی چھت پر ستارے چمکنے لگے اور پوشیدہ سپیکروں سے، بہتے پانی اور سرسراتی ہوا کی سکون آمیز سرگوشیاں پھیلنے لگیں. میں نے نتاشہ کی خاص فرمائش پر یہ سسٹم باہر سے منگوا کر لگایا تھا

اب ٹھیک ہے؟’ میں نے مسکراتے ہوئے عینی سے پوچھا اور اس کے معصومیت سے اثبات میں سر ہلانے پر، اس کے سر پر شفقت سے تھپکی دی

‘سو جاؤ شاباش. تمھیں یہاں کوئی تنگ نہیں کرے گا’


وہ رات میں نے ٹی وی لاؤنج میں آرام کرسی پر، پائپ اور کافی پیتے گزار دی. کھڑکی سے رہ رہ کر چمکتی بجلی طوفان کی شدّت کا احساس دلا رہی تھی. کبھی کبھی بجلی کڑک کر سمندر کے سیاہ پانیوں سے بغلگیر ہوتی، تو پورا منظر روشن ہوجاتا. باہر طوفان شدّت پر ضرور تھا مگر میرا فلیٹ ساونڈ پروف ہونے کی وجہ سے بالکل خاموش تھا. صبح ہونے کو تھی جب آرام کرسی پر بیٹھے بیٹھے، میری آنکھ لگ گئ

.سر یہ کافی……..!’ کسی نے نرمی سے میرا کندھا دبایا تو میں چونک کر اٹھا

عینی میرے سامنے کافی کا بھاپ اڑاتا مگ لئے کھڑی تھی. وہ شاید نہا دھو کر آئ تھی، کیونکہ اس کے بالوں میں ابھی تک نمی موجود تھی اور چہرہ میک اپ سے عاری، صاف شفّاف تھا. بالکل ویسے ہی جیسے، بارش میں دھل کر پھول نکھر جاتے ہیں. میں نے گھڑی پر نظر ڈالی تو صبح کے نو بج چکے تھے. باہر ابھی تک شدید بارش ہورہی تھی

.ارے تم نے کیوں تکلیف کی؟’ میں نے مگ پکڑتے ہوئے کہا

.تکلیف کیسی سر؟ اور پھر آپ نے بھی تو میرے لئے پوری رات جاگتے گزار دی.’ اس نے مسکرا کر کہا

‘اچھا تم بیٹھ کر ٹی وی دیکھو. میں ذرا فریش ہو آؤں. پھر مل کر ناشتہ کرتے ہیں’

میں نہا دھو کر اور کپڑے تبدیل کر کے آیا تو عینی کھڑکی سے لگی کھڑی،باہر موسم کا نظارہ کر رہی تھی

مجھے بارشیں بہت پسند ہیں سر. اندر باہر موسم ایک ہوجاتا ہے.’ میرے قدموں کی چاپ سن کر اس نے مڑ کر میری طرف دیکھا

.ہاں…! صحیح کہتی ہو. مجھے بھی بارشیں بہت اچھی لگتی ہیں.’ میں نے کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے کہا

‘لیکن میری نتاشہ کو بارشیں بالکل پسند نہیں تھیں. وہ دھوپ میں کھیلتی تتلی تھی. اسے سورج کی حرارت اچھی لگتی تھی’

‘نتاشہ آپ کی بیٹی ہے؟ میں رات کو اس کے کمرے میں سوئ تھی؟’

.ہاں! وہ کمرہ نتاشہ کا ہی ہے.’ میں نے سر ہلاتے جواب دیا

.اب کہاں ہے وہ؟’ عینی نے میرے لہجے میں افسردگی محسوس کرتے ہوئے پوچھا

‘چلی گئ. مجھ سے ناراض ہوکر چلی گئ’

‘کہاں چلی گئ؟ آپ تو اتنے اچھے ہیں پھر وہ آپ سے ناراض کیوں ہوگئ؟ اور آپ نے اس کو جانے کیسے دیا؟’

عینی نے پے در پے سوال پوچھے تو میں اپنی یادوں کے چنگل سے باہر نکل آیا

چھوڑو اس بات کو. بہت لمبی کہانی ہے. جانا یا رکنا ہمارے اپنے ہاتھ میں کہاں ہے؟ اور پھر جو جانا چاہے، اسے روکا نہیں جا سکتا.’ میں نے ایک اداس مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف دیکھا

‘خیر یہ ہم کن باتوں میں پڑ گئے؟ میں نے تمہاری صحت کے بارے میں تو پوچھا ہی نہیں’

.میں بالکل ٹھیک ہوں سر. بس تھوڑی سی کمزوری باقی ہے.’ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

خیر کمزوری کا تو کوئی مسلہء نہیں. ابھی ٹھیک کئے دیتے ہیں.’ میں ناشتہ بنانے کچن میں گیا تو وہ میرے ساتھ ساتھ ہی چلی آئ

.ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ابھی کچھ دن تمھیں آرام کی ضرورت ہے.’ میں نے برنر جلاتے ہوئے کہا

.میرے پیشے میں آرام ممکن نہیں ہے سر.’ اس نے کاونٹر سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا

‘کیوں؟’ میں نے چونک کر پوچھا. ‘تم ایسا کیا کرتی ہو کہ آرام ممکن نہیں؟’

اپنے جواب میں صرف خاموشی پا کر میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ چپ چاپ سر جھکائے کھڑی اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی. پھر اس نے اپنی معصوم آنکھیں اٹھا کر میری طرف دیکھا اور دھیمے سے بولی

‘میں ایک پروسٹیچوٹ ہوں سر……ایک ہائی کلاس کال گرل’

ہوں……!’ میں ایک لمبا ہنکارا بھر کر خاموش ہوگیا. پھر فرج کھول کر انڈے اور ٹماٹر نکالے اور چھری کی تلاش میں کاونٹر کی طرف دیکھا جہاں وہ کھڑی تھی

‘بیٹے ذرا اپنے پیچھے دراز سے مجھے چھری تو نکال کر دینا’

.جی……..؟’ وہ حیرت سے کچھ زیادہ نہیں بول سکی

.چھری……جس سے ٹماٹر کاٹتے ہیں.’ میں نے مسکراتے ہوئے کہا

.جی…!’ اس نے مڑ کر دراز سے چھری نکالی اور میرے بڑھے ہاتھ میں تھما دی

‘سر آپ کو برا نہیں لگا سن کر؟’

نہیں تو. برا کیوں لگے گا؟ لیکن میں تھوڑا اداس ضرور ہوگیا ہوں. یہ تمھارے کھیلنے اور پڑھنے کے دن ہیں. جسم بیچنے کے نہیں.’ میں نے ٹماٹر کاٹتے ہوئے جواب دیا

عجیب آدمی ہیں آپ سر. یہ جان کر کہ میں ایک کال گرل ہوں، مرد یا تو شوقین نگاہوں سے گھورتے ہیں، یا میرا ایک رات کا ریٹ پوچھتے ہیں اور یا پھر استغفراللہ کہ کر نفرت سے منہ پھیر لیتے ہیں.’ اس نے حیرانگی سے کہا

میں ذرا مختلف قسم کا انسان ہوں. میرے اپنے گناہ اس قدر زیادہ ہیں کہ میں کسی اور کو برا سمجھنے کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتا. اور پھر مجھے مجبور لوگوں سے محبت ہے

‘یہ کس نے کہا کہ میں مجبور ہوں؟’

.کہا تو کسی نے نہیں لیکن بہت دنیا دیکھی ہے میں نے.’ میں نے بدستور ٹماٹر کاٹتے ہوئے کہا

.یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ میں مجبور نا ہوں بلکہ کال گرل بننا میری خواہش ہو؟’ اس نے مجھے کریدتے ہوئے پوچھا

ہاں! بالکل ہوسکتا ہے لیکن خواہشوں کی مجبوری بھی تو مجبوری ہی ہے. اور نیک اور گناہگار، ہم سب اپنی اپنی خواہشوں کی گٹھریاں کندھوں پر اٹھا کر چلتے ہیں

اور بھلا آپ کو مجبور لوگوں سے کیوں محبت ہے؟’ اس نے مجھ سے پوچھا

دیکھو بیٹی، اس دنیا میں ہر انسان محبت کا حقدار ہے. مجبور لوگوں سے محبت کرنا تھوڑا مشکل ضرور ہے لیکن بہت ضروری ہے. اسی لئے تو ہمیں پیدا کیا گیا ہے

.چھوڑو اس بات کو. تم یہ بتاؤ کہ تم کال گرل کیسے بنی؟’ میں نے پوچھا تو وہ ہنس کر بولی

‘یہ لمبی کہانی ہے سر’

