.دنیا میں چار اقسام کے افراد پائے جاتے ہیں شیدو.’ بابا ڈا ونچی نے اپنی لمبی سفید داڑھی ہلاتے ہوئے کہا
پہلی قسم وہ جو زندہ ہونے کے باوجود اپنی زندگی نہیں جیتے. جیسے کہ وہ بدنصیب جو ساری زندگی پیسہ جمع کرنے میں لگا دیتے ہیں مگر ان کو پیسہ خرچنے کی یا پیسے سے صحیح معنوں میں لطف اندوز ہونے کی تمیز نہیں ہوتی
یہ کیسے ہوسکتا ہے ڈاونچی بابا؟’ شیدو نے اپنی کالی کالی چمکتی آنکھیں جھپکاتے ہوئے پوچھا
ہو سکتا ہے بلکہ دنیا میں، زیادہ تر لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے.’ بابا جی نے دایئں ہاتھ کی انگلیوں سے اپنی لمبی سفید داڑھی میں کنگھی کرتے ہوئے جواب دیا
‘مزید پیسے کا لالچ ان بیوقوفوں کو مصروف رکھتا ہے اور اپنے پیچھے پیچھے بھگاتا رہتا ہے’
‘ٹھیک ہوگیا!’ شیدو نے سعادت مندی سے سر ہلایا. ‘اور دوسری قسم؟’
دوسری قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اپنی پوری زندگی بھرپور طریقے سے جیتے ہیں، جیسا کہ عبدل الستار ایدھی یا پھر قائد اعظم جیسے لوگ
یہ بات تو میں بہت آسانی کے ساتھ سمجھ گیا.’ شیدو نے اعتماد کے ساتھ کہا
زبردست!’ بابا ڈاونچی مسکرایا
تیسری قسم کے وہ لوگ جو میری طرح کے ہوتے ہیں. ہم اپنی زندگی تو جیتے ہیں مگر زندگی کی حدود و قیود سے باہر بیٹھ کر
باہر کیوں بابا جی؟’ شیدو نے معصومیت سے پوچھا
بھائی باہر اسلئے کیونکہ باہر سے ہمیں زندگی کے تمام رخ نظر آتے ہیں. خوبصورت بھی اور بدصورت بھی. اچھے بھی اور برے بھی
یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئ بابا جی.’ شیدو نے سر کھجاتے ہوئے کہا
آئے گی بھی نہیں. ابھی تیری عمر یہ باتیں سمجھنے کی ہے بھی نہیں.’ ڈاونچی بابا نے شفقت سے شیدو کے سر پر گھنے کالے بالوں کا چھتہ سہلاتے ہوئے کہا
تم صرف چوتھی قسم کے لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کرو جو باقی تینوں اقسام کی نسبت تعداد میں بہت کم ہوتے ہیں. یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خواب دیکھتے ہیں اور پھر اپنی تمام زندگی بس ان خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش میں گزار دیتے ہیں
‘ہیں؟’ شیدو نے اشتیاق سے پوچھا. ‘یہ کیسے ہوسکتا ہے؟’
ہو سکتا ہے میرے دوست، ضرور ہوسکتا ہے.’ بابا جی نے مسکراتے ہوئے شیدو کا کندھا دبایا
شیدو کو بڑا اچھا لگتا تھا جب بابا ڈاونچی اس کو ‘میرے دوست’ کیہ کر بلاتا تھا. وہ اس وقت اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا تھا
تمھیں رائٹ برادران کے بارے میں پتہ ہے؟’ بابا جی نے بھنویں اچکا کر شیدو سے پوچھا لیکن پھر اس کے چہرے پر الجھن کے آثار دیکھ کر خود ہی جواب دینے لگے
دو انگریز بھائی تھے جنہوں نے دنیا کا پہلا ہوائی جہاز بنایا تھا. وہ دونوں اڑنے کا خواب دیکھتے تھے. سب لوگ سمجھتے تھے کہ یا تو ان کا جہاز اڑے گا نہیں یا پھر وہ آسمان سے گر کر مر جایئں گے. لیکن ان دونوں بھائیوں نے جہاز بنایا بھی اور اڑایا بھی، چاہے صرف کچھ لمحوں کیلئے ہی سہی. اور وہ کچھ لمحات ایسے تھے جو ان کی پوری زندگی پر محیط تھے
‘ڈاونچی بابا وہ تو پھر بہت بہادر لوگ تھے. ان کو تو بالکل بھی ڈر نہیں لگتا ہوگا؟’
بہادری کا مطلب ڈر یا خوف کی عدم موجودگی نہیں ہوتی شیدو. ڈر اور خوف اگر نا ہوں تو انسان بیوقوف ضرور ہوتا ہے لیکن بہادر نہیں
تو پھر بہادری کیا ہوتی ہے ڈاونچی بابا؟’ شیدو نے حیرت سے پوچھا
بہادری کا مطلب ہوتا ہے اپنے ڈر یا خوف کو سمجھنا اور پھر اس پر قابو پانا.’ بابا جی نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا
تمھیں پتہ ہے تقسیم کے وقت ہمارے محلے میں جیکب نامی ایک خاکروب رہتا تھا؟ بہت معمولی آدمی تھا. اتنا معمولی کہ زیادہ تر لوگوں کو تو اس کا نام بھی پتہ نہیں تھا. بس چوہڑا کیہ کر پکارتے تھے. اس کی ساری زندگی دوسروں کی غلاظت اٹھاتی گزری تھی. اس کا پورے کا پورا چہرہ اس بری طرح سے جلا ہوا تھا کہ دیکھنے سے خوف آتا تھا. پتہ نہیں کیسے جلا تھا لیکن اس کو آگ سے ڈر بہت لگتا تھا. لیکن جب ہنگامے شروع ہوئے اور لاہور کے بہادر مسلمانوں نے کافر ہندؤں کو ختم کرنے کیلئے شاہ عالمی کو آگ لگائی؛ تو جیکب نے جلتی آگ میں کود کر کچھ ہندؤں کی جان بچا لی. اس نے اپنے خوف پر قابو پایا اور یوں اپنی ساری زندگی ان چند لمحات میں گزار لی
شیدو بارہ سال کا ایک یتیم بچہ تھا. نا ماں کا پتہ تھا نا باپ کا. ٹکسالی گیٹ کی بغل میں، ایک کوڑے کے ڈھیر پر بھنبھناتی مکھیوں کے بیچ، چند دنوں کا پڑا بلکتا تھا کہ بابا ڈاونچی کی نظر پڑ گئ اور وہ اٹھا کر اپنے کوارٹر میں لے گئے. بہت ہی محبت اور دھیان سے پالا پوسا اور پڑھا لکھا کر بڑا کیا. لوگ مزاق اڑاتے تھے مگر بابے نے کسی کی پرواہ نہیں کی. وہ غالباً شیدو کو اپنی زندگی کا آخری مشن سمجھتے تھے اور مشن کو سرانجام دینے میں کوئی کوتاہی برتنے کو تیار نہیں تھے
بابا ڈاونچی خود بھی ایک بہت ہی دلچسپ شخصیت تھے. لوگ کہتے تھے کہ کسی زمانے میں بابا جی گورنمنٹ کالج لاہور میں طبیعات کے پروفیسر تھے. مگر پھر پتہ نہیں کیا ہوا کہ دماغ پھر گیا اور وہ نوکری پر لات مار کر کہیں نکل گئے. کافی سالوں بعد واپس آئے اور پھر بادامی باغ اڈے سے اندرون شہر تانگہ چلانے لگے. پتہ نہیں اس کہانی میں صداقت کتنی تھی مگر ان کا کوارٹر بھانت بھانت کی کتابوں سے بھرا پڑا تھا
بابا ڈاونچی کا اصل نام ڈاونچی نہیں تھا. اصل نام تو خیر جو بھی تھا، بابا ڈاونچی انکو شیدو نے کہنا شروع کیا تھا. شیدو چونکہ ہوش سنبھالنے سے بہت پہلے سے کتابوں کو دیکھ رہا تھا اسلئے اس کو ان کتابوں سے بہت محبت اور پیار تھا. خاص طور پر اس کو لیونارڈو ڈاونچی کے بارے میں لکھی گئ ایک لمبی چوڑی اور نرم سرخ چمڑے کی جلد والی کتاب بہت پسند تھی جس پر سنہرے نقش و نگار بنے تھے؛ اور جو اس اطالوی سائنسدان اور مصور کی ایجادات کی تصاویر سے بھری پڑی تھی
بابا جی!’ ایک دن شیدو نے اس کتاب کے دبیز صفحے پلٹتے ہوئے کہا. ‘آپ کو پتہ ہے آپ کی شکل لیونارڈو ڈاونچی سے بہت ملتی ہے؟ وہ ہی لمبی سفید داڑھی اور سر سے غائب بال
‘ہاہاہا!’ بابا جی نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا. ‘ہاں بالکل! کسی زمانے میں میرے شاگرد بھی یہی کہا کرتے تھے’
بس پھر آج سے میں آپ کو ڈاونچی بابا کہا کروں گا.’ شیدو نے مچل کر کہا
اس دن سے بابا جی کا نام ڈاونچی بابا پڑ گیا اور اتنا مشہور ہوگیا کہ آس پاس اور پڑوس میں سب ان کو اسی نام سے پکارنے لگے
شیدو جب کچھ اور بڑا ہوا تو اس کو بعض دفعہ یہ سن کر بہت حیرت ہوتی تھی کہ ڈاونچی بابا ایک زمانے میں کالج میں پروفیسر تھے. ایک دن اس نے جرات مجتمع کر کے بابا جی سے پوچھ ہی لیا
‘ڈاونچی بابا! یہ لوگ آپ کے بارے میں ٹھیک کہتے ہیں؟’
‘لوگ تو میرے بارے میں بہت کچھ کہتے ہیں بیٹے.’ بابا جی نے مسکرا کر جواب دیا. ‘تمہارا اشارہ کس طرف ہے؟’
‘یہ ہی کہ آپ کسی زمانے میں لاہور کے ایک بہت بڑے کالج میں پروفیسر تھے؟’
‘ہاں! ٹھیک کہتے ہیں. میں گورنمنٹ کالج میں بچوں کو طبیعات پڑھاتا تھا’
‘تو پھر……….؟’
تو پھر کیا؟’ بابا جی بدستور مسکرا رہے تھے. ان کی مسکراہٹ دیکھ کر شیدو کو کچھ حوصلہ ہوا
‘تو پھر اب آپ یہ تانگہ کیوں چلاتے ہیں؟ کالج میں کیوں نہیں پڑھاتے؟’
ہوں!’ بابا جی تھوڑی دیر تو کچھ سوچتے رہے اور پھر بولے
ہر انسان کی کوئی نا کوئی کالنگ ہوتی ہے بیٹے. یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی کالنگ کو سمجھیں اور پھر اس کے حصول میں مگن ہوجایئں
یہ کالنگ کیا ہوتی ہے بابا؟’ شیدو نے الجھ کر پوچھا
‘کالنگ کا مطلب ہوتا ہے مقصد حیات….زندگی کا مقصد’
‘یہ تانگہ چلانا کیسا مقصد ہوا؟’
میرا مقصد دنیا کو دیکھنا ہے بیٹے. دنیا کو سمجھنا ہے.’ بابا جی نے شیدو کی چمکتی آنکھوں میں جھانک کر کہا. ‘بس میں تانگہ چلاتا ہوں اور دنیا دیکھتا ہوں
میری کالنگ کیا ہے ڈاونچی بابا؟’ شیدو نے اشتیاق سے پوچھا
‘بھائی یہ تم اپنے آپ سے پوچھو.’ بابا جی ہنس پڑے
‘میرے خیال میں…..’ شیدو نے کچھ سوچ کر کہا. ‘میرے خیال میں میری کالنگ اڑنا ہے’
‘ہاں ضرور! خوب پڑھو لکھو اور ایک دن پڑھ لکھ کر پائلٹ بن جانا اور جہاز اڑانا’
ڈاونچی بابا! آپ نے لیونارڈو ڈاونچی کے اڑن کھٹولے کی تصویر دیکھی ہے؟’ شیدو دوڑ کر اپنی پسندیدہ کتاب اٹھا لایا
‘میرا دل چاہتا ہے میں یہ اڑن کھٹولہ بناؤں اور پھر اس کو خوب اونچا اڑاؤں’
ہوں….!’ بابا جی ایک لمبا ہنکارا بھر کر خاموش ہوگئے اور کچھ نا بولے
‘آپ اس کو بنانے میں میری مدد کریں گے؟’
ڈاونچی بابا نے شفقت سے شیدو کو دیکھا جس کی آنکھیں شوق سے جگمگ جگمگ کر رہی تھیں. وہ خوابوں کی اہمیت سے اچھی طرح سے واقف تھے. وہ خوب جانتے تھے کہ خواب اگر بچپن میں ہی کچل دئے جایئں تو وہ کبھی حقیقت نہیں بنتے
‘ہاں ضرور! تم بنانا شروع کرو. میں تمھارے ساتھ ہوں’
یوں اس دن سے ڈاونچی بابا اور شیدو کے چھوٹے سے کوارٹر کے محدود صحن میں، لیونارڈو ڈاونچی کا اڑن کھٹولا بننا شروع ہوگیا
پتہ نہیں کہاں کہاں سے بانس اکٹھے کئے گئے اور ان کو آپس میں لوہے کی مضبوط تاروں سے باندھ کر مشین کا ڈھانچہ کھڑا کیا گیا. کباڑئے کے پاس سے پرانی سائکل کے پیڈل اور گراریاں اور کسی ایکسیڈنٹ زدہ رکشے کے پہیے لائے گئے
سب سے بڑا مسلہء پروں کا تھا. لیونارڈو کے اپنے ڈیزائن کے مطابق چمگاڈر کے پروں کی شکل جیسے پر ریشمی کپڑے کے تھے. اب ریشمی کپڑا خریدنا بابا جی کی استطاعت سے باہر تھا. لیکن جہاں لگن ہو وہاں کوئی نا کوئی حل نکل ہی آتا ہے. چوک پر ایک کیٹرنگ کمپنی کا دفتر تھا جس کا مالک اپنے پرانے شامیانے اور ریشمی چادریں وغیرہ فروخت کرنے کے چکروں میں تھا. کچھ پیسے شیدو نے جیب خرچ سے اکٹھے کئے اور باقی کا بندوبست بابا جی نے کیا. اور یوں دس گز ریشمی کپڑا خرید کر پروں کے ڈھانچے پر چڑھا دیا گیا
جب مشین تقریباً مکمل ہوگئ تو شیدو کو خیال آیا کہ اتنے بڑے پروں کے ساتھ وہ کوارٹر کے صحن سے نکالی نہیں جا سکے گی. لہٰذا پورے ڈھانچے کو کھولا گیا اور نئے سرے سے اس طرح بنایا گیا کہ وہ آرام سے ٹکڑوں میں نکالا جا سکے اور پھر کہیں کھلی جگہ لے جا کر جوڑا جا سکے
پھر ایک نیا مسلہء کھڑا ہوگیا
بابا میری سمجھ میں ایک بات نہیں آتی.’ شیدو نے ڈھانچے کے نٹ ٹائٹ کرتے ہوئے کہا
وہ کیا؟’ بابا جی نے پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا
‘جب لیونارڈو ڈاونچی نے اڑن کھٹولہ بنا ہی لیا تھا تو اس نے اس کو اڑایا کیوں نہیں؟’
میری معلومات کے مطابق اس کی ایک بنیادی وجہ تھی.’ بابا جی نے سوچتے ہوئے کہا. ‘اس مشین کو بنانے کے بعد لیونارڈو کو اندازہ ہوا کہ کسی بھی انسان میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ محض پیڈل مار کر اس مشین کو اڑا سکے
ہاں یہ بات تو صحیح لگتی ہے.’ شیدو نے اڑن کھٹولے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا. ‘لیکن وہ یہ بھی تو کر سکتا تھا کہ کسی اونچی جگہ سے اس مشین کو اڑاتا
ہاں بالکل! لیکن میرا خیال میں لیونارڈو کو گر کر مرنے سے ڈر لگتا ہوگا.’ بابا جی نے مسکرا کر کہا
لیکن اگر وہ اپنے ڈر پر قابو پا لیتا تو آج رائٹ برادران کی جگہ دنیا اس کو یاد کرتی.’ شیدو نے عقلمندی سے کہا
ہاں شاید!’ بابا جی نے سر ہلایا. ‘تم فکر نہ کرو. پیسے جمع کر کے ایک دن ہم اس مشین کو پہاڑوں میں لے چلیں گے اور وہاں اس کو اڑانے کی کوشش کریں گے
شیدو نے اس وقت تو خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا مگر اس کے ننھے سے دماغ کی گراریاں گھومتی رہیں
اڑن کھٹولہ بنانے میں شیدو اس قدر مگن ہوگیا تھا کہ کھانا پینا سب بھول گیا تھا. اسکول سے آتا، جلدی جلدی ہوم ورک کرتا، بے دلی سے کچھ لقمے زہر مار کرتا اور پھر پیچ کس اور پلاس لیکر مشین پر کام میں لگ جاتا. اس کا دھیان بٹانے کیلئے ڈاونچی بابا چھٹی والے دن اس کو منٹو پارک کی سیر پر لے گئے
مینار پاکستان کو دیکھتے ہی شیدو کی آنکھیں چمکنے لگیں
بابا! وہ دیکھو.’ اس نے ڈاونچی بابا کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا
‘ہاں بھائی! مینار پاکستان ہے. یہیں پر قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی تئیس مارچ کو’
نہیں!’ شیدو نے کہا
‘نہیں؟’ بابا نے چونک کر شیدو کی طرف دیکھا. ‘نہیں ہوئی تھی منظور؟’
ہوئی تھی. ضرور ہوئی ہوگی مگر میرے ذھن میں ایک آئیڈیا آیا ہے.’ شیدو نے جوش سے کہا. ‘کیوں نا ہم مینار کے اوپر سے اس مشین کو اڑانے کی کوشش کریں
‘نہیں بیٹے ایسے نہیں ہوسکتا.’ بابا نے گھبرا کر کہا. ‘اگر مشین نا اڑی تو؟’
‘کیوں نہیں اڑے گی؟’ شیدو نے نہایت اعتماد سے کہا. ‘آخر ہم نے لیونارڈو کے ڈیزائن کے عین مطابق بنائی ہے’
‘نہیں بیٹے! گرنے کا خطرہ تو بہرحال ہے. اور میں تمھیں اس کی اجازت نہیں دے سکتا’
اچھا!’ شیدو نے کہا اور مایوسی سے سر جھکا لیا
تھوڑی دیر بعد وہ دونوں وہیں پارک میں گھوم پھر رہے تھے تو شیدو کو بچوں کا ایک گروپ نظر آیا. صاف ستھرے مگر پرانے کپڑوں میں ملبوس تھے. تقریباً بیس پچیس بچے تھے جو ایک شیروانی میں ملبوس بوڑھے شخص کے ساتھ پارک کی سیر کر رہے تھے. اس بچوں میں کوئی نا کوئی ایسی بات ضرور تھی جو باقی بچوں سے الگ تھی
شیدو نے تھوڑا غور سے ان کا جائزہ لیا تو اس کو احساس ہوا کہ ان بچوں کی مسکراہٹ باقی بچوں سے بہت الگ تھی. وہ ہنس بول تو ضرور رہے تھے مگر ان کی مسکراہٹیں صرف ان کے ہونٹوں تک محدود تھیں. ان کی آنکھیں خالی خالی تھیں جیسے ان کے سارے کے سارے خواب کوئی چھین کر یا چرا کر لے گیا ہو
یہ بچے کون ہیں ڈاونچی بابا؟’ شیدو نے بابا جی کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور ان بچوں کے گروپ کی طرف اشارہ کیا
دار الاکرام یتیم خانے کے بچے ہیں.’ بابا جی نے عینک سیدھی کرتے ہوئےاور بچوں کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے جواب دیا. ‘ساتھ میں مہربان علی بھی ہے. میرا بہت پرانا واقف ہے’
چلتے چلتے وہ دونوں اس گروپ کے قریب پہنچے تو ڈاونچی بابا اور مہربان علی میں دعا سلام ہوئی
‘کہو مہربان علی کیسے ہو؟ یتیم خانہ کیسا جا رہا ہے؟’
بس کیا بتاؤں؟ بہت برے حالات ہیں.’ مہربان علی نے گھاس پر بیٹھتے ہوئے کہا
کیوں کیا ہوا؟ خیر تو ہے؟’ بابا جی نے گھبرا کر پوچھا
