ٹوٹے کھلونوں کا المیہ

میرا نام ڈاکٹرعبدل الرحمان ہے اور میں فلسطین کے علاقے غزہ کا رہنے والا ہوں. میں اپنی جوانی اور ادھیڑعمری میں ایک ماہر سرجن جانا اور مانا جاتا تھا. لوگ دور دور سے میرے ہسپتال میں آپریشن کروانے آتے تھے. ان کو لگتا تھا کہ جیسے خدا نے میرے ہاتھ میں شفاء رکھی ہو

خیر یہ سب تو گزرے دنوں کا قصّہ ہے. اب تو میں تقریباً اسی سال کا بوڑھا آدمی ہوں جس کے ہاتھوں پر ہر وقت رعشہ طاری رہتا ہے. اس لئے اب میں آپریشن نہیں کرتا؛ اب میں صرف اپنے پرانے گراموفون پر موسیقی سنتا ہوں اور کھلونے مرمت کرتا ہوں


Read more: ٹوٹے کھلونوں کا المیہ

مجھے کھلونے ہمیشہ سے اچھے لگتے ہیں. ان کے دلفریب رنگ اور مخصوص بناوٹ، مجھے بہت بھاتی ہے. جب میں چھوٹا تھا تو میرے باپ کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ وہ مجھے اچھے اور مہنگے کھلونے خرید کر دے سکتا. چونکہ مجھے اس سے بہت محبت تھی اور میں کسی حد تک اس کی مشکلات کو سمجھ سکتا تھا تو ضد نہیں کرتا تھا. یوں میرا سارا بچپن حسرت اور تشنگی کے درمیان کا سفر تہہ کرتا گزر گیا

جب میں جوان ہوگیا اور ڈاکٹری کا امتحان پاس کر لیا تو جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، مجھے محبت ہو گئ. عبیر بہت خوبصورت تھی. اب جب کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں تو مجھے اچھی طرح سے یہ بات سمجھ میں آ چکی ہے کہ جن سے ہم محبت کرتے ہیں، وہ عموماً اتنے خوبصورت اور اتنے اچھے قطعی نہیں ہوتے، جتنا کہ ہم ان کو سمجھتے ہیں. لیکن جب ہماری محبت کی گرم ہوا ان کی شخصیت کے غبارے میں بھرتی ہے تو ان سے اچھا اور ان سے بلند اور کوئی نظر نہیں آتا

لیکن آپ میرا یقین کریں کہ عبیر واقعی بہت خوبصورت اور بہت اچھی تھی اور مجھ سے بےانتہاء محبت کرتی تھی. وہ میرے سب خوبصورت خوابوں اور حسرتوں کی تعبیر تھی. میں اس کو دیکھ دیکھ کرجیتا تھا اور وہ میرے بغیر سانس نہیں لیتی تھی. بہرحال زندگی کا ایک دستور ہے کہ کبھی بھی اور کوئی بھی چیز یا رشتہ مکمل نہیں ہوتا. تو ہمارے رشتے اور محبت میں جو ایک کسر رہتی تھی وہ اولاد کی کمی تھی

ہم دونوں نے بہت کوشش کی. علاج بھی کروایا لیکن اولاد نہیں ہوسکی. پھر میں نے عبیر کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم کوئی یتیم بچہ لے کر پال لیتے ہیں، لیکن وہ نہیں مانی. اسی طرح ہماری ادھوری سی مگر محبت بھری زندگی کو پچاس سال بیت گئے


ابھی کچھ سال پہلے ہی عبیر دنیا سے رخصت ہوگئ. اب میں بھی اس انتظار میں ہوں کہ کب موت کا فرشتہ آتا ہے اور میں اپنی عبیر کے پاس پہنچ جاتا ہوں. لیکن جب تک وہ نہیں آتا، میں ٹوٹے کھلونوں کی مرمت کرتا رہوں گا کیونکہ مجھے کھلونے اچھے لگتے ہیں

میں چونکہ خود کھلونوں سے بہت محبت کرتا ہوں تو مجھے اس بات کا احساس ہے کہ یہ کھلونے اپنے مالکوں کو کس قدر عزیز ہوتے ہیں. وہ اپنے کھلونوں کو سجا سنوار کر رکھتے ہیں؛ ان کا خیال رکھتے ہیں اور ان کو زمانے کی گرم ہوا اور ہر نقصان سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں. لیکن بہرحال کھلونے تو نازک ہوتے ہیں، معمولی سی ضرب سے بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں

آپ سب کو ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے. وہ یہ کہ دنیا کے جس حصے میں، میں رہتا ہوں، وہ امن و سکون سے بہت دور ہے. ہم تقریباً پچھلے ساٹھ ستر سال سے اسرائیلی غاصبوں کے خلاف مسلسل حالت جنگ میں ہیں. جب جنگ ہو رہی ہو اور گولہ باری ہوتی رہے تو کھلونوں جیسی نازک چیزیں اتنی تباہی کی متحمل نہیں ہو سکتیں. دوسری طرف کھلونے جب ٹوٹ جایئں تو ان کو ایسے پھینکا بھی نہیں جا سکتا. کھلونے تو جنگ میں بھی کھلونے ہی رہتے ہیں. ان کی اہمیت اور خوبصورتی اپنی جگہ قائم رہتی ہے

تو جب میں نے اتنے بہت سارے کھلونوں کو گولہ باری کی وجہ سے ٹوٹتے ہوئے دیکھا اور ان کے مالکوں کو اپنے ٹوٹے کھلونوں پر روتے ہوئے دیکھا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوسکا. ڈاکٹر تو میں تھا ہی، میکینک بھی بن گیا. اب میرے پاس دور دور سے ٹوٹے ہوئے کھلونے مرمت کیلئے آتے ہیں


میرے لئے ہر کھلونا ایک جیسا خوبصورت ہوتا ہے. میں بڑے پیار سے اس کو صاف کرتا ہوں. ایک ایک ٹکڑے اور ایک ایک کرچی کی بڑی احتیاط اور باریک بینی سے جانچ پڑتال کرتا ہوں. اس کے اوپر لگی خراشوں کو صاف کرتا ہوں. اور پھر اس کو جوڑنے بیٹھ جاتا ہوں

اکثر اوقات میرے پاس بہت سے ٹوٹے کھلونے اکٹھے آ جاتے ہیں. بہت سوں کے حصے اور کرچیاں بھی مکمل نہیں ہوتیں. لیکن میں ہمت نہیں ہارتا. میں محنت اور لگن سے ہر کھلونے کے حصے تلاش کرتا ہوں. لیکن اکثر پوری طرح جڑنے کے بعد بھی بہت سے کھلونے نامکمل رہ جاتے ہیں. میں پھر بھی اپنی پوری کوشش کرتا ہوں کہ ان کے مالکوں کو ان کی خوبصورتی میں کمی کا احساس نا ہو

بیشک میں کھلونوں کو جوڑ سکتا ہوں اور بعض اوقات تو میرے مرمت کئے کھلونوں کو دیکھ کر پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کبھی ٹوٹے بھی تھے. لیکن پھر بھی ان کھلونوں میں وہ پہلی جیسی بات نہیں رہتی. وہ چل پھر نہیں سکتے، وہ گا نہیں سکتے اور وہ تالیاں بھی نہیں بجا سکتے. اسلئے میرے دل میں اکثر خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش میں خدا ہوتا اور اپنے مرمت کئے کھلونوں میں جان بھر سکتا

معاف کیجئے گا. غالباً دروازے پر کوئی ہے. میں دیکھ کر واپس آتا ہوں. ابھی کھلونوں کا بہت سا ذکر باقی ہے


.ڈاکٹر صاحب! ڈاکٹر صاحب!’ وہ عورت کافی دیر سے دروازہ بجا رہی تھی’

.ہاں کہو کیا بات ہے؟’ بوڑھے ڈاکٹر نے دروازہ کھول کر پوچھا’