میں بھی ہنس کر دوبارہ ناشتہ بنانے میں مگن ہوگیا


ناشتے سے فارغ ہوئے تو بارش ابھی بھی لگاتار جاری تھی. اس بیچاری کے پیٹ میں ابھی ناشتہ گئے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ وہ ایک ابکائی لیکر واش روم کی طرف دوڑی. تھوڑی ہی دیر میں سب کھایا پیا نکل گیا اور وہ کمزوری سے نڈھال ہوگئ. میں نے ڈاکٹر کی دی ہوئی دوائیاں دیکر اسے پھر سے سلا دیا اور خود بھی اپنے بیڈروم میں جا کر لیٹ گیا. آنکھ ایسی لگی کہ مغرب کے وقت کھلی. میں نے عینی کو چیک کیا تو وہ بدستور سوئی ہوئی تھی. میں نے اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا اور ایک کتاب اٹھا کر دوبارہ لاؤنج میں بیٹھ گیا

رات کے دس بجے تو میں نے پھر سے عینی پر ایک نظر ڈالنے کا سوچا. وہ کچھ کسمسا سی رہی تھی اور میرے دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹانے پر ہی اٹھ کر بیٹھ گئ

‘بہت دیر ہوگئ ہے سر.’ اس نے پریشانی سے کہا. ‘پلیز مجھے میرے گھر چھوڑ آیئں

‘ہاں ضرور. کہاں رہتی ہو تم؟’

میں یہیں قریب ڈیفنس میں،ایک چھوٹے سے فلیٹ میں، اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ رہتی ہوں.’ اس نے بستر سے اٹھتے ہوئے جواب دیا مگر پھر چکرا کر واپس گر گئ

تمھاری حالت ٹھیک نہیں ہے عینی. تمھیں ابھی آرام کی ضرورت ہے. تم ایسا کرو کہ فون کر کے اپنی سہیلیوں کو بتا دو کہ تم میرے ہاں ہو.’ میں نے اس کے اوپر کمبل درست کرتے ہوئے کہا

.آپ سمجھ نہیں رہے سر.’ اس کی آنکھوں میں وحشتوں کے سایے رقصاں تھے

‘سہیلیوں کا مسلہء نہیں ہے. مسلہء پیٹر کا ہے’

.پیٹر؟ پیٹر کون؟’ میں نے حیرانی سے پوچھا

.پیٹر میرا پمپ ہے سر…….میرا دلال!’ اس نے تھوڑا شرمندہ ہوتے ہوئے کہا

‘وہ مجھے ڈھونڈ رہا ہوگا. دیر سے جاؤں گی تو مار مار کر لہولہان کر دے گا’

.اوہ!’ میں پریشان ہوکر وہیں اس کے پاس بیٹھ گیا

‘مگر تمھاری حالت ایسی نہیں کہ تم جا سکو. کیا تم پیٹر کو بتا نہیں سکتی کہ تم دو تین دن کیلئے فارغ نہیں ہو؟’

پیٹر کے نزدیک میں صرف ایک بزنس پروڈکٹ ہوں سر. وہ مجھے نوچنے کے پیسے لیتا ہے. اسے میری صحت سے کوئی سروکار نہیں.’ اس کے چہرے پر ابھی بھی سراسیمگی تھی

‘تو تم اس کو بتا دو کہ کل جس کے پاس تھی، آج بھی وہیں ہو’

.یہ کام ایسے نہیں ہوتا سر. وہ میرے گاہک سے رات کے پیسے ایڈوانس میں لیتا ہے.’ اس نے ہاتھ ملتے ہوئے جواب دیا

.کتنے پیسے ……کتنے پیسے ہوتے ہیں ایک رات کے؟’ میں نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا

.پچیس ہزار!’ اس نے سر جھکا کر جواب دیا

‘اگر میں اس کو جا کر ایک لاکھ دے دوں تو وہ اگلے چار روز تمھیں تنگ تو نہیں کرے گا؟’

‘آپ دیں گے پیسے؟’ عینی نے ششدر ہو کر پوچھا. ‘آپ کیوں دیں گے پیسے؟’

.دیکھو بیٹے، میرے پاس پیسے کی کمی نہیں. اور تمھیں آرام کی ضرورت ہے.’ میں نے شفقت سے مسکراتے ہوئے کہا

پہلے تو وہ نہیں مانی مگر پھر میرے بیحد اصرار کرنے پر پیٹر کو فون کرنے کیلئے تیار ہوگئ


پیٹر کون تھا؟ کیسا دکھتا تھا؟ کہانی کی طوالت کے پیش نظر میں ان سب باتوں کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا. قصّہ مختصر، عینی کے فون کرنے پر پیٹر میرے فلیٹ پر آیا، میرا اور فلیٹ کا جائزہ لیا، ایک خبیث مسکراہٹ سے مجھے نوازا اور نوٹوں کی گڈّی لیکر یہ جا وہ جا

اگلے دن میری آنکھ عینی کے جگانے پر کھلی

‘اٹھیں سر، جلدی سے فریش ہو کر آ جایئں. میں نے ناشتہ تقریباً بنا ہی لیا ہے’

نتاشہ کے چلے جانے کے بعد اس دن پہلی دفعہ مجھے ناشتے کا بہت مزہ آیا. ناشتہ کر کے فارغ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ عینی نے ابھی تک وہ ہی اپنی جینز کی پتلون اور ایک سیاہ ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی

عینی تم الماری سے نتاشہ کے کوئی کپڑے نکال کر پہن لو. بےتحاشہ کپڑے پڑے ہیں. تمھیں کوئی نا کوئی پورا ضرور آ جائے گا

.سچ میں سر؟ میں پہن لوں نتاشہ کے کپڑے؟ آپ کو برا تو نہیں لگے گا؟’  اس نے بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے پوچھا

‘ہاں ضرور پہن لو. مجھے بھلا کیوں برا لگے گا؟’

عینی نتاشہ کے کپڑوں میں سے، ایک گرے رنگ کی جینز اور کھلی سی آسمانی رنگ کی ٹی شرٹ پہن کے آئ، تو کچھ لمحے کیلئے مجھے یوں لگا کہ نتاشہ پھر سے میرے سامنے آ گئ ہو. میری آنکھوں میں نمی امڈتے دیکھ کر عینی تھوڑی پریشان ہوگئ

‘سوری سر’

کوئی بات نہیں. مجھے میری بیٹی یاد آ گئ. بالکل تمھارے جتنی تھی جب وہ مجھ سے ناراض ہو کر چلی گئ.’ میں نے ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا

.کیا ہوا تھا سر؟ وہ آپ سے ناراض کیوں ہوئی؟’ عینی نے کارپٹ پر بیٹھ کر اور گھٹنوں پر تھوڑی رکھ کر پوچھا


نتاشہ میری اکلوتی بیٹی تھی اور بیوی کی وفات کے بعد میرا واحد اثاثہ.’ میں نے کھڑکی سے باہر سمندر کی مچلتی لہروں کو دیکھتے ہوئے کہا. ‘کم از کم، مجھے تو یہی لگتا تھا کہ ہم دونوں کے بیچ، کسی تیسرے کی گنجائش نہیں تھی لیکن زندگی بڑی ظالم چیز ہے. اس نے میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور اپنے ساتھ پڑھنے والے ایک لڑکے وجدان کی محبت میں گرفتار ہوگئ. اس کیلئے تو وجدان مشرق سے ابھرتا ہوا سورج تھا لیکن مجھے پہلی ہی ملاقات میں، لڑکے کی شخصیت اور کردار کا اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا. باقی کسر، معمولی سی پوچھ گچھ سے پوری ہوگئ. بہت شاطر لڑکا تھا. کئی لڑکیوں کو محبت کے جال میں الجھا کر برباد کر چکا تھا. نتاشہ میں اس کی دلچسپی، میری زمینوں کی وجہ سے تھی. وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ میرے بعد، نتاشہ ہی میری جائداد کی وارث تھی

میں نے نتاشہ کو سمجھانے کی بہت کوشش کی. لیکن وہ اپنی وقتی چاہت کو محبت سمجھ بیٹھی تھی. باپ کی کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا. ایک دن وجدان کے والدین اس کا رشتہ لیکر آ گئے. میں نے بےعزتی کرنا تو مناسب نہیں سمجھا لیکن صاف صاف انکار کر دیا. نتاشہ کو مجھ سے بیحد محبت تھی لیکن جوان تھی اور بہت جذباتی بھی. پہلے تو مجھے منانے کی کوشش کی مگر میرے صاف صاف انکار پر، اگلے ہی دن مجھے چھوڑ کر چلی گئ. اس نے ایک لمحے کو بھی، بوڑھے باپ کی محبت کا خیال نہیں کیا. لیکن خیر، اب میں سوچتا ہوں کہ کاش میں نے انکار نا کیا ہوتا تو آج میری بیٹی میرے پاس ہوتی

.آپ غم نا کریں سر. وہ ایک دن ضرور واپس آ جائے گی.’ عینی نے مجھے ایک پانی کا گلاس لا کر دیا

.کاش ایسا ہوسکتا!’ میں نے بےبسی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا

‘خیر اب تمھاری باری. تم بتاؤ تم کال گرل کیسے بنی؟ تمھارے والدین کہاں ہیں؟’

میں لاہور کے رہنے والے ایک غریب رکشے والے کی بیٹی تھی سر.’ عینی نے کارپٹ پر اپنی جگہ سنبھالتے ہوئے اپنی کہانی کا آغاز کیا

