محبت، انتظار اور سرخ گلاب

33fc3b2ef4a48f5311be5b43b0e06db2

میں محبت کے لئے قربانی نہیں دے رہا ڈاکٹر صاحب.’ ثاقب اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہا، ‘میں صرف محبت کر رہا ہوں، صرف محبت. قربانی انا کے پجاری دیا کرتے ہیں، محبت کرنے والے نہیں. اور انتظار تو خدا صرف خشقسمتوں کو نصیب کرتا ہے.’ ثاقب نے نم آنکھوں مگر ایک نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور برآمدے کی سیڑھیاں اتر کر بارش بھری رات میں جذب ہوگیا

میں نے اس بے لوث محبت کرنے والے کو جاتا دیکھا، جس کی زندگی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو چکی تھی،جو خوشیوں کے حصول سے پہلے ہی لٹ چکا تھا.مگر پھر بھی اس کا حوصلہ بلند تھا اور امید زندہ تھی. شاید محبت یہ ہی ہوتی ہے. مایوسی کی اندھیری رات میں دور جلتے دیے کا کام دیتی ہے. دیہ جلتا رہے تو محبت کرنے والے سفر کرتے رہتے ہیں. دیے تک پوھنچنا ضروری نہیں لیکن دیے کا جلتے رہنا ضروری ہے

میں نے اپنی آنکھیں پونچھیں اور برآمدے میں لگی بید کی کرسی پر بیٹھ کر اندھیری رات میں برستی موسلا دھار بارش دیکھتا رہا. پھر احساس ہوا کے آنکھوں کے سامنے ناچتی دھند بارش کی نہیں، میری آنکھوں سے آنسو اب بھی بہ رہے تھے

میں قریباً ایک سال سے لاہور میں جیل روڈ پر واقعہ ذہنی معذوروں کے اس ہسپتال میں تعیینات تھا. ڈاکٹر بننے کے بعد جب میں نے سائکیٹری کا شعبہ چنا تو دوستوں نے بہت سمجھایا کے: ‘پاگلوں میں رہ کر پاگل ہو جاؤ گے اور پیسے کے نام کو ترس جاؤ گے’. لیکن میری آنکھوں کے سامنے تو لالہ رخ کا چہرہ تھا. خوبصورت، حسین، کتابی مگر ہر احساس، ہر جذبے سے خالی. وہ میرے پڑوس میں رہتی تھی مگر شاید یہ کہنا بہتر ہوگا کے اس کی روح کہیں اور رہتی تھی لیکن وجود میرے پڑوس میں رہتا تھا. پچیس یا پھر چھبیس کا سن تھا. اونچا لمبا قد، لمبے گھنے کالے بال، گورا شہابی رنگ، کالی گہری کٹورا آنکھیں اور ہاتھوں میں تھامی پنسل اور سکیچ بک. سارا دن اپنے گھر کے صحن یا لان میں چہل قدمی کرتی رہتی یا پھر بوگن ویلیا کی بیل تلے رکھے پتھر کے بینچ پر بیٹھی پتہ نہیں کیا سوچتی رہتی. دھوپ، بارش، سردی، گرمی……ہر موسم میں وہ باہر ہوتی

جب میں نے پہلی دفعہ اس کو دیکھا تو وہ موسلا دھار بارش میں بھیگتی، قونیہ کے درویشوں کی مانند گول گول چکّر لگا رہی تھی اور اس کے پاؤں بارش کے اکٹھے ہوئے میلے پانی میں چھپاکے لگا رہے تھے. وہ گھومتی رہی اور میں اسے دیکھتا رہا. حتکے مجھے یہ لگنے لگا کے جیسے لالہ رخ ساکت تھی اور دنیا گھوم رہی تھی، اس کے ارد گرد طواف کر رہی تھی. پھر اس نے گھومنا بند کیا اور لان کی کیاریوں میں کھلے، بارش میں بھیگتے سرخ گلابوں کو چومنا شروع کر دیا. عجیب لڑکی تھی. اس کے بعد تو پھر غضب ہوگیا کیونکہ نا جانے کیوں وہ زمین پر بیٹھ گئ اور آسمان کی جانب سر اٹھا کر دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا. اب میں کیا بتاؤں آپ کو کے وہ کتنا تکلیف دہ منظر تھا. میں بچہ ہی تو تھا، اتنا درد دیکھنا مجھ سے برداشت نہیں ہو سکا تو میں نے کھڑکی بند کر کے پردے آگے کھینچ دئے اور بستر پر الٹا لیٹ کر اپنا سر تکیے میں چھپا لیا. مگر لالہ رخ کی آہ و پکار میرے کانوں کے پردوں پر تازیانے برساتی رہی

میں عمر میں اس سے تقریباً پندرہ سال چھوٹا تھا لہذا محبت کا تو شاید کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا لیکن مجھے وہ اچھی لگتی تھی. بارش والے دن کے بعد میں اکثر اس کے گھر کے لکڑی کے رنگین ڈبوں والے گیٹ کے پیچھے چھپ کر اسے دیکھتا رہتا. پھر ایک دن میں نے اس سے ملنے کی جرأت کرہی لی. وہ بینچ پر بیٹھی نا جانے خلاء میں کس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی. مجھے اس کا موڈ اچھا لگا اور میں نے جان بوجھ کر ہاتھ میں پکڑی ٹینس کی پیلی گیند اس کے لان میں اچھال دی تاکہ مجھے اندر جانے کا بہانہ مل سکے. بال لڑھکتی لڑھکتی لالہ رخ کے پاؤں سے ٹکرا کر رک گئی. اس نے چونک کر نیچے دیکھا اور بال اٹھا لی. میں نے آہستہ سے گیٹ کو دھکّا دے کر کھولا اور اندر داخل ہو گیا 
.جی السلام و علیکم……..!’ میں نے پاس پوھنچ کر نہایت ادب سے اسے سلام کیا’
یہ تمہارا ہے؟’ اس نے میرے سلام کو کوئی لفٹ نہیں کرائی اور بال میری طرف بڑھا کر کسی قدر خفگی سے اور ہونٹ دانتوں سے کترتے ہوے پوچھا 
.جی سوری! غلطی سے آپ کے گھر میں آ گیا.’ میں اس کی خفاء خفاء نگاہوں سے کچھ پریشان سا ہو گیا’

