درد کا آخری شہر

d1xre41-5d4d0d76-7227-4c76-bad1-bc1116b7a7c2

 

 

درد کا آخری شہر

ہر امید، ہر خوشی سے

لاتعلق اور بےخبر

آس کی فضاء میں

لامکاں اور بےخطر

ساکت اور معلق ہے


Read more: درد کا آخری شہر

درد کا آخری شہر

زندگی کے امتحان

آزمائشوں کے درمیان

پچھتاووں تلے دبے

خواہشوں کے گورستان

تڑپتا اور سسکتا

کراہتا کھنڈر ہوتا

لا حاصل تمنا اور 

ناممکن تعبیر کے درمیان

درد کا آخری شہر

اک دور اندھیری وادی میں

ساکت اور معلق ہے


درد کا آخری شہر

جانے انجانے میں

بہت سوں کی پہچان ہے

کچھ درد کے محبوب ہیں

کچھ درد سے انجان ہیں

کچھ آگہی کے آگے

مجبور اور بےکس

کچھ مایوس اور نادان ہیں

کچھ قسمت کے ہاتھوں

لاچار اور بےبس

کچھ ڈرتے اور پریشان ہیں

کچھ کی درد ہی پہچان ہے


درد کا آخری شہر

اس کے سب دروازوں کے

سب کیواڑ مقفل ہیں

اس کے سب مکانوں کے

سب مکین مردہ ہیں

زندہ ہیں، سانس لیتے ہیں

لیکن مردہ ہیں

حسرتوں کے جنازے

قطار اندر قطار

تکمیل کے کندھوں کے

بے سود انتظار میں

پڑے سڑتے ہیں


درد کا آخری شہر

بس خاموش رہتا ہے

اس کے ہر مکین کی

تڑختی شریانوں کے

لامحدود جالوں میں

کرب کا دریا بہتا ہے

سیاہ گاڑھا خون

کالے پارے کی مانند

رینگتا اور الجھتا ہے

تاریک کناروں کے

سرد پتھروں پر سرسراتا ہے

لیکن خاموش رہتا ہے


درد کا آخری شہر

بہت دور صحیح لیکن

مل جاتا ہے

کوئی اونچی فصیل نہیں

کوئی واضح حد بھی نہیں

مگر پھر بھی

جب ڈھونڈا جائے

مل جاتا ہے

نظروں سے اوجھل ہے

لیکن دلوں کو مل جاتا ہے

ہر کارواں کو، ہر مسافر کو

مل جاتا ہے


درد کا آخری شہر

اس کی مہیب تاریکی میں

اک اکیلی روشنی

ٹمٹماتی ہے

جگمگاتی ہے، مسکراتی ہے

ہمدردی کا دیا جلتا ہے

غم گساری کی لو بھڑکتی ہے

ہر مکین کا دل ہے

دوجے کیلئے دھڑکتا ہے

درد کا آخری شہر اور

اس شہر کے سب باسیوں میں

درد مشترک ہے


#Urdu #poetry #poem #life #desires #regret #pain #frustration #darkness #death #disappointment #desperation #hope #empathy #sensitivity #sharing


My Good Friend Jojo

59679479

      I had been living in Room 106 for as long as I could remember. The room had soft-padded pale green walls and a ceiling painted white. There were neither windows nor ventilators – only a single door, which was always locked from the outside. A single fluorescent light was always on, right in the middle of the ceiling.

Continue reading

Signing a Pact in Blood with the Devil (Previously, I wish the Devil was real)

Most people would sell their soul for love; he wants to sell his soul that has already loved, to ensure hers is the life that prospers while his becomes haunted.

A haunting narrative poem structured as an imagined negotiation with the devil, where the speaker offers his soul and broken heart not for personal gain, but to ensure his lost love’s happiness and fortune.

________________________________________________

I wish the devil were here, and I would just kneel

I would sign his contract and make a fair deal

He would laugh in victory, and I would sigh my loss,

he would’ve been so lucky; my wounds would never heal

________________________________________________

I wish the devil were here and asked what I wanted,

I would have asked a favor, which he would’ve just granted

I would have asked for her, joy and good fortune,

my life, au contraire, abandoned and so haunted

________________________________________________

I wish the devil were here and demanded what I offered

‘Take my weary soul,’ I would have just proffered

‘Burn it or torment it, it’s yours to own forever,

or take my tired heart, it’s no more really coffered’

________________________________________________

‘I am not short of souls, their cries fill my hell’

The devil would have snickered, ringing his merry bell

‘But my soul is special, for it has loved and suffered’

I would have begged in anguish, a plea and a yell

________________________________________________

‘A heart is so useless, what purpose will it serve?’

The devil would have said, prodding a raw nerve

‘But my heart is of great value, it’s mended and yet broken,

it has reached its end, but still it throbs with verve’

________________________________________________

‘I like what you offer, let’s both sign this pact,

you get what you want, I will make it all a fact

But you must know it all, and I will make it clear,

you will never love again, and you will only act’

________________________________________________

‘My soul that has loved, to be sold for love’s sake?

My heart that has suffered, to be burnt on the stake?’

I would have cried with joy, I would’ve wept in bliss

‘Let’s sign our pact in blood, please never let it break’

آغوش مہربانی

dvhpfgzxuaaxuy3

 

 

‘لوٹ کر آگئ ہو واپس؟’ فقیر نے مسکرا کر پوچھا’

ہاں!’ عایشہ نے سر جھکا کر اور سسک کرکہا. ‘آگئ ہوں مگر تمھیں ہماری محبت کا واسطہ، ہمارے درمیان کے خوبصورت تعلق کی قسم، اب مجھے لوٹ جانے کا نا کہنا. اب میں بہت تھک چکی ہوں

فقیر نے نرمی سے عایشہ کے جھریوں بھرے گالوں سے آنسو پونچھے اور اور نہایت پیارسے اس کے چاندی بالوں کو سہلایا

‘نہیں کہوں گا. اب آگئ ہو تو یہیں میرے پاس ہی رہ جاؤ’

لیکن وہ…….!’ عایشہ نے کچھ سوچ کر کہا. ‘وہاں….ٹرین کے اس طرف میرا بیٹا بیٹھا میرا انتظار کر رہا ہے. میں واپس نہیں جاؤں گی تو وہ بہت پریشان ہو گا

‘کچھ نہیں ہوگا.’ فقیر نے اپنے بازو پھیلائے. ‘آجاؤ شاباش! یہ پریشانی کا نہیں آرام کا وقت ہے’

عایشہ کچھ لمحے فقیر کی آنکھوں میں جھانکتی رہی. وہاں صرف محبت تھی. پھر اس نے قدم بڑھائے اور فقیر کے سینے سے لگ گئ. وہاں بہت سکون تھا. عایشہ کو لگا کہ جیسے وہ تپتے صحرا میں صدیوں چلنے کے بعد یکایک کسی مہربان درخت کی گھنی چھاؤں میں آن پہنچی ہو. اس نے سکون اور اطمینان کا ایک لمبا سانس بھرا اور ماں کی گود میں منہ چھپائے بچوں کی طرح، آنکھیں موند لیں

Continue reading