میرا باپ ٹھیکے پر رکشا چلاتا تھا اور میری ماں محلے والوں کے کپڑے سیتی تھی. کچھ نا کچھ گزر بسر ہو ہی جاتی تھی. پھر میرا باپ بری صحبت میں پڑ گیا اور نشے کا عادی ہوگیا. ماں کے سیے کپڑوں سے اتنی آمدنی نہیں ہوتی تھی کہ گھر کا خرچہ چل سکے. غریبوں کا محلہ تھا. سلائی والے کپڑے بھی بہت کم ہوتے تھے. ہم تین بہنیں تھیں لہذا فاقوں پر فاقے ہونے لگے. کئ دفعہ تو میرا باپ نشہ ٹوٹنے پر میری ماں کو اتنا مارتا کہ بیچاری بستر پر پڑ جاتی

پھر ایک دن میرے باپ نے نشے کے پیسے نا ہونے پر میری ماں کو ایک ہیروئن فروش کے ہاتھوں بیچ ڈالا. پتا نہیں اس دن میری کمزور ماں کے ہاتھوں میں اتنی طاقت کہاں سے آ گئ. اس نے رات کو پھل کاٹنے والی چھری اس ہیروئن فروش کے سینے میں اتار دی اور ہم تین چھوٹی بہنوں کو لیکر گھر سے نکل آئ. چلتے چلتے ہم ایک نہر کے کنارے جا پہنچے. میری ماں نے ہم تینوں کے ہاتھ پیر ایک ہی رسی سے باندھے اور اسی رسی کا ایک سرا اپنی کمر سے باندھ لیا. میں عمر میں باقی دونوں بہنوں سے بڑی تھی. مجھے کچھ کچھ ماں کی نیّت کا اندازہ ہوگیا. میں نے رو رو کر ماں کی منت کی. اس کے پاؤں پکڑے لیکن اس کے ارادے میں بہت طاقت تھی. اس نے ہمیں نہر میں دھکّا دیا اور خود بھی کود پڑی. جب مجھے ہوش آیا تو صرف میں زندہ بچی تھی. ماں اور دونوں بہنیں ڈوب کر مرچکی تھیں

‘ماں کے مرنے کے بعد میں دوبارہ باپ کے ہتھے چڑھ گئ اور جلد ہی اس نے میرا بھی سودا تہ کر دیا’

‘آپ کو پتا ہے سر……؟’ اس نے ڈبڈبائ نظروں سے میری طرف دیکھا. ‘ایک نو سال کی بچی کی عزت کی کیا قیمت لگائ گئ؟’

صرف دو ہزار روپے. پھر میں لڑکی نہیں رہی. تجارت کا مال بن گئ. ایک گاہک سے دوسرا اور دوسرے سے تیسرا. بکتی رہی. پھر ایک دن میں پیٹر کے ہاتھ لگ گئ. اس کو اچھی طرح پتہ تھا کہ میں چونکہ شکل و صورت کی اچھی تھی، میرا بہتر استمعال ہوسکتا تھا. اس نے میرے اوپر بہت پیسہ خرچ کیا. انگریزی بولنا سکھایا، بڑے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا سکھایا. میں نے بھی دل لگا کر سب کچھ سیکھا اور ایک ہائی کلاس کال گرل بن گئ

تھوڑی دیر کمرے میں بالکل خاموشی چھائی رہی

.میرے ساتھ ایک ڈیل کریں گے سر؟’ عینی نے پوچھا تو میں نے چونک کر سر اٹھایا

‘ڈیل؟ کیسی ڈیل؟’

ہمارے پاس چار دن ہیں. ان چار دنوں میں آپ میرے لئے ایک محبت کرنے والے باپ کی کمی پوری کریں اور میں آپ کی بیٹی کی کمی پوری کرنے کی کوشش کروں گی

‘گمشدہ رشتوں اور رشتوں کی محبت کی کمی، ایسے پوری نہیں ہوتی عینی……لیکن خیر، میں تیار ہوں’


وہ چار دن میرے لئے واقعی یادگار بن گئے. اس نے واقعی مجھ سے بیٹیوں کی طرح محبت کی. میرا بالکل ایسے خیال رکھا کہ جیسے صرف نتاشہ ہی رکھ سکتی تھی. میرے کپڑے نکال کر غور سے جائزہ لیا. پرانے کپڑے پھینک دئے. کچھ کے بٹن دوبارہ لگائے. میرے لئے کھانا باقائدگی سے پکاتی رہی. میری کتابوں پر گرد پوش چڑھائے. یہاں تک کہ میرے پاؤں بھی دبائے. میں منع ہی کرتا رہ گیا لیکن اس نے میری ایک نہیں سنی

میں نے بھی پوری کوشش کی کہ اسے بتا سکوں کہ ایک شفیق باپ کی محبت کیسی ہوسکتی تھی. میں نے اسے بہت سیر کروائی. پورا کراچی لیکر گھوما. جو کہا کھلایا، جو کہا پلایا. یہاں تک کہ اس کی خاطر میں اس بڑھاپے میں، کلفٹن کے فن لینڈ میں جھولوں پر بھی بیٹھا


مجھے ابھی تک یاد ہے کہ وہ چار دنوں میں سے آخری دن تھا. ہم ڈیفنس کے ایک نئے تعمیر شدہ شاپنگ پلازہ میں پھر رہے تھے

.میں چاہتا ہوں کہ تمھیں کچھ کپڑے اور جوتے لے دوں. میری مرضی کے نہیں، تمھاری مرضی کے.’ میں نے اس سے کہا

نہیں سر. مجھے کپڑے یا جوتے نہیں چائییں. آپ نے کچھ لیکر دینا ہے، تو ایک گڑیا لے دیں.’ اس نے تقریباً ضد کرتے ہوئے کہا

‘گڑیا؟’ میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا. ‘گڑیا کا کیا کرو گی تم؟’

جب میں چھوٹی سی تھی نا سر، تو مجھے سنہرے بالوں والی گڑیا لینے کا بہت شوق تھا.’ عینی کی آنکھوں میں ناآسودہ خواہشات کے چراغ جل پڑے

لیکن میرے ماں باپ کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ وہ میری ضد پوری کر سکیں. بس میری ماں کبھی کبھی پرانے کپڑوں کی کترنوں سے ایک گڑیا سی دیتی تھی. وہ اصل گڑیا جیسی تو نہیں ہوتی تھی لیکن کچھ دیر کو میرا شوق دھیما ضرور پڑ جاتا تھا. بس آپ مجھے ایک اچھی سی گڑیا لے دیں.’ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر بالکل بچوں کی طرح ضد کی

میں انکار نہیں کر سکا. ہم نے بہت ڈھونڈ ڈھانڈ کر، ایک کھلونوں کی دوکان سے خوبصورت نیلی آنکھوں اور سنہرے بالوں والی گڑیا خریدی. عینی نے گاڑی میں بیٹھتے ہی بچوں کی طرح اس گڑیا کو سینے سے لگا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی. میں کچھ نہیں بولا. بس پیار سے اس کے گھنے بالوں سے ڈھکی گردن سہلاتا رہا. پھر مجھے بھی اپنی نتاشہ کی یاد آ گئ. اور نا چاہتے ہوئے بھی میری آنکھوں میں ڈھیروں آنسو امڈ آے

سر….!’ عینی نے مجھے روتے دیکھا تو پوچھنے لگی. ‘نتاشہ کہاں ہے؟ مجھے اس کا پتہ بتایئں. میں وعدہ کرتی ہوں، میں اسے منا کر ضرورآپ کے پاس واپس لے آؤں گی

‘تم سمجھتی نہیں ہو عینی. نتاشہ کبھی واپس نہیں آ سکتی’

.کیوں سر؟ کیوں واپس نہیں آ سکتی؟’ اس نے بیقرار ہو کر پوچھا

میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور گاڑی سٹارٹ کر کے پلازے کی پارکنگ سے باہر نکالی. وہ چپ چاپ مجھے گاڑی ڈرائیو کرتے دیکھتی رہی

میرے ساتھ آؤ.’ میں نے ڈیفنس کے قبرستان کے باہر گاڑی روکی اور عینی کا ہاتھ پکڑ کر، اندر داخل ہوگیا. وہ بیچاری خاموشی سے میرے ساتھ ساتھ چلتی رہی

چلتے چلتے ہم کالے ماربل سے ڈھکی مگر کتبوں کے بغیر دو سادہ سی قبروں تک پہنچ گئے

.یہ کن کی قبریں ہیں سر؟’ عینی نے پریشان ہوکر پوچھا

‘یہ میری بیوی اور نتاشہ کی قبریں ہیں’

‘کیا کہ رہے ہیں آپ؟’ عینی نے بے چینی سے پوچھا. ‘نتاشہ مر گئ؟ مگر کیسے؟’

میں نے تمھیں بتایا تھا نا کہ وجدان کے گھر والوں کو انکار کرنے پر، نتاشہ مجھ سے ناراض ہوگئ تھی.’ میں نے قبر کے پاس زمین پر بیٹھتے ہوئے کہا