وہ کچھ نا بولی اور میری آنکھوں آنکھوں ڈال کر دیکھتی رہی. عجیب پراسرار آنکھیں تھیں. اپنی طرف کھینچتی بھی تھیں اور ڈوبنے بھی نہیں دیتیں تھیں. میں نے غور سے دیکھا تو مجھے اس کی آنکھوں میں دور کہیں ایک وحشیانہ الاؤ بھڑکتا نظر آیا جیسے افریقہ کے گھنے جنگلوں میں آگ لگی ہو، بے قابواورسب کچھ جلا کر راکھ کر دینے پر تیار آگ. عجیب بات یہ تھی کے آنکھوں میں جلتی آگ کے برعکس اس کے چہرے پرقطبین کی طرح ایک ٹھنڈا برفانی سکوت طاری تھا. مجھ سے زیادہ دیر برف اور آگ کی جنگ برداشت نا ہو سکی. میں نے اپنے گیند کو دل ہی دل میں ہمیشہ کے لئے خدا حافظ کہا اور واپس جانے کے لئے مڑا
.سنو!’ اچانک اس کی آواز نے میرے پیروں کو جکڑ لیا’
.جی؟’ میں نے مڑ کر سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا’ 
.یہ گیند تمھیں بہت اچھا لگتا ہے؟’ اس نے بال کو اپنی مخروطی انگلیوں میں گھماتے ہوے پوچھا’
.جی بہت اچھا لگتا ہے. یہ میں نے عیدی کے پیسوں سے خریدا تھا.’ مجھے بال واپس ملنے کی کچھ کچھ امید ہو چلی تھی’
.کیوں اچھا لگتا ہے؟’ اس نے بد ستور بال سے کھیلتے ہوئے پوچھا تو مجھ سے کوئی جواب نہیں بن پایا’
.عجیب لڑکی ہے. یہ بھی بھلا کوئی پوچھنے کی بات ہے.’ میں نے دل میں سوچا’
اچھا لگتا ہے تو چھوڑ کر کیوں جا رہے تھے؟’ میں تب بھی نا بول پایا تو وہ بولتی چلی گیئ: ‘دیکھو، ابھی تم چھوٹے ہو لیکن جلد ہی بڑے ہو جاؤ گے. یوں ہی اپنی پسند کی چیزوں کو چھوڑتے چلے جاؤ گے تو ایک دن خالی دامن میں پچھتاووں کے علاوہ کچھ نہیں رہے گا.’ اس نے یہ عجیب وغریب بات که کر ایک مغموم سی مسکراہٹ کے ساتھ گیند میری طرف اچھال دی 
جی بہت شکریہ!’ میں نے مہارت سے بال کیچ کرتے ہوے کہا لیکن اس کی مسکراہٹ دیکھ کر میرا دل وہاں سے جانے کو نہیں کر رہا تھا 
.آپ کو کیا اچھا لگتا ہے؟’ میں نے ڈرتے ڈرتے بات آگے بڑھائی’
مجھے؟’ اس کے چہرے پر ایک لمحے کو حیرانی پھیلی مگر پھر اس نے گلاب کی جھاڑیوں کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوے کہا: ‘مجھے پھول اچھے لگتے ہیں. سرخ گلاب کے پھول. نرم اور مخمل کی پنکھڑیوں سے سجے مگر کانٹوں کی چبھن کے ساتھ. اور مجھے تصویریں بنانا اچھا لگتا ہے.’ اس نے بڑے ہی پیار سے اپنی سکیچ بک پر ہاتھ پھیرا جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو سہلا رہی ہو. ‘تصویریں میرے تخیّل کو زبان دیتی ہیں اور رنگ میرے احساسات کا لباس ہیں
آپ کو بارش میں نہانا بھی تو اچھا لگتا ہے نا؟’ چونکہ تخیّل اور احساسات میرے لئے مشکل الفاظ تھے تو میرے منہ سے بیلخت یہ سوال نکل گیا. ‘مجھے بھی بہت اچھا لگتا ہے بارش میں نہانا’. میں نے اپنے سوال کے بےتکے پن کو سمبھالنے کی کوشش کی 
اس نے چونک کر میری طرف دیکھا اور چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ ایک تیوری نے لے لی. مجھے بالکل یوں لگا جیسے سردیوں کی دھوپ کالے بادلوں کے نرغے میں پھنس گئ ہو. اس کے مزاج کی اس تبدیلی کو دیکھ کر میرے اوسان خطاء ہو گئے 
تم…..تم ہوتے کون ہو مجھ سے میری پسند نا پسند پوچھنے والے؟’ وہ غصّے میں اپنی جگہ کھڑی ہوگئ. ‘جاؤ دفع ہوجاؤ یہاں سے اور آئندہ کبھی بال یہاں آیا تو واپس نہیں کروں گی’. اس نے تقریباً چیختے ہوے کہا. میں نے اپنی عافیت اسی میں سمجھی کے وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا جائے

اس دن کے بعد سے میں لالہ رخ سے بہت ڈر گیا تھا مگر اچھی مجھے وہ تب بھی لگتی تھی. پھر ایک دن جب میں اپنے کمرے میں بیٹھا اسکول کا ہوم ورک کر رہا تھا تو باہر سے لالہ رخ کی چیخوں کی آواز سنائی دی. میں نے دوڑ کر کھڑکی کھولی. باہر جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کے سامنے اپنے گھر کے لان میں گھاس پر بیٹھی لالہ رخ پچھاڑیں کھا رہی تھی اور قریب اس کا بوڑھا باپ اور مالی کھڑے افسوس سے ہاتھ مل رہے تھے 
میرے پھول اجڑ گئے ہیں. میرا جمشید دور چلا گیا ہے.’ لالہ رخ گلاب کی کٹی جھاڑیوں کے ڈھیر کے سرہانے بیٹھی تھی اور اس کی ہچکیاں بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں 
کوئی بات نہیں بیٹے، کوئی بات نہیں. میں نے مالی کو بتا دیا ہے. تھوڑے مہینوں میں نئی جھاڑیاں اگ آیئں گی.’ بوڑھے باپ نے لالہ رخ کا سر تھپتھپاتے ہوئے تسلی دی
.مہینے؟ اتنے دن میرا جمشید کیا کرے گا؟’ لالہ رخ نے بدستور روتے ہوئے کہا’ 
لالہ رخ کی جمشید والی بات تو میری سمجھ سے بالا تر تھی مگر اتنا میں سمجھ چکا تھا کے کسی وجہ سے اس کی گلاب کی جھاڑیاں تباہ ہو چکی تھیں. مجھے بہت افسوس ہوا 
.بیچاری!’ میں نے دل ہی دل میں سوچا، ‘ایک ہی تو چیز اچھی لگتی تھی. وہ بھی برباد ہو گئ’