‘ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ظالم اسرئیلیوں نے اسکول کی عمارت پر راکٹ برسائے ہیں’

اس نے آنسوؤں بھری آواز میں بتایا

‘بے شمار بچے شہید ہوئے ہیں. آپ کی بہت ضرورت ہے. ان معصوموں کے جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں’

ڈاکٹر عبدل رحمان نے کوئی جواب نہیں دیا. اپنا کالا بیگ اٹھایا اور تھکے تھکے قدموں سے اس عورت کے پیچھے چل پڑا. اس کو کھلونوں سے بہت محبت تھی اور وہ ان کو ٹوٹا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا

#Urdu #fiction #story #Palestine #Gaza #doctor #toys #Israel #war #violence #children #peace

سانتا آنا کا پادری

d9ec0c8-046600aa-73e4-4bb0-9874-0021d1b46782

 

 

 

 

 

 

یہ سخت گرمیوں کے دنوں کی بات ہے کہ جب سانتاآنا گاؤں کے اکلوتے گرجے کے، اکلوتے پادری کا، انتقال تو گرمیاں اپنے پورے عروج پر تھیں؛ اور پورا گاؤں نئے پادری کے آنے کا بےصبری سے انتظار کر رہا تھا

Read more: سانتا آنا کا پادری

بہت سے بچے پیدا ہوچکے تھے لیکن بپتسمہ نا دیئے جانے کی وجہ سے گمنامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے. بیشمار محبت کرنے والے جوڑے تھے، جو کہ شادی کے بندھن میں بندھنے کیلئے اتنے بیتاب تھے کہ ہر رات کا نیا چاند، نا چاہتے ہوئے بھی ان کے گناہوں کا گواہ بن جاتا تھا. لیکن گرجے میں پادری کی عدم موجودگی کے باعث ان کی شادی نہیں ہوسکتی تھی

پھر بہت سے ایسے گناہ گار تھے جو اعتراف کے لئے بے چین تھے تاکہ صاف دل کے ساتھ، ایک دفعہ پھر سے گناہوں کے راستے پر چلا جا سکے. اور بہت سے ایسے لوگ تھے جو مر چکے تھے اور دفنائے بھی جا چکے تھے لیکن ان کی روحیں، اپنی آخری رسومات کے انتظار میں، زمین اور آسمان کے درمیان معلق تھیں

پھر ایک دوپہر، جب سورج عین سوا نیزے پر بےرحمی سے دہک رہا تھا تو گاؤں کی کچی فصیل کے ٹوٹے دروازے سے، ایک گھڑسوار اندر داخل ہوا. گھوڑا لاغرسا تھا اور تیز سنہری دھوپ اور بہتے پسینے سے اس کا کالا سیاہ جسم، چمک رہا تھا. گھڑسوار بھی کالے لباس میں ملبوس تھا اور اس کے سر پر چوڑے چھتے والے سیاہ ہیٹ کے نیچے، اس کے خدوخال، واضح نہیں تھے


سانتا آنا، قریبی شہر سے قریباً دو سو کلومیٹر دور اور صحرا کے بیچوں بیچ واقع، ایک چھوٹا سا اور نامعلوم غریب گاؤں تھا. بہت کم ہی کوئی بھولا بھٹکا مسافر، گاؤں میں قدم رنجہ فرماتا تھا. بلکہ مسافروں کی تعداد اس قدر کم تھی کہ بڑھے بوڑھے اب تک، گاؤں میں آنے والے تمام مسافروں کو، دو ہاتھوں کی انگلیوں پرباآسانی گن سکتے تھے؛ اور گننے کے بعد بھی دو ایک انگلیاں بچ رہتی تھیں


وہ نیا آنے والا گھڑ سوار کوئی مسافر نہیں بلکہ فادر آندرے بارتولو تھا – سانتاآنا گاؤں کے اکلوتے گرجے کا نیا پادری. گاؤں میں داخل ہوتے  ہی اس نے مرکزی چوک کے کنویں سے جی بھر کر پانی پیا اور کسی سے کوئی فالتو بات کئے بغیر، سیدھا گرجے گھر پر پہنچ کر، اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، گاؤں کے لوگوں کو احساس ہوتا چلا گیا کہ فادر آندرے کوئی معمولی پادری نہیں تھا بلکہ شاید انسان کے روپ میں کوئی فرشتہ یا پھر ولی تھا جو خداوند نے سانتا آنا گاؤں پر ترس کھا کر بھیجا تھا

پچھلا پادری کھانے پینے کا انتہائی شوقین تھا اور حد درجہ کا بلانوش بھی تھا. کئ دفعہ تو اتوار کے دن دعا کے موقعے پر، گرجے کی سستی وایئن کی بوتل بھی خالی ملتی تھی؛ اور پادری صاحب کے الفاظ اور قدم، دونوں ڈگمگا رہے ہوتے تھے

لوگ فادرآندرے کو فرشتہ یا ولی الله اسلئے سمجھتے تھے کیونکہ وہ پچھلے پادری کے برعکس صحیح معنوں میں ایک درویش صفت آدمی تھا. نا کھانے پینے کا شوق تھا اور نا ہی پینے پلانے کا. خواتین کی طرف تو دیکھنے سے بھی گریز کرتا تھا. تمام خواہشات سے پرہیز کرتا تھا اور یوں لگتا تھا کہ جیسے خداوند نے اسے پیدا ہی پرہیزگاری کیلئے کیا تھا


حقیقت کیا تھی، وہ فادر آندرے سے زیادہ بہتر کوئی اور نہیں جانتا تھا. جب بھی لوگ اس کی پرہیزگاری سے متاثر ہو کر اس کے ہاتھ چومتے تھے تو وہ زیرلب ضرور مسکراتا تھا

دراصل بہت بچپن سے ہی فادرآندرے کو پادری بننے کا شوق تھا. اسلئے کہ یہ وہ واحد پیشہ تھا کہ جس میں لوگوں پر برتری پانے کیلئے، کسی دولت یا دنیاوی تعلقات کی ضرورت نہیں تھی. پھر اس کا یہ بھی دل چاہتا تھا کہ شاید اس کے مرنے کے بعد یا اس سے پہلے ہی لوگ اسے کوئی سینٹ سمجھیں اور فرط عقیدت سے اس کے ہاتھ چومتے رہیں اور آس پاس منڈلاتے رہیں

لیکن پادری بننے کے بعد اس کو احساس ہوا کہ پرہیزگاری کی راہ پر چلنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں تھا. ہر قدم پر دل کو مارنا پڑتا تھا؛ اور یہ اس کیلئے بیحد مشکل ثابت ہورہا تھا

چونکہ فادر آندرے کا تعلق ایک بہت غریب خاندان سے تھا اور بچپن بہت محرومی اور بھوک میں گزرا تھا تو جب بھی کسی دعوت میں شریک ہوتا، تو ہاتھ اور منہ روکنا مشکل ہوجاتا. اور پھر کون صحیح الدماغ انسان اچھی سرخ وایئن کو ٹھکرا سکتا تھا. جب پیٹ مرغن غذاؤں اور شراب سے بھرجاتا تو پھر نظر حسین چہروں اور صحت مند نسوانی جسموں پر بھٹکنا شروع کر دیتی

آہستہ آہستہ ان حرکات کی وجہ سے اس کا مزاق اڑنا شروع ہوگیا. یہاں تک کہ مَیکسکن چرچ کی طرف سے دو تین انتباہی مراسلے بھی موصول ہوگئے تو فادرآندرے کو اپنے مقدس خواب مٹی میں ملتے نظر آئے. لیکن باوجود بھرپور کوشش کے وہ اپنی خواہشات پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا


پھر ایک شام شیطان فادر آندرے بارتولو سے ملنے چلا آیا اور اسے ایک ایسی پیشکش کی کہ فادرآندرے اسے قبول کرنے پر مجبور ہوگیا

‘مرنے کے بعد اپنی روح مجھے سونپ دینے کا وعدہ کرو تو میں تمھاری سب خواہشات ایک پل میں پوری کر دوں گا.’ شیطان نے مسکراتے ہوئے کہا