‘بس جب اگلے دن میں یونیورسٹی سے واپس آیا تو ٹی وی لاونج میں نتاشہ پنکھے سے لٹکی جھول رہی تھی’

.سر……..!’ عینی اس سے آگے کچھ نہیں بول سکی اور وہیں زمین پر میرے ساتھ بیٹھ گئ

میرے جسم میں جیسے صدیوں کی تھکن اتر آئ تھی. ہم دونوں بہت دیر وہیں، ان دو اکیلی قبروں کے پاس لٹے پٹے مسافروں کی طرح، بیٹھے روتے رہے


جب ہم گھر واپس آئے تو بہت رات ہو چکی تھی. لیکن ہم دونوں کا سونے کا دل نہیں تھا. میں نے وہیں ٹی وی لاؤنج میں آرام کرسی پر بیٹھ کر پائپ سلگا لیا اور عینی میرے قدموں میں بیٹھ گئ

.عینی……ایک بات کہوں، مانو گی؟’ میں نے اپنے زانو پر دھرا اس کا سر پیار سے سہلاتے ہوئے کہا

‘جی سر…..ضرور مانوں گی’

عینی، تم یہیں میرے پاس رک جاؤ. میری نتاشہ بن جاؤ. میں وعدہ کرتا ہوں تمھیں کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گا.’ میں نے گلوگیر لہجے میں اس سے درخواست کی

‘نہیں سر. ایسے نا کہیں پلیز. میں نتاشہ بننے کے قابل نہیں ہوں’

میں نے بار بار اپنی درخواست دہرائ. اس نے بار بار انکار کیا. پھر ہم دونوں خاموش ہوگئے. پتہ نہیں وہیں بیٹھے بیٹھے، کب نیند نے آن گھیرا


صبح میری آنکھ کھلی تو گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا. میں نے ڈرتے دل کے ساتھ اٹھ کر نتاشہ کے کمرے میں جھانکا. بسترپر کوئی سلوٹ نہیں تھی. بس سرہانے پر عینی کی گڑیا پڑی ہوئی تھی اور پائنتی کی طرف، نتاشہ کے وہ تمام کپڑے سلیقے سے تہ کئے پڑے تھے، جو عینی کے زیر استمعال رہے تھے

پھر ایک دن مجھے ایک پارسل ملا. میں نے کھولا تو اس میں ایک لاکھ روپئے تھے اور ساتھ ایک پرچی تھی جس پر لکھا تھا

‘ایک محبت کرنے والی بیٹی کی طرف سے ایک شفیق باپ کیلئے. بہت شکریہ کے ساتھ’

میں نے عینی کو بہت ڈھونڈا. لیکن جو ملنا نا چاہ رہے ہوں وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے.مگر عینی کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی. ایک دن میں نے صبح اخبار کھولا تو آخری صفحے پر عینی کی تصویر تھی. اس کی تشدد زدہ لاش، ڈیفنس کے ایک چوراہے کے پاس سے ملی تھی. پولیس نے معمول کی کاروائی مکمّل کر کے لاش ایدھی والوں کے سپرد کر دی تھی

میں نے بوجھل دل کے ساتھ عینی کی لاش ایدھی والوں سے وصول کی. اس کے مردہ چہرے پر ویسی ہی معصومیت روشن تھی

قبر میں مٹی ڈالنے سے پہلے، میں نے بغل میں دبائی سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والی گڑیا نکالی اور نیچے اتر کر، عینی کے پہلو میں احتیاط کے ساتھ رکھ دی

خدا حافظ عینی!’ میں نے اس کے پھول سے وجود کو، بھاری دل کے ساتھ الوداع کہا اور کفن کے اوپر سے ہی، اس کی پیشانی چوم لی

وہاں ڈیفنس کے اس قبرستان میں اب بغیر کتبے کے تین اکیلی قبریں تھیں

#Urdu #fiction #story #hooker #prostitute #judgement #loneliness #love #kindness #father #daughter #Karachi #graves #graveyard #doll

عشق پاء

گڑھی شاہو کے نہایت مصروف مرکزی بازار میں ایک مجمع اکٹھا تھا. ‘مارو!…اور مارو!’ کی صدایئں بلند ہورہی تھیں. مجمعے کے عین درمیان، سلیم کھڑا نہایت صبر اور معصومیت سے پٹ رہا تھا؛ اور قریب کھڑی کالے برقعوں میں ملبوس دو نوجوان لڑکیاں، لوگوں کو اور مارنے پر اکسا رہی تھیں

.آخر ہوا کیا؟ کیوں مار رہے ہو لڑکے کو؟’ ایک چسکے کی ماری موٹی تازی عورت نے آگے بڑھ کر لڑکیوں سے پوچھا’

کوئی بہت انتہاء کا بےشرم سیلزمین ہے. جوتیاں ٹرائی کراتے کراتے کہنے لگا……باجی! آپ کے پاؤں بیحد خوبصورت اور دلکش ہیں. اگر اپنے پاؤں کو ایک دفعہ چومنے کی اجازت دیں تو بیشک مفت میں جوتی کا جوڑا لے جایئں.’ ایک برقعہ پوش لڑکی نے ہاتھ لہرا کر بتایا


Read more: عشق پاء

اس دن سلیم کو پہلی دفعہ ایسی حرکتیں کرنے پر مار نہیں پڑی تھی. بیچارے نے جہاں جہاں بھی نوکری کی، نسوانی پیروں کے عشق میں کی تھی اور ہر جگہ اپنے فیٹش کے ہاتھوں ذلیل ہوا تھا

پہلے ایک دربار پر جوتیوں کی نگرانی کا کام کرتا تھا. زائرین میں سے کسی عورت کے پاؤں بہت پیار سے سہلانے پر مار پڑی تو اٹھ کر ہیرا منڈی میں گھنگرو بنانے بیٹھ گیا. وہاں پر ایک رنڈی کے پیروں سے لگ کر بیٹھنے پر ذلیل کر کے نکالا گیا تو عیدالفطر پر خواتین کو مہندی لگانے کا کام پکڑ لیا. پہلے بدصورت پیروں کو  مہندی لگانے سے انکار پر مسلسل ڈانٹ کھاتا رہا. پھر کسی تھانیدار کی رشتےدار عورت کے نازک پیروں پر عاشق ہوگیا. اتنی مار پڑی کہ ہسپتال داخل ہونا پڑا. وہاں سے نکلا تو گڑھی شاہو میں ایک گرگابیوں کی چھوٹی سی دوکان پر سیلزمین بھرتی ہوگیا


یہ دنیا بہت عجیب جگہ ہے. ہر انسان کا متضاد جںس کیلئے جنون یا فیٹش الگ ہے. کسی کو چہروں سے لگاؤ ہوتا ہے. کسی کو جسموں سے. کسی کو پتلے دبلے لوگ متوجوہ کرتے ہیں تو کسی کو موٹے اور صحت مند لوگوں میں کشش نظر آتی ہے.انسانی نفسیات میں جنون یا فیٹش کا موجود ہونا کوئی عجیب بات نہیں لیکن یہ امر واقعی غور طلب ہے کہ ہر انسان کو دوسرے کا فیٹش بیماری نظر آتا ہے

خیر میں کہ رہا تھا کہ اس دنیا میں ہر انسان کا فیٹش الگ ہوتا ہے. لیکن سلیم کا فیٹش بہت انوکھا تھا. اس کو بہت بچپن سے ہی صرف نسوانی پیروں سے لگاؤ تھا. گورے چٹے اور نازک گلابی پاؤں اسکی جان کھینچ لیتے تھے. ایسا کیوں تھا؟ خیر اس کا جواب تو سلیم کی تحلیل نفسی کے بعد ہی دیا جا سکتا تھا

محلے کی عورتیں اور بہنوں کی سہیلیاں، سب سلیم کو بہت ہی شریف لڑکا سمجھتیں تھیں. نظریں جو ہمیشہ جھکی رہتی تھیں اس کی. اب ان کو یہ کیسے پتہ چلتا کہ سلیم کی عاشق نظریں مسلسل ان کے پیروں کا طواف کر رہی ہوتی تھیں. پھر وہ احتیاط بھی بہت کرتا تھا. دونوں بہنوں کی شادی کی عمر ہو چکی تھی. اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے کسی بھی غلط عمل کا سیدھا اثر ان کے مستقبل پر ہوسکتا تھا


اس دن بازار میں مار تو بہت پڑی لیکن خوش قسمتی سے چہرہ بچ گیا. باقی درد برداشت کرنے کا مادہ بہت تھا لہٰذا ماں اور بہنیں، کسی کو بھی پتہ نہیں چلا

بدقسمتی یہ ہوئی کہ جس دوکان پر سیلزمین کی نوکری کرتا تھا، اس کا مالک سلیم کے ماموں کا جگری یار تھا. ایک دن دوستوں کی ملاقات ہوئی تو چسکہ لے لے کر اور مرچ مسالہ لگا کر سارا قصہ رپورٹ ہوگیا. اب ماموں ٹھہرے پرانی وضع کے آدمی. ان کو سلیم کے اصل مسلے کی تو سمجھ نہیں آ سکی. بس یہ نتیجہ نکالا کہ لڑکا جوان ہوچکا تھا

