Hope in the Darkest Hour

It is your time, my friend – your darkest hour;

seemingly the end, joys and sorrows at par

All seems lost; and all seems dour;

all appears grey; and smiles are all sour


Read more: Hope in the Darkest Hour

You sitting by that grave; yes you – the old hag,

appearing to be brave, holding onto your old bag

Why do you sob and why do you weep?

Was it your son, whom you loved so deep?

Please, do not cry; wipe off all these tears; 

he is not gone; pray hush all your fears

Look into your heart; you will find him there;

he is but a memory; with a face so fair


It is your time, my friend – your darkest hour;

seemingly the end, joys and sorrows at par

All seems lost; and all seems dour;

all appears grey; and smiles are all sour


You holding a broken toy; yes you – the poor boy,

crying your heart out, you have lost all joy

Why do you sob and why do you weep?

Was it a treasure, you intended to keep?

Please, do not cry; do not be cross; 

it is but the first step on the stairway to loss

More toys will come, each precious and dear;

happiness and wonder, each new year


It is your time, my friend – your darkest hour;

seemingly the end, joys and sorrows at par

All seems lost; and all seems dour;

all appears grey; and smiles are all sour


You, lost in your reverie; yes you – the old man; 

all sick and tired, separated from your clan

Why are you sad and why are you so glum?

Do you feel bad on what you have become?

Please, do not be sad; do not detest yourself; 

it is but the destiny, life always solves itself

Your life was but a chapter, in the grand book of life;

your soul was but a traveler, playing the merry fife


It is your time, my friend – your darkest hour;

seemingly the end, joys and sorrows at par

All seems lost; and all seems dour;

all appears grey; and smiles are all sour

#English #poetry #poem #time #life #dark #desperation #sadness #hope #light #darkness #death

شہر کا آخری خواب فروش

‘چاچا جی؟’ میں نے کھنکار کر پوچھا. ‘آپ چپ کیوں ہوگئے؟’

.کہتے ہیں……….’ انہوں نے بدستور گردن جھکائے کہا’

‘جب دور کسی گھنے جنگل کے بیچوں بیچ، کوئی بوڑھا درخت ٹوٹ کر گرتا ہے تو کوئی آواز نہیں گونجتی’

‘کوئی آواز نہیں گونجتی؟’ میں نے حیرانگی سے پوچھا. ‘یہ کیسے ہوسکتا ہے؟’

.جب کوئی آواز سننے والا یا پرواہ کرنے والا نا ہو تو آوازیں نہیں گونجتی.’ انہوں نے میری آنکھوں میں جھانک کر جواب دیا’

.میں ہوں نا چاچا جی!’ میں نے محبت سے ان کے جھریوں بھرے کمزور ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا’

‘میں ہوں نا سننے اور پرواہ کرنے والا’


Read more: شہر کا آخری خواب فروش

وہ سردیوں کی ایک دھندلکی سپہر تھی اور میں اپنا کیمرہ کندھے پر لٹکائے اندرون شہر کی گنجان آباد گلیوں میں چکر لگا رہا تھا. بہت سے خوبصورت چہرے بھی نظر آئے؛ بہت حسین نقش و نگار والے دروازوں پر بھی نظر پڑی؛ کچھ مسکراہٹوں نے دل موہ لینے کی کوشش بھی کی؛ اور کچھ آنسوؤں نے قدم بھی تھامے. لیکن پتہ نہیں کیا بات تھی کہ میں اپنے کیمرے کا بٹن نہیں دبا سکا. دل پر عجیب اداسی چھائی ہوئی تھی

پھر موچی گیٹ کی بغل میں ایک نسبتاً تاریک اور تنگ سی گلی سے گزرتے ہوئے میری نظر اس بوڑھے کھلونا فروش پر پڑی. وہ ایک بند دروازے سے ٹیک لگائے نجانے کس گہری سوچ میں گم تھا

جس چیز نے مجھے زیادہ متوجوہ کیا وہ تھا اس بوڑھے کھلونا فروش کے پاس ہی دیوار سے ٹکا بانس سے بنا اسٹینڈ. ایک مرکزی عمودی بانس سے جڑے لکڑی کی کئ چھوٹی بڑی پھٹیاں تھیں جن سے پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے کھلونے لٹک رہے تھے