یہ ہی تو سارا مسلہء ہے.’ فادر آندرے نے ہاتھ ملتے ہوئے جواب دیا. ‘میں اپنی تمام نفسانی خواہشات سے ہی تو جان چھڑانا چاہتا ہوں

‘ہیں؟’ شیطان چونک کر کھڑا ہوگیا. ‘یہ کیسی خواہش ہے؟’

بس یہ ہی میری خواہش ہے’، نوجوان پادری نے کہا. ‘میں چاہتا ہوں کہ میری ساری خواہشات ختم ہو جایئں، میرا نفس مر جائے اور میں اپنی زندگی میں ہی سینٹ کا رتبہ پا جاؤں

‘ٹھیک ہوگیا!’ شیطان نے جیب سے معاہدہ نکالتے ہوئے کہا. ‘اس پر اپنے خون سے دستخط کر دو’

فادرآندرے شیطان کے ساتھ معاہدہ کر کے بہت خوش تھا. اس کو پوری امید تھی کہ چونکہ وہ خواہشات سے جان چھڑا چکا ہے تو روزمحشر وہ کوئی گناہ نا ہونے کے بائث سیدھا جنت میں جائے گا اور شیطان کچھ بھی نہیں کر سکے گا


وقت گزرتا چلا گیا. سانتا آنا گاؤں میں دس سال بتانے کے بعد، فادرآندرے پہلے بشپ اور پھر کارڈینل بن گیا. تھوڑے عرصے میں ہی اس کی پرہیزگاری سے متاثر ہو کر لوگوں نے اسے سینٹ کا درجہ دے دیا اور دور دور سے اس کی زیارت کو آنے لگے

پھر ایک دن وہ مر گیا اور فرشتوں نے اس کی روح کو لے جا کر بارگاہ الہی میں پیش کر دیا

‘اس کو گھسیٹ کر لے جو اور سیدھا جہنم کی دہکتی آگ میں لے جا کر پھینک دو.’ خداوند نے حکم دیا

رحم خداوند! رحم! کیا مجھے اسلئے جہنم میں پھینکا جا رہا ہے کیونکہ میں نے شیطان سے معاہدہ کیا تھا؟’ فادرآندرے نے گڑگڑا کر پوچھا

‘نہیں!’ خداوند نے بے اعتنائی سے جواب دیا’

تمھیں اسلئے جہنم میں پھینکا جا رہا ہے کیونکہ تم نے خواہشات سے انکار کیا. کیونکہ تم یہ بھول گئے کہ خواہشات بھی میں نے کسی مقصد سے بنائی ہیں. انسان خواہش کرتا ہے؛ پھر گناہ کرتا ہے؛ پھر گناہ پر پچھتاتا ہے؛ اور پھر توبہ کر کہ پرہیزگاری کے رستے پر چلتا ہے. جب تم نے خواہش سے ہی انکار کر دیا تو پھر پرہیزگاری کیسی؟

#Urdu #story #fiction #God #devil #church #saint #desires #denial #contract #sensuality #selfcontrol

درد کا آخری شہر

d1xre41-5d4d0d76-7227-4c76-bad1-bc1116b7a7c2

 

 

درد کا آخری شہر

ہر امید، ہر خوشی سے

لاتعلق اور بےخبر

آس کی فضاء میں

لامکاں اور بےخطر

ساکت اور معلق ہے


Read more: درد کا آخری شہر

درد کا آخری شہر

زندگی کے امتحان

آزمائشوں کے درمیان

پچھتاووں تلے دبے

خواہشوں کے گورستان

تڑپتا اور سسکتا

کراہتا کھنڈر ہوتا

لا حاصل تمنا اور 

ناممکن تعبیر کے درمیان

درد کا آخری شہر

اک دور اندھیری وادی میں

ساکت اور معلق ہے


درد کا آخری شہر

جانے انجانے میں

بہت سوں کی پہچان ہے

کچھ درد کے محبوب ہیں

کچھ درد سے انجان ہیں

کچھ آگہی کے آگے

مجبور اور بےکس

کچھ مایوس اور نادان ہیں

کچھ قسمت کے ہاتھوں

لاچار اور بےبس

کچھ ڈرتے اور پریشان ہیں

کچھ کی درد ہی پہچان ہے


درد کا آخری شہر

اس کے سب دروازوں کے

سب کیواڑ مقفل ہیں

اس کے سب مکانوں کے

سب مکین مردہ ہیں

زندہ ہیں، سانس لیتے ہیں

لیکن مردہ ہیں

حسرتوں کے جنازے

قطار اندر قطار

تکمیل کے کندھوں کے

بے سود انتظار میں

پڑے سڑتے ہیں


درد کا آخری شہر

بس خاموش رہتا ہے

اس کے ہر مکین کی

تڑختی شریانوں کے

لامحدود جالوں میں

کرب کا دریا بہتا ہے

سیاہ گاڑھا خون

کالے پارے کی مانند

رینگتا اور الجھتا ہے

تاریک کناروں کے

سرد پتھروں پر سرسراتا ہے

لیکن خاموش رہتا ہے


درد کا آخری شہر

بہت دور صحیح لیکن

مل جاتا ہے

کوئی اونچی فصیل نہیں

کوئی واضح حد بھی نہیں

مگر پھر بھی

جب ڈھونڈا جائے

مل جاتا ہے

نظروں سے اوجھل ہے

لیکن دلوں کو مل جاتا ہے

ہر کارواں کو، ہر مسافر کو

مل جاتا ہے


درد کا آخری شہر

اس کی مہیب تاریکی میں

اک اکیلی روشنی

ٹمٹماتی ہے

جگمگاتی ہے، مسکراتی ہے

ہمدردی کا دیا جلتا ہے

غم گساری کی لو بھڑکتی ہے

ہر مکین کا دل ہے

دوجے کیلئے دھڑکتا ہے

درد کا آخری شہر اور

اس شہر کے سب باسیوں میں

درد مشترک ہے


#Urdu #poetry #poem #life #desires #regret #pain #frustration #darkness #death #disappointment #desperation #hope #empathy #sensitivity #sharing