گھر میں غربت نہیں تھی. باپ کی چھوڑی دو چار جائیدادوں سے کرایہ باقائدگی کے ساتھ آتا تھا. نوکری تو سلیم اپنے فیٹش کے پیچھے کرتا تھا. ماموں نے ماں سے بات کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ماں نے اپنی کسی سہیلی کی بیٹی سے رشتہ پکا کر کے شادی کی تاریخ مقرر کر دی

سلیم کو لڑکی دکھانے یا اس کی خواہش پوچھنے کا تکلف بھی نہیں کیا گیا. بازار میں پڑی مار پر شرمندگی کی وجہ سے سلیم بھی احتجاج نہیں کر سکا

پھر دونوں بہنوں نے مل کر لڑکی کے حسن کے اتنے قصیدے پڑھے کہ سلیم کا دل بھی مچلنے لگا. لڑکی کشمیری ذات کی تھی اور بہنوں کے مطابق، اتنی گوری چٹی تھی کہ انگلی لگانے سے میلی ہوتی تھی


خدا خدا کر کہ شادی کا دن بھی آ گیا. بارات لڑکی کو لیکر واپس پہنچی تو ہر دیکھنے اور ملنے والیوں نے دلہن کو دیکھ کر دانتوں میں انگلیاں داب لیں. سلیم کی ماں نے واقعی چن کر بہو کا انتخاب کیا تھا

سلیم نے بھی آئینے میں دلہن کی ایک جھلک ہی دیکھی تو دل تھام کر رہ گیا. اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے نصیب میں کبھی ایسی حور پری بھی آ سکتی تھی

ماں نے بھی سلیم کے چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ ناچتے دیکھی تو سکھ کا سانس لیا. جلدی جلدی عورتوں کو رخصت کیا اور دونوں بہنوں کے ساتھ مل کر بہو کو تیسری منزل پر تیار کی گئ اور سجائی گئ خواب گاہ میں لے گئ

سلیم نے بھی دوستوں سے پیچھا چھڑوایا اور ماں کی دعایئں لے کر جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھ گیا. بس وہ آخری دفعہ تھا کہ جب ماں نے بیٹے کو جیتا جاگتا دیکھا. اس کے ٹھیک دس منٹ کے بعد سلیم نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہرگلی میں کود کر خودکشی کر لی


ارے میں تو پری سمجھ کے لائ تھی مگر یہ تو چڑیل نکلی. کلیجہ چبا گئ میرے بیٹے کا. بلاؤ پولیس کو اور اس ڈائن کو حوالے کرو ان کے.’ سلیم کی ماں نے بیٹے کی میت پر بین کرتے ہوئے کہا

نئی نویلی دلھن ایک کونے میں سکتے میں سر جھکائے بیٹھی تھی. کاجل آنکھوں سے بہ کر گورے گال کالا کر رہا تھا اور دوپٹے کا کوئی ہوش نہیں تھا

مجھے لڑکی سے تو پوچھنے دو کہ آخر معاملہ کیا ہوا؟ اچھا بھلا خوش باش تھا. پھر یوں کھڑکی سے کیوں چھلانگ لگا دی؟’ سلیم کے مامؤں نے کہا اور پھر لڑکی کے پاس جا کر پوچھا

‘ہاں بیٹی! تم بتاؤ کیا ہوا تھا؟’

مگر دلھن کچھ نہیں بولی. بس چپ چاپ بیٹھی اپنے لمبے سرخ ناخنوں سے، سیاہی مائل پیروں سے خشکی کا کھرنڈ کھرچتی رہی

#Urdu #fiction #story #fetish #footfetish #psychology #personality #insult #suicide #man #woman #psychoanalysis  

شہوت، جبلت اور حق

.ابے ادھر آ!’ پرویز نے بیڑی سلگا کر ویٹر کو آواز لگائی’

آدھی رات گزرے کافی وقت بیت چکا تھا لیکن لگتا تھا کہ نیپیئرروڈ پرچلتے پھرتے لوگوں کو وقت کا کوئی اندازہ نہیں تھا

.ہاں کیا ہے؟’ میلے کچیلے اور مریل سے ویٹر نے، کندھے پر ڈالے رومال سے ناک صاف کرتے ہوئے پوچھا’

پرویز نے بیڑی کا کش لگا کر جیب سے بیس روپے نکالے اوراس کی طرف بڑھائے

ویٹر نے برا سا منہ بنا کر پیسے پکڑے اور گندی پلیٹیں اٹھا کر وہیں کھڑا رہا

.ٹپ؟’ اس نے بےشرمی سے دانت نکالتے ہوئے مطالبہ کیا’

.کوئی ٹپ شپ نہیں ہے. دفع ہوجا یہاں سے.’ پرویز نے آخری بیڑی سلگاتے ہوئے حقارت سے کہا’

‘ٹپ میرا حق ہے پرویزاستاد. لئے بغیر دفع نہیں ہوں گا’

حق کی بات پر پرویز کو اپنا باپ یاد آ گیا


Read more: شہوت، جبلت اور حق

.ابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟’ دس سالہ پرویز نے باپ کی انگلی پکڑے پوچھا’

.پیسے لینے جا رہے ہیں.’ اقبال پوڈری نے لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے کہا’

‘وہ حرامی اختر تین روز پہلے دس پڑیاں لے گیا تھا. مال تو کب کا بک گیا ہوگا لیکن پیسے نہیں دیئے’

پتہ نہیں کن کن گلیوں سے گزرتے باپ بیٹا ایک چھوٹے سے پل کی سائیڈ سے نیچے اتر کر، بدبودار تاریکی میں گھس گئے. سرانڈ کی وجہ سے پرویز نے ایک ہاتھ ناک پر رکھ کر دوسرے ہاتھ سے باپ کی انگلی مضبوطی سے دبوچ لی

.اختر؟’ اقبال پوڈری نے آواز لگائی مگر کوئی جواب نہیں آیا’

زیرلب گالیاں دیتے ہوئے پنسل ٹارچ روشن کی تو روشنی کا مختصر دائرہ زمین پر اوندھے منہ پڑے ایک جسم پر پڑا

اقبال نے جسم سیدھا کیا تو اختر کا بھیانک چہرہ سامنے آ گیا. گلے میں ایک رومال کسا تھا اور لاش کی دونوں آنکھیں ابل کر تقریباً باہر ہی آ گئ تھیں

.ابے میرے پیسے؟’ اقبال بےصبری سے اس کی جیبیں ٹٹول رہا تھا مگر سب خالی نکلیں’

‘تو یہیں کھڑا رہ دو منٹ.’ اقبال نے پرویز سے کہا. ‘میں آیا ابھی’

اس سے پہلے کہ پرویز کوئی احتجاج کر سکتا، اقبال اس کے ہاتھ میں ٹارچ تھما کر تاریکی میں غائب ہو چکا تھا

پرویز کو تو لگا کہ شاید اقبال کو گئے گھنٹوں گزرچکے تھے لیکن وہ پانچ منٹ میں ہی واپس آ گیا

.ٹارچ کی روشنی اس کے منہ پر ڈالی رکھ.’ اقبال نے لاش کے سرہانے اکڑوں بیٹھتے ہوئے کہا’

اس نے ایک ہاتھ سے لاش کا منہ پورا کھولا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑے پلاس سے باری باری اختر کے دانت اکھاڑنے شروع کر دیئے

.یہ تو کیا کر رہا ہے ابا؟’ پرویز نے گھن کھاتے ہوئے پوچھا’

‘فٹ پاتھ پر بیٹھے کسی دندان ساز کو بیچوں گا تو چار پیسے مل جایئں گے’

‘لیکن کیوں؟’ پرویز نے حیرانگی سے پوچھا. ‘دفع کر اس کو’

.کیوں دفع کروں…ہیں؟’ اقبال نے گندے خون سے بھرا ہاتھ پرویز کے منہ کے سامنے نچایا تو وہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا’

.ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا پرویز.’ اس کی آنکھیں اندھیرے میں کسی جانور کی سرخ آنکھوں کی طرح چمک رہی تھیں’

‘اپنا حق کبھی نہیں چھوڑنا….کبھی نہیں’


پرویز نے سر جھٹکا اور ویٹر کی طرف دیکھا جو ابھی تک وہیں کھڑا میلے دانت نکوس رہا تھا

.پیسے کوئی نہیں میرے پاس. بس یہ پکڑ اور عیاشی کر.’ پرویز نے اپنی جیب سے واحد بیڑی نکال کر ویٹر کی طرف بڑھائی’

ویٹر چار پانچ گالیاں بڑبڑا کر چلا گیا تو پرویز اٹھ کر کھمبے کے نیچے کھڑی، میک اپ سے لدی لڑکی کے پاس چلا گیا

.کیا پروگرام ہے ہیرو؟’ لڑکی نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر بڑی ادا سے پوچھا’