اس دن لالہ رخ کے آنسو دیکھ کر میں نے ایک فیصلہ کیا. میرے گھر کے قریب سے لاہور کی مرکزی نہر گزرتی تھی جس کے ساتھ چلتی چوڑی چکلی گرین بیلٹ میں محکمہ انہار نے پھولوں کی بے شمار کیاریاں لگایئں تھیں جن میں گلاب کی بھی جھاڑیاں تھیں. میں نے سوچا کے جب تک لالہ رخ کے لان میں دوبارہ گلاب نہیں اگ آتے، میں اس کے لئے گلابوں کا بندوبست کروں گا. لہٰذا میں روز صبح اسکول جانے سے پہلے اٹھتا، نہر کے ساتھ کی گرین بیلٹ سے گلاب اکٹھا کرتا اورایک گلدستہ بنا کر چپ چاپ لالہ رخ کی بینچ پر رکھ دیتا. اگلے دن بینچ پر پڑا پرانا مرجھایا گلدستہ اٹھاتا اور نیا رکھ دیتا. ایک ہفتہ یہ ہی کام چلتا رہا. لیکن لالہ رخ گلدستے کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے یا نہیں؟ کیا اسے پتا ہے کے گلدستہ کون رکھتا ہے؟ ان سب سوالوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا. پھر چھٹی کا دن آ گیا اور میں نے روز کی طرح گلاب اٹھا کر ایک گلدستہ تو بنایا لیکن بینچ پے نہیں رکھا. میں نے سوچا جب لالہ رخ باہر نکلے گی تو میں خود جا کر اسے گلدستہ دے دوں گا. ڈر بھی بہت لگ رہا تھا لیکن مجھے امید تھی کے وہ مجھ سے گلدستہ لے کر بہت خوش ہوگی. انتظار کرتے کرتے دن نکل آیا اور خدا خدا کر کے لالہ رخ باہر نکلی اور سیدھی بینچ کی طرف بڑھ گئ. اس نے بے چینی کے ساتھ گلدستہ تلاش کرنا شروع کر دیا. کبھی نیچے ڈھونڈتی، کبھی اوپر. پھر جب مایوس ہوگئ تو آسمان کی طرف دیکھتے ہوے سسکنے لگی. میں گیٹ کے پیچھے چھپا سارا تماشہ دیکھ رہا تھا. لیکن جب اس نے رونے کی تیاری شروع کی تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا اور میں گیٹ کھول کر اس کے پاس پہنچ گیا
یہ آپ کے لئے گلاب کے سرخ پھول.’ میں نے اس کی طرف مسکرا کر گلدستہ بڑھایا لیکن جیسے ہی اس کی نظریں گلدستے پرپڑیں، مجھے اندازہ ہوگیا کے شاید میں بہت بڑی غلطی کر بیٹھا تھا 
.تم نے میرا گلدستہ کیوں چوری کیا؟’ اس کی آنکھوں سے آگ برس رہی تھی اور ہونٹ کف اڑا رہے تھے’ 
‘جی میں نے چوری نہیں کیا.’ میں نے سٹپٹاتے ہوئے کہا، ‘یہ تو میں آپ کے لئے لایا ہوں، روز کی طرح’
.روز کی طرح؟ روز تم یہاں گلدستہ رکھتے ہو؟’ اس کے چہرے پر پھیلی ناراضگی میں کوئی کمی نہیں آی’
ہاں جی بالکل. میں لاتا ہوں روز. وہ آپ کی گلاب کی جھاڑیاں جو خراب ہوگیئں تھیں.’ میں نے اپنا کیس لڑنے کی پوری کوشش کی، ‘آپ کو گلاب پسند ہیں نا؟
جھوٹ بولتے ہو تم.’ اس نے میرے ہاتھ سے گلدستہ چھینتے ہوے کہا. ‘یہ گلدستہ جمشید لاتا ہے روز میرے لئے.’ اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا
میں جھوٹ نہیں بول رہا. یہ گلدستہ روز میں لے کر آتا ہوں.’ کون جمشید، کہاں کا جمشید. مجھ سے محبت میں شراکت برداشت نہیں ہوئی
.نہیں، جھوٹ بولتے ہو تم.’ اس نے چیخنا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مجھے ناخن مار مار کر لہو لہان کر دیا’ 
مجھے تو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کے میں نے کیا گناہ کر دیا تھا. اوپر سے اس کی چیخیں اور تیز ناخنوں کا حملہ. میرا دم نکلنے والا ہوگیا. خیر میری خوش قسمتی کے اس کی چیخوں کی آواز سن کر اس کے ماں باپ باہر نکل آے اور مجھے اس کے چنگل سے چھڑایا. بعد میں سارا ماجرا سن کر مجھے میرے والدین نے بہت ڈانٹا اور میرا لالہ رخ کے گھر جانا تو ایک طرف، باہر نکلنے پر بھی پابندی لگ گئ

لالہ رخ کی کہانی کا مجھے کبھی پتا نہیں چلتا اگر میری فطرت میں تجسّس نا ہوتا. میری ایک بہت بری عادت تھی کے جہاں کچھ بڑے بیٹھے گفتگو کر رہے ہوتے، میں وہیں کسی کونے میں سپاٹ چہرے اور خاموشی کے ساتھ بیٹھا کھیلتا رہتا تھا. عادت تو بری تھی مگر اس کی وجہ سے پورے خاندان میں میرے پائے کی معلومات اور کسی کے پاس نہیں تھیں. کس کی شادی کس سے کیوں اور کیوں کر ہوئی؟ کس کو اپنے خاوند سے طلاق کیوں ملی؟ وغیرہ وغیرہ. بچہ ہونے کی وجہ سے کسی کا دھیان مجھ پر نہیں جاتا تھا. اور دوسرا مجھے راز جمع کرنے کا شوق تو تھا مگر ان کے اظہار کا نہیں. بات پتا نہیں کہاں سے کہاں نکل گئی. ذکر ہو رہا تھا لالہ رخ کی داستان کا. تو ایک دن میری ماں کچھ ہمسائیوں کے ساتھ بیٹھے گپ شپ کر رہی تھی تو ذکر چھڑ گیا لالہ رخ کا

اس دن مجھے پتا چلا کے لالہ رخ ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی. کالج کے زمانے میں خاصی ہوشمند اور لائق فائق تھی. تصویریں بنانے کا شوق تو تھا ہی مگر پڑھی لکھی بھی بہت تھی. نطشے، دوستووسکی، اقبال، فیض، غالب، پتا نہیں کس کس کو چھوٹی سی عمر میں ہی پڑھ ڈالا تھا. والدین کی اکلوتی اولاد تھی لہذا ہر شوق پورا کرتی تھی. پھر اس کو جمشید سے عشق ہوگیا. جمشید لالہ رخ کی خالہ کا بیٹا تھا اور ایئر فورس میں پائلٹ تھا. خوبصورت جوان لڑکا تھا. لالہ رخ ہی کی طرح اس کو بھی کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا. شوق ملے تو دونوں کے دل بھی مل گئے. دونوں کے والدین کو بھی رشتے پر کسی قسم کا اعتراض نہیں تھا لہٰذا جمشید کا لالہ رخ کے گھر آنا جانا لگا رہتا. چونکہ لالہ رخ کو گلاب کے پھول پسند تھے تو جب بھی جمشید اس سے ملنے آتا تو گلاب کے پھولوں کا گلدستہ ضرور لاتا. دونوں بہت خوش تھے اور مستقبل ان کے لئے ایک حسین خواب تھا کے جس کی تعبیر بہت جلد سامنے آنے والی تھی. لیکن اس دنیا میں خوشیوں کی عمر بہت کم ہوتی ہے