یہاں صرف اندھیرا ہے

d19au07-e16fb5db-75c0-4f73-89ca-6588aa5eb098

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یہاں صرف اندھیرا ہے

چاروں سمت اندھیرا ہے


Read more: یہاں صرف اندھیرا ہے

یہاں صرف اندھیرا ہے

چاروں سمت اندھیرا ہے

باہر بھی اور اندر بھی

ظاہر بھی اور باطن بھی

جہالت کا اندھیرا ہے

حماقت کا بسیرا ہے

مذہب بھی، سیاست بھی

حکومت بھی، عبادت بھی

علم بھی، قانون بھی

فرعون بھی، قارون بھی

سب جہل کی تصویر ہیں

مگر ماہر تقریر ہیں


یہاں صرف اندھیرا ہے

چاروں سمت اندھیرا ہے

اندھیرا ہی دستور ہے

اندھیرا ہی شعور ہے

اندھیرے میں سب رہتے ہیں

راضی بازی رہتے ہیں

اندھیرا سب کے اندر ہے

اور اندھیرے سے ہی ڈرتے ہیں

اندھیرے میں رہ کر یہ

اندھیرے کے ڈر سے یہ 

اندھی باتیں کرتے ہیں اور

اندھے جھگڑے لڑتے ہیں


یہاں صرف اندھیرا ہے

چاروں سمت اندھیرا ہے

آگے بھی اور پیچھے بھی

اوپر بھی اور نیچے بھی

گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے

سیاہ رات اندھیرا ہے

اندھیرا سب کا ماضی ہے

اور اندھیرا سب کی منزل ہے

ماضی سے منزل تک ساری

راہ پر بھی اندھیرا ہے

اندھیری راہ پر اندھے لوگ

اندھی قوم اور اندھے روگ


یہاں صرف اندھیرا ہے

چاروں سمت اندھیرا ہے

اندھیرے میں اندھے لوگ

اندھی راہ پر چلتے ہیں

ٹھوکر بھی یہ کھاتے ہیں

اور ٹھوکر کھا کر گرتے ہیں

روتے ہیں پھر اٹھتے ہیں

اندھیرے کو کوسنے دے کر

اندھیرے میں چلتے ہیں

روشنی کی ملامت کر کے

اندھیرے کو ہی چنتے ہیں

اندھیرے کو ہی سنتے ہیں


یہاں صرف اندھیرا ہے

چاروں سمت اندھیرا ہے

اندھیرے کی باتیں ہیں

نفرت کی برساتیں ہیں

خون بھی ان کا کالا ہے

اندھیرے جیسا کالا ہے

کالے خون کی اندھی بھینٹیں

دیتے ہیں اور لیتے ہیں

کالا خون بہاتے ہیں

اور نعرہ اوپر والے کا

زور سے لگاتے ہیں

کبھی نہیں شرماتے ہیں


یہاں صرف اندھیرا ہے

چاروں سمت اندھیرا ہے

اندھیرا ان کا والی ہے

اندھیرا ان کا وارث ہے

اندھیرے میں بسنے والے

اندھیروں پر پلنے والے

اندھیری پناہ میں آ کر

اندھیروں سے ڈرنے والے

اندھیرے کو رونے والے

اندھیرے پر ہنسنے والے

یہ اندھے لوگ اکیلے ہیں

دنیا میں بہت اکیلے ہیں

#Urdu #poetry #poem #darkness #black #Pakistan #nation #past #present #future #bleak #aimless #blind #blindness #senseless #faithless #inhuman #stupidity #fools

شیدو اور لیونارڈو ڈاونچی کا اڑن کھٹولہ

.دنیا میں چار اقسام کے افراد پائے جاتے ہیں شیدو.’ بابا ڈا ونچی نے اپنی لمبی سفید داڑھی ہلاتے ہوئے کہا

پہلی قسم وہ جو زندہ ہونے کے باوجود اپنی زندگی نہیں جیتے. جیسے کہ وہ بدنصیب جو ساری زندگی پیسہ جمع کرنے میں لگا دیتے ہیں مگر ان کو پیسہ خرچنے کی یا پیسے سے صحیح معنوں میں لطف اندوز ہونے کی تمیز نہیں ہوتی

یہ کیسے ہوسکتا ہے ڈاونچی بابا؟’ شیدو نے اپنی کالی کالی چمکتی آنکھیں جھپکاتے ہوئے پوچھا

ہو سکتا ہے بلکہ دنیا میں، زیادہ تر لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے.’ بابا جی نے دایئں ہاتھ کی انگلیوں سے اپنی لمبی سفید داڑھی میں کنگھی کرتے ہوئے جواب دیا

Read more: شیدو اور لیونارڈو ڈاونچی کا اڑن کھٹولہ

‘مزید پیسے کا لالچ ان بیوقوفوں کو مصروف رکھتا ہے اور اپنے پیچھے پیچھے بھگاتا رہتا ہے’

‘ٹھیک ہوگیا!’ شیدو نے سعادت مندی سے سر ہلایا. ‘اور دوسری قسم؟’

دوسری قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اپنی پوری زندگی بھرپور طریقے سے جیتے ہیں، جیسا کہ عبدل الستار ایدھی یا پھر قائد اعظم جیسے لوگ

یہ بات تو میں بہت آسانی کے ساتھ سمجھ گیا.’ شیدو نے اعتماد کے ساتھ کہا

زبردست!’ بابا ڈاونچی مسکرایا

تیسری قسم کے وہ لوگ جو میری طرح کے ہوتے ہیں. ہم اپنی زندگی تو جیتے ہیں مگر زندگی کی حدود و قیود سے باہر بیٹھ کر

باہر کیوں بابا جی؟’ شیدو نے معصومیت سے پوچھا

بھائی باہر اسلئے کیونکہ باہر سے ہمیں زندگی کے تمام رخ نظر آتے ہیں. خوبصورت بھی اور بدصورت بھی. اچھے بھی اور برے بھی

یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئ بابا جی.’ شیدو نے سر کھجاتے ہوئے کہا

آئے گی بھی نہیں. ابھی تیری عمر یہ باتیں سمجھنے کی ہے بھی نہیں.’ ڈاونچی بابا نے شفقت سے شیدو کے سر پر گھنے کالے بالوں کا چھتہ سہلاتے ہوئے کہا

تم صرف چوتھی قسم کے لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کرو جو باقی تینوں اقسام کی نسبت تعداد میں بہت کم ہوتے ہیں. یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خواب دیکھتے ہیں اور پھر اپنی تمام زندگی بس ان خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش میں گزار دیتے ہیں

‘ہیں؟’ شیدو نے اشتیاق سے پوچھا. ‘یہ کیسے ہوسکتا ہے؟’

ہو سکتا ہے میرے دوست، ضرور ہوسکتا ہے.’ بابا جی نے مسکراتے ہوئے شیدو کا کندھا دبایا

شیدو کو بڑا اچھا لگتا تھا جب بابا ڈاونچی اس کو ‘میرے دوست’ کیہ کر بلاتا تھا. وہ اس وقت اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا تھا

تمھیں رائٹ برادران کے بارے میں پتہ ہے؟’ بابا جی نے بھنویں اچکا کر شیدو سے پوچھا لیکن پھر اس کے چہرے پر الجھن کے آثار دیکھ کر خود ہی جواب دینے لگے

دو انگریز بھائی تھے جنہوں نے دنیا کا پہلا ہوائی جہاز بنایا تھا. وہ دونوں اڑنے کا خواب دیکھتے تھے. سب لوگ سمجھتے تھے کہ یا تو ان کا جہاز اڑے گا نہیں یا پھر وہ آسمان سے گر کر مر جایئں گے. لیکن ان دونوں بھائیوں نے جہاز بنایا بھی اور اڑایا بھی، چاہے صرف کچھ لمحوں کیلئے ہی سہی. اور وہ کچھ لمحات ایسے تھے جو ان کی پوری زندگی پر محیط تھے

‘ڈاونچی بابا وہ تو پھر بہت بہادر لوگ تھے. ان کو تو بالکل بھی ڈر نہیں لگتا ہوگا؟’

بہادری کا مطلب ڈر یا خوف کی عدم موجودگی نہیں ہوتی شیدو. ڈر اور خوف اگر نا ہوں تو انسان بیوقوف ضرور ہوتا ہے لیکن بہادر نہیں

تو پھر بہادری کیا ہوتی ہے ڈاونچی بابا؟’ شیدو نے حیرت سے پوچھا

بہادری کا مطلب ہوتا ہے اپنے ڈر یا خوف کو سمجھنا اور پھر اس پر قابو پانا.’ بابا جی نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا

تمھیں پتہ ہے تقسیم کے وقت ہمارے محلے میں جیکب نامی ایک خاکروب رہتا تھا؟ بہت معمولی آدمی تھا. اتنا معمولی کہ زیادہ تر لوگوں کو تو اس کا نام بھی پتہ نہیں تھا. بس چوہڑا کیہ کر پکارتے تھے. اس کی ساری زندگی دوسروں کی غلاظت اٹھاتی گزری تھی. اس کا پورے کا پورا چہرہ اس بری طرح سے جلا ہوا تھا کہ دیکھنے سے خوف آتا تھا. پتہ نہیں کیسے جلا تھا لیکن اس کو آگ سے ڈر بہت لگتا تھا. لیکن جب ہنگامے شروع ہوئے اور لاہور کے بہادر مسلمانوں نے کافر ہندؤں کو ختم کرنے کیلئے شاہ عالمی کو آگ لگائی؛ تو جیکب نے جلتی آگ میں کود کر کچھ ہندؤں کی جان بچا لی. اس نے اپنے خوف پر قابو پایا اور یوں اپنی ساری زندگی ان چند لمحات میں گزار لی