اس برسات نے یتیم خانے کی پوری عمارت کا بیڑا غرق کر دیا ہے.’ مہربان علی نے رومال سے چہرہ پونچھتے ہوئے کہا
پہلے ہی انگریزوں کے وقت کی تھی. ان بارشوں کے بعد تو بالکل رہنے کے قابل نہیں رہی. چھتیں کسی بھی وقت گر سکتی ہیں. مرمت ممکن نہیں اور نئی عمارت بنوانے کے پیسے نہیں
پھر اب ان بچوں کا کیا ہوگا؟’ ڈاونچی بابا نے ہلکی آواز میں پوچھا
کیا ہونا ہے؟’ مہربان علی نے افسردگی سے بچوں کی طرف دیکھ کر کہا
ایدھی والوں سے بات ہوئی ہے. وہ ان بچوں کو لے جایئں گے اور پورے پنجاب میں اپنے یتیم خانوں میں تقسیم کر دیں گے. بچوں کا بندوبست تو ہو جائے گا لیکن یہ سب ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں. پھر نئےلوگ اور نئی جگہوں کے اپنے اپنے مسائل ہوتے ہیں
ہوں…….!’ ڈاونچی بابا نے مسلہء سمجھ کر سر ہلایا
شیدو چپ چاپ بیٹھا دونوں کی باتیں سن رہا تھا. اس نے بچوں کی طرف دیکھا. وہ سب ایک طرف تمیز سے بیٹھے تھے. چھوٹے بچے کچھ مچل ضرور رہے تھے مگر دو تین بڑے بچے ان کا مسلسل خیال رکھ رہے تھے. شیدو نے ان بچوں کی طرف دیکھا اور پھر مینار پاکستان کی طرف. یکایک اس کے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا
‘ڈاونچی بابا’
ہاں کہو بیٹے.’ بابا جی نے شفقت سے اس کی طرف دیکھا
اگر ہم…….’ شیدو نے مینار کی طرف دیکھا. ‘اگر ہم اس چودہ اگست پر، کسی طرح سے اڑن کھٹولا مینار کی سب سے اوپر والی منزل پر لے جا کر باندھ دیں. اور پبلک کے سامنے نمائش کریں تو تو مجھے لگتا ہے کہ ان بچوں کی مدد کیلئے کچھ پیسے ضرور اکٹھے ہو جایئں گے
اڑن کھٹولہ؟’ مہربان علی نے حیرت سے پوچھا تو ڈاونچی بابا نے اسے مشین کے بارے میں بتایا
آئیڈیا تو زبردست ہے.’ مہربان علی نے سن کر کہا
ہاں لیکن اس مشین کو مینار کی سب سے اوپر والی منزل پر لے جانے کون دے گا؟’ ڈاونچی بابا نے پریشانی سے کہا
تم اس کی فکر مت کرو.’ مہربان علی نے کچھ سوچ کر کہا. ‘مینار کا چوکیدار میری مرحوم بیوی کا رشتہ دار ہے. تم لوگ یہیں بیٹھو. میں اس سے بات کر کے دیکھتا ہوں
جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، جہاں لگن ہو حل نکل ہی آتا ہے. یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا. مینار کا چوکیدار، آدمی تو تھوڑا سخت تھا مگر یتیم بچوں کا سن کر اس کا دل پگھل گیا. اس نے نا صرف یہ وعدہ کیا کہ چودہ اگست کے دن مشین، لفٹ کے ذریعے مینار کی سب سے اوپر والی منزل پر چڑھانے میں مدد کرے گا؛ بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ اس دن وہ اوپر والی منزل کو عام پبلک کیلئے بند رکھے گا
شیدو بہت خوش تھا. اس کو یقین تھا کہ اڑن کھٹولے کی نمائش سے اتنے پیسے ضرور اکٹھے ہو جایئں گے کہ یتیم خانے کے بچوں کی مدد ہو سکے. ڈاونچی بابا بھی پرجوش نظر آ رہے تھے. اب تک تو وہ مشین کو صرف شیدو کا معصوم خواب سمجھتے آ رہے تھے. لیکن اب ان کو بھی لگ رہا تھا کہ وہ معصوم خواب یتیم بچوں کے خوابوں کو یقین میں بدل سکتا تھا
شیدو اور ڈاونچی بابا اسی دن سے تیاریوں میں لگ گئے. اڑن کھٹولے کو دیدہ زیب سفید اور سبز رنگ سے رنگا گیا. پاکستان کی جھنڈیوں سے سجایا گیا اور پھر بابا جی نے بیٹری اور کچھ لائٹیں بھی لگا دیں تاکہ شام کو اندھیرے میں بھی مشین نظر آ سکے
شیدو کی شدید بےچینی اور جوش کے باوجود چودہ اگست اپنے وقت پر ہی آئ. صبح فجر کے فوری بعد، ڈاونچی بابا نے شیدو کی مدد سے مشین کے مختلف حصوں کو تانگے میں لوڈ کیا اور منٹو پارک لے گئے. وہاں چوکیدار ان ہی کا منتظر تھا. اس نے جلدی جلدی لفٹ آن کی اور دو تین چکروں میں پورے کا پورا اڑن کھٹولہ مینار پاکستان کی سب سے اوپر والی منزل پر پہنچ چکا تھا
ڈاونچی بابا، چوکیدار اور شیدو نے مل کر نایلون کی مضبوط رسیوں سے مشین کو منڈیر سے ایسے لٹکایا کہ اس کے پر صبح کی ٹھنڈی ہوا میں کسی مغرور پرندے کی طرح پھیل گئے. جب مشین کو نصب کر کے نیچے پہنچے تو وہاں سے بھی دیکھ کر ایسے لگتا تھا کہ جیسے کوئی عقاب مینار کے اوپر سے ہوا میں ڈبکی لگانے کو تیار ہو
دس بجے تک مہربان علی بھی یتیم خانے کے بچوں کو لیکر وہاں پہنچ گیا اور آہستہ آہستہ کافی عوام کا ہجوم بھی اکٹھا ہوگیا. سب لوگ اوپر اڑن کھٹولے کی طرف ہی دیکھ کر اشارے کر رہے تھے اور ایک دوسرے کو بتا رہے تھے. شیدو یہ دیکھ کر بہت خوش تھا. آخر کو وہ اڑن کھٹولہ اس کا اپنا آئیڈیا اور خواب تھا
ڈاونچی بابا اور مہربان علی نے رش جمع ہوتے دیکھ کر ٹکٹ بیچنے کیلئے میگا فون پکڑا اور آواز لگانا شروع کی
آئے صاحبان، دیکھیئے نیا عجوبہ
لیونارڈو ڈاونچی کا اڑن کھٹولہ
آپ کے دس روپئے کے ٹکٹ سے
ہوگا یتیم بچوں کا بھلا
آپ کی مہربانی سے ملے گی
یتیم بچوں کو رہنے کی جگہ
ان دونوں بزرگوں کو آواز لگاتے دیکھ کر لوگ اکٹھے ہونا شروع ہوگئے. لیکن ان لوگوں کی باتیں سن کر شیدو کو اندازہ ہوا کہ ساری دنیا دل کی اچھی نہیں ہوتی اور ساری دنیا کا دل یتیمم بچوں کے درد سے نہیں پگھلتا
‘کیوں بھائی کیوں خریدیں ٹکٹ؟ عجوبہ تو ویسے بھی نظر آ رہا ہے’
‘ٹکٹ خریدیں گے تو سیر بھی کراؤ گے اس میں؟’
‘معصوم لوگوں کو لوٹنے کے بہانے ہیں بھائی’
بھانت بھانت کی باتیں سن کر شیدو کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
پھر کسی کی آواز آئ
‘ٹکٹ تو تب خریدیں گے جب وہ اڑن کھٹولہ اڑا کر دکھانے کا وعدہ کرو گے’
آہستہ آہستہ باقی لوگوں نے بھی یہی مطالبہ کرنا شروع کر دیا
‘باتیں نا کرو. ہمیں اڑا کر دکھاؤ’
‘ہاں ہاں اڑانے کی بات کرو گے تو ٹکٹ خریدیں گے’
دیکھیں آپ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں.’ ڈاونچی بابا نے لوگوں کی طرف دیکھ کر عاجزی سے کہا. ‘یہ اڑ نہیں سکتا. یہ صرف دیکھنے کیلئے ہے
فراڈ ہو تم لوگ.’ ایک بھاری بھرکم مونچھوں والے آدمی نے آگے بڑھ کر ڈاونچی بابا کا گریبان دبوچ لیا
انہوں نے گھبرا کر شیدو کی طرف دیکھا مگر وہ وہاں نہیں تھا
یہ شیدو کہاں چلا گیا؟’ بابا نے بصد مشکل گریبان چھڑا کر مہربان علی سے پوچھا.
‘پتہ نہیں. ابھی تو یہیں تھا’
ابھی ڈاونچی بابا لوگوں کے ہجوم میں شیدو کو ڈھونڈ ہی رہے تھے کہ لوگوں کی آوازیں آنی شروع ہوگیئں
‘وہ دیکھو. اوپر دیکھو’
‘وہ دیکھو بچہ کیا کر رہا ہے’
ڈاونچی بابا نے اوپر دیکھا تو ان کے حواس گم ہوگئے. شیدو میگا فون ہاتھ میں پکڑا، مینار کی سب سے اوپروالی منزل پراڑن کھٹولے کی بغل میں کھڑا تھا. آہستہ آہستہ لوگ خاموش ہوتے گئے
کیا آپ سب اس اڑن کھٹولے کو اڑتے دیکھنا چاہتے ہیں؟’ شیدو نے میگا فون میں چیخ کر پوچھا
ہاں! ہاں! اڑا کر دکھاؤ.’ مجمع میں سے لوگوں نے پکارا
نہیں بیٹے!’ ڈاونچی بابا نے اونچا بولنے کی کوشش کی مگر آنسوؤں سے ان کا گلہ رندھ گیا
پھر آپ سب ٹکٹ خریدیں. ہر ٹکٹ سو روپے کا ہوگا. جب سب ٹکٹ بک جایئں گے تو میں اسے اڑا کر دکھاؤں گا.’ شیدو نے پھر میگا فون میں اعلان کیا
فراڈ لگتے ہیں. پیسے لیکر بھی نا اڑایا تو؟’ مجمع میں سے کسی نے کہا
نا اڑایا تو پیسے واپس لے لیں گے.’ اسی مونچھوں والے آدمی نے کہا
آہستہ آہستہ لوگوں نے ٹکٹ خریدنے شروع کر دئے
مہربان علی ٹکٹ نہیں بیچنا چاہتا تھا مگر لوگوں نے زبردستی اس کے ہاتھ میں پیسے تھما کر ٹکٹ کھینچنا شروع کر دئے
ڈاونچی بابا روتے ہوئے لوگوں کی منتیں کرتے رہے
‘ٹکٹ نا خریدو بھائی. میرا بچہ مر جائے گا’
مگر لوگوں کو کسی بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی. ان کو صرف تماشا دیکھنے سے غرض تھی. تھوڑی دیر کے تماشے سے کسی کی جان جاتی تھی تو ان کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی
مہربان چاچا! سب ٹکٹ بک گئے؟’ اوپر سے شیدو نے پکار کر پوچھا تو مہربان علی نے بیچارگی سے خالی ہاتھ اس کو دکھائے اور پھر شرمندگی سے سر جھکا لیا. ڈاونچی بابا نے شیدو کی طرف دیکھ کر دونوں ہاتھ جوڑ دئے مگر شیدو نے نظریں پھیر لیں
وہاں مینار پاکستان کی سب سے اوپر والی منزل پر شیدو، لیونارڈو ڈاونچی کے اڑن کھٹولے اور اپنے خوابوں کے ساتھ بالکل اکیلا تھا. اس نے ارد گرد نظریں دوڑایئں. اگست کے تیز سورج کی سنہری روشنی میں پورا لاہور شہر چمک رہا تھا. اس نے بادشاہی مسجد کے میناروں پر نظر ڈالی اور پھر دور راوی کے لشکارے مارتے پانی کو دیکھا
شیدو نے نیچے دیکھا. اس کو یتیم خانے کے بچے دکھائی دئے جن کی آنکھوں میں خواب روشن تھے. اس نے لوگوں پر نظر ڈالی جن کے چہروں پر ایک حیوانی خواہش چمک رہی تھی. اور پھر اس کی نظر ڈاونچی بابا پر پڑی جو اس کی طرف ہی دیکھ رہے تھے اور ان کے آنسو ان کی لمبی سفید داڑھی میں جزب ہوتے جا رہے تھے
آپ فکر نا کرو بابا. مشین ضرور اڑے گی.’ اس نے میگا فون میں بابا کو مخاطب کیا
شیدو نے میگا فون احتیاط سے ایک طرف رکھا اور پھر منڈیر پر چڑھ کر اڑن کھٹولے میں لگی سائیکل کی سیٹ پر بیٹھ گیا اور پیڈلوں پر پاؤں جما لئے
اس کو نیچے دیکھنے سے ڈر لگ رہا تھا
بہادری کا مطلب ہوتا ہے ڈر یا خوف کو سمجھنا اور پھر اس پر قابو پانا.’ اس کے کانوں میں ڈاونچی بابا کی آواز گونجی
اس نے آنکھیں کھولیں، نیچے دیکھ کر مسکرایا اور پھر رسی کی گرہ کھول دی
اڑن کھٹولہ رسیوں کے چنگل سے آزاد ہو کر پہلے تھوڑا سا ڈگمگایا. لیکن پھر اچانک ہوا کے ایک تیز جھونکے سے اس کے پر ہوا میں پوری طرح سے پھیل گئے. شیدو نے پیڈل پر پاؤں مارے تو مشین پہیوں پر سرکتی منڈیر کے کونے تک جا پہنچی اور پھر اس نے نیچے کی طرف ڈبکی لگائی
شیدو نے آنکھیں بند نہیں کیں. وہ جانتا تھا کہ وہ اس کی زندگی کے سب سے قیمتی لمحات تھے. بلکہ وہ چند لمحات اسکی پوری زندگی پر محیط تھے. وہ چند لمحات اس کے خواب کی تعبیر تھے. وہ آنکھیں بند کر کے ان لمحات کو ضایع نہیں کرنا چاہتا تھا
پورا مجمع دم سادھے سب دیکھ رہا تھا. ڈاونچی بابا نے مشین کو ڈبکی لگاتے ہوئے دیکھا تو ایک لمحے کو ان کا دل رک گیا. پھر تھوڑی دیر کیلئے مشین سیدھی ہوئی اور یوں لگا کہ جیسے واقعی وہ پرواز کرے گی. مگر پھر مشین کے پر، خود مشین اور شیدو کے بوجھ کو برداشت نا کر سکے. پہلے ایک پر ٹوٹا اور پھر دوسرا. لیونارڈو ڈاونچی کا اڑن کھٹولہ کسی ٹوٹے پھوٹے کھلونے کی طرح مینار سے ٹکراتا نیچے کی طرف گرنے لگا اور پھر آخر کار نیچے لوگوں کے ہجوم کے درمیان چبوترے پر ڈھیر ہو گیا
مشین کے چبوترے پر گرنے کی دیر تھی کہ لوگوں کا ایک جم غفیر اس کے ارد گرد جمع ہوگیا. مہربان علی نے ڈاونچی بابا کی بغل میں ہاتھ ڈال کر سہارا دیا اور ان کو کھینچتے ہوئے اور لوگوں کو ادھر ادھر دھکیلتے مشین کے ٹوٹے پھوٹے ڈھانچے تک پہنچ گئے
اڑن کھٹولہ اس بری طرح ٹوٹ پھوٹ گیا تھا کہ پہچانا نہیں جا رہا تھا. شیدو کہیں نظر نہیں آ رہا تھا. ڈاونچی بابا نے زمین پر بیٹھ کر ریشمی پر ایک طرف سرکایا تو شیدو کا وجود نظر آیا. اس کے جسم کی غالباً تمام ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں اور سر پر گھنگریالے کالے بال خون سے بھر چکے تھے. بابا نے احتیاط سے شیدو کا بےجان سر اپنی گود میں رکھا اور پیار سے سہلانے لگے
مجھے بہت افسوس ہے بابا!’ مہربان علی نے آہستگی سے بابا کے کندھے پر ہاتھ رکھا
ڈاونچی بابا نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دئے
میرا بچہ چلا گیا. میری زندگی ختم ہوگئ مہربان علی. مگر مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ وہ ان چند افراد میں شامل ہوگیا جو اپنی پوری زندگی چند لمحات میں ہی جی لیتے ہیں
لاہور میں ماڈل ٹاؤن کچہری کے باہر، فیروز پور روڈ کے نیچے، سڑک کنارے فٹ پاتھ پر، کچھ عرضی نویس کرسیاں لگائے بیٹھے ہوتے ہیں. ذرا غور سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان سب کے درمیان ایک جگہ خالی ہے. یہاں کل تک رفیق پریمی کی کرسی میز لگی ہوتی تھی
رفیق پریمی کون تھا؟ یہ بڑا معمولی سا سوال ہے کیونکہ وہ ایک بالکل معمولی سا انسان تھا. اتنا معمولی کہ نا دنیا کو اس کے آنے کی خبر ہوئی اور نا جانے کی. شاید پیدائش پر خوشیاں ضرور منائی گئ ہوں گی لیکن اس کی موت پر کسی کی آنکھ سے ایک آنسو تک نا گر سکا
دیکھنے میں بھی بالکل معمولی سا انسان تھا. صاف گندمی رنگ، درمیانہ قد، اکہرا جسم اور چھدری داڑھی. ہر وقت ہلکے رنگ کا صاف ستھرا شلوار قمیض پہنے رکھتا تھا. غرضیکہ رفیق کی پوری شخصیت میں کہیں بھی اور کچھ بھی غیر معمولی نہیں تھا
رفیق کب پیدا ہوا؟ کیسے بڑا ہوا؟ اس کے ماں باپ کون تھے؟ ان سب سوالوں سے اس کہانی کا کوئی سروکار نہیں. ہاں یہ میں آپ سب کو ضرور بتانا چاہوں گا کہ اس کے نام کے ساتھ لفظ ‘پریمی’ کا اضافہ کیوں اور کیسے ہوا
ہم سب کو مختلف قسم کی عادتیں ہوتی ہیں. کسی کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے تو کسی کو سچ بولنے کی. کسی کو بسیار خوری کی عادت ہوتی ہے تو کسی کو بھوکا رہنے کی. کسی کو چوری کی عادت ہوتی ہے تو کسی کو ایمان داری کی. تو ہم سب کی طرح رفیق کو بھی ایک عادت تھی. اور وہ محبت کرنے کی عادت تھی
رفیق سب سے محبت کرتا تھا. وہ اپنی بوڑھی ماں سے محبت کرتا تھا. وہ محلے والوں سے بھی محبت کرتا تھا. وہ جانوروں سے بھی محبت کرتا تھا. اس کو اپنے ارد گرد کے سب لوگ، کسی بھی خاص وجہ کے بغیر، اچھے لگتے تھے. حسین چہرے تو سب ہی کو اچھے لگتے ہیں لیکن رفیق کا معاملہ کچھ الگ سا تھا. اس کو چہروں کے حسن سے کوئی خاص مطلب نہیں تھا. بلکہ اس کو کسی بھی چیز سے کوئی مطلب نہیں تھا
میرے خیال میں رفیق کا خمیر محبت سے اٹھایا گیا تھا. خدا نے اس کو محبت کرنے کی طاقت سے نوازا تھا اور وہ اس طاقت کا حق ادا کرنے کی کوشش بھی کرتا رہتا تھا. ویسے بھی ہر انسان میں محبت کرنے کی قابلیت نہیں ہوتی. زیادہ تر انسانوں میں دل لگانے کی قابلیت ہوتی ہے یا پھر اپنی ہوس پوری کرنے کی خواہش ہوتی ہے. بےلوث محبت کرنے کی قابلیت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے. اور رفیق ایسا ہی ایک انسان تھا
رفیق کی سب سے محبت کرنے کی عادت کی وجہ سے دوستوں یاروں نے اسے ازراہ مزاق، پریمی کے نام سے بلانا شروع کر دیا. آہستہ آہستہ یہ ہی اس کا نام پڑ گیا. بلکہ اس نے اسی نام کو اپنی میز پر پڑی تختی پر بھی لکھوا لیا تھا