پرویز نے لڑکی کا ایک خواہش بھری نظر سے ایکس رے کیا. عام سی شکل و صورت تھی لیکن بھرپور جوان تھی

‘پروگرام تو نیک ہے. تو اپنا بتا؟’

.ایک شاٹ کا پانچ سو لوں گی. نا ایک روپیہ زیادہ نا ایک روپیہ کم.’ لڑکی نے لچک کر کہا’

‘پانچ سو؟’ پرویز نے سر کھجایا. ‘میری جیب میں تو ایک روپیہ بھی نہیں……. ادھار کرتی ہے؟’

.ادھار؟’ لڑکی نے ایک کڑوہ سا قہقہہ لگا کر پرویز کے پاؤں میں تھوکا’

‘چل پھٹ یہاں سے کنگلے. گلشن نے کبھی ادھار نہیں کیا’

.حرامزادی!’ پرویز نے زیر لب گالی دی اور اپنی خالی جیبوں کو کوستا آگے چل پڑا’

‘سن!’ لڑکی نے پیچھے سے آواز دی. ‘پیسے کمانے کا موڈ ہے؟’

پرویز نے بیوقوفوں کی طرح اقرار میں سر ہلا دیا

‘چل پھر میری دلالی شروع کر دے. پیٹر تھا میرا دلال مگر کل کسی نے پٹیل پاڑے میں گولی جھونک دی اس کے بھیجے میں.’ لڑکی نے ناک میں انگلی گھما کر کیچڑ نکالا اور انگلیوں کی پوروں میں مڑور کر ایک طرف چٹکی سے اچھال دیا

.دلالی؟’ پرویز نے منہ لٹکا کر پوچھا’

‘ہاں تو اور کیا صدر میں دوکان ڈال دوں زیور کی؟’

‘کرنا کیا ہوگا؟’

لڑکی نے پہلے تو ایک بھیانک سی ماں کی گالی بکی لیکن پھر کچھ سوچ کر تھوڑی دور کھڑی پرانے ماڈل کی سفید فیئٹ کی طرف اشارہ کیا

‘جا بات کر جا کر اس سے. پانچ سو میں سے سو تیرے’


کافی دیر گزر چکی تھی اور لڑکی کی واپسی نہیں ہوئی تھی. لیکن سو روپئے کے پیچھے پرویز ابھی تک وہیں کھمبے کے نیچے کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا

فجر کی اذان میں ابھی کچھ منٹ باقی تھے جب چوک سے اسی سفید فیئٹ نے پرویز کی طرف کا رخ کیا. وہ کچھ سوچ کر کھمبے کے پیچھے ایک تاریک سی گلی میں اندر ہو کر کھڑا ہوگیا

کھمبے کے پاس پہنچ کر فیئٹ کی رفتار کچھ مزید آہستہ ہوئی اور کسی نے دروازہ کھول کر ایک بڑی سی گٹھڑی سڑک پر لڑھکا دی

پرویز نے قریب جا کر گٹھڑی کا معائینہ کیا. گلشن کب کی مر چکی تھی. کپڑوں کے نام پر ایک دھجی بھی نہیں تھی تن پر. چہرے اور جسم پرجگہ جگہ دانتوں کے کاٹنے کے نشانوں سے خون جھلک رہا تھا

پرویز نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر کچھ سوچ کر لاش کو گھسیٹ کر تاریک گلی میں لے گیا. کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے. پھر باپ کی آواز کانوں میں گونجی

‘اپنا حق کبھی نہیں چھوڑنا….کبھی نہیں’

پرویز نے مڑ کر گلشن کی لاش کی طرف دیکھا. لاش کی ننگی سفید ٹانگیں، جیسے کسی گاہک کے انتظار میں نہایت بےشرمی سے کھلی پڑی تھیں اور اندھیرے میں چمک رہی تھیں

پرویز تھوڑی دیر تو کھڑا لاش کی طرف دیکھتا رہا. پھر اس نے کانپتے ہاتھوں سے بیلٹ کھول کر پتلون نیچے سرکائی اور گلشن کے برہنہ جسم پر جھک گیا

#Urdu #fiction #story #right #life #survival #lawofthejungle #animal #greed #sin #baseness #ugliness #prostitute #pimp #streets #Karachi #instinct

شہر کا آخری خواب فروش

‘چاچا جی؟’ میں نے کھنکار کر پوچھا. ‘آپ چپ کیوں ہوگئے؟’

.کہتے ہیں……….’ انہوں نے بدستور گردن جھکائے کہا’

‘جب دور کسی گھنے جنگل کے بیچوں بیچ، کوئی بوڑھا درخت ٹوٹ کر گرتا ہے تو کوئی آواز نہیں گونجتی’

‘کوئی آواز نہیں گونجتی؟’ میں نے حیرانگی سے پوچھا. ‘یہ کیسے ہوسکتا ہے؟’

.جب کوئی آواز سننے والا یا پرواہ کرنے والا نا ہو تو آوازیں نہیں گونجتی.’ انہوں نے میری آنکھوں میں جھانک کر جواب دیا’

.میں ہوں نا چاچا جی!’ میں نے محبت سے ان کے جھریوں بھرے کمزور ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا’

‘میں ہوں نا سننے اور پرواہ کرنے والا’


Read more: شہر کا آخری خواب فروش

وہ سردیوں کی ایک دھندلکی سپہر تھی اور میں اپنا کیمرہ کندھے پر لٹکائے اندرون شہر کی گنجان آباد گلیوں میں چکر لگا رہا تھا. بہت سے خوبصورت چہرے بھی نظر آئے؛ بہت حسین نقش و نگار والے دروازوں پر بھی نظر پڑی؛ کچھ مسکراہٹوں نے دل موہ لینے کی کوشش بھی کی؛ اور کچھ آنسوؤں نے قدم بھی تھامے. لیکن پتہ نہیں کیا بات تھی کہ میں اپنے کیمرے کا بٹن نہیں دبا سکا. دل پر عجیب اداسی چھائی ہوئی تھی

پھر موچی گیٹ کی بغل میں ایک نسبتاً تاریک اور تنگ سی گلی سے گزرتے ہوئے میری نظر اس بوڑھے کھلونا فروش پر پڑی. وہ ایک بند دروازے سے ٹیک لگائے نجانے کس گہری سوچ میں گم تھا

جس چیز نے مجھے زیادہ متوجوہ کیا وہ تھا اس بوڑھے کھلونا فروش کے پاس ہی دیوار سے ٹکا بانس سے بنا اسٹینڈ. ایک مرکزی عمودی بانس سے جڑے لکڑی کی کئ چھوٹی بڑی پھٹیاں تھیں جن سے پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے کھلونے لٹک رہے تھے

ایسے کھلونا فروش میں نے اپنے بچپن میں ہی دیکھے تھے. چھٹی والے دن اور خاص طور پر عید والے دنوں میں چکر لگاتے تھے. ان میں سے چاچا خیرو مجھے خوب یاد ہے جو مجھے پیار سے بیجو بابرا کہا کرتا تھا

.یہ تم ہر وقت کیا گنگناتے رہتے ہو کاکے؟’ ایک دن چاچا خیرو نے مجھ سے پوچھ ہی لیا’

مجھے دراصل بچپن ہی سے اپنے ہم عصروں سے مختلف نظر آنے کا شوق تھا. لہٰذا ان دنوں میں چھ سات سال کا ہونے کے باوجود کلاسیکی موسیقی میں دلچسپی لے رہا تھا

.جی راگ درگا چاچا جی.’ میں نے بے ساختہ جواب دیا تو وہ ایک دم ہنس پڑا’

‘راگ درگا؟ تم بچے ہو کہ بیجو بابرا؟’

اس دن سے میرا نام ہی چاچا خیرو نے بیجو بابرا رکھ دیا اور میں اس کا مستقل گاہک بن گیا. رنگ برنگی چیزیں ہوتی تھیں اس کے پاس. پلاسٹک کے باجے اور بانس کی پیپنیاں؛ ہلکی سی باریک باریک پہیوں والی چھوٹی چھوٹی گاڑیاں؛ سستی گڑیاں؛ پلاسٹک کے خوفناک ماسک؛ اور سفید سوتی ٹوپیاں جن کے ساتھ مصنوعی سفید داڑھی مونچھیں جڑی ہوتی تھیں. اب چاچا خیرو جیسے لوگ ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آتے


میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا

.چاچا جی؟’ میں نے ہلکے سے ان کو مخاطب کیا’

‘ہاں……کون؟’ انہوں نے آنکھیں کھول کر حیرانگی سے میری طرف دیکھا اور پھر مسکرا دیئے. ‘کہو بیٹے کیا چاہئے؟’

‘چاہئے تو کچھ نہیں….’ میں نے سر کھجاتے جواب دیا. ‘بس آپ پر نظر پڑی تو آپ سے بات کرنے کا دل کیا’

‘ضرور کرو بات بیٹے’

‘آپ کون ہیں چاچا جی؟’

.میں؟’ انہوں نے اپنے سینے کی طرف مسکرا کر انگلی سے اشارہ کیا’