ایک دن لالہ رخ کو پتا چلا کے جہاز کے حادثے میں جمشید کا انتقال ہوگیا ہے. والدین کا خیال تھا کے صدمہ بہت شدید ہوگا لہذا انہوں نے پہلے تو خبر چھپانے کی کوشش کی مگر قریبی رشتہ تھا، موت کی خبر بھلا کیسے چھپ سکتی تھی. پھر جنازے پر جانا بھی لازمی تھا. بیچارے ماں باپ نے بہت کوشش کی لالہ رخ جنازے پر نا جائے مگر اس غریب نے تو جمشید کی میّت دیکھے بغیر اس کی موت پر یقین کرنے سے صاف انکار کر دیا. مرتے کیا نا کرتے، ان کو آخر کار لالہ رخ کو لیجانا پڑا. جہاز کا حادثہ تھا اور جمشید کی لاش بہت بری طرح جل چکی تھی لہٰذا ایئر فورس والے تابوت میں بند کر کے لاے تھے اور کھولنے کی سختی سے ممانعت کی تھی. لیکن لالہ رخ چہرہ دیکھے بغیر ماننے کو تیار نہیں تھی. ایک چھری ہاتھ میں پکڑ کر کھڑی ہوگئ کے چہرہ نہیں دکھاؤ گے تو خودکشی کر لوں گی. ایک کی جگہ دو دو جنازے نا اٹھانے پڑیں، یہ سوچ کر گھر والوں نے تابوت کھول دیا. سنا ہے، جمشید کا کوئلہ بنا جسم دیکھ کر لالہ رخ بیہوش ہوگئی. اور جب ہوش میں آی تو ہمیشہ کے لئے ہوش کھو بیٹھی 

یہ لالہ رخ کے مجھ پر حملے کے کچھ مہینوں بعد کی بات ہے. میرا باہر نکلنا تو ظاہر ہے کے کھل ہی چکا تھا لیکن لالہ رخ کے گھر کی سمت میں جانے کی صورت میں ٹانگیں توڑنے کی دھمکی بدستور قائم تھی. اس دن صبح ہی سے لگاتار تیز بارش ہورہی تھی. اسکول سے واپس آ کر میں نے کھڑکی کھولی اور بارش دیکھنے لگا. بارش، اداسی اور میرا رشتہ ہمیشہ سے بہت گہرا رہا ہے. پتا نہیں کیوں مجھے بچپن میں یہ لگتا تھا کے بارش تب ہوتی ہے جب خدا زمین والوں کے دکھ دیکھ کر روتا ہے. جب بھی بارش ہوتی تو میں اپنے اوپر گرنے والوں قطروں کی نمی کو دل تک جذب ہوتا محسوس کرتا. خیر اس دن میں نے کھڑکی سے دیکھا کے اچانک لالہ رخ کا بوڑھا اپنے گھر سے تیزی سے نکلا اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا. پھر اس نے تیزی سے گاڑی پیچھے کر گھر کے داخلی دروازے کے سامنے کھڑی کی اور دوڑ کر اندر چلا گیا. میں بہت دلچسپی سے یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا. لیکن کچھ ہی دیر میں میری ساری دلچسپی ہوا ہوگئ جب میں نے اس کے بوڑھے باپ اور نوکر کو خون میں لت پت اور بےسدھ لالہ رخ کو اٹھاے باہر آتے دیکھا. ساتھ ساتھ لالہ رخ کی ماں بھی روتی چیختی باہر نکل آی. ان سب نے مل کر لالہ رخ کو گاڑی میں ڈالا اور غالباً ہسپتال لے گئے. میں گھبرا کر دوڑتا ہوا نیچے آیا اور گھر والوں کو بتایا. اماں نے تو ‘یا الله’ کہ کر دل پر ہاتھ رکھ لیا اور ابّا دوڑتے باہر نکل گئے. تھوڑی دیر بعد ابّا نے آ کر اماں کو بتایا کے لالہ رخ نے اپنی کلائیاں بلیڈ سے کاٹ کر خود کشی کرنے کی کوشش کی تھی. میرا دل بہت گھبرا گیا تھا اور میں واپس جا کر اپنی کھڑکی میں کھڑا ہوگیا اور لالہ رخ اور اس کے گھر والوں کے ہسپتال سے واپسی کا انتظار کرنے لگا

اگلے چار پانچ گھنٹے کیسے گزرے خدا ہی بہتر جانتا ہے. میری نظریں لالہ رخ کے گھر کے گیٹ پر جمی رہیں. رات کا کھانا بھی نہیں کھایا. امی بلاتی رہیں لیکن میرا دل نہیں چاہ رہا تھا. بارش بدستور جاری تھی. قریباً رات کے گیارہ بجے ایک ایمبولینس خاموشی سے صرف اپنی سرخ بتی گھماتی ہماری گلی میں داخل ہوئی اور لالہ رخ کے گھر کے سامنے رک گئ. پیچھے پیچھے لالہ رخ کی گاڑی تھی. میں خوش ہوگیا اور دوڑتا نیچے گیا اور پھر گیٹ کھول کر باہر نکل گیا. ماں آوازیں دیتی رہ گئ لیکن لالہ رخ کی کششس نے میرے کان بند کر رکھے تھے. ایمبولینس تک پہنچا تو دیکھا کے ایمبولینس کا ڈرائیور اور لالہ رخ کا ملازم مل کر ایک سفید کپڑے سے ڈھکے سٹریچر کو باہر نکال رہے تھے. قریب ہی لالہ رخ کے ماں باپ کھڑے تھے. ان کے چہروں پر ایسی ویرانی تھی جیسی پرانے کھنڈرات میں ہوتی ہے. وہ کھنڈرات جن سے زندگی کی خوشبو ہمیشہ کے لئے روٹھ جاتی ہے
انکل لالہ رخ نہیں آی. کہاں ہے وہ؟ ٹھیک تو ہے نا وہ؟ آپ اس کو ساتھ نہیں لاے؟’ میں ایک ہی سانس میں سوال پر سوال کرتا چلا گیا. کسی انجان خدشے سے میرا دل کانپ رہا تھا 
‘تم گھر جاؤ بیٹے. لالہ رخ اب کبھی نہیں آے گی.’ اس کے باپ نے ٹوٹتے لہجے میں کہا، ‘وہ بہت دور چلی گئ ہے’
دور چلی گئ ہے؟ مگر کہاں؟’ میرا خیال ہے کے مجھے اچھی طرح احساس ہوگیا تھا کے لالہ رخ مر چکی ہے کیونکہ میری آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنا شروع ہو چکے تھے. میرے سوال کا کسی نے جواب نہیں دیا اور وہ لوگ سٹریچر اٹھاے گھر کے اندر لے گئے 
.بس کرو بیٹے. آؤ گھر چلیں.’ ابّا نے نرمی سے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھے اور پھر اپنے رومال سے میرے آنسو پونچھنے لگے’
.ابّا! وہ لالہ رخ…………’ میرے رندھے گلے سے پورا جملہ نہیں نکل سکا’
گھر چلو بیٹے. لالہ رخ مر چکی ہے.’ ابّا نے غالباً مناسب یہ ہی سمجھا کے جتنی جلد ہوسکے مجھے حقیقت کے قریب لے آیئں.’دیکھو بیٹے، نرم دل اور حسّاس ہونا اچھی بات ہے لیکن انسان کو ان دونوں کی زندگی بھر بڑی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے
.کیسی قیمت ابّا؟’ میں نے ان کا گرم ہاتھ پکڑ کر گھر کی جانب جاتے ہوئے پوچھا’
یٹے نرم دلی اور حساسیت انسان کو بہت جلد دنیا کی حقیقت سمجھا دیتی ہے. اس کو پتا چل جاتا ہے کے خدا نے زندگی میں رنگ تو بھرے ہیں مگر روح اداسی کی پھونکی ہے.’ ابّا جانے کیسی باتیں کر رہے تھے. لیکن وہ ہمیشہ سے ایسے ہی تھے. میں نے کبھی ان کو کھل کر ہنستے نہیں دیکھا. لیکن ہمیشہ مسکراتے ضرور رہتے تھے کے جیسے کسی گہرے راز سے تو واقف ہوں مگر بتانا نا چاہتے ہوں
ابّا، میری مس کہتی ہیں کے خدا نے انسان میں اپنی روح پھونکی ہے. تو پھر کیا خدا خود اداس ہے؟’ میرے دل میں انوکھا ہی خیال آیا’
.اس بات کا فیصلہ تم خود کرنا بڑے ہو کر.’ ابّا نے شفقت سے مسکرا کر میرے بالوں میں انگلیاں پھیریں’