شیدو بارہ سال کا ایک یتیم بچہ تھا. نا ماں کا پتہ تھا نا باپ کا. ٹکسالی گیٹ کی بغل میں، ایک کوڑے کے ڈھیر پر بھنبھناتی مکھیوں کے بیچ،  چند دنوں کا پڑا بلکتا تھا کہ بابا ڈاونچی کی نظر پڑ گئ اور وہ اٹھا کر اپنے کوارٹر میں لے گئے. بہت ہی محبت اور دھیان سے پالا پوسا اور پڑھا لکھا کر بڑا کیا. لوگ مزاق اڑاتے تھے مگر بابے نے کسی کی پرواہ نہیں کی. وہ غالباً شیدو کو اپنی زندگی کا آخری مشن سمجھتے تھے اور مشن کو سرانجام دینے میں کوئی کوتاہی برتنے کو تیار نہیں تھے

بابا ڈاونچی خود بھی ایک بہت ہی دلچسپ شخصیت تھے. لوگ کہتے تھے کہ کسی زمانے میں بابا جی گورنمنٹ کالج لاہور میں طبیعات کے پروفیسر تھے. مگر پھر پتہ نہیں کیا ہوا کہ دماغ پھر گیا اور وہ نوکری پر لات مار کر کہیں نکل گئے. کافی سالوں بعد واپس آئے اور پھر بادامی باغ اڈے سے اندرون شہر تانگہ چلانے لگے. پتہ نہیں اس کہانی میں صداقت کتنی تھی مگر ان کا کوارٹر بھانت بھانت کی کتابوں سے بھرا پڑا تھا

بابا ڈاونچی کا اصل نام ڈاونچی نہیں تھا. اصل نام تو خیر جو بھی تھا، بابا ڈاونچی انکو شیدو نے کہنا شروع کیا تھا. شیدو چونکہ ہوش سنبھالنے سے بہت پہلے سے کتابوں کو دیکھ رہا تھا اسلئے اس کو ان کتابوں سے بہت محبت اور پیار تھا. خاص طور پر اس کو لیونارڈو ڈاونچی کے بارے میں لکھی گئ ایک لمبی چوڑی اور نرم سرخ چمڑے کی جلد والی کتاب بہت پسند تھی جس پر سنہرے نقش و نگار بنے تھے؛ اور جو اس اطالوی سائنسدان اور مصور کی ایجادات کی تصاویر سے بھری پڑی تھی

بابا جی!’ ایک دن شیدو نے اس کتاب کے دبیز صفحے پلٹتے ہوئے کہا. ‘آپ کو پتہ ہے آپ کی شکل لیونارڈو ڈاونچی سے بہت ملتی ہے؟ وہ ہی لمبی سفید داڑھی اور سر سے غائب بال

‘ہاہاہا!’ بابا جی نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا. ‘ہاں بالکل! کسی زمانے میں میرے شاگرد بھی یہی کہا کرتے تھے’

بس پھر آج سے میں آپ کو ڈاونچی بابا کہا کروں گا.’ شیدو نے مچل کر کہا

اس دن سے بابا جی کا نام ڈاونچی بابا پڑ گیا اور اتنا مشہور ہوگیا کہ آس پاس اور پڑوس میں سب ان کو اسی نام سے پکارنے لگے


شیدو جب کچھ اور بڑا ہوا تو اس کو بعض دفعہ یہ سن کر بہت حیرت ہوتی تھی کہ ڈاونچی بابا ایک زمانے میں کالج میں پروفیسر تھے. ایک دن اس نے جرات مجتمع کر کے بابا جی سے پوچھ ہی لیا

‘ڈاونچی بابا! یہ لوگ آپ کے بارے میں ٹھیک کہتے ہیں؟’

‘لوگ تو میرے بارے میں بہت کچھ کہتے ہیں بیٹے.’ بابا جی نے مسکرا کر جواب دیا. ‘تمہارا اشارہ کس طرف ہے؟’

‘یہ ہی کہ آپ کسی زمانے میں لاہور کے ایک بہت بڑے کالج میں پروفیسر تھے؟’

‘ہاں! ٹھیک کہتے ہیں. میں گورنمنٹ کالج میں بچوں کو طبیعات پڑھاتا تھا’

‘تو پھر……….؟’

تو پھر کیا؟’ بابا جی بدستور مسکرا رہے تھے. ان کی مسکراہٹ دیکھ کر شیدو کو کچھ حوصلہ ہوا

‘تو پھر اب آپ یہ تانگہ کیوں چلاتے ہیں؟ کالج میں کیوں نہیں پڑھاتے؟’

ہوں!’ بابا جی تھوڑی دیر تو کچھ سوچتے رہے اور پھر بولے

ہر انسان کی کوئی نا کوئی کالنگ ہوتی ہے بیٹے. یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی کالنگ کو سمجھیں اور پھر اس کے حصول میں مگن ہوجایئں

یہ کالنگ کیا ہوتی ہے بابا؟’ شیدو نے الجھ کر پوچھا

‘کالنگ کا مطلب ہوتا ہے مقصد حیات….زندگی کا مقصد’

‘یہ تانگہ چلانا کیسا مقصد ہوا؟’

میرا مقصد دنیا کو دیکھنا ہے بیٹے. دنیا کو سمجھنا ہے.’ بابا جی نے شیدو کی چمکتی آنکھوں میں جھانک کر کہا. ‘بس میں تانگہ چلاتا ہوں اور دنیا دیکھتا ہوں

میری کالنگ کیا ہے ڈاونچی بابا؟’ شیدو نے اشتیاق سے پوچھا

‘بھائی یہ تم اپنے آپ سے پوچھو.’ بابا جی ہنس پڑے

‘میرے خیال میں…..’ شیدو نے کچھ سوچ کر کہا. ‘میرے خیال میں میری کالنگ اڑنا ہے’

‘ہاں ضرور! خوب پڑھو لکھو اور ایک دن پڑھ لکھ کر پائلٹ بن جانا اور جہاز اڑانا’

ڈاونچی بابا! آپ نے لیونارڈو ڈاونچی کے اڑن کھٹولے کی تصویر دیکھی ہے؟’ شیدو دوڑ کر اپنی پسندیدہ کتاب اٹھا لایا

‘میرا دل چاہتا ہے میں یہ اڑن کھٹولہ بناؤں اور پھر اس کو خوب اونچا اڑاؤں’

ہوں….!’ بابا جی ایک لمبا ہنکارا بھر کر خاموش ہوگئے اور کچھ نا بولے

‘آپ اس کو بنانے میں میری مدد کریں گے؟’

ڈاونچی بابا نے شفقت سے شیدو کو دیکھا جس کی آنکھیں شوق سے جگمگ جگمگ کر رہی تھیں. وہ خوابوں کی اہمیت سے اچھی طرح سے واقف تھے. وہ خوب جانتے تھے کہ خواب اگر بچپن میں ہی کچل دئے جایئں تو وہ کبھی حقیقت نہیں بنتے

‘ہاں ضرور! تم بنانا شروع کرو. میں تمھارے ساتھ ہوں’


یوں اس دن سے ڈاونچی بابا اور شیدو کے چھوٹے سے کوارٹر کے محدود صحن میں، لیونارڈو ڈاونچی کا اڑن کھٹولا بننا شروع ہوگیا

پتہ نہیں کہاں کہاں سے بانس اکٹھے کئے گئے اور ان کو آپس میں لوہے کی مضبوط تاروں سے باندھ کر مشین کا ڈھانچہ کھڑا کیا گیا. کباڑئے کے پاس سے پرانی سائکل کے پیڈل اور گراریاں اور کسی ایکسیڈنٹ زدہ رکشے کے پہیے لائے گئے