ایسے کھلونا فروش میں نے اپنے بچپن میں ہی دیکھے تھے. چھٹی والے دن اور خاص طور پر عید والے دنوں میں چکر لگاتے تھے. ان میں سے چاچا خیرو مجھے خوب یاد ہے جو مجھے پیار سے بیجو بابرا کہا کرتا تھا

.یہ تم ہر وقت کیا گنگناتے رہتے ہو کاکے؟’ ایک دن چاچا خیرو نے مجھ سے پوچھ ہی لیا’

مجھے دراصل بچپن ہی سے اپنے ہم عصروں سے مختلف نظر آنے کا شوق تھا. لہٰذا ان دنوں میں چھ سات سال کا ہونے کے باوجود کلاسیکی موسیقی میں دلچسپی لے رہا تھا

.جی راگ درگا چاچا جی.’ میں نے بے ساختہ جواب دیا تو وہ ایک دم ہنس پڑا’

‘راگ درگا؟ تم بچے ہو کہ بیجو بابرا؟’

اس دن سے میرا نام ہی چاچا خیرو نے بیجو بابرا رکھ دیا اور میں اس کا مستقل گاہک بن گیا. رنگ برنگی چیزیں ہوتی تھیں اس کے پاس. پلاسٹک کے باجے اور بانس کی پیپنیاں؛ ہلکی سی باریک باریک پہیوں والی چھوٹی چھوٹی گاڑیاں؛ سستی گڑیاں؛ پلاسٹک کے خوفناک ماسک؛ اور سفید سوتی ٹوپیاں جن کے ساتھ مصنوعی سفید داڑھی مونچھیں جڑی ہوتی تھیں. اب چاچا خیرو جیسے لوگ ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آتے


میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا

.چاچا جی؟’ میں نے ہلکے سے ان کو مخاطب کیا’

‘ہاں……کون؟’ انہوں نے آنکھیں کھول کر حیرانگی سے میری طرف دیکھا اور پھر مسکرا دیئے. ‘کہو بیٹے کیا چاہئے؟’

‘چاہئے تو کچھ نہیں….’ میں نے سر کھجاتے جواب دیا. ‘بس آپ پر نظر پڑی تو آپ سے بات کرنے کا دل کیا’

‘ضرور کرو بات بیٹے’

‘آپ کون ہیں چاچا جی؟’

.میں؟’ انہوں نے اپنے سینے کی طرف مسکرا کر انگلی سے اشارہ کیا’

‘میں ہوں اس شہر کا آخری خواب فروش’

.خواب فروش؟ آخری خواب فروش؟’ میں نے چونک کر پوچھا’

ہاں کھلونے خواب ہی تو ہوتے ہیں…چھوٹے چھوٹے معصوم اور رنگین خواب. میں یہ خواب بڑی محنت سے بنتا تھا اور پھر انہیں چاہنے والوں کے حوالے کر دیتا تھا

ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی یاسیت اتر آئ

.اب نا خواب دیکھنے والے رہے اور نا ان کھلونوں کو چاہنے والے.’ انہوں نے بےبسی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا’

‘جب خواب دیکھنے والے خواب ہی نا دیکھنا چاہیں، خوابوں میں یقین ہی نا رکھنا چاہیں تو ان کے رنگ بے معںی ہو جاتے ہیں’

.لیکن خواب تو ہمیشہ اہم ہی رہتے ہیں.’ میں نے حیرت سے پوچھا’

.یقین خواب کی روح ہوتی ہے بیٹے.’ چاچا جی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا’

‘یقین چلا جائے تو خوابوں کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی’


ہم دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے. وہ گلی بڑی عجیب تھی. جب سے میں آ کر وہاں بیٹھا تھا ویران پڑی تھی. دھوپ کا گزر غالباً بالکل ہی نہیں ہوتا تھا وہاں. اسلئے عجیب سبزی مائل پیلا سا رنگ تھا ماحول کا جیسے میں کسی پرانی تصویر کے اندر زندہ تھا اور سانس لے رہا تھا. پھر گلی کے بیچوں بیچ ایک نالی ضرور بہ رہی تھی لیکن بدبو کا دور دور تک کوئی شائبہ تک نہیں تھا. بلکہ میرے نتھنوں میں تو لکڑی کے فرنیچر کی، پنسلوں کی اور مہنگے ربڑوں کی خوشبو مہک رہی تھی. یوں لگتا تھا کہ میں پھر سے اپنے بچھڑے بچپن کے کسی ایک ثانیے میں سانس لے رہا تھا. رنگ بھی وہ ہی تھے اور خوشبویئں بھی وہ ہی، بس ماحول مختلف تھا