صبح ہونے تک مجھے تیز بخار چڑھ چکا تھا لیکن اس کے باوجود میں گھر والوں سے چھپ کر لالہ رخ کے مختصر سے جنازے کے پیچھے چل پڑا. میرے ہاتھوں میں سرخ گلاب کے پھولوں کا ایک گلدستہ تھا. بارش ہورہی تھی. خدا اداس تھا اور آسمان رو رہا تھا. جنازے کے پیچھے پیچھے لالہ رخ کا بوڑھا باپ پاؤں گھسیٹتا کبھی دوڑتا تھا، کبھی ٹھوکر کھا کر گرنے کے قریب ہوجاتا تھا. جب ٹھوکر کھاتا تو رک کر اپنی عینک اتار کر قمیض کے بھیگے دامن سے اپنی آنکھیں پونچھتا اور پھر جنازے کے پیچھے چل پڑتا. ایک دفعہ تو بیچارے کو اتنی زور کی ٹھوکر لگی کے وہ بے اختیار بارش کے کیچڑ بھرے پانی سے بھری سڑک پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا. اس سے پہلے کے جنازے کے شرکاء میں سے کوئی مڑ کر لالہ رخ کے باپ کی طرف دیکھتا، میں تیزی سے آگے بڑھا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلّی دینے کی کوشش کی. اس نے حیرانگی سے نظریں اٹھا کر میری جانب دیکھا اور پھر شاید میرے ہاتھوں میں پکڑے گلدستے کو دیکھ کر سب کچھ سمجھ گیا. اس نے شفقت سے میرا سر تھپتھپایا اور میرا ہاتھ پکڑے جنازے کے پیچھے پھر سے چل پڑا

قبرستان میں داخل ہوتے ہی میں ایک طرف چھپ گیا کیونکہ مجھے ڈر تھا کے جنازے میں شامل ابّا مجھے نا دیکھ لیں. پیپل کے ایک بوڑھے پیڑ تلے قبر پہلے سے تیار تھی. آدھے گھنٹے کے اندر تمام شرکاء نے لالہ رخ کے جسد خاکی کو زمین کے سپرد کیا اور چلے گئے. تھوڑی دیر بعد لالہ رخ کے باپ کو بھی ان کا نوکر گاڑی میں بٹھا کر لے گیا . میں آہستہ آہستہ لالہ رخ کی قبر کی جانب بڑھا. بارش اب بھی بہت تیز ہورہی تھی. میں نے نہایت آہستگی سے ہاتھ میں پکڑا گلابوں کا گلدستہ قبر پر رکھ دیا. شاید مجھے ڈر تھا کے کہیں لالہ رخ جاگ نا جائے اور پھر سے مجھ پر گلدستے کی چوری کا الزام نا لگا دے. مگر وہاں کوئی نہیں تھا. کوئی آواز نہیں تھی. صرف پیپل کے پتوں میں بارش کے قطرے رو رہے تھے. لالہ رخ ہمیشہ کے لئے جمشید کے پاس جا چکی تھی

لالہ رخ کی بے وقت اور اداس موت کو تو شاید میں جلد ہی بھول گیا مگر اس کے ویران برف چہرے اور آنکھوں میں دہکتے الاؤ کو نا بھول سکا. میں اکثر سوچتا تھا کے وہ کیا چیز ایسی انسان کے اندر ہوتی ہے جو جب کوچ کر جائے تو اس کا زندہ رہنا اور مرنا برابر ہوجاتا ہے. اور یہ بھی کے کیا محبت اتنی طاقتور چیز ہے جو فرزانوں کو دیوانہ بنا سکتی ہے. انہی سوالوں کے جواب کی طلب مجھے کھینچ کر سائکاٹری کے شعبے میں لے گئ

لاہور کا مینٹل ہسپتال ایک الگ ہی دنیا ہے. وسیع و عریض سبز مخمل جیسی گھاس کے میدان اور ان کے ایک کنارے پر گوروں کے وقت کی سرخ عمارات. اونچے لمبے بوڑھے مگر اب بھی ایستادہ درخت اور ویران سرمئی سڑکیں. ایک محراب سے گزرتے ہی انسان ہسپتال کے احاطے میں داخل ہوجاتا ہے اور اندر داخل ہوتے ہی سمجھ جاتا ہے کے یہ جگہ ہوشمندوں کا ٹھکانا ہرگز نہیں ہوسکتی. کہیں کوئی موٹا تازہ مشٹنڈا اور بڑی سی توند لئے شخص گٹھے ہوئے سر کے ساتھ رنگین غباروں سے کھیلتا ملتا ہے تو کہیں کوئی دبلا پتلا ضعیف آدمی گلا پھاڑ پھاڑ کر بلھے شاہ کی کافیاں گاتا نظر پڑتا ہے. ایک جانب کوئی اچھی خاصی سمجھدار اور مناسب کپڑے پہنی عورت گڑیا کو دودھ پلانے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب ایک ننگ دھڑنگ ملنگ کرسی پر بیٹھا نہایت سنجیدگی سے کسی کتاب کا مطالعہ کرتا نظر آتا ہے. کچھ ایسے ہیں کے جو اپنے آپ کو فلموں کا ہیرو سمجھتے ہیں اور کچھ مہینوال اور رانجھا ہونے پر بضد ہیں. کبھی کبھار تو خدائی کا بھی ایک آدھ دعویدار مل جاتا ہے. عجیب جگہ ہے. خدا کی خدائی سے اور ہوشمندوں کی دنیا میں واقع ہونے کے باوجود ان دونوں سے بہت دور. لیکن ایک قدر یہاں کے سب باسیوں میں مشترک ہے. یہاں سب اداس ہیں. حتکہ خوشیاں بھی اداسی کی چادر اوڑے رکھتی ہیں. یہاں میری زیادہ تر انرجی مریضوں کے علاج پر نہیں بلکہ اپنے آپ کو پاگل ہونے سے بچانے پر خرچ ہوتی ہے. کئی دن ان مریضوں میں گزارنے کے بعد جب کبھی باہر کی دنیا کا رخ کرتا ہوں تو عام لوگ پاگل دکھائی دیتے ہیں. اسی لئے باہر کم ہی نکلتا ہوں

