اسکی گاڑی رنگ روڈ کے ایک نسبتاً ویران ٹکڑے پر، سڑک کی ایک سائیڈ پر پارک تھی. وہ گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگا کر کھڑا تھا. داہنے ہاتھ کی انگلیوں میں ایک سگریٹ پتہ نہیں کتنی دیر سے سلگ رہا تھا کیونکہ اس کی راکھ ضرورت کے باوجود، ابھی تک جھاڑی نہیں گئ تھی
دور سرسبز کھیتوں اور اکادکا ہاؤسنگ سکیموں کے پار، جہاں آسمان کی چادر زمین کے پیرڈھانپنے کی کوشش کر رہی تھی، سورج ڈوب رہا تھا. وہ ڈوبتے سورج کو بڑی حسرت سے دیکھ رہا تھا کہ شاید اس کی بچی کچھی روشنی اور حرارت سے اس کے اندر کی برف پگھل جائے. لیکن ہمیشہ کی طرح، اس دن بھی ایسا کچھ نہیں ہوسکا
بہت بچپن میں اس نے شمالی علاقوں کے سفر کے دوران، پہلی دفعہ برف سے ڈھکے پہاڑ دیکھے تھے. ان پہاڑوں کو دیکھ کر اسے عجیب سا احساس ہوا تھا. جیسے ان سے اس کا کوئی بہت پرانا رشتہ تھا، بالکل ویسا جیسے سوتیلی ماؤں کے ساتھ ہوتا ہے – احترام آمیز نفرت کا
پھر وقت گزرنے کے ساتھ اسے احساس ہوا کہ وہ برف سے ڈھکے پہاڑ اس کے اندر ہی کہیں ہمیشہ سے ایستادہ تھے. وہ بہت کوشش کرتا تھا مگر ان پہاڑوں کی برف کبھی پگھلنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی
‘آپ کا بچہ انتہائی زہین مگر بےحد حساس ہے. میرے اندازے کے مطابق یہ ان دونوں خصوصیات میں ٹکراؤ کی وجہ سے، شدید ذہنی دباؤ اور پژ مردگی کا شکار رہتا ہے

Metaphorical! Will need a long session in your company to understand this story’s meanings, or maybe a gesture will do 🙂
LikeLiked by 1 person