.یہ جادو کی چھڑی یاد ہے تمھیں؟’ چاچا جی نے ایک پلاسٹک کی چھڑی میری طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا’

.نہیں.’ میں نے چھڑی دیکھ کر نفی میں سر ہلایا’

وہ سرخ رنگ کے پلاسٹک سے بنی تقریباً ایک فٹ لمبی چھڑی تھی جس کے ایک کونے پر چاندی رنگ کے پترے سے بنا پانچ کونوں والا ستارہ لگا ہوا تھا

.یاد کرو بیجو بابرا!’ چاچا جی نے مسکراتے ہوئے کہا’

‘جب تم چھوٹے تھے تو تمھیں یقین تھا کہ چھڑی کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر ہلانے سے تم کچھ بھی کر سکتے ہو’

.بیجو بابرا….؟’ میں بری طرح سے چونک گیا’

.گھبراؤ نہیں…’ بوڑھے خواب فروش نے میرا ہاتھ شفقت سے تھپتھپایا’

ہم خواب فروشوں کا اپنا قبیلہ ہے اور اس قبیلے کی یادیں اور خواب مشترک ہوتے ہیں. خیردین اور میں، ہم دونوں اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں

‘ہاں شاید …..’ میں نے سر جھٹکتے ہوئے کہا. ‘اس وقت مجھے یقین تھا کہ یہ جادو کی چھڑی ہے’

لیکن اب اس خواب میں تمھیں یقین نہیں ہے نا. لہٰذا اب نا خواب بننے کی ضرورت رہی نا بیچنے کی. اب مجھے چلے ہی جانا چاہئے

چاچا جی نے رندھی ہوئی آواز میں کہا تو میں بےچین ہوگیا

.نہیں چاچا جی، میں اب بھی خواب دیکھتا ہوں.’ میں نے ان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا’

مجھے اب بھی اپنے خوابوں میں یقین ہے. اور میرے خوابوں کی ابتداء انہی کھلونوں سے تو ہوئی تھی. اگر آپ نے خواب فروشی چھوڑ دی تو میری تو خوابوں کی اساس ہی ختم ہوجائے گی

مگر چاچا جی کا ہاتھ میری مٹھی سے ریت کی طرح بہ گیا. میں نے آنسو پونچھتے ہوئے ان کی طرف دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا

میں گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا. سامنے دو برقعہ پوش عورتیں کھڑی میری ہی طرف سہم کر دیکھ رہی تھیں. میں شرمندہ ہوا اور اپنے تخیّل کو کوستا کیمرہ اٹھانے کیلئے جھکا اور پھر ٹھٹھک کر رک گیا. وہاں جہاں تھوڑی دیر پہلے شہر کا آخری خواب فروش بیٹھا تھا، وہیں اسی جگہ، سرخ پلاسٹک کی جادو کی چھڑی پڑی میرا منہ چڑا رہی تھی

#Urdu #story #fiction #dream #imagination #toys #oldcity #Lahore #street #nostalgia #memories #past #magic

God doesn’t wear any colored glasses!

Have you ever wondered my friend?

Or are you oblivious and just pretend?

Sick or healthy – why are we both alive?

Poor or wealthy – why do we both survive?

Weak or strong – why do we both breathe?

Right or wrong – why do we both succeed?

Because God sees neither casts nor classes;

God doesn’t wear any coloured glasses


Read more: God doesn’t wear any colored glasses!

Have you ever wondered my friend?

Or are you oblivious and just pretend?

Young or old – why in the end do we both die?

Shy or bold – why throughout, do we both try?

Indolent or studious – why do we both fail?

Vulnerable or impervious – why do we both wail?

Because God sees neither wise nor the asses;

God doesn’t wear any coloured glasses


Have you ever wondered my friend?

Or are you oblivious and just pretend?

Happy or sad – why do we both just smile?

Good or bad – why are we both so vile?

Content or greedy – why do we both cry?

Prosperous or needy – why do we both lie?

Because God cares neither for one nor the masses;

God doesn’t wear any coloured glasses


Have you ever wondered my friend?

Or are you oblivious and just pretend?

Why God doesn’t see any casts or classes?

Why doesn’t He wear any coloured glasses?