لیکن آخر کو رفیق انسان تھا اور پھر جوان بھی تھا. کبھی کبھی اس کا بھی دل چاہتا تھا کہ وہ کسی ایک کو ٹوٹ کر چاہے. اتنا چاہے، اتنی محبت کرے کہ محبت کا حق ادا ہوجائے. وہ ایسی محبت کے حصول کیلئے اپنی ذات کی نفی کیلئے بھی تیار تھا. لیکن ابھی تک رفیق کو ایسا کوئی نہیں مل سکا تھا
رفیق کا باپ تو بہت بچپن میں ہی مر گیا تھا. ماں نے پرورش کر کے بڑا کیا تھا اور اس کو رفیق کی شادی کا بہت ارمان تھا. لیکن رفیق نہیں مانتا تھا
رفیق تو کیوں نہیں مانتا بوڑھی ماں کی بات؟ مان جا. شادی کر لے میری بہن کی بیٹی سے. لڑکی بھی اچھی ہے اور اس کی ماں کو تجھ سے پیار بھی بہت ہے.’ ماں رفیق کو واسطے دیتی کہتی
.اماں! زینب بہت اچھی لڑکی ہے. لیکن…..’ رفیق سر کھجاتا کہتا رک جاتا’
.لیکن کیا؟’ ماں پوچھتی’
.لیکن مجھے اس سے محبت نہیں ہے ماں.’ رفیق مسکراتا جملہ مکمل کرتا’
میں تو اس سے ہی شادی کروں گا جس سے مجھے محبت ہوگی.میرا دل کہتا ہے کہ ایک نا ایک دن مجھے ایسی لڑکی ضرور ملے گی
.الله کرے جلد مل جائے.’ ماں دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیتی اور بات ختم ہوجاتی’
رفیق کی منتیں اور دعایئں کرتی اس کی ماں ایک دن الله کو پیاری ہوگئ. لیکن رفیق کے سر پر سہرا نہیں دیکھ سکی. ماں مر گئ تو رشتے داروں سے تعلق واسطہ بالکل ہی ختم ہوگیا. اور پھر دنیا میں کسی کو بھی رفیق کی شادی کی فکر نے نا ستایا
پھر ایک دن رفیق کو شہناز سے محبت ہوگئ. شہناز کچہری کے ہی ایک وکیل کے دفتر میں ملازمت کرتی تھی اور روز رفیق کی کرسی کے عین سامنے کھڑے ہو کر، ویگن کا انتظار کرتی تھی. شاید گھر کہیں قریب ہی تھا کیونکہ جس دن ویگن نہ ملتی، وہ پیدل ہی چلی جاتی
رفیق کی طرح شہناز بھی ایک معمولی سی لڑکی تھی. معمولی سے مگر صاف کپڑے پہنتی تھی اور معمولی اور قبول صورت نقش و نگار کی مالک تھی. لیکن اس کی شخصیت میں ایک چیز ایسی تھی جس نے رفیق کا دل کھینچ لیا. وہ چیز تھی شہناز کی آنکھیں. بڑی بڑی خوفزدہ سی دکھتی، کٹورا آنکھیں تھیں. ان آنکھوں کو دیکھ کر رفیق کا دل چاہتا تھا کہ وہ شہناز کو دنیا کی بھوکی نظروں سے دور، کہیں چھپا کر رکھ لے
شہناز روز بس اسٹاپ پر آ کر کھڑی ہوتی تھی مگر رفیق میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ اس کو مخاطب کرسکتا یا پھر اپنے دل کا حال بیان کرسکتا. بس ٹکٹکی باندھے اس کو دیکھتا رہتا جب تک کہ وہ ویگن میں بیٹھ کر چلی نا جاتی. جس دن ویگن نا ملتی اور شہناز پیدل چل پڑتی تو رفیق سب کام بھول کر اس کے پیچھے چل پڑتا اور اس کو گھر پہنچا کر ہی واپس آتا. شہناز کو کبھی پتہ بھی نہیں چلا تھا کہ رفیق اس کے پیچھے پیچھے چلتا تھا
شہناز کے پیچھے جانے سے رفیق کے کام کا بہت حرج ہوتا تھا. کیونکہ وہ دل کی ڈیوٹی کے پیچھے کسی گاہک کی بھی پرواہ نہیں کرتا تھا. لوگ منتیں کرتے، گالیاں دیتے مگر رفیق روبوٹ کی طرح اٹھتا اور شہناز کے پیچھے چل پڑتا. شہناز کا گھر پاس ہی پیکو روڈ پر واقع بوستان کالونی میں تھا. وہ سلامتی کے ساتھ اپنے گھر میں داخل ہوتی تو رفیق بھی مڑ کر واپس کچہری چلا جاتا
پھر ایک دن جب اسی طرح شہناز پیدل گھر جا رہی تھی اور رفیق اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا تو اچانک ایک لڑکے نے شہناز کا پرس چھینا اور دوڑ لگا دی. رفیق نے آؤ دیکھا نا تاؤ اور اس لڑکے کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیا. نجانے کن کن گلیوں اور بازاروں سے گزر کر آخر ایک ویران سی گلی میں رفیق نے اس لڑکے کو پکڑ ہی لیا
لڑکے نے پہلے تو زور لگا کر جان چھڑانے کی کوشش کی مگر رفیق کہاں جانے دیتا تھا. آخر کو معاملہ محبوبہ کے پرس کا تھا جو کہ رفیق کو جان سے بھی زیادہ عزیز تھا. جب طاقت سے کام نہیں نکلا تو پرس چھیننے والے لڑکے نے جیب سے پستول نکالا اور فائر کر دیا. گولی رفیق کی ران میں لگی. لیکن گولی کھانے کے بعد بھی اس نے پرس پر اپنی گرفت ہلکی نا ہونے دی
گولی کی آواز سن کر پاس پڑوس کے لوگ باہر نکلنے لگے تو لڑکا پرس چھوڑ کر فرار ہوگیا اور لوگ رفیق کو اٹھا کر ہسپتال لے گئے. خدا کا شکر یہ ہوا کے گولی ہڈی میں نہیں لگی تھی اور گوشت کے آر پار ہوگئ تھی. لہٰذا تیسرے دن شام کو رفیق کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا
وہ بیچارا ہسپتال سے رکشہ کرا کے اور پرس واپس کرنے کی نیّت سے سیدھا شہناز کے گھر کے پاس اترا اور لنگڑاتا ہوا اس کے دروازے کے پاس پہنچا. دروازہ کھٹکھٹانے ہی لگا تھا کے اندر سے باتوں کی آواز سن کر رک گیا
شہناز آخر تو سلیم کو سمجھاتی کیوں نہیں؟ اس کو تجھ سے اتنی محبت ہے تو اپنی ماں کو کیوں نہیں کہتا کہ ضد چھوڑ دے.’ آواز غالباً شہناز کی ماں کی تھی
.اماں سلیم بہت ہی اچھا لڑکا ہے.’ شہناز کی آواز رفیق کے کان میں پڑی’
‘لیکن اپنی ماں کے سامنے اس کی ایک نہیں چلتی’
ہنہ! خاک اچھا لڑکا ہے. مجھے تو لگتا ہے کہ یہ سب ماں بیٹے کی ملی جلی سازش ہے. ماں کہتی ہے کہ بیٹے کو جہیز میں موٹر سائکل دینے کا وعدہ کرو گے تو میں تاریخ مقرر کروں گی. بیٹا کچھ نہیں بولتا.’ شہناز کی ماں کی آواز آئ
‘میں تو کہتی ہوں، سلیم کا کھیڑا چھوڑ دے. میں کہیں اور تیرے رشتے کی بات چلاتی ہوں’
.خبردار اماں!’ شہناز نے کڑک کر کہا’
سلیم کی جگہ کسی اور کا نام لیا تو میں زہر کھا کر مر جاؤں گی. پھر تو شوق سے میری میّت کسی اور کے ساتھ رخصت کر دینا’
.اتنی محبت ہے سلیم سے تو پھر اس کو سمجھا کہ ماں سے بات کرے کے موٹر سائکل کی ضد نا کرے.’ ماں نے جل کر جواب دیا
محبوبہ کی زبان سے کسی اور کا نام سن کر رفیق کی تو دنیا ہی اندھیر ہوگئ. بیچارا جن پاؤں آیا تھا، خاموشی سے انہی پاؤں لوٹ گیا. ساری رات کروٹیں بدلتا رہا اور سوچتا رہا. صبح فجر کی اذان ہوئی تو رفیق کی سوچ ایک فیصلے پر پہنچ چکی تھی. ماں نے اس کی شادی کیلئے تھوڑا بہت زیور جمع کیا تھا. وہ اٹھایا، بازار میں بیچا اور جتنی رقم تھی، شہناز کے پرس میں ڈال کر، اگلی رات اس کے گھر میں پھینک آیا.ساتھ ہی ایک رقعہ بھی ڈال دیا جس پر صرف اتنا لکھا تھا کہ
شہناز کے جہیز کیلئے، ایک ہمدرد کی طرف سے
میرے خیال میں چھنا گیا پرس دیکھ کر اور پھر اس میں ڈھیر ساری رقم پا کر شہناز اور اسکے گھر والے پریشان تو ضرور ہوئے ہوں گے لیکن پھر اسے معجزہ سمجھ کر خوش ہو گئے ہوں گے. خیر شہناز کی شادی سلیم سے ہو گئ. رفیق کو پتہ تب چلا جب اس نے کچہری والے اسٹاپ پر شہناز کو سلیم کے ساتھ موٹر سائکل پر جاتے ہوئے دیکھا
عجیب آدمی تھا رفیق بھی. اس کی جگہ اور کوئی ہوتا تو حسد کی آگ میں جلتا لیکن وہ تو الٹا شہناز اور سلیم کی محبت دیکھ کر خوش ہوتا تھا. ہاں کبھی کبھی آنکھوں میں نمی سی ضرور اتر آتی تھی لیکن شاید وہاں کچہری کے سامنے سڑک پر، گاڑیوں کا کچا دھواں بہت اڑتا تھا جس کی وجہ سے آنکھیں جلتی تھیں
خیر، سلیم روز چھٹی کے وقت اسٹاپ پر شہناز کا ِانتظار کرتا اور پھر اس کو پیچھے بیٹھا کر گھر کی جانب روانہ ہو جاتا. پھر ایک دن جب سلیم اسٹاپ پر کھڑا تھا تو موٹر سائکل پر سوار دو لڑکے اس کے پاس رکے. پیچھے والا لڑکا اترا اور پستول دکھا کر سلیم کا موٹر سائکل چھین کر لے گیا. لمحوں میں ساری کاروائی پوری ہوگئ اور موٹر سائکل چھیننے والے یہ جا وہ جا
تھوڑی ہی دیر میں شہناز بھی وہاں پہنچ گئ. راہگیروں کی بھیڑ چھٹنے کے بعد دونوں میاں بیوی تھکے تھکے قدموں سے کچہری تھانہ کی طرف چلے گئے. تھوڑی منت سماجت اور شہناز والے وکیل صاحب کی مداخلت سے کیس تو درج ہوگیا لیکن موٹر سائکل کی برآمدگی کی امید کسی کو بھی نہیں تھی
زندگی پرانی ڈگر پر چل پڑی. شہناز نے دوبارہ سے ویگن پر یا پیدل گھر جانا شروع کر دیا. رفیق بھی پہلے ہی کی طرح شہناز کے پیچھے چلتا اور اس کو خیریت سے گھر پہنچا کر واپس آ جاتا. شہناز کا سسرال بھی بوستان کالونی میں ہی تھا لہٰذا رفیق کو زیادہ دور نہیں جانا پڑتا تھا
شہناز پہلے بھی نظریں جھکائے دفتر سے سیدھا گھر جایا کرتی تھی اور شادی کے بعد بھی اس کے معمول میں کوئی تبدیلی نہیں آئ تھی. لیکن اب وہ بیچاری کبھی کبھی حسرت سے موٹر سائکلوں پر سوار جوڑوں کو ضرور تکا کرتی تھی اور کبھی کبھی تو بیچاری کی خوبصورت آنکھوں میں دو چار آنسو بھی آ جاتے تھے جو وہ خاموشی سے ہاتھ کی پشت سے پونچھ لیا کرتی تھی
رفیق سے بھلا شہناز کے آنسو کہاں چھپتے تھے. شہناز کی گیلی آنکھیں اس سے برداشت نہیں ہوتی تھیں. وہ ہمیشہ ان آنکھوں میں خوشیوں کے چراغ جلتا دیکھنا چاہتا تھا. لہٰذا بہت سوچنے کے بعد اس نے اپنا آبائی کوارٹر نما گھر فروخت کر دیا. خود کرائے کے ایک کمرے میں منتقل ہوگیا اور پہلے کی طرح رات کے اندھیرے میں شہناز کے گھر چپکے سے رقم پھینک دی. ساتھ ہی پھر سے ایک رقعہ ڈال دیا جس پر صرف اتنا لکھا تھا کہ
سلیم صاحب کے نئے موٹر سائکل کیلئے، ایک ہمدرد کی طرف سے
رقم اور رقعہ دیکھ کر سلیم تو بہت حیران ہوا مگر شہناز نے تحریر پہچان لی تھی. لیکن خیر اس ہمدرد کی شناخت تو وہ بھی نہیں کر سکتی تھی. قصہ مختصر، سلیم نے غیبی امداد سمجھ کر نئی موٹر سائکل خرید لی اور پہلے کی طرح شہناز کو دفتر سے گھر چھوڑنے لگا
یوں ہی زندگی گزرتی رہی. شہناز دفتر آتی رہی. سلیم اس کو اسٹاپ سے لیتا رہا اور رفیق اپنی جگہ بیٹھا سب کچھ دیکھتا رہا اور چپ چاپ شہناز سے خاموش محبت کرتا رہا. عجیب محبت تھی وہ بھی. نا ملاپ تھا نا حصول کی امید. بس محبوب خوش تھا اور محبوب کی خوشی میں وہ خوش تھا
پھر ایک دن، جیسا کہ اکثر شادیوں کے بعد ہوتا ہے، شہناز امید سے ہوگئ. جب اس نے دفتر آنا چھوڑ دیا تو رفیق تو پریشان ہوگیا. پھر جس دفتر میں شہناز کام کرتی تھی. وہاں سے پتہ چلا کہ بچے کی پیدائش کے سبب شہناز نے کچھ مہینوں کیلئے چھٹی لے لی تھی
رفیق یہ خبر سن کر خوش بھی ہوا اور پریشان بھی ہوا. پریشان اسلئے کہ وہ جانتا تھا کہ شہناز اور سلیم کے گھر کے حالات اچھے ہسپتال کی اجازت نہیں دیتے تھے. گھر کی فروخت سے حاصل ہوئی کچھ رقم باقی تھی. پہلے کی طرح رقم تھیلے میں ایک رقعے کے ساتھ ڈال کر شہناز کے گھر پھینک دی
رفیق کی مالی مدد کی وجہ سے شہناز نے ایک اچھے پرائیویٹ ہسپتال میں ایک صحت مند بچے کو جنم دیا اور دل ہی دل میں اپنے غیبی ہمدرد کو ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا. لیکن اس کے ہمدرد کو کسی دعا کی ضرورت نہیں تھی. وہ تو بس شہناز کی خوشی میں خوش تھا
وقت گزرتا رہا. شہناز دفتر آتی رہی. سلیم اس کو اسٹاپ سے لیتا رہا. جب ان کا بچہ تھوڑا بڑا ہوگیا تو وہ بھی کبھی کبھی باپ کے ساتھ ماں کو لینے آ جاتا. رفیق حسب معمول اپنی جگہ بیٹھا سب کچھ دیکھتا رہا اور حسب عادت اور حسب تقدیر، چپ چاپ شہناز سے خاموش محبت کرتا رہا
مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ آپ سب کو تھوڑی جھنجھلاہٹ ضرور ہو رہی ہوگی. بات بھی تو ایسی ہی ہے. آخر دنیا میں ایسا کب ہوتا ہے؟ لوگ ہمیشہ کسی نا کسی ذاتی ضرورت کے باعث محبت کرتے ہیں. کچھ کو زندگی گزارنے کیلئے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے. کچھ کو سہارا بننے کی ضرورت ہوتی ہے. کچھ کو جسمانی خواھشات کی جائز تکمیل چاہئے ہوتی ہے. اور کچھ کو سر پر محفوظ چھت کی ضرورت ہوتی ہے
بغیر کسی وجہ کے کون کسی سے محبت کرتا ہے؟ لیکن رفیق ایسا ہی تھا. اس کو بس شہناز کی خوشی سے محبت تھی. میری ذاتی رائے میں رفیق ایک بہت تنہا انسان تھا اور اس کی ویران تنہا زندگی کو کسی محور کی ضرورت تھی. شہناز وہ محور تھی
خیر کہانی کی طرف واپس آتے ہیں. وقت گزرنے کے ساتھ شہناز کا بیٹا بڑا ہوتا چلا گیا اور پھر ایک دن وہ کچہری کے پاس ہی ایک پرائیویٹ اسکول میں داخل ہوگیا. میرے خیال میں یہ بتانا کچھ خاص ضروری نہیں کہ پرائیویٹ اسکول کی فیس کا انتظام بھی شہناز کے غیبی ہمدرد کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکا تھا
اب شہناز کا بیٹا، اسکول کی صاف ستھری یونیفارم پہن کر اور باپ کے ساتھ موٹر سائکل کی ٹینکی پر بیٹھ کر ماں کو لینے آتا. شہناز آتی، بیٹے کو باہوں میں لے کر پیار کرتی اور میاں کے پیچھے بیٹھ کر گھر چلی جاتی. ان تینوں کی خوشی دیکھ کر رفیق خوش ہوتا رہتا. مگر کمبخت گاڑیوں کا دھواں اب بھی اس کی آنکھوں میں اکثر لگتا رہتا تھا
اس دن بھی کچھ ایسا ہی منظر تھا. سلیم بیٹے کو اسکول سے لیکر کچہری کے سٹاپ پر بیوی کا انتظار کر رہا تھا. بیٹے نے باپ سے ضد کی تو اس نے غبارے لیکر دئے اور خود کسی دوست یار سے موبائل پر گپ شپ میں مصروف ہوگیا. بچہ غباروں سے کھیلتے کھیلتے اچانک سڑک پر آ گیا اور قریب تھا کہ ایک تیز رفتار ویگن کے نیچے آ جاتا. رفیق نے منظر دیکھتے ہی، اپنی میز ایک طرف الٹائ اور چھلانگ لگا کر بچے کو فٹ پاتھ کی طرف دھکیل دیا
شہناز کا بیٹا تو بچ گیا مگر رفیق ویگن کے پہیوں کے نیچے آ کر بری طرح سے کچلا گیا. ہر طرف شور مچ گیا اور لوگ اکٹھے ہو گئے. سلیم نے فوری طور پر ایک رکشہ روکا اور کچھ راہگیروں کی مدد سے رفیق کے ٹوٹے پھوٹے وجود کو اٹھا کر اتفاق ہسپتال لے گیا. شہناز کو بھی موبائل پر ساری صورت حال سے آگاہ کیا تو وہ بھی ہسپتال پہنچ گئ
میرا لعل!’ شہناز نے بیٹے کو دیکھتے ہی باہوں میں سمیٹ لیا اور بے اختیار چومنے لگی. پھر نظر اٹھا کر خاوند کی طرف دیکھا جو رفیق کی اکھڑتی سانسیں دیکھ کر بے چارگی سے ہاتھ مل رہا تھا
.آج اگر یہ نا ہوتا تو ہمارا بیٹا………!’ سلیم نے رفیق کی طرف اشارہ کر کے جملہ ادھورا چھوڑ دیا’
شہناز نے رفیق کی طرف دیکھا جو غالباً زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا اور ادھ کھلی آنکھوں سے محبوبہ کا آخری دیدار کر رہا تھا
.پتہ نہیں کون ہے بیچارا!’ شہناز نے افسردہ سی سانس بھری’
‘پتہ نہیں کون ہے بیچارا’
‘پتہ نہیں کون ہے بیچارا’
‘پتہ نہیں کون ہے بیچارا’
کچھ لمحات تو شہناز کے یہ الفاظ ایک چابک کی طرح بار بار رفیق کی سماعت پر وار کرتے رہے. پھر اس کے بہت اندر کوئی نازک سی چیز ٹوٹ گئ اور وہ چپکے سے مر گیا
.یہ کیا ٹوٹا؟’ شہناز نے چونک کر سلیم سے پوچھا’
.کہاں؟ کیا؟’ سلیم نے ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا’
پتہ نہیں! مجھے کہیں کچھ ٹوٹنے کی آواز آئ تھی.’ شہناز نے کہا اور پھر جھک کر رفیق کے بےجان چہرے کی طرف دیکھا جہاں دو آنسو اس کی بےنور آنکھوں سے نکل کر اس کے گالوں پر لڑھک گئے تھے
.مولوی صاحب! کوئی دم درود تو تجویز کریں.’ نظر بٹو نے شرماتے ہوئے کہا’