‘میں ہوں اس شہر کا آخری خواب فروش’

.خواب فروش؟ آخری خواب فروش؟’ میں نے چونک کر پوچھا’

ہاں کھلونے خواب ہی تو ہوتے ہیں…چھوٹے چھوٹے معصوم اور رنگین خواب. میں یہ خواب بڑی محنت سے بنتا تھا اور پھر انہیں چاہنے والوں کے حوالے کر دیتا تھا

ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی یاسیت اتر آئ

.اب نا خواب دیکھنے والے رہے اور نا ان کھلونوں کو چاہنے والے.’ انہوں نے بےبسی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا’

‘جب خواب دیکھنے والے خواب ہی نا دیکھنا چاہیں، خوابوں میں یقین ہی نا رکھنا چاہیں تو ان کے رنگ بے معںی ہو جاتے ہیں’

.لیکن خواب تو ہمیشہ اہم ہی رہتے ہیں.’ میں نے حیرت سے پوچھا’

.یقین خواب کی روح ہوتی ہے بیٹے.’ چاچا جی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا’

‘یقین چلا جائے تو خوابوں کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی’


ہم دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے. وہ گلی بڑی عجیب تھی. جب سے میں آ کر وہاں بیٹھا تھا ویران پڑی تھی. دھوپ کا گزر غالباً بالکل ہی نہیں ہوتا تھا وہاں. اسلئے عجیب سبزی مائل پیلا سا رنگ تھا ماحول کا جیسے میں کسی پرانی تصویر کے اندر زندہ تھا اور سانس لے رہا تھا. پھر گلی کے بیچوں بیچ ایک نالی ضرور بہ رہی تھی لیکن بدبو کا دور دور تک کوئی شائبہ تک نہیں تھا. بلکہ میرے نتھنوں میں تو لکڑی کے فرنیچر کی، پنسلوں کی اور مہنگے ربڑوں کی خوشبو مہک رہی تھی. یوں لگتا تھا کہ میں پھر سے اپنے بچھڑے بچپن کے کسی ایک ثانیے میں سانس لے رہا تھا. رنگ بھی وہ ہی تھے اور خوشبویئں بھی وہ ہی، بس ماحول مختلف تھا


.یہ جادو کی چھڑی یاد ہے تمھیں؟’ چاچا جی نے ایک پلاسٹک کی چھڑی میری طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا’

.نہیں.’ میں نے چھڑی دیکھ کر نفی میں سر ہلایا’

وہ سرخ رنگ کے پلاسٹک سے بنی تقریباً ایک فٹ لمبی چھڑی تھی جس کے ایک کونے پر چاندی رنگ کے پترے سے بنا پانچ کونوں والا ستارہ لگا ہوا تھا

.یاد کرو بیجو بابرا!’ چاچا جی نے مسکراتے ہوئے کہا’

‘جب تم چھوٹے تھے تو تمھیں یقین تھا کہ چھڑی کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر ہلانے سے تم کچھ بھی کر سکتے ہو’

.بیجو بابرا….؟’ میں بری طرح سے چونک گیا’

.گھبراؤ نہیں…’ بوڑھے خواب فروش نے میرا ہاتھ شفقت سے تھپتھپایا’

ہم خواب فروشوں کا اپنا قبیلہ ہے اور اس قبیلے کی یادیں اور خواب مشترک ہوتے ہیں. خیردین اور میں، ہم دونوں اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں

‘ہاں شاید …..’ میں نے سر جھٹکتے ہوئے کہا. ‘اس وقت مجھے یقین تھا کہ یہ جادو کی چھڑی ہے’

لیکن اب اس خواب میں تمھیں یقین نہیں ہے نا. لہٰذا اب نا خواب بننے کی ضرورت رہی نا بیچنے کی. اب مجھے چلے ہی جانا چاہئے

چاچا جی نے رندھی ہوئی آواز میں کہا تو میں بےچین ہوگیا

.نہیں چاچا جی، میں اب بھی خواب دیکھتا ہوں.’ میں نے ان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا’

مجھے اب بھی اپنے خوابوں میں یقین ہے. اور میرے خوابوں کی ابتداء انہی کھلونوں سے تو ہوئی تھی. اگر آپ نے خواب فروشی چھوڑ دی تو میری تو خوابوں کی اساس ہی ختم ہوجائے گی

مگر چاچا جی کا ہاتھ میری مٹھی سے ریت کی طرح بہ گیا. میں نے آنسو پونچھتے ہوئے ان کی طرف دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا

میں گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا. سامنے دو برقعہ پوش عورتیں کھڑی میری ہی طرف سہم کر دیکھ رہی تھیں. میں شرمندہ ہوا اور اپنے تخیّل کو کوستا کیمرہ اٹھانے کیلئے جھکا اور پھر ٹھٹھک کر رک گیا. وہاں جہاں تھوڑی دیر پہلے شہر کا آخری خواب فروش بیٹھا تھا، وہیں اسی جگہ، سرخ پلاسٹک کی جادو کی چھڑی پڑی میرا منہ چڑا رہی تھی

#Urdu #story #fiction #dream #imagination #toys #oldcity #Lahore #street #nostalgia #memories #past #magic

Tales of the Ancient Turtle: Resurrection of the White Chrysanthemums (Previously, the Three White Chrysanthemums)

What if the man in the mental hospital who hears trees screaming isn’t mad—what if he’s the only one sane enough to hear what the rest of us have forgotten how to listen to?

A poignant narrative about a mental health patient who claims to hear everything in nature speak—trees, mountains, rivers, and a childhood friend, the ancient Turtle, who taught him that “everything carries wisdom within.”


‘Tell me, my dear…’ The old Doctor said while peering at me closely from behind his thick pebbled glasses. His kind face resembled a map of rugged terrain, marked with jagged lines and twisting contours. ‘Tell me, what do the voices ask you to do?’

We were both sitting on a concrete bench under the shade of a big banyan tree. A beautiful world, painted with liquid gold by the March sun, surrounded us. It was a small and private mental health facility being run by the good old Doctor, and I was one of its few selected residents.

‘The voices do not ask me to do anything. They just want me to listen.’ I replied.

‘Listen?’ The Doctor asked and scratched his bald head. ‘Listen to what exactly?’

‘Listen to everything — the trees, the mountains, the rivers, and the streams.’ I tried to name all my friends.

‘I see.’ The good Doctor removed his glasses and started polishing the lenses with unusual vigor. ‘And are you able to listen to all those things?’ He asked me when the ritual was complete. ‘The trees, mountains, rivers and……….’

‘…and the streams.’ I completed his sentence.

‘Yes, yes…the streams.’ He eagerly nodded his head.

‘Oh yes, I do!’ I replied with a smile. ‘I like to listen to them. They tell me about life and God, and of His grand system and scheme. They tell me that our universe is just His dream. They tell me of the past, and they tell me of the future. They tell me what is possible and what is not. But the most important thing that they tell me is that happiness is only a momentary lapse of reason and that it is the only wisdom that matters; while sadness is the eternal reality, and is the key to all wisdom.’

‘And when did this all start? This listening to…umm! Well…the things?’ The Doctor asked while getting up and started examining a dried-up chrysanthemum bush very closely.

‘It all started with the Turtle — the ancient Turtle living in our backyard.’ I said while smiling at the warm memory of my long-lost friend.


‘The Turtle is actually right.’ The old Banyan tree told me in his deep, throaty voice. He stood in the exact center of the courtyard and looked all wise and elderly.

‘Everything is alive, my little friend. Everything carries wisdom within, and everything speaks. You just have to learn to listen.’

‘What do you mean? How can everything be alive?’ I asked the tree, growing confused.

‘I am alive. Isn’t this so?’ The Banyan tree asked and chuckled softly. ‘I eat minerals from the soil and sip water through my roots. And we all can speak.’ He said while spreading his rustling branches around. ‘We all can speak — the trees and the flowers, the mountains and the springs, the sky and the moon, and even the stones and the soil.’

‘But why have I never heard them speak?’ I protested.

‘You are hearing me speak.’ The Banyan tree replied and smiled at me kindly. ‘You talk to the old Turtle all the time.’

‘Yes, but…’ I couldn’t find words to express myself.

‘Everything speaks, my friend, but everyone cannot hear the words. There are only a very few who care to make an effort. But anybody who makes an effort can hear the whispers of the universal consciousness.’ The Banyan tree explained.

‘What is that — the universal consciousness?’ The words were too big for my limited childhood understanding.

‘Be silent, you pompous ass! Do not confuse the little one.’ A familiar voice grunted from behind me.

I looked back and there stood my old friend — the ancient Turtle. Half-hidden in the overgrown and moist green grass, he was looking at me affectionately and smiling his kind, toothless smile.

‘Hey, you are finally back.’ I stated the obvious as an excited greeting. He had left for some important task a few days ago, and I missed his company badly.

‘It certainly looks like it, and you look perfectly fine.’ He sounded a bit tired. ‘Anyway, what’s going on here?’

‘I was just telling our little friend that everything is alive and everything speaks.’ The Banyan tree explained politely.