It is because He is neither black nor white;

it is because He is neither day nor night

It is because He leaves His system alone;

having drawn its boundaries in hard stone


#English #poetry #poem #God #discrimination #subjectivity #objectivity #system #life #religion #equality #equity

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں


وہ محبت جو کبھی کی تو بڑے شوق سے تھی

وہ محبت جو نامکمل تھی، نامکمل ہی تمام ہوئی

وہ چاہت کہ جس کی روشنی کبھی شام کی رونق تھی

وہ چاہت جو نا کبھی میری، نا کبھی تیری غلام ہوئی

وہ انا جو کبھی عشق کی دہلیز پر چکنا چور تھی 

وہ بے خودی جو نا عشق تھی نا کبھی عشق انجام ہوئی

وہ خون لفظ جن سے بنی زنگ خوردہ زنجیر تھی

وہ نظم جو ادھوری تھی، ادھوری ہی بدنام ہوئی

آؤ وہ پرانے خواب، اپنی صحرا آنکھوں میں  

خود ہی کھنگالتے ہیں، خود ہی سوچتے ہیں

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں


Read more: آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

وہ بول جو سوچتے ہوئے، وقت ماضی کا فسانہ ہوا

وہ نغمے جو لکھے نا گئے، کبھی گنگنائے نا گئے

وہ جو سمندر کا نمک اتنی مشکل سے کشید ہوا

وہ اشک جو اندر ہی جذب کئے، کبھی بہائے نا گئے

وہ جو ہم آگ مانگ کر لائے تھے کوہ طور سے

وہ شعلے جو بھڑکنا تو دور، کبھی سلگائے نا گئے

وہ جو ستم تم روز نئے تراشتے تھے اپنے شوق سے

وہ ظلم جو چپ کر کے سہہ لئے کبھی سنائے نا گئے

آؤ اپنے سب پچھتاوے، اپنے زخم خوردہ ہاتھوں سے

خود ہی جانچتے ہیں، خود ہی گوندھتے ہیں

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں


وہ جو ہم میں تم میں، سرے سے کبھی تھا ہی نہیں

وہ جو ایک خواب سا تھا، حقیقت سے بہت دور تھا وہ

وہ جو کچھ تھا، اس میں پیار تو کبھی تھا ہی نہیں

وہ جو ایک سراب سا تھا، چاند پر داغ ضرور تھا وہ

خیال کی ہر ساعت میں خیال تو کبھی تھا ہی نہیں

وہ جو ایک گرداب تھا، رقص خواہش ضرور تھا وہ

عشق حاصل میں، فرقت میں، یقین تو کبھی تھا ہی نہیں

وہ جو ایک باب تھا، زندگی کا آخری باب تھا وہ

آؤ پھر کیا ہوا؟ پھر کیوں ہوا؟ وہ سب سوال

خود ہی پوچھتے ہیں، خود ہی کھوجتے ہیں

آؤ ہم خود کو خود ہی ڈھونڈتے ہیں

#Urdu #poetry #poem #love #reflection #regret #loss #life #dream #time 

Your Hell is here; your heaven is around

One doesn’t wait for them to be found;

one doesn’t wait for them to be earned

Your hell is here, your heaven is around;

and so far this is all that I have learned


Read more: Your Hell is here; your heaven is around

The day of judgment comes every day;

apocalypse invisible, but it is all around us

You have to see beyond your foolish way;

and no need to make a big damn fuss


Your heaven exists in the smile and admiration;

the ones that you love and fondly cherish

Your hell resides in the jealousy damnation;

foes, you would like to see gone and perish


Your heaven is the warmth of satisfaction;

glowing in your forgiving and kind heart

Your hell is the freezing regret and inaction;

that has been always there since the very start


Your heaven is the affection that you always get;

dispense to those few who merit and deserve

Your hell is the hatred that you sometimes beget;

the one which burns and the one you serve   


Your heaven is all the troubles you ever defeat;

dilemmas and conflicts that you always solve

Your hell is the troubles that bind your feet;

acid that dissolves your steely resolve


Your heaven is the character that you build;

slowly and gradually, over a period of time

Your hell is the overwhelming wave of guilt;

that brings in the filth, stains, and the grime


Your heaven is the company of loving friends;

the company that keeps you happy and warm

Your hell is a long winter night that never ends;

loneliness – a devastatingly silent snowstorm


One doesn’t wait for them to be found

One doesn’t wait for them to be earned

Your hell is here, your heaven is around;

and so far this is all that I have learned

#English #poetry #poem #life #wisdom #heaven #hell #sins #regret #kindness #love #loneliness #warmth #fate #balance