پھر ایک دن میرے مریضوں میں فرزین نامی ایک لڑکی کا اضافہ ہوگیا. بیچاری کو اس کے کچھ رشتے دار بہت برے حال میں لاے تھے. جسم کا کچھ حصّہ پرانے جلنے کے زخموں سے بھی بھرا ہوا تھا. جب اس کو ایمبولینس سے اتارا گیا تو وہ چیخ رہی تھی، رو رہی تھی اور ہر کسی کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھی. میں نے فوراً چیک اپ کرنے کے بعد اسے وارڈ میں داخل کر لیا. کچھ الگ ہی طرح کا کیس تھا. بہت خوبصورت لڑکی تھی. لمبے کالے گھنے بال جو اس وقت میلے چیکٹ ہو رہے تھے. گورا چٹا رنگ جو غالباً بیماری کی وجہ سے پیلا پڑ چکا تھا. سرو قد اور متناسب جسم جو گندے کپڑوں سے بھی صاف دکھائی پڑتا تھا. غضب اس وقت ہوا جب اگلے دن میں معمول کے مطابق اس کے معاینے کو گیا. وہ مسکن ادویات کے زیر اثر تھی لہذا مجھے کسی پر تشدّد رویے کا ڈر نہیں تھا. بستر پر نیم دراز تھی اور میرے اندر داخل ہونے پر بھی اس کی نظریں خالی دیوار پر جمی رہیں. میں نے ٹارچ روشن اور اس کے چہرے کو اپنی جانب گھمایا. بخدا اس کو دیکھ کر لالہ رخ یاد آ گئ. ووہی برفانی سکوت لئے چہرہ اور تاریک آنکھوں میں دہکتے بھڑکتے الاؤ. ایک لمحے کو تو میرے قدم ڈگمگا سے گئے مگر پھر میں نے حوصلہ مجتمع کیا اور اس کا معائینہ جاری رکھا

میں نے واپس دفتر آ کر اس کی فائل کھولی مگر وہاں کوئی ہسٹری نہیں تھی. معاون ڈاکٹروں سے پوچھا تو پتا چلا کے اس کو اتار کر اس کے رشتے دار فوراً غایب ہو گئے تھے. میرا ماتھا ٹھنکا مگر کیا کر سکتا تھا. میں نے ہسٹری نا ہونے کے باوجود مشاہدے کی بنیاد پر فرزین کا علاج جاری رکھا مگر عجیب بات یہ تھی کے اس پر کسی علاج کا دیرپا اثر نہیں ہورہا تھا. جب تک تو ادویات کے زیر اثر رہتی، چپ چاپ لیٹی یا سوتی رہتی. لیکن جیسے ہی یہ اثر ختم ہوتا تو چیخنے چلانے لگتی اور رونا شروع کر دیتی. اس حالت میں کسی کو پاس نا پھٹکنے دیتی. بڑی مشکل سے تین چار نرسیں مل کر اسے قابو کرتیں اور انجکشن لگاتیں. بہرحال ایسے ہی کچھ ہفتے معاملات چلتے رہے

ایک دن جب میں معمول کے مطابق وارڈ کا چکّر لگا کر واپس آیا تو ایک نوجوان کو اپنا منتظر پایا. ثاقب نام تھا. کسی بڑے بینک میں برانچ مینیجر تھا 
سمارٹ لڑکا تھا. لمبا قد، ورزشی جسم، ہلکا سانولا رنگ، سلیقے سے کٹے اور سنورے بھورے مائل سیاہ بال، گرمی کے موسم کے عین مطابق ہلکے اور سوبر رنگ کی پتلون اور قمیض، کلائی پر بندھی مہنگی مگر سنجیدہ گھڑی اور پاؤں میں پالش شدہ سیاہ جوتے 
.جی فرمایے ثاقب صاحب، کیسے زحمت کی؟’ میں نے میز کی دوسری طرف اپنی نشست سنبھالتے ہوے دریافت کیا’
سر میں فرزین کے سلسلے میں حاضر ہوا ہوں. سنا ہے وہ آپ کے ہاں داخل ہے.’ اس نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا تو میں چونک کر سیدھا بیٹھ گیا
.آپ فرزین کے کیا لگتے ہیں؟’ میں نے دلچسپی سے سوال کیا’ 
یوں تو کوئی باقاعدہ رشتہ نہیں ہے. لیکن دیکھا جائے تو شاید اس وقت دنیا میں میرے علاوہ اس کا کوئی نہیں ہے.’ اس نے افسردگی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا 
کیا مطلب؟ میں کچھ سمجھا نہیں. ہم لوگ فرزین کے بارے میں کچھ نہیں جانتے. کون ہے؟ کہاں سے آئ ہے؟ کون لایا ہے؟ کیوں لایا ہے؟ آپ براۓ مہربانی تھوڑا کھل کر بات کریں.’ میری توجوہ پوری طرح اس پر مرکوز تھی 
اچھا میں آپ کو تفصیل سے بتاتا ہوں.’ ثاقب نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی اور فرزین کی کہانی کا آغاز کیا. ‘میں اور فرزین ساتھ پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتے تھے. دونوں ایم بی اے کے طالبعلم تھے. دوران تعلیم پہلے ہماری دوستی ہوئی جو پڑھائی کے دو سالوں میں آہستہ آہستہ محبت میں تبدیل ہو گئ. آپ اس محبت کو غلط نگاہ سے نہیں دیکھئے گا کیونکہ ہم دونوں ایک دوسرے کی بہت عزت کرتے تھے. پروگرام یہ تھا کے ڈگری کے فوراً بعد میں نوکری تلاش کروں گا اور کوئی اچھی نوکری ملتے ہی اس سے شادی کر لوں گا. بہت خواب دیکھے تھے ہم دونوں نے ڈاکٹر صاحب. چھوٹے سے گھر کے خواب، بچوں کے خواب اور ہمیشہ خوش رہنے کے خواب.’ ثاقب نے جیب سے رومال نکال کر آنکھوں میں امڈتی نمی پونچھی. میں نے گھنٹی بجا کر چپراسی کو بلایا اور چاۓ لانے کو کہا 
شادی کی کچھ جلدی تھی ہم دونوں کو.’ اس نے چپراسی کے جانے کے بعد دوبارہ کہانی کا آغاز کیا. ‘جلدی اس لئے کیونکہ فرزین کا باپ اچھا انسان نہیں تھا. جؤے اور شراب کی لت تھی. برے اور بدنام لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا. فرزین کو ہر وقت اپنی عزت کی حفاظت کی فکر رہتی. اس کو پڑھانے کا فیصلہ بھی اس کی ماں کا تھا. اچھی عورت تھی بیچاری. لڑ جھگڑ کر بیٹی کو پڑھا ہی لیا. بدقسمتی سے ڈگری ملنے کے کچھ مہینوں بعد ہی فرزین کا باپ جؤے میں ایک بہت بڑی رقم ہار گیا اور نتیجتاً اس بےشرم آدمی نے جیتنے والے سے اپنی بیٹی کا سودا کر لیا. فرزین کی ماں بہت روئی پیٹی اور چلائی مگر باپ نا مانا. فرزین نے مجھے فون کر کے اطلاع دی تو میں اپنے والدین کو لے کر اس کے گھر پہنچ گیا. مگر اس کے باپ کے سر پر تو پیسے کا بھوت سوار تھا. خوب بے عزتی کر کے مجھے اور میرے والدین کو گھر سے نکال دیا. اس کے بعد ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نا تھا کے فرزین اپنے باپ سے چوری چھپے مجھ سے شادی کر لے. اس کی ماں اس پروگرام کے حق میں تھی. میرے والدین بھی چونکہ فرزین اور اس کے حالات سے اچھی طرح سے واقف تھے، لہذا انہوں نے بھی اس طریقہ کار کی کوئی خاص مزاہمت نہیں کی. ہم دونوں نے ایک ہفتہ بعد کی تاریخ رکھی جب اس کے باپ کو شہر سے باہر کسی ضروری کام سے جانا تھا