سب سے بڑا مسلہء پروں کا تھا. لیونارڈو کے اپنے ڈیزائن کے مطابق چمگاڈر کے پروں کی شکل جیسے پر ریشمی کپڑے کے تھے. اب ریشمی کپڑا خریدنا بابا جی کی استطاعت سے باہر تھا. لیکن جہاں لگن ہو وہاں کوئی نا کوئی حل نکل ہی آتا ہے. چوک پر ایک کیٹرنگ کمپنی کا دفتر تھا جس کا مالک اپنے پرانے شامیانے اور ریشمی چادریں وغیرہ فروخت کرنے کے چکروں میں تھا. کچھ پیسے شیدو نے جیب خرچ سے اکٹھے کئے اور باقی کا بندوبست بابا جی نے کیا. اور یوں دس گز ریشمی کپڑا خرید کر پروں کے ڈھانچے پر چڑھا دیا گیا

جب مشین تقریباً مکمل ہوگئ تو شیدو کو خیال آیا کہ اتنے بڑے پروں کے ساتھ وہ کوارٹر کے صحن سے نکالی نہیں جا سکے گی. لہٰذا پورے ڈھانچے کو کھولا گیا اور نئے سرے سے اس طرح بنایا گیا کہ وہ آرام سے ٹکڑوں میں نکالا جا سکے اور پھر کہیں کھلی جگہ لے جا کر جوڑا جا سکے

پھر ایک نیا مسلہء کھڑا ہوگیا

بابا میری سمجھ میں ایک بات نہیں آتی.’ شیدو نے ڈھانچے کے نٹ ٹائٹ کرتے ہوئے کہا

وہ کیا؟’ بابا جی نے پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا

‘جب لیونارڈو ڈاونچی نے اڑن کھٹولہ بنا ہی لیا تھا تو اس نے اس کو اڑایا کیوں نہیں؟’

میری معلومات کے مطابق اس کی ایک بنیادی وجہ تھی.’ بابا جی نے سوچتے ہوئے کہا. ‘اس مشین کو بنانے کے بعد لیونارڈو کو اندازہ ہوا کہ کسی بھی انسان میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ محض پیڈل مار کر اس مشین کو اڑا سکے

ہاں یہ بات تو صحیح لگتی ہے.’ شیدو نے اڑن کھٹولے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا. ‘لیکن وہ یہ بھی تو کر سکتا تھا کہ کسی اونچی جگہ سے اس مشین کو اڑاتا

ہاں بالکل! لیکن میرا خیال میں لیونارڈو کو گر کر مرنے سے ڈر لگتا ہوگا.’ بابا جی نے مسکرا کر کہا

لیکن اگر وہ اپنے ڈر پر قابو پا لیتا تو آج رائٹ برادران کی جگہ دنیا اس کو یاد کرتی.’ شیدو نے عقلمندی سے کہا

ہاں شاید!’ بابا جی نے سر ہلایا. ‘تم فکر نہ کرو. پیسے جمع کر کے ایک دن ہم اس مشین کو پہاڑوں میں لے چلیں گے اور وہاں اس کو اڑانے کی کوشش کریں گے

شیدو نے اس وقت تو خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا مگر اس کے ننھے سے دماغ کی گراریاں گھومتی رہیں


اڑن کھٹولہ بنانے میں شیدو اس قدر مگن ہوگیا تھا کہ کھانا پینا سب بھول گیا تھا. اسکول سے آتا، جلدی جلدی ہوم ورک کرتا، بے دلی سے کچھ لقمے زہر مار کرتا اور پھر پیچ کس اور پلاس لیکر مشین پر کام میں لگ جاتا. اس کا دھیان بٹانے کیلئے ڈاونچی بابا چھٹی والے دن اس کو منٹو پارک کی سیر پر لے گئے

مینار پاکستان کو دیکھتے ہی شیدو کی آنکھیں چمکنے لگیں

بابا! وہ دیکھو.’ اس نے ڈاونچی بابا کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا

‘ہاں بھائی! مینار پاکستان ہے. یہیں پر قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی تئیس مارچ کو’

نہیں!’ شیدو نے کہا

‘نہیں؟’ بابا نے چونک کر شیدو کی طرف دیکھا. ‘نہیں ہوئی تھی منظور؟’

ہوئی تھی. ضرور ہوئی ہوگی مگر میرے ذھن میں ایک آئیڈیا آیا ہے.’ شیدو نے جوش سے کہا. ‘کیوں نا ہم مینار کے اوپر سے اس مشین کو اڑانے کی کوشش کریں

‘نہیں بیٹے ایسے نہیں ہوسکتا.’ بابا نے گھبرا کر کہا. ‘اگر مشین نا اڑی تو؟’

‘کیوں نہیں اڑے گی؟’ شیدو نے نہایت اعتماد سے کہا. ‘آخر ہم نے لیونارڈو کے ڈیزائن کے عین مطابق بنائی ہے’

‘نہیں بیٹے! گرنے کا خطرہ تو بہرحال ہے. اور میں تمھیں اس کی اجازت نہیں دے سکتا’

اچھا!’ شیدو نے کہا اور مایوسی سے سر جھکا لیا


تھوڑی دیر بعد وہ دونوں وہیں پارک میں گھوم پھر رہے تھے تو شیدو کو بچوں کا ایک گروپ نظر آیا. صاف ستھرے مگر پرانے کپڑوں میں ملبوس تھے. تقریباً بیس پچیس بچے تھے جو ایک شیروانی میں ملبوس بوڑھے شخص کے ساتھ پارک کی سیر کر رہے تھے. اس بچوں میں کوئی نا کوئی ایسی بات ضرور تھی جو باقی بچوں سے الگ تھی

شیدو نے تھوڑا غور سے ان کا جائزہ لیا تو اس کو احساس ہوا کہ ان بچوں کی مسکراہٹ باقی بچوں سے بہت الگ تھی. وہ ہنس بول تو ضرور رہے تھے مگر ان کی مسکراہٹیں صرف ان کے ہونٹوں تک محدود تھیں. ان کی آنکھیں خالی خالی تھیں جیسے ان کے سارے کے سارے خواب کوئی چھین کر یا چرا کر لے گیا ہو

یہ بچے کون ہیں ڈاونچی بابا؟’ شیدو نے بابا جی کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور ان بچوں کے گروپ کی طرف اشارہ کیا

دار الاکرام یتیم خانے کے بچے ہیں.’ بابا جی نے عینک سیدھی کرتے ہوئےاور بچوں کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے جواب دیا. ‘ساتھ میں مہربان علی بھی ہے. میرا بہت پرانا واقف ہے’

چلتے چلتے وہ دونوں اس گروپ کے قریب پہنچے تو ڈاونچی بابا اور مہربان علی میں دعا سلام ہوئی

‘کہو مہربان علی کیسے ہو؟ یتیم خانہ کیسا جا رہا ہے؟’

بس کیا بتاؤں؟ بہت برے حالات ہیں.’ مہربان علی نے گھاس پر بیٹھتے ہوئے کہا

کیوں کیا ہوا؟ خیر تو ہے؟’ بابا جی نے گھبرا کر پوچھا

اس برسات نے یتیم خانے کی پوری عمارت کا بیڑا غرق کر دیا ہے.’ مہربان علی نے رومال سے چہرہ پونچھتے ہوئے کہا

پہلے ہی انگریزوں کے وقت کی تھی. ان بارشوں کے بعد تو بالکل رہنے کے قابل نہیں رہی. چھتیں کسی بھی وقت گر سکتی ہیں. مرمت ممکن نہیں اور نئی عمارت بنوانے کے پیسے نہیں

پھر اب ان بچوں کا کیا ہوگا؟’ ڈاونچی بابا نے ہلکی آواز میں پوچھا

کیا ہونا ہے؟’ مہربان علی نے افسردگی سے بچوں کی طرف دیکھ کر کہا

ایدھی والوں سے بات ہوئی ہے. وہ ان بچوں کو لے جایئں گے اور پورے پنجاب میں اپنے یتیم خانوں میں تقسیم کر دیں گے. بچوں کا بندوبست تو ہو جائے گا لیکن یہ سب ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں. پھر نئےلوگ اور نئی جگہوں کے اپنے اپنے مسائل ہوتے ہیں