‘Yeah, yeah.’ The Turtle silenced him impatiently with a wave of its arm. ‘I wasn’t here and you thought you could go on and confuse my young friend in my absence.’

‘Oh please, Mr. Turtle, please don’t say anything to the Banyan tree.’ I ran and hugged the tree’s trunk. ‘He is my friend and he didn’t mean any harm.’

It was true. The Banyan tree was one of my many friends. Most of my summer afternoons were spent playing under its cool shade and digging for earthworms. I hugged the old gnarled tree trunk closely and could almost feel a warm and throbbing response, deep under the rough bark.

‘Little one…’ The Turtle admonished me, ‘If you choose to play with the giants, you’ve got to learn their secret little jokes too.’

He sounded pretty serious, but I could see that he was trying his best not to laugh.


‘Yes, I remember the Turtle. He was your childhood friend.’ The good Doctor was trying to flatter me, but I knew the truth.

‘You really don’t believe in the Turtle. Isn’t that so?’ I asked him with a defensive smile.

‘It does not matter what I believe in.’ He smiled back at me. ‘It is your beliefs that we are discussing. So you were saying that the Turtle told you that everything in this universe speaks?’


‘So is it true that everything in this universe speaks?’ I asked the Turtle.

It was the very next afternoon, and I was too curious about what the Banyan tree had told me. Besides, everyone else was busy taking a siesta, while I was free to roam the lonely wilderness of the backyard.

‘Oh yes, certainly, everything speaks.’ The ancient Turtle nodded his head. I could see he very much wanted to take a nap under the shade of the rose bushes, but he loved my company far more than his afternoon naps.

‘And what does everything speak of?’ I asked while tickling his old wrinkled head — a naughty but affectionate gesture.

‘Everything speaks with one voice what the universal consciousness wants it to speak of — wisdom and future.’ The Turtle answered while turning his head and looking at me with his soft, grey eyes, and then started singing:

‘Of wisdom and future and of what the universal conscience has in store for you,

of your life and the life of all others, and also of the flow of the river of time

Of what lies ahead, your life is a rose and optimism — a few drops of dew,

while pain and pleasure and sadness and joy, dance their eternal mime’

‘Hmm!’ I was a bit confused. ‘What does the universal consciousness say about me?’

‘What would you like her to say about you, little one?’ He asked with a twinkle in his eyes.

‘What will I become and what will become of me?’ I asked after thinking for a while.

‘Aha!’ The Turtle breathed a sigh of understanding and then started singing again:

‘She says that you will grow and your heart will grow even more,

and you will be wise and generous and kind to all, that’s for sure

She says that you will learn and evolve, with a light in your core,

you will walk the path and the others’ pains, you will certainly cure

She says you will love and understand all if only you find the door,

the door that opens with patience, and then shuts down no more

And she says this will all happen if you learn not to judge and ignore,

what the others say and what the others do — the pious and the whore’

‘But I don’t understand this at all.’ I said, feeling both confused and flustered.

‘Yes, you do not understand yet.’ The Turtle nodded his head wisely. ‘But you will one day. Till the day of understanding dawns upon you, just be patient and wait for the universal consciousness to work its eternal magic.’

‘But what if I fail to walk the path and what if I get lost?’ Suddenly, the fear of some strange possibility in the future gripped my heart with its cold fingers.

‘It doesn’t matter, little one.’ The Turtle said and closed his eyes drowsily. ‘It doesn’t matter what path we walk or whether we get lost. The only thing that matters is that we see, that we observe, and that we learn, while we are walking the path.’


‘Do you remember why you were brought here?’ The Doctor asked me after taking his due time to understand what I said about the Turtle and the universal conscience.

‘Oh yes, I do.’ I thought with bitterness about that cruel, summer morning.


I was on a trip to the hilly areas of the North, and I saw hundreds of trees being cut down. They were all crying with pain while the electric saws cut them into pieces. Their blood was flowing down the mountain slope, but no one but me could see it.

I sat down on my knees and touched the warm blood with my fingers. I listened to the weeping trees and felt their pain vibrating within each nerve and fiber of my own body. It became personal when the trees recognized me and started shouting my name, asking me for help.

‘You can’t do it.’ I approached the foreman of the woodcutters.

‘I can’t do what?’ He asked me, surprised at the welled-up tears in my eyes.

‘You can’t cut the trees. It’s murder.’ I said while trying to muster up some badly needed courage.

‘Trees? Murder?’ He stood there for a moment, confused by what I was saying. But then he suddenly looked up and started laughing hysterically.

‘It is no laughing matter. You are murdering the trees.’ I pleaded again while trying to ignore his insulting laughter.

‘I carry a permit. I can do whatever I want.’ He stopped laughing and replied to me sternly.

‘But they are screaming with pain and their blood is flowing in the valley.’ I begged him.

‘Who is screaming and what blood?’ He was flabbergasted. ‘Are you mad?’

I couldn’t speak as frustration and helplessness boiled up inside me.

‘Go away, son.’ The old mountain whispered in my ears. ‘They can’t see what you see, and they can’t hear what you hear. You cannot stop them.’

‘I will stop them.’ I told the mountain determinedly and then tried to snatch away the electric saw from the foreman’s hands.

‘Hey!’ The foreman was startled. ‘What the fuck are you doing?’

But it was too late. Before he could move, I had already smashed the saw on a stone boulder.


‘Yes, I remember it all.’ I said while bitter tears misted up my eyes. ‘I remember the trees crying with anguish and pain, and I remember the smell of their warm, flowing blood. The memory of that massacre still haunts me.’

‘Have you considered the possibility that the trees were not crying, that there was no blood, and that the mountain was silent as he was supposed to be?’ The Doctor asked me while facing the dried-up chrysanthemum bush.

‘Have you considered the possibility that the trees were really crying, that their blood was staining the slopes, and that the mountain did try to deter me?’ I challenged his assumptions softly, with a sad smile.

‘It was all in your head, son.’ The Doctor said without turning back. ‘It was all your imagination. Only we, us humans, can talk. No one else can and no one else does.’

‘Imagination?’ I chuckled. ‘Why is that so bad? Aren’t we all the product of God’s imagination? Can’t you see that in that context, all imagination is reality?’

The Doctor did not reply and continued with his scrutiny of the almost-dead plant.

‘No, it was not my imagination. I really heard them cry and speak. As I told you earlier, everything speaks — the trees, the mountains, the rivers, and the streams. But not everyone can hear them.’

‘Hmm!’ The Doctor exclaimed and turned towards me with a tired smile. ‘This chrysanthemum plant was planted by my late wife. In her life, the plant gave us such beautiful white chrysanthemums — three flowers each morning and each one perfect in its purity, beauty, and delicacy.’

‘What happened to it?’ I asked while looking at the plant. ‘What went wrong?’

‘I do not know what went wrong. What I only know is that the day my wife died, the white chrysanthemums stopped blooming.’ He said while looking sadly at the plant. ‘But since you claim that you can talk to everything, I want you to ask this plant what went wrong.’

‘Hmm!’ I smiled at the Doctor and then looked at the chrysanthemum plant.

I asked her what went wrong, and she whispered back the truth to me. And the truth made me sad.

‘She says…’ I wiped my tears. ‘She says that your wife loved her and cared for her every day, and her love and care manifested in the beauty of the white chrysanthemums. She says that she is not being loved anymore. Instead, her roots are only watered by your bitter tears of loss and anger. And bitterness can never produce any beauty.’

‘I think it is time for you to go back to your room.’ The Doctor looked at the setting sun and waved at the two white-clad male nurses. ‘It is getting late. We will talk some other time.’

‘Think about it, my good Doctor.’ I smiled at him. ‘Please think about what I have told you.’


After the nurses took away the patient, the Doctor really did think about what the patient had told him. He stood looking at the plant for a while and then smiled and started walking away. But after walking only a few steps, he suddenly turned back. He went to the plant and then sat down cross-legged on the grass.

He thought of his departed wife, and he thought of all the love that she had given him. He also thought of his anger in believing that by dying, she had unjustly betrayed him of her presence. He smiled fondly at her happy memories. He let regret and anger flow out of his heart, and then he started whispering to the plant:

‘I know you miss her because I miss her too,

she had her love for all, not only for me and you

I miss her with longing — a dark and bitter brew,

I miss her for her sweetness, nectar of the morning dew

I treasure you and want to care for you,

but I do not know how, I swear, this is true

I want to love you because she loved you,

but I do not know how — this confession is true too’

The good Doctor sat there for a long time. His tears of sadness and love slipped down his cheeks and fell on the ground, right near the roots of the dried-up chrysanthemum plant. But when his tears dried up, he still did not get up. There was a strange solace in the company of the dead plant. He could almost smell the sweet fragrance of his long-lost wife, and he didn’t want to lose that fragrance ever again.


The next morning, the nursing staff and the gardeners found the Doctor, all curled up beside the chrysanthemum plant. At first, they thought he was just asleep, but when they tried to wake him up, he didn’t respond. He had already left.

Unlike the departed Doctor, the plant was very much alive once again, and there were three white chrysanthemums, smiling and gently swaying in the morning breeze.