کہانی اس قدر دلچسپ تھی کے چپراسی کے چاۓ لے کر اندر آنے پر ہم دونوں چونک گئے. خیر میں نے دونوں پیالیوں میں چاۓ انڈیلی اور بسکٹوں کی پلیٹ کے ساتھ ایک پیالی ثاقب کی جانب سرکائی. چاۓ کا پہلا گھونٹ بھرنے کے بعد اس نے کہانی پھر سے شروع کی
آپ ہماری بدقسمتی کا اندازہ کیجئے ڈاکٹر صاحب کے ہمارے طہ کردہ دن سے صرف ایک رات قبل فرزین کے خبیث باپ نے زبردستی اس کا نکاح اپنے دوست سے پڑھوا دیا. یہ واردات اتنی اچانک تھی کے فرزین اور اس کی ماں مجھے اطلاع بھی نا دے سکے. جب مجھے پتا چلا تو فرزین کی شب عروسی گزر چکی تھی. میں بہت رویا پیٹا مگر مرتا کیا نا کرتا، کچھ عرصے بعد صبر کر کے بیٹھ گیا. بوڑھے والدین کی اکلوتی اولاد تھا لہذا میری ساری توجوہ نوکری کے حصول پر مرکوز ہوگئ. خوشقسمتی سے ابّا کے ایک دوست ایک بڑے بینک میں اعلیٰ عھدے پر فائز تھے. ان کے توسط سے مجھے ان ہی کے بینک میں اچھی نوکری مل گئ. فرزین سے مجھے کس قدر محبت تھی، اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے کریں کے میں نے شادی نہیں کی. میں جانتا تھا کے فرزین کسی اور کی بیوی تھی مگر پھر بھی نجانے کیوں مجھے کبھی نا کبھی اس کی واپسی کی امید تھی. ایک انتظار رہتا تھا. پھر ایک دن مجھے اس کی ماں کا فون آیا. فرزین کے خاوند نے شراب کے نشے میں اس کو جلا ڈالنے کی کوشش کی تھی. وہ میو ہسپتال میں داخل تھی. میں بھاگتا بھاگتا ہسپتال پہنچا. بیچاری بہت تکلیف میں تھی. چہرہ تو بچ گیا تھا مگر پیٹھ اور کمر بہت بری طرح جل چکی تھی. میں نے اسے بہت سمجھایا مگر اس نے اس قدر تکلیف کاٹنے پر بھی اپنے خاوند کے خلاف رپورٹ درج کرانے سے صاف انکار کر دیا
.وہ ایسا کیوں نہیں چاہتی تھی؟ وہ رپورٹ درج کروا دیتی تو شاید خاوند سے جان چھوٹ جاتی.’ میں نے حیرانگی سے پوچھا’
جی ہاں، آپ صحیح فرما رہے ہیں لیکن اصل بات کچھ اور ہی تھی.’ ثاقب نے سر کو اثبات میں ہلاتے جواب دیا. ‘مجھے ہسپتال میں فرزین کی گفتگو سے محسوس ہوا کے وہ شادی کے بعد اپنے آپ کو میرے قابل نہیں سمجھتی تھی. وہ چاہتی تھی کے میں اپنے سٹیٹس کے مطابق کسی اچھی سی لڑکی سے شادی کر لوں اور اسے بھول جاؤں. فرزین کے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد میں نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی مگر میں پھر بھی اس کی ماں کے توسط سے اس کے حالات پر نظر رکھے تھا. میری مزید بدقسمتی کے ایک دن ٹریفک کے ایک حادثے میں اس کی ماں کا انتقال ہوگیا. کچھ ہی مہینوں بعد میں نے اخبار میں پڑھا کے ایک لڑائی کے نتیجے میں فرزین کا باپ بھی قتل ہوگیا. جیسے کرتوت ویسا انجام. فرزین کی ماں کی موت کے ساتھ ہی میرے پاس فرزین کی خبر گوئی کا کوئی راستہ نہیں رھا
.تو اب آپ کو کس نے فرزین کے بارے میں اطلاع دی؟’ میں نے جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالتے ہوے پوچھا’ 
یونیورسٹی کے دنوں میں ایک دفعہ فرزین نے میری ملاقات اپنی ایک دور پار کی کزن سے کروائی. وہ لڑکی کل اتفاقاً میری برانچ میں اکاؤنٹ کھلوانے اپنے خاوند کے ساتھ آی تو میں نے اسے پہچان لیا. اسی نے مجھے بتایا کے فرزین کے خاوند نے دوسری شادی کر لی تھی. میاں اور سوتن کے مسلسل تشدّد سے فرزین کا ذہنی توازن بگڑ گیا تھا. پہلے تو انہوں نے اس کو گھر میں ہی ایک کوٹھری میں باندھے رکھا مگر پھر تنگ آ کر یہاں آپ کے پاس داخل کروا گئے
.اب آپ کیا چاہتے ہیں ثاقب صاحب؟’ میں نے سگریٹ سلگاتے ہوئے اور کچھ دیر خاموشی سے سوچنے کے بعد پوچھا’ 
ڈاکٹر صاحب، میں بس یہ چاہتا ہوں کے آپ مجھے اس سے ملنے کی اجازت دے دیں. میں دفتر کے بعد روز یہاں آ جایا کروں گا. بس آپ مجھے اس سے ملنے سے نا روکیں. میری محبت اسے ٹھیک کر دے گی.’ ثاقب نے تقریباً گڑگڑاتے ہوئےمجھ سے درخواست کی تو میں رد نا کر سکا 
.آؤ میں تمھیں اس کے پاس لے چلوں.’ میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ غریب خوشی کے مارے چھلانگ مار کر اٹھ کھڑا ہوا’
وارڈ کی جانب قدم بڑھاہے تو یقدم ثاقب نےمجھے روکا اور دوڑ کر اپنی گاڑی سے سرخ گلابوں کا ایک گلدستہ نکال لایا’ 
.یہ یقیناً تم آج خاص طور پر فرزین کے لئے لاے ہوگے؟’ میں نے چونک کر اس سے پوچھا’
لایا تو فرزین کے لئے ہی ہوں مگر خاص طور پر نہیں. اسے ہمیشہ سے گلاب بہت پسند ہیں لہذا میں ہمیشہ اس کے لئے سرخ گلابوں کا تحفہ ہی لاتا تھا.’ ثاقب نے مسکراتے ہوئے کہا تو میں ایک ثانیہ کو ماضی میں کھو گیا. بچپن، سرخ گلاب، لالہ رخ اور پیپل تلے گیلی مٹی سے ڈھکی اس کی خاموش قبر 
چلئے نا ڈاکٹر صاحب. آپ کہاں کھو گئے؟’ ثاقب نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا تو میں چونک گیا اور پھر اس کو فرزین سے ملانے لے گیا