ہوں…….!’ ڈاونچی بابا نے مسلہء سمجھ کر سر ہلایا

شیدو چپ چاپ بیٹھا دونوں کی باتیں سن رہا تھا. اس نے بچوں کی طرف دیکھا. وہ سب ایک طرف تمیز سے بیٹھے تھے. چھوٹے بچے کچھ مچل ضرور رہے تھے مگر دو تین بڑے بچے ان کا مسلسل خیال رکھ رہے تھے. شیدو نے ان بچوں کی طرف دیکھا اور پھر مینار پاکستان کی طرف. یکایک اس کے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا

‘ڈاونچی بابا’

ہاں کہو بیٹے.’ بابا جی نے شفقت سے اس کی طرف دیکھا

اگر ہم…….’ شیدو نے مینار کی طرف دیکھا. ‘اگر ہم اس چودہ اگست پر، کسی طرح سے اڑن کھٹولا مینار کی سب سے اوپر والی منزل پر لے جا کر باندھ دیں. اور پبلک کے سامنے نمائش کریں تو تو مجھے لگتا ہے کہ ان بچوں کی مدد کیلئے کچھ پیسے ضرور اکٹھے ہو جایئں گے

اڑن کھٹولہ؟’ مہربان علی نے حیرت سے پوچھا تو ڈاونچی بابا نے اسے مشین کے بارے میں بتایا

آئیڈیا تو زبردست ہے.’ مہربان علی نے سن کر کہا

ہاں لیکن اس مشین کو مینار کی سب سے اوپر والی منزل پر لے جانے کون دے گا؟’ ڈاونچی بابا نے پریشانی سے کہا

تم اس کی فکر مت کرو.’ مہربان علی نے کچھ سوچ کر کہا. ‘مینار کا چوکیدار میری مرحوم بیوی کا رشتہ دار ہے. تم لوگ یہیں بیٹھو. میں اس سے بات کر کے دیکھتا ہوں


جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، جہاں لگن ہو حل نکل ہی آتا ہے. یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا. مینار کا چوکیدار، آدمی تو تھوڑا سخت تھا مگر یتیم بچوں کا سن کر اس کا دل پگھل گیا. اس نے نا صرف یہ وعدہ کیا کہ چودہ اگست کے دن مشین، لفٹ کے ذریعے مینار کی سب سے اوپر والی منزل پر چڑھانے میں مدد کرے گا؛ بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ اس دن وہ اوپر والی منزل کو عام پبلک کیلئے بند رکھے گا


شیدو بہت خوش تھا. اس کو یقین تھا کہ اڑن کھٹولے کی نمائش سے اتنے پیسے ضرور اکٹھے ہو جایئں گے کہ یتیم خانے کے بچوں کی مدد ہو سکے. ڈاونچی بابا بھی پرجوش نظر آ رہے تھے. اب تک تو وہ مشین کو صرف شیدو کا معصوم خواب سمجھتے آ رہے تھے. لیکن اب ان کو بھی لگ رہا تھا کہ وہ معصوم خواب یتیم بچوں کے خوابوں کو یقین میں بدل سکتا تھا

شیدو اور ڈاونچی بابا اسی دن سے تیاریوں میں لگ گئے. اڑن کھٹولے کو دیدہ زیب سفید اور سبز رنگ سے رنگا گیا. پاکستان کی جھنڈیوں سے سجایا گیا اور پھر بابا جی نے بیٹری اور کچھ لائٹیں بھی لگا دیں تاکہ شام کو اندھیرے میں بھی مشین نظر آ سکے


شیدو کی شدید بےچینی اور جوش کے باوجود چودہ اگست اپنے وقت پر ہی آئ. صبح فجر کے فوری بعد، ڈاونچی بابا نے شیدو کی مدد سے مشین کے مختلف حصوں کو تانگے میں لوڈ کیا اور منٹو پارک لے گئے. وہاں چوکیدار ان ہی کا منتظر تھا. اس نے جلدی جلدی لفٹ آن کی اور دو تین چکروں میں پورے کا پورا اڑن کھٹولہ مینار پاکستان کی سب سے اوپر والی منزل پر پہنچ چکا تھا

ڈاونچی بابا، چوکیدار اور شیدو نے مل کر نایلون کی مضبوط رسیوں سے مشین کو منڈیر سے ایسے لٹکایا کہ اس کے پر صبح کی ٹھنڈی ہوا میں کسی مغرور پرندے کی طرح پھیل گئے. جب مشین کو نصب کر کے نیچے پہنچے تو وہاں سے بھی دیکھ کر ایسے لگتا تھا کہ جیسے کوئی عقاب مینار کے اوپر سے ہوا میں ڈبکی لگانے کو تیار ہو

دس بجے تک مہربان علی بھی یتیم خانے کے بچوں کو لیکر وہاں پہنچ گیا اور آہستہ آہستہ کافی عوام کا ہجوم بھی اکٹھا ہوگیا. سب لوگ اوپر اڑن کھٹولے کی طرف ہی دیکھ کر اشارے کر رہے تھے اور ایک دوسرے کو بتا رہے تھے. شیدو یہ دیکھ کر بہت خوش تھا. آخر کو وہ اڑن کھٹولہ اس کا اپنا آئیڈیا اور خواب تھا

ڈاونچی بابا اور مہربان علی نے رش جمع ہوتے دیکھ کر ٹکٹ بیچنے کیلئے میگا فون پکڑا اور آواز لگانا  شروع کی

آئے صاحبان، دیکھیئے نیا عجوبہ

لیونارڈو ڈاونچی کا اڑن کھٹولہ

آپ کے دس روپئے کے ٹکٹ سے

ہوگا یتیم بچوں کا بھلا

آپ کی مہربانی سے ملے گی

یتیم بچوں کو رہنے کی جگہ

ان دونوں بزرگوں کو آواز لگاتے دیکھ کر لوگ اکٹھے ہونا شروع ہوگئے. لیکن ان لوگوں کی باتیں سن کر شیدو کو اندازہ ہوا کہ ساری دنیا دل کی اچھی نہیں ہوتی اور ساری دنیا کا دل یتیمم بچوں کے درد سے نہیں پگھلتا

‘کیوں بھائی کیوں خریدیں ٹکٹ؟ عجوبہ تو ویسے بھی نظر آ رہا ہے’

‘ٹکٹ خریدیں گے تو سیر بھی کراؤ گے اس میں؟’

‘معصوم لوگوں کو لوٹنے کے بہانے ہیں بھائی’

بھانت بھانت کی باتیں سن کر شیدو کی آنکھوں میں آنسو آ گئے

پھر کسی کی آواز آئ

‘ٹکٹ تو تب خریدیں گے جب وہ اڑن کھٹولہ اڑا کر دکھانے کا وعدہ کرو گے’

آہستہ آہستہ باقی لوگوں نے بھی یہی مطالبہ کرنا شروع کر دیا

‘باتیں نا کرو. ہمیں اڑا کر دکھاؤ’

‘ہاں ہاں اڑانے کی بات کرو گے تو ٹکٹ خریدیں گے’

دیکھیں آپ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں.’ ڈاونچی بابا نے لوگوں کی طرف دیکھ کر عاجزی سے کہا. ‘یہ اڑ نہیں سکتا. یہ صرف دیکھنے کیلئے ہے

فراڈ ہو تم لوگ.’ ایک بھاری بھرکم مونچھوں والے آدمی نے آگے بڑھ کر ڈاونچی بابا کا گریبان دبوچ لیا

انہوں نے گھبرا کر شیدو کی طرف دیکھا مگر وہ وہاں نہیں تھا

یہ شیدو کہاں چلا گیا؟’ بابا نے بصد مشکل گریبان چھڑا کر مہربان علی سے پوچھا.