‘دم درود؟ وہ کس لئے بھائی؟’
.وہ…..میرے قد کیلئے. کوئی ایسا وظیفہ بتایئں کہ میرا قد لمبا ہوجاۓ.’ اس نے بدستور شرماتے ہوئے اور سر جھکا کر کہا’
.لاحول ولا قواتہ! قران نا ہوا، جادو ٹونہ ہوگیا.’ مولوی مشتاق نے جلال میں آ کر کانوں کو ہاتھ لگایا’
آپ تو ناراض ہوگئے مولوی صاحب!’ بیچارے نظر بٹو کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے گالوں پر لڑھک گئے
‘آپ میری آخری امید تھے. میں بڑا مان لے کر آیا تھا’
ہوں….!’ مولوی صاحب نے نظر بٹو کو گھورتے ہوئے ایک لمبا ہنکارا بھرا. پھر ان کو اس کی آنکھوں میں تیرتے آنسو دیکھ کر ترس آگیا
‘……..دیکھو میاں جلال الدین’
.جلال الدین؟’ نظر بٹو نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا’
.بھائی تمہارا نام جلال الدین نہیں ہے؟’ مولوی صاحب نے جھنجلا کر پوچھا’
تھوڑی دیر تو نظر بٹو خالی خالی آنکھوں سے مولوی صاحب کو دیکھتا رہا. پھر اچانک اسکی کالی معصوم آنکھوں میں چراغ سے جل اٹھے
ہاں جی! ہاں جی! میرا نام جلال الدین ہے. لیکن وہ کیا ہے نا مولوی صاحب کہ کئ سالوں سے کسی نے اس نام سے پکارا ہی نہیں. سب نظر بٹو ہی کہ کر پکارتے ہیں
خیر جو بھی ہے…….. دیکھو میاں جلال الدین، یہ خدا کے کام ہیں. کسی کو چھوٹا قد دیتا ہے، کسی کو لمبا. لیکن جب بنا دیتا ہے تو اسکو تبدیل نہیں کیا جا سکتا
.مولوی صاحب….’ نظر بٹو نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا’
‘پچھلے جمعہ کے خطبے میں آپ نے کہا تھا کہ خدا اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے’
.ہاں بالکل ایسا ہی ہے.’ مولوی صاحب نے اثبات میں سر ہلایا’
لیکن مولوی صاحب، ماں جب اپنے بچے کو گھر سے نکالتی ہے، بنا سنوار کر نکالتی ہے تاکہ کوئی اس کے بچے کو گندا یا برا نا کہے. صاف ستھرے کپڑے پہناتی ہے، بالوں میں تیل لگا کر کنگھا کرتی ہے اور پھر آنکھوں میں سرمہ ڈالتی ہے
.ہاں……پھر؟’ مولوی صاحب کو نظر بٹو کی باتوں کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی’
پھر یہ مولوی صاحب کہ خدا نے مجھے میری ماں کے پیٹ سے بنا سنوار کر کیوں نہیں نکالا؟ یہ ساڑھے تین فٹ کا قد دے کر کیوں نکالا؟ یہ کیسی محبت ہے مولوی صاحب؟
بھائی خدا کے کام خدا ہی جانے. میں بھلا کیا کہ سکتا ہوں؟’ مولوی صاحب سے کوئی جواب نا بن پڑا تو سٹپٹا کر داڑھی کے بالوں میں انگلیوں سے خلال کرنے لگے
‘میں خدا سے پوچھنا چاہتا ہوں مولوی صاحب.’ نظر بٹو نے معصومیت سے کہا. ‘مگر کیسے پوچھوں بھلا؟’
‘کیسی فضول باتیں کرتے ہو میاں؟ جب ملاقات ہوگی، پوچھ لینا’
ملاقات کب ہوگی مولوی صاحب؟’ نظر بٹو کی معصومیت بدستور اپنی جگہ قائم تھی. مولوی صاحب اسکی نظر میں زمین پر خدا کے خلیفہ تھے، جن کے پاس انسانوں کی تمام مشکلات کا حل موجود ہونا چاہیے تھا
بھائی جب مرو گے، تب ہی ملاقات ممکن ہے. تب پوچھ لینا ساری باتیں.’ مولوی صاحب نے تھوڑی سنگ دلی سے کہا. ان کو ٹھیک ٹھاک غصّہ چڑھنا شروع ہوگیا تھا
جی ٹھیک ہوگیا!’ نظر بٹو نے سہم کر کہا اور بہتری اسی میں سمجھی کہ وہاں سے اٹھ کر چلا جائے’
کہنے کو جلال الدین ولد کمال الدین، چھبیس سال کا گورا چٹا لڑکا تھا. سر کالے گھنگریالے بالوں سے ڈھکا ہوا تھا اور موٹی موٹی کالی آنکیں تھیں. صاف ستھرا رہنے کی عادت تھی اور صاف ستھرے کپڑے پہنتا تھا. لیکن اس کے وجود کی ساری خوبصورتی بس انہی چند چیزوں تک محدود تھی. اسکا ساڑھے تین فٹ کا قد اس کے پورے وجود کی دلکشی کی نفی کر دیتا تھا
دل کا بھی بہت اچھا تھا. جانور ہو یا انسان، کسی کی بھی تکلیف دیکھ کر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آتی تھیں؛ اور وہ پورے جی جان سے، اس کی تکلیف دور کرنے کی کوشش میں لگ جاتا تھا. لیکن انسانوں کی آنکھیں اس کے دل میں جھانک کر دیکھتیں تو اس کی خوبصورتی محسوس کرتیں. اور کر بھی لیتیں تو کیا ہوسکتا تھا. اسکا مختصر وجود لوگوں کے دلوں میں صرف تمسخر پیدا کر سکتا تھا، محبت نہیں
لیکن ایک بات یقیناً اس کی زندگی میں اچھی تھی. وہ یہ کہ پورے محلے کے آوارہ کتے اس کے گہرے دوست تھے. بچوں کو آوارہ کتوں کو پتھر مارنے سے منع کرتا تو کتے اور وہ خود، ان ہی شریر بچوں کا نشانہ بن جاتے. پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ زخمی سر کے ساتھ روتے ہوئے گھر میں داخل ہوتا تو باپ کی جوتیاں تیار ہوتیں. کبھی کبھی ماں کو ترس آتا تو وہ بیچ بچاؤ کرا دیتی. ورنہ بیچارے کا باپ کے ہاتھوں پٹنا روز کا ہی معمول تھا
ویسے جب چار بہنوں کے بعد وہ پیدا ہوا تو ماں نے بڑے پیار سے اس کا نام جلال الدین رکھا تھا. بیشک پیدائش کے وقت سر ضرورت سے کچھ زیادہ ہی بڑا تھا مگر ماں ‘سر بڑا سرداروں کا’ کہ کر دل کو تسلی دے لیتی تھی. مگر جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا، ماں باپ کو احساس ہوگیا کہ جلال الدین کے روپ میں خدا نے رحمت نہیں زحمت بھیجی تھی. پھر جب تین سال کے بعد جمال الدین پیدا ہوا تو ماں اور باپ، دونوں کی محبت اور شفقت کا رخ چھوٹے بھائی کی طرف مبذول ہوگیا
اصل ظلم تو اسکی تائی خالدہ نے کیا. ایک دفعہ جب وہ بھائی کے گھر ٹھہری تھی تو جلال الدین مار کھا کر کہیں باہر سے روتے ہوئے آیا. سر بہت بری طرح زخمی تھا اور خون سے سارے بال چکتے ہورہے تھے. دیکھ کر ماں کا دل پگھل گیا. سر گیلے کپڑے اور ڈیٹول سے صاف کرتی جاتی اور ‘ماں صدقے! ماں صدقے!’ کہتے ہوئے روتی جاتی
.کیوں روتی ہو بھابی؟’ تائی نے مزہ لینے کو پوچھا’
‘اری دیکھتی نہیں ہو باجی؟ کمبختوں نے کس بےدردی سے مارا ہے’
.ہاں مگر بچہ ہے.چوٹ تو لگتی ہی رہتی ہے نا بچوں کو.’ تائی نے چائے پیالی سے پرچ میں انڈیلتے ہوئے کہا’
.بچہ کہاں ہے؟ پورے پندرہ سال کا ہوگیا ہے مگر قد وہ ہی تین فٹ.’ ماں نے تولئے سے خون روکتے ہوئے کہا’
‘ایک تو پتہ نہیں خدا نے ہمیں کن گناہوں کی سزا دی ہے اس کو ہمارے گھر پیدا کر کے’
.سزا نہیں دی. تیری اور تیرے خاندان کی بلایئں ٹالی ہیں.’ تائی نے چائے کے سڑکے لگاتے ہوئے کہا’
اس قدر خوبصورت بیٹا ہے تیرا جمال. بارہ سال کا ہے مگر دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ کس قدر گھبرو جوان نکلے گا. جلال نے تو نظر اتاری ہے چھوٹے بھائی کی. نظر بٹو ہے یہ تو
تائی نے جلال الدین کو نظر بٹو کیا کہا، یہ ہی اس بیچارے کا نام پڑ گیا. اس کو اپنا یہ نام بہت برا لگتا تھا مگر کر بھی کیا سکتا تھا. اس غریب کی ساری امیدیں ماں کے پیار سے وابستہ تھیں. وہ بھی ایک دن ڈھیر ہوگیئں
جمال میری جان! دیکھ میرے بیٹے، اسکول سے واپس آکرجلال کو بھی تھوڑا بہت پڑھا دیا کر.’ ماں نے اسکول جانے سے پہلے چھوٹے بھائی کے بال سنوارتے ہوئے اس کو سمجھایا
جلال الدین نے ابتدائی کچھ سالوں میں اسکول جانا ضرور شروع کیا تھا مگر آھستہ آہستہ جب ہم جماعتوں کا مزاق اور مار پیٹ حد سے گزارنے لگے تو ماں باپ نے بہتر یہی سمجھا کہ اس کو اسکول سے اٹھا لیا جائے
.تم بھی کمال کرتی ہو ماں. بھلا نظر بٹو پڑھ کر کیا کرے گا؟’ جمال نے مچل کر پوچھا’
.بری بات ہے بیٹے، بڑے بھائی کو ایسے نہیں کہتے.’ ماں نے تھوڑی سختی سے کہا تو لاڈلا جمال بگڑ گیا’
‘میں تو نظر بٹو ہی کہوں گا. اور اگر تم مجھ سے پیار کرتی ہو تو تم بھی اسکو نظر بٹو ہی کہا کرو’
.اچھا! اچھا! جو جی میں آئے، تو وہ کہ لینا.’ ماں نے گھبرا کر کہا. جمال میں تو اس کی جان تھی’
‘نہیں، میں بھی نظر بٹو کہوں گا اور تم بھی نظر بٹو ہی کہو گی اس کو. اگر نہیں کہو گی تو میں ناراض ہو کر کہیں چلا جاؤں گا. چھوٹی سی عمر میں بھی جمال کو اپنی طاقت کا خوب اچھی طرح اندازہ تھا
‘نا نا! میری جان! ایسے نہیں کہتے.’ ماں نے جھٹ جمال کو سینے سے لگا لیا. ‘جو تو کہے گا وہ ہی میں کہوں گی’
.پھر نظر بٹو کہ کر ابھی بلا اس کو.’ جمال نے شوخی سے فرمائش کی
‘اچھا بلاتی ہوں’
.نظر بٹو! وے نظر بٹو!’ ماں نے اونچے لہجے میں آواز دی’
جلال کہاں کوئی دور کھڑا تھا. وہیں پیچھے دروازے کے پٹ کی اوٹ سے ماں اور چھوٹے بھائی کو دیکھ رہا تھا. لیکن ماں کی آواز سنتے ہی اس کی آنکھوں میں پتہ نہیں کہاں سے ڈھیر ساری نمی اتر آئ اور وہ دبے پاؤں وہاں سے بھاگ کر، باہر دور میدان میں، ٹیوب ویل کے ساتھ، بوڑھے برگد کی جڑوں میں جا کر بیٹھ گیا. وہاں بوڑھے برگد کی ٹھنڈی چھاؤں میں اس کا پکا ٹھکانا تھا. جب کبھی دل بہت اداس ہوتا تو وہاں جا کر بیٹھ جاتا اور روتا جاتا جب تک کہ دل ہلکا نا ہوجاتا. پھر ٹیوب ویل کے پانی سے منہ دھوتا اور واپس گھر چلا جاتا. کسی کو کبھی پتا ہی نہیں چلا تھا کہ برگد کی وہ جڑیں جانے جلال کے کتنے نمکین آنسو جذب کر چکی تھیں
اسی طرح دن گزرتے چلے گئے. پتھر اور مار کھاتے کھاتے اور دل کے ٹوٹتے جڑتے، جلال کی عمر تو بڑھ گئ مگر قد اتنے کا اتنا ہی رہا. لیکن جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ شاید لوگوں کا مزاق سہتے سہتے جلال کا دل بہت حساس ہوگیا تھا؛ اور اس کو سب کی تکلیف کا بہت جلد پتہ لگ جاتا تھا. انسانوں کی تکلیف دورکرنے کی کوشش کرتا تو وہ اپنا دکھ بھول کر اس پر ہنسنا شروع ہوجاتے اور اس قدر تنگ کرتے کہ وہ بیچارا بہتر یہی سمجھتا کہ وہاں سے بھاگ جائے
جانوروں کے ساتھ یہ مسلہء نہیں تھا. خاص کر کتوں کو جلال کے چھوٹے اور بونے قد سے کوئی واسطہ نہیں تھا. وہ تو بس اس کی ہتھیلیوں اور انگلیوں میں چھپی محبت کی گرم خوشبو کو سونگھتے اور محسوس کرتے تھے. جب اس محبت کی حرارت ان کو محسوس ہوتی تھی تو وہ جلال کے قدموں میں لوٹ جاتے تھے. اس کے چہرے کو چاٹنے کی کوشش کرتے تھے. اس کو دیکھ کر دم ہلاتے بھاگتے آتے تھے. جلال ان کو دیکھ کر خوش ہوتا تھا اور ان کے ساتھ کھیلتے کھیلتے اپنے غم بھول جاتا تھا
ماں اور باپ دونوں کو جلال کی کتوں سے محبت سے بہت چڑ تھی. جتنا بھی روکتے، وہ آنکھ بچا کر باورچی خانے سے کھانے پینے کی چیزیں نکال کر لے جاتا. جب باقائدگی کے ساتھ دودھ اور روٹیاں غایب ہونے لگیں تو باپ نے مار مار کر چمڑی ادیھڑ دی. اس دن کے بعد سے جلال نے باورچی خانے سے چوری کرنا تو چھوڑ دیا مگر خود فاقے کر کے اپنے حصے کا کھانا کتوں کو کھلانے لگا. اسکی گرتی صحت دیکھ کر ماں باپ نے یہی مناسب سمجھا کہ اسکو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے. ویسے بھی کھاتے پیتے لوگ تھے. تھوڑے سے دودھ اور روٹیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا
ہاں تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ لوگوں کے مزاق سہتے سہتے اور برگد کے نیچے روتے روتے جلال جوان ہوگیا. اور پھر جیسا کہ جوان لوگوں کے ساتھ اکثر ہوتا ہے، ایک دن جلال کو محبت ہوگئ. خیر یہ کوئی ایسے اچھنبھے کی بات نہیں تھی. قد چھوٹا تھا تو کیا ہوا، دل تو جوان ہو چکا تھا اور خوبصورتی کی طرف مائل بھی ہوتا تھا. لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جلال دماغی طور پر پسماندہ نہیں تھا. پڑھا لکھا نا ہونے کے باوجود اچھا خاصا ذہین تھا. خاص طور پر دنیا کی بہت سمجھ تھی اس کو. اچھی طرح جانتا تھا کہ دنیا والوں کی نظروں میں اور ان کے دلوں میں، اس کیلئے اور اس جیسوں کیلئے کوئی جگہ نہیں تھی. لیکن پھر بھی اس کو محبت ہوگئ. محبت کا کیا ہے، یہ تو بس ہو جاتی ہے. اور جب محبت آتی ہے تو عقل رخصت ہوجاتی ہے
ایک بات جو میں آپ کو بتانا بھول گیا. وہ یہ کہ جلال کو خدا نے ایک بے حد خوبصورت آواز سے نوازا تھا. کوئی باقاعدہ تربیت تو لی نہیں تھی. بس جو کچھ ریڈیو پر سنتا، وہ گنگناتا رہتا. آھستہ آہستہ اسکی آواز کی شہرت پھیلتی گئ. کہیں بھی لوگ اکٹھے بیٹھتے تو جلال کو بلوا لیتے اور گانا سنتے. جلال بیچارے کیلئے وہ واحد وقت ہوتا جب لوگ اس پر ہنس نہیں رہے ہوتے تھے، بلکہ اس کے گانے کی طرف متوجوہ ہوتے تھے. خوب تعریف بھی کرتے تھے اور کبھی کبھی زیادہ خوش ہوتے تو تھوڑا بہت انعام بھی دے دیتے. لہٰذا جلال کیلئے گانا خوشی تھی
وہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا. گاؤں کے بڑے چھوٹے سب چوپال میں اکٹھے تھے. موج مستی چل رہی تھی.ایسے میں کسی کو جلال کا خیال آ گیا تو ڈھنڈیا پڑ گئ. لڑکے بالے دوڑتے گئے تو دیکھا، جلال اپنے کتوں کے ساتھ، برگد کے بوڑھے پیڑ تلے کھیل رہا تھا. وہ اس غریب کو کھینچ کھانچ کر چوپال میں لے آئے
بھائی نظر بٹو، آج تو کشور کمار ہو جائے.’ گاؤں کے اسکول کے اکلوتے ماسٹر صاحب نے فرمائش کی. جلال پہلے تو حسب دستور کچھ شرمایا لیکن پھر ماسٹر صاحب کے مزید اصرار پر اس نے کھنکار کر گانا شروع کر دیا
زندگی کا سفر، ہے یہ کیسا سفر
کوئی سمجھا نہیں، کوئی جانا نہیں
ایک گانا غمگین، اوپر سے جلال کی چوٹ کھائی آواز. ایک سماں بندھ گیا
گاتے گاتے جلال کی نظر رضیہ پر پڑ گئ جو دوپٹے سے آنسو پونچھ رہی تھی. وہ رفیق کریانے والے کی بیٹی تھی اور پورے گاؤں کی سب سے حسین لڑکی تھی. جوانی ٹوٹ کر آئ تھی اور اس کو اپنے حسن کا احساس بھی بہت زیادہ تھا. شاید اپنی مری ماں یاد آ گئ یا پھر ویسے ہی دل بھر آیا تھا اس کا. بہرحال جب جلال نے اس کی طرف دیکھا تو وہ گیلی گیلی آنکھوں سے اور ہلکی سی افسردہ مسکان لئے اسی کی طرف دیکھ رہی تھی. بس غضب ہی ہوگیا. جلال کو یقین ہوگیا کہ رضیہ کا دل اس کیلئے ہی اداس تھا
جلال کو رضیہ سے محبت کیا ہوئی، اسکا دنیا کو دیکھنے کا انداز ہی بدل گیا. لوگ وہ ہی ظالم کے ظالم تھے اور دنیا اتنی ہی بےدرد کی بےدرد تھی مگر جلال کو سب کچھ خوبصورت نظر آنے لگا. ریڈیو پر چلتے ہر پرانے گانے کا ہر گھسا پٹا شعر، اک نیا معنی اختیار کر گیا. اپنا خیال بھی زیادہ رکھنا شروع ہوگیا. باپ کی الماری سے عطر کی شیشی چوری کر لی اور احتیاط سے جیب میں کنگھی کے ساتھ رکھ لی کہ کیا خبر زندگی کے کس موڑ پر رضیہ سے ملاقات ہوجائے
پھر ایک دن ملاقات ہو ہی گئ. جلال حسب عادت برگد کے نیچے، آوارہ کتوں کے درمیان بیٹھا تھا. دور سے رضیہ آ رہی تھی مگر جلال کی ساری توجوہ کتوں پر مرکوز تھی. اس نے دھیان ہی نہیں دیا. پتہ اس وقت چلا جب رضیہ سر پر پہنچ گئ. نا الجھے بالوں میں کنگھی کرنے کا وقت تھا اور نا کپڑوں پر عطر لگانے کا. بیچارے نے رضیہ کو کچھ فاصلے پر کھڑے اپنی طرف مسکراتے دیکھا تو سٹی گم ہوگئ
.کیا حال ہے نظر بٹو؟’ رضیہ نے شوخی سے پوچھا’
جلال کو رضیہ کا نظر بٹو کہنا بالکل بھی برا نہیں لگا
.مم…..میں ٹھیک ہوں.’ بیچارے نے سٹپٹا کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا’
.بیٹھنے کا نہیں کہو گے؟’ رضیہ نے پوچھا’
.ہاں! ہاں!…. آؤ بیٹھو.’ جلال نے بدحواس ہو کر ادھر ادھر رضیہ کے شایان شان جگہ تلاش شروع کر دی’
.کیسے آؤں؟ مجھے تمھارے دوستوں سے ڈر لگتا ہے.’ رضیہ نے کتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’
وہ شاید جلال کی زندگی کا پہلا دن تھا جب اس کو کتے برے لگے. جب اس کے آواز دینے سے کتے نہیں ہٹے تو اس نے تنگ آ کر ہاتھوں میں پتھر اٹھا لئے. بیچارے کتوں نے حیرانی سے دو چار پتھر کھائے اور پھر ٹیاؤں ٹیاؤں کرتے کچھ فاصلے پر بیٹھ کر جلال کو گیلی گیلی اور شکایت بھری آنکھوں سے دیکھنے لگے. جلال کو تھوڑی دیر کو تو بہت شرم آئ مگر پھر محبوبہ کا احترام غالب آ گیا
رضیہ آھستہ آھستہ قدم اٹھاتی قریب آئ اور پھر وہیں برگد کی جڑوں میں بیٹھ گئ
آؤ تم بھی بیٹھو.’ رضیہ نے اپنی بغل میں اشارہ کیا تو جلال کی تو عید ہی ہوگئ اور وہ لپک کر بیٹھ گیا کہ کہیں رضیہ اپنی دعوت واپس ہی نا لے لے
.کیسے ہو نظر بٹو؟’ رضیہ نے مسکرا کر پوچھا’
مم…میں ٹھیک ہوں.’ جلال پر ابھی بھی بدحواسی طاری تھی. دراصل اس غریب کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ رضیہ کا آنا اور اسکے ساتھ بیٹھنا حقیقت ہوسکتا تھا
اوپر سے رضیہ کے وجود سے بھینی بھینی خوشبو اٹھ رہی تھی جو جلال پر ایک بیخودی کا عالم طاری کر رہی تھی
‘میں آج تمہاری مہمان ہوں.’ رضیہ نے کن اکھیوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا. ‘اپنی مہمان کو گانا نہیں سناؤ گے؟’
.ہاں….ہاں ضرور سناؤں گا.’ جلال تو اس کیلئے آسمان سے تارے بھی توڑ کر لا سکتا تھا. گانا تو بہت معمولی شے تھی’
‘کونسا گانا سنو گی؟’
‘وہ ہی جو اس دن تم چوپال میں گا رہے تھے. زندگی کا سفر’
اسکا حکم دینا تھا کہ جلال نے دو ایک بار کھنکھارا اور گانا شروع کر دیا
لیکن اس دن کی طرح آج رضیہ کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے. وہ بس خاموش بیٹھی ایک تنکے سے زمین کرید رہی تھی. جلال کو لگا کہ شاید وہ اس سے کوئی بات کہنا چاہ رہی تھی مگر کہ نہیں پا رہی تھی
جلال نے گانا ختم کیا تو رضیہ نے منہ پھیر کر اس کی طرف دیکھا اور دھیرے سے مسکرا دی
.نظر بٹو! میرا ایک کام کرو گے؟’ تھوڑی دیر خاموشی کے بعد رضیہ نے پوچھا’
.ہاں ہاں کیوں نہیں.’ جلال کے دل میں محبوبہ کی خدمت کے خیال سے ہی لڈو پھوٹنا شروع ہوگئے’
.تم حکم تو کرو.’ جلال نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر جھکاتے ہوئے کہا تو رضیہ کی ہنسی نکل گئ’
.تم مجھے بڑے اچھے لگتے ہو نظر بٹو.’ رضیہ نے ایک ادا سے کہا’
جلال کو یوں لگا کہ جیسے میلوں صحرا میں پیدل چلنے کے بعد یکایک وہ کسی ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے کے کنارے آ کھڑا ہو. ساری عمر کے غم ایک طرف اور رضیہ کا اقرار محبت ایک طرف. جلال نے اپنے آپ کی طرف دیکھا تو اس کو اپنا مختصر وجود چھ فٹ کا دکھائی دیا
مجھے بھی تم…..مجھے بھی تم بہت اچھی لگتی ہو رضیہ.’ اس نے پتہ نہیں کہاں سے ہمت جمع کی اور رضیہ کے حضور اقرار محبت پیش کر دیا
.مجھے پتہ ہے.’ رضیہ نے شرما کر کہا’
.تمھیں کیسے پتہ ہے؟’ جلال نے حیرانی سے پوچھا’
.میں تو پورے گاؤں کو اچھی لگتی ہوں.’ رضیہ کھلکھلا کر ہنس پڑی’
.ہاں یہ تو ہے.’ جلال نے بیوقوفی سے سر ہلا کر اور ہنس کر کہا’
تمھیں پتہ ہے، میں پورے گاؤں کو اچھی لگتی ہوں لیکن مجھے صرف ایک ہی اچھا لگتا ہے؟’ رضیہ نے آہستگی سے سوال پوچھا
.مجھے سب پتہ ہے رضیہ.’ جلال نے دانش مندی سے گردن ہلا کر کہا’
.ہیں تمھیں پتہ ہے نظر بٹو؟ بھلا تمھیں کیسے پتہ ہے؟’ رضیہ نے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا’
.بس مجھے پتہ ہوتا ہے باتوں کا.’ جلال نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے اور تقریباً ڈوبتے ہوئے کہا’
‘اچھا!’ رضیہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا. ‘پتہ ہے تو یہ اس کو دے دینا’
رضیہ نے اپنے گریبان سے خوشبودار پسینے میں بھیگا ایک گلابی لفافہ نکالا اور جلال کی مٹھی میں تھما دیا. پھر اس کو ایک دلنواز مسکراہٹ سے نوازا اور مزید کچھ کہے بغیر اٹھ کر چلی گئ
رضیہ کے جانے کے بعد کچھ دیر جلال وہیں اس کی قربت کے نشے میں سرشار بیٹھا رہا. پھر لفافے کو غور سے دیکھا. کچھ کچھ پڑھنے کی کوشش کی تو دیکھا کہ لفافے پر اسی کا نام لکھا تھا. اندر سے خط نکال کر دیکھا. الفاظ تو زیادہ سمجھ نہیں آئے مگر جگہ جگہ بنی دل کی تصویروں اور تیر کے نشانوں کو ضرور پہچان گیا. اس کو اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آ رہا تھا
.واہ میرے مولا!’ اس نے آسمان کی طرف گردن اٹھا کر دیکھا’
دیا بھی تو چھپڑ پھاڑ کر. موجیں ہی کرا دیں. مولوی صاحب ٹھیک ہی کہتے تھے. تو واقعی بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے
اب جلال دین کیلئے سب سے بڑا مسلہء خط کو ٹھیک طرح سے پڑھنے کا تھا. لے دے کر اس کے پاس اس کا چھوٹا بھائی ہی تھا جو اس کی مدد کر سکتا تھا. امید تو کم تھی مگر اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا
شام کو جمال الدین کھیتوں پر کام کر کے واپس آیا اور کھانا وغیرہ کھا کر چھت پر چلا گیا. مغرب کی طرف سے کبھی کبھی ٹھنڈی ہوا چلتی تھی تو چھت پر زیادہ محسوس ہوتی تھی. جلال بھی ڈرتے ڈرتے اس کے پیچھے چھت پر چڑھ گیا اور بھائی کے پاس ہی منڈیر پر بیٹھ گیا
.کیا بات ہے نظر بٹو؟ بڑا لال سرخ ہورہا ہے.’ جمال کا موڈ اچھا تھا’
.وہ ایک کام تھا تم سے.’ جلال نے شرماتے ہوئے کہا اور جیب سے رضیہ کا خط نکال کر بھائی کی طرف بڑھا دیا’
اب یہ کیا ہے؟’ جمال نے خط پکڑا اور غور سے دیکھنے کے بعد کھول لیا. اس نے خاموشی سے خط پڑھا اور پھر مونچھوں کو تاؤ دے کر زیر لب مسکرانے لگا
.کیا لکھا ہے؟’ جلال نے شوق سے پوچھا’
.تجھے کیا تکلیف ہے؟ جا دفعہ ہوجا یہاں سے.’ جمال نے دھتکار کر کہا’
‘مجھے کیوں نہیں تکلیف ہوگی؟ میرا خط ہے آخر’
.یہ شک تجھے کیسے ہوا کہ یہ تیرا خط ہے؟’ جمال نے اس کو گھور کر پوچھا’
.میرا نام لکھا ہے اس پر. غور سے دیکھ.’ جلال نے انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا’
جمال نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا
‘یہ؟ یہ جلال نہیں جمال لکھا ہے، عقل کے اندھے. ان پڑھ جاہل، بونا ہے تو’
‘نہیں تم جھوٹ بول رہے ہو. یہ میرا خط ہے.’ جلال کی آواز روہانسی سی ہوگئ. ‘میں جا کر ماں کو بتاتا ہوں’
دماغ تو نہیں خراب ہوگیا نظر بٹو؟ میرا پتہ ہیں نا؟ ماں کو بتایا تو الٹا لٹکا دوں گا.’ جمال نے ایک تھپڑ جلال کے گال پر جڑ کر کہا تو وہ بیچارہ روتا ہوا بھاگ گیا
اگلے دن رضیہ کو سہیلیوں کے ساتھ ٹیوب ویل پر دیکھا تو جلال دوڑتا پہنچ گیا
.رضیہ؟’ اس نے ڈرتے ڈرتے آواز دی’
‘کیا ہے نظر بٹو؟’
‘یہاں ایک سائیڈ پر آ، میں نے ایک ضروری بات کرنی ہے’
رضیہ نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور پھر معنی خیز انداز میں مسکرا کر اس کے ساتھ جا کر برگد کے نیچے بیٹھ گئ. سہیلیوں نے مزاق اڑانے کی کوشش کی مگر رضیہ نے ایک گھوری ماری تو سب چپ کر گیئں
‘ہاں بول نظر بٹو کیا ہے؟ میرے لئے کسی نے کچھ بھیجا ہے کیا؟’
‘نہیں، کسی نے کچھ نہیں بھیجا.’ جلال نے ڈرتے ڈرتے کہا. ‘وہ تیرا خط مجھ سے جمال نے چھین لیا’
.پھر؟’ رضیہ نے اشتیاق سے پوچھا’
‘پھر اس نے مجھے کچھ نہیں بتایا کہ تم نے اس میں کیا لکھا تھا’
.تو نے جان کر کیا کرنا تھا نظر بٹو؟’ رضیہ نے مسکرا کر پوچھا’
.کیوں مزاق کرتی ہو رضیہ؟’ جلال نے افسردگی سے جواب دیا’
‘تمہارا محبت نامہ تھا میرے نام. میرے لئے تو ہر لفظ ہیرا موتی تھا تیرا’
‘کیا کہا؟’ رضیہ تنتنا کر کھڑی ہوگئ. ‘دماغ تو نہیں چل گیا تیرا؟’
سہیلیوں نے رضیہ کی اونچی آواز سنی تو وہ بھی دوڑتی پہنچ گیئں
.میں نے ایسا کیا کہ دیا رضیہ؟’ جلال بیچارا تو ہکا بکا کھڑا رہ گیا’
میں کیوں لکھوں گی تجھے محبت نامہ؟ بونے مردود، شکل اور قد دیکھا ہے اپنا؟ بڑا آیا ساڑھے تین فٹ کا مرد.’ رضیہ نے کمر پر ہاتھ رکھ کر اور چیخ کر کہا
.مگر اس خط پر……اس پر تو میرا نام لکھا تھا.’ جلال نے رندھی ہوئی آواز میں کہا’
.جاہل! گنوار!’ رضیہ نے جلال کا گریبان پکڑ کر اس بیچارے کو جھنجوڑا’
‘اس پر تیرے بھائی کا نام لکھا تھا….جمال کا’
اس کے بعد تو حد ہوگئ. رضیہ اور اس کی سہیلیوں نے ناخن اور چپلیں مار مار کر جلال بیچارے کا حلیہ بگاڑ دیا. وہ بیچارا روتا جاتا اور اپنے مختصر سے بازوؤں سے اپنے آپ کو بچانے کی ناکام کوشش کرتا رہا. مار مار کر لڑکیاں تھک کر گھر چلی گیئں تو جلال وہیں برگد کی چھاؤں تلے بیٹھ کر روتا رہا. جسم کی چوٹوں کی درد تو پتہ نہیں تھی کہ نہیں لیکن دل بہت درد کر رہا تھا. اس کو روتا دیکھ کر کتے بھی اس کے اردگرد اکٹھے ہوگئے اور اس کے زخم چاٹنے کی کوشش کرنے لگے
اس دن کے بعد جلال کو بہت عرصے کسی نے گاؤں میں نہیں دیکھا. باپ نے کافی ڈھونڈا. تھوڑی بہت کوشش گاؤں والوں نے بھی کی. مگر نجانے زمین کھا گئ یا آسمان نگل گیا، جلال کا کوئی پتہ نہیں چلا. ماں بھی تھوڑا بہت روئی دھوئی لیکن پھر صبر کر کے بیٹھ گئ. سوچتی تھی اچھا ہی ہوا کہ کہیں چلا گیا. یوں بھی گاؤں میں اسکی زندگی اجیرن تھی
میں ایک مصنف ضرور ہوں مگر یقین مانئے کہ کہانی کے پلاٹ پر میرا کم ہی قابو ہوتا ہے. کردار خود ہی کہانی کو کہیں کا کہیں لے جاتے ہیں. لیکن مصنف ہونے کا ایک فائدہ ضرور ہے. وہ یہ کہ میں بہت سی ایسی باتیں جانتا ہوں جو کہانی کے باقی کردار نہیں جانتے. جیسا کہ مجھے یہ معلوم ہے کہ جلال کہاں تھا
اس دن، رضیہ اور اس کی ظالم ہمجولیوں کے ہاتھوں پٹائی کے بعد جلال کو یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کی زندگی میں صرف محرومیاں ہی لکھی تھیں. گاؤں سے اس کا دل اٹھ چکا تھا مگر رضیہ سے محبت ابھی بھی باقی تھی. اس کو یقین تھا کہ رضیہ کے دل میں کہیں نا کہیں اس کیلئے، تھوڑی بہت پسندیدگی ضرور موجود تھی
تھوڑی دیر رونے دھونے کے بعد اٹھا. منہ ہاتھ دھویا. چپکے سے اپنے گھر میں داخل ہوا. ابا اماں سے نظر بچا کر کہاں پیسے چھپا کر رکھتا تھا، اس کو اچھی طرح معلوم تھا. پیسے نکالے، نیفے میں اڑسے اور نکل پڑا
گاؤں سے شہر کیلئے آخری گاڑی نکلنے ہی والی تھی. وہ اس میں بیٹھ گیا اور شہر پہنچ گیا. اڈے کے سامنے ہی سرکس لگا ہوا تھا. جلال کی تو باچھیں کھل گیئں. سرکس کا بچپن سے بہت شوقین تھا. آؤ دیکھا نا تاؤ، ٹکٹ خریدا اور گھس گیا تمبو میں. جانوروں کے کرتبوں میں، جوکروں کی مستیوں میں اور بھانت بھانت کے لوگوں میں وہ بہت جلد اپنا غم بھول گیا
کیا نام ہے تمہارا بیٹے؟’ کسی نے اچانک بہت پیار سے جلال کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو اس نے چونک کر پوچھنے والے کی طرف دیکھا
ایک سفید بالوں اور برف سی سفید داڑھی مونچھوں والے بابا جی کھڑے شفقت سے مسکرا رہے تھے. اجلا سفید کرتا پاجامہ پہنے تھے اور دلچسپ بات یہ تھی کہ ان کا قد جلال سے بس کچھ ہی انچ لمبا تھا
.جی میں نظر بٹو ہوں.’ جلال نے جھینپتے ہوئے جواب دیا’
.ناں! ناں! بیٹے. ایسے نہیں کہتے. تمھیں کس نے کہا کہ تم نظر بٹو ہو؟ بابا جی نے کندھا تھپکتے ہوئے پوچھا’
وہ تو جی، جب سب کہتے تھے تو میں نہیں مانتا تھا لیکن جب ماں نے بھی یہی کہنا شروع کر دیا تو ماننا پڑا. اب ماں تو جھوٹ نہیں بولتی نا جی؟’ جلال نے معصومیت سے جواب میں پوچھا
.ہاں! یہ تو ہے. مائیں جھوٹ نہیں بولتیں.’ بابا جی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا’
لیکن ایسا ہے نا برخودار کہ مائیں بھی انسان ہوتی ہیں. لہٰذا کبھی کبھی مجبور ہو کر وہ سب کچھ کہ جاتی ہیں جو کہ نہیں کہنا چاہئے
‘اچھا جی!’ جلال نے سعادت مندی سے سر ہلایا. ‘ویسے جی میرا نام جلال الدین ہے’
‘واہ! بہت اچھا نام ہے.’ بابا جی مسکرائے. ‘کوئی کام شام بھی کرتے ہو یا صرف سرکس ہی دیکھتے ہو؟’
وہ جی آج ہی گاؤں سے شہر آیا تھا. گاڑی سے اترا تو سرکس نظر آ گیا. بس یہاں آ گیا.’ جلال نے جواب دیا اور پھر کہنے لگا: مزدوری کے ارادے سے ہی شہر آیا تھا جی’
.مزدوری؟ ہاہاہاہا!’ بابا جی نے ایک قہقہہ لگایا تو جلال بیچارا شرمندہ سا ہوگیا’
‘ہم جیسے لوگ مزدوری نہیں کرتے بیٹے. ہم جیسے لوگ صرف دوسرے لوگوں کی تفریح و طبع کیلئے پیدا کئے گئے ہیں’
جلال کو یوں محسوس ہوا کہ یہ کہتے کہتے بابا جی کا لہجہ کچھ کڑوا سا ہوگیا تھا
.میں ہر کام کرنے کو تیّار ہوں جی. لوگوں کو ہنسانا بھی آتا ہے اور رلانا بھی.’ جلال نے پرجوش انداز میں کہا’
.ہنسانا تو سمجھ میں آتا ہے. یہ رلاتے کیسے ہو تم؟’ بابا جی نے حیرت سے پوچھا’
وہ جی گانا گاتا ہوں نا میں. غمگین گیت گاتا ہوں تو لوگ دکھی ہوجاتے ہیں.’ جلال کو یہ کہتے ہی رضیہ کی آنکھوں سے گرتے آنسو یاد آ گئے جو ساری غلط فہمی کی جڑ تھے اور وہ خود بھی دکھی سا ہوگیا
‘زبردست! تم تو بہت کام کے آدمی ہو. آؤ میرے ساتھ آ جاؤ’
بابا جی کا نام گگلو استاد تھا اور وہ اور ان کا پورا خاندان سرکس میں کام کرتا تھا. وہ خود بونے تھے مگر انکی بیوی نارمل قد کاٹھ کی تھی. پتہ نہیں وہ بے جوڑ شادی کیسے ہوئی تھی مگر ان کی اکلوتی لڑکی بھی بونے قد کی ہی تھی. گگلو استاد کی بیوی بھی جلال سے مل کر بہت خوش ہوئی اور اس کے ساتھ ایسے گھل مل گئ کہ جیسے وہ میلے میں بچھڑا بیٹا ہو
گگلو استاد نے سرکس کے مینیجر سے بات کر کے جلال کو بھی نوکری دلوا دی. نوکری کیا تھی، بس اسے سرکس کے مختلف کرتبوں کے درمیان تماشائیوں کا دل بہلانے کوگانے گانا تھا. جلد ہی جلال کی اچھی آواز سن کر اور اس کی پرفارمنس سے متاثر ہو کر مینیجر نے اس کی نوکری پکّی کر دی
جلال کو نوکری بھی مل گئ اور سرکس کے ماحول میں رونق میلہ بھی بہت تھا. پھر سیر و تفریح الگ. آج ایک شہر تو کل دوسرا. ایک ہفتے ایک قصبہ تو اگلے ہفتے دوسرا. لیکن گاؤں کے واقعات جلال کے دماغ سے نکلنے کا نام نہیں لیتے تھے. وہ کام کے بعد بس ایک طرف اداس بیٹھا دنیا دیکھتا رہتا تھا
.کیوں بھائی، یہ تم ہر وقت اداس اور غمگین کیوں بیٹھے رہتے ہو؟’ ایک دن گگلو استاد اس سے پوچھ ہی بیٹھا.’
سننے کو ہمدرد کان ملے تو جلال بلک پڑا. ساری کہانی تفصیل سے استاد کو سنا ڈالی
‘ہوں!’ کہانی سننے کے بعد استاد نے ایک گہرا سانس بھرا. ‘بہت ظلم ہوا ہے تم پر بیٹے. لیکن غلطی تمہاری بھی تھی’
‘جی میری غلطی؟’ جلال نے چونک کر پوچھا. ‘میری غلطی کیسے؟’
.دیکھو بیٹے!’ استاد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے کی کوشش کی’
یہ عورتوں کو قد وغیرہ سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی. یہ صرف یہ دیکھتی ہیں کہ مرد ان کو کما کر کتنا کھلا سکتا ہے. اب مجھے ہی دیکھ لو. اپنے قد کو بیٹھا روتا رہتا تو نا شادی ہوتی نا نوکری کر سکتا. لیکن دیکھ لو، شادی بھی ہو گئ اور اچھے پیسے بھی کماتا ہوں
.تو کیا آپ کی بیوی نے کبھی آپ کے قد کی وجہ سے آپ کا مزاق نہیں اڑایا؟’ جلال نے حیرت سے پوچھا’
.لو بھلا، مزاق کیوں اڑاتی وہ؟’ گگلو استاد نے ہنستے ہوئے کہا’
اپنا بھلا برا اچھی طرح جانتی تھی. بہت کچھ سوچ سمجھ کر اس نے مجھ سے شادی کا فیصلہ کیا تھا. اور اب تک وہ کبھی اپنے فیصلے پر نہیں پچھتائ
تو پھر آپ کے کہنے کا یہ مطلب ہوا کہ اگر میں بہت سا پیسا کما لوں تو رضیہ مجھ سے شادی پر راضی ہوجائے گی؟ مجھ سے محبت کرنا شروع ہو جائے گی؟’ جلال نے سوچتے ہوئے پوچھا
.ہاں کیوں نہیں.’ استاد نے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا’
‘اگر تم اس کو ایک روشن مستقبل کی ضمانت دے دو گے تو وہ ضرور تمہاری ہوجائے گی’
گگلو استاد تو یہ کہ کر چلا گیا لیکن جلال کے دل میں امید کی شمع روشن کر گیا. جلال کو یقین ہو چلا تھا کہ پیسہ کمانا ہی اس کے دل کے درد کا واحد حل تھا
گگلو استاد کی اکلوتی بیٹی کا نام عطیہ تھا. جلال سے کوئی پانچ یا چھ برس چھوٹی ہوگی. خوبصورت اتنی تھی کہ اس کے بے انتہاء چھوٹے قد کے باوجود، بے شمار قدر دان تھے. مگر لڑکی تھی بہت مختلف. اس کو عام لوگوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا. پھر وہ یہ بھی اچھی طرح جانتی تھی کہ نارمل مردوں کے نزدیک اس کی حیثیت، ایک خوبصورت کھلونے سے زیادہ نہیں تھی. وہ ان مردوں کے بھوکے ہاتھوں میں مٹی کا کھلونا بن کر، ٹوٹنا نہیں چاہتی تھی
عطیہ سرکس میں بازیگروں کے ساتھ کرتب دکھاتی تھی. ابھی جواں تھی تو جسم میں لوچ تھا. پھر چھوٹا قد ہونے کی وجہ سے وزن بھی تھوڑا تھا. اپنے کام میں بہت ماہر تھی. زمین سے بیسیوں فٹ اونچے تنے رسے پر چلتی ہوئی جب اچانک جھولے پر چھلانگ لگاتی تو کمزور دل لوگوں کی چیخیں ہی نکل جاتیں
عطیہ کا دل پہلے دن ہی سے جلال پر آ گیا تھا. اس کو جلال کی متورم اور خواب ناک آنکھیں اور اس کے بات کرنے کا انداز دیکھ کر ہی اس کی حساسیت کا اندازہ ہو گیا تھا. پتہ نہیں جلال کی شخصیت میں اس کے علاوہ اور کیا تھا کہ اس کو دیکھ کر رضیہ کا دل چاہتا تھا کہ وہ اپنی نرم انگلیوں سے، اس کے سیاہ گھنگریالے بالوں کو سلجھائے؛ اور کسی بھی طرح سے اس کے ٹوٹے دل کو جوڑ دے
جلال بچہ نہیں تھا کہ اس کو عطیہ کی آنکھوں میں جگمگاتے خواب نظر نا آتے. لیکن اس کی آنکھوں پر رضیہ کے عشق کی پٹی بندھی تھی. وہ اب بھی یہ سمجھتا تھا کہ رضیہ کے دل میں اس کے لئے کوئی نا کوئی نرم گوشہ ضرور تھا. اور یہ بھی کہ سہیلیوں کی موجودگی کی وجہ سے شاید رضیہ کا رویہ ٹھیک نہیں تھا. اتنی مار اور اتنی بے عزتی کسی اور کی ہوئی ہوتی تو وہ کب کا سبق سیکھ چکا ہوتا. لیکن جلال کا معاملہ کچھ الگ ہی تھا. دراصل رضیہ جلال کی کشتی کا پہلا کنارہ تھی. پہلے کنارے کو چھوڑنا ہمیشہ بہت مشکل ہوتا ہے. اور پھر استاد کی باتوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا
ان سب باتوں سے بےخبر عطیہ بیچاری بدستور جلال کی توجوہ مبذول کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھی. اپنے آپ کو بناتی سنوارتی، اچھے کپڑے پہنتی. لیکن جلال تو گویا پتھر کا انسان تھا. اس کے چہرے پر ہر وقت ایک تلخی سی دوڑتی رہتی تھی. پھر اس کو دنیا کی ہر خوبصورت لڑکی کا رضیہ سے مقابلہ کرنے کی عادت تھی
رضیہ گاؤں کی تھی اور شکل و صورت کی بہت اچھی تھی مگر سادہ کپڑوں اور میک اپ سے عاری چہرے کی مالک تھی. اس کے مقابلے میں عطیہ ہر وقت بنی ٹھنی رہتی تھی اور سرکس کے مخصوص ماحول میں پلی بڑھی تھی. لہٰذا ساتھ کام کرنے والے بازی گروں کے ساتھ ہنسی ٹھٹھے کو برا نہیں سمجھتی تھی. مگر یہ سب جلال کو دیکھ کر بہت برا لگتا تھا. وہ عطیہ کو اچھے کردار کا مالک نہیں سمجھتا تھا
بہت دن تو عطیہ بہت صبر کے ساتھ جلال کو لبھانے کی کوشش کرتی رہی. اس کو یقین تھا کہ جس طرح گرتے پانی کی نرم بوندیں سخت سے سخت پتھر میں بھی سوراخ کر دیتی ہیں، ایک دن اس کی محبت بھی جلال کے دل کو نرم کر دے گی. لیکن پھر ایک دن اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا
جلال کا شناختی کارڈ دیکھ کر عطیہ کو یہ پتہ چل چکا تھا کہ اس کی سالگرہ یکم دسمبر کو ہوتی تھی. اس محبت کی ماری نے ایک مہینے پہلے سے ہی پیسے بچانے شروع کر دئے تھے تاکہ جلال کو کوئی اچھا سا تحفہ دے سکے. حالانکہ اس کو بالکل بھی ایسے تماشائی اچھے نہیں لگتے تھے جن کی نظر تماشے سے زیادہ، اس کے جسم کی گولاءیوں پر ہوتی تھی. مگر مرتی کیا نا کرتی. مسکراتی رہی. ان جانوروں کے سامنے داد کیلئے جھکتی رہی اور پیسے اکٹھے کرتی رہتی. اس کوشش میں کوئی زیادہ ہی رنگین مزاج ہاتھ بھی لگا جاتا تو برداشت کر لیتی. آخر محبت قربانی مانگتی ہے
تماشائیوں سے داد میں ملا ایک ایک پیسہ جوڑ کر بیچاری نے، ایک ولایتی خوشبو کی خوبصورت سی بوتل خریدی، نرم ریشمی رومال میں رنگین ربن سے باندھی اور رات کو چپ کر کے ایک محبت بھرے خط کے ساتھ، جلال کے سرہانے رکھ دی
.عطیہ!’ جلال کی سرد آواز عطیہ کے کانوں سے ٹکرائی. وہ اپنے تمبو میں شام کے شو کیلئے میک اپ کر رہی تھی’
کیا ہے جلال؟’ اس نے بظاھر بے اعتنائی سے زلفیں سنوارتے ہوئے کہا لیکن اندر سے اس کا چھوٹا سا دل بلیوں کی طرح اچھل رہا تھا
یہ کیا بکواس ہے؟’ جلال نے غصے سے خوشبو کی شیشی عطیہ کے سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر پھینکی تو وہ ٹوٹ گئ اور پورے تمبو میں تیز خوشبو پھیل گئ
.یہ کیا کیا جلال تو نے؟’ عطیہ نے زخمی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا’
کتنا بے درد ہے تو. میں نے کتنی محنت سے اپنی حق حلال کی کمائی جوڑ کر یہ تحفہ خریدنے کیلئے پیسے جمع کئے اور تو نے ظالم، اسے ایسے بے قدری سے پھینک کر توڑ دیا؟
.حق حلال کی کمائی؟’ جلال نے بے رحمی سے کہا’
تو بے شرم ہے عطیہ. اپنے جلوے بیچتی ہے تو. حسن فروخت کرتی ہے تو اپنا. اور میرے لئے تحفہ کیوں؟ میں تیرا کونسا خصم ہوں؟
تو کیسی باتیں کرتا ہے جلال؟ آخر تیرے دل میں میرے لئے تھوڑی سی بھی جگہ نہیں؟’ عطیہ نے بے قرار ہو کر پوچھا. اس کی خوبصورت آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھر آئے تھے
‘میرا دل؟’ جلال نے تمسخرانہ انداز میں کہا. ‘میرا دل تو رضیہ کا ہے’
.رضیہ کون؟’ عطیہ تو دل پکڑ کر بیٹھ گئ’
‘ہے ایک. تجھے اس سے کیا؟’
‘میرے تیرے جیسی ہے؟’ عطیہ نے کچھ سوچ کر پوچھا. ‘یا پھر نارمل ہے؟’
.اونچی لمبی اور گوری چٹی ہے وہ. بونی نہیں ہے.’ جلال نے فخر سے کہا
.تو پھر وہ تجھے بھلا کیوں کر ملے گی؟’ عطیہ نے حیرت سے پوچھا’
.کیوں نہیں ملے گی؟’ جلال نے غصے سے جواب دیا’
‘ملے گی اورضرور ملے گی. بس چار پیسے میرے ہاتھ میں آجایئں گے تو وہ انکار نہیں کر سکے گی’
.میری بات غور سے سن جلال.’ عطیہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی’
رضیہ جیسی لڑکیوں کے نزدیک، ہم جیسے لوگ انسان نہیں ہوتے. وہ کبھی تجھ سے شادی نہیں کرے گی. تو مجھ سے شادی کر لے. میں تجھے بہت پیار دوں گی
تو اس کے پاؤں کی مٹی بھی نہیں. وہ شرم و حیاء کی پیکر ہے اور تو فاحشہ اور بے حیاء. بہتر یہی ہے کہ تو اپنی ناپاک زبان سے اس کا نام نا لے
سخت الفاظ کی بے رحم بارش برسا کر، جلال تو عطیہ کے تمبو سے نکل گیا لیکن اس غریب کی آرزویئں، تاش کے پتوں سے بنے محل کی طرح، ایک ہی لمحے میں ڈھیر ہوگیئں. اس کا دل کتنا حساس تھا، خود اس کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا
شام کے شو میں عطیہ کا آئٹم شروع ہونے سے کچھ لمحے پہلے ہی، جلال سرکس کے تمبو سے باہر نکل آیا. وہ عطیہ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا. وہ چلتا ہوا اپنے تمبو میں داخل ہوا تو بستر کے سرہانے ایک چھوٹی سی کپڑے کی پوٹلی نظر آئ. اس نے حیرت سے پوٹلی کھولی تو وہ زیورات سے بھری ہوئی تھی. اوپر ہی ایک پرچی لکھی پڑی تھی. اس پر لکھا تھا
‘تمھارے لئے، بہت پیار اور خلوص کے ساتھ. جاؤ رضیہ کو اپنا لو. فقط عطیہ’
ابھی جلال زیورات اور پرچی پکڑے کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک سرکس کے تمبو کی طرف سے غیر معمولی شورو غل کی آواز بلند ہوئی. وہ گھبرا کر باہر نکلا تو دیکھا لوگوں کا غول تمبو سے باہر نکل رہا تھا. ہر آدمی کی زبان پر مختلف باتیں تھی
‘لڑکی رسے سے گر کر مر گئ’
‘لڑکی بیچاری پھسل گئ’
‘لڑکی نے خود کشی کر لی’
جلال تیزی سے لوگوں کو دھکیلتا تمبو کے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ بہت سے لوگ پنڈال کے بیچ میں اکٹھے ہوئے تھے. بہت کوشش کرنے کے بعد وہ بھی ان کے درمیان سے ہوتا ہوا بیچ میں پہنچ گیا. دیکھا تو زمین پر عطیہ کی تڑی مڑی لاش پڑی تھی اور باچھوں سے خون نکل کر سینے پر پھیل رہا تھا
صبح فجر کے فوری بعد عطیہ کا جنازہ پڑھا کر دفنا دیا گیا. عطیہ پھسل کر گری یا اس نے خود کشی کر لی، کوئی نہیں جانتا تھا. مگر جلال کو حقیقت اچھی طرح معلوم تھی. عطیہ کی ماں بین کر رہی تھی اور گگلو استاد بھی ایک طرف، سرکس کے باقی لوگوں کے درمیان بیٹھا آنسو بہا رہا تھا. جلال کچھ دیر خاموشی سے کھڑا ان کو دیکھتا رہا. پھر وہ اپنے خیمے میں گیا، زیورات کی پوٹلی اٹھائی اور جا کر گگلو استاد کے قدموں میں رکھ دی. اس سے پہلے کے استاد اس سے کچھ پوچھتا، جلال تیز تیز قدم اٹھاتا سرکس کے میدان سے نکل گیا
وہ بہت پریشان تھا. اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر عطیہ نے خود کشی کیوں کی. بیوقوف کو یہ نہیں پتہ تھا کہ عطیہ نے بالکل اسی وجہ سے خود کشی کی تھی، جس وجہ سے جلال نے گاؤں چھوڑا تھا. فرق صرف اتنا تھا کہ دل ٹوٹنے پر جلال نے صرف گاؤں چھوڑا تھا لیکن عطیہ نے تو دنیا ہی چھوڑ دی. دل دل کی بات ہوتی ہے. کچھ دل ٹوٹنے کا صدمہ برداشت کر لیتے ہیں، کچھ نہیں کرتے
جب اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو جلا ل نے واپس گاؤں جانے کا فیصلہ کیا. کچھ تو ماں کی یاد ستا رہی تھی اور کچھ رضیہ کو ملنے کی خواہش تھی. تھوڑے بہت پیسے تو جمع ہو ہی چکے تھے. سوچتا تھا کہ وہ پیسے رضیہ کو دے گا اور مزید کا وعدہ کر کے پھر شہر آ جائے گا
ویگن گاؤں کے باہر رکی تو ظہر کی اذان ختم ہو رہی تھی. جلال ویگن سے اترا اور تھکے تھکے قدموں سے چلتا ہوا گھر کی جانب چل پڑا. گلی میں داخل ہوا تو دیکھا کہ گھر کے باہر خوب رونق تھی. قناتیں لگی ہوئی تھیں اور دریاں بچھی پڑی تھیں. پورا گاؤں زرق برق کپڑے پہنے اکٹھا ہوا تھا اور ایک طرف سفید وردیاں پہنے بینڈ والے بھی کھڑے دھوپ تاپ رہے تھے
جلال کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ سب کیا ہو رہا تھا. اس کو دیکھ کر کچھ لوگ چونکے اور اس کو آواز دے کر بلایا مگر وہ سنی ان سنی کر کے گھر میں داخل ہوگیا
.ماں صدقے! آ گیا میرا نظر بٹو.’ ماں نے دیکھتے ہی بازو پھیلا دئے’
.اماں!’ جلال اور کچھ نہیں بول سکا اور متورم آنکھوں کے ساتھ دوڑ کر ماں کی گود میں ننھے بچے کی طرح سمٹ گیا’
.مجھے پتہ تھا تو ضرور آئے گا مگر تیرا باپ نہیں مانتا تھا.’ ماں نے اس کے بال سہلاتے ہوئے کہا’
‘اسی لئے میں نے تیرے لئے سنہری اطلس کی شیروانی سلوا کر رکھ لی تھی’
‘شیروانی؟’ جلال نے حیرت سے سر اٹھا کر ماں کی طرف دیکھا. ‘شیروانی کس لئے اماں؟’
.شہ بالا ہیں نا تو جمال کا.’ ماں نے مسکرا کر جواب دیا
‘جمال کی شادی ہو رہی ہے؟’ جلال کا دل کسی ان دیکھے اندیشے سے دہل سا گیا. ‘کس سے ہورہی ہے شادی اس کی؟’
.رفیق کریانے والے کی بیٹی رضیہ سے. تجھے تو پتہ ہی ہوگا نا بھائی کی محبت کا.’ ماں نے ہنستے ہوئے جواب دیا’
جلال کے کانوں میں تو سیٹیاں سی بجنا شروع ہوگیئں اور وہ لمحوں میں زندہ لاش بن کر رہ گیا. کب، کس نے اور کس طرح اس کو شیروانی پہنائی؟ کب اس کو جمال کے آگے بچوں کی طرح گھوڑی پر بٹھایا گیا؟ ہوش آیا تو تب جب بارات رضیہ کے گھر کے دروازے پر پہنچ کر رک چکی تھی. دولہا اور شے بالے کو گھوڑی سے اتارا گیا تو کب اور کیسے لوگوں کے درمیان سے جلال غائب ہوگیا، کسی کو خبر نہیں ہوئی
بارات کے پہنچنے کی گہما گہمی، نکاح کے چھوہاروں کی تقسیم میں لڑائی اور کھانے کے شورو غل میں کسی کو جلال کا خیال ہی نہیں آیا. کھانے کے بعد سب مل کر بیٹھے تو ماسٹر صاحب کو جلال کا خیال آیا. بہت ڈھونڈا پر نہیں ملا. تنگ آ کر بھولے مراثی نے ہی گانا گانا شروع کر دیا
اچانک ماسٹر صاحب کے کان میں کوئی عجیب سی آواز پڑی. انہوں نے غور سے سننے کی کوشش کی تو چہرے کا رنگ اڑ گیا
.چپ ہو جاؤ سارے. میں نے کہا چپ ہو جاؤ.’ ماسٹر نے پہلے آرام سے اور پھر چیخ کر کہا
شادی کے پنڈال میں سناٹا طاری ہوگیا. سب کان لگا کر سننے لگے. بہت ہی عجیب سی بات تھی. ابھی عصر کا وقت نہیں ہوا تھا لیکن کتوں کے رونے کی آواز آ رہی تھی
.توبہ! توبہ!’ ماسٹر جی نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا’
‘ایسا کبھی دیکھا نا سنا. کیسی نحوست بھری آواز ہے. بھلا بھری دوپہر میں کتے کہاں روتے ہیں’
واقعہ کچھ ایسا عجیب تھا کہ سب لوگ شادی کی مصروفیت بھول کر باہر نکل گئے کہ کتوں کے رونے کی وجہ تلاش کر سکیں. کتوں کی آواز گاؤں کے باہر سے ٹیوب ویل کی طرف سے آ رہی تھی لہٰذا مجمع اسی طرف چل پڑا. گاؤں سے باہر نکلے تو دیکھا کہ دور میدان میں، ٹیوب ویل کے ساتھ، بوڑھے برگد کے نیچے کتوں کا ایک غول بیٹھا تھا اور سر اوپر اٹھا کر با جماعت رو رہا تھا
لوگ کچھ اور قریب پہنچے تو دیکھا برگد کی ایک شاخ سے جلال کا بےجان لاشہ جھول رہا تھا
‘چک! چک!’ ماسٹر صاحب نے تاسف سے سر ہلایا. ‘لگتا ہے بیچارے نظر بٹو نے خود کشی کر لی’
.نہیں!’ مجمع میں سے مولوی صاحب کی آواز بلند ہوئی’
‘خود کشی نہیں کی ہے. جلال الدین کو بس خدا سے ملاقات کی اور اس سے کچھ پوچھنے کی جلدی تھی’
.خدا سے ملاقات؟’ ماسٹر صاحب نے حیرت سے مولوی صاحب کی طرف دیکھا’
‘کیا پوچھنا چاہتا تھا جلال خدا سے؟’
‘یہی کہ اگر خدا جلال سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا تھا تو اس کو نظر بٹو بنا کر کیوں پیدا کیا؟’
‘Golden butterflies are the people you love but whom you lose,’ the grandfather told his granddaughter, not knowing she was about to see her very first one. A poignant story exploring the profound relationship between a wise grandfather and his curious granddaughter as they wait together for rain on a stormy evening. Through their tender conversation about the “golden butterflies” – the old man’s metaphor for departed loved ones who return with each rainfall – the narrative delves into themes of mortality, memory, and the cycle of life and death. The grandfather’s gentle explanations about sadness, understanding, and the beauty found in loss create a touching meditation on grief and remembrance. This bittersweet tale captures the innocent wisdom of childhood confronting the reality of death, culminating in a deeply moving conclusion that transforms the granddaughter’s understanding of love and loss forever.
The sky was intermittently dark. Each period of darkness ended with a lightning flash. Each flash was succeeded by a deep growl up above in the belly of the clouds. The light breeze smelled of a subtle promise of rain.
The old man with his head full of bushy, silver hair, stood quietly in the verandah. His cloudy, brown eyes were open, but looked at nothing in particular. Instead, they were filled with the grey shadows of memories.
‘Grandpa! What are you doing outside?’ The little girl walked out in search of her old friend.
‘I am waiting for the rain, child.’ He looked at her, smiling with affection.
‘Why are you waiting for the rain, Grandpa?’ She was one curious child.
‘Because that is what old men do. They look at the grey skies and wait for the rains.’ He answered softly.
‘But it had been raining. It has just stopped.’ The girl motioned at the wet grass.
‘Yes, the rain has stopped, but it will come again.’ The old man said while looking up at the heavy clouds, ‘The giants are still here with their great bellies heavy with rain.’
The little girl looked up and scratched her head. Sometimes she failed to understand the apparently simple words of her loving grandfather. But still she loved him.
She loved his old man smell - the Old Spice aftershave and the bittersweet smell of pipe tobacco. She loved his old man face, with its countless deep lines and the bushy hair in bad need of thorough brushing. And she loved his old man talk, which was always full of memories and stories, and nostalgia.
‘Why do you love rain, Grandpa?’ She persisted.
‘Hmm!’ He thought for a while and then answered kindly, ‘Because they smell good, my dearest. They smell of wet earth and they smell of the circle of life.’
‘Yeah! They do smell of wet earth.’ She inhaled deeply. ‘But what do you mean by the circle of life?’
‘Once, many million years ago, the elements made love and water was born. The warmth of the sun killed the water, and its soul became the vapors. The vapors float upwards and finally reach the clouds. Then the clouds growl and breathe new life into the vapors, and the raindrops start falling. They fall, and the earth appears larger and larger with each yard that they fall. The drops fall onto the parched earth, and they form happy puddles. And finally, they wait for the rising sun to die and become vapors again. This is the circle of life.’ The old man narrated the tale slowly and deliberately, choosing the simplest possible words.
‘That’s sad, Grandpa. I don’t like death.’ The little one was quite sensitive for her age.
‘Death is not the end, child. It is the beginning of a new circle of life.’ He smiled. ‘The puddles evaporate. The vapors float back above and form clouds. Then it rains again. The circle is repeated.’
‘So they come back……….the raindrops?’ She asked excitedly, ‘They always come back. Don’t they?’
‘Oh yes, they do. They always do, child.’ He breathed with obvious relief at her happy excitement.
Both the old man and the little girl sat down on the wooden stairs and started waiting for the return of rain. He placed his hand protectively around his granddaughter’s delicate shoulders and drew her nearer.
‘Grandpa?’ She asked after a while.
‘Yes, child!’ He knew the question-and-answer session was not over. In fact, it was never over. But he knew she loved asking questions, and he loved answering her questions.
‘Do you love rains only because they smell of wet earth and the circle of life?’ She asked.
‘No.’ The old man smiled, ‘I also love rain because it brings along the golden butterflies.’
‘Golden butterflies?’ The little girl’s eyes started shining with interest. ‘What are golden butterflies? I have never seen one.’
‘Golden butterflies are the people you love but whom you lose somewhere on the path of life.’ The old man told her while caressing her shoulder softly. ‘Whenever it rains, the golden butterflies come flying along with the thick drops of rain. They play and dance in the rain, their golden wings gleaming with the moisture. And I watch them. In fact, I love the golden butterflies more than the rains.’
‘Why can’t I see them, Grandpa?’ She so wanted to see those magnificent creatures.
‘Hmm……!’ The old man searched for an answer, ‘Because you haven’t lost anyone yet, my love. But no matter how much I detest the fact, you will lose those whom you love. And they will all become golden butterflies.’
‘Does it make you sad or happy - looking at the golden butterflies?’ She asked.
‘A little bit of both, I guess. It makes me sad when I think of my loss. But it makes me happy when I think of the sweet memories we once made.’
For a few moments, they sat together in silence. Both were thinking of the golden butterflies and listening to the silence of the rainy night. The silence was thick. It was as thick as a slab of invisible butter. One could almost slice it with a blunt-edged knife.
‘Grandpa?’ The child gently pulled on his gnarled hand again after a while.
‘Yes, child!’ He patted her hand in return.
‘Have you ever observed that it grows very silent just after a rain?’ She looked up into his face and asked. ‘I mean, before the crickets start singing and before the fireflies begin their magic dance of lanterns?’
‘Yes, it always grows silent just after a rain.’ The old man looked far into the night. ‘Legend says that it rains when the gods weep up above in the skies. Maybe, silence is a mark of respect for the suffering of the gods.’
‘Do you really believe that, Grandpa?’ She smiled naughtily, and the old man chuckled softly in return.
‘No! Of course not, child. The gods never suffer. That is why they are gods.’
‘Then why does it fall silent just after a rain?’ She repeated her question.
‘I believe the silence is the world’s acknowledgement of the sadness of life.’ The old man said.
The little girl remained quiet. She did not understand the sentence, but she did understand sadness. She understood it through her grandfather. In her happy world, he was the only sad entity. But still she loved him because, despite his sadness, the old man never failed to love her.
‘Why are you sad, Grandpa?’ She asked him hesitatingly.
‘Because I have spent so much of my life, little one.’ The old man ran his fingers lovingly through her silky hair. ‘I have found out that life is sad. And with time, I have learnt to love sadness.’
‘Why do you love sadness?’ She asked, and her grandfather smiled. He was expecting this question.
‘Because sadness brings along understanding - the understanding of life and the purpose of life.’ He answered thoughtfully.
‘Why don’t you like happiness?’ She was always ready with another question.
‘I don’t like it because it dulls my senses and makes me numb to the pain of others, around me.’ He replied.
‘I don’t like happiness too.’ The little girl announced firmly.
‘Ha! Ha!’ The old man laughed and then grew serious, ‘First, you get all the happiness you deserve.’ He waved his index finger in front of her tiny nose. ‘Only then do you have the right to like or dislike it.’
Suddenly, a thick drop fell on the little girl’s forehead. She looked up. Rain was starting to fall again. She looked at her grandfather. He was looking up too. The lightning flashed and the thunder cracked. She moved closer to him for comfort. Thunder frightened her.
‘Grandpa?’ She asked in a small voice.
‘Yes, child!’ He answered while patting her little hand reassuringly.
‘Can you see the golden butterflies?’ She searched the rain-filled sky.
‘Oh yes! I can see them. I can see them all. They are all floating down, riding the thick raindrops and dancing in the rain.’ The old man said dreamily.
‘Is Grandma one of those butterflies?’ She asked.
‘Oh yes! She is the biggest golden butterfly of all - the shiniest and the most magnificent of all of them.’ He smiled sadly.
‘Say hi to Grandma from my side.’ She so wanted to see her, the most magnificent of all golden butterflies.
‘I will, child. I will.’ The old man said affectionately. ‘Now run back inside. Leave me alone with my golden butterflies.’
The little girl kissed the rough cheek of her grandfather and ran back inside. But before entering the door, she looked back at the old man. There he was, sitting under the pouring rain. The rain plastered his hair to his forehead, and the drops slid down his cheeks in torrents.
‘Grandpa?’ She shouted over the din of the falling rain.
‘Yeah?’ He answered without looking at her.
‘You know, I find rain very sad.’ She shouted, her eyes filling up with tears.
‘And why is that, little one?’ The old man’s question was almost drowned in the noise of the falling rain.
‘It is because rain hides your tears very well.’ She brushed her cheeks with the back of her hand and ran back inside.
It rained all through the night. For a while, the little girl watched her grandfather from the window. He kept sitting in the rain motionless. But he was smiling. She was almost sure of it. And she knew why he was smiling. He was watching his golden butterflies dancing in the rain. Then sleep came over, and she slept, dreaming of the love of her grandfather and the golden butterflies.
Morning came, and it was still raining. The little girl got up and looked outside her window. Her grandfather was still sitting where he was, the previous night. She hurriedly climbed down the stairs and ran outside.
The old man was almost sprawled on the stairs. His eyes were closed, but there was a most wonderful smile on his sleeping face.
‘Good morning, Grandpa!’ She lightly kissed his wet forehead. It was cold as ice.
‘Wake up, Grandpa!’ She shook his shoulder, and the lifeless body of the old man slid to one side.
The little girl knew something was horribly wrong. She thought of calling her mother. But something caught the corner of her eyes. It was floating above the rose bushes, gleaming in the rain. She looked closely and couldn’t believe her eyes. It was a golden butterfly - her first golden butterfly.
But the old man was wrong. The sight of the golden butterfly did not make her happy at all. Instead, it made her sad.
Once I was Ashastû – son of Darsha and a resident of the ancient city of Nishapur. Once I was a bird, imprisoned by a gilded cage. I was the follower of Mazdayasna and the worshipper of Ahura Mazda.
Like a butterfly, which once was a caterpillar, I was all that but no more. Now, I have become the bearer of the most ancient of all the legacies – the legacy of forgotten wisdom. This is the story of my transformation and my transition, from a caterpillar to a butterfly; and from the path of dark ignorance to the path of bright wisdom.
My family had been serving the grand temple of Nishapur since the times of the great Zarathustra. My father was amongst the most respected leaders of the Council of Mobeds. He was also the Chief Priest of the Temple of Fire and the Custodian of the Towers of Silence.
My father was kind and affectionate and wanted me to take his place one day, once it was his time to return to the lap of Ahura Mazda. But I was a free spirit – an eagle living under the shades of the great grey mountains. An eagle, who was waiting for his chance to ride the mighty shoulders of wind; and make his nest atop the summits of the snowy peaks.
Nishapur was not an ordinary city. This Persian city was the capital of the Province of Khorasan and attracted intellectuals and artisans from as far as Jerusalem and Taxila. The city was filled with gold and riches, thanks to the never-ending turquoise mines.
It was a tough and resilient city. It survived the raids of the rebels fighting the Sasanids and the Samanids. It survived the onslaught of the Tahirid and the Seljuq forces, and it also survived the devastation imposed by the Mongols. In fact, the city’s survival against the Mongols was nothing short of a miracle.
The devils from the Khanate in Mongolia slaughtered the entire population of the city within days. A few citizens including my family, saved their lives by hiding in caves, masked by the slopes of the Binalud Mountains. But something deep within the city’s carcass kept breathing; and after the fall of Khwarezmia at the hands of the Mongols, Nishapur kept on thriving under the Shiites. Along with the great cities of Balkh, Merv and Herat, it evolved into an intellectual, commercial and cultural gem.
Nishapur was a colourful city with a life of its own. But, with all its charms and knowledge and with all its riches and women, the city was unable to keep me chained to the feet of my father. I was waiting for my chance to fly away and my father knew this.
‘Ashastû! My son! You are going to get lost in the world out there.’ He used to say, gracefully attired in his flowing white robes.
‘Yes, father!’ I used to bow my head with a tiny and rebellious smile dancing around the corners of my lips.
‘Stay here with me and one day the spirits of our ancestors will bring peace to you.’
‘But the spirits live beyond the frontiers of space and time. Won’t they be able to bring peace to me wherever I am in this whole wide world?’ I used to tease him, feeling confident in the warmth of his paternal affection.
‘Do not exploit the love of an old man, Ashastû. I love you my son and would like you to stay here with me till the day I breathe my last.’ His moist eyes used to plead.
‘If you truly love me, Father….’ I used to beg in return, ‘…..you would let me go wherever I want to go.’
Then one day, a great caravan from Kashghar crawled like a great serpent through the grand city entrance. To the city of Nishapur and its countless dwellers, the caravan was nothing out of the ordinary. But for me, the caravan was the wind, the eagle within me was seeking. Once it left Nishapur a few days later, I was riding one of the camels, concealed by the grey and brown of an old tattered robe.
Once I left Nishhapur, I never looked back. It was my dream to see the world stretching beyond the horizon imposed by the mighty mountains. That world I saw with my eyes and felt with my heart. With each new journey, came a new adventure.
I carried along a copy of the Avesta, the collection of the Zoroastrian’s sacred texts. The ancient book, the obscure prophecies hidden within its disintegrating pages and my understanding of the verses, were all I had to earn my livelihood. I was willing to trade my religion for my survival.
The caravan followed the southern shores of the Caspian Sea and entered Azerbaijan. I smelt the salt-laden air kissed by the snow and peered into the grey eyes of the wild mountain women. I found the majesty of the icy peaks reflected in those eyes. The freedom of my soul fell in love with the freedom in those grey eyes. But I had to move on and I moved on, leaving a piece of my heart buried in the white snow.
The caravan moved through Armenia and then Georgia and reached the great city of Smyrna in Turkey. The captivating architecture and the minarets with their high spires lost within the white billowing clouds, stimulated my curiosity. The music of lyre and the smells of spices intoxicated my soul and incited my sensuality. I wanted to study the graceful curves of each marble dome and feel the textures of each sun-dried brick. But I had to move on and I moved on, leaving a piece of my soul tied to the pigeons of Smyrna.
The caravan moved through Babylon and Mesopotamia and then back into Persia. It crawled along the Persian Gulf and re-entered Khorasan. The caravan did not stop either at Kandahar or Ghazni except for a day or two, and kept moving until it reached the feet of the great Buddhas of Bamiyan.
Bamiyan awed me. The Buddhas, managing to look humble even in their silent grandeur, captivated my imagination. There they were, carved into the side of a great mountain, looking down on the wandering Hazara tribes. I used to sit on a rock facing the statues and think of Budhha – the Prince who abandoned the rich comforts of his palace in search of peace and wisdom.
I loved Bamiyan so much that when the caravan left, I stayed behind. But it was not my interest or curiosity in the Buddhas which made me stay in Bamiyan. Rather it was my dark fate, which perched upon a lonely ledge of the naked mountains; and stalked its ignorant prey. Then one day it dived down from the ledge. It hid her dark ugliness behind the sweet and lovely face of Zahran and introduced me to the yet alien feeling of love.
One summer morning in Bamiyan, I was sitting at my usual spot and was lost in a reverie. The day was bright and peaceful with a few soft clouds floating on the clear blue sky.
‘Who are you and why do you sit here every day?’ The gleaming steel of a delicate but firm voice neatly sliced the silence.
I slowly turned my neck and looked at my nemesis. There she was, riding the most beautiful horse I had ever seen. It was tall and had gleaming black satin skin stretched over wonderfully formed muscles. Its long mane was knit into braids, each tied with a small silver bell at the end, and the leather saddle and straps looked as soft as velvet and were dyed a dark hue of purple.
My gaze remained fixed on the delicately carved silver spurs attached to the black leather saddles for a moment and then climbed up slowly. My eyes traced the firm contours of muscled and well-toned shins and thighs. The rider had an excellent taste in clothes and her dark velvet apparel spoke of her high status.
My gaze finally reached the face where a pair of emerald eyes were staring at me with curiosity. Two bushy eyebrows stretched like scimitars over those lovely eyes. Nothing else was visible as a purple silk scarf covered her face.
‘I am Ashastû of Nishapur.’ I answered while getting up. ‘And who might be you my lady?’
‘I am Zahran.’ She briefly answered and kept staring at me.
‘Zahran who? Queen of the Dark Night or Guardian of the Golden Sunlight?’ I asked with a smile.
‘Zahran, the daughter and only child of Katib Ahang – the Chief of all Hazara tribes.’ She answered haughtily and then turned her horse and galloped away.
I kept on standing there for ages, my senses numbed by the fragrance diffusing the clear mountain air all around me. It was the fragrance of the night-scented jasmine and it seeped deep into my heart.
Zahran, who she might have been and what she might have been, became my destiny in a few fleeting moments. I forgot that I was a traveller. I forgot that I was away from my home and in a foreign land of strange customs and traditions. All instincts of safety and survival abandoned me and were replaced by the vision of two emerald eyes, peering at me from behind a silk scarf.
Of course, I had heard of her father, Katib Ahang – the cruel and despotic tribal chief of all Hazaras. Whoever spoke of him, spoke with a fear-inspired deference. I knew where he lived. It was a navy blue pavilion, the colour of the night sky, on which a silver flag waved at the mercy of the crisp mountain air.
From that day onwards, I sat in the same spot every day and at all hours, waiting for Zahran to return. I forgot all about the grand Buddhas and I stopped revelling in the sad majesty of the lofty mountains. Zahran became the centre of my universe. Her memory became the fire around which my mind circled like a moth. I breathed in her name and breathed it out. I was a man struck by the thunderbolt of love. I was a doomed man.
Days changed into nights and nights transformed back into days. The sun and the moon followed each other from horizon to horizon. Then one day, while I was sitting at my usual spot, something cold and wet fell on my head. I looked up. Snow had started falling. Winter had come to Bamiyan and with it came a freezing wind, chilling my bones. Zahran didn’t come but I kept on waiting for her.
It was an extremely cold morning when the gods chose to smile down at me. There was a harsh wind blowing from the North. But I was oblivious to all. I was sitting cross-legged, facing the Buddhas with my eyes closed and vision filled with the beauty of emerald eyes. Suddenly I heard the sound of hooves thudding upon the soft carpet of snow.
When I heard the tinkling of silver bells along with the sound of hooves, my heart leapt with joy. But I didn’t get up. Ashastû of Nishapur was in love but he was also patient.
‘Who are you and why do you sit here every day?’ Her voice still sounded the same – gleaming steel slicing the thick blanket of silence.
‘I am Zahran’s slave and I wait here every day for her.’
My heart had stopped beating in the anticipation of a response. But there was only silence. Finally, I decided to turn around. There on her tall horse, sat my beloved – clad in an ebony-coloured gown. Her emerald eyes were staring at me and through me, their green depths betraying nothing of what was going on in her mind.
‘I find you interesting – Ashastû of Nishapur.’ Zahran decided to speak.
‘Then I am the luckiest man on earth. Let death come and I will willingly embrace it for I have found all that I ever desired and all that I ever will desire.’ I approached the horse, placed my hand lightly on the reins and bowed my head.
‘One never finds all he desires. Don’t be absurd.’ Her eyes smiled at me.
‘One does if he learns contentment.’ I smiled back at her.
‘So, are you content, Ashastû?’
‘Yes, I am……now.’
She got down from the horse and we sat together on the boulder.
‘What do you desire most in the world?’ She asked, after a few moments of fragrant silence.
‘Interestingly, I always thought I desired freedom the most. But….’ I deliberately left my sentence frozen in the cold mountain air like an icicle.
‘But?’ She asked softly.
‘But that was before I met you Zahran. Now I desire you the most.’ I picked up some courage and delicately touched her hand.
She laughed at my answer and her laughter was the sound of silver bells riding the early morning air.
‘Ahh! Desire….the most temporary and fragile of all human feelings.’ She subtly pressed my hand back.
‘One moment, the desire overpowers us and intoxicates us with its heady perfume; and the next, it dissolves into nothingness, making way for the next desire. But if fulfilled, it transforms into the stink of regret.’
‘My desire for you is nothing like that. It is here to stay in my heart – forever.’
‘Forever?’ She laughed again. ‘Forever is a word that suits only our creator. We, humans, can just live in the moments and can only dream for a forever.’
We sat together for some time and then seeing a few horses leave her father’s camp, she hurriedly left. But that was not our last meeting. Instead, it was the first of many such meetings. Each time we met, I expressed my love and each time she brushed aside my submissions with laughter. But as steadily falling drops of water engraved and carved a stone, my words of love, slowly and gradually melted Zahran’s heart.
Seasons changed – winter gave way to spring and summer and autumn heralded the advent of another reign of harsh coldness. But our young hearts, warmed by love and passion, were oblivious to the cold winds raging outside.
Then one day, Zahran did not come. I waited and kept on waiting. First for a day, then for a few days and then for weeks. When a whole month passed and she didn’t come, I knew something was amiss. Without reflecting on the consequences, I decided to go check one evening.
The pavilion of Katib Ahang was not very far from where I lived. I approached it stealthily. It was dark in the valley but brighter than daylight around the pavilion. A thousand torches burned brightly, illuminating the lower expanse of the grand canvas structure.
The place was thickly manned by a battalion of menacing-looking sentries – some on foot, while the others rode tall horses. My heartbeat was throbbing in my ears and I could smell the stink of my raw fear. But still, the memory of a fragrance – Zahran’s fragrance, kept me steadfast.
‘Who goes there?’
‘Who moves like a thief amidst the shadows?’
‘Halt! Or you will be slain like a filthy pig.’
Suddenly, frantic and threatening cries halted my feet. My foolish presence had been detected.
In a few moments, I had been caught by the sentries and my hands and feet were bound tightly. They threw me into a dark dungeon. A few nights passed and no one interrogated me. The guards were silent as trees and my desperate queries were met only by cold eyes.
Then one morning, the dungeon gates were opened, and I was bound again and dragged to the Chief’s pavilion.
The pavilion indeed looked grander from the inside. The canvas was covered by maroon velvet embroidered with gold, while the high steel and bamboo pillars were decked with golden fixtures. The floor was strewn with Afghani and Persian carpets, so luxuriously soft that I found my toes digging for hold at each step. Towards the farther end of the pavilion and in front of a black silk curtain, sat the Chief.
Katib Ahang looked young for his age. His hair was still black and scattered on his wide shoulders. Beneath a wide forehead, two dark eyes glared at me, but not with malice. Instead, there gleamed a strange curiosity. If I was not wrong, there was even a hint of a smile on his thin lips. But that was all deception. He was rumoured to be wise yet cruel and fair to the point of strict rigidity.
Katib flicked his fingers and I was pushed forward. I could hear subdued snickering all around me. A stranger was definitely not welcome amongst that strange company. I was surprised to see women sitting amongst the men, not as subjects or objects, but as equals. I was aware that Hazara women formed part of the council of elders but I didn’t know that they participated in the court proceedings so openly.
‘Who are you and why are you here in Bamiyan?’ Katib Ahang inquired softly.
‘O’ mighty and noble chief of all Hazara tribes, I am Ashastû of Nishapur.’ I submitted in the humblest tone I could muster.
‘Well, that answers my first question. What about the second question?’ Katib’s voice rang with impatience.
‘I came to Bamiyan by chance. I stayed in Bamiyan by choice. And I remained in Bamiyan by a stroke of fate.’ I bent my head.
‘Nothing happens by chance for every occurrence has a reason. The choice is rational but fate is only what we make out of our circumstances.’ The Chief chewed on each word of his.
For a few moments, nobody spoke. Even the whispers and snickering had died down. All was silent in the court of Katib Ahang; while the Chief‘s steely gaze scrutinised me from head to toe and he scratched his short pointed beard.
‘What do you do for a living, Ashastû of Nishapur?’
‘I am a follower of Zarathustra and a believer in Ahura Mazda. I am a religious scholar and a seeker of eternal truth. I am a traveller and a lover of freedom.’ I raised my head, stared back into his eyes and answered confidently.
‘Hmm!’ He scratched his beard again. ‘What were you doing near my pavilion the night you were caught? There is neither any eternal truth nor freedom to be found here.’
I couldn’t find any words to answer that question so I stood in silence.
‘No answer eh?’ Katib’s voice mocked me. ‘Perhaps you are not a religious scholar and a seeker of truth, but only a common thief.’
‘I am no thief O’ mighty Chief.’ I protested. ‘But I am afraid of telling the truth.’
‘Truth is the only force that will set you free, Ashastû of Nishapur. Speak the truth and I will respect your words. Only if I find them free of the poison of deception. But if I find even a hint of cleverness and lies, I will have you quartered by four strong horses.’
For a while, we both kept staring at each other. I thought of many possible lies. Perhaps I could tell him that I had lost my way. That was believable and logical. Or I could tell him that I wanted to witness the grandeur of his pavilion first-hand so that I could go back and tell my countrymen of his magnificence and might. That could have flattered him surely. But then reason abandoned me and I decided to tell the truth.
‘I came here to search for Zahran, your daughter.’ My answer was the spark to the fuse of a cannon.
A cacophony broke out and there was even the sound of a few swords and scimitars being unsheathed. But I refused to look around and kept on staring at the Chief. The colour of his face changed to red for a moment. He almost got up from his throne and started to speak but then controlled himself and sat back.
‘Silence!’ Katib snarled and the chaos around us died down abruptly. ‘And why were you searching for my daughter?’
‘Because I love her and was worried about her absence. I feared that some sickness or malady had overcome her. But as I had no means of inquiring about her well-being, I decided to come check myself.’ I was growing fearless by the moment. Now that the truth was out in the open, I wasn’t afraid of death any more.
‘Are you crazy or mad? Don’t you fear for your life young man?’ Katib inquired while impatiently rubbing his hands.
‘He is neither crazy nor mad.’ Zahran’s beautiful voice rang out from behind the black curtain. ‘He speaks the truth, Father. He loves me and I love him.’
Katib was startled by Zahran’s answer. He looked at the curtain and then at me and then back at the curtain again. He looked unbelievingly at his council of advisers and ministers, all of whom looked equally startled and shocked. It was a strange day in the court of Katib Ahang. He gave me a final look of disbelief and then held his hairy head in his hands and shut his eyes.
‘Do you belong to an illustrious family – perhaps a line of ancient kings?’ The Chief raised his head and asked me. He looked old. Truth has that impact. It ages people.
‘No, I do not belong to a line of kings O’ mighty Chief of Hazaras. But my family is noble and I can trace my lineage back to the times of the great Zarathustra. My father is the Chief Priest of the Temple of Fire and the Custodian of the Towers of Silence in Nishapur. He is the Chief of the Council of Mobeds and is respected by the followers of all religions alike.’ I clasped my hands and explained with respect.
‘He is an infidel.’
‘He is the worshipper of fire.’
‘He dares to dishonour the Hazaras and our noble Chief.’
‘He should be killed.’
Chaos broke out in the court again.
‘Enough!’ Katib raised his hand and silenced the audience.
‘It is true that we are the people of one true faith. But it doesn’t mean that we do not honour the truth and the decisions of our women. Hazaras are noble not because of their lineage or race. We are noble because we honour truth and we honour our women. And one doesn’t honour women by taking away their right of choice; one honours women by respecting their decisions.’
I breathed a sigh of relief and gave myself a pat for sticking to my instinct.
‘But!’ Katib spoke again. ‘Zahran is no ordinary woman. She is the Princess of all Hazaras. For the honour of all Hazaras, she has a right to exercise her choice only if her choice proves his merit.’
‘I am ready for any test. I am even ready to give my life to prove my love for Zahran.’ I bowed my head.
‘I agree too. You can test him, Father, for I have an absolute confidence in my choice.’ Zahran spoke from behind the curtain.
‘You are a seeker of truth you say?’ Katib looked at me sternly.
‘That I am O’ mighty Chief.’ I was at my humblest.
‘Then give me the answer to these three questions and Zahran will be free to marry you.
What is God?
What is religion?
What are prayers?’
I listened to the three questions and processed them with unease. I looked up and saw that Katib was smiling.
‘But all these….all these are absolute questions and only absolute truths can answer these questions. Nobody can find absolute truths.’ I protested.
‘Even absolute questions can be answered satisfactorily, provided the answers are founded on reason and logic.’ The Chief waved his hand.
I nodded my head in agreement and that was that. The deal was struck.
The next morning, Zahran along with a few riders from her father’s guard bade me farewell at the borders of Bamiyan. I looked at her face and instead of tears, there was confidence lighting up her eyes. She knew and she believed in my capabilities. I had to prove myself worthy of her belief and confidence. With a heavy heart, I waved at her one final time and started climbing the mountain path.
I had nowhere in particular to go. I didn’t know where the answers could be found. But trusting some instinct deep inside my heart, I decided to travel towards the North.
My path was strewn with innumerable difficulties.
I crossed the lands of the wily Turks. They looked at my tattered clothes and mistook me for a Sufi. Nobody asked about my identity or religion. I passed through them unharmed.
I came across the cruel and bloodthirsty Uzbeks. Their marauding bands caught me and then released me, unable to determine my nationality. I passed through them unharmed.
I passed through the tribes of the Kazakhs. One look at me and the robbers knew I did not carry any valuables or money. They even took pity on me and I passed through them unharmed.
It was like some force of nature was guiding my path and protecting me against all odds and all harm. The swords froze mid-air while plunging down on my neck; and daggers seeking my blood were withdrawn at the last moment. When I was thirsty, I found sweet mountain springs; and when I was hungry, I found either game or kind villagers.
One day, while I was getting tired of following the endless curves of a mountain river, I reached the feet of a mighty mountain range. The stones and rocks were all shades of black, white and grey. About a few hundred feet up on the slope, there was a building made of blackened and aged wood and stone. It was two stories high and smoke rose out of its chimneys. I had reached a caravan sarai.
After many negotiations and pleas on my part, the owner of the sarai agreed to let me spend a few nights there; in return for my agreement to entertain the guests each night.
It was a strange place. I could see a hundred or so travellers, each having a different nationality and a unique set of features. This by itself was not strange. Caravan sarais are supposed to be melting pots of many cultures and nationalities. But what I found strange was that none of those guests was a tradesman.
There was a thin naked sadhu from Benares in India; his naked body glistening at all times with the fat of dead animals and sometimes smeared with ash. I was fascinated by the markings on his forehead and his knotted hair and yoga asanas.
There was a young woman with flaming red hair; her green eyes betraying her Nasrani ancestors. The owner of the sarai called her a witch; an accusation which she neither denied nor confessed to. I was entranced by the fluid way in which her body gyrated, while she danced to the strange beat of some invisible music.
There was a Tibetan Buddhist monk; his head as bald as eggshell and his face filled with lines deep with age and experience. I marvelled at the sea of calmness reflected in his expressionless eyes and his slow deliberate way of doing each routine task as it was some mystic ritual.
And then there was a shaman from some unknown lands; his long hair adorned by the most marvellous-looking feathers of exotic birds. I was captivated by his deep guttural incantations and his throat singing, which resonated with something deep inside me.
One night, I was sitting by the fire burning in the middle of the sarai’s courtyard – huddled in my tattered blanket and unable to sleep. Suddenly, I felt someone staring at me and looked around. Everyone was either busy or asleep. No one was interested in me. But the feeling of being stared at, persisted strongly.
I closed my eyes and the wise words of my far-away-father, echoed in my ears:
‘When there is a sensory perception but you cannot find its origin, close your eyes and regulate your breathing. Breathe in and breathe out. Cancel out the noise of the world around you. Slowly and gradually, the origin will reveal itself to you.’
I regulated my breathing. Then ten breaths in and ten out – each of equal duration. When the world fell silent around me, I opened my eyes. I again searched the shadows and finally was successful in sensing a movement. I focused onto it and slowly, the shadows transformed into a definable physical shape and the Shaman stepped out of the darkness and approached me.
He wasn’t walking. Instead, he was dancing. He was taking slow deliberate steps – two forward, one back, two forward, one sideways and then again two steps forward. Nobody around us was playing any instrument but I thought I could hear the weeping of the lyre and the beating of the unseen drums. I looked at him, totally entranced.
The Shaman came closer and started dancing around me. He completed one circle around me and then another in the opposite direction. But all that time, his half-closed eyes remained fixed on me. Then suddenly he stopped and raised his right hand in the hair. My eyes followed the direction his index finger was pointing in. There, in a window on the top floor of the sarai, stood a woman with the palest and most featureless face I had ever seen. Her long hair fanned her shoulders. She was looking at me intently. Then she raised a hand and motioned at me to join her.
I had never seen that woman at the sarai before that moment. She was probably a new guest. I wanted to ask the Shaman about her, but he had vanished – dissolving like smoke in the night air. I looked around and searched the shadows. He was nowhere to be found.
Scratching my head in confusion, I got up, adjusted the blanket around my shoulders and entered the building. The owner was sitting behind a stone counter, busy doing some calculations in the weak lamp light. Sensing my presence he looked up and stared at me questioningly.
‘I have been summoned.’ I offered confusedly.
‘By whom?’ He sounded almost bored.
‘By a woman.’
‘There is no woman in the sarai. The witch was the only woman and she left this morning for the Lake of Grey Shadows.’ He chuckled softly.
‘I saw an old woman standing in a window.’ I insisted.
‘Well! We see what we want to see and not what is there to see. Go on then. Go see what the woman wants.’ He waved his hand at me disinterestedly and bent his head to his figures again.
I grabbed a burning torch from a wall and started climbing the dark stairs. The top floor was all dark and quiet. All the doors were closed shut and looked the same. However, one was different from others. While all others were made of dark wood, this particular door was made of some strange metal which glowed in the dark. Rather, while the door itself provided a dark background, certain carvings on it pulsated with a strange glow.
I looked at the carvings closely. They looked vaguely familiar. I moved back a little and then suddenly I understood. Those were not random carvings. Instead, from a certain angle and when viewed in totality, they formed a symbol. It was the figure of a bearded and crowned man with spread wings.
The symbol was not alien to me. It represented Faravahar, a significant symbol of my religion, which represented many different things like sins, virtues, loyalty and faith. But above all it represented truth.
I took a deep breath and knocked softly on the door. The moment my knuckles touched the door, the glowing lines of the symbol rearranged themselves into figures. Those were all awful figures. There were souls writhing in agony and tortured spirits begging for mercy. For a moment I was startled, but then I comprehended what was meant by it.
It was the door to the truth but truth is the most torturous of all revelations. It comes with a heavy price – the price that has to be paid in coins of anguish and misery. I asked myself if I was really ready to pay that price. Something inside me was convinced that whatever I sought, was to be found beyond that door. I thought of the sweet face of Zahran and her magical emerald eyes. I took another deep breath and knocked again. The glowing lines extinguished abruptly like a flame snuffed between two fingers and the door went dark. I knocked for the third time.
‘Enter!’ A quavering voice commanded from beyond that door and the door opened by itself.
From the threshold, all looked dark inside. But the moment I closed the creaking door behind me, the room lighted up.
It was a small room not unlike others in the Sarai, but far more decorated and rich with hanging tapestries. The walls were covered by dark heavy folds of blue black velvet, adorned with ornate drawings and writings in gleaming silver. There was a wolf’s skin, complete with the snarling jaw and sparkling beady eyes, lying in the middle of the floor. There was a bright warm fire lit in the hearth and someone was sitting facing the fire.
It was a small hooded figure – most probably the old woman who beckoned at me from the window. She was wearing a deep purple silk gown, but the rich colour was fading fast with age. But even within the folds of fading silk, intricately woven and embroidered dragons and other mythical beasts were visible.
‘Come sit down with me.’ The woman patted the small wooden stool at her side without looking at me.
‘Who are you?’ I sat down and tried to look at her face. But it was hidden by the fall of the silk gown.
‘I am the weeping wind in the willows,
which sighs and passes into silence’
Her sing-song voice rose like a lament.
‘I am the weeping wind in the willows,
which sighs and passes into silence
I am the song of the grasshoppers,
which comes after the rains
I am the bright sun of joyous life,
which seems to shine eternally
And I am the pale moon of death,
which comes after the sun has set
I am what was and I am what is;
and what will be and what could have been
I am the riddle and I am the answer,
I am the woman in the porcelain mask.’
With the last words she looked at me and I was startled. There was no face. Under the crown of magnificent silver hair, there was an expressionless and delicate white mask of porcelain, covering all her features. She was old – of that I was sure. But how old? I had no means to assess her age.
‘I haven’t understood any of what you have said.’ I humbly confessed my failure.
‘You will understand.’ Her voice told me she was smiling underneath that mask. ‘You will understand all at the right time. Not before that and not after that – but only at the right moment.’
‘But who are you?’ I asked respectfully asked.
‘I was once a princess of the Song Dynasty. When the Mongols attacked China, I was a prized catch. Kublai Khan took one look at me and his heart surrendered to me forever. I became one of his many beloved wives. With time I learnt to overcome my hatred for the Mongols – the killers of my noble family.’
She fell silent and started prodding the dying flames. The sparks hiding beneath the ash resurfaced with a fury and the room was warm again.
‘Alas! Life is a series of sorrows separated by a few small joys. One day when I was travelling with a caravan to join my husband on one of his hunting expeditions, I was kidnapped by the Hashisheen.’
‘Hashisheen?’ I asked. The term was strange to me.
‘Yes, Hashisheen – the crazy followers of the Old Man under the Mountain. They were a fearsome lot. The Old Man, Hassan bin Sabah and his mad followers, had created a force of chaos. Theirs’ was the power of death and the instruments of death were a band of young men – all blinded by visions of heaven and hell.’ She answered without looking at me and then suddenly shivered as though the memory of some dark place was still haunting her senses.
‘Visions of heaven and hell? How did the Old Man manage that?’ I was surprised.
‘Hasheesh is a strange drug. It dulls the senses and makes you see visions in the smoke. Besides, the heaven and hell were real. I was myself one of the houris of that heaven. One look at our naked bodies and the boys were ready to kill just to have another look.’
Suddenly a wailing chant from the courtyard disturbed our conversation. It was the Shaman. The old woman stood up and went to the window. She stood there watching the shaman for a while; and then raised her right hand and said sternly:
‘Be quiet you fool. Your job is done. Go find a dark corner and rest in peace.’
With these commanding words, the Shaman stopped chanting and silence ruled the night air once again. She turned back and walked back to her place by the fire.
‘Enough about me.’ She said staring at me. ‘Now ask the questions you are seeking the answers to.’
‘Questions?’ I was startled. ‘But how do you………?’
‘Don’t be a fool. Ask the questions before the night turns into day.’ She raised her hand and silenced my query.
‘The first question………’ I scratched my chin. ‘What is God?’
‘Are you familiar with the ancient Greeks?’ She asked.
‘Yes, somewhat.’ I couldn’t grasp the tangent our conversation was following.
‘Archimedes was a famous Greek philosopher and scientist. Once when asked to launch the naval fleet, he asked the King of Syracuse to pull at a string lightly. When the King pulled that string, a great system of cleverly designed pulleys and levers moved and the whole fleet was launched in one go.
What can you not do – O’ great and wise Archimedes? The King asked in awe.
Everything can be done. Archimedes smiled. Give me a place to stand and I shall move the world.
The old woman fell silent and I looked at her expectantly.
‘Well….so?’ I asked impatiently.
‘So, Ashastû of Nishapur!’ She was smiling again. I could sense it.
‘God is the place where we have to stand in order to move the world. God is the constant in all equations. This constant has to be incorporated in order to understand the relationship between the variables. God is not biologically significant. He is philosophically relevant and rather a compulsion.’
‘So the belief in God is a must in order to understand the world?’ I asked.
‘Yes, God is the path you walk on – the only path to truth.’
‘The second question….?’ I looked at her hesitatingly and waited for her permission.
‘Yes please.’ She patted my knee with her bony hand reassuringly.
‘What is religion?’ I asked.
Hearing my question, the woman fell silent again. She again got up and walked to the window. Lightening was illuminating the distant peaks and the far-away thunder was a muffled roar. Then she turned towards me and spread her arms wide. She looked like a priestess of the heathens – her silver hair spread across the silk-clad shoulders and the white porcelain mask illuminated by the light of the flames.
‘Listen Ashastû of Nishapur, all religions are the same. I was brought up a Buddhist and was then taught Taoism . I lived amongst the Mongols and learnt of their great religion of Shamanism; and I also witnessed the conversion of Kublai Khan to Islam. Then when I was abducted by the Hashisheens, I learnt of many other religious doctrines and styles. There were Christians and Jews and even Hindus amongst us.’
‘But…’ I protested, ‘Zoroastrianism is the one true religion.’
The woman laughed and her brittle laughter shattered the stillness of the peaceful mountain night.
‘Tell me Ashastû.’ Seeing my obvious discomfort, she took pity on me. ‘Are you familiar with the story of the Angra Mainyu from your religion?’
‘Yes!’ I excitedly answered. ‘The architect of destruction, the King of all demons and noxious creatures and the opposite of Ahura Mazda.’
‘And is your Angra Mainyu any different from the Christian concept of the devil or the Islamic concept of Shaitan? Or is your Ahura Mazda any different from the Christian God, the Islamic Allah and the Jewish Ellohim?’
‘All religions are the same. They talk about similar concepts: judgment after death; free will; and heaven and hell. Man needs to believe in a higher power and higher system of judgment for his own psychological security. Man wants to commit sins with a belief in forgiveness; and wants to ward off the consequences of his actions.’
The woman fell silent leaving me trying to somehow restitch my badly tattered beliefs.
‘I am ready to answer the third question.’ The woman had very little patience for my uncomfortable silence.’
‘The third question – what are prayers?’ I asked.
‘Do you pray and are your prayers answered?’ The woman asked me.
‘Yes!’ I excitedly nodded my head. ‘Whenever I pray with a focus and I really desire something or someone, God answers my prayers.’
‘That is indeed admirable?’ She smiled at me. ‘But does God answer your prayers, when you yourself, do not move or act?’
‘No!.’ I thoughtfully replied. ‘I have to make an effort.’
‘So who answers your prayers – is it God or is it your prayers?’
‘From the perspective of faith, I would like to believe that it is God who answers my prayers. But from the perspective of reason and logic, I believe it is my efforts which make my prayers come true.’
‘I am not negating your belief in God.’ The woman patted my knee kindly. ‘What I am trying to make you see is that your own efforts are responsible for the fulfillment of your prayers.’
‘But what about God’s role then?’ I persisted.
‘Perhaps He blesses your prayers. Perhaps He gives you a push in the right direction. Or perhaps, He simply doesn’t care or perhaps He doesn’t want to interfere with the carefully-balanced system that He has created. We do not know for sure’.
A wolf howled at the moon somewhere in the valleys. I looked outside the window. The East was turning pale. Morning was approaching fast.
‘Quick!’ The woman raised her hand. ‘Ask the final question and begone.’
‘The final question?’ I was surprised. ‘There is no final question. I had only three questions and all have been answered.’
‘They weren’t your questions Ashastû. Those were the questions of your lover’s father. Search your heart. You still have a question left.’
I bent my head down and closed my eyes. I looked inwards and thought of my life. I thought of my old father and my many journeys. And I thought of the sweet face of Zahran. I knew what I wanted to ask.
‘What is love?’ I raised my head and opened my eyes slowly.
‘Yes!’ She sighed contentedly. ‘What is love?’
‘Love is not desire and love is not the destiny. Instead love is a path to knowledge.’
‘Then knowledge is the destiny?’ I asked.
‘No. There is no destiny. Knowledge comes with walking on the path. It comes with each step. Love is only the instrument to reach understanding. Once understanding comes, love’s task is done.’
I bent my head again in contemplation. The woman was strange but she was right. I tried to think of Zahran but her sweet face was fast dissolving into a sphere of light. I opened my eyes to thank the strange woman, but there was nobody there. The room was empty. Only her porcelain mask was there – placed carefully on the stool on which she was sitting.
The court of Katib Ahang was in order. He sat on his throne – the very picture of a worried father. Zahran was not fine at all. She was sure some misfortune had befallen her lover. Katib did everything to divert her attention. He arranged dark magicians from the East and exotic dancers from the West. But nothing worked.
‘Your majesty!’ Katib looked up. An old servant was standing in front of the throne, holding a small piece of parchment in his hand.
‘Yes?’ He asked.
‘A raven brought this message today. It has all the answers to the questions that you asked that Zoroastrian scholar.’
Katib eagerly grabbed the parchment and read it from top to bottom.
‘Bravo! The scholar has answered all the questions correctly and has even provided the answer to a fourth question that I never asked.’ He proclaimed loudly.
‘What is the fourth question father?’ Zahran suddenly tore open the black silk curtain and stepped outside. Her face wore a mask of anguish.
‘The fourth question is…….’ Katib read the parchment. ‘What is love?’
‘And what is the answer father?’ She asked, while rubbing together her beautiful hands in anguish.
‘Love is not desire and love is not the destiny. Instead love is a path of and to knowledge. Knowledge comes with walking on the path. It comes with each step. Love is only the instrument to reach understanding. Once understanding comes, love’s task is done.’ Katib read each word deliberately.
‘Ahh! My Ashastû is no more.’ Zahran exclaimed and fell down on the rug, clutching her delicate heart.
Hundreds of miles away from Bamiyan and the court of Katib Ahang, I opened up my eyes. It was true that Ashastû was no more. He had become the Man in the Porcelain Mask.