جو کچھ اس دن ہوا میں اس کو معجزہ تو نہیں کہوں گا مگر وہ ڈرامائی ضرور تھا. فرزین نے ایک نظر ثاقب پر ڈالی اور پھر اس کے لاۓ سرخ گلابوں کے گلدستے کو آغوش میں بھینچے ہچکیاں لے لے کر رونے لگی. اس نے منہ سے تو کوئی لفظ نہیں نکالا مگر اس دن کے بعد سے اتنی بہتری ضرور آئ کے فرزین نے سب پر حملہ کرنا چھوڑ دیا. اب وہ دوا بھی چپ چاپ لے لیتی تھی اور کھانا بھی وقت پر کھا لیتی تھی. اپنے وعدے کے عین مطابق ثاقب روز دفتر کے بعد ہسپتال آ جاتا اور رات گئے تک فرزین کے پاس بیٹھا رہتا. میں نے ان دو محبت کرنے والوں کے لئے فرزین کا پورا کیس دنیا کے بہترین دماغی امراض کے ماہرین کے پاس بھیجا مگر کہیں سے کوئی حوصلہ آمیز جواب نا آیا. ایک دن میں نے بہتر یہی سمجھا کے ثاقب کو مزید اندھیرے میں نا رکھا جائے

اس دن شام سے ہی آسمان پر گہرے بادل منڈلا رہے تھے. مغرب کے فوراً بعد جب میں نے ثاقب کو بلانے کے لئے چپراسی بھجوایا تو بارش شروع ہو چکی تھی. ثاقب بیچارہ دوڑتا دوڑتا آیا تو میں نے اسے برآمدے میں ہے بٹھا لیا اور چاۓ منگوائی
.خیریت ڈاکٹر صاحب؟ کہیں میرے روز آنے پر تو کسی نے اعتراض نہیں کر دیا؟’ اس بیچارے نے پریشان ہو کر پوچھا’
نہیں ثاقب ایسی کوئی بات نہیں. تم شوق سے آؤ اور فرزین سے ملو.’ میں نے چاۓ کا کپ ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے جواب دیا. ‘میں صرف تمھیں اتنا بتانا چاہتا ہوں کے ماہرین کے خیال میں فرزین شاید دوبارہ پھر کبھی ہوشمندوں کی فہرست میں داخل نا ہوسکے. تم ابھی جوان ہو. اچھے عہدے پر فائز ہو. میری مانو کسی اچھی لڑکی سے شادی کر لو. زندگی انسان کو ایک بار ملتی ہے. یوں ایک خواب کے پیچھے اپنی زندگی خوار نا کرو. ایک سراب کا انتظار مت کرو. تم محبت کے لئے جو قربانی دینے پر تلے ہو، اس کا کوئی فائدہ نہیں
میں محبت کے لئے قربانی نہیں دے رہا ڈاکٹر صاحب.’ ثاقب اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہا، ‘میں صرف محبت کر رہا ہوں، صرف محبت. قربانی انا کے پجاری دیا کرتے ہیں، محبت کرنے والے نہیں. اور انتظار تو خدا صرف خوش قسمتوں کو نصیب کرتا ہے.’ ثاقب نے نم آنکھوں مگر ایک نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور برآمدے کی سیڑھیاں اتر کر بارش بھری رات میں جذب ہوگیا

میں نے اس بے لوث محبت کرنے والے کو جاتا دیکھا، جس کی زندگی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو چکی تھی،جو خوشیوں کے حصول سے پہلے ہی لٹ چکا تھا.مگر پھر بھی اس کا حوصلہ بلند تھا اور امید زندہ تھی. شاید محبت یہ ہی ہوتی ہے. مایوسی کی اندھیری رات میں دور جلتے دیے کا کام دیتی ہے. دیا جلتا رہے تو محبت کرنے والے سفر کرتے رہتے ہیں. دیے تک پوھنچنا ضروری نہیں لیکن دیے کا جلتے رہنا ضروری ہے 

20 thoughts on “محبت، انتظار اور سرخ گلاب

  1. دیر آید درست آید ۔۔۔۔
    یہ محاورہ آپ کی تحاریر پر پورا اترتا ہے۔ کئی مہینوں کے انتظار کے بعد آپ نے اپنے قارئین کو دل گداز احساس سے مہکتے لفظوں کا تحفہ دیا۔
    کوشش کریں کہ کم از کم ہر ماہ ہی ایک بلاگ پوسٹ کر سکیں ۔

    Liked by 1 person

    • Aap jaisi writer ki taareef hamesha bht di hosla barhaati hai Noureen sahiba. Iss k liye bayhadd nawazish. Asal mein dou issues hain. Ek tou mA aap jaisa stamina nahin hai mera k roz likhun aur acha likhun. Doosra shoq bht hain aur blog ek. Tou lihaaza kabhi nazm, kabhi kahani aur kabhi tasweer.

      Like

  2. Hey there! Someone in my Facebook group shared this site with us so I came
    to give it a look. I’m definitely enjoying
    the information. I’m book-marking and will
    be tweeting this to my followers! Terrific blog and great design.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s