‘پتہ نہیں. ابھی تو یہیں تھا’


ابھی ڈاونچی بابا لوگوں کے ہجوم میں شیدو کو ڈھونڈ ہی رہے تھے کہ لوگوں کی آوازیں آنی شروع ہوگیئں

‘وہ دیکھو. اوپر دیکھو’

‘وہ دیکھو بچہ کیا کر رہا ہے’

ڈاونچی بابا نے اوپر دیکھا تو ان کے حواس گم ہوگئے. شیدو میگا فون ہاتھ میں پکڑا، مینار کی سب سے اوپروالی منزل پراڑن کھٹولے کی بغل میں کھڑا تھا. آہستہ آہستہ لوگ خاموش ہوتے گئے

کیا آپ سب اس اڑن کھٹولے کو اڑتے دیکھنا چاہتے ہیں؟’ شیدو نے میگا فون میں چیخ کر پوچھا

ہاں! ہاں! اڑا کر دکھاؤ.’ مجمع میں سے لوگوں نے پکارا

نہیں بیٹے!’ ڈاونچی بابا نے اونچا بولنے کی کوشش کی مگر آنسوؤں سے ان کا گلہ رندھ گیا

پھر آپ سب ٹکٹ خریدیں. ہر ٹکٹ سو روپے کا ہوگا. جب سب ٹکٹ بک جایئں گے تو میں اسے اڑا کر دکھاؤں گا.’ شیدو نے پھر میگا فون میں اعلان کیا

فراڈ لگتے ہیں. پیسے لیکر بھی نا اڑایا تو؟’ مجمع میں سے کسی نے کہا

 نا اڑایا تو پیسے واپس لے لیں گے.’ اسی مونچھوں والے آدمی نے کہا

آہستہ آہستہ لوگوں نے ٹکٹ خریدنے شروع کر دئے

مہربان علی ٹکٹ نہیں بیچنا چاہتا تھا مگر لوگوں نے زبردستی اس کے ہاتھ میں پیسے تھما کر ٹکٹ کھینچنا شروع کر دئے

ڈاونچی بابا روتے ہوئے لوگوں کی منتیں کرتے رہے

‘ٹکٹ نا خریدو بھائی. میرا بچہ مر جائے گا’

مگر لوگوں کو کسی بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی. ان کو صرف تماشا دیکھنے سے غرض تھی. تھوڑی دیر کے تماشے سے کسی کی جان جاتی تھی تو ان کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی

مہربان چاچا! سب ٹکٹ بک گئے؟’ اوپر سے شیدو نے پکار کر پوچھا تو مہربان علی نے بیچارگی سے خالی ہاتھ اس کو دکھائے اور پھر شرمندگی سے سر جھکا لیا. ڈاونچی بابا نے شیدو کی طرف دیکھ کر دونوں ہاتھ جوڑ دئے مگر شیدو نے نظریں پھیر لیں


وہاں مینار پاکستان کی سب سے اوپر والی منزل پر شیدو، لیونارڈو ڈاونچی کے اڑن کھٹولے اور اپنے خوابوں کے ساتھ بالکل اکیلا تھا. اس نے ارد گرد نظریں دوڑایئں. اگست کے تیز سورج کی سنہری روشنی میں پورا لاہور شہر چمک رہا تھا. اس نے بادشاہی مسجد کے میناروں پر نظر ڈالی اور پھر دور راوی کے لشکارے مارتے پانی کو دیکھا

شیدو نے نیچے دیکھا. اس کو یتیم خانے کے بچے دکھائی دئے جن کی آنکھوں میں خواب روشن تھے. اس نے لوگوں پر نظر ڈالی جن کے چہروں پر ایک حیوانی خواہش چمک رہی تھی. اور پھر اس کی نظر ڈاونچی بابا پر پڑی جو اس کی طرف ہی دیکھ رہے تھے اور ان کے آنسو ان کی لمبی سفید داڑھی میں جزب ہوتے جا رہے تھے

آپ فکر نا کرو بابا. مشین ضرور اڑے گی.’ اس نے میگا فون میں بابا کو مخاطب کیا

شیدو نے میگا فون احتیاط سے ایک طرف رکھا اور پھر منڈیر پر چڑھ کر اڑن کھٹولے میں لگی سائیکل کی سیٹ پر بیٹھ گیا اور پیڈلوں پر پاؤں جما لئے

اس کو نیچے دیکھنے سے ڈر لگ رہا تھا

بہادری کا مطلب ہوتا ہے ڈر یا خوف کو سمجھنا اور پھر اس پر قابو پانا.’ اس کے کانوں میں ڈاونچی بابا کی آواز گونجی

اس نے آنکھیں کھولیں، نیچے دیکھ کر مسکرایا اور پھر رسی کی گرہ کھول دی


اڑن کھٹولہ رسیوں کے چنگل سے آزاد ہو کر پہلے تھوڑا سا ڈگمگایا. لیکن پھر اچانک ہوا کے ایک تیز جھونکے سے اس کے پر ہوا میں پوری طرح سے پھیل گئے. شیدو نے پیڈل پر پاؤں مارے تو مشین پہیوں پر سرکتی منڈیر کے کونے تک جا پہنچی اور پھر اس نے نیچے کی طرف ڈبکی لگائی

شیدو نے آنکھیں بند نہیں کیں. وہ جانتا تھا کہ وہ اس کی زندگی کے سب سے قیمتی لمحات تھے. بلکہ وہ چند لمحات اسکی پوری زندگی پر محیط تھے. وہ چند لمحات اس کے خواب کی تعبیر تھے. وہ آنکھیں بند کر کے ان لمحات کو ضایع نہیں کرنا چاہتا تھا

پورا مجمع دم سادھے سب دیکھ رہا تھا. ڈاونچی بابا نے مشین کو ڈبکی لگاتے ہوئے دیکھا تو ایک لمحے کو ان کا دل رک گیا. پھر تھوڑی دیر کیلئے مشین سیدھی ہوئی اور یوں لگا کہ جیسے واقعی وہ پرواز کرے گی. مگر پھر مشین کے پر، خود مشین اور شیدو کے بوجھ کو برداشت نا کر سکے. پہلے ایک پر ٹوٹا اور پھر دوسرا. لیونارڈو ڈاونچی کا اڑن کھٹولہ کسی ٹوٹے پھوٹے کھلونے کی طرح مینار سے ٹکراتا نیچے کی طرف گرنے لگا اور پھر آخر کار نیچے لوگوں کے ہجوم کے درمیان چبوترے پر ڈھیر ہو گیا


مشین کے چبوترے پر گرنے کی دیر تھی کہ لوگوں کا ایک جم غفیر اس کے ارد گرد جمع ہوگیا. مہربان علی نے ڈاونچی بابا کی بغل میں ہاتھ ڈال کر سہارا دیا اور ان کو کھینچتے ہوئے اور لوگوں کو ادھر ادھر دھکیلتے مشین کے ٹوٹے پھوٹے ڈھانچے تک پہنچ گئے

اڑن کھٹولہ اس بری طرح ٹوٹ پھوٹ گیا تھا کہ پہچانا نہیں جا رہا تھا. شیدو کہیں نظر نہیں آ رہا تھا. ڈاونچی بابا نے زمین پر بیٹھ کر ریشمی پر ایک طرف سرکایا تو شیدو کا وجود نظر آیا. اس کے جسم کی غالباً تمام ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں اور سر پر گھنگریالے کالے بال خون سے بھر چکے تھے. بابا نے احتیاط سے شیدو کا بےجان سر اپنی گود میں رکھا اور پیار سے سہلانے لگے

مجھے بہت افسوس ہے بابا!’ مہربان علی نے آہستگی سے بابا کے کندھے پر ہاتھ رکھا

ڈاونچی بابا نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دئے

میرا بچہ چلا گیا. میری زندگی ختم ہوگئ مہربان علی. مگر مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ وہ ان چند افراد میں شامل ہوگیا جو اپنی پوری زندگی چند لمحات میں ہی جی لیتے ہیں

#Urdu #story #fiction #leonardo #davinchi #Pakistan #dreams #flyingmachine #kindness #ambition #determination #fear